Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01)

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01)

صبح کے چھ بج رہے تھے جب ثمال نے کسمساتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہ لگی کہ وہ کہا ں ہے لیکن جب حواس بحال ہوئے تو اکڑی کمر کے ساتھ دھیرے سے کھڑی ہوئی غور سے اس جگہ کو دیکھا تو ایک درمیانہ سا کمرا تھا جس میں الماری اور شیشہ لگا ہوا تھا
او ۔۔۔۔۔ یہ تو لگتا ہے وہ جگہ ہے جہاں امیر لوگ کپڑے بدلتے ہیں ۔۔۔ پورا گھوم کر وہ جب ڈریسنگ روم کا جائزہ لے چکی تو منہ ٹیڑھے میڑھے بنا کر بولی
واہ بھئی امیر لوگوں کے عجیب ہی کام ہیں ہم تو جس کمرے میں سوتے ہیں وہاں یا پھر باتھروم میں ہی کپڑے بدل لیتے ہیں لیکن یہاں تو کپڑے بدلنے کے لئے بھی اتنا بڑا کمرا ہے اس کی جگہ یہ لوگ ایک اور کمرہ بھی بنا سکتے تھے اس محل میں ایک اور کمرے کا اضافہ ہی ہو جاتا ۔۔۔۔
اسے کیا پتہ جو مزے سے کمرے بڑھا رہی تھی اس محل میں پہلے سے ہی بیس پچیس کمرے تھے اور گیسٹ روم الگ سے تھے ۔۔۔۔
ثمال کو رات کی تلخی کو بھلانے کے لئے کچھ تو کرنا ہی تھا تو بس پکڑ لیا اس ڈریسنگ روم کو اور یہ لگ پڑی مین میخ نکالنے امیروں میں ۔۔۔۔۔
اگر اسکی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو امیروں میں شادی ہونے پر شکرانے کے نفل ادا کرتے نہ تھکتی مگر یہاں تو ثمال میڈیم تھی یہ بھی اور لوگوں کی طرح دل میں اچھی زندگی کی خواہش رکھتی تھی مگر محند سے ہوئی تلخ ملاقات کے بعد ثمال کو ہر جگہ سے غرور سے پر وجود محند اسے استہزائیہ ہنستا ہوا دکھ رہا تھا جو اسے کانٹوں پر گھسیٹ رہا تھا
سر جھٹکتے ہوئے ثمال ڈریسنگ روم سے باہر نکلی اور بی بی جان جو نماز پڑھنے کے بعد ہاتھ میں تسبیح لئے اللہ کے نام کا ورد کر رہی تھیں اور ساتھ ہی ٹیبل پر انکے چائے کا کپ بھی پڑا ہوا تھا جو دیکھنے میں عجیب سا تھا بی بی جان کو اس نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور بی بی جان نے اسکے سلام کا جواب دیتے چائے کی پیالی اٹھائی ۔۔
بی بی جان لگتا ہے ملازمہ چائے میں دودھ ڈالنا بھول گئی ہے میں دوبارہ چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔
ثمال نے جیسے ہی پیالی اٹھائی بی بی جان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا۔۔۔
چائے ٹھیک بنی ہے تم زہمت مت کرو ترکی کی یہ خاص چائے ہے تمہیں یہ چائے کا قہوہ لگ رہا ہوگا مگر ہوتی یہ بہت مزے کی ہے تم بھی چکھ کر دیکھو میں نے ابھی پی نہیں ہے لو گرم گرم ہے پی جاؤ بچے اسے پھر کپڑے بھی بدل لینا کل سے انہی کپڑوں میں ہو افت سے میں نے کہہ دیا ہے تمہارے کمرے کے ساتھ ساتھ تمہارے لباس وغیرہ اور دیگر ضروریات کی چیزوں کو دیکھ لے گی وہ۔۔۔۔۔
بی بی جان تسبیح کے دانے گراتیں اسے چائے دیتی بولیں اور ساتھ ہی ساتھ اسے اسکے کمرے اور دوسری چیزوں کے انتظام کے بارے میں آگاہ بھی کیا اس دوران بی بی جان نے اس کی طرف صرف دو بار ہی دیکھا تھا اس سے مزید اس کی طرف دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی وہ محند کی طرف سے سخت پشیمان تھیں بیتی رات انہیں ثمال کی سسکیاں کہیں چین نہیں لینے دے رہی تھیں ساری رات انکی آنکھوں میں ہی کٹی تھی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے انہوں نے ایک فیصلہ کیا تھا جو کہ ثمال کے حق میں نئی تبدیلی لانے والا تھا
ثمال بس خاموشی سے چائے پی رہی تھی اسے اسکا زائقہ واقعی میں بہت پسند آیا تھا
Sen beni şöyle çağırır Bibi jan… ??
(آپ نے مجھے بلایا بی بی جان۔۔۔۔؟؟)
evet .. Sen tam çalışma … ??
(ہاں۔۔ تم نے کام پورا کر دیا۔۔۔؟؟)
Evet… Bibi jan….
(جی۔۔۔ بی بی جان۔۔۔۔)
sağ .. sonra Göster oda benim büyük kızı ve tüm şeyler…
(ٹھیک ہے۔۔تو پھر میری بہو کو اسکا کمرہ اور باقی سب بھی دکھادو۔۔۔)
Tamam…. Bibi jan …..
.
(سہی ہے بی بی جان۔۔۔۔۔)
افت نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا جو ہونق بنی ان دونوں کو باتیں کرتا ہوا دیکھ رہی تھی
پریشان مت ہو ثمال بچے تم بھی آہستہ آہستہ سب سیکھ جاؤں گی پہلے مجھے بھی پریشانی ہوتی تھی مگر پھر دیکھو سیکھ ہی لیا اور میری دفعہ تو کوئی بھی نہیں تھا جو مجھ سے باتیں کرتا اور رہا محند تو وہ صبح کا گیا دیر رات آتا اور اپنے کمرے میں بند ہو جاتا ۔۔۔۔۔
بی بی جان مسکراتے ہوئے اس سے بولیں جو انکی بات سن کر تھوڑا مسکرائی کہ شکر ہے بی بی جان تو ہیں میرے لئے نہیں تو میں نے پاگل ہو جانا تھا ان انجان مخلوق میں رہ کر۔۔۔
افعت نے اسے سہارہ دیا اور چلتے ہوئے اسے اسکے روم میں چھوڑا اور اشارے سے ہی اسے اسکی ضرورت کی چیزوں کے بارے میں بتایا اور مسکراتے ہوئے اسکا گال تھپتھپا کر چلی گئی ۔۔۔
افعت بی بی جان کی خاص خادمہ تھیں اور بی بی جان نے اسے بیٹیوں کی طرح ہی رکھا ہوا تھا
افعت کو بھی یہ پیاری معصوم سی لڑکی بہت پسند آئی تھی
ثمال اپنے روم کا جائزہ لے رہی تھی جو کسی سکول لٹل گرل کا کمرہ زیادہ لگ رہا تھا
پورے کمرے میں وائٹ اینڈ پنک شیڈ ٹچ تھا
فرنیچر بھی سارا وائٹ ہی تھا
اس نے الماری کھولی تو حیرانی سے پھٹی پھٹی آنکھوں ساتھ منہ پر ہاتھ رکھ لیا
ہا ہائے اتنے پیارے پیارے کپڑے ۔۔۔۔؟؟؟
یہ میرے ہیں۔۔۔۔۔؟؟
ثمال الٹ پلٹ کر ایک ایک ڈریس اٹھا کر دیکھ رہی تھی بلاشبہ بی بی جان نے اسکے لئے ایک سے ایک بڑھ کر اتنا اچھا انتظام کیا تھا
ہر چیز اشتیاق سے دیکھنے کے بعد ثمال نے بلیو کلر کا جدید ڈریس نکالا اور کمرے سے ہی ملحقہ واشروم گھس گئی شاور لینے ۔۔۔۔
……………………….
محند آفس میں بیٹھا ایک فائل کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اسے اسکی سیکریٹری نے کال پہ اطلاع دی کہ سلمان انٹرپرائزز سے مسٹر سلمان نے پروجیکٹ حاصل کر لیا ہے ۔۔۔
یہ سننا تھا کہ محند کا پارہ ہائی ہوگیا
ایسے کیسے ہوسکتا ہے تم پاگل ہو گئی ہو کیا ۔۔۔۔؟؟؟
میٹنگ کا کیا ہوا ۔۔۔۔ ابھی میٹنگ ہونی تھی اس میں ڈیسائیڈ ہونا تھا پروجیکٹ کس کو ملنا ہے تو میٹنگ سے پہلے ہی کیسے مل گیا اسے یہ پروجیکٹ ۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔
محند کی دھاڑ پر سیکریٹری نے شکر کیا کہ وہ فون پہ بتا رہی ہے اگر سامنے ہوتی تو نہ جانے اسکا باس اسکا کیا حشر کرتا ۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ سر میٹنگ تو ہوچکی تھی
کب۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ سر ۔۔۔ جب آپ پاکستان گئے تھے تو ارجنٹ میٹنگ رکھی گئی تھی میں نے آپ کو کال بھی کی تھی مگر آپ نے پک نہیں کی۔۔۔۔
محند کو یاد آیا اسے کال آئی تھی مگر اس وقت وہ زہنی طور پر سٹیبل نہیں تھا کہ پک کرتا اسی لئے کال کو اگنور کر گیا تھا
پٹخ سے فون پھینکا اور آفس کی ساری چیزیں ایک بار پھر تباہ کرنے لگا
ثمال ل ل ل ل ل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
تمہاری وجہ سے ۔۔۔۔۔ یو ڈیم اٹ تمہاری وجہ سے آج پہلی بار مجھے میرے دشمن سے شکست حاصل ہوئی ہے ۔۔۔۔ پہلی باررررررررر۔۔۔۔۔۔
خون آلود آنکھوں سے وہ ٹیبل پر جھکا کھڑا تھا اور پھر ایک فیصلہ ہوا تھا جو شائد اسے مستقبل میں مہنگا پڑنے والا تھا
…………………..
بی بی جان مجھے آپ نے بے بی کو نہیں ملایا ابھی تک کہاں ہے وہ نظر ہی نہیں آرہی اور نہ ہی کوئی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔۔
ثمال چینج کرکے کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اپنے کمرے سے نکل کر پورے گھر کا چکر لگاتے بی بی جان کے پاس آئی تھی اسے بےبی کہیں بھی نہیں دکھی تھی کل کے برے دن بعد اسے بےبی کا خیال آیا تھا کہ وہ ابھی تک اس سے نہیں ملی ہے اسی لئے دوپہر کے کھانے کے وقت وہ بی بی جان سے بے بی کے بارے میں پوچھنے سے خود کو روک نہیں سکی ۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ حامد لے گیا تھا اسے یہاں پہ کوئی ایسا تھا نہیں جو دو دنوں تک اسکی دیکھ بھال کرسکے اس لئے پاکستان جانے سے پہلے میں نے حمنہ کو حامد کے حوالے کردیا تھا کہ لو بھئی سنبھالو اپنی لاڈلی کو دراصل جب سے وہ بچی اس دنیا میں آئی ہے تب سے حامد اور اسکی ماں رخشندہ ہی ہیں جنہوں نے اس بچی کو ماں باپ کے ہوتے ہوئے بہت اچھے سے سنبھالا ورنہ مجھ میں اتنی کہاں ہمت کہ ان بوڑھیوں ہڈیوں سے اسے پال سکوں اور نہ ہی کسی ملازم پر اتنی بڑی زمیداری سونپ سکتی ہوں۔۔
بی بی جان آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں میں ہوں نہ میں رکھوں گی خیال بےبی کا ایک ماں کی طرح سچی میں مجھے بے بی اتنے پسند ہیں اتنے پسند ہیں کہ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ انہیں کچا کچا کھا جاؤں۔۔۔۔۔۔۔ ہمممممم۔۔۔۔۔
ثمال چہکتے ہوئے کیا بول رہی تھی اسے کچھ احساس نہیں تھا بی بی جان اسے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگیں تبھی اچانک ثمال کو احساس ہوا کہ اس نے کیا بولا ہے تو اپنے ہونٹوں پر تھپڑ مار دیا
وہ ۔۔۔۔۔ وہ بی بی جان دراصل مجھے نہ ۔۔۔پیار پیار میں ایسا بولتی ہوں بی بی جان اسکا مطلب یہ بلکل نہیں کہ میں سچ میں ہی اسے کھا جاؤگی وہ تو بس ایویں ہی کہہ رہی تھی آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں کوئی چڑیل ہوں جو بچے کھاتی ہے۔۔۔۔
ثمال جلدی جلدی ہڑبڑاتے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی کہ نہ جانے بی بی جان اسے کیا سمجھ لیں ۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سمجھی گئی ہوں بچے آپ پریشان مت ہوں میں تو بس ایسے ہی مزاق کر رہی تھی
ہا ہائے بی بی جان آپ کے نے تو میری جان ہی نکال دی تھی آپ کو ایسے دیکھتے ہوئے پایا تو مجھے لگا کہ کہیں آپ مجھے چڑیل سمجھ کر واپس نہ بھجوادیں ۔۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔۔۔
ثمال گہرا سانس لیتی ماتھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولی
اب تم نے ساری زندگی یہیں رہنا ہے اس گھر کی ملکہ بن کر محند کو سیدھا کرنا ہے تم نے اور میری حمنہ کو بھی سنبھالنا ہے ۔۔۔۔۔
کیا تم کروگی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بی بی جان امید بھری نظروں سے ثمال کو دیکھ رہی تھیں
بی بی جان آپ سب جانتی ہیں پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے کل کے ہوئے واقعے کی طرف اشارتا” کہا
ہاں پھر بھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ تم کر پاؤگی ۔۔۔۔۔ بلکل کرپاؤگی۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ اتنے یقین سے کہہ رہی ہیں تو کوشش کرنے سے کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے بھی پھر انکی امید کو نہیں توڑا تھا اور ڈور انکے ہاتھ میں تھمادی تھی۔۔۔۔۔
مجھے تم سے یہی امید تھی۔۔۔۔۔۔
بی بی جان اب پلیز بے بی کو بلوا لیں نہ مجھ سے اب اور نہیں رہا جاتا پلیز مجھے اس سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔
ثمال کسی چھوٹے بچے کی طرح ان سے ضد کرتے ہوئے بولی
پھولوں کو کانٹوں سے محبت ہوگئی
آپ نے بلایا ہمیں تو ہماری آمد ہوگئی
اس سے پہلے کہ بی بی جان اسکے بچکانہ انداز پر کچھ کہتیں کسی کی مردانہ بھاری آواز انکے کانوں سے ٹکرائی ثمال نے تو باقائدہ اپنے کانوں پہ ہاتھ ہی رکھ دیے تھے آواز تھی ہی اتنی اونچی۔۔۔۔۔۔۔۔
آمد پہ ہماری لوگ راہوں میں پھول بچھادیتے ہیں
اور ایک آپ ہیں کہ اپنے کانوں پہ ہاتھ بٹھادیتے ہیں
اففف یہ کون ہے سستا سا شاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ثمال بڑبڑاتے ہوئے پیچھے مڑی جہاں وہ شخص پہلے ہی آگے بڑھ کر بی بی جان سے پیار لے رہا تھا
حیرت تو اسے اس کی گود میں کیوٹ سی ڈول سی بچی کو دیکھ کر ہوئی تھی
لو تم نے یاد کیا اور بے بی حاظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان مسکراتے ہوئے ثمال کی طرف موڑیں اور جو پہلے ہی سے شک میں مبتلا تھی یہ سن کر فورا” بے بی کی طرف بھاگی اور جھپٹنے کے سے انداز سے حمنہ کو اسکی گود سے جھپٹا اور یہ چٹاچٹ چمیاں دینے لگ پڑی
حیرت کا سمندر ہے کہ جس میں ہم غوطہ لگا بیٹھے
یہ کون ہمیں زرا بتلائیے جو دھڑا دھڑ چمیاں لگا بیٹھے
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم باز مت آنا کبھی شریر ۔۔۔۔ دھپ لگاتے ہوئے بی بی جان نے اس سے کہا جس پر وہ سر کھجانے لگا
اس سے ملو یہ ہے ثمال پاکستان سے آئی ہے اور ثمال یہ ہے جس کا زکر ہم تھوڑی دیر پہلے کر رہے تھے یعنی کہ حامد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال نے سرسری سی نظر اس پر ڈال کر ہٹا لی تھی جبکہ حامد اسکا اچھی طرح جائزہ لے رہا تھا
ثمال کا سارا دھیان اب بے بی کی طرف تھا وہ بے بی کو اٹھائے اپنے روم میں چلی گئی اور اسکے پیچھے حامد آنکھوں میں حیرانی سموئے بی بی جان کو دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا آئیٹم ہے نہ حال پوچھا اور نہ پوچھنے دیا بس بےبی کو لیا اور یہ ہوگئی رفو چکر۔۔۔۔۔
بیٹا وہ یہ محند کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اس سے پہلے کہ بی بی جان کچھ کہتیں سامنے سے آتے محند نے بی بی جان کو دیکھتے سلام کیا اور حامد کو اگنور کئے دو قدم بڑھائے ہی تھے کہ بی بی جان نے اسے مخاطب کیا
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *