Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11

Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11

محند نے کیا کہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آئی تھی بس منہ کھولے دنگ نظروں سے دیکھتی رہی تھی گھر واپسی پر بھی وہ صرف خاموش رہی تھی پچھلی سیٹ پر محند کے ساتھ بیٹھی سارے رستے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم رہی تھی
حیران تو محند بھی تھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس نے جو بھی آج کیا تھا کیا وہ خود اس نے کیا تھا
اپنے ساتھ بیٹھی ثمال پر ایک اچٹتی سی نظر بھی ڈالی تھی جو باہر دیکھ رہی تھی
اصل جھٹکا تو ثمال کو گھر پر آکر لگا تھا جب بی بی جان اس پر واری جارہی تھیں اور پھر بی بی جان کی زبانی اسے محند کی زبان سے ادا ہوئے لفظ بھی پتہ چلے تھے جس پر وہ منہ کھولے بی بی جان کو دیکھے جارہی تھی
منہ تو بند کریں ثمال بچے ۔۔۔۔۔۔ ۔
اسکے منہ نہ بند کرنے پر بی بی جان نے اسے پیار سے کہا تھا جو ابھی تک یہی سن کر حیران تھی کہ محند نے سب کے سامنے اسے اپنی بیوی بتا دیا تھا
یہ کیسے ہوگیا ۔۔۔؟؟؟
بی بی جان آپ کے گدھے نے یہ کیسے کر لیا ۔۔؟
ثمال معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی بی بی جان سے بولی تھی
چپ بھئی یہ کیا بول رہی ہو تم میرے بچے کو ۔۔
بی بی جان مصنوئی خفگی جتاتیں ثمال کو ٹوک گئی تھیں جسے اب اپنی بے اختیاری پر احساس ہوا تھا اور وہ اپنے ہونٹوں پر تھپڑ مارتی جھٹ سے سوری بولی تھی
چلو کوئی بات نہیں مگر آئندہ میں نہ سںنوں ایسا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
جی ۔۔۔۔ بی بی جان انکی قسم آئندہ نہیں بولوں گی ۔۔۔۔۔
بی بی جان نے اسے تنبیہہ کی تو ثمال گلے پر ہاتھ رکھتی محند کی قسم کھانے لگی۔۔۔۔.
چلیں جائیں اب حمنہ کو لیکر محند کے روم میں ۔۔۔۔ میں نے آپ کا اور حمنہ کا سامان وہی سیٹ کروا دیا ہے ۔۔
ثمال جو بی بی جان کے کہ جائیں پر کھڑی ہی ہوئی تھی کہ انکے محند کے روم میں جاؤ پر ایک جھٹکے سے مڑی تھی
جی۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اسے لگا کہ اس نے کچھ غلط سنا ہے اس لئے ایک بار پوچھنا مناسب سمجھا تھا
میں نے کہا محند کے روم میں جاؤ تم دونوں۔۔
بی بی جان بھی اسکی حیرت سمجھتیں زور دے کر بولی تھیں انکے الفاظوں میں کچھ تو تھا کہ ثمال بنا کچھ بولے بے ساختہ سر ہلا گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھایا اس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حامد پارٹی کے فورا” بعد اپنے فلیٹ آیا تھا اور ادھیڑ عمر ملازمہ سے پوچھا تھا جس پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سر کے اشارے کرنے پر ملازمہ چلی گی تھیں
حامد گہری سانس بھرتا روم میں داخل ہوا تھا
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔۔۔ وہ سمجھ گیا کہ پھر سے بارش برسائی گئی ہے۔۔۔۔۔
مرحبا۔۔۔۔۔۔
فون کی لائٹ جلا کر حامد گلا کھنکھارتے بولا
سامنے بیڈ پر موجود وجود نے سر اٹھا کر سلام کرنے والے کی طرف دیکھا تو حامد کھڑا مسکرا رہا تھا
اس نے پھر سے اپنی سرخ آنکھیں جو رونے کے سبب ہوئی تھیں موند کر گھٹنوں میں منہ دے دیا تھا
اسے یہاں تین دن ہوچکے تھے مگر حامد ابھی تک اسے چپ کروانے میں ناکام ہی ثابت ہوا تھا
چل بیٹا حامد شروع ہو جا ۔۔۔۔۔۔
منہ پر ہاتھ پھیرتے اس نے دروازہ کھلا چھوڑتے بیڈ پربیٹھے وجود کے سامنے رکھے تھری سیٹر صوفے پر بیٹھا اور گہری سانس بھرتے اس سے گویا ہوا ۔۔۔۔
دیکھو تم کب تک یونہی روتی رہو گی ۔۔۔؟؟ مجھے تو لگتا ہے کہ ایک دن تمہاری یہ جو ٹینکی ہے نہ جہاں سے اتنے سارا پانی آنسؤوں کی صورت نکلتا ہے وہ ختم ہوجائے گا۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد اپنی ہی بات پر ایسے ہنسا تھا کہ اس نے کوئی بہت بڑا جوک مار لیا ہو مگر جب اس وجود کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھا تو وہ کھسیا گیا
یار حامد بڑے بڑوں کو تم نے اپنی انگلیوں پر نچایا ہے مگر پتہ نہیں یہ کیسی مغلوق ہے کہ اس پر میری باتوں کا کچھ اثر ہی نہیں ہوتا۔۔۔
اب کی بار حامد اردو میں بولا تھا کیونکہ اسے اردو نہیں آتی تھی وہ پکی ترکش تھی
آہم آہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات پھر سے گلا کھنکھارا گیا
مگر اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا بولے ۔۔
جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو حامد نے اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی کھڑا کیا پھر اسے کھینچتا باہر کچن میں لایا اور زبردستی ہی اسے لنچ ٹیبل کے سامنے رکھی ایک کر سی پر پٹختا فریج سے کھانا نکالنے لگا تھا
وہ جو رونے کے شغل میں مصروف اسکی باتوں کو اگنور کر رہی تھی اسکے اچانک اس رد عمل پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جو اب کھانا گرم کرکے ٹیبل پر لگا رہا تھا
وہ ایسے بی ہیو کر رہا تھا کہ جیسے وہ اکیلا ہو۔
کھانا ٹیبل پر لگانے کے بعد وہ بھی چئیر پر بیٹھا اور پلیٹوں میں اسکے لئے کھانا نکالنے لگا
چپ چاپ کھاؤ اب ورنہ جیسے جیل میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے نہ اسے الٹا لٹکا کے بجلی کے جھٹکے دینے کے بعد موٹے موٹے ڈنڈوں سے ٹھکائی کی جاتی ہے میں بھی ویسے ہی ۔۔۔۔۔۔ کرواؤں گا ملازمہ سے ۔۔۔
حامد اسے ڈرا نے کے لئے کہ وہ کھانا کھا لے اس لئے یہ سب بولتے ہوئے آ خر میں ویسے ہی میں کروں گا کہتے کہتے خود کو روک گیا کہ یہ مناسب نہیں لگے گا پھر ملازمہ سے کراؤں گا کہہ گیا
وہ اسکی دھمکی سن کر واقعی میں ڈر گئی تھی اور اسے دیکھتے خود بھی کھانے لگ پڑی
حامد نے کھاتے ہوئے ٹیڑھی نظر اس پر ڈالی جو اسکی دھمکی پر کھانا شروع کر چکی تھی ۔۔۔ وہ بھی مسکراتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہوا ۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ فورا” سے اٹھ کر واپس کمرے میں چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا ۔۔۔ مطلب صاف تھا کہ وہ اب اسے بلکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔۔۔
ہائے شکر ہے کم از کم اب وہ کھانا تو کھایا کرے گی ۔۔
ماتھے سے پسینہ صاف کرکے وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بڑبڑایا تھا پھر ملازمہ کو چند ہدایات دینے کے بعد ایک نظر اسکے بند کمرے پر ڈالتا وہ وہاں سے چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے اسکے روم میں جائے جس نے شادی کی پہلی ہی رات اسے آسمان سے زمین پر پٹخا تھا
وہ تزبذب کے مارے کافی دیر تک اپنے روم میں ٹہلتی رہی پھر جب گھڑی نے 1 کا ہندسہ پار کیا تو وہ سوتی ہوئی حمنہ کو گود میں اٹھاتی محند کے روم میں دبے پاؤں داخل ہوئی
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا صرف زیروبلب کی مدھم سی روشنی تھی جس میں ثمال مشکل سے انداز” چلتے ہوئے بیڈ پر آئی تھی جہاں محند بنا چینج کئے اوندھے منہ سویا ہوا تھا
اب میں کہاں سؤوں گی بی بی جان کے گدھے نے تو سارا بیڈ ہی لیا ہوا ہے
ثمال محند کو بیڈ پر پھیلے دیکھ کر منہ بناتے بولی تھی
حالانکہ بیڈ تو کافی بڑا تھا مگر اسکے بیچ و بیچ لیٹنے کی وجہ سے ثمال جھجھک رہی تھی
کچھ سوچتے ہوئے اس نے حمنہ کو محند کی بائیں جانب لٹایا اور پھر صوفے پر سے کشن اٹھا کر محند کی طرف بلکل 1 انچ کے فاصلے پر لائن سے رکھ دئے اس طرح حمنہ والی سائڈ پر اسکی جگہ بن چکی تھی کیونکہ اس نے بیچ میں کشن سے اپنے لئے حفاظتی بارڈر جو بنا لیا تھا
ثمال آہستہ سے بیڈ پر لیٹی اور حمنہ کو کشنز والی سائیڈ پر کئے خود پائینتی کے ساتھ لگ کر لیٹ گئی
محند کا چہرہ دوسری طرف تھا اس لئے وہ اسکی پشت کو دیکھتی آج کے پورے دن کو یاد کرنے لگی بے شک آج کا دن اسکے لئے کسی سرپرائز سے کم نہ تھا
کیا ہیں یہ ۔۔۔۔۔۔؟؟
کتنے چہرے ہیں انکے ۔۔۔۔۔۔ میں جتنا سوچتی ہوں کہ آپ اب یہ کریں گے وہ کریں گے مگر ہوتا اس سے الٹ ہے
اب پتہ نہیں آج جو انہوں نے کیا اسکے پیچھے نہ جانے انکا کون سا مقصد پنہاں تھا ۔۔۔؟؟
ضرور کوئی کھچڑی پک رہی ہے انکے اندر ۔۔۔۔۔
ہا ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی تھی
اچھا تو مطلب کہ یہ سب کے سامنے خود کو اچھا شوہر ثابت کرتے ہوئے مجھے بری بیوی ثابت کرکے مجھ سے آسانی سے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ وہ جب مجھے طلاق دیں تو سب کی نظروں میں معصوم بنیں اور مجھے ظالم ظاہر کریں ۔۔۔۔۔۔ اللہ اللہ ۔۔۔ کتنے چالاک ہیں یہ ۔۔۔۔۔ ہمممم ۔۔۔۔ تو جانتے ہیں نہ کہ بی بی جان میری سائڈ ہیں اسی لئے آج سب کے سامنے مجھے بیوی بھی قبول کر لیا تاکہ بی بی جان ان سے خوش ہو کر انکی ٹیم میں چلی جائیں ۔۔۔۔۔ چچچچ۔۔۔۔۔۔ کتنے گھنے میسنے ہیں یہ ۔۔تبھی تو انکا تیر سیدھا نشانے پہ لگا تھا اسی لئے بی بی جان نے مجھے انکے روم میں کیسے جانے کو بولا
ہممممم ۔۔۔۔۔ مگر میں بھی ثمی ہوں اتنی بھی آسان شے نہیں ہوں ۔۔ ناک و چنے نہ چبوائے میں نے تو میرا بھی نام ثمال صادق آباد کی ڈان نہیں ۔۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔
اب تیار ہو جائیں بی بی جان کے گدھے ثمال سے مقابلہ کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ ہائے اللہ جی بہت بہت شکریہ آپ کا کہ مجھے بروقت انکا ڈرامہ سمجھا دیا ورنہ میں تو انکے جال میں پھنس جاتی ۔۔۔۔ اب دیکھیں کیسے میں انہی کی بازی انہی پر الٹتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
ثمال آہستہ آہستہ بڑبڑاتی اب لیٹ کر آگے کی پلیننگ کر رہی تھی پھر نہ جانے کب سوچتے سوچتے اسے نیند نے آلیا اور وہ ہر شے سے غافل ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کو نیند میں عجیب سا احساس ہوا تھا
کچھ عجیب سی خوشبو تھی جو اسکے نتھنوں سے ٹکرا کر اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر گئی تھی وہ خوشبو بے بی پاؤڈر کی تھی۔۔
سب سے پہلی نظر تو اسکی کشن پر پڑی حیرت سے اٹھ کر بیٹھا تو اسے جھٹکا لگا ۔۔۔۔
یقین نہیں آنے پر اس نے اپنی آنکھیں مسلیں کہ شائد اسکا کوئی وہم ہو مگر منظر ویسے کا ویسا ہی رہا
ثمال اسکے بیڈ پر حمنہ کو اپنی آغوش میں لئے مزے سے سو رہی تھی
یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔،؟؟؟
میں نے آج تھوڑا نرمی سے کیا برتاؤ کرلیا کہ اسکی اتنی ہمت بڑھ گئی کہ وہ میرے روم میں ہی آگئی اور تو اور اپنے ساتھ اسے بھی۔۔۔۔۔
محند کی جیسے ہی نظر حمنہ پر پڑی تو وہ جو نان سٹاپ بول رہا تھا ایک دم سے خاموش ہوگیا تھا اور یک ٹک حمنہ کو دیکھنے لگا وہ بلکل شمائل کی کاپی تھی مگر اس میں دوڑتا خون اس کا بھی تو تھا
عجیب سی بے چینی نے اسے گھیرا تھا جس سے گھبرا کر اس نے سرعت سے اپنا رخ موڑا تھا
تھوڑی دیر بعد جب وہ خود کو کمپوز کرچکا تو بیڈ سے اٹھا اور ثمال کی طرف آکر اسے جھنجھوڑنے لگا ۔۔۔۔۔۔
ثمال گہری نیند میں جا چکی تھی کہ اسے کسی کی انگلیاں اپنے کندھوں پر دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں فورا” سے آنکھیں کھول کر اس نے جب اوپر دیکھا تو محند کو اپنے اوپر جھکے ہوئے پایا جو سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا
کیا ہے آپ کو کیوں مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتے ابھی تو میں پلیننگ کرکے مشکل سے سوئی تھی مگر مغرور خوبصورت شہزادے کو تو اپنی پیاری بے چاری سی شہزادی کو تنگ کرنے میں مزا جو آتا ہے اسی لئے مجھے تنگ کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔
ثمال پھر سے غنودگی میں جاتی ہولے سے بڑبڑائی تھی
محند نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر اسکے پٹر پٹر شروع ہو جانے پر وہیں رک گیا اسکی بڑبڑاہٹ سنتا ہولے سے مسکرا دیا تھا اور پھر اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے ہٹاتے اس پر جھکا تھا جو اب پھر سے گہری نیند میں جا چکی تھی
اس پر جھکا اسکے چہرے کے ایک نقش کو غور سے دیکھ رہا تھا
میں نہیں جانتا کہ میں جو کروں گا وہ ٹھیک ہوگا یا نہیں مگر میں یہ رسک لوں گا ایک آخری رسک ۔۔۔۔۔۔۔ ہولے سے بولتا وہ اسکی پیشانی چومتا اپنی جگہ پر آکر لیٹ گیا تھا مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *