Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 23)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 23)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
“آئرہ کیف خان…. ” حنین کی آواز پر وہ یکدم اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی, وہ نیچے ٹی وی لاؤنج میں کھڑا تھا
“تمہاری مہلت ختم ہو گئی” وہ بولا
“حنین… میری بات سنو, مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں گئی ؟؟؟” آئرہ جلدی سے نیچے آ گئی
“کل تک ہم نے ان تینوں پراجیکٹس کو فائنل کرنا ہے… پراڈکٹس بالکل ریڈی ہیں… اگر میں نے یہ پارٹنرشپ ختم کر دی تو ذرا سوچو کہ تمہیں کتنے ملین کا نقصان ہو گا…؟؟؟” وہ بولا
“حنین… پلیز… ایسا مت کرنا” وہ بولی
“پچاس ہزار ملین…. ” وہ دو قدم آگے کو آیا
“اور ذرا سوچو کہ اگر اس نقصان کے وقت زاہا تمہارے پاس نا ہوئی… تو کیا ہو گا ؟؟؟” وہ بولا
“حنین… خدا کی قسم مجھے نہیں پتہ وہ کہاں ہے ؟؟؟” آئرہ رونے والی ہو گئی
“اور خدا کی قسم اگر مجھے پتہ چل گیا نا کہ وہ کہاں ہے…تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” وہ اسے انگلی اٹھا کر وارن کر گیا تھا
وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہیں صوفے پر گر گئی, سر درد سے پھٹا جا رہا تھا, اس کا بنایا شکنجہ اسی کے گرد تنگ ہوتا جا رہا تھا, سارا کھیل الٹ ہوۓ جا رہا تھا…
اچانک دہاڑ سے ٹی وی لاؤنج کا دروازہ کھلا اور حیان اندر آیا, اس کے بالکل پیچھے رعنین تھی
“انا کو آپ نے کڈنیپ کیا ہے نا ؟؟؟” وہ زور سے بولا
“کیا بکواس ہے یہ…” وہ گڑبڑا گئی
“کیا کریں گی اب آپ… جھوٹ بولیں گی… بولیں… ” رعنین نے اپنے موبائل کی ریکارڈنگ آن کی تھی
“…میں نے بس اسے کڈنیپ کروایا تھا اور فارم ہاؤس پر رکھا تھا…. ” وہ اسی کی آواز تھی, یزدان ان تینوں کو وہ ریکارڈنگ سنوا چکا تھا
“میں آخری بار پوچھوں گا کہ انا کہاں ہیں… ؟؟؟ ورنہ پھر اس کے بعد پولیس خود آپ سے سب کچھ اگلوا لے گی” حیان نے کہا
“حیان… بچے میری بات سنو… ” وہ آگے کو آئی تھی
“نہیں… آپ میری بات سنیں, بہت ہو گیا آپ کا یہ گھناؤنا کھیل… مجھے بتائیں انا کہاں ہے ؟؟؟” وہ چیخا
“مجھے نہیں پتہ… ” وہ زور سے بولی
“چلیں ٹھیک ہے… میں یہاں سے سیدھا پولیس سٹیشن جاؤں گا” وہ اسے انگلی اٹھا کر کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا
……………………
“دانی… کہاں جا رہی ہو… ؟؟” اسے باہر نکلتا دیکھ کر رعنین نے پوچھا
“مجھے معیز کی شادی میں جانا ہے… ” وہ بیچاری رو رو کر ادھ موئی ہوئی پڑی تھی
ایک طرف انعمتا کی گمشدگی اور دوسری طرف معیز کا بچھڑنا
“دانی.. تم کہیں نہیں جاؤ گی” وہ بولی
“مجھے جانا ہے… مجھے ایک بار معیز کو دیکھنا ہے… بس آخری بار” وہ اس سے اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ بولی
“معیز کسی اور کا ہونے جا رہا ہے دانی.. تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی… ” رعنین چیخ پڑی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” حیان بھاگتا ہوا نیچے آیا تھا
“حیان بھائی… مجھے معیز کے پاس جانا ہے… پلیز ایک آخری بار پلیز ” وہ اس کے گلے سے لگ کر بلک بلک کر رو پڑی
“دانی وہاں اب کیا ہے گڑیا ؟؟؟” وہ تڑپ گیا تھا
“آج اس کی شادی ہے… حیان بھائی میرا دل جیسے دو ٹکڑے ہونے والا ہے, وہ جانتے بوجھتے زاہا سے شادی کر رہا ہے… وہ پتہ نہیں کیوں ایسا کر رہا ہے” دانین ہر ضبط کھوتی جا رہی تھی
“اچھا بس.. رونا بند کرو… میں لے چلتا ہوں تمہیں ” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
“رعنا ہم تھوڑی دیر تک آ جائیں گے” وہ بولا
“وہاں خالہ بھی ہوں گی حیان… ” رعنین نےکہا
“میں نے چاچو سے کہہ دیا ہے…انہوں نے مجھے آج رات تک رکنے کا کہا ہے… کل صبح میں ان کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دوں گا” وہ بولا تھا
……………………
رات نو بجے کا وقت تھا… زاہا سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن کے روپ میں تیار ہو کر ہال پہنچ چکی تھی… آئرہ کی سفید رنگت میں زردیاں گھلی جا رہی تھیں
ایک طرف انعمتا جو نہ جانے کہاں روپوش ہو گئی تھی
ایک طرف حنین… جو کسی بھی لمحے اسے پچاس ہزار ملین کا نقصان پہنچا سکتا تھا
ایک طرف حیان جو اس کے سر پر پولیس کی تلوار لٹکا چکا تھا
ایک طرف یزدان جو اسے صرف ایک رات کی مہلت دے کر گیا تھا
وہ مسکرا بھی نہیں پا رہی تھی… پارلر بھی نہیں جا سکی تھی, زارون کی نظریں اس کے آر پار ہو رہی تھیں, وہ اس سے بات بھی نہیں کر رہی تھی
کچھ ہی دیر میں بارات آ گئی… اس نے معیز کو دیکھ کر شکر کا کلمہ پڑھا تھا, اس کے ساتھ ہی حنین اندر آیا تھا
تبھی اسے ایک ویٹر نے اطلاع دی کہ اسے برائڈل روم میں بلایا گیا ہے, وہ اپنی ساڑھی سنبھالتے ہوئے اس طرف آ گئی
وہاں زاہا کے ساتھ اسکے آفس کی دو, تین کولیگز بیٹھی ہوئی تھیں, وہ سب آئرہ کو دیکھ کر وہاں سے چلی گئیں
“مام ذرا دروازہ بند کر دیں… آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” وہ بولی, آئرہ نے ناسمجھی سے دروازہ بند کر دیا
“کچھ دیر بعد میرا اور معیز کا نکاح ہے… جو کہ یقیناً ہو کر رہے گا کیونکہ میں آپ کی سگی بیٹی نہیں ہوں” وہ بولی
“پورا شہر باہر ہال میں جمع ہے میم… سارا بزنس سرکل, آپ کے کولیگز, بینک آفیشلز… اور آپ یقیناً کوئی بدمزگی نہیں چاہیں گی… ” وہ بولی
“کہنا کیا چاہتی ہو تم ؟؟؟” وہ بولی
“میں صرف آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلا رہی ہوں… آپ نے میرے سامنے دو آپشن رکھے تھے… جو میں نے چنا وہ تو آپ نے ریجیکٹ کر دیا… تو اب بس دوسرا آپشن ہی رہ جاتا ہے…. معیز سے نکاح کے بدلے ہاشمی ٹریڈرز کی کرسی ” وہ بولی
“میں نے یہ نہیں کہا تھا… میں نے حیان کے بدلے ہاشمی ٹریڈرز کی کرسی لینے کو کہا تھا” وہ بولی
“چلیں… ایسے ہی سہی” زاہا نے کہا
“اوہ میری بھولی بیٹی… کیا تم بھول گئیں کہ تم نے اس رات حیان کو چنا تھا… ” آئرہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولی
“نہیں سٹیپ مام… مجھے سب یاد ہے…. یہ بھی کہ اس رات آپ کے آپشنز کیا تھے… ؟؟؟ اور یہ بھی کہ میں نے کسے چنا…. ؟؟؟ اور یہ بھی کہ آپ اسی لمحے اپنی بات سے کیسے مکر گئی تھیں…. ؟؟؟ چلیں اس رات والا کھیل پھر سے کھیلتے ہیں مس آئرہ کیف خان… ” وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی
“معیز سے نکاح… اور بدلے میں ہاشمی ٹریڈرز… “وہ بولی
“ہاشمی ٹریڈرز صرف میری ہے… میرے مرنے تک” وہ بولی
“تو ٹھیک ہے پھر… مجھے قبول ہے کہ جواب میں بس نفی میں گردن ہی تو ہلانی ہے” وہ ہلکا سا مسکرائی تھی
“زاہا… بکواس بند کرو, میں نے تمہیں حنین والی پارٹنرشپ کا ہیڈ بنایا تو ہے” وہ بولی
“مجھے میرے ہی پاپا کی کمپنی میں ایک پارٹنرشپ کا ہیڈ بنانے والی آپ ہوتی کون ہیں ؟؟؟” وہ زور سے بولی تھی
“میں معیز سے نکاح صرف اسی صورت میں کروں گی جب آپ ہاشمی ٹریڈرز کا چیئر پرسن مجھے بنائیں گی” وہ بولی
“ایسا ممکن نہیں ہے…. ” آئرہ کا رنگ بدل گیا تھا
“ٹھیک ہے سٹیپ مام…میرا انکار کرنا تو ممکن ہے نا ؟؟؟” وہ مسکرا رہی تھی
“اچھا بات سنو… میں کچھ عرصے تک تمہیں ہاشمی ٹریڈرز کا چیئر پرسن بنا…. ” زاہا نے اسکی بات کاٹ دی
“بائیس سال بہت ہوتے ہیں بیوقوف بننے کے لئے… اب اور نہیں” زاہا نے کہا
“کل صبح دس بجے آپ حنین یامن میر سے اپنی پارٹنرشپ ڈیل کریں گی اور دس بج کر ایک منٹ پر مجھے چیئر پرسن بنائیں گی…منظور ؟؟؟” زاہا نے کہا
“کل صبح دس بجے… ٹھیک ہے… ” وہ بولی, زاہا نے مسکراتے ہوئے کسی کو کال کی تھی
“پیپرز لے آؤ… ” وہ بولی
“سٹیپ مام… ذرا دروازہ کھولنا پلیز”وہ بولی, آئرہ نے ناسمجھی سے دروازہ کھول دیا, باہر ہاشمی ٹریڈرز کا آفیشل وکیل کھڑا تھا
“چلیں مام.. سائن کریں” وہ بولی
“لیکن… تم نے تو کہا کہ صبح دس بجے… ” آئرہ سمجھ نا سکی
“فکر نا کریں… میں آپ کی طرح وعدہ خلاف نہیں ہوں… صبح دس بجے تک وہ کرسی آپ کی ہی ہے… میں اس پر دس بج کر ایک منٹ پر ہی بیٹھوں گی” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“زاہا… یہ ٹھیک نہیں ہے” اسے شدید غصہ آیا
“The choice is yours step mom…
اگر آپ نے سائن نہیں کیے تو میں اس شادی سے انکار کر دوں گی… اور میرا نہیں خیال کے اس انکار کے بعد معیز کے پیارے چاچو آپ سے ڈیل مکمل کریں گے… پچاس ہزار ملین سٹیپ مام…. کہاں سے بھریں گی آپ؟؟؟” وہ مسلسل مسکرا رہی تھی, آئرہ نے بادل نخواستہ سے ان پیپرز پر سائن کر دیئے تھے
“Thank you step Mom…
You are so sweet… “
زاہا نے ہلکا سا اس کے گلے لگتے ہوئے اس کے گال کو چوما تھا
…………………..
اسے سٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا تھا… معیز اس کے پہلو میں بیٹھا تھا
کچھ ہی دیر بعد نکاح خوان بھی آ گئے, آئرہ مارے غصے کے سرخ ہوئی پڑی تھی, بلا وجہ ہی ویٹروں پر برس رہی تھی
حنین, معیز کے ساتھ بیٹھا تھا… یزدان بھی آیا ہوا تھا اور مسلسل آئرہ کو دیکھ رہا تھا
حیان سٹیج سے ذرا سا فاصلے پر زارون کے ساتھ کھڑا تھا, معیز اسے دیکھ چکا تھا
دانین عین سٹیج کے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھی تھی
تبھی نکاح خوان سٹیج پر آ گئے
“نکاح شروع کریں مولوی صاحب… ” آئرہ نے سٹیج پر آتے ہوئے کہا تھا
نکاح خوان نے نکاح پڑھنا شروع کر دیا
“معیز ضامن میر… ولد سبتین ضامن میر کیا آپ کو زاہا تمیم ہاشمی ولد بشر تمیم ہاشمی سے نکاح بعوض حق مہر ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت قبول ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا… معیز خاموش تھا
بس اس نے ایک نظر اپنے برابر میں بیٹھی زاہا پر ڈالی… وہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی
پھر کچھ فاصلے پر کھڑے مجنوں بنے حیان کی طرف دیکھا… وہ انتہائی بے بسی سے زاہا کی طرف دیکھ رہا تھا
وہ اس کا دوست تھا… جو اس کے برابر میں بیٹھی لڑکی سے محبت کرتا تھا…. تو پھر بھلا وہ اپنے دوست کی جگہ بیٹھا کیا کر رہا تھا…؟؟؟
وہ کچھ بھی بولے بنا کھڑا ہوا, اور سٹیج سے اتر کر حیان کی طرف آیا, دانین حیرانی سے کھڑی ہو گئی تھی
معیز نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ سٹیج پر لے آیا, اور اسے زاہا کے برابر میں بٹھا دیا, وہ ششدر سی اسے دیکھ رہی تھی
“دوبارہ پوچھیں مولوی صاحب ” معیز نے کہا
“لیکن…. ؟؟؟” نکاح خوان نے آئرہ کی طرف دیکھا
“یہ کیا تماشا ہو رہا… ” دفعتاً اسے اپنی کلائی پر کسی کی گرفت محسوس ہوئی تھی, اس نے ایک دم سر اٹھا کر دیکھا… وہ یزدان تھا
اس نے بس آئرہ کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکا سا نفی میں سر ہلایا تھا… وہ خاموش کھڑی رہ گئی
کسی نے نکاح خوان کو حیان کا پورا نام بتایا تھا
“حیان حمدان خان ولد حمدان سیف خان کیا آپ کو زاہا تمیم ہاشمی ولد بشر تمیم ہاشمی سے نکاح بعوض حق مہر ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت قبول ہے ؟؟؟” نکاح خواں نے پھر پوچھا تھا, حیان اور زاہا حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے
نکاح خواں نے پھر پوچھا… حیان نے اچنبھے سے حنین کی طرف دیکھا
“میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ دنیا میں ایک اور لڑکا حنین یامن میر جیسی زندگی گزارے… کہ محبت ہمہ وقت نظروں کے سامنے لیکن کسی اور کے پہلو میں کھڑی نظر آۓ” حنین نے کہا
“قبول ہے…. ” اس نے دھیرے سے کہا تھا, اس کے بعد زاہا نے بھی تین بار قبول ہے کہہ دیا
آئرہ کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں, یزدان مسلسل اس کی کلائی پر گرفت مضبوط کر کے کھڑا تھا, حنین بس اسے دیکھتا ہوا دھیرے دھیرے مسکرا رہا تھا
“مبارک ہو تجھے… ” حیان کو سب سے پہلے معیز نے گلے لگایا تھا
“تھینکس یار… ” وہ بولا تو آنکھوں میں قطرے چمکنے لگے, معیز اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ سٹیج سے نیچے اترا تھا
“چلو…. ” ششدر سے کھڑی دانین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ ہال سے نکلتا چلا گیا, دانین کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں اس کے ساتھ چلتی جا رہی تھی, ہال سے باہر آ کر معیز نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
“بی ایس کتنا رہ گیا ہے تمہارا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سیکینڈ لاسٹ سیمیسٹر چل رہا ہے… ” وہ آنسو بھری آنکھوں سے بولی تھی, معیز نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
ستا ہوا چہرہ اور لال سرخ آنکھیں جو شدت سے رونے کے باعث سوج گئی تھیں
بھلا اس کا کیا قصور تھا ؟؟؟
“اب پہلے پوری سے توجہ بی ایس کر لو… ” وہ بولا
“اور تم مجھے گارنٹی دو کہ میرا بی ایس ختم ہونے تک تم ایک بار پھر سے شادی کے سٹیج پر نہیں بیٹھ جاؤ گے… دولہا بن کر” وہ بولی تو آنسو نکل آۓ
معیز نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا
“جو چاہے گارنٹی لے لو… ” وہ بولا تھا
…………………………
وہ صبح نو بجے آفس پہنچی تھی
“زاہا آ گئی… ؟؟؟” اس نے اپنی پرسنل سیکرٹری سے پوچھا
“جی میم… ” آئرہ کی جان میں جان آ گئی
دس بجے اسے حنین سے ڈیل فائنل کرنا تھی, حنین نے ساری پیمینٹس کرنی تھیں اور اس بے پراڈکٹس ڈلیور کرنی تھی… ٹوٹل تین پراجیکٹس تھے جو اس نے پورے کرنے تھے
اس کی سرخ بوٹی جیسی آنکھیں پوری رات کے رت جگے کی گواہ تھیں… ہر طرف سے اسے مات ہو رہی تھی
رات حیان بھی جیت گیا تھا اور اب وہ ایک نئے جوش کے ساتھ آفس آئی تھی, اسے آج اپنے تئیں حمدان انٹرپرائزرز کو فنا کر دینا تھا
“زاہا کو بلاؤ… ” وہ آفس میں چلی آئی
“جی میم…. “زاہا کچھ دیر بعد آ گئی, دس بجے تک تو آئرہ ہی چیئر پرسن تھی
“سارا کچھ فائنل کرو اور حنین سے کہو آ جاۓ” وہ بولی
“میں نے انہیں کال کی ہے… وہ کہہ رہیں ہیں… سوری” زاہا نے کہا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ تڑخ گئی
“اب سوری کا مطلب تو معذرت ہی ہوتا ہے میم… ” وہ بولی
“کیا بیہودگی ہے یہ ؟؟؟” اس نے چیخ کر کہا اور حنین کا نمبر ملا لیا
“کہاں ہو تم ؟؟؟” وہ زور سے چلائی تھی
“اپنے بستر میں… ” حنین کی مدہوش سی آواز آئی تھی
“حنین… ہمیں دس بجے ڈلیوری دینی ہے” وہ بولی
“ایم سوری مس کیف… میں ان پراجیکٹس کے لئے فنانس نہیں کر سکتا… دراصل میں آپ سے ہر قسم کی پارٹنرشپ ختم کر رہا ہوں” وہ اتنا کہہ کر کال کاٹ گیا تھا
آئرہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا
“یہ نہیں ہو سکتا… نہیں” وہ ایک دم آفس سے باہر نکل گئی
گاڑی کا رخ حنین کے گھر کی طرف تھا
……………………
“کیسے ہیں شوہر نامدار…. ؟؟؟؟” زاہا کی چہچہاتی ہوئی آواز سن کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
“آپ کیسی ہیں بیگم صاحبہ…؟؟؟” وہ بھی مسکرا دیا تھا
“کہاں ہو ؟؟؟” زاہا نے پوچھا
“ابھی تو بستر میں ہوں ” وہ بولا
“تمہاری کمپنی ڈوبنے والی ہے اور تم بستر میں گھسے ہوۓ ہو ؟؟” وہ بولی
“میں کچھ نہیں کر سکتا زاہا… میں نے اپنے پاپا اور انا کی ساری محنت کو راکھ کر دیا ہے ” وہ بولا
“ایک آفر ہے میرے پاس… تمہارے لئے ” وہ بولی
“مطلب… ؟؟؟”
“پارٹنرشپ کرو گے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کس سے ؟؟؟”حیان نے پوچھا
“ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن سے… ” وہ مسکرا رہی تھی, حیان چونک سا گیا
“کیا ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن میری بیوی ہے ؟؟؟” اس کے پوچھتے ہی زاہا کا قہقہہ پھوٹ پڑا تھا
“اگر تم چاہو تو ہم دونوں ہی پچاس ہزار ملین کے نقصان سے بچ سکتے ہیں حیان…. ” وہ بولی
“وہ کیسے… ؟؟؟” حیان نے پوچھا تھا
زاہا اسے بتاتی چلی گئی
……………………..
“حنین یامن میر… ” وہ لاؤنج میں کھڑی ہو کر چلائی تھی, اس کی دہاڑ حنین کو اپنے کمرے تک سنائی دی تھی
“کیا ہوا میڈم… ؟؟” خانسامہ بھاگتا ہوا کچن سے نکلا
“کہاں ہے حنین… ؟؟؟”
“سر اوپر اپنے کمرے میں ہیں میڈم… ” وہ بولا, آئرہ تن فن کرتی اوپر اس کے کمرے تک آئی تھی
“How dare you???
اس کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں, حنین نے یکلخت اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں
“دھیرے مس کیف خان… ” وہ بولا اور بستر سے اتر آیا
“کیوں کیا ایسا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ تم نے مجھے ایسا کرنے پر محبور کر دیا” وہ بولا
“کس کے لئے… اس دو ٹکے کی لڑکی کے لئے “آئرہ زور سے چیخی
“اب تو تمہیں سمجھ جانا چاہئے مس کیف… کہ وہ لڑکی میرے لئے پچاس ہزار ملین سے بھی زیادہ اہم ہے” وہ اس کے سامنے آیا تھا
“تم جیسے زبان کے کچے کو مرد کہنا بھی ایک توہین ہے حنین…” وہ بولی
“اور تم…. تم کیا ہو ؟؟؟ کیا تم ایک عورت ہو ؟؟؟ پندرہ سالوں سے تم خود سے بارہ سال چھوٹی لڑکی سے الجھتی آ رہی ہو… کیسی عورت ہو تم کہ ایک عورت کی ہی دشمن ہو ؟؟؟ ” وہ بولا, آئرہ مارے غصے کے بول نہ سکی
“میں نے تم سے کہا تھا نا… کہ اگر وہ مجھے نا ملی تو میں تمہرا حشر کر دوں گا” وہ اس کے قریب آیا تھا
“اور دیکھ لو… کہ میں اپنی زبان کا کتنا پکا ہوں” وہ بولا
“میں نہیں جانتی حنین کہ وہ کہاں ہے ؟؟؟ لیکن میری جھولی پھیلا کر خدا سے دعا ہے کہ….خدا کرے وہ تمہیں مری ہوئی ملے” آئرہ نے نفرت سے کہا تھا
“جس دن وہ مجھے مری ہوئی مل گئی… وہ تمہارا بھی اس دنیا میں آخری دن ہو گا آئرہ کیف خان… ” حنین کی آنکھوں سے شرارے نکلے تھے
………………………
نو بج کر پچاس منٹ ہوۓ تھے
اسے یزدان کی کال آئی تھی
“انعمتا… ذرا ٹی وی آن کریں” اس نے فوراً ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی آن کر دیا
ہر نیوز چینل پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی
“ہاشمی ٹریڈز موت کے کنارے پر…. پچاس ہزار ملین کا دھچکا… “
“ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کے چیئر پرسن مسٹر حنین یامن میر نے ہاشمی ٹریڈرز سے پارٹنرشپ ختم کر دی ہے… انہوں نے ہاشمی ٹریڈرز کے کسی بھی پراجیکٹ کو فنانس کرنے سے انکار کر دیا ہے… اور یہ بھی یاد رہے کہ ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن مس آئرہ کیف خان پچاس ہزار ملین کی مالیت کے تین پراجیکٹس ڈن کر چکی ہیں” نیوز اینکر بولتی جا رہی تھی
“مس آئرہ کیف خان لے آئیں ہاشمی ٹریڈرز کو بربادی کے کنارے پر… پچاس ہزار ملین کا نقصان… پیمینٹس کہاں سے ہو گی… ؟؟؟” ہر نیوز چینل چیخ رہا تھا
اور یہ سچ تھا… ہاشمی ٹریڈرز کے ڈوب جانے میں بس چند ہی لمحے رہ گئے تھے
ٹھیک دس بجے ایک اور نیوز آن ائیر ہوئی تھی
“مس آئرہ کیف خان کا استعفیٰ…. انہوں نے چیئر پرسن کی کرسی کو خیر باد کہہ دیا”
“ناظرین بشر تمیم ہاشمی کی کمپنی کو بربادی کے دہانے پر لا کر مس آئرہ کیف خان خود مستعفی ہو گئی ہیں… ہاشمی ٹریڈرز کی نئی چئیر پرسن بشر تمیم ہاشمی کی اکلوتی بیٹی زاہا تمیم ہاشمی ہیں”
“زاہا تمیم ہاشمی ماضی میں کئی بار ہاشمی ٹریڈرز کو مصیبت سے نکال چکی ہیں, ہر بار اپنی سوتیلی ماں کی ناکامی کو کامیابی میں انہوں نے ہی بدلا ہے… اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اس بار بھی اپنی کمپنی کو بچا پائیں گی ؟؟؟”
ہر طرف یہ ہی خبر چل رہی تھی, ہاشمی ٹریڈرز کی رینکنگ تیزی سے ڈاؤن ہو رہی تھی, شییرز گرتے جا رہے تھے
وہ مسلسل ٹی وی سکرین کی طرف دیکھ رہی تھی
“کم آن حیان… بچا لو خود کو” وہ سرگوشی میں بولی تھی
چند لمحوں بعد ہی نیوز چینج ہو گئی
ہاشمی ٹریڈرز کی انتہائی ذہین اور عقلمند چیئر پرسن نے ایک بار پھر اسے تباہی سے بچا لیا تھا
“ہاشمی ٹریڈرز اور حمدان انٹرپرائزرز کی پارٹنرشپ… بارہ سال بعد”
“بارہ سال بعد زاہا تمیم ہاشمی نے اپنے باپ کی روائت زندہ کر دی… انہوں نے حیان حمدان خان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا… “
“ہاشمی ٹریڈرز اور حمدان انٹرپرائزرز نے ایک دوسرے کو بچا لیا… ہاشمی ٹریڈرز کے تینوں پراجیکٹس حمدان انٹرپرائزرز نے خرید لئے ہیں… زاہا تمیم ہاشمی کی اور جیت”
انعمتا کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی…
“شکر ہے تمہاری بیوی تم سے زیادہ عقلمند ہے حیان… ” اس نے سکھ کا سانس لیا تھا
“ناظرین… ہمارے خیال سے ہاشمی ٹریڈرز اور حمدان انٹرپرائزرز کی یہ پارٹنرشپ اب کافی لمبی چلے گی کیونکہ کل رات زاہا تمیم ہاشمی اور حیان حمدان خان رشتہ ازدواج میں بھی بندھ گئے ہیں” نیوز اینکر کہتی جا رہی تھی
……………………….
جاری ہے
