Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02)
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02)
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02)
محند آنکھیں پھاڑے حمنہ کو دیکھ رہا تھا جو اب کارنامہ انجام دینے کے بعد رونے میں مصروف ہوچکی تھی
افف۔۔۔ افف۔۔پہلے اسکا ہنسنا نہیں بند ہو رہا تھا اور اب رونا نہیں بند ہو رہا۔۔۔۔
محند کو اب کوفت ہو رہی تھی خود سے اوپر سے اسکا سوٹ خراب کردیا تھا اور اوپر سے اب گلا پھاڑے رونے میں مصروف تھی
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی محند اس کو روتے دیکھ گھور رہا تھا کہ اسے کسی کے ہنسنے کی آواز سنائی دی
کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔؟؟ کس کی اتنی ہمت جو مجھ پہ ہنس رہا ہے ۔۔۔؟؟؟؟
محند سٹاف پر چلاتا بولا تھا
مجھ میں ہے ہمت۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔
محند نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو ثمال سفید ڈریس میں کھڑی ہنستی ہوئی بہت دلکش لگ رہی تھی کہ ایک پل کے لئے محند یہ بھول گیا کہ اس کی گود میں الٹی لٹکی حمنہ نے اسکے سوٹ پر نقش و نگار بنائے ہوئے ہیں جسے دیکھ کر ہی تو ثمال قہقہہ مار رہی تھی۔۔۔
ایسے اٹھا ئیں گے تو لازمی اسکے پیمپر نے لیک کرنا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ ہائے کتنا پیارا ڈیزائن ڈال دیا اس نے تو۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کے مزاق اڑا نے پر محند ہوش میں آیا تھا
چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ایسی دھاڑ تھی کہ ثمال تو چپ کر گئی مگر حمنہ میڈیم پر الٹا ہی اثر ہوا تھا
ایسا رونا ڈالا تھا اس نے کہ اسکے رونے کی آواز کے آگے محند کی دھاڑ کہیں دب کے رہ گئی تھی
اور چیخیں ڈرا دیا نہ میرے بے بی کو اب چلیں میں اسکا سارا سامان لائی ہوں اپنے ساتھ آپ نے تو لایا ہی نہیں خیر کیا یاد کریں گے کہ کس سخی بیوی سے پالا پڑا ہے آپ کا ۔۔۔۔۔۔
ثمال اترا کر بولتی آگے چلنے لگ پڑی جبکہ اسکے پیچھے محند دانت پیستے چلا جیسے ان دانتوں کے نیچے ثمال ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اسکے آفس سے ملحقہ روم میں آگئی تھی اور بیگ رکھے اب محند کی طرف متوجہ تھی جو اب بھی حمنہ کو الٹا ہی پکڑے اپنے سے کافی دور کرکے منہ بناکے کھڑا تھا
یا اللہ ۔۔۔۔ آپ نے ابھی تک اسے الٹا ہی پکڑا ہوا ہے۔۔۔۔
ثمال اس سے روتی ہوئی حمنہ کو لیکر صوفے کے سامنے رکھے ٹیبل پر لائی اور اسے ٹیبل پر لٹا کر اسکا پیمپر کھولا اور بے بی ٹشو سے اسے صاف کرنے لگی ۔۔۔۔۔
محند کھڑا اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا جو ایک ماہر ماں کی طرح حمنہ کو صاف کر رہی تھی جبکہ اسکے ماتھے پر ناگواری کی ایک بھی شکن نہیں آئی تھی اور یہ تھا جو سگا باپ ہونے کے باوجود اس سے ناگواریت برت رہا تھا
ثمال کی حمنہ کو نیا پیمپر پہنا تے محند پر نظر پڑی تو وہ اسے ہنستے ہوئے بولی
لگتا ہے آپ کو حمنہ کا تحفہ کچھ زیادہ ہی پسند آگیا ہے جو ابھی تک اسی حالت میں کھڑیں ہیں۔۔۔۔۔
ثمال کی بات پر محند لب بھینچتا وارڈروب میں سے اپنے لئے رکھے ہوئے دوسرے سوٹ جو وہ احتیاط” رکھتا تھا میں سے نکال کر واشروم میں گھس گیا کہ اب مزید وہ اس سمیل کو برداشت نہیں کرسکتا تھا
ثمال اسکے جانے پر ہنسی دباتی اب حمنہ کی طرف متوجہ ہو ئی تھی جو منہ کو فیڈر لگائے دودھ پینے میں مصروف تھی
میرا بےبی ۔۔۔۔۔ امممماہ۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی پاپا کو تنگ کرنا ہمیشہ اوکے میری جان ۔۔۔۔۔
چھوٹی سی بچی دودھ پیتے ثمال کی بات کو ناسمجھ کر بھی کھلکھلائی تھی جیسے ساری سمجھ اسے ہی تو لگی ہے
ہاں۔۔۔۔۔ یہ ہوئی نہ میری بےبی والی بات ۔۔۔۔ اب ہم دونوں مل کر آپ کے بابا کی پنگی بجائیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال حمنہ کے ساتھ باتوں میں لگی اتنی مگن تھی کہ اسے پتہ نہیں چلا کہ کب محند چینج کرکے نکلا اور کب اسکے سر پر کھڑا ہو کر اسکی حرکتوں اور باتوں کو غور سے سننے لگا تھا
ثمال نے جیسے ہی چہرہ اوپر کیا تو اسکی ہنسی کو فورا” بریک لگی محند اسکے سر پر کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا
وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ میں تو بس اسے یہ کہہ رہی تھی کہ ایسے تھوڑی نہ کوئی اپنے بابا کو تنگ کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مممم۔۔۔۔۔ میرا مطلب ایسے تو نہیں کرنا چاہیے تھا نہ اسے ۔۔۔۔ ہی ہی ۔۔۔۔۔ دیکھیں نہ آپ کے سارے کپڑے خراب کردیے اس نے ۔۔۔ وہ تو اچھا ہوا کہ آپ کے پاس دوسرا سوٹ بھی تھا نہیں تو آپ کو میرے دوپٹے کی لنگی بنا کے پہن کر گھومنا پڑتا ۔۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں فئشن بھی تو ہے نہ یہاں پہ تو ہم پہ بھی فرض ہے کہ ہم بھی اپنا دیسی فیشن دکھائیں ان کو ۔۔۔۔ آپ نے نہیں دیکھا جہاں لڑکیاں جب آدھی ننگی آدھی ڈھکی گھوم سکتی ہیں تو آپ تو پھر مرد ہیں تو کیسی شرم آپ بھی لنگی باندھ کر بے شرم بن کر گھوم لیتے ۔۔۔۔ بھئی جب لڑکیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر آپ کو کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال اسکے منہ کے بدلتے زاویے کے مطابق اپنی شامت نہ لانے کے لئے جتنے جتن کر سکتی تھی کر رہی تھی مگر اسکا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ جتنا وہ بولتی جارہی تھی اتنا ہی محند کے ماتھے کی تیوریاں بڑھتی جا رہیں تھیں
محند جو اسے حمنہ کے ساتھ بڑے مزے سے معصوم منہ بناکے شیطانی پلین بناتے دیکھا تو غصہ ہونے کی بجائے الٹا اسے اس پر پیار آرہا تھا وہ ایسے بولتی ہوئی اسے بہت اچھی لگ رہی تھی وہ مزید اسکی شیطانیوں کے پلین اسکے خلاف اسی کی بیٹی کے ساتھ مل کر بناتے دیکھنا اور سننا چاہتا تھا مگر ثمال کو اسکی موجودگی کاعلم ہونے پر وہ جب ڈر کر خاموش ہوئی تو محند کو ایک خیال سوجھا اور پھر وہ مصنوعی غصہ دکھاتے اسے مزید ڈرانے لگا مگر دل ہی دل میں وہ اسکی لنگی والے فئشن کی بات پر بہت زیادہ ہنسا تھا
ثمال کی بولتی کو بریک تب لگا جب محند نے اچانک اس پر جھکتے سنگل صوفہ کے گرد ہاتھ ٹکا کر اسکو اپنے حصار میں لیا اور اسکے ہلتے لبوں کو دیکھتے وہ اس پر جھکا تھا اور بنا کسی پرواہ کے وہ زبردست گستاخی کر گیا تھا
کافی دیر بعد جب اس نے ثمال کی جان بخشی کی تو ثمال کی چلتی زبان کے ساتھ اسکی سانسیں بھی روکنے کی پوری کوشش کر چکا تھا اگر وہ اسے نہ بخشتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو ڈئیر karısı (بیوی) اب تم اسے سارا دن سنبھالو گی اور وہ بھی بنا کسی چوں۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ چراں کے ۔۔۔۔ اور نہ ہی اسکے بارے میں تم بی بی جان کو کچھ بھی بتاؤگی ۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔
میں اس سے بھی زیادہ تمہاری حالت بری کرسکتا ہوں وہ بھی اب کی بار باہر سب کے سامنے ۔۔۔۔۔ بقول تمہارے کہ یہاں تو سب بے شرم ہیں تو ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر کارسی (بیوی) تمہیں ضرور کچھ ہوجائے گا ۔۔۔۔ ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کرو گی اسکی دیکھ ریکھ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
محند اسکے کانوں کے پاس مخمور سا بولتا اسکے چہرے پر اپنی انگلیاں پھر رہا تھا جس پر ثمال سرخ چہرے کے ساتھ اپنی سانسیں روکے اسکی بات سن کر بمشکل سر اثبات میں ہلا پائی تھی ۔۔۔
گڈ ۔۔۔۔۔ اب تم اسے سنبھالو میں اپنا آفس سنبھالتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔۔۔۔
اسکے گال کو ہونٹوں سے چھوتا وہ اپنی بےساختہ امڈتی ہنسی کو روکتا لب دانتوں تلے دبا گیا تھا اور اس پر ایک گہری استحقاق بھری نظر ڈال کر آفس روم میں چلا گیا اب وہ سکون سے اپنا کام کرکے بی بی جان سے حمنہ کو سارا دن سنبھالنے کا سرٹیفیکیٹ بھی لے گا ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کا بوکھلا یا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ بار بار کام کے دوران نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس رہا تھا اور اس بات سے وہ خود بھی بے خبر تھا کہ اتنے سالوں بعد اسے خود ساختہ خول سے ثمال نے باہر نکال ہی لیا تھا آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اپنے روم میں بیٹھی ہوئ تھیں اور حسب معمول تسبیح کرنے میں مصروف تھیں کہ افعت انکے پاس آئی تھی اور پاکستان سے آئے فون کے بارے میں بتا کر انہیں فون پکڑاتے وہ باہر نکل گئی تھی
۔
بی بی جان حیران ہوتے کہ کس نے فون کردیا انہیں ۔۔۔۔ شائید ثمال بچے کے گھر سے ہو ۔۔۔ سوچ کر وہ فون کان سے لگا گئیں لیکن دوسری طرف سے جو انہیں سننے کو ملا تھا وہ ان کے حواس اڑا نے کے لئے کافی تھا
فون انکے ہاتھ سے چھوٹتا بیڈ پر گر گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔
