Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 05)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

اس وسیع و عریض صحن میں دریاں بچھا کر اوپر سفید چادریں بچھا دی گئی تھیں, صحن کھچا کھچ عورتوں سے بھرا ہوا تھا, داخلی دروازے کے باہر مردوں کے لئے دریاں بچھی ہوئی تھیں, سبھی لوگ گٹھلیاں اور سیپارے پڑھنے میں مصروف تھے

“حمدان…. بہت افسوس ہوا یار” کسی نئے آنیوالے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا

“بس… خدا کی مرضی” حمدان نے سر جھکاتے ہوۓ کہا, آج اس کی بیوی مائرہ کو دنیا سے گزرے تیسرا دن تھا, وہ شہر کی ایک جانی پہچانی بزنس شخصیت تھا سو لوگ جوق در جوق اس سے افسوس کرنے آ رہے تھے

“پاپا… ” اچانک ہی پانچ سالہ حیان بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا

“جی بیٹے… “

“پاپا… دانی روۓ جا رہی ہے, چپ ہی نہیں کر رہی, فیڈر بھی نہیں لے رہی, دادو آپ کو بلا رہی ہیں” وہ ایک ہی سانس میں کہتا چلا گیا

“آپ چلو میں آتا ہوں” اس نے بہت محبت سے حیان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا, وہ سر ہلا کر واپس بھاگ گیا

دانین ابھی صرف تین سال کی تھی اور وہ مائرہ سے بہت زیادہ اٹیچ تھی… پرسوں سے اس بچی کا رو رو کر برا حال تھا, اب بھی وہ باہر سے اٹھ کر اندر آیا تو اس نے رو رو کر فریحہ بیگم کی ناک میں دم کر رکھا تھا

“لائیں مجھے دے دیں… ” اس نے روتی بلکتی دانین کو ان کی گود سے لے لیا

“یہ فیڈر بھی لے لو اس کا… بھوک لگی ہے اسے” وہ خود نڈھال تھیں

“امی آپ تھوڑا ریسٹ کر لیں… اسے میں سنبھال لوں گا” وہ دانین کو کندھے سے لگاۓ اوپر اپنے کمرے میں آ گیا, وہاں چھ سالہ رعنین گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی رو رہی تھی

“رعنا… میری جان کیا ہوا ؟؟؟” وہ تڑپ ہی تو گیا تھا

“مما یاد آ رہی ہیں… ” وہ بلک بلک کر رو دی

“حمدان نے بستر پر بیٹھتے ہوئے دانین کو اپنی گود میں لٹایا اور اس کے منہ میں فیڈر دے دیا, پھر رعنین کو بالکل اپنے ساتھ جوڑ لیا

“مما ہمیشہ کے لئے اللہ کے پاس چلی گئی ہیں رعنا… وہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گی, اگر ہم انہیں یاد کر کے روئیں گے تو انہیں تکلیف ہو گی… اسلیے رونا نہیں ہے بلکہ ان کے لئے دعا کرنی ہے… ٹھیک ہے ؟؟” وہ دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہتا چلا گیا

دانین کو بھی اس نے تھپک تھپک کر سلا دیا تھا, کچھ دیر بعد رعنین بھی اس کے ساتھ ہی لگے لگے سو گئی

دانین کو دھیرے سے بستر پر لٹاتے ہوۓ وہ لائیٹ آف کر کے باہر نکل آیا تھا

مائرہ اس کی چچا زاد کزن تھی, سات سال پہلے اس کی اور مائرہ کی شادی ہوئی تھی, تب وہ اٹھائس سال کا تھا

وہ… حمدان سیف خان, سیف خان کا بڑا بیٹا

جس نے محض اکیس سال کی عمر میں ایک کیشیئر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا, اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا تھا اور اپنے خاندان میں وہ واحد لڑکا تھا جو یونیورسٹی تک پہنچا تھا, ورنہ تو میٹرک یا انٹر کے بعد سے ہی لڑکوں کو کام پر لگا دیا جاتا تھا

اس کے والد اور چچا دو بھائی تھے, سیف خان… اور کیف خان

ان کا کافی پرانا فرنیچر کا کاروبار تھا جسے وہ دونوں بھائی مل کر سنبھالتے تھے, صرف حمدان ہی تھا جس نے انٹر کے بعد ضد کر کے بی سی ایس میں ایڈمیشن لیا تھا, سیف خان کی ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ کاروبار کی طرف نہیں آیا تھا, بی سی ایس کے بعد اس نے ایم بی اے کیا اور ایک بار پھر سیف خان کے خلاف جا کر کسی پرائیویٹ فرم میں کیشیئر کی جاب کر لی… اسے بھی کاروبار ہی کرنا تھا… لیکن کسی اور طرح سے

یزدان اس سے چھ سال چھوٹا تھا… اور وہ پوری طرح اسے بھی اپنے ہی نقش قدم پر چلا رہا تھا, حمدان سے چھوٹی دو بہنیں بھی تھیں جن کی ایف اے کے بعد ہی شادیاں کر دی گئی تھیں

کیف خان کی دو بیٹیاں تھیں… بڑی آئرہ اور چھوٹی مائرہ… ان دونوں بہنوں کی شادیاں بھی آگے پیچھے ہی ہوئی تھیں لیکن شادی کے فقط دو سال بعد ہی آئرہ واپس آ گئی تھی

اس کی گود میں تب دو ماہ کا زارون تھا… اور پھر واپس نہیں گئی تھی, حالانکہ حاطب کئی بار اسے لینے آیا لیکن وہ جم کر بیٹھ گئی اور طلاق لیکر ہی رہی تھی

…………………………

“حمدان…. ” اپنے پیچھے آئرہ کی آواز سن کر وہ پلٹا تھا

“تائی کہہ رہی ہیں کہ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا… چلو آؤ میں نے کھانا لگا دیا ہے, کھانا کھا لو” وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی تھی, رات کے دس بج رہے تھے اور وہ حیان کو سلا کر نیچے اترا تھا

“مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے آئرہ… پلیز” وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب آئرہ اس کے سامنے آ گئی

“حمدان جانے والی تو چلی گئی… اب کیا ساری عمر اس کا ماتم ہی مناتے رہو گے ؟؟؟ چلو آؤ کھانا کھا لو” اس نے حمدان کا ہاتھ پکڑا تھا

“آئرہ… میں بچہ نہیں ہوں سمجھیں….جب بھوک لگے گی تو کھا لوں گا” حمدان ذرا سختی سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑا گیا تھا

آئرہ وہیں کھڑی رہ گئی

وہ یر بار یونہی کرتا تھا… ہر بار وہ اس کے ہاتھوں یونہی دھتکاری جاتی تھی

حالانکہ پورے خاندان میں وہ اپسرا مشہور تھی… خوبصورتی میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا, اوپر سے اسے اپنا آپ سنوارنا بھی بہت اچھے سے آتا تھا, پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تو کمال کا تھا, سیاہ بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں جنہیں وہ کسی سمندر کی طرح گہرا کیے رکھتی تھی, چہرے کے تیکھے تیکھے نقوش جن میں سر فہرست اس کی غرور سے کھڑی ستواں ناک تھی, صراحی دار دودھیا گردن جس کے گرد وہ ہمیشہ ہی کوئی نا کوئی چیز پروۓ رکھتی تھی, لمبے سیاہ بال جنہیں شاذو نادر ہی وہ باندھا کرتی تھی ورنہ تو وہ یونہی اس کے دائیں بائیں گرتے رہتے تھے, اس کے لمبے قد میں بھی کوئی اس کے برابر نہیں تھا… وہ عام سا لان کا سوٹ پہن کر بھی ذرا سی کریم لگا لیتی تو کسی حور سے مشابہ لگنے لگتی تھی

اور جوانی کی سرحدوں پر قدم رکھتے ہی اس نے اپنے نام کے ساتھ جس کا نام سنا… وہ حمدان سیف خان تھا

صرف حمدان کی خاطر اس نے ایف اے کے بعد بی اے میں ایڈمیشن لیا… ہر ممکن اس کی کوشش ہوتی کہ حمدان کا ہر کام وہ خود کرے, وہ سب چونکہ ایک جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ تھے سو حمدان سے محبت کرنے کے لئے اسے کوئی خاص پاپڑ بیلنے کی ضرورت نہیں تھی

حمدان کی دونوں بہنوں کی شادیوں کے بعد تو اس کی ساری ذمہ داری آئرہ نے اپنے سر لے لی تھی, بڑے دل سے وہ اس کے کپڑے پریس کرتی تھی, اپنے ہاتھوں سے اسے چاۓ بنا کر دیتی تھی, اس کے لئے کھانا لگاتی تھی, اس کے جوتے تک پالش کرتی تھی

وہ آئرہ کیف خان جو کبھی کسی کو خاطر میں نہ لاۓ… وہ حمدان سیف خان کے پیروں کی دھول تک بن جانے کے لیے راضی تھی

سب جانتے تھے کہ حمدان کی شادی اسی سے ہو گی, ان دونوں کی جوڑی جیسے چاند سورج کی جوڑی تھی, حمدان کی جاب ہوتے ہی سیف خان نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا, انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ لڑکی بھی باہر سے ہی نا بیاہ لاۓ

اور وہ بھی ایسی ہی ایک سیاہ رات تھی جب سیف خان اور فریحہ بیگم نے اس کے سامنے آئرہ کا نام رکھ دیا تھا

“ابو… آپ چاچو سے مائرہ کا ہاتھ مانگ لیں پلیز, مجھے آئرہ سے شادی نہیں کرنی” وہ اس پر قیامت لے آیا تھا

……………………………..

“حمدان… ” آئرہ نے اسے گھیر ہی لیا تھا

“مجھ میں آخر کمی کیا ہے ؟؟؟” وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن… رو پڑی تھی

“میں نے کب کہا کہ تم میں کوئی کمی ہے” وہ بولا

“پھر مجھے کیوں دھتکارا ؟؟؟” وہ چیخ پڑی تھی

“کیونکہ میرا نہیں خیال کہ ہم دونوں میں کبھی بن سکے گی آئرہ… تمہارا مزاج مجھ سے یکسر مختلف ہے, مجھے اپنے لیے ایک سیدھی سادھی نرم مزاج لڑکی چاہیے جو ہر حال میں میرے ساتھ خوش رہ سکے, جو میرے بچوں کی اچھی تربیت کر سکے, جو میرے گھر کو جنت بنا سکے… ” حمدان کہتا چلا گیا

“یہ سب میں بھی کر سکتی تھی حمدان…. ” آنسو تھمتے نہ تھے

“نہیں آئرہ… تم صرف اپنی دنیا میں جیتی ہو, تمہیں صرف اپنی ذات ہی عزیز ہے, آنیوالا وقت یہ ثابت بھی کر دے گا” حمدان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا

دو ماہ بعد اس کی اور مائرہ کی شادی ہو گئی تھی

……………………………

لیکن محبت کے اس کھیل میں ایک اور بھی تھا جو آئرہ کیف خان کے لئے کبھی بھی اہم نہیں رہا… وہ بس اس کے لئے ایک سات سال چھوٹا کزن تھا

یزدان سیف خان… جس کی آنکھوں سے چھلکتی محبت آئرہ کے لئے ہمیشہ بے معنی ہی رہی, وہ اس کے لئے ہمیشہ سات سال چھوٹا ہی رہا

حمدان کی شادی کے بعد اس نے دبے دبے لفظوں میں فریحہ سے اپنے دل کی بات کی تھی اور فریحہ نے یزدان کے لئے آئرہ کا ہاتھ بھی مانگا تھا لیکن…. آئرہ کیف خان کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا

“واہ تائی امی… آئرہ کیف خان کو بھیک دے رہی ہیں آپ…کہ چلیں حمدان نا سہی تو یزدان ہی سہی, میں تھوکتی بھی نہیں ہوں اس پر.. ” وہ بھڑک پڑی تھی

کئی دنوں تک بھڑکتی رہی

پھر ایک دن یزدان اس کے ہتھے چڑھ گیا

“دوبارہ کبھی میرا نام بھی لیا تو دیکھ لینا… زبان کھینچ لوں گی میں تمہاری…” اس نے یزدان کی اسقدر بے عزتی کی کہ حد نہیں

ناچار اس کے ماں باپ نے اس کے لئے حاطب کا رشتہ دیکھا اور اس کی شادی کر دی جو وہ بمشکل دو سال ہی چلا پائی

حمدان کا کہا ایک ایک لفظ ٹھیک تھا

وہ شکر کرنے والی لڑکی نہیں تھی… وہ زندگی کو اپنے طور طریقوں سے جینے والی لڑکی تھی, سمجھوتے سے نفرت تھی اسے, من مانیاں کرنے کی عادت تھی اسے… زارون چار ماہ کا تھا جب حاطب نے اسے طلاق دے دی تھی

………………………..

مائرہ کو گزرے دو ہفتے ہو گئے تھے, اسے بس گردے میں شدید قسم کا درد اٹھا تھا جو آخر کار اس کا قاتل ثابت ہوا

دو ہفتوں سے وہ آفس نہیں گیا تھا, مینیجر کی کالز پر کالز آ رہی تھیں, کئی پراجیکٹس تھے جنہیں مکمل کرنا تھا

اس دن بھی وہ حیان اور رعنین کو سکول چھوڑ کر آفس آ گیا, پچییس سال کی عمر میں اس نے یہ کمپنی ایک دوست کے توسط سے خریدی تھی, کمپنی کی مالی حالت بہت خراب تھی, وہ سراسر نقصان میں جا رہی تھی, حمدان نے سیف خان سے اپنے حصے کا مطالبہ کر کے وہ کمپنی خرید لی تھی

صحیح معنوں میں اس نے اپنا دن رات ایک کر دیا, ایمپلائز ہائر کیے, پراجیکٹس ڈیمانڈ کیے, ڈیلز مکمل کروائیں… وہ کئی کئی راتیں سوتا نہیں تھا, ایک جنون تھا اسے… کامیابی کا

اور وہ کامیابی اس نے اگلے چند سالوں میں ہی پا لی تھی, اس گری ہوئی کمپنی کو وہ دھکا لگا کر ٹاپ ٹین میں لے آیا تھا…اپنی عمر کے ستائسویں سال اسے سالانہ بزنس کانفرنس میں رائزنگ سٹار کا ایوارڈ مل گیا تھا

صرف ستائس سال کی عمر میں وہ حمدان انٹرپرائزرز کا چیئر پرسن تھا… انتہائی ڈیشنگ اور ہینڈسم چئیر پرسن جو آنیوالے وقتوں میں کامیابیاں سمیٹتا ہی چلا گیا

خدا نے اس کی نجی زندگی بھی جنت بنا دی تھی, رعنین اور حیان کی پیدائش کے ساتھ ہی ان دونوں کی فیملی مکمل ہو گئی

تیس سال کی عمر میں اس نے بزنس ٹائیکون آف دی سٹی کا ایوارڈ جیتا تھا, اس سال حمدان انٹرپرائزرز ساتویں نمبر پر آ گئی تھی

“ازمیر… جتنی بھی پینڈنگ فائلیں ہیں ساری لے آو… ” وہ اپنے فنانس سیکشن کے ازمیر طارق سے کہتا ہوا اپنے آفس میں آ گیا, اس وقت اس کی کمپنی میں کل اٹھائس ایمپلائز تھے, ورکرز اس کے علاوہ تھے

“سر آپ کتنی دیر رکیں گے ؟؟؟” ازمیر کو اس کا آفس جوائن کیے دو سال ہو گئے تھے

“جتنی دیر ممکن ہو سکا… ” وہ فائلیں سائن کرنے لگا

“حاتم والوں کے ساتھ ایک فائنل میٹنگ باقی رہتی ہے سر… اگر وہ ہو جاتی تو میں اس پراجیکٹ کو اوکے کروا دیتا” ازمیر نے کہا

“حنین کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“سر وہ بینک تک گیا ہے… کیش بکس سائن کروانے” ازمیر نے کہا

“ازمیر… میں گھر جا کر یزدان کو بھیجتا ہوں, حنین آ جاۓ تو اسے کہنا کہ یزدان کے ساتھ جا کر حاتم والوں سے مل لے اور ڈیل اوکے کروا لے… میں نہیں جا پاؤں گا” وہ کہتا چلا گیا

“ٹھیک ہے سر… اٹس اوکے, اگر یزدان نہیں بھی آ سکا تو حنین اور میں چلے جائیں گے” ازمیر نے کہا

“مائرہ کا چالیسواں ہو جاۓ تو پھر شیڈول ذرا سیٹ کرتا ہوں, ابھی بچے بھی بہت ڈسٹرب ہیں… دانین بہت تنگ کرتی ہے” وہ بولا

“کوئی بات نہیں سر…. آپ آفس کی ٹینشن نا لیں, میں اور حنین سنبھال لیں گے” ازمیر فائلیں اٹھاتے ہوئے بولا تھا

“تمہارے ابو کا کیا حال ہے اب ازمیر ؟؟” حمدان کو یاد آیا تھا

“وہ بس ذرا سے بہتر ہوۓ ہیں سر… زیادہ امید افزاء بات نہیں ہے” ازمیر نے کہا

“چلو اللہ بہتر کرے… ” وہ اسے کہتا ہوا موبایل کی طرف متوجہ ہو گیا تھا

کچھ ہی دیر میں حنین بھی آ گیا

“حنین… یزدان آ رہا ہے, اس کے آتے ہی حاتم کامرانی سے ملنے چلے جانا” وہ بمشکل دو گھنٹے ہی آفس میں رک سکا تھا, گھر سے فریحہ کے فون آنے لگ گئے تھے, افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا

“جی سر… اوکے” حنین اور ازمیر دونوں ہی اس کے ساتھ بہت مخلص تھے

واپسی پر اس نے دونوں بچوں کو بھی سکول سے لے لیا تھا

…………………………

رات کے دس بج رہے تھے جب وہ گھر آیا, بیگ کندھے پر ڈالے وہ تھکا تھکا سا سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا, نیچے کچن سے مایا اور دونوں بچوں کی آوازیں اوپر تک آ رہی تھیں

کچھ دیر بیڈ پر اوندھا لیٹا رہا, پھر جوتے اتار کر واش روم میں گھس گیا, شاور لیکر نیچے آیا تو سبھی لوگ ڈائننگ ٹیبل کے گرد جمع تھے

“حنین بڑی دیر کر دی آج… ؟؟؟” سبتین اس کا بڑا بھائی تھا

“حمدان سر کی وائف کی ڈیتھ ہو گئی ہے بھائی… اسلیے مجھے اور ازمیر کو دیر تک رکنا پڑتا ہے” وہ بولا

“اوہ… اس کے تو بچے بھی چھوٹے ہوں گے ابھی” سبتین کو افسوس ہوا تھا

“ہاں جی… بڑی بیٹی ابھی صرف چھ سال کی ہے, بیٹا اپنے معیز کا ہم عمر ہے” حنین نے کہا

“اللہ رحم کرے اس پر… ” زینب بیگم نے دھیرے سے کہا تھا

“مایا یہ کیا بنایا ؟؟؟” وہ سالن کے نام پر گوبھی دیکھ کر تڑخ گیا تھا

“آلو گوبھی… ” وہ بولی

“مجھے نہیں کھانا یہ گوبھا… مجھے انڈہ بنا دو” وہ بولا

“اچھا دو منٹ رکو… بنا دیتی ہوں” مایا, سنایا کو کھانا کھلا رہی تھی

“مایا یار دوپہر سے بھوکا ہوں… بنا دو نا” حنین نے کہتے ہی آنکھیں میچ لیں

مایا نے فوراً سبتین کی طرف دیکھا لیکن… تیر کمان سے نکل چکا تھا

سبتین کے ابرو تن گئے

“ساری عمر تیری عقل گھٹنوں میں ہی رہے گی کیا… ؟؟؟ کتنی بار کہوں کہ اس سے تمیز سے بات کیا کر ” وہ چنگھاڑ کر بولا تھا

“بھائی سوری… سوری میرے منہ سے نکل گیا” وہ جلدی سے بولا مبادا سبتین کا سارا عتاب مایا پر ہی نہ اتر جاۓ

“تیرے منہ کے آگے کنواں کھدا ہوا ہے حنین, جو بکواس کرتا ہے اس میں گر جاتی ہے… بیہودہ انسان, بھابھی کہا کر اسے” سبتین نے اب کہاں جلدی ٹھنڈے ہونا تھا

“اور تم…اندر آؤ ذرا…. ” وہ قہر بار نظروں سے مایا کو گھورتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا

“حنین کتنی بار کہا ہے کہ زبان کو تھوڑا قابو کر کے رکھا کر… ” زینب نے اسے گھرکا, لیکن قصور شاید حنین کا بھی نہیں تھا, وہ اور مایا فرسٹ کزنز تھے, دونوں ایک ہی رات کی پیدائش تھے, ایک ساتھ بڑھے ہوئے تھے, دونوں بچپن کے ساتھی تھی

اب جس مایا کو اس نے ساری عمر “اے مایا” اور “مایا یار” کہہ کر بلایا ہو, اسے ایک دم سے بھابھی جان کیسے کہہ دیتا… ؟؟؟

وہ ابھی صرف سترہ سال کی تھی جب اس کی اور سبتین کی شادی ہو گئی, زینب اور میر طاہر کا ایک کار ایکسیڈینٹ ہوا تھا جس کے نتیجے میں میر طاہر تو دنیا ہی چھوڑ گیے تھے جبکہ زینب وہیل چیئر پر آ گئیں تھیں

وہ بیچاری کس کس کام کے لئے ملازمہ رکھتیں… ؟؟؟ سبتین تب پچیس سال کا تھا, سو انہوں نے اپنی نند سے مایا کا رشتہ مانگ لیا, پورے فیملی یہ ہی سمجھتی رہی کہ حنین اور مایا کا جوڑ بنے گا لیکن… وہ سترہ سالہ لڑکی سبتین ضامن کی دلہن بن گئی

ابھی یہ بھی شکر تھا کہ حنین اور مایا کی کوئی دلی وابستگی نہیں تھی ورنہ تو نہ جانے کیا حشر اٹھتا… سبتین نا صرف غصے کا بہت تیز تھا بلکہ حد سے زیادہ شکی بھی تھا

بظاہر اس نے مایا کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی لیکن اپنے غصے اور شک کی وجہ سے وہ اس کا جینا حرام کیے رکھتا تھا, معیز کے بعد سنایا بھی دنیا میں آ گئی تھی

اب بھی وہ سارے کام نپٹاکر کمرے میں آئی تو وہ غصہ ماتھے پر سجاۓ بیٹھا تھا

“کتنی بار کہا ہے کہ اس کے منہ مت لگا کرو, کیوں فری ہوتی ہو اس کے ساتھ… مایا یار… مایا یار انڈہ بنا دو, مایا یار چاۓ بنا دو… میں تو بھاڑ میں گیا پھر… ” ساری رات اس شخص نے اس بیچاری کو سکون کا سانس نہیں لینے دیا تھا

ساری رات کچوکے ہی لگاتا رہا تھا

………………………

مائرہ کا چالیسواں بھی ہو گیا تھا, اس نے دھیرے دھیرے اپنا شیڈول سیٹ کرنے کی پوری کوشش کی تھی, صبح جلدی اٹھنا پڑتا تھا, رعنین کسی کے بھی ہاتھ سے ناشتہ نہیں کرتی تھی, فریحہ کو ان دونوں بچوں کی سکول کی تیاری ہی گھما کر رکھ دیتی تھی, حمدان نے ایک کئیر ٹیکر ملازمہ کا بھی بندوبست کیا لیکن بے سود… وہ دونوں بچے اسے دیکھتے ہی وہ واویلا مچاتے کہ خدا کی پناہ

رہ گئی آئرہ… تو وہ زارون کو سنبھال لیتی یہ ہی بہت تھا…. نا کہ وہ حمدان کے تین بچوں کو سنبھالتی… ؟؟؟

صبح اٹھ کر وہ خود ہی ان دونوں کی سکول کی تیاری کرواتا تھا, پھر خود ہی انہیں ناشتہ کرواتا… انہیں سکول چھوڑ کر واپس آتا اور پھر تیار ہو کر آفس جاتا… واپسی پر اس نے یزدان کی ڈیوٹی لگائی تھی, وہ ان دونوں کو سکول سے گھر واپس چھوڑ آتا تھا

فریحہ کے لئے وہ دو بجے سے شام سات بجے تک کا درمیانی وقفہ ہی سب سے مشکل ہوتا تھا, ان کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ دوپہر کا کھانا کھا کر تینوں بچے کچھ دیر کے لیے سو جائیں

اس کا بھی ایک فائدہ تھا کہ حمدان رات کو انہیں ہوم ورک کروا دیتا تھا

رہ گئی دانین…. تو اصل ناکوں چنے تو اس نے چبواۓ تھے, اکثر ہی حمدان کو اسے آفس ساتھ لے جانا پڑتا, وہ تین سال کی بچی ماں کے بعد اسقدر ضدی ہو گئی تھی کہ خدا کی پناہ…. ہر وقت حمدان سے چمٹی رہتی تھی

وہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی, حمدان تقریباً ساڑھے سات بجے گھر پہنچا تھا, دانین کے رونے کی آواز اسے باہر پورچ تک سنائی دے رہی تھی, گاڑی کھڑی کر کے وہ بھاگتا ہوا اندر آ گیا

دانین فل ٹاس گلا پھاڑ کر رو رہی تھی اور چھ سالہ رعنین اسے گود میں اٹھائے اسے چپ کروانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی, حیان کبھی اس کے منہ میں فیڈر دیتا, تو کبھی کوئی اور جتن کرتا

اس نے اندر آتے ہی دانین کو کندھے سے لگایا تھا, فریحہ کے کمرے میں ایک دھما چوکڑی مچی ہوئی تھی, آئرہ, آئرہ کی ماں, اس کی دونوں بہنیں… سبھی وہاں جمع تھیں… اور ان سب عورتوں کا ایک گھمسان کا رن جاری تھا

“امی…. کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ دانین کو گود میں اٹھاۓ کمرے کے دروازے میں آ کھڑا ہوا

“حمدان تو کب آیا…؟؟؟” فریحہ یکدم ہی اس کی طرف آئیں

“امی یہاں کیا ہو رہا تھا ؟؟؟” حمدان کا لحجہ تھوڑا سخت ہو گیا

“حمدان میں تیرے لئے اپنی نند کا رشتہ لیکر آئی تھی لیکن یہاں تو پہلے سے ہی دعویدار بیٹھے ہیں, میں نے بس اتنا کہہ دیا کہ جب حمدان نے پہلے آئرہ سے شادی نہیں کی تو اب کیسے کر لے گا” اس کی بہن کہتی چلی گئی, حمدان نے تاسف سے فریحہ کی طرف دیکھا

“امی ابھی مائرہ کو گزرے دو مہینے بھی نہیں ہوۓ اور آپ لوگوں کو میری شادی کی فکر پڑ گئی…. خدا جانے دانین کب سے رو رہی تھی” وہ سر جھٹکتا ہوا اوپر آ گیا تھا

بڑی مشکلوں سے اس نے دانین کو سلایا, وہ سوئی تو بڑے دونوں بیگ اٹھا کر آ گئے, ان دونوں سے فارغ ہوا تو نو بج رہے تھے… چینج کر کے وہ نیچے آ گیا

کھانے کی میز پر پھر وہی بحث چھڑی ہوئی تھی

“میں آج آخری بار کہہ رہا ہوں کہ آییندہ کوئی میرے لئے یہاں رشتہ نہ لیکر آۓ… جب مجھے ضرورت محسوس ہوئی تو میں خود ہی دوسری شادی کر لوں گا… بس” اس نے قہر بار نظروںنسے اپنی دونوں بہنوں کو گھورا تھا اور آئرہ کے گرتے حوصلوں کو ذرا سا سہارا مل گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *