Ishq Mera Kamil by Neena Khan NovelR50807 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01)
No Download Link
777.3K
37
Rate this Novel
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode01 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode02 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode03(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode04 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode05 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode06 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode07 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode08 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode09 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode10 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode11 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode12 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode13 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode14(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01) (Watching)Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode16 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode17 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode18 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode19 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode20 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part01) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode21(Part02) Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode22 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode23 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode24 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode25 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode26 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode27 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode28 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode29 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode30 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode31 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode32 Ishq Mera Kamil by Neena Khan Last Episode
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01)
Ishq Mera Kamil by Neena Khan Episode15(Part01)
سارا دن آفس میں سر کھپانے کے بعد محند حمنہ اور ثمال کو لیے گھر کی طرف روانہ ہوچکا تھا خوشی کے تاثرات محند کے چہرے پر واضح نظر آرہے تھے کیونکہ اس نے آج سارا دن ثمال کو بهت تنگ کیا تھا اپنی ذمہ داری جو کہ بی بی جان نے محند کو سونپی تھی اس نے ثمال کے کندھوں پر ڈال دی تھی ثمال حمنہ کی دیکھ بھال کر رہی تھی لیکن جبکہ محند بڑے مزے سے اپنی آفس روم میں بیٹھا آفس ورک کرتا رہا اور ثمال حمنہ اور آفس کے بیچ پھنسی گھن چکر بن کے گھومتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن اسے ذرا سا بھی آرام کرنے کا وقت نہیں ملا کبھی کس طرف جاتی تو کبھی کسی کام کے لئے ۔۔۔آج تو حامد بھی نہیں آیا تھا اس کی کمی اسے بہت محسوس ہوئی تھی
وہ ہوتے تو انکے ہوش ٹھکانے لگا دیتے۔۔۔۔۔!!
یہ ثمال کی سوچ تھی جو کہ بہت ہی فضول سوچ تھی
گاڑی میں بیٹھا محند باربار ثمال کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر تھکن اور غصے کے ملے جلے تاثرات نظر آرہے تھے
اپنی ہنسی ہونٹوں میں دباتا وہ کھڑکی سے باہر نظر آتے مناظر کی طرف متوجہ ہوا تھا
حمنہ ثمال کی گود میں سوئی پڑی تھی
جیسے ہی گاڑی پورچ میں آکر رکی ثمال حمنہ کو لئے باہر نکلی اور تیزی سےاندر چلی گئی
محند اس کی پھرتی کو دیکھتے زیر لب مسکراتا ہوا اس کی تقلید میں چل پڑا ۔۔۔
ثمال نے سوچا تھا کہ گھر جاکر فورا ہی بی بی جان کو محند کی شکایت لگائے گی کہ کس طرح اس نے حمنہ کو اسے سونپ دیا تھا اور خود آرام سے اپنےکام نپٹاتا رہا تاکہ بی بی جان اس کی کلاس لے سکیں ۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی اس کی سوچ کے مطابق کے بی بی جان محند کی رپورٹ لینے کے لیے لاؤنچ میں ہی بیٹھی ہوں گیں
مگر اس کے برعکس وہ اسے نظر نہ آئیں ثمال نے حیران ہوتے ا
رفعت کی طرف دیکھا تھا اور اس سے پوچھا تھا کہ بی بی جان کدھر ہیں۔۔۔۔۔؟؟
اسے تو کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن بی بی جان کا نام سن کر اسے اتنا سمجھ آگیا کہ وہ بی بی جان کے متعلق پوچھ رہی ہے ۔۔۔۔۔ اس نے اشاروں سے ہی کمرے کی طرف اشارہ کیا جسے سمجھتے ثمال حمنہ کو گود میں لیے بی بی جان کے روم کی طرف بڑھ گئی جبکہ محند لاؤنج میں داخل ہوتا اسے اور بی بی جان کو نہ پاکر اپنے روم میں چلا گیا تھا
ثمال حمنہ کو گود میں لیے جیسے ہی بی بی جان کے روم میں داخل ہوئی تو بی بی جان کھڑکی کی طرف منہ کیے کرسی پر بیٹھیں تسبیح ہاتھ میں لئے کچھ ورد کر رہی تھیں
ثمال بنا انکے تاثرات جانچے ان کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور سارے دن کی رواداد ایک ہی سانس میں جلدی جلدی سنانے لگی۔۔۔۔۔
بی بی جان آپ کو پتہ ہے انہوں نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے ڈرا دھمکا کر حمنہ کو سونپ دیا اور خود بڑے مزے سے اپنے کام نپٹانے بیٹھ گئے ان سے میں نے کہا بھی تھا کہ میں آپ کی بی بی جان سے شکایت لگاؤں گی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے مجھے زبردستی حمنہ کو دے دیا اور کہا کہ اسے سنبھالو ورنہ بہت برا ہوگا اور مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ اگر میں نے اس بارے میں آپ کو کچھ بتایا تو میری صحیح سے خبر لیں گے۔۔۔۔۔
دیکھیں نہ بی بی جان مجھ معصوم کو انہوں نے کتنا تنگ کیا سارا دن آفس اور حمنہ کے بیچ میں پھنس کر رہ گئی میں تو۔۔۔۔
ذرا ان کی خبر تو لیں نہ آج۔۔۔ میں اتنا تھک گئی ہوں کہ آپ کو بتانے سے قاصر ہوں ثمال تو نان سٹاپ بولتی چلی گئی مگر جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ بی بی جان یک ٹک کھڑکی سے باہر نظر آتے درخت پر نظر جمائے ہوئی ہیں تو اس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کرنےکی کی کوشش کی جس پر بی بی جان نے خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔
کیا ہوا بی بی جان۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ثمال انکی نظروں سے گھبراتے ہوئے بولی تھی
اس کے سوال پوچھنے پر بھی بی بی جان نے کوئی جواب نہ دیا تھا بلکہ اس سے نظریں موڑے اپنا رخ ہی پھیر لیا تھا جیسے خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔
انکے منہ پھیرلینے سے ثمال اب حد درجہ سنجیدہ ہوئی تھی کہ نہ جانے ایسا کیا ہوا ہے کہ بی بی جان نے اس سے یوں منہ موڑ لیا۔۔۔ وگرنہ تو جب بھی وہ ان کے سامنے آتی تو وہ اپنا شفقت سےمحبت بھرا ہاتھ اس کے سر پر پھیرتی تھیں اور دعائیں دیتیں۔۔۔۔
لیکن آج بی بی جان نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا لیکن کیوں ۔۔۔۔۔؟؟
وہ گھبراتی بی بی جان کی دوسری طرف جہاں انہوں نے اپنا منہ پھیر رکھا تھا آئی لیکن اس کے وہاں آنے سے بی بی جان وہاں سے اٹھ کر اپنے بستر پر جا کر بیٹھ گئیں وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھیں
حمنہ کو ان کی بائیں طرف لٹاتی حیران پریشان سی ثمال خود ان کے پاوں والی سائیڈ آکر بیٹھ چکی تھی اور پریشان نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
بی بی جان بتائیں نہ آپ کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟ آپ جواب کیوں نہیں دے رہی ہیں مجھے۔۔۔؟؟ آپ ٹھیک تو ہیں نہ پلیز ایسا مت کریں بہت تکلیف ہو رہی ہے مجھے بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے کیا آپ کو میری ان کی شکایت لگانا برا لگا ہے۔۔۔؟؟
نم آنکھیں لئے ان سے پوچھتی وہ ازحد پریشان ہوچکی تھی
اگر ایسی بات ہے تو میں آپ سے معافی مانگتی ہوں آئندہ میں ان کی شکایت نہیں لگاؤں کی لیکن پلیز آپ مجھ سے یوں ناراض تو مت ہوں نہ۔۔۔۔۔ بی بی جان پلیز میری بات سنیں۔۔۔۔۔
تم جاؤ یہاں سے ثمال ۔۔۔۔ بہت تھک گئی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔
ثمال کو بیچ میں ہی ٹوک کر وہ تھکیں تھکیں سی بغیر اسے دیکھے بولیں تھیں اور کروٹ کے بل لیٹ کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔
انداز ایسا تھا کہ اب وہ کچھ سننا کہنا نہیں چاہتیں۔۔۔
حمنہ کو ان کے پاس ہی چھوڑے پریشان سی نم آنکھیں لئے باہر آئی اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کے بی بی جان کو ہوا کیا ہے ۔۔ انہی سوچوں کے بیچ وہ روم کی طرف روانہ ہو گئی
محند ڈریسنگ روم سے چینج کرکے نکلا تو سامنے ثمال بیڈ پر گھٹنوں میں چہرہ دیے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
محنت اس پر ایک نظر ڈالتا اپنی کافی پینے لگا لیکن اس کی نظریں مسلسل اس کو ہی دیکھ رہی تھیں اسے لگ رہا تھا کہ ثمال آج بہت تھک چکی ہے اس لیے ایسے بیٹھی ہوئی ہے محند آج کے دن کے تمام لمحوں کو یاد کرتا ہوا مسکرا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جان ثمال کے جانے کے بعد اٹھ کر بیٹھ گئیں اور حمنہ کے سر پر ہاتھ پھیرا ان کے چہرے پر مستقبل کو لے کر متفکر سوچیں تھیں جو انہیں پریشان کئے دے رہی تھیں
یہ کیا ہوگیا میرے مالک ۔۔۔۔ایسا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا نہ جانے میرے بچوں کا مستقبل کیسا ہو گا ۔۔۔۔؟؟ یا اللہ ۔۔۔!!
اے میرے مولا۔۔۔ دو جہاں کے مالک ہے شک ہم سب کی جان تیرے قبضے میں ہے ۔۔۔ تو ہی ہم سب کی قسمتوں کو بدلنے سوارنے والا ہے۔۔۔ میری تجھ سے یہی دعا ہے کہ میرے بچوں کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھنا چاہے میں رہوں یا نہ رہوں تو نے میرے بچوں کی حفاظت کرنی ہے جو بے شک تو کرتا آیا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا ۔۔۔۔
دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے بی بی جان روتے ہوئے اپنے خدا سے مخاطب تھیں کہ اب وہی تھا جو ان سب کو اس امتحان سے باہر نکال سکتا تھا
اور بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔۔۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد کو گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور اب جاناں اپنے سوچے
ہوئے پلین پر عمل کرنے لگی ۔۔۔ جلدی سے اس نے پہلے سے پیک کیا چند جوڑوں پر مشتمل کالا بیگ اٹھایا اور الماری سے پیسے نکالے جو اس نے حامد کو رکھتے ہوئے دیکھے تھے
وہ ایسا نہ کرتی لیکن انکی اسے ابھی بہت ضرورت تھی تو نہ چاہتے ہوئے بھی پیسے اٹھائے اور دروازہ کھولتی کہ شکر آج شائد حامد لاک کرنا بھول گیا تھا اور دوسری یہ کہ ملازمہ بھی آج چھٹی پر تھی اس لئے وہ اسے اپنا لک سمجھتی جلدی سے فلیٹ سے باہر نکل گئی تھی ۔۔۔
حامد کو چھوڑنا اس کے لئے جان چھوڑنے کے مترادف تھا لیکن حامد کے بعد میں اسے چھوڑنے سے تو بہتر یہی تھا کہ وہ ابھی ہی چلی جائے اسکی زندگی سے ورنہ اگر وہ اسکی عادی ہوگئی تو بہت تکلیف ہوگی ۔۔۔۔
موٹے موٹے آنسو چھن سے پلکوں کی بار توڑ کر اسکے رخسار پر بہے تھے جنہیں وہ سرعت سے صاف کرتی ہمت جٹاکر روڈ پر چلنے لگی تاکہ ٹیکسی لے کر وہ اس علاقے سے جلد از جلد نکل سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ دیا اور پھر اسکے رکنے پر بیگ اٹھاتی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور اپنا سر سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹکا دیا
حامد کے ساتھ گزرے یہ چند دن اسکی آنکھوں کے سامنے آئے تھے
سارے رستے وہ آنسو بہاتی رہی تھی
مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا اور اس جنگل نما جگہ پر موجود چھوٹے سے گھر جس میں ایک روم اوپن کچن اور چھوٹا سا لاؤنج تھا اور اسکے پچھلی طرف روم سے ہوتا راستہ تھا جہاں سے پیچھے جنگل کا حسین منظر نظر آتا تھا یہ چھوٹا سا گھر اسکی ماما کا تھا جو انہوں نے صرف جاناں کے لئے بچا کر رکھا تھا اور اسے بھی حامد کے فلیٹ میں آنے کے بعد معلوم ہوا تھا جب اس نے اپنے بابا جان کا دیا ہوا لفافہ چاک کیا تھا۔۔۔۔۔۔
روم میں آکر اس نے بیگ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس میں سے لائٹ میرون کلر کا ٹراؤزر شرٹ نکالا اور شاور لینے چلی گئی
بال سںنوار کر اس نے بیڈ پر سے سفید چادر ہٹائی صفائی اس نے کل کے لئے چھوڑ رکھی تھی ابھی وہ زہنی طور پر بہت تھک چکی تھی اس لئے سنگل بیڈ پر اوندھے منہ گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر تک ثمال ایسے ہی بیٹھی رہی تو محند کو تشویش ہونے لگی
یہ ہل کیوں نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔؟؟
محند اٹھ کر اسکے سر پر کھڑا ہوکر اسے ہلانے لگا ۔۔۔۔
ثمال ۔۔۔۔۔؟؟ اٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔
محند کے ہلانے اور اسکی آواز دینے پر وہ جو گھٹنوں میں منہ دیئے آنسو بہا رہی تھی اپنا چہرہ اوپر کیا تھا
روئی روئی کالی آنکھیں طوفان کا منظر پیش کر رہی تھیں اسکا پورا چہرہ آنسؤوں سے بھیگا ہوا تھا
محند کو ایک نظر دیکھ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں
کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔؟؟ تم ایسے کیوں بیٹھی ہو اور یہ رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔؟
محند اسکے قریب بیٹھتا سنجیدگی سے بولا تھا
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ بی بی جان نے اسے اگنور کیا ہے اور وہ اسی لئے رو رہی تھی تو پھر محند اس پر ہنسے گا اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے وہ اور بھی بی بی جان کو اسکے خلاف کرے گا
نہیں وہ بس مجھے اماں ابا اور ببلو کی یاد آرہی تھی تو ۔۔۔۔ بس اسی لئے۔۔۔۔۔
آنسو پوچھتی اس نے بہانہ بنایا
تو رونے سے کیا ہوگا تم فون کیوں نہیں کر لیتی انہیں۔۔۔۔۔ یوں ٹسوے کیوں بہا رہی ہو ۔۔؟
محند کو اسکے رونے سے تکلیف محسوس ہو رہی تھی اسی لئے جھنجھلاتے ہوئے وہ اسے ڈانٹنے لگا
وہ میرے فون کی بیٹری ختم ہو گئ ہے۔۔
اوہ۔۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔۔
اسے بولتا محند اپنے فون سے اس کے گھر والوں کا نمبر ملانے لگا ۔۔
نمبر بتاؤ اپنے فادر کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمال کے بتائے ہوئے نمبر سے کال ملا کر اس نے فون اپنے کان سے لگایا
پھر سلام دعا اور چند باتوں کے بعد اس نے موبائل ثمال کو پکڑا دیا اور اسے پرائیویسی دیتا خود لیپ ٹاپ اٹھائے سٹڈی روم میں چلا گیا۔۔۔۔
جہاں ثمال اسکے اپنے ابا سے بات کرنے پر حیران ہوئی تھی وہیں اسکے ابا کو بھی حیرانی کے ساتھ ساتھ بہت خوشی بھی ہوئی تھی کہ انکے داماد نے خود ان سے بات کی ۔۔۔۔۔
ثمال اب اپنے گھر والوں سے اور خاص کر ببلو کی شرارتوں کے قصے سن کر سب بھلائے ہنسنے میں مگن تھی
سچ کہتے ہیں کہ اپنے اگر ساتھ ہوں تو انسان ہر غم اور تکلیف بھلا دیتا ہے جیسے ثمال نے بھلا دیا تھا
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔
محند لیپ ٹاپ پر اپنی انگلیاں مہارت سے چلاتا اپنا کام کر رہا تھا کہ اسکے کانوں میں ثمال کے ہنسنے کی آواز پڑی ۔۔۔ ایک دو بار تو اسنے اگنور کیا مگر جب تیسری بار پہلے سے بھی اونچی آواز آئی تو وہ لیپ ٹاپ رکھتا دروازے میں کھڑا ہوا تھا جہاں سے وہ ثمال کو فون پہ بات کرتا دیکھ رکا تھا
رونے سے اسکی آنکھیں اور بھی چمکیلی اور بڑی بڑی لگ رہیں تھیں اوپر سے اس کے بےداغ چہرے پر چھائی یہ دل موہ لینے والی ہنسی۔۔ اس پر اور ہی اثر کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ دروازے سے ٹیک لگائے اسکو دیکھنے میں مگن ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
بہت کم عرصے میں اس نے محند کے دل میں جگہ بنا لی تھی اور تو اور وہ اسے تمام حقوق بھی دے چکا تھا
نہ نہ کرتے بھی محند نے آخر کار یہ اعتراف کر ہی لیا کہ وہ اسے اچھی لگنے لگی ہے مگر وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
یہ تو اس نے سوچا تھا لیکن یہ تو اسکا دل ہی اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرنے لگ گیا ہے اور ہر وقت اسکی چاہ کرتا ہے
دل اسے اپنے پاس ۔۔۔۔ بہت پاس رکھنے کی خواہشیں کرتا ہے ۔۔۔ بس ہر وقت اس سے باتیں کرنا اسے دیکھتے رہنا اسے محسوس کر نے کو یہ دل بے تاب ہر وقت مچلتا رہتا ہے ۔۔۔
لیکن وہی نہ اپنی مردانہ انا کے چکر میں کہ اسے پہلے اس سے محبت نہیں ہو سکتی کم از کم ثمال سے پہلے تو بلکل نہیں ہو سکتی تو اپنے دل کو ڈپٹے وہ اسے خاموش رہنے پر تلا رہتا تھا مگر بھولے سے بھی کبھی قبول نہیں کرتا تھا کہ اسے ثمال سے محبت ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہائے چاند تو بھی نہ بڑا ہی تیز ہے بلکل اسی طرح تو میرے ساتھ بھی چیٹنگ کرتا تھا لیکن میں تو پھر سدا کی زہین فتین تھی جو تیری چکروں میں کبھی نہیں پڑی ۔۔۔
محند کے کانوں میں پڑنے والے لفظ چاند نے اسے ہوش کی دنیا میں پٹخا تھا
جبکہ ثمال مزید ہنستے ہوئے چاند سے باتیں بھگار رہی تھی۔۔۔
دیکھ میرے پیچھے تونے ببلو کا خیال رکھا نہ میں بتا رہی ہوں اگر مجھے پتہ چلا نہ کہ اسے اسکے اسکول کے لڑکوں نے مارا پیٹا ہے تو میں نے تیری ہڈیاں توڑ دینی ہیں سمجھے یا پھر ٹھیک سے سمجھاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ اب ایسی بھی بات نہیں ہے تو تو میرا چاند ہے چاند اپنا جگر۔۔۔۔۔۔
ثمال دوستانہ لہجے میں اسے پچکارتے ہوئے بولی تھی کہ مبادہ وہ اس سے ناراض ہی نہ ہوجائے آخر کو اسکا بچپن کا دوست جو تھا
محند اسکی اتنی بے تکلفی سے بات کرتے ہوئے سن تناؤ میں آیا تھا بےساختہ اسکے ہاتھ مٹھی میں بندھے تھے حد تو تب ختم ہوئی جب ثمال نے چاند کو اپنا جگر کہا تھا ۔۔۔۔ تب تو اس کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچ گیا اور تن فن کرتا اسکے پاس آیا اور اسکے ہاتھ سے موبائل کھینچتا زور سے دیوار میں دے مارا جیسے موبائل نہیں چاند ہو جسے اس نے اپنا جگر کہا تھا
ثمال اسکے اچانک موبائل چھین لینے اور دیوار پر دے مارنے سے ڈر کر کھڑی ہوئی تھی اور ٹوٹے موبائل کو دیکھا جو اپنی ٹوی پھوٹی حالت پر افسوس کے قابل لگ رہا تھا
یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جاری۔۔۔۔۔۔۔
