Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 02)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 02)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
یزدان آفس میں ہی تھا جب وہ عجلت میں بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا, اس کی تیاری سے ہی یزدان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کہیں اور ہی جانے کی تیاریوں میں تھا
“کدھر چلے بادشاہ سلامت ؟؟؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“مس آئرہ کیف خان سے ایک پرسنل سی میٹنگ ہے… ” وہ فائلیں کھنگالتے ہوۓ بولا تھا
یزدان نے ایک بھرپور نظر اسے دیکھا
وہ چونتیس سال کا انتہائی شاندار اور وجیہہ شخصیت کا حامل انسان تھا, اسے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک دس سال کی بیٹی کا باپ تھا, بزنس سرکل میں اکثر لوگ تو ابھی تک اسے کنوارا ہی سمجھتے تھے
مسٹر حنین یامن میر…
The crush in the business world…
“ہاں… اب کیا دم پھونکنے لگ گیا تو میرے اوپر ؟؟؟” حنین اس کی نظریں تاڑ گیا تھا
“کچھ نہیں… گڈ لک” یزدان نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا تھا
“یزدان…. یار آج ان دونوں بچوں نے بھی آنا ہے, وہ جو ریسٹورنٹ کھولنا چاہ رہے ہیں, ان سے ڈیل کر لینا ” وہ اپنی مطلوبہ فائل اٹھاتے ہوئے بولا تھا
“اوکے باس… ” یزدان نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں چلتا ہوں… ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گیا
تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب وہ ہاشمی ٹریڈرز کی چار منزلہ بلڈنگ کے سامنے پہنچا, اپنی گرے کلٹس کو پارک کر کے وہ اندر آ گیا تھا
“مس آئرہ کیف خان سے ملنا ہے… ” اس نے ریسیپشن کو اپنا نام بتاتے ہوئے کہا, اس کی میٹنگ فکس تھی
“سر پلیز آپ تھرڈ فلور پر چلے جائیں, میم از ویٹنگ… ” ریسیپشنٹ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, وہ سر ہلا کر لفٹ سے اوپر آ گیا
اب تک اس نے صرف آئرہ کیف خان کے بارے میں بس سنا ہی تھا… یا پھر صرف ٹی وی سکرین اور میگزینز پر دیکھا تھا… آج پہلی بار روبرو دیکھ رہا تھا
وہ خاتون بزنس کی دنیا کی ملکہ مانی جاتی تھی, پورے بزنس سرکل میں وہ اپنی شاطرانہ چالوں اور باریک بینیوں کے سبب مشہور تھی, بشر تمیم ہاشمی کی موت کے بعد سے وہ ہاشمی ٹریڈرز کی چییرپرسن تھی
پورا بزنس سرکل جانتا تھا کہ وہ عقلمند نہیں تھی, شاطر تھی….
ذہین نہیں تھی, تیز تھی….
تجربہ کار نہیں تھی, پر اعتماد تھی….
اس کا اکیڈمک ریکارڈ بہت اچھا نہیں تھا, اسے بزنس کی الف بے بس پوری پوری ہی آتی تھی لیکن اسے شوق تھا…. آگے بڑھنے کا
ایک لگن تھی… سب پر چھا جانے کی, اس کا پاسٹ ریکارڈ بہت شاندار نہیں تھا, شاید پچھلے کئی سالوں میں اس کی آدھی سے زیادہ ڈیلنگز فیل ہی ہوئی تھیں لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی
ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی… جو کرتی تھی ڈنکے کی چوٹ پر کرتی تھی, پورے کانفیڈینس کے ساتھ اگلا قدم اٹھاتی تھی, وہ نقصان سے ڈرتی نہیں تھی
اور یہ سچ تھا کہ آج اس کی شہرت کی بڑی وجہ اس کی کامیابیوں سے زیادہ اس کی ناکامیاں تھیں
اب بھی حنین اس کے آفس میں داخل ہوا تو وہ کھڑی ہو گئی
43 سالہ آئرہ کیف خان جس نے شادی کے بعد بھی بشر تمیم ہاشمی کا سر نیم استعمال نہیں کیا, وہ آج بھی اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام لگاتی تھی
“آئیں مسٹر حنین…. خوش آمدید ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
حنین نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی, وہ سکن رنگ کی شیفون کی بڑی نفیس سی ساڑھی پہنے ہوئے تھی, ایک کندھے پر ساڑھی کا پلو تھا اور دوسرے پر اس نے بہت خوبصورت سی شال ڈال رکھی تھی, پانچ فٹ دس انچ قد کے ساتھ اس کا متناسب سراپا چیخ چیخ کر اس کے عمر خور ہونے کی چغلی کھا رہا تھا, چہرے پر ساڑھی سے ہم رنگ میک اپ تھا اور بالوں کو ایک جوڑے کی شکل میں قید کیا ہو تھا
بلاشبہ وہ اپنی عمر کے تینتالیسویں سال میں بھی بہت خوبصورت تھی
“آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی میم… ” حنین ایک طرف رکھے صوفے پر بیٹھ گیا تھا
“مجھے بھی… ” آئرہ نے چاۓ منگوا لی تھی
کافی دیر تک وہ دونوں ایک دوسرے سے بزنس سے متعلق باتیں کرتے رہے
“مسٹر حنین… آپ کے پارٹنر ساتھ کیوں نہیں آۓ ؟؟” اس نے پوچھا
“اسے پیچھے سے دو, تین ڈیلز دیکھنی تھی بس اسی لئے نہیں آ سکا… ” حنین نے کہا, آئرہ دھیما سا مسکرا دی, حنین اس کی مسکراہٹ کا مطلب سمجھ نہیں سکا تھا
“جہاں تک میرے علم میں ہے آپ فنانسنگ کا بزنس کرتے ہیں مسٹر حنین… پھر ایک دم سے پارٹنرشپ کی طرف کیسے آ گئے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سوچا ذرا منہ کا ذائقہ بدل کر دیکھتے ہیں” وہ مسکرایا تھا
“دیکھ لیں… کہیں منہ کا ذائقہ کڑوا ہی نا ہو جاۓ” آئرہ نے کہا
“میں نے ہر کڑوے سے کڑوا ذائقہ چکھ رکھا ہے میم… ایک اور بھی سہی… کوئی فرق نہیں پڑتا” وہ بولا
“ایک بات پوچھوں آپ سے مسٹر حنین ؟؟؟”
“جی… پوچھیں… “
“میں نے آپ کی پچھلی ساری ہسٹری سٹڈی کی ہے, اب تک آپ نے چھوٹے موٹے ریسٹورنٹس, فوڈ کارنرز یا ڈرنک کارنرز فنانس کیے ہیں, آپ نے بے شمار چھوٹی بڑی کمپنیز کے ساتھ بھی چھوٹے لیول کی فنانسنگ کی ہے لیکن… ” وہ کہتے کہتے رکی, حنین شاید جانتا تھا کہ وہ آگے کیا کہے گی
“آپ نے کبھی حمدان انٹرپرائزرز کے ساتھ کوئی کام کیوں نہیں کیا… ؟؟؟” آئرہ نے پوچھا, حنین کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
“یہ سوال تو میں آپ سے بھی پوچھ سکتا ہوں” وہ بولا
“میرا معاملہ اور ہے… میرے مرحوم شوہر بشر تمیم ہاشمی, حمدان سیف خان کے بہت قریبی دوستوں میں سے تھے, میرا نہیں خیال کہ حمدان انٹرپرائزرز کی کسی بھی پارٹنرشپ میں وہ شامل نہ ہوتے ہوں لیکن…. بشر کی موت کے بعد میں دوستی کی اس لکیر کو مزید کھینچ نہیں پائی… ” وہ کہتے ہوئے تھوڑا آگے کو ہوئی تھی
“کیونکہ… مجھے حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن زہر کی طرح بری لگتی ہے” اس لمحے آئرہ کے صرف لفظوں سے ہی نہیں, آنکھوں سے بھی نفرت چھلکی تھی, حنین بہت دیر تک بول نہ سکا
“اور آپ کی بزنس ہسٹری سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ… شاید اسی قسم کی کوئی نفرت آپ کے دامن میں بھی ہے مسٹر حنین ؟؟؟” آئرہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“ایسا کچھ نہیں ہے… ” اس نے دھیرے سے کہا
“الفاظ جھوٹے ہو سکتے ہیں… لیکن آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں” آئرہ نے کہا تھا
اور وہ بول نہیں سکا تھا, اسے کہہ نہیں سکا تھا کہ وہ آج وہاں اس سے ملنے صرف اسی لئے آیا تھا تاکہ جان سکے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن نے بشر تمیم ہاشمی کے بعد حمدان انٹرپرائزرز سے کوئی ڈیل کیوں نہیں کی… ؟؟؟
اور آئرہ کیف خان اس سے زیادہ صاف گو نکلی تھی… اس نے ببانگ دہل اپنی نفرت کا اظہار کر دیا تھا
شاید جس سوال کا جواب ڈھونڈنے وہ ہاشمی ٹریڈرز آیا تھا… اسی سوال کا جواب جاننے کے لئے آئرہ کیف خان نے اسے ہاشمی ٹریڈرز بلوایا تھا
جو وہ کھوجنا چاہتی تھی… حنین بھی وہی تلاش رہا تھا
پچھلے دس سالوں سے ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ نے شہر کی دوسری بڑی کمپنی سے کوئی پارٹنرشپ نہیں کی تھی… ہزاروں مواقع ملنے کے باوجود… کیوں ؟؟؟
…………………………..
“رعنین… ” وہ پچھلے دو گھنٹوں سے اسے بلانے کے دو سو جتن کر چکا تھا لیکن رعنین نے بھی جیسے منہ نہ کھولنے کی قسم ہی کھا لی تھی, ان دونوں نے آج اپنے نئے ریسٹورنٹ کی اوپننگ کے لئے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ ہاؤس جانا تھا
ان دونوں نے چھ ماہ پہلے ہی فوڈ سائنسز ایند ٹیکنالوجی میں بی ایس کیا تھا اور اب اپنا ذاتی ریسٹورنٹ کھولنے کے لئے تگ و دو کر رہے تھے, حالانکہ انعمتا رعنین کے ریسٹورنٹ کھولنے کے حق میں بالکل نہیں تھی لیکن رعنین نے اے لیولز کے بعد ہی اپنی لائن سلیکٹ کر لی تھی
کچھ ایسا ہی حال زارون کا تھا, آئرہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسے ہاتھ پیر باندھ کر آفس لے جاۓ لیکن وہ لڑکا اپنے پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتا تھا, شروع دن سے اس نے ہمیشہ آئرہ کے خلاف جا کر اپنی فیلڈ کا چناؤ کیا تھا, جب جب اس نے زارون کو بزنس کی طرف کھینچنے کی کوشش کی, تب تب وہ لڑکا ماں کے آگے کھڑا ہو گیا, آئرہ کی ہر ممکن کوشش کے باوجود اس نے بی بی اے میں ایڈمیشن نہیں لیا تھا, اور زارون کے حصے کا سارا عتاب وہ زاہا پر اتار دیتی تھی… زاہا پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی تھی
اب بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے کی جانے والی ساری کوششیں سراسر زارون اور رعنین کی خود ساختہ تھیں, ان دونوں کی ماؤں میں سے کوئی بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے راضی نہیں تھی
“رعنا… یار کچھ تو بولو” زارون جیسے تنگ آ گیا
“زارون.. جب میں بولتی ہوں تو تمہیں تب بھی ناقابل برداشت لگتی ہوں… اب اگر میں نہیں بول رہی تب بھی مسئلہ ہے ” رعنین بھڑک پڑی
“اچھا ایم سوری…. ” وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا
“زارون میری ایک بات کان کھول کر سن لو… اگر آئیندہ کبھی تمہارا کسی کام کو دل نہ کرے… تو پلیز مجھے صاف صاف بتا دینا… گھمن گھیریاں ڈالنے والے لوگ مجھے زہر لگتے ہیں” وہ بولی
“اچھا سوری کہا نا…. میں کل واقعی بہت ڈسٹرب تھا رعنا” وہ بولا
“تو تم مجھ سے شییر کر لیتے ” رعنین نے کہا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا
“زارون… جب سے ہم نے پاس آؤٹ کیا ہے نا… تب سے تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے, کیمپس کے چار سالوں تک تم بالکل ٹھیک تھے … اس کے بعد تمہیں کچھ ہوا ہے… اور ہوا ضرور ہے….مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟؟” وہ کہتی چلی گئی
“اچانک ہی بیٹھے بٹھاۓ تمہارا موڈ آف ہو جاتا ہے, کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی اور تمہارا ہر چیز سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے… زارون ہم دوست ہیں یار… پکے والے دوست… مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے… ؟؟؟ ” وہ پوچھ رہی تھی, زارون نے اس کی طرف دیکھا, وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
“ایک منٹ… ایک منٹ… زارون کہیں تمہیں… کسی سے پیار تو نہیں ہو گیا” رعنین کے کہتے ہی زارون نے یکدم بریک لگائی تھی, وہ بیچاری اڑتی ہوئی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر جا پڑی
“زارون… ” وہ متوحش نظروں سے ساکت بیٹھے زارون کو دیکھے جا رہی تھی
…………………………..
وہ اپنے آفس میں تھی جب اس کا جنرل منیجر فائلوں کا پلندہ اٹھاۓ اندر داخل ہوا
“میم یہ ساری فائلز سائن کرنی ہیں… ” وہ فائلیں اس کی میز پر رکھتے ہوئے بولا تھا
“فہد ان پر سائن کرتے کرتے صدیاں بیت جائیں گی… ساتھ ساتھ ہی کروا لیا کرو” انعمتا نے کہا
“آئیندہ ساتھ ساتھ ہی کرواؤں گا… بس یاد نہیں رہتا, کام ہی اتنے ہیں میم” وہ بولا
“اپنے لیے ایک اسسٹنٹ رکھ لو فہد… ” اس نے کہا
“جی ٹھیک ہے میم… ” وہ بولا تھا
“میم فارس انٹرپرائزرز کے ساتھ میٹنگ ہے آج… کب جانا ہے ؟؟؟” فہد نے پوچھا
“حیان کو بلایا ہے میں نے…. جیسے ہی وہ آتا ہے تو چلتے ہیں” وہ بولی
“ہاں فہد مجھے یاد آیا, حیان کے سارے ڈاکیومینٹس بھی تیار کرواؤ, تمام بورڈ ممبرز کی ایک میٹنگ بھی کرنی ہے…. میں چاہ رہی ہوں کہ اس کے چیئر پرسن بننے سے پہلے ہی ہر پراجیکٹ اس کے علم سے ہو کر گزرے… تاکہ اسے تھوڑا تجربہ حاصل ہو جاۓ” وہ کہتی چلی گئی
“میم ایک بات کہوں ؟؟؟”
“ہاں بولو…. “
“آپ کو نہیں لگتا حیان ابھی بہت چھوٹا ہے… صرف اکیس سال” فہد نے کہا
“میں بھی اکیس سال کی ہی تھی فہد جب اس کرسی پر بیٹھی تھی” وہ دھیما سا مسکرائی تھی
“آپ کا کیس تھوڑا مختلف تھا میم… آپ کے پاس اس کرسی پر بیٹھنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں تھی لیکن… حیان کے پاس ابھی اس کرسی پر نا بیٹھنے کے لئے چوائس ہے… آپ…آپ چاہیں تو ابھی مزید دس, بارہ سال اس بزنس ورلڈ پر راج کر سکتی ہیں, اس دوران حیان کو کافی تجربہ بھی حاصل ہو جاۓ گا” فہد کہتا چلا گیا
“فہد… یہ کرسی میری نہیں ہے… یہ امانت ہے اور امانت جتنی جلدی ہو سکے اسکے حقدار کے سپرد کر دینی چاہیے ” انعمتا نے کہا, تبھی حیان اندر داخل ہوا تھا
“آؤ آؤ… میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی” وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی
“انا… میں دو کلاسز چھوڑ کر آیا ہوں, کتنا ضروری ہے میرا جانا ؟؟؟” اس کا موڈ آف ہی ہوا پڑا تھا
“سو ملین کی ڈیل ہے حیان…” وہ اس کی طرف مڑی تھی, حیان چپ رہ گیا
کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں میٹنگ سے فارغ ہو گئے تھے, گاڑی میں بیٹھتے ہی حیان کا سیل بج اٹھا
سکرین پر چمکتا زاہا ہاشمی خود بخود ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا
اس کی انتہائی خشک اور روکھی پھیکی زندگی میں بس ایک وہی تو تازہ ہوا کا جھونکا تھی
“ہیلو… ” اس نے چور نظروں سے انعمتا کی طرف دیکھتے ہوئے سیل کان سے لگا کیا
“ہاں میں بس دس منٹ میں آیا… بس دس منٹ” اس نے جلدی سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی
“انا… مجھے جانا ہے پلیز… اٹس ارجنٹ” اس نے افراتفری میں گاڑی رکوائی تھی
“کہاں جانا ہے ؟؟؟” وہ دم بخود رہ گئی
“کیمپس… “
“وہاں کیا ہے اب ؟؟؟”
اب وہ اسے کیا بتاتا کہ وہاں تو میرا سب کچھ ہے
“میں اپنی گاڑی واپسی پر لے لوں گا… ” وہ نیچے اترتے ہوئے عجلت میں بولا تھا اور ساتھ ہی ایک آٹو والے کو ہاتھ دے دیا تھا
“اتنا ارجنٹ ہے کیا…؟؟” انعمتا حیران تھی
“شام کو ملتے ہیں انا… ” اس نے آٹو میں سے اسے ہاتھ لہرا دیا تھا
……………………………
اس کے فنانس مینیجر کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں, آئرہ کسی میٹنگ کے لئے نکلی ہوئی تھی, پچھلے ہفتے انہوں نے کئی ملین ڈالرز کے شییرز خریدے تھے جن کی قیمت پچھلے آدھے گھنٹے میں تیس فیصد گر گئی تھی
اب بھی وہ بھاگا ہوا اس کے آفس میں آیا تو آفس خالی تھا
جی ایم اور پرسنل سیکرٹری بھی اس کے آفس میں آ گئے تھے, کچھ ہی دیر بعد آئرہ اپنے آفس میں داخل ہوئی, غصہ اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا
“آخر ایسی کونسی قیامت آ گئی ہے ؟؟؟” وہ پھٹ پڑی تھی
“وہاں اتنی اہم ڈیلز سائن ہو رہی تھیں اور تم لوگوں نے مجھے وہاں ایک منٹ بھی رکنا دوبھر کر دیا” وہ بولی
“میم ہم پچھلے آدھے گھنٹے میں کئی لاکھ کا نقصان کھا چکے ہیں… ” فنانس مینیجر پیلا پڑتا جا رہا تھا
“شییرز کی قیمت گر کیسے گئی ؟؟؟” وہ دہاڑی
“میم ان کی قیمت گر ہی جانی تھی, میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ شییرز اپنی اصل قیمت سے آدھی میں بھی سیل نہیں ہوں گے” اس نے لیپ ٹاپ کھول لیا تھا, سکرین پر مختلف قسم کے گراف اور نمبرز نظر آنے لگے تھے
“میم اگر کوئی حل نہ نکالا گیا تو اگلے چوبیس گھنٹوں میں ہماری ہر ڈیل متاثر ہو گی” وہ بولا
“ان شییرز کو ابھی سیل کر دو… ” وہ بولی
“کوئی ایک سنگل کسٹمر بھی نہیں ہے میم… یہ شییرز اس لمحے بالکل ناکارہ اور فضول ہیں” وہ بولا
“میم ہم 50 فیصد نقصان میں جا رہے ہیں ” اس کی پرسنل سیکرٹری نے کہا تھا
“کوئی تو طریقہ ہو گا اس کا… ” وہ چیخ پڑی
“کیا سارے نکمے ہی بھر رکھے ہیں میں نے ؟؟؟” وہ تڑخ گئی تھی
“میم میں پوری کوشش کر چکا ہوں, میرے پاس ایک پلان ہے لیکن… میں فگرز میں ایکسپرٹ نہیں ہوں, اگر ہم میم زاہا کو بلا لیں تو… ” فنانس مینیجر نے بات ادھوری چھوڑ دی
“وہ کیا کر لے گی ؟؟؟” آئرہ بھڑک پڑی
“میم… وہ اکاؤنٹنگ میں گولڈ میڈلسٹ ہیں, ہر بار ہمیں اس قسم کی مصیبت سے وہی نکالتی ہیں” جی ایم بھی بولا تھا
“کسی کام کے نہیں ہو تم… ” اس نے غصے سے کہتے ہوئے زاہا کو کال ملائی تھی
……………………………..
وہ وہاں سے اٹھنے ہی لگی تھی جب اس نے حیان کو بھاگتے ہوئے آتے دیکھا, اس بیچارے کا اچھا خاصا سانس پھولا ہوا تھا
“ویسے تو ہر وقت کہتے رہتے ہو کہ تم میرے ڈپارٹمنٹ نہیں آتیں, اب میں پچھلے بیس منٹ سے تمہارے ڈپارٹمنٹ میں خوار ہوتی پھر رہی ہوں” اسے غصہ بھی آیا ہوتا تو لگتا نہیں تھا کہ وہ غصے میں ہے, اتنا دھیما بولتی تھی کہ سننے والا بس سنتا ہی رہ جاۓ
“یار مجھے کیا پتہ تھا کہ شہزادی زاہا تمیم ہاشمی آج میرے ڈپارٹمنٹ تشریف لائیں گی… خدا کی قسم میں فرش پر آنکھیں بچھا دیتا” حیان نے کہا, زاہا نے شکوہ کناں نظروں سے اس کی طرف دیکھا, وہ ڈپارٹمنٹ کی پچھلی جانب سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی, حیان اس سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ گیا
“کچھ کھاؤ گی ؟؟؟” وہ بڑی فرصت سے اس کا سنہری مائل چہرہ تکتے ہوۓ بولا تھا
“نہیں… مام نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے کہ میں بے تکا پھیلتی جا رہی ہوں” وہ بولی
“بے تکا مطلب ؟؟؟” وہ سمجھ نہ سکا
“حیان… میں واقعی موٹی ہوتی جا رہی ہوں ؟؟؟” زاہا کی آنکھوں سے پریشانی چھلک رہی تھی
“تو اور کیا… ؟؟ بڑی ہی عقابی نظر ہے تمہاری سٹیپ مام کی…دیکھو تو ذرا… پھول پھول کر کیسے کپا سا ہوتی جا رہی ہو… گول گپا سا لگنے لگی ہو” حیان نے اسقدر سنجیدہ سے لحجے میں کہا کہ زاہا کچھ دیر تو ٹرانس سے ہی نا نکل سکی, بس پریشان سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی…چند لمحوں بعد حیان کا انتہائی بلند قہقہہ پھوٹ نکلا تھا
“آج جا کر ذرا خود کو آئینے میں دیکھنا تم… کہ تم اگر موٹی ہو تو پتلا ہونا کسے کہتے ہیں لڑکی… ” وہ ہنسے جا رہا تھا, زاہا نے زور سے اسے اپنا بیگ دے مارا
دفعتاً اس کا سیل بجنے لگا
“چپ… مام کی کال ہے… ” اس نے حیان کو ٹہوکا مارا تھا
“جی مام… جی…. میں آتی ہوں, میں بس دس منٹ میں آ رہی ہوں” وہ عجلت میں کہتے ہوئے کھڑی ہو گئی تھی
“کہاں جا رہی ہو ؟؟”
“آفس جانا ہے…. ضروری کام ہے, کل ملتے ہیں حیان ” وہ بس اپنا بیگ اور فائل اٹھاۓ پارکنگ کی طرف دوڑی چلی گئی تھی
حیان بس دل مسوس کر رہ گیا
…………………………
وہ دونوں عین اس کے سامنے بیٹھے تھے, ان کی پروپوزل فائل یزدان کے سامنے کھلی ہوئی تھی
“اپنے پراجیکٹ کو تھوڑا بیان کریں مسٹر زارون حاطب… ” یزدان نے کہا, رعنین اس کے ساتھ والی کرسی پر خاموش بیٹھی تھی, زارون نے بڑے مفصل انداز سے اسے سب کچھ کلئیر کر دیا
“آپ کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے… ” یزدان نے کہا
“کیونکہ یہ کوئی چھوٹا موٹا فوڈ پوائنٹ نہیں ہے… ایک عدد ریسٹورنٹ ہے سر…” رعنین نے کہا
“what’s your good name please??? “
“رعنین حمدان خان…. ” وہ بولی, یزدان یکلخت ہی چونک گیا
“آپ حمدان سیف خان کی بیٹی ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی… “
“تو آپ یہاں کیا کرنے آئی ہیں ؟؟؟” یزدان مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“اپنے ریسٹورنٹ کے لئے لون اپروو کروانے… ” وہ بولی
“حمدان انٹرپرائزرز آپ کو فنانس کیوں نہیں کر رہی ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا, زارون کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ رعنین نے ہاتھ کھڑا کر دیا
آپ ہمیں فنانس کر رہے ہیں یا نہیں ؟؟؟” اسے تاؤ آ گیا
“رعنین پلیز یار… ” زارون نے اسے بیچ میں ٹوکا تھا
“ہاں تو اور کیا کہوں… ؟؟؟ میرا نہیں خیال تھا کہ ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کا آنر اتنا بیوقوف ہے کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ حمدان انٹرپرائزرز ایک سیلنگ کمپنی ہے… وہ پراڈکٹس بناتی ہے, انہیں سیل کرتی ہے اور نفع کماتی ہے, وہ ایک بے روزگار کو جاب تو دے سکتی ہے لیکن اسے قرضہ نہیں دے سکتی… اس کی چئیر پرسن چاہے تو آج اس جیسے دس ریسٹورنٹس کھڑے کر دے لیکن…. پھر آپ کا کیا فائدہ ؟؟؟” اسے اچھا خاصا غصہ آ گیا, یزدان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی
“آپ بالکل اپنے فادر پر گئی ہیں مس رعنین حمدان خان… ” اس نے یونہی مسکراتے ہوئے کہا تھا, رعنین بس اسے دیکھ کر رہ گئی
“سر دراصل ایک عدد ریسٹورنٹ کھڑا کر لینا ہم دونوں کے لئے ہی کوئی بڑی بات نہیں ہے… بڑی بات یہ ہے کہ اسے اپنے بل بوتے پر کھڑا کیا جاۓ” زارون نے کہا
“آپ کے فادر کیا کرتے ہیں مسٹر زارون ؟؟؟”
“وہ زندہ نہیں ہیں… ” زارون نے کہا
“اوہ… ایم سوری ” یزدان کو دکھ ہوا تھا
“ٹھیک ہے پیارے بچو… اگلے ہفتے تک اپنی ڈیمانڈ لسٹ جمع کروا دو… پھر دیکھتے ہیں” اس نے فائل سائن کرتے ہوئے کہا تھا
“اور میرے خیال سے کسی کو ایکسکیوز بھی کرنا چاہیے.. کیوں مس رعنین ؟؟”وہ بدستور مسکرا رہا تھا
“ایم سوری… ” رعنین نے زارون کی گھوریوں سے زچ ہو کر کہہ ہی دیا
“تھینک یو سر… ” وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے تھے
ان کے نکلتے ہی یزدان نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی
“یہاں سے چلے جاؤ یزدان… اتنی دور چلے جاؤ کہ دوبارہ مجھے کہیں بھولے سے بھی تمہاری شکل نظر نہ آۓ….جو لے جانا چاہو لے جاؤ, جو مانگنا چاہو مانگ لو… بس میری زندگی سے دور چلے جاؤ” اس کی سماعتوں سے حمدان کی افسردہ سی آواز ٹکرائی تھی
“بھائی… کیا اتنا ہی مشکل ہے مجھے پہلی بار معاف کرنا ؟؟؟” یہ اس کی اپنی آواز تھی
“میں تمہیں سو بار معاف کر دیتا…. اگر تم صرف میرے مجرم ہوتے… ” حمدان نے کہا تھا
یزدان کی آنکھوں کے گوشے نم ہوتے چلے گئے تھے
…………………………
جاری ہے
آپ کی آسانی کے لئے تاکہ فیملیز یاد رکھنی آسان ہو جائیں
انعمتا حمدان خان…. حمدان سیف خان کی دوسری بیوی
حمدان سیف خان کے تین بچے
رعنین سب سے بڑی, حیان اس سے چھوٹا, دانین سب سے چھوٹی
سنان انعمتا کا سگا بیٹا
آئرہ کیف خان… بشر تمیم ہاشمی کی بیوہ
زاہا تمیم ہاشمی…. بشر کی اکلوتی بیٹی
زارون حاطب…. آئرہ کا اکلوتا بیٹا
حنین یامن میر…. دو عدد بچوں کا چاچو
معیز ضامن میر…. سنایا ضامن میر
عنایہ اس کی سگی بیٹی ہے
یزدان, حنین کا دوست ہے…. بس بات ختم
پچھلے والے سے تو آسان ہی ہے… ؟؟؟؟
