Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 11)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 11)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
انعمتا نے اسے آفس بلایا تھا, تقریباً شام چار بجے کا وقت تھا, کچھ دن پہلے اس نے دس لاکھ روپے ڈیمانڈ کئے تھے, لون اپروو ہو تو گیا تھا لیکن پیسے آنے تک کام تو شروع کروانا تھا سو اس نے انعمتا سے کہا تھا, اس نے دو دن میں اس کا چیک تیار کروا کر سائن کر دیا
اس دن بھی وہ اپنا چیک لینے ہی آفس گئی تھی
کافی دیر وہ اس کے آفس میں بیٹھی رہی, انعمتا اپنے پراجیکٹ ہیڈ فیصل کے ساتھ آئی ٹی سیکشن کے وزٹ پر تھی, جب وہ بیٹھی بیٹھی تھک گئی تو خود بھی اٹھ کر آئی ٹی سیکشن کی طرف آ گئی, انعمتا اسے فیصل اور دو اور ورکرز کے ساتھ کھڑی نظر آئی, رعنین تیزی سے اس کی طرف آئی تھی
“انا یار جلدی کر دیں… ” وہ اکتا کر بولی
“بس دس منٹ… یہ آخری فائل ہے” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
“آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے… ” وہ بولی
“فیصل یہ فائل کس نے تیار کی ہے… ؟؟؟”
“یہ اس نئے لڑکے نے بنائی ہے میم… جسے پرسوں رکھا تھا” فیصل نے کہا
“ذرا بلاؤ اسے… ” وہ بولی, فیصل دو منٹ میں اسے لے آیا, وہ چہرے پر ماسک لگاۓ ہوۓ تھا
“یہ فائل آپ نے تیار کی ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یس میم… ” بڑی مشکل سے اس کی آواز نکلی تھی
“گلے کو کیا ہوا ؟؟؟”
“ٹانسلز…”
“رعنین یہ وہی لڑکا ہے جس کی تم نے سفارش کی تھی” انعمتا نے مسکراتے ہوئے کہا, رعنین نے اس کی طرف دیکھا, اسے وہ دو آنکھیں بڑی جانی پہچانی لگی تھیں
“نیکسٹ جب فائل تیار کرو تو ذرا صفائی سے کرنا…”انعمتا نے کہا
“اوکے… ” وہ بولا, انعمتا اسے فائل کے بارے میں کافی کچھ بتاتی چلی گئی, وہ بس مختصراً بات کرنے پر اکتفا کر رہا تھا
رعنین کو اب عجیب سا تجسس ہونے لگا, اسے اس لڑکے کی آواز بھی شناسا سی لگنے لگی تھی
انعمتا نے پھر اس سے کچھ پوچھا, وہ جیسے ہی بولا, رعنین چونک سی گئی
“زارون…” وہ ایک دم بولی تھی, انعمتا اور فیصل دونوں اسے دیکھنے لگے
تبھی اس لڑکے نے رعنین کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا, آنکھیں جیسے التجا کیے جا رہی تھیں
“وہ… انا… زارون کی کال آ رہی ہے بار بار… جلدی کریں پلیز” وہ جلدی سے بولی, آنکھیں حیرت سے پھٹی پڑ رہی تھیں
“چلو آؤ… ” وہ فائل فیصل کو پکڑاتے ہوۓ اس کے ساتھ آفس چلی آئی, چیک ریڈی تھا, انعمتا نے سائن کر کے کاروائی مکمل کی اور اسے دے دیا, وہ چیک پکڑتے ہی بھاگتی ہوئی باہر نکلی اور آئی ٹی سیکشن کی طرف آ گئی, مسلسل ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوۓ اسے وہ نظر آ گیا تھا, رعنین دوڑتی ہوئی اس تک آئی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتی, وہ خود ہی بول پڑا
“چپ, چپ… بالکل چپ… بعد میں بتاتا ہوں, فی الحال چپ… ” وہ سرگوشی میں کہتا چلا گیا, اب اس کی آواز بھی ٹھیک ہو گئی تھی, رعنین حیرت سے مرنے والی ہو گئی
وہ آخر وہاں کر کیا رہا تھا ؟؟؟
“سائٹ پر پہنچو… میں آ رہا ہوں” زارون نے جلدی سے کہا, وہ بس اسے دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی, دس منٹ بعد وہ سائٹ پر تھی, بیس منٹ بعد زارون بھی آ گیا
رعنین بس صدمے کی سی حالت میں اسے دیکھے جا رہی تھی
“تم آخر وہاں کر کیا رہے تھے زارون ؟؟؟” وہ بولی, زارون نے ایک نظر اسے دیکھا, پہلے تو دل کیا کہ ایک اور جھوٹ بول دے… جان بچا لے
لیکن آخر کب تک… ؟؟؟؟ کب تک وہ جھوٹ پر جان بچاتا رہے گا… ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
“میں وہاں… تمہارے سٹیپ مام کو دیکھنے گیا تھا” وہ بولا
“انا کو… لیکن کیوں ؟؟؟” وہ نا سمجھی سے بولی
“کیونکہ میرا دل کر رہا تھا” وہ بولا
“مطلب… ؟؟؟” رعنین پاگل ہونے کے قریب تھی, زارون نے بے بسی سے اسے دیکھا, وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
“مطلب یہ کہ… میرا دل کرتا ہے کہ میں چوبیس گھنٹے بس انعمتا حمدان خان کو ہی دیکھتا رہوں, ہر پل, ہر لمحہ… بس انہیں ہی سوچتا رہوں, وہ بولتی جائیں… اور میں بس چپ چاپ سنتا رہوں… ” وہ کہتا چلا گیا, رعنین ششدر سی کھڑی تھی
“I think…. I have a crush on her…
اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا, رعنین نے یکدم اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
“چھ ماہ ہو گئے ہیں رعنا… مجھے اندھا دھند ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے, جہاں مجھے ان کے ہونے کی ذرا سی بھی خبر ملے… میں وہاں پہنچ جاتا ہوں, کبھی تو نظریں سیراب ہو جاتی ہیں…. کبھی نہیں, جس دن وہ مجھے نظر آ جائیں… وہ سارا کسی تہوار کی طرح گزرتا ہے میرا… اور جس دن کہیں نظر نا آئیں… اس دن کسی مرگ جیسی خاموشی چھا جاتی ہے میرے اندر… ” وہ کہتا جا رہا تھا
“میں نے جان بوجھ کر اس لڑکے کو ان کے آفس میں رکھوایا تھا… کہ چلو اس بہانے میں کم از کم روز انہیں دیکھ تو لیا کروں گا… لیکن” زارون نے اس کی طرف دیکھا
“تم نے چھاپہ مار دیا… ” وہ بڑی بے بسی سے ہنسا تھا
“زارون… ” رعنین کو لگا جیسے وہ ابھی رو دے گی… وہ اس کا بیسٹ فرینڈ تھا… چار سالوں سے
اور آج وہ اسے بتا رہا تھا کہ وہ اس کی سوتیلی ماں پر دل ہار چکا تھا
“مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” وہ بولی تو آواز بھرا سی گئی
“کیسے بتاتا… ؟؟” وہ بولا
“وہ تمہیں کبھی نہیں مل سکتیں زارون… وہ صرف تمہارا ایک خواب ہی ہو سکتی ہیں اور بس… تم ساری عمر بس انہیں دیکھ ہی سکتے ہو… کبھی چھو نہیں سکتے.. کبھی نہیں” رعنین بڑے دکھ سے دوسری کرسی پر گر گئی تھی
“ہاں میں جانتا ہوں” یہ شاید زارون حاطب کی سب سے بڑی بے بسی تھی
………………………..
ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کی پہلی ڈیل بڑی کامیابی سے مکمل ہو گئی تھی, انہوں نے مقررہ مدت سے پہلے ہی فیض والوں کو آرڈر پورا کر دیا تھا, زاہا نے بڑی ذہانت سے اس ڈیل کو سپروائز کیا تھا اور ہاشمی ٹریڈرز کو کئی ملین کا نفع پہنچایا تھا
آئرہ بہت خوش تھی… ان دونوں کی پارٹنر شپ کا آغاز ہی بہت شاندار ہوا تھا, ان دونوں کی اس بڑی کامیابی کی خبر پورے بزنس سرکل میں پھیل چکی تھی, ہر نیوز چینل اور بزنس شوز میں اسی خبر پر چرچا ہو رہی تھی, پچھلے دس سالوں میں یہ کسی بھی پارٹنرشپ کا سب سے زیادہ پرافٹ تھا
اور اس کامیابی کے بعد بزنس ٹاییکونز کی نظروں میں دو لوگ ابھرے تھے
پہلا حنین یامن میر جو اب سے پہلے گمنام ہی تھا, جس نے آج تک اتنا بڑا پراجیکٹ فنانس نہیں کیا تھا, پچھلے دس سالوں میں یہ اس کی پہلی بڑی کامیابی تھی… 34 سالہ حنین یامن میر… جو ایک دم سے میڈیا کی نظروں میں آ گیا تھا
The cool star…
سب اسے یہ ہی بلا رہے تھے
اور دوسری… زاہا تمیم ہاشمی… بشر تمیم ہاشمی کی اکلوتی بیٹی, اور بشر تمیم ہاشمی اس شہر کے بزنس ورلڈ کو ابھی تک یاد تھا, اس کی شہرت اور کامیابیاں ابھی اتنی پرانی نہیں ہوئی تھیں کہ لوگ بھول بھی جاتے, ہاشمی ٹریڈرز کا عروج انہیں آج بھی یاد تھا…. اور اب… بشر کے جانے کے دس سال بعد اس کی بیٹی کا نام چمکا تھا
The young emergent…
اسے یہ ہی ٹائیٹل ملا تھا
اور رہ گئی آئرہ کیف خان… تو اس سال ہاشمی ٹریڈرز کی وہ 43 سالہ چیئر پرسن دسویں نمبر پر آ ہی گئی تھی
دھڑا دھڑ انٹرویوز, میٹنگز, سیمینارز, فوٹو شوٹس…
اس رات بھی وہ دونوں ایک مشہور ٹی وی چینل کے کسی بزنس شو میں انوائیٹڈ تھے
انعمتا سر شام ہی گھر واپس آ گئی تھی, وہ آجکل پوری طرح حیان کو چیئر پرسن بنانے کی کوششوں میں مصروف تھی, سارے ضروری ڈاکیومینٹس اور کاروائیاں مکمل کروا رہی تھی
ڈنر کے بعد وہ سب ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھ گئے, رانی نے انہیں چاۓ وہیں سرو کی تھی, سنان اپنا بیگ اٹھا لایا… ایک کے بعد ایک وہ انعمتا کو اپنی کاپیاں دکھا رہا تھا, حیان, دانین کے ساتھ لگا ہوا تھا, وہ اس کے کانوں میں نہ جانے کیا پھس پھس کرے جا رہی تھی, رعنین ریموٹ ہاتھ میں لیے چینل سرچنگ میں مصروف تھی
اچانک اس نے ایک چینل پر سٹاپ کیا… وہ کوئی مشہور بزنس شو تھا, سکرین پر نظر آتے حنین کو دیکھ کر وہ ساکت ہوئی تھی, دھیرے سے اس نے آواز اونچی کر دی, انعمتا نے فوراً سکرین کی طرف دیکھا
She is 43 and He is 34…
اینکر نے ہنستے ہوئے کہا تھا
نیوی بلو شیفون کی فینسی سی ساڑھی میں ملبوس آئرہ کیف خان اور نیوی بلو تھری پیس میں ملبوس حنین یامن میر… دونوں ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے تھے… ہنستے ہوئے, مسکراتے ہوئے
انعمتا بس ساکت سی نظروں سے سکرین کو دیکھتی رہ گئی…
وہ آج بھی اتنا ہی وجہیہ تھا… اتنا ہی دلکش
دس, بارہ سال بعد آج پہلی بار دیکھا تھا اسے… دس بارہ سالوں میں کبھی نظر نہیں آیا تھا وہ… نا کسی میٹنگ میں, نا کسی فنکشن میں, نا کسی سیمینار میں
آج نظر آیا تھا… اور نظر بھی آیا تو کس کے پہلو میں… ؟؟؟
“مسٹر حنین… ذرا ایک رومینٹک پوز ہو جاۓ” ان دونوں کے سامنے نیوز رپورٹرز اور کیمرہ مینز کا رش لگا ہوا تھا
“اگر میم کو کوئی اعتراض نا ہو تو… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا… انعمتا تھم سی گئی
دس, بارہ سال بعد اس کی آواز سنی تھی… وہ آج بھی اتنی ہی شائستہ تھی… اتنی ہی میٹھی
“اب میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھوں ؟؟؟” آئرہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
“نو میم… رومینٹک سر نے ہونا ہے… آپ نے نہیں” اینکر کچھ زیادہ ہی شوخی ہو رہی تھی, حنین نے ہنستے ہوئے اپنا ایک بازو دھیرے سے آئرہ کی کمر کے گرد ڈال دیا تھا
سنان نہ جانے اسے کیا کہہ رہا تھا… حیان نہ جانے کیا بول رہا تھا…. اسے بس سکرین پر نظر آتا حنین ہی سنائی دے رہا تھا
“سر ذرا کلوز ہو جائیں… ” کیمرہ مین کی آواز پر اس نے آئرہ کو اپنے قریب کیا تھا, انعمتا کو لگا جیسے کوئی تیر اس کے دل کے آر پار ہو گیا ہو
حنین یامن میر بھلے جس مرضی لڑکی کے پہلو میں کھڑا ہو جاتا… لیکن وہ… آئرہ کیف خان
اور وہ اپنے دل پر نازل ہوتی اس قیامت خیز تکلیف میں اپنے بالکل سامنے بیٹھی اس بائیس سالہ لڑکی کی تکلیف دیکھ ہی نہ سکی جو اس کے پورے چہرے کو زرد کر گئی تھی
رعنین حمدان خان… جو بس پھٹی پھٹی نظروں سے آئرہ کے پہلو میں مسکراتے ہوئے حنین کو دیکھے جا رہی تھی
………………………….
اس نے اپنے آفس کی کھڑکی سے آئرہ کی گاڑی کو آفس کے سامنے رکتے دیکھا تھا, وہ یکدم چونک گیا, جب سے ان دونوں کی پارٹنرشپ ہوئی تھی وہ ایک بار بھی اس کے آفس نہیں آئی تھی
“یزدان…. ” اس نے سائیڈ والی کرسی پر بیٹھے یزدان کو دیکھا
“مس کیف خان آئی ہیں ” وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا
“وہ کیا کرنے آئی ہے یہاں ؟؟؟” یزدان جی بھر کر بدمزہ ہوا
“یزدان… وہ اگر کچھ کہے بھی تو ذرا صبر کر لیں پلیز” حنین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, اس سے پہلے کہ یزدان کچھ کہتا, وہ اندر داخل ہوئی
“ارے میم آپ… ” وہ ذرا حیرانی سے کہتا کھڑا ہوا
“کیوں میں آپ کے آفس نہیں آ سکتی ؟؟؟” آئرہ نے کہا
“My pleasure mam…
پلیز بیٹھیں… ” حنین نے کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ مکمل طور پر یزدان کو نظرانداز کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی
“اور سنائیں میم… کیا حال ہے آپ کا ؟؟؟” حنین نے چاۓ منگوا لی
“میں ٹھیک ہوں… مسٹر حنین آپ سے ایک پرسنل سی بات کرنے آئی ہوں میں ” وہ بولی
“جی میم… کہیں… ؟؟؟”
“پلیز… اکیلے میں…. ” وہ بولی, حنین نے یزدان کی طرف دیکھا, وہ یوں ہو گیا جیسے وہاں ہو ہی نا
“یزدان… ” حنین نے اسے آواز دی تھی
“ہاں… “
“مس کیف کو اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے… ” وہ ساتھ ہی ساتھ اسے آنکھوں سے بھی اشارے کیے جا رہا تھا
“مس کیف خان تجھ سے معیز کا رشتہ مانگنے آئی ہیں… مجھ سے سن لے” یزدان ببانگ دہل کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا, آئرہ ایک لمحے کو گڑبڑا سی گئی اور اگلے ہی پل راشن پانی لیکر یزدان پر چڑھ دوڑی
“یہ کنواں ہمیشہ سے تمہاری اس دس گز لمبی زبان کے آگے کھدا ہوا ہے یزدان… خدا کرے ایک دن تم اسی کنویں میں گر جاؤ… خدا کرے تمہارے آخری وقت میں کوئی تمہارے منہ میں پانی ڈالنے والا نا ہو یزدان سیف خان… تمہیں ایسی جگہ موت آۓ جہاں تمہیں قبر بھی نصیب نا ہو ” وہ تڑخی
“اور یہ اتنی ڈھیر بددعائیں بھلا کس لئے… ؟؟؟ میں نے کیا کیا تمہارے ساتھ ؟؟؟” یزدان پلٹ کر آیا تھا
“تم نے برباد کر دیا مجھے… ” وہ چیخ پڑی
“نہیں… میں نے آباد کرنا چاہا تھا تمہیں ” وہ بس ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا باہر نکل گیا
“مس کیف… پلیز آپ بیٹھیں, یہ پانی لیں… ” حنین نے اسے بمشکل ٹھنڈا کیا
کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے مدعے پر آ گئی
“ویسے وہ خبیث ٹھیک ہی کہہ رہا تھا… میری پچھلے ہفتے معیز سے ملاقات ہوئی ہے, وہ بہت اچھا لگا ہے مجھے, بہت سمجھدار ہے اور… بہت ڈیشنگ ہے بالکل آپ کی طرح… ” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی
“میں چاہ رہی تھی کہ اگر ہم اپنی اس پارٹنرشپ کو رشتے داری میں بدل لیں تو کیسا رہے گا ؟؟؟” اس نے کہہ ہی دیا
اور حنین کے تو یہ دل کی بات تھی, وہ تو پہلے ہی زاہا سے اچھا خاصا امپریس ہوا پڑا تھا, اوپر سے خود آئرہ کیف خان ایسا چاہتی تھی, تو بھلا اسے کیا اعتراض ہوتا….
“مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی مس کیف… مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے” وہ خوشدلی سے بولا تھا
“چلیں ٹھیک ہے پھر… کچھ دنوں تک ہم ان دونوں کی باقاعدہ منگنی کا پروگرام بنا لیتے ہیں” وہ بولی, حنین نے اثبات میں سر ہلا دیا, ابھی تو اسے معیز کو قائل کرنا تھا
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی, اس کے جانے کے بعد حنین آفس کے ساتھ والے کمرے میں آیا, یزدان صوفے پر لیٹا تھا
“ہاں… دے دیا رشتہ ؟؟؟” اس نے کاٹ دار لحجے میں پوچھا
“یزدان کیا یار… اگر چپ چاپ باہر چلا جاتا تو کیا تھا” وہ اندر آ گیا
“میں نے جو پوچھا ہے وہ بتا… ” وہ بولا
“انکار کا کوئی جواز تو ہو… زاہا تمیم ہاشمی کو کوئی بیوقوف ہی انکار کرے گا” وہ بولا
“میں نے تجھے کہا تھا نا حنین… کہ آئرہ کیف خان شرطوں کے بنا کوئی ڈیل نہیں کرتی…وہ تجھے باندھ رہی ہے حنین یامن میر… ” وہ بولا
“ایک بات پوچھوں یزدان… ” حنین کرسی پر بیٹھ گیا
“ماضی میں کیا جھگڑا تھا تم دونوں کا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہی جو تیرا تھا… ” یزدان اٹھ بیٹھا, حنین چونک سا گیا
“کیا مطلب ؟؟” وہ سمجھ نا سکا
“میں اس مغرور حسینہ کے دعویداروں میں سے ایک تھا… ” وہ کہہ ہی گیا
“اس سے محبت کے دعویداروں میں سے ایک… اس سے شادی کے دعویداروں میں سے ایک… اور اسے ہمیشہ یہ ہی لگا کہ میں شاید اسے حمدان سیف خان کے بدلے میں بھیک کے طور پر دے دیا جاتا ہوں” اس کی بات سن کر حنین ششدر رہ گیا
“حمدان سیف خان… ؟؟؟” وہ پھر نہیں سمجھا تھا
“She loved him… from always to always… “
“یہ ان سے پیار کرتی تھی… ہمیشہ سے ہمیشہ تک” یزدان نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
…………………….
“میم… آپ نے بلایا مجھے” زاہا نے اس کے کمرے میں جھانکا
“آؤ اندر… ” وہ چپ چاپ اندر آ گئی
“ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے… ” وہ بستر پر بیٹھی تھی
“جی کہیں… ” وہ بولی
“تمہیں معیز کیسا لگا ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“ٹھیک ہی لگا… بس ایک دو بار ہی ملاقات ہوئی ہے” وہ بولی
“دیکھو زاہا… بھلے ہی تم تسلیم نا کرو لیکن… یہ سچ ہے کہ میں اس وقت تمہاری ماں کی جگہ پر ہوں, اور یقیناً میں تمہارے لئے اچھا ہی سوچوں گی… ” وہ کہنا شروع ہوئی
“میں نے تمہارا اور معیز کا رشتہ طے کر دیا ہے” اس نے زاہا کی سماعتوں پر بم پھوڑا تھا, وہ ششدر سی اسے دیکھتی رہ گئی
“کچھ دنوں تک تم دونوں کی باقاعدہ منگنی کر دوں گی” وہ بولی
“لیکن میم… ہم بس ابھی ایک دو بار ہی ملے ہیں… اور میرا نہیں خیال کہ معیز کی طرف سے کوئی پسندیدگی… ” آئرہ نے اس کی بات کاٹ دی
“…ابھی نہیں ہے تو آنے والے وقتوں میں ہو جاۓ گی, وہ لڑکا مجھے بہت اچھا لگا ہے… خوبصورت اور ہینڈسم ہے, ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ آنے والے وقتوں میں اسی کی ہو گی” وہ کہتی چلی گئی
“لیکن میم…. ” اس نے ایک اور کوشش کرنی چاہی
“لیکن کیا… تمہیں کوئی اعتراض ہے ؟؟” آئرہ کو کہاں اتنی “لیکن… ” پسند تھی
“وہ… میں… دراصل ابھی میں ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں… ” وہ بولی
“تو میں کونسا تمہاری شادی کر رہی ہوں…. ابھی تو صرف رشتہ طے کیا ہے” آئرہ نے کہا, زاہا بے بسی سے اسے دیکھنے لگی
“اب تم جا سکتی ہو… ” وہ لوشن اٹھاتے ہوئے بولی تھی, زاہا اٹھ کھڑی ہوئی, دروازے تک گئی پھر رک گئی
“اگر ابھی ہمت نہیں کی نا زاہا تمیم ہاشمی… تو عمر بھر کسک ستاتی رہے گی” کسی نے اس کے اندر سے آواز اٹھائی تھی, وہ پلٹ گئی
“وہ… میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں” اس نے آئرہ کی سماعتوں پر دھماکہ کیا تھا
“کون ہے وہ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“حیان حمدان خان… حمدان سیف خان کا بیٹا… ” اصل قیامت تو اب آئی تھی
……………………………
یہ ہی حال معیز کا تھا, حنین کی بات سن کر وہ کرسی سے فٹ فٹ اوپر اچھل رہا تھا, سنایا اور عنایہ خاموش بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں
“معیز… آخر اس میں کمی کیا ہے ؟؟؟” حنین نے اطمینان سے پوچھا
“کوئی کمی نہیں ہے اس میں, بالکل پرفیکٹ ہے وہ لیکن… مجھے ابھی شادی نہیں کرنی” وہ بولا
“ابھی نہیں کرنی یا… اس سے نہیں کرنی؟؟؟” حنین نے پوچھا, معیز ایک لمحے کو گڑبڑا سا گیا
“کوئی اور ہے نظروں میں ؟؟؟؟” حنین نے پوچھتے ہی اس کے ذہن کے پردے پر ایک معصوم سا چہرہ لہرایا تو تھا لیکن…
“دیکھ معیز… صرف ایک صورت میں تیرا انکار سمجھ آتا ہے… اگر تجھے کسی اور سے محبت ہے تو… تب میں تیرے ساتھ ہوں, صبح ہی میں آئرہ کیف خان کو انکار کر دوں گا…. کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ محبت کا بچھڑ جانا کیا ہوتا ہے لیکن… ” وہ ذرا سا رکا
“اگر کوئی اور نہیں ہے تو…. وہ بہترین ہے” وہ بولا, معیز بول نہ سکا
“معیز…. ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا لیکن معیز ضامن میر کا دل اس لمحے دانین حمدان خان کے لئے دھڑک نہ سکا, وہ دانین کی محبت تھا… لیکن دانین اس کی محبت نہیں تھی… فی الحال تو نہیں
اسے یاد کیا تو دل میں کسی جذبے نے سر نہ اٹھایا, کوئی گلاب نہ کھلا, کوئی تتلی نا اڑی, کوئی بوند نا گری
“کوئی نہیں ہے… ” اس نے سر جھکاتے ہوۓ کہا
“تو بس پھر… شادی تو کرنی ہے نا ایک دن… ” حنین نے مسکراتے کہا تھا
