Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 16)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

وہ ایک سرخی مائل شام تھی جب انعمتا اور حیان ہاشمی ہاؤس پہنچے, حیان خود ڈرائیو کر رہا تھا, چوکیدار اسے پہچانتا تھا سو گیٹ کھول دیا, حیان گاڑی اندر لے آیا, انعمتا خاموشی سی نیچے اتر گئ, وہ مونگیا رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھی, ریشمی دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا اور مونگیا رنگ کی بڑی نفیس سی شال دائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی

حیان اسے ساتھ لیے اندر آگیا

“ہمیں آئرہ کیف خان سے ملنا ہے… ” انعمتا نے ایک ملازمہ سے کہا تھا, وہ سر ہلا کر اوپر چلی گئی اور کچھ دیر بعد نیچے آئی

“میڈم پوچھ رہی ہیں آپ کا نام کیا ہے ؟؟”

“انعمتا حمدان خان… ” اس نے بتا ہی دیا

“آپ لوگ بیٹھیں… ” ملازمہ دوبارہ اوپر چلی گئی, کچھ ہی دیر بعد آئرہ نیچے اتری تھی

“زہے نصیب… زہے نصیب… آج میرے گھر کا راستہ کیسے بھول پڑی تم ؟؟” وہ اونچی آواز میں کہتے ہوئے عین اس کے سامنے والے صوفے پر آ بیٹھی, سیاہ رنگ کا ریشمی سوٹ پہنے اس نے ریشمی دوپٹہ کندھے پر ڈالا ہوا تھا, بالوں کو اونچا سا کیچر میں مقید کر رکھا تھا

“میں اپنے بیٹے کے لئے تمہاری بیٹی کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں” وہ بولی

“سوری… میں نے زاہا کا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے اور پرسوں اس کی منگنی ہے” آئرہ نے کہا

“دیکھیں آئرہ… حیان اور زاہا ایک دوسرے کو نا صرف پسند کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہیں… اور آپ یہ بات جانتی ہیں, تو کیوں نا ان دونوں کو ایک ہو جانے دیں” انعمتا نے کہا

“اگر زاہا کی منگنی طے نا بھی ہوئی ہوتی… تب بھی میں تمہیں اس کا رشتہ نہیں دیتی… سمجھیں, اب جاؤ یہاں سے ” وہ کھڑی ہو گئی

“آنٹی پلیز… میں بہت محبت کرتا ہوں زاہا سے… ” حیان بھی یکدم کھڑا ہو گیا, اس کی آواز سن کر زاہا بھی اوپر سے بھاگی آئی تھی

“آنٹی…؟؟؟ انعمتا تم نے اسے بتایا نہیں کہ میں اس کی کیا لگتی ہوں؟؟” وہ اچنبھے سے بولی

“مجھے پتہ ہے آپ رشتے میں میری خالہ لگتی ہیں… یہ اور بات ہے کہ بیچ میں کئی سال حائل ہو گئے ہیں, یہ سچ ہے کہ میں جس رات آپ سے ملا… اس رات مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ میری خالہ ہیں لیکن…. پلیز خالہ… میں زاہا سے شادی کرنا چاہتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا

“سوری… پرسوں اس کی منگنی ہے”وہ بولی

“ایک بار اپنی بیٹی سے تو پوچھ لیں کہ وہ کیا چاہتی ہے ؟؟” انعمتا نے کہا

“اس کے چاہنے یا نا چاہنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا” وہ بولی, زاہا اس سے دو قدم پیچھے کھڑی تھی

“زاہا بتاؤ اپنی مام کو کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو… ” حیان نے کہا

“جسٹ شٹ اپ…. بھاڑ میں گئی تمہاری محبت… ” آئرہ کو غصہ آ گیا

“آئرہ… مجھے پتہ ہے آپ کیوں انکار کر رہی ہیں… ؟؟؟ پلیز…آپ چاہیں تو میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے ہر بات کی معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں لیکن پلیز… اتنا ظلم نہ کریں” وہ بیچاری ہر ممکن کوشش کر رہی تھی

“میری ایک بات کان کھول کر سن لو انعمتا… حمدان کے بیٹے کو میں زاہا کا رشتہ مر کر بھی نہیں دوں گی ” وہ زور سے بولی

“صرف اسلیے کیونکہ میرے پاپا نے آپ سے شادی نہیں کی تھی” حیان نے کہا, آئرہ ایک لمحے کو تو ساکت رہ گئی

سچ تو یہ ہی تھا… کڑوا سچ

“میری بھی ایک بات ہمیشہ یاد رکھئے گا مس آئرہ کیف خان… کہ زاہا تمیم ہاشمی, بشر تمیم ہاشمی کا خون ہے… آپ کا نہیں, اس کی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ آپ زبردستی نہیں کر سکتیں” حیان کو غصہ آ گیا

“کیا کرو گے تم…. ؟؟؟” وہ تڑخ گئی

“یہ وقت بتاۓ گا… چلیں انا” وہ انعمتا کی طرف مڑتے ہوۓ بولا

“حیان ایک منٹ… آئرہ میری بات سنیں, یہ ہم دونوں کے لیے ایک موقع ہے, پندرہ سال پرانی ہم دونوں کے بیچ کی نفرت کو ختم کرنے کا… اور یقین کریں آپ جو کہیں گی میں وہ کرنے کے لئے تیار ہوں, لیکن پلیز… حمدان کے فعل کی سزا آپ ان دو بچوں کو تو نا دیں” انعمتا نے ایک آخری کوشش کی تھی

“انعمتا حمدان خان…. تمہاری سات پشتیں بھی رو رو کر مجھ سے معافی مانگیں… میں تب بھی زاہا کی شادی حیان سے نہیں کروں گی… کبھی نہیں” آئرہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا تھا

…………………………..

“زارون… ” وہ دونوں اپنے آفس میں بیٹھے تھے جب رعنین نے اسے پکارا, وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ موبائل دیکھ رہا تھا, رعنین اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی کب سے پنسل منہ میں دباۓ ہوۓ تھے

“ہاں… ؟؟؟” زارون نے اس کی طرف دیکھا

“تمہیں کیسے پتہ چلا تھا کہ… تمہیں انا سے پیار ہو گیا ہے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا

“جب مجھے انہیں روز دیکھنا اچھا لگنے لگا, ایک بار دیکھ کر دوبارہ پھر سے دیکھنے کو دل کرنے لگا… اور پھر ہر وقت دیکھنے کو دل کرنے لگا…” اس نے مسکراتے ہوئے موبائل سکرین اس کی جانب کر دی, وہ اب بھی انعمتا کی تصویر ہی دیکھ رہا تھا

“یعنی جب ہمارا دل کسی شخص کو بار بار دیکھنے کی ضد کرے تو… مطلب ہمیں اس سے پیار ہو گیا ہے ؟؟؟” وہ بولی

“کہہ سکتے ہیں…” وہ بولا

“اور کیا feel ہوتا تھا تمہیں ؟؟؟” وہ اسے کریدتے ہوۓ بولی

“وہ ہمہ وقت میرے حواسوں پر سوار رہتی تھیں, میری راتوں کی نیندیں اڑ گئی تھیں, بس ہر وقت ان کے سامنے رہنے کو دل کرتا تھا, رعنا مجھے نا بھوک لگتی تھی… نا پیاس کا احساس ہوتا تھا, اور دل جیسے… کسی کھائی میں گرے جاتا تھا.. جیسے ڈوبتا جا رہا ہو…. وہ محبت کے اوائل دن بڑے قاتل تھے یار… ” زارون کہتا چلا گیا, اور وہ حرف بہ حرف سچ کہہ رہا تھا

بالکل ایسی ہی صورتحال آجکل رعنین کی تھی

“اب پھر بھی صورتحال ذرا کنٹرول میں ہے, اب میں روزانہ انہیں نا بھی دیکھ سکوں تو ان کی تصویروں سے کام چلا لیتا ہوں…پھر جس دن ملاقات ہو جاۓ, اگلے دو, تین دن اسی سرور میں گزر جاتے ہیں” وہ بولا اور سیدھا ہوا

“تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا, رعنین نے اس کی طرف دیکھا, کافی دیر دیکھتی رہی پھر بے بسی سے اپنے موبائل کی سکرین اس کے سامنے کر دی

“زارون مجھے لگتا ہے میرے بھی آجکل محبت کے اوائل قاتل دن گزر رہے ہیں” وہ انتہائی بے بسی سے بولی تھی, زارون تو بس حق دق اسے اور اس کے موبائل پر نظر آتے حنین یامن میر کو دیکھتا رہ گیا

“مجھے ہر وقت ڈپریشن کی سی کیفیت محسوس ہوتی رہتی ہے… دل پر کھچاؤ سا…. اور یوں جیسے کلیجہ منہ کو آ رہا ہو, ہر پیپر پر, ہر میپ پر… بس اسی کا چہرہ نظر آتا ہے” وہ کہتی چلی گئی

“رعنا… ” زارون ایک دم اٹھ کر اس کے پاس نیچے فرش پر آ بیٹھا

” اب کیا کرو گی…؟؟؟” اس نے پوچھا

“جو تم کرتے ہو… ” اس کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے

……………………………..

وہ چاروں اس وقت ٹی لاؤنج میں جمع تھے, سنان, انعمتا کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا, حیان سنگل صوفے پر آڑا ترچھا سا گرا ہوا تھا, رعنین نیچے کارپٹ پر بیٹھی تھی, دانین دوسرے صوفے پر بیٹھی تھی

“حیان میں جو کر سکتی تھی میں نے کر دیا… اب اس سے آگے اور کیا کروں ؟؟؟” وہ بولی

“ویسے حیان اگر تم پہلے بتا دیتے کہ تمہیں زاہا تمیم ہاشمی سے محبت ہو گئی ہے تو یہ خالہ والا بم بھی پہلے ہی پھوٹ جاتا… پھر تو صاف ظاہر تھا کہ وہ کبھی بھی اس کا رشتہ تم سے نہیں کرتیں” رعنین نے کہا

“مجھے کیا پتہ تھا کہ… خالہ اس کی سٹیپ مام نکلیں گی” وہ بے چارگی سے بولا

“حیان اسلیے میں کہتی تھی کہ آفس آیا جایا کرو, لوگوں سے ملا جلا کرو, تم نے دو سال اس سے محبت کی لیکن یہ نہیں جان سکے کہ وہ آئرہ کیف خان کی سوتیلی بیٹی ہے اور سواۓ تمہارے پورا بزنس سرکل اس بات کو جانتا ہے” وہ بولی

“اچھا… اور تم یہ بتاؤ… تمہیں بھلا پتہ چلا چار سالوں میں کہ زارون حاطب… خالہ والا زارون ہے ؟؟؟” وہ رعنین کی طرف مڑا

“میں نے کبھی پوچھا ہی نہیں اس سے… ” وہ بولی

“بس ایسے ہی ہے نا…. اب مجھے الہام ہوا تھا کہ پندرہ سال بعد خالہ کہیں سے نمودار ہو جائیں گی اور ایک بار پھر رنگ میں بھنگ ڈالنا شروع ہو جائیں گی” حیان ستا پڑا تھا

“اور اس نے زاہا کا رشتہ کس سے طے کیا ہے ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا, حیان نے فوراً خاموش بیٹھی دانین کی طرف دیکھا

“پتہ نہیں انا میں نے پوچھا ہی…. ” حیان کے کہتے ہی دانین نے اس کی بات کاٹ دی

“معیز سے ہوا ہے…جھوٹ کیوں بول رہے ہیں” وہ افسردہ سی آواز میں بولی تھی, انعمتا حیران رہ گئی

“کل سنایا کا فون آیا تھا… اس نے مجھے انوائیٹ کیا ہے معیز کی انگیجمنٹ پر” وہ بولی, حیان کا دل کٹ گیا تھا

“انا… مجھے پتہ ہے.. معیز کی زاہا سے کوئی دلی وابستگی نہیں ہے… وہ صرف اپنے چاچو کے کہنے پر زاہا سے شادی کر رہا ہے… ” اس کے کہتے ہی انعمتا چونک گئی

“کیوں ؟؟؟”

“زاہا کی مام نے معیز کے چاچو کے ساتھ بزنس پارٹنر شپ کی ہے اور یہ رشتہ ان کی پارٹنرشپ کا ایک حصہ ہے” وہ بولا, انعمتا دم بخود سی بیٹھی رہ گئی

اس پارٹنر شپ کے بارے میں تو وہ سب کچھ جانتی تھی, دس سال بعد وہ پہلی پارٹنر شپ تھی جو اسقدر کامیاب ہوئی تھی, یہ اور بات تھی کہ کسی بھی میٹنگ یا سیمینار میں وہ خود ابھی تک شریک نہیں ہوا تھا, یزدان کو تو وہ اکثر و بیشتر دیکھتی رہتی تھی تھی لیکن وہ کبھی نظر نہیں آیا تھا

ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کی پارٹنرشپ… جسے مزید مضبوط کرنے کے لئے زاہا اور معیز کا رشتہ طے ہو گیا تھا

“کیا نام ہے معیز کے چاچو کا ؟؟؟” اس نے کنفرم کرنا چاہا

“حنین یامن میر… ” اس بار رعنین بولی تھی

“انا.. میں کل ہی ملتا ہوں معیز سے…. جب محبت کسی اور سے کرتا ہے تو منگنی کسی اور سے کیوں… ” دانین نے پھر اس کی بات کاٹ دی

“وہ کسی سے محبت نہیں کرتا… اس نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی زاہا کے لئے ہاں کر دی… میرے اظہار کرنے کے باوجود وہ اس سے منگنی کروانے پر راضی ہے تو… کیا کہیں گے آپ اسے ؟؟؟” دانین کی خوبصورت آنکھیں لبا لب بھر گئیں, انعمتا تو بس ششدر سی اسے دیکھ رہی تھی

“دانی… ” حیان ایک دم اس کے پاس آ گیا

“میں اسے کہوں گا کہ…. “

“آپ اسے کچھ نہیں کہیں گے… I love you سے بڑھ کر بھی کوئی اظہار ہوتا ہے بھلا…وہ پھر بھی منگنی کروا رہا ہے” وہ بولی

“دانی…. ” انعمتا نے تو آج تک کبھی اسے رونے نہیں دیا تھا تو اب کیسے ؟؟؟

“دانی.. مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” وہ اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا

“وہ ہاں کرتا تو آپ کو بتاتی… اس نے تو کچھ کہا ہی نہیں” وہ بولی, انعمتا نے ایک لمبی سانس بھری تھی

“فکر مت کرو… میں نے یزدان سے کہا ہے… وہ بات کرے گا آئرہ سے ” انعمتا نے کہا

“یزدان کون…. چاچو ؟؟؟” وہ تینوں چونک گئے

“انا یار میں چھ سال کا تھا جب چاچو کراچی چلے گئے تھے… اب پلیز یہ مت کہنا کہ وہ بھی واپس آ گئے ہیں” حیان تڑخا

“تو اور… اس رعنا کی بچی نے لون کس سے اپروو کروایا ہے ؟؟؟” انعمتا نے کہا

“میں نے تو… اچھا وہ چاچو ہیں ؟؟؟” اس کی بات سن کر انعمتا کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے

“کس قسم کے لوگ ہو تم دونوں… ایک یہ لڑکا ہے جسے دو سالوں میں یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ زاہا آئرہ کی سوتیلی بیٹی ہے اور ایک تم ہو جو روز اس کے آفس جاتی ہو اور یہ پتہ نہیں کہ وہ یزدان سیف خان ہے… لا پرواہ لوگو اسے دس سال ہو گئے ہیں واپس آۓ…. ” وہ بولی

“انہوں نے کبھی بتایا ہی نہیں… ” رعنین نے کہا

“تو وہ بھی تمہارا ہی چاچو ہے…. ” انعمتا کلس گئی

“حیان اس سے مل لو… ویسے تو آئرہ کی اس سے بھی کم ہی بنتی ہے لیکن… کوشش کر لینے میں کیا حرج ہے ؟؟؟” وہ دانین کے گال تھپتھپاتے ہوۓ بولی تھی

………………….

رات تقریباً نو بجے کا وقت تھا… بیرونی دروازہ بڑی زور سے کھٹکا تھا, فریحہ اپنے کمرے میں تھیں

یزدان بوکھلا کر باہر نکلا تھا… دروازہ کھولتے ہی وہ ٹھٹھک گیا

وہ تینوں دروازے پر کھڑے تھے

“بتا تو دیتے کہ واپس آ گئے ہیں… ” حیان نے زور سے اس کے سینے پر مکا جڑا تھا

“مجھے لگا پتہ نہیں تم لوگ ملو گے بھی یا نہیں… ” وہ بولا

“آپ ہمیں چھوڑ گئے تھے… اور دادی کو بھی ساتھ لے گئے تھے… دادی کہاں ہیں… دادی… دادی” دانین زور زور سے فریحہ کو آوازیں دے رہی تھی

“مجھے تو بتا دیتے ؟؟؟” رعنین نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا

“اتنے تو اشارے دیئے تھے تمہیں…بیوقوف لڑکی” یزدان نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لے لیا, حیان اور دانین زور سے فریحہ کے گلے لگے تھے

“دادی آپ چاچو کے ساتھ چلی گئیں… اور ہمیں اکیلا چھوڑ گئیں…پھر پاپا بھی چلے گئے…. اور آپ واپس ہی نہیں آئیں ” آدھے پونے گھنٹے تک تو شکوے ہی چلتے رہے

“چاچو… یار اٹھیں, ہمیں کہیں جانا ہے” وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا تھا

“بات سنو… وہ اگر صرف تمہاری خالہ ہوتی تو میں ابھی چلتا تمہارے ساتھ لیکن…. وہ آئرہ کیف خان ہے, وہ اپنی پانچوں انگلیاں میری آنکھوں میں گھسیڑ دے گی” یزدان نے کہا

“چاچو یار میں خالہ کی طرف جانے کا نہیں کہہ رہا… ” وہ بولا

“پھر…. ؟؟؟”

“ہمیں معیز کے گھر جانا ہے”

“کیوں ؟؟؟”

“کیونکہ اس کے چاچو آپ کے پارٹنر ہیں… دوست ہیں… آپ انہیں کہیں کہ معیز اور زاہا کے رشتے سے انکار کر دیں” وہ بولا

“میں کہوں گا اور وہ کر دے گا… اتنا ہی آسان ہے نا ؟؟؟” یزدان نے کہا

“وہ آپ کے دوست ہیں… ” رعنین نے زور سے کہا

“میری بات سنو تم تینوں…حمدان بھائی نے اپنی زندگی میں صرف آئرہ کیف خان کو ہی دشمن نہیں بنایا… سمجھے” وہ بولا

“اب معیز کے چاچو سے کیا پھڈا تھا پاپا کا ؟؟” وہ تینوں ہی چونک گئے

“Business Rivals…. “

یزدان نے کہا

“چاچو… دانی معیز کو پسند کرتی ہے” حیان نے زور سے کہا, یزدان نے چونک کر دانین کی طرف دیکھا, وہ چار سالہ بچی جو ہمیشہ سے اسے بہت عزیز تھی, وہ اپنی بڑی بڑی افسردہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی… چپ چاپ

“میں تو رو کر چپ کر جاؤں گا… دانی کیسے چپ کرے گی ؟؟؟” وہ بولا

“دانی… یہاں آؤ… ” اس نے دانین کو آغوش میں لیا تھا

“مجھ سے جہاں تک ہو سکا… میں کوشش کروں گا” وہ اس کا سر تھپکتے ہوۓ بولا تھا

……………………….

انعمتا اور یزدان… ان دونوں کے پاس صرف ایک دن تھا, ہر قسم کی کوشش کرنے کے لئے صرف ایک دن تھا

سب سے پہلے انعمتا نے یزدان کو فون کیا

“کچھ کر سکو گے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا

“کوشش کر سکتا ہوں… ” وہ بولا

“وہ کیسے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“حنین سے ملتا ہوں… اسے کہتا ہوں کہ معیز اور زاہا کے رشتے سے انکار کر دے” یزدان نے کہا

“وہ وجہ پوچھے گا… اور تمہارے وجہ بتاتے ہی دوسری آئرہ کیف خان بن جاۓ گا” انعمتا نے کہا

“بات تو کرنے دیں… “

“کر کے مجھے بتانا…. ” وہ بولی تھی

یزدان اسی وقت آفس کے لئے نکل کھڑا ہوا, حنین ابھی تک نہیں آیا تھا

“کہاں ہے تو ؟؟؟” اس نے پوچھا

“یزدان یار میں آج نہیں آ سکوں گا… شام میں فنکشن کی وجہ سے ذرا مصروفیت زیادہ ہے” وہ بولا

“ضروری بات کرنی تھی تیرے سے “

“گھر آ جا… ” حنین نے کہا, وہ اسی وقت گاڑی لیکر اس کے گھر جا پہنچا

“معیز کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“مارکیٹ گیا ہے دوستوں کے ساتھ… “

“وہ راضی ہے ؟؟؟” یزدان نے پوچھا

“آف کورس… اس سے پوچھ کر ہی منگنی طے کی ہے” حنین نے کہا

“حنین… یار میری بات سن… ٹھنڈے دماغ سے” یزدان ذرا سا آگے کو ہوا تھا

“دانین, معیز کو پسند کرتی ہے… ” وہ بولا

“دانین… ؟؟؟”

“حمدان بھائی کی چھوٹی بیٹی… ” یزدان کے کہتے ہی حنین کی ہنسی نکل گئی

“چھوٹی والی بھی ؟؟؟” وہ ہنستا جا رہا تھا

“چھوٹی والی بھی مطلب… ؟؟؟” وہ سمجھ نا سکا

“مطلب یہ کہ یزدان سیف خان…. بڑی والی مجھ پر دل ہار چکی ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا, یزدان دم بخود رہ گیا

“قسمت نے کیا داؤ کھیلا ہے نا یزدان… حمدان نے بھلا کبھی سوچا ہوگا کہ اس کی بیٹی کو مجھ سے محبت ہو جاۓ گی” وہ ہنسا

“حنین… ماضی راکھ ہو چکا یار… بچوں پر ظلم کیوں کرنا ہے… ” یزدان نے کہا

“میں تو کسی پر ظلم نہیں کر رہا…. میں تو بس اپنے بھتیجے کی منگنی کر رہا ہوں” وہ بولا

“دو دل ٹوٹ جائیں گے حنین… اور تجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے کہ دل ٹوٹنے کا درد کیا ہوتا ہے ” وہ بولا

“تو اچھا ہے نا… جس درد کا بدلہ میں حمدان سے نہیں لے سکا… وہ اس کے بچوں سے ہی سہی” حنین نے کہا

“حنین… وہ میرا بھتیجا ہے… بھتیجیاں ہیں” یزدان کا لحجہ سوالیہ ہوگیا

“ہماری کمٹمنٹ ہوئی تھی یزدان… کہ رشتے داریاں درمیان میں نہیں آئیں گی” حنین نے کہا اور کھڑا ہو گیا

“آج رات کو معیز کی منگنی ہے… تو جس بھی طرف سے شامل ہونا چاہے…ہو جانا” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلا گیا تھا

یزدان خالی ہاتھ بیٹھا رہ گیا

…………………………….

دن بارہ بجے کا وقت تھا جب انعمتا کو یزدان کی کال آئی

“ہاں… کیا بنا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“وہ دوسری آئرہ کیف خان بن گیا ہے… ” یزدان نے کہا

“یزدان… چلو آؤ ہم دونوں ایک بار پھر آئرہ سے بات کریں” انعمتا نے کہا

“اوکے میں آ رہا ہوں” وہ کال کاٹتے ہوئے بولا تھا اور کچھ ہی دیر میں وہ دونوں آئرہ کے آفس پہنچ گئے , وہ ان دونوں کو سامنے دیکھ کر مسکراتی چلی گئی تھی

“تو بازی پلٹ گئی… کیوں یزدان سیف خان… ؟؟؟؟” وہ طنزیہ سا بولی تھی

“آئرہ… بدلہ لینا ہے تو مجھ سے لو… انعمتا سے لو… بچوں سے کیوں لے رہی ہو ؟؟؟” وہ بولا

“میری مرضی… جس سے مرضی لوں” وہ بولی

“آپ جو کہیں گی میں کرنے کو تیار ہوں آئرہ… پلیز” انعمتا نے کہا

“اچھا… چلو پھر حمدان مجھے لوٹا دو” وہ آگے کو ہوتے ہوئے بولی

“خدا کی قسم اگر آج وہ زندہ ہوتا تو میں اپنے بچوں کی خوشی کی خاطر وہ آپ کو لوٹا دیتی” انعمتا نے کہا

“چہ چہ… نہیں لوٹا سکتی نا… تو پھر جاؤ یہاں سے” آئرہ نے کہا

“آئرہ… پلیز… جو چاہے مانگ لیں” انعمتا ہر کوشش کر رہی تھی

“چلو پھر… حمدان انٹر پرائزرز مجھے دے دو… ” وہ بولی

“لے لیں … ابھی اسی وقت لے لیں” وہ بولی, آئرہ نے قہقہہ لگایا تھا

“مجھے پتہ تھا تم یہ ہی کہو گی… زاہا نے بھی مجھ سے یہ ہی کہا تھا جب میں نے اسے کہا کہ ہاشمی ٹریڈرز یا تمہارے بیٹے میں سے کسی ایک کو چن لے… اس نے بھی تمہارے بیٹے پر ہاشمی ٹریڈرز قربان کر دی… واہ انعمتا…. میری بیٹی تو بالکل تمہارے جیسی ہے” وہ ہنستی جا رہی تھی

“آئرہ… یہ سب کرنے سے کیا ہو گا ؟؟؟” یزدان کی بس ہو گئی

“میرے دل کو سکون ملے گا” وہ مسکرائی تھی

ان دونوں کی ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ نہیں مانی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *