Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Last Episode)Part 2

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

رات کے دس بج رہے تھے جب وہ اور حیان معیز کے گھر پہنچے, وہ صوفے پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا, انہیں دیکھ کر چونک گیا

“چاچو کہاں ہیں تمہارے ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا

“اوپر ہیں… ” وہ بولا, اچانک ہی وہ اوپر سے نمودار ہوا تھا

عنایہ کے پیچھے دھڑ دھڑ کرتا سیڑھیاں اترا تھا… وہ اس کی ٹی شرٹ اٹھا کر بھاگ آئی تھی, آخری سیڑھی پر اس نے عنایہ کو دبوچ لیا تھا

“چاچو… گیسٹ…؟؟” معیز نے کھنکار کر کہا, وہ ان دونوں کو دیکھ کر پہلے تو حیران ہوا پھر مسکراتا ہوا ٹی شرٹ پہن کر آگے کو آ گیا

“آنے سے پہلے فون کر دیتیں تو تمہارے شایان شان کچھ تو کر لیتا میں… ” وہ بولا

“اب کر لو…” وہ بولی

“یہاں… سب کے سامنے” وہ یکدم ہی بولا تھا, انعمتا بول نہ سکی

“بیٹھو…. ” وہ اس کے گالوں کی تمتماہٹ دیکھ چکا تھا, عنایہ اس کے ساتھ ہی صوفے پر چڑھ گئی

“مجھے دانین اور معیز کے رشتے کی بات کرنی ہے ” وہ بولی

“جب تم چاہو…. ” وہ بولا

“دانین کا آخری سمیسٹر ہے… فی الحال منگنی کر لیتے ہیں… شادی اس کے بی ایس کے فوراً بعد کر لیں گے” وہ بولی

“جیسے تم چاہو… ” وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا

“تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے اب ؟؟؟” اس نے معیز کی طرف دیکھا

“اگر کوئی اعتراض ہوتا تو… میں آج شادی شدہ ہوتا” وہ حیان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا

“تم بس ایک ہی رشتہ طے کرنے آئی ہو؟؟” حنین نے پوچھا

“ہاں… میرا خیال ہے تمہارے گھر ایک ہی لڑکا ہے” وہ بولی

“تو تمہارے ہاں صرف بائیس سال والوں کو ہی لڑکا کہتے ہیں ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا, وہ اس لمحے پوری طرح انعمتا کو زچ کرنے پر تلا ہوا تھا

“میری بڑی بیٹی راضی نہیں ہے مسٹر حنین… وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی” انعمتا نے کہا

“تو تمہارے گھر میں صرف دو ہی لڑکیاں ہیں ؟؟؟” اس نے کہا

“حنین… میرے خیال سے ہمیں اب جانا چاہئے ” اسے تاؤ آ گیا

“پاپا یہ کون ہیں ؟؟؟” عنایہ نے پوچھا تھا, اس سے پہلے کہ حنین کچھ کہتا, حیان بول پڑا

“بیٹے یہ آپ کی پھپھو ہیں…. ” معیز کے لبوں سے یکلخت ہی ہنسی کا فوارہ نکلا تھا

“…وہ بھی اکلوتی پھپھو… ” وہ بولا

“سالے تیری تو…. ” حنین کی مسکراہٹ یکدم ہی ہوا ہو گئی تھی, انعمتا بمشکل اپنی ہنسی روکتی ہوئی کھڑی ہو گئی

“پاپا پھپھو کیا ہوتی ہے ؟؟؟” عنایہ نے پھر پوچھا تھا, اس سے پہلے کہ حیان اپنا منہ کھولتا, حنین یکدم کھڑا ہو گیا

“خبردار جو مزید پھپھو کو explain کیا تو… ” وہ بولا, معیز مسلسل ہنس رہا تھا

“اور خبردار جو آئیندہ میری ماں کے ساتھ فلرٹ کیا تو…” وہ اپنی ہنسی دباتا ہوا انعمتا کے پیچھے ہی باہر نکل گیا تھا

……………………….

وہ چھ بجے کے قریب گھر آیا تھا…. گاڑی سے اترتے ہوئے اس کی نظر آئرہ پر پڑی, وہ باہر لان میں چہل قدمی کر رہی تھی… جس عورت کو گزرے 43 سال بوڑھا نہیں کر سکے… وہ گزشتہ 43 دنوں میں بوڑھی ہو گئی تھی

چہرے کی بشاشت یکسر ختم ہو گئی تھی, جھریاں واضح ہونے لگی تھیں, شال کندھوں سے لپیٹے وہ خراماں خراماں واک کر رہی تھی

زارون گاڑی کھڑی کر کے اس کی طرف آ گیا, آئرہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا

“ابھی بھی ناراض ہیں مجھ سے ؟؟؟” وہ اس کے کندھے کے گرد بازو لپیٹ کر اس کے ساتھ ہی چلنے لگا

“اس کے سوتیلے بچوں نے اسے گھر سے نکال دیا…. وہ تب بھی ان سے ناراض نہیں ہوئی… تو تو پھر میرا جنم دیا ہوا ہے” وہ بولی تھی, بھلے ہی اس کی صورتحال اب کافی بہتر تھی لیکن باتیں اسے سبھی یاد تھیں

“آپ ایک کام کریں مام… میرے لئے کوئی لڑکی ڈھونڈنا شروع کر دیں…” وہ بولا, آئرہ نے چونک کر اسے دیکھا

“ماں کو پاگل بنا رہا ہے… ” وہ خفگی سے بولی

“نہیں مام… میں سیریس ہوں” وہ بولا

“میری شادی ہو جاۓ گی تو آپ کا دھیان اپنی بہو کی طرف ہو جاۓ گا… اپنی مرضی کی لڑکی ڈھونڈ لیں ” وہ مسکرایا

“اور تیری مرضی والی….؟؟” وہ رک کر اسے دیکھنے لگی

“میری مرضی والی ہمیشہ بیسمینٹ تک ہی محدود رہے گی… میرا وعدہ ہے آپ سے” وہ بولا, آئرہ نے ایک بھر پور نظر خود سے بھی نکلتے ہوئے قد کے اپنے اس تئیس سالہ بیٹے کو دیکھا… جو دانشمندی اور سمجھداری میں اس سے کہیں آگے تھا

“اگر اس نے حنین سے شادی کر لی تو ؟؟؟” آئرہ نے پوچھا

“تو کر لیں… اب ان پر کوئی زبردستی تھوڑی ہے کہ شادی کریں تو مجھ سے ہی کریں… ورنہ کسی سے بھی نہ کریں” زارون نے کہا

“زارون… تجھے وہ کسی اور کے ساتھ برداشت ہو جاۓ گی ؟؟؟” آئرہ ششدر سی تھی

“مام آپ ابھی تک نہیں سمجھیں… محبت میں نے کی ہے… انہوں نے نہیں کی… بالکل ویسے جیسے آپ نے حمدان سے محبت کی تھی… انہوں نے آپ سے نہیں کی… اور ہماری محبت سراسر ہمارا ذاتی معاملہ ہوتی ہے… اگلے پر کوئی زور زبردستی نہیں… وہ اسے قبول کرے یا نا کرے, وہ اس کی طرف دیکھے یا نا دیکھے… اس کی مرضی… ” وہ کہتا چلا گیا, آئرہ بس تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی, پھر یکدم اس کی آنکھیں بھر آئیں

“زارون… اس کے علاوہ کوئی اور بھی اور ہوتی… تو میں تجھے ضرور لا کر دیتی” وہ رو پڑی تھی, زارون نے اسے گلے سے لگا لیا

“میں نے کونسا آپ سے ضد کی ہے مام… ” وہ اسے اندر کی طرف لے چلا تھا

“زاہا نہیں آئی دوبارہ ؟؟؟” آئرہ نے پوچھا

“وہ اب بھلا کیا کرنے آئے گی یہاں ؟؟؟” وہ بولا

“دس سال کی تھی وہ جب ہم یہاں آۓ تھے, تیرہ سال گزارے ہیں میں نے اس کے ساتھ… عادت ہو گئی تھی اس کی…. زارون اسے بلا لے… اسے کہہ اپنے میکے کا کھانا تو کھا جاۓ ” وہ اس کے ساتھ اندر جاتے ہوئے بولی تھی

……………………….

ان دونوں کا ریسٹورنٹ بہت اچھا جا رہا تھا, زارون نے ریسٹورنٹ کے ساتھ ہی ہوٹل کے لئے بھی زمین اوکے کر لی تھی, وہ ساتھ ہی گیسٹ ہاؤس بھی بنانا چاہ رہا تھا

وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… جب حنین یامن میر کی گاڑی ان کے ریسٹورنٹ کے سامنے آکر رکی

بلیک سن گلاسز اتارتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا تھا

“مسٹر زارون یا مس رعنین میں سے کوئی ہے ؟؟؟” اس بے ریسیپشن پر پوچھا

“جی سر… وہ دونوں اندر ہیں” سر ہلاتے ہوئے وہ اندر کی طرف بنے آفس کی طرف آ گیا, وہ دونوں گیسٹ ہاؤس کو ہی ڈسکس کر رہے تھے, اسے اندر آتا دیکھ کر چونک گئے

“تم دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے… ” وہ بولا, اس بار اس کے سکائی بلو تھری پیس میں ملبوس وجہیہ سے چہرے سے رعنین نے ذرا جلدی نظریں پھیر لی تھیں… دل ایک دم دھڑکا تو تھا لیکن اس نے جلدی قابو کر لیا تھا

“پلیز بیٹھیں سر… ” زارون نے اس کے لئے کرسی کھینچتے ہوۓ کہا, رعنین سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی… زارون اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا

“پرسوں تمہاری سٹیپ مام آئی تھیں… دانین کا رشتہ طے کرنے… ” وہ رعنین کی طرف مڑا

“انہوں نے کہا کہ…. تم نے انکار کر دیا ہے” حنین نے کہا

“کس بات سے ؟؟؟” حالانکہ اسے سب پتہ تھا

“مجھ سے شادی کرنے سے…. ” وہ صاف الفاظ میں بولا

“بالکل… ” وہ بولی

“وجہ.. ؟؟؟”

“میری مرضی… ” وہ کندھے اچکا کر بولی

“I think you fall in love with me… “

حنین نے کہا

“تو… محبت مجھے ہوئی تھی… آپ کو تو نہیں ہوئی… ؟؟؟” وہ بولی

“تو تم صرف اسلیے اپنی خواہش سے پیچھے ہٹ رہی ہو کیونکہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا

“نہیں.. میں اسلیے اپنی خواہش سے پیچھے ہٹ رہی ہوں کیونکہ آپ کو کسی اور سے محبت ہے… ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی

“بات پوری کرو رعنین حمدان خان… کیونکہ مجھے کسی اور سے محبت ہے اور وہ تمہاری سٹیپ مام ہے… ہیں نا ؟؟؟”

“یہ ہی سمجھ لیں…. ” رعنین نے کہا, حنین نے ایک لمبی سانس بھری تھی

“رعنین… میں نے عمر کے پینتیس سال گزارے ہیں, میں جانتا ہوں یک طرفہ محبت کا دکھ کیا ہوتا ہے… ؟؟؟ میں مانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا… تمہارے معاملے میں میں کبھی بھی خود کو جسٹیفائی نہیں کر سکتا… میں نے تمہیں بڑھاوا دیا… جان بوجھ کر تمہارے دل کے ساتھ کھیل کھیلا, محبت کی چوٹ کھانے کے باوجود تمہیں وہی چوٹ دی… میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے دل میں تمہارے باپ سے بدلہ لینے کی کسک موجود تھی… اس نے مجھ سے انعمتا کو چھینا تھا… اپنی دولت کے بل پر اور مجھے بس ایک بار اس کی اولاد کو اس درد سے آشنا کروانا تھا جس سے میں خود گزرا تھا… اور اس جرم کے لئے میں تا عمر معاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ….. ایک باپ کے کئے کی سزا اس کی اولاد کو کیوں ؟؟؟ ” وہ کہتا چلا گیا

“میں تمہارے دل دکھانے کا مجرم ہو رعنین… میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہوئی ہے… اگر تم چاہو میں تمہیں اپنانے کے لئے تیار ہوں… میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ جو درد میں نے پندرہ سال سہا… وہ تم بھی سہو… صرف میری وجہ سے… میں بھلے ہی ابھی تمہارے لئے کوئی جذبہ نہیں رکھتا لیکن… آنیوالے وقتوں میں ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا… تم سے بارہ سال بڑا ہوں میں, شادی بھی ہوئی تھی… ایک بیٹی بھی ہے… دیوانہ وار محبت بھی کر چکا ہوں… لیکن اس کے باوجود میں اپنی باقی کی زندگی تمہارے نام کرنے کو تیار ہوں… اگر تم چاہو… ؟؟؟ اور جیسے تم چاہو ؟؟؟؟” وہ بولا, رعنین دھیما سا مسکرائی تھی

“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے مسٹر حنین کہ آپ دراصل یہاں مجھ سے معافی مانگنے آۓ ہیں ؟؟؟” اس نے کہا

“I am sorry…. I broke your heart.. “

وہ بولا

“کر دیا معاف… اٹس اوکے” وہ بولی

“شادی کب کرو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا

“کبھی بھی نہیں…. ” وہ بولی

“رعنین… میں بہت خوش رکھوں گا تمہیں” وہ بولا

“میں already بہت خوش ہوں…. ” وہ مسکرائی

“دیکھو… تم صرف انعمتا کی وجہ سے انکار کر رہی ہو نا ؟؟” اس نے پوچھا

“کہہ سکتے ہیں…. “

“اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا…. “

“مجھے تب بھی آپ سے شادی نہیں کرنی… ” وہ بولی, زارون چپ چاپ ان دونوں کی بحث سن رہا تھا

“وجہ… ؟؟؟” اس نے پوچھا

“مجھے کسی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کا دل پہلے ہی کسی اور کے نام ہو چکا… ” وہ بولی

“رعنین سنو… ” وہ بولنے لگا تھا جب رعنین نے اس کی بات کاٹ دی

“پلیز مسٹر حنین.. نو بحث… مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی… نا ابھی… نا کبھی… کبھی بھی نہیں… اور یہ سراسر میرا ذاتی فیصلہ ہے… بس بات ختم ” وہ بولی تھی, حنین اسے دیکھتا رہ گیا

وہ کیا بچہ تھا ؟؟؟ اسے کیا پتہ نہیں تھا کہ وہ کس وجہ سے انکار کر رہی تھی

وہ اس شخص سے محبت کی دعویدار تھی جو ماضی میں اس کی سوتیلی ماں کی محبت رہ چکا تھا

“تو پھر کس سے کرو گی شادی ؟؟؟” اس نے پوچھا

“جس سے دل کرے گا” وہ بولی

“اس سے کرو گی ؟؟” اس نے زارون کی طرف اشارہ کیا تھا

“نہیں… ” رعنین سے زیادہ اونچی ” نہیں ” زارون کی تھی

“مجھے کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہیں آپ ؟؟؟” وہ تڑپا

“کیوں… ؟؟؟ تمہیں بھی تو شادی کرنی ہے نا… ؟؟” حنین نے کہا

“ہاں بالکل… میں اپنی مام کی پسند سے کروں گا… وہ خود ہی ڈھونڈ لیں گی میرے لئے کوئی لڑکی” وہ بولا

“اور جو تم نے ڈھونڈی… اس کا کیا ؟؟” حنین نے پوچھا

“میں کیسے اس دل میں اپنی محبت ڈال سکتا ہوں جو پہلے ہی کسی کی چاہت سے لبا لب ہے… ” زارون نے ایک لمبی سانس بھری تھی

“کہہ کر تو دیکھو ؟؟” وہ بولا

“سر مجھے جان بوجھ کر لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی عادت نہیں ہے… میں تب سوالی بنوں جب مجھے کچھ ملنے کی ایک فیصد بھی امید ہو” وہ

بولا

حنین نے ایک لمبی سانس بھری اور اٹھ کھڑا ہوا

“رعنین… اگر تم مجھ سے شادی نہیں کرو گی … تب بھی وہ میری نہیں بنے گی… اور زارون…. اگر اس نے تم سے شادی نہیں کی… تو مجھ سے بھی نہیں کرے گی…. اس نے پندرہ سال پہلے بھی مجھے نہیں چنا…. اور اب بھی نہیں چنے گی, پندرہ سال پہلے بھی وجہ یہ تھی کہ تم لوگ چھوٹے تھے.. اور پندرہ سال بعد وجہ یہ ہے کہ تم لوگ بڑے ہو گئے ہو… حالانکہ تمہارے پاپا کے جانے کے بعد وہ میری جانب پلٹ سکتی تھی لیکن نہیں پلٹ کر آئی… کیونکہ اس کے لیے ایک مرے ہوئے انسان کا وعدہ ایک زندہ انسان کی محبت سے زیادہ اہم تھا… اور آج بھی اس کے لئے انعمتا حمدان خان کہلوانا… انعمتا حنین یامن کہلوانے سے زیادہ معتبر ہو گا… جہاں اس نے بارہ سال تنہا گزار لئے… وہ اگلے بارہ سال بھی گزار لے گی, پندرہ سال پہلے صورتحال اور تھی… پندرہ سال بعد صورتحال کچھ اور ہے… لیکن ان دونوں ادوار میں ایک چیز مشترک ہے… اور وہ یہ کہ وہ میری ہو کر بھی میری نہیں ہے… میں ہمیشہ سے اس کے بغیر جیا ہوں… اور ہمیشہ تک اس کے بغیر ہی جیوں گا… وہ روز مجھے ملے گی اور میں روز اسے دیکھوں گا… لیکن تا عمر میری پوریں اس کے لمس سے ناآشنا ہی رہیں گی” وہ اتنا کہہ کر دروازے کی طرف مڑ گیا تھا, پھر اس کے قریب جا کر پلٹا

“اور اگر تم دونوں بھی اس قسم کی زندگی جینا نہیں چاہتے تو جلدی ہی شادی کر لینا… کیونکہ اگر کوئی مل نا سکے… تو کسے کا ہو کر رہ لینا چاہیے, زندگی سہل ہو جاتی ہے” وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا

……………………..

ایک ماہ بعد دانین اور معیز کی منگنی ہو گئی تھی… وہ دونوں ہی بہت خوش تھے, حنین نے دھیرے دھیرے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کا اپنے حصے کا سارا کام معیز کے سر ڈالنا شروع کر دیا تھا, یزدان کے گھرکنے پر وہ مارے باندھے ہی آفس آتا تھا, ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ مائیکرو فنانس سے بڑھ کر باقاعدہ ایک کمپنی بن کر ٹاپ فائیو میں شامل ہو گئی تھی

زاہا اور حیان کی پارٹنرشپ بڑی کامیابی سے چل رہج تھی… لیکن یہ بھی گقیقت تھی کہ ہر کسی کے مقدر کا ستارہ ایک جیسا نہیں چمکتا… حیان کے مقدر انعمتا کی طرح نہیں تھے, یا یوں کہہ لیں کہ اس کی بیوی اس سے زیادہ جینیس تھی, وہ دن بدن حیان سے آگے نکلتی جا رہی تھی

اس سال کا اختتام قریب ہی تھا اور یقیناً اگلے کچھ سالوں میں وہ انعمتا حمدان خان کی جگہ لینے والی تھی

زارون کے کہنے پر اس نے اپنے میکے کا چکر لگایا تھا, آئرہ بس اس سے رسمی سا ہی ملی تھی, وہ بیچاریاس کے در سے اکیلی ہی گئی لیکن آئرہ کے لبوں سے حیان کا سن کر حیرانی سے فوت ہونے کے قریب تھی

“اب تو شادی شدہ ہو تم… شوہر کو ہر وقت بغل میں لیکر گھوما کرو… اپنی ساس سے ہی کچھ سیکھ لو” وہ طنز کرنے سے نا چوکی تھی, زاہا بس “جی” کہہ کر خاموش ہو گئی

“اگلی بار اسے بھی لے آنا… جان سے نہیں ماروں گی اسے” آئرہ نے کہا تھا, وہ زارون کے لئے رشتے کی تگ و دو شروع کر بھی چکی تھی

وہ اس دن کچن میں تھی جب اسے حنین کی کال آئی

“میں ایک بار ملنا چاہتا ہو تم سے ؟؟؟”

“تم تقریباً ہر دوسرے دن تو ملتے ہو مجھ سے ” وہ بولی

“چار تمہارے رشتے دار, چار میرے رشتے دار, آٹھ تمہارے کولیگز, دس میرے کولیگز اور پندرہ, بیس رپورٹروں اور صحافیوں کے نرغے میں نہیں ملنا مجھے… ” وہ تڑخ گیا

“تو پھر… ؟؟”

“میری ایک شام ادھار ہے تم پر… ” وہ بولا

“کونسی شام… ؟؟؟”

“جس شام میں تمہارے انتظار میں ریسٹورنٹ میں بیٹھا رہ گیا تھا اور تم… نہیں آئی تھیں” وہ بولا

“مجھے وہ ادھار لوٹا دو… ” انعمتا بول نہ سکی

“کل… اسی ریسٹورنٹ میں… اسی وقت… میں انتظار کروں گا تمہارا ؟؟؟” وہ بولا

“وہ ریسٹورنٹ اب وہاں نہیں ہے حنین… ختم ہو گیا ہے… چلڈرن پارک ہے اب وہاں.. ” وہ بولی

“انعمتا… میں انتظار کروں گا… ” وہ کال کاٹ گیا تھا

………………………….

شام پانچ بجے کا وقت تھا… ڈھلتے ہوۓ سورج کی اداسی نے ہر سمت ڈیرہ ڈالنا شروع کر دیا تھا, پرندوں کی چہچہاہٹ بڑھتی جا رہی تھی, آسمان پر سرخی مائل شفق پھیلتی جا رہی تھی

وہ ایک بینچ پر بیٹھی تھی, نیوی بلو ایمبرائیڈری والا نفیس سا سوٹ پہنے, ریشمی دوپٹہ کندھوں پر ڈالا ہوا تھا, لمبے بالوں کی ڈھیلی سی پونی باندھی ہوئی تھی, چہرہ میک اپ سے بالکل مبرہ تھا بس لبوں پر گلابیاں چھلک رہی تھیں, سفید دودھیا پیر نیوی بلو سینڈلز میں مقید تھے

“کیا کہنا ہے مجھے ؟؟؟” اس نے پوچھا

حنین اس سے ذرا فاصلے پر درخت کے تنے سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, ڈارک گرے کلر کی ڈریس پینٹ کے ساتھ اس نے بلیک فارمل شرٹ پہنی ہوئی تھی, آستینیں حسب معمول کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں, دونوں ہاتھ پشت پر باندھے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

“تمہیں بھی پتہ ہی ہے… ” وہ بولا

“مجھے نہیں پتہ حنین…. ” وہ بولی, وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آیا اور اس کے پاس نیچے گھاس پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا, پھر اپنی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلا دی

“مجھ سے شادی کرو گی انعمتا طارق ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا

انعمتا بس چپ چاپ اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی تھی

“یہ کتنا ضروری ہے حنین ؟؟” اس نے پوچھا

“اگر سمجھو تو اتنا ہی ضروری ہے جتنی تم میرے لئے …. اور اگر نا سمجھو تو اتنا ہی غیر ضروری ہے جتنا میں تمہارے لئے ” وہ بولا

“حنین…. میں اگر تم سے شادی نا بھی کروں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا… میں تینتیس سال کی ہو گئی ہوں, زیادہ سے زیادہ بھی آگے اور کتنے سال بچے ہوں گے ؟؟؟دس سال, پندرہ سال… وہ بھی ان تینتیس سال کی طرح گزر ہی جائیں گے… ” وہ ذرا سا رکی

“یہ ہی حال تمہارا ہے حنین… You are 36 now… اگلے دس, پندرہ سال تم بھی گزار ہی لو گے… میرا ایک بیٹا ہے… تمہاری ایک بیٹی ہے… یہ دس, پندرہ سال تو ان کی خاطر بھی گزارے جا سکتے ہیں” وہ بولی

“تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو…. زندگی تم بھی میرے بنا جی لو گی… اور زندگی میں بھی تمہارے بنا جی لوں گا… شادی نہیں بھی ہوئی تو پھر کیا… ؟؟؟ لیکن…. ” اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی پشت پر رکھا تھا

“اگر ہو جاۓ تو پھر کیا ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, انعمتا چپ رہ گئی

“شاید مجھے تمہاری اور تمہیں میری کوئی ضرورت نہیں ہے انعمتا لیکن… ” اس نے اپنی انگلی اپنے دل پر رکھی تھی

“اس کا کیا قصور ہے ؟؟” وہ بولا اور پھر وہی انگلی اس کے دل پر رکھ دی

“اور اس کا کیا قصور ہے ؟؟؟” انعمتا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا, وہ بس دھیرے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دو قدم آگے کو بڑھی, سورج غروب ہوتا جا رہا تھا

حنین نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا, اس کی آنکھوں کے کونوں میں دو آنسو چمک رہے تھے, اس کا صاف شفاف چہرہ شفق کی. لالیوں کے عکس سے سرخی مائل ہوا جا رہا تھا, حنین نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے دل پر رکھے تھے

“صبح اٹھتے ہی تمہیں تصور میں لانا میرے اختیار میں ہو گا, تمہیں کال کر کے تم سے بات کرنا بھی میرے اختیار میں ہو گا, اپنی گاڑی میں بیٹھ کر تمہارے گھر آنا بھی میرے اختیار میں ہو گا, تمہارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا, چاۓ پینا اور تمہیں جی بھر کر دیکھنا بھی میرے اختیار میں ہو گا لیکن… ” وہ ذرا سا رکا

“کیا اس سے زیادہ میرے اختیار میں ہو گا ؟؟؟ کیا میں کوئی فرشتہ ہوں انعمتا… ؟؟؟ کیا میرا دل بس اتنے پر راضی ہو جاۓ گا… ؟؟؟ کیا میرے ہاتھ تمہیں چھونے کی ضد نہیں کریں گے ؟؟؟؟ کیا میری بانہیں تمہیں سمیٹنے کی خواہش نہیں کریں گی ؟؟؟ ” وہ کہتا چلا گیا, اس نے انعمتا کی انگلیاں لرزتی محسوس کی تھیں

وہ کیا انسان نہیں تھی ؟؟؟ وہ ایک لڑکی تھی تو کیا اس کے جذبات نہیں تھے… ؟؟؟

کیا محبت صرف حنین نے کی تھی ؟؟؟

نہیں… اس نے بھی کی تھی… اور اتنی ہی شدت سے کی تھی… تو کیا یہ ممکن تھا کہ پندرہ سال بعد حنین یامن میر لوٹ کر آۓ اور انعمتا طارق کا دل نہ دھڑکے… ؟؟؟

اس کے پاس کیا دل نہیں تھا…. ؟؟؟

بہت محبت سے اس کے دونوں ہاتھ حنین کے سینے سے اس کی گردن تک کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اس کے گلے کا ہار بن گئے تھے یوں کہ ان دونوں کے دل اس ایک لمحے میں قید ہو کر آپس میں جڑ گئے

حنین کے ہوش و حواس ذرا سے باغی ہوۓ تھے, اس کے دونوں ہاتھ انعمتا کے پہلوؤں سے ہوتے ہوئے اس کی پشت پر ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے یوں کہ اس کا حسین چہرہ حنین کے وجیہہ چہرے سے ایک انچ سے بھی کم دوری پر رہ گیا

“حنین… اگر اس سانس سے اگلی میری سانس آخری ہو جاۓ… یا اس دھڑکن سے اگلی تمہاری دھڑکن رک جاۓ… تو ہم کیا کریں گے ؟؟؟ تمہیں کیسے پتہ حنین کہ تم یا میں اگلے دس, پندرہ سال تک جئیں گے… ؟؟؟ ” دو آنسو ٹوٹ کر اس کے گالوں پر بہہ نکلے تھے

“یہ ایسے ہی خوبصورت ہے حنین… تمہارا اور میرا یہ پندرہ سال پرانارشتہ ایسے ہی خوبصورت ہے… میرا پورے حق سے تمہیں پکارنا… اور تمہارا میری پہلی پکار پر بھاگے چلے آنا… یہ ہی خوبصورت ہے, تمہارا مجھے دیکھنا… اور میرا نظریں جھکا لینا… یہ ہی خوبصورت ہے… حنین مانا کہ محبت بہت خوبصورت ہے لیکن کچھ ہے جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے… ” وہ ذرا سا رکی

“میری حمدان سیف خان سے پوری عمر کی وفا زیادہ خوبصورت ہے… میرے دس سال کے بیٹے کے ساتھ گزارا میرا ایک ایک پل زیادہ خوبصورت ہے, تمہاری دس سال کی بیٹی کو دیا تمہارا ایک ایک لمحہ زیادہ خوبصورت ہے, میرے حیان کا مجھ پر یہ مان کہ میں اس کی ماں ہوں… زیادہ خوبصورت ہے, میری رعنین کا مجھ پر یہ بھروسہ کہ میں نے تمہیں اس کے لئے چھوڑ دیا… زیادہ خوبصورت ہے… تمہارا معیز اور سنایا کے لئے ایک باپ بنے رہنا زیادہ خوبصورت ہے… ” وہ کہتی جا رہی تھی

“حالانکہ حمدان نے اپنی آخری سانسوں پر مجھے کہا تھا کہ اگر تم لوٹ آؤ تو میں تمہاری بن جاؤں لیکن… خدا کی قسم حنین اس کا یہ وعدہ تاعمر پورا نا کرنا… زیادہ خوبصورت ہے” وہ روتے ہوئے مسکرائی تھی

“سارا جہان خوبصورت ہے… بس ایک میں ہی بد صورت ہوں” وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا, اپنی پیشانی اس کی پیشانی سے ٹکا دی تھی

“نہیں حنین یامن میر… تم تو سب زیادہ خوبصورت ہو…” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی

“I Love you Anamta… “

حنین کے لبوں کا صبر جواب دے گیا تھا, تا دیر وہ اسے خود میں سموۓ کھڑا رہا

“I Love you too Hunain… “

بس یہ ہی سب زیادہ خوبصورت تھا

…………………………..

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *