Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 17)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 17)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
پندرہ سال پہلے
پھر ایک نیا ہی سلسلہ شروع ہو گیا… اس رات وہ آفس سے گھر آیا تو انعمتا انگلی پر سنی پلاسٹ لگاۓ پھر رہی تھی
“یہ کیا ہوا ؟؟؟”
“میں دانی کے لئے سیب کاٹ رہی تھی تو چھری سے کٹ لگ گیا” وہ لاپرواہی سے بولی, رات کو حمدان نے اس کی انگلی پر سے سنی پلاسٹ اتارا تو وہ سسک گئی, گلابی انگلی پر وہ کٹ بھی گلابی ہو گیا تھا, اس نے بہت محبت دلسے اس کی انگلی اپنے لبوں سے جوڑ لی تھی
کچھ دنوں بعد پھر ایسا ہی ہوا… گھر آیا تو اس کے ماتھے پر نیل پڑا دیکھا…
“یہ کیا ہوا ؟؟؟”
“میں سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی تھی تو ایک دم ریلنگ سے منہ ٹکرا گیا” وہ بولی, کتنے ہی دن وہ نیل اس کے ماتھے پر چمکتا رہا
اور اس دن تو حد ہو گئی, وہ اپنا پورا ہاتھ جلاۓ بیٹھی تھی, پورے ہاتھ کی پشت پر آبلے ہی آبلے ابھر آۓ تھے
“میں چپس فرائی کر رہی تھی تو… گرم گرم گھی چھلک گیا” حمدان کو جیسے یقین نا آیا, اس رات وہ الٹا اس پر برس پڑا
“اس ایک مہینے میں یہ تمہارا تیسرا ایکسیڈنٹ ہے… دھیان کدھر ہوتا ہے تمہارا ؟؟؟” وہ بولا, انعمتا بس آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی
کئی دنوں تک وہ تکلیف میں ہی رہی
“انعمتا… دھیان رکھا کرو… ” وہ اس کی تکلیف میں دکھی تھا
وہ بھی اتوار کی ایک صبح تھی… انعمتا معمول کے مطابق اٹھ کر باہر نکل گئی, وہ تقریباً دس بجے سو کر اٹھا, بچوں کی آوازیں اسے کمرے تک سنائی دے رہی تھیں
وہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھا اور موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے اس کی نظر کھڑکی سے باہر جا پڑی, آئری لان میں بیٹھی تھی جبکہ بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ بھاگ کر کھیل رہے تھے
دفعتاً اس کی نظر انعمتا پر پڑی, وہ دانین کے پیچھے بھاگی تھی, جیسے ہی وہ آئرہ کے قریب پہنچی, اس نے اپنی ٹانگ اس کی ٹانگوں میں پھنسا دی
انعمتا منہ کے بل گری تھی… لمحوں میں اگلے والے دانتوں سے خون نکلنے لگا
“آئرہ… ” وہ وہیں سے دہاڑا تھا اور شاید زندگی میں پہلی بار دہاڑا تھا
آئرہ کانپ سی گئی… اسی وقت اس کی پیشی ہو گئی تھی, انعمتا کا اوپر والا ہونٹ سوج کر موٹا سا ہو گیا تھا, اور ہونٹ کے نیچے نیل بھی نظر آنے لگا تھا
“کیوں گرایا اسے ؟؟؟” وہ سخت غصے میں تھا
“میں نے جان بوجھ کر… ” حمدان نے اس کی بات کاٹ دی
“تم نے جان بوجھ کر ہی کیا ہے” وہ بولا
“پچھلے ایک مہینے سے تم یہ ہی کر رہی ہو… کبھی اسے جلا دیتی ہو, کبھی دھکا دے دیتی ہو… اب کرو جو کرنا ہے… میرے سامنے ہاتھ لگا کر دکھاؤ اسے” وہ بولا
“حمدان کوئی بات نہیں…. ٹھیک ہو جاۓ گا” انعمتا کو اس کی آواز سے خوف آ رہا تھا, آئرہ بے عزتی سے سرخ ہوئی جا رہی تھی
“معافی مانگو اس سے… ” حمدان کی بات پر اس نے سر اٹھایا
“میں نے کہا… معافی مانگو انعمتا سے” وہ بولا
“آئرہ… سنا نہیں حمدان نے کیا کہا ؟؟” کیف خان نے اسے سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا
“سوری… ” وہ بمشکل کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
ساری رات اسے نیند نا آئی, نظروں کے سامنے بار بار اپنی بے عزتی گھوم رہی تھی, بار بار انعمتا کا چہرہ یاد آ رہا تھا, بار بار حمدان کی پھٹکار یاد آ رہی تھی
…………………….
اسے آفس جاتے بیس دن ہو گئے تھے, وہ حمدان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتی تھی اور سارا دن بزنس کے رموز و اوقاف سمجھنے کی کوشش کرتی تھی
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب یزدان اندر آیا
“سر بلایا آپ نے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یزدان… حنین کی چھٹی تو ختم ہو گئی ہے پھر آیا کیوں نہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سر حنین نے ریزائن کر دیا ہے” وہ بولا
“کیوں… ؟؟؟” حمدان دم بخود رہ گیا, انعمتا بھی خاموشی سے سر جھکاۓ بیٹھی تھی
“پتہ نہیں سر… اس کا ریزائن لیٹر میں نے آج کی فائل میں لگا دیا تھا… وہ رہا… ” یزدان نے اس کے سامنے پڑی فائل کی طرف اشارہ کیا تھا
“کہیں اور چلا گیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“شاید… “
“یزدان اسے کال کرو… اسے کہو ایک بار آ کر مجھ سے ملے” حمدان نے کہا, وہ حنین جیسے قابل ایمپلائی کو کھونا نہیں چاہتا تھا
“سر میں نے بہت بار اسے کال کی ہے… وہ سنتا ہی نہیں ہے” یزدان نے کہا, حمدان نے خود اس کا نمبر ملایا لیکن جواب ندارد…
ناچار اس نے اپنے پرسنل نمبر سے اسے کال کی تھی جو اس نے اٹھا ہی لی
“حنین یار ریزائن کیوں کیا ہے ؟؟؟” اس نے سلام دعا کے بعد پوچھا
“مجھے ایک دوسری جگہ پر جاب مل گئی ہے” وہ بولا
“حنین… پلیز ایک بار مجھ سے آ کر ملو, پلیز… آج ہی آ جاؤ…” حمدان نے اسے انتہائی مجبور کر دیا, ناچار وہ بارہ بجے کے قریب اس کے دفتر چلا آیا, انعمتا دل ہی دل میں دعائیں کرتی رہی کہ کاش وہ اس کے جانے کے بعد آۓ لیکن… وہ پہلے ہی آ گیا
“سر… حنین آ گیا ہے” یزدان نے اسے اطلاع دی تھی
“بھیجو اسے… ” وہ جلدی سے بولا, انعمتا کی جان حلق میں آ گئی, وہ کچھ دیر بعد اندر داخل ہوا تھا, وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ سکی… اور حنین نے سب سے پہلے اسے ہی دیکھا تھا
“آؤ حنین… ” حمدان نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“تھینک یو… ” وہ کھڑا رہا
“حنین یہاں کیا مسئلہ یے یار ؟؟” اس نے پوچھا
“کوئی مسئلہ نہیں ہے… “
“سیلیری کم لگتی ہے ؟؟؟”
“نہیں… “
“ٹائمنگ زیادہ ہے ؟؟؟”
“نہیں…. “
“گاڑی چاہئے ؟؟؟”
“نہیں… “
الغرض حمدان کی ہر بات پر اس کا جواب نہیں تھا
“پھر ریزائن کیوں کیا ؟؟؟”
“بس ویسے ہی… ” وہ بولا, بس وقفے وقفے سے انعمتا کا جھکا ہوا سر دیکھ رہا تھا
“حنین… دیکھو میری بات سنو, جیسے تم کہو ویسے کر لیتے ہیں, جتنی سیلیری تم چاہو… میں گاڑی بھی نکلوا دیتا ہوں لیکن… ریزائن نا کرو, You are best hunain… اور میں نہیں چاہتا کہ تم یہ کمپنی چھوڑ کر جاؤ” وہ کہتا چلا گیا
“سر پلیز… مجھے کچھ نہیں چاہئے… بس اور نہیں کام کرنا یہاں” وہ بولا
“حنین… کوئی وجہ تو ہو… ؟؟؟” حمدان کے کہتے ہی اس کا ظرف چھلک گیا تھا, پچھلے بیس دنوں کا غبار ایک دم نکلتا چلا گیا
“وجہ یہ ہے جو آپ کے ساتھ والی کرسی پر خاموش بیٹھی ہے” وہ چیخ پڑا تھا, حمدان ششدر رہ گیا, یزدان بھاگ کر اندر آیا تھا
“آپ اپنی دولت سے اسے خرید سکتے ہوں گے… مجھے نہیں ” وہ بولا, انعمتا کے آنسو بس گرنے کو بیتاب تھے
“نہیں برداشت ہو گی مجھ سے یہ اس آفس میں بیٹھی ہوئی… ہر بار جب میں آپ کے بلانے پر آؤں گا تو پہلی نظر اس پر پڑے گی… یہ جس نے مجھے ٹھکرا کر آپ کو چن لیا, یہ جس نے محبت میں بے وفائی کی ہے… یہ جس نے مجھے باور کروا دیا کہ میں اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا… ” وہ کہتا چلا گیا, انعمتا بے آواز رونے لگی تھی, حمدان حق دق کبھی اسے دیکھتا تو کبھی انعمتا کو
“حنین بس کر یار… ” یزدان نے اسے پکڑا جسے اس نے ایک جھٹکے سے جھٹک دیا
“چھوڑ دے یار… ” وہ زور سے بولا اور حمدان کی میز کے قریب آ گیا
“میری ایک بات یاد رکھنا حمدان سیف خان… آپ نے اپنی دولت سے اس کا دل تو خرید لیا ہے لیکن اس کے دل میں سے مجھے نہیں نکال سکیں گے” وہ آنسو بھری آنکھوں سے کہتا ہو وہاں سے ہمیشہ کے لئے نکل گیا تھا
انعمتابس آنسو گراۓ جا رہی تھی, حمدان نے ایک لمبی سانس بھر کر اسے دیکھا, پھر اٹھا اور پانی کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا
“میں نے شادی سے پہلے تم سے پوچھا تھا نا ؟؟؟” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
……………………………
رات تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب وہ زارون کو سلا کر نیچے آئی, چاۓ پینے کو دل ہو رہا تھا, ایک کپ چاۓ بنائی اور ساتھ دو پینا ڈول کھا لیں, پرسوں سے طبیعت مضمحل سی تھی
خالی کپ دھو کر وہ واپس اوپر آ گئی, جیسے ہی وہ یزدان کے کمرے کے آگے سے گزری, اس نے یکدم اسے بازو سے جکڑ کر اندر کھینچا اور دروازہ بند کرتے ہوئے اسے دروازے کے بالکل ساتھ لگا دیا
“کیا بے ہودگی ہے یہ ؟؟؟” وہ اسے کاٹ کھانے کو دوڑی تھی
“آئرہ… یار اب تو حمدان بھائی کو پانے کی ہر امید ختم ہو گئی ہے نا… تو پھر ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتیں” اس نے پوچھا
“یزدان… میں آج آخری بار کہہ رہی ہوں…. مجھے تم سے شادی نہیں کرنی” وہ بولی اور واپس مڑنے لگی, یزدان نے اسے دوبارہ اپنی طرف موڑا تھا
“آخر کمی کیا ہے مجھ میں ؟؟؟” وہ تڑپ کر بولا
“کوئی کمی نہیں ہے… بس میرا دل نہیں کرتا تم سے شادی کرنے کو” وہ بولی
“آئرہ… یار میں بھی تو انسان ہوں, میرا بھی تو دل ہے جو تم سے محبت کرتا ہے, پلیز آئرہ… میں بہت خوش رکھوں گا تمہیں” وہ کہتا چلا گیا
“سوری… ” آئرہ نے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروایا اور ایک بار پھر دروازے کی طرف مڑی, اس بار یزدان نے اس کی کلائی جکڑ لی تھی, اور زور سے اپنی طرف جھٹکا دیا تھا, وہ اس کے سینے سے آن ٹکرائی, لمحوں میں وہ یزدان کی مضبوط گرفت میں تھی
“چھوڑو مجھے… ” وہ تڑپی
“آئرہ… آئی لو یو” وہ بولا
“مجھے کوئی سروکار نہیں ہے تمہارے اس سو کالڈ پیار سے… چھوڑو مجھے” وہ زور سے کسمسائی تھی, یزدان نے حلقہ اور مضبوط کر لیا, آئرہ کی مزاحمت بڑھتی جا رہی تھی, دفعتاً اس کے ایک زور دار جھٹکے سے یزدان کی گرفت ڈھیلی ہو گئی, لیکن وہ جیسے ہی اس کے حلقے سے نکلنے لگی, یزدان نے اسے زور سے بستر پر دھکا دیا اور خود اس کے اوپر جھک گیا, آئرہ کے دونوں بازو اس نے بستر کے ساتھ جکڑ دییے تھے, وہ اب بنا دوپٹے کے اس کی دسترس میں تھی
“آئرہ… مجھ سے شادی کر لو پلیز… ” وہ منت کر رہا تھا
“نہیں کرنی تم سے شادی… ” وہ زور سے بولی
“میں پیار کرتا ہوں تم سے…. “
“بھاڑ میں گیا تمہارا پیار… ” وہ بولی
“اقرار کرو گی تو جانے دوں گا” یزدان نے اسے پورے طرح بے بس کر دیا تھا, نہ جانے کتنی ہی دیر وہ اسے اپنی دسترس میں قید کر کے اس پر جھکا رہا لیکن وہ مان کے نا دی
“زبردستی کرنی ہے تو بے شک کر لو… شادی نہیں کروں گی تم سے ” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر بولی تھی
…………………………
وہ بہت لیٹ کمرے میں آیا تھا, انعمتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ جاگ ہی رہی تھی, وہ چپ چاپ اس کے پہلو میں آ کر لیٹ گیا
“سونا نہیں ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا, انعمتا نے دھیرے سے اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموشی سے اس کے ساتھ لیٹ گئی, حمدان نے ہمیشہ کی طرح اس کا سر اپنے بازو پر رکھ لیا تھا…وہ خاموش تھا… بالکل خاموش
اس سے کوئی بات بھی نہیں کر رہا تھا, بس آنکھیں بند کر کے کمبل تان گیا تھا
“حمدان…. ” اس نے آنسؤں بھری آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں, انعمتا کا گیلا گیلا چہرہ عین اس کی نظروں کے سامنے تھا
“خدا کی قسم می ساری عمر آپ سے وفا نبھاؤں گی” اس نے اپنا ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا تھا
“اس نے کہا کہ میں نے تمہیں اپنی دولت سے خریدا ہے انعمتا… ” حمدان نے کہا
“حمدان آپ کہیں تو میں آپ کو اپنا دل چیر کر دکھا دیتی ہوں… اس میں صرف آپ ہیں… ہمیشہ آپ ہی ہوں گے” وہ دھیرے سے اس کے قریب ہوئی تھی, دفعتاً حمدان کو اپنی ٹانگوں پر اس کی ٹانگوں کا بوجھ محسوس ہوا
“وہ یقیناً میرے ماضی میں میری محبت رہا ہے لیکن… مجھے میرے اللہ کی قسم حمدان… میرے حال میں صرف آپ ہیں” اس نے دھیرے سے اپنے کپکپاتے ہوۓ لب حمدان کے لبوں سے جوڑ دیئے
“میں نے نکال دیا ہے اسے اپنے دل سے… چاہے تو آزما لیں, پرکھ لیں… ” انعمتا نے اس کا ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھا تھا
اور حمدان… وہ تو بس اس پھول کی خوشبو سے ہی اپنے حواس کھوتا جا رہا تھا, انعمتا کے دل پر دھرا اس کا ہاتھ جیسے انگلی بن گیا تھا
“میں نے اپنی مرضی سے آپ کو چنا ہے… میں نے اپنی مرضی سے اسے چھوڑا ہے…” وہ کہتی چلی گئی تھی
اور اس رات واقعی حمدان نے اس کے دل میں جھانک لیا…
وہاں حنین یامن میر کی بوسیدہ سی محبت کو دیمک لگ چکی تھی
…………………………
اس دن بشر اس سے ملنے آیا تھا… واپس جانے لگا تو لان میں بیٹھی آئرہ کی طرف چلا آیا, آئرہ کچھ دیر اس سے بات کرتی رہی پھر اندر چلی گئی
اگلے دن وہ حمدان کے آفس چلا آیا
“حمدان… اگر تجھے کوئی اعتراض نا ہو تو میں آئرہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں” اس نے اپنا مدعا عرض کیا تھا, حمدان چپ رہ گیا
“مجھے لگا تھا کہ مائرہ بھابھی کے جانے کے بعد تو آئرہ سے شادی کر لے گا لیکن…. اس دن تو نے اپنے سارے خدشات میرے سامنے رکھ دیئے, زاہا بڑی ہو رہی ہے حمدان… اسے چاہے ایک ماں کی نا سہی لیکن ایک دوست کی ضرورت ہے, میں اس کی ساری ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا… ” وہ کہتا چلا گیا
“بشر…. یار ایک بار اور سوچ لے… اس کی عادات و خصائل سے تو اچھی طرح واقف ہے… یہ نا ہو کہ وہ زاہا کا جینا مشکل کر دے” حمدان تو بچپن سے جانتا تھا اسے
“میں ہینڈل کر لوں گا اسے… تو ایک بار گھر بات کر لے” بشر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تھا
………………………
اس کا فرسٹ سمیسٹر کا رزلٹ حمدان کے سامنے تھا
میتھ میں فیل, اکاؤنٹنگ میں فیل, اکنامکس میں ڈی گریڈ, انگلش اور کمپیوٹر میں بی گریڈ
وہ بس تاسف سے دیکھتا رہ گیا, آفس میں بھی اس کی توجہ نا ہونے کے برابر تھی
وہ بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گیا, اس رات انعمتا کی ہمت ہی نا ہوئی کہ اسے بلاۓ… اگلے دن وہ اسے آفس بھی نا لیکر گیا… اس کے ڈائلسز سیشن شروع ہو چکے تھے, اس نے ہسپتال جانا تھا, انعمتا کو لگا شاید وہ اس سے ناراض ہو گیا ہے
کچھ سوچ کر اس نے یزدان سے کہہ کر انعمتا کو ہسپتال ہی بلوا لیا… وہ تو اسے یوں بے سدھ تاروں اور نالیوں میں جکڑا دیکھ کر ہی ششدر رہ گئی تھی, حمدان انتہائی تکلیف میں تھا, وہ بس اس کے سرہانے کھڑی آنسو بہاۓ جا رہی تھی
ڈائلسز کے بعد وہ گھر کی بجاۓ دفتر ہی چلا آیا, انعمتا بھی اس کے ساتھ ہی تھی, یزدان اسے آفس کے لگژری سے صوفے پر لٹا کر باہر نکل گیا تھا
“دروازہ لاک کرو… ” وہ اس سرخ سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولا, انعمتا نے خاموشی سے دروازہ بند کر دیا
“یہاں آؤ… ” حمدان نے اپنے برابر میں صوفے کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ خاموشی سے اس کے پاس آ بیٹھی, حمدان نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھو کر اپنے دل پر رکھ لیا تھا
“انعمتا میں پینتیس سال کا ہو گیا ہوں… آج میرا پہلا ڈائلسز تھا… میں نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ رکے گا یا یونہی چلتا رہے گا… میں نے تمہارے ابو سے کہا تھا کہ میں بھی تم سے شادی اپنی غرض کی وجہ سے ہی کر رہا ہوں… تم نے دیکھا نا کہ میرے رشتے دار کس قسم کے ہیں… ؟؟؟ اگر… آج میں آنکھ بند کر لوں… تو یہ میرے بچوں کو نوچ کر کھا جائیں گے” وہ کہتا چلا گیا, انعمتا پھر سے رونے لگی تھی
“میں نے اپنے بچوں کے لیے تمہیں چنا ہے انعمتا… اور مجھے یقین ہے کہ میرا چنا بہترین ہو گا… وہ گھر تمہارا ہے… وہ بچے بھی تمہارے ہیں… یہ آفس,یہ کرسی, یہ کمپنی… یہ سب کچھ تمہارا ہے… میرے بعد یہ سب کچھ تمہیں ہی دیکھنا ہے” وہ بولا
“حمدان پلیز… ” اس کا دل ڈوب رہا تھا
“تم میری جان ہو انعمتا… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے, میری جتنی بھی سانسیں باقی ہیں ان میں تم سے ہی محبت کروں گا… میں تمہیں بہت مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں… بہت باہمت… بہت اونچا دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں…” وہ کہتا چلا گیا
“حمدان… میں سب کچھ کروں گی… میں سب کچھ سیکھ لوں گی, میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں آئندہ دل لگا کر پڑھوں گی اور سارے پیپرز پاس کروں گی, آپ کی ساری باتیں دھیان سے سنوں گی لیکن پلیز… حمدان مجھ سے وعدہ کریں… آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے… آپ مجھ چھوڑ کر نہیں جائیں گے پلیز” وہ روتے ہوئے اس کے سینے پر گر سی گئی تھی
حمدان کی انگلیاں اس کے بالوں میں سرسرانے لگیں
“مجھے ہمیشہ آپ کے ساتھ, آپ کے برابر والی کرسی پر بیٹھنا ہے حمدان… مجھے کبھی… کبھی آپ کی کرسی پر تنہا ہو کر نہیں بیٹھنا… پلیز ” وہ بس روۓ جا رہی تھی
………………………….
حنین نے کسی اور کمپنی میں جاب کر لی تھی, سبتین کی موت کے بعد اس کی انشورنس کمپنی کی طرف سے مایا کو ایک بڑی رقم ملی تھی, اس کی عدت پوری ہو چکی تھی
ایسی صورتحال میں بھلا کیا ہوتا ہے ؟؟؟ جب بڑا بھائی فوت ہو جاۓ اور اس کی بیوہ محض بائیس سال کی ہو, جس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہوں, اور پورا خاندان جانتا ہو کہ وہ لڑکی کتنی نرم دل اور مخلص ہے
اور حنین کیا نہیں جانتا تھا کہ اس نے سبتین کے ساتھ چھ سال کتنی اذیت میں گزارے تھے, اس کی عدت ختم ہوتے ہی زینب نے اسے مایا سے نکاح کرنے کا حکم دے دیا تھا
اور چارہ بھی کیا تھا… انکار تو وہ تب کرتا جب پشت پر محبت بانہیں پھیلاۓ کھڑی ہوتی… پیچھے تو کوئی بھی نہیں تھا, محبت تو منہ کے بل گرا گئی تھی
اس نے چپ چاپ مایا سے نکاح کر لیا تھا
………………………………
وہ بھی عام راتوں جیسی ہی ایک رات تھی, حمدان کسی میٹنگ میں گیا ہوا تھا سو یزدان اسے یونیورسٹی سے گھر لیکر آیا تھا, رات کا کھانا اس نے بچوں کے ساتھ ہی کھایا, دس بجے کے قریب اس نے تینوں بچے سلاۓ اور خود نیچے آ گئی
“حمدان کب تک آئیں گے ؟؟؟” اس نے حمدان کو کال کی تھی
“ایک گھنٹے تک…. سونا نہیں ہے” وہ مسکراتے ہوئے کال کاٹ گیا, وہ کچن میں آ گئی اور فریج سے پانی کی بوتل نکال کر اپنے کمرے میں آ گئی, چار, پانچ گھونٹ پی کر اس نے بوتل ایک طرف رکھ دی, پھر ٹی وی آن کر لیا, ذرا سی دیر میں اسے غنودگی ہونے لگی, پپوٹے بھاری ہونے لگے, وہ بس نیند میں اترنے کو تھی جب آئرہ نے اس کے کمرے میں جھانکا
“تمہیں حمدان بلا رہا ہے…. ” وہ بولی
“کہاں…. ؟؟؟” وہ بھاری ہوتے سر کے ساتھ مشکل سے کھڑی ہوئی تھی
“یزدان کے کمرے میں.. ” وہ کہہ کر نکل گئی, انعمتا بمشکل گرتی پڑتی باہر نکلی, سب کچھ نظروں کے سامنے گول گول گھومنے لگا تھا, وہ بمشکل آنکھیں پھاڑے یزدان کے کمرے میں گھس گئی
“حمدان… ” اندر کوئی بھی نہیں تھا
“کہاں گئے… ؟؟؟” اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چکراتا ہوا سر سنبھالا تھا, تبھی یزدان جلدی سے اپنے کمرے میں داخل ہوا, اس کے ہاتھ میں بھی پانی کی بوتل پکڑی ہوئی تھی
“انعمتا آپ یہاں… ؟؟؟” اسے کچھ تو غلط احساس ہوا تھا
“حنین…. ” انعمتا کے حواس پوری طرح سلب ہو چکے تھے
“نہیں میں تو… ” دفعتاً یزدان کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا, اس نے جلدی سے پانی کی بوتل کھول کر سونگھی اور ٹھٹھک گیا, کچھ تو تھا جو وہ پی گیا تھا اور وہ جو کچھ تھا… شاید وہ اس کے عین سامنے کھڑی انعمتا بھی پی چکی تھی
“حنین… ایم سوری… ایم سوری” وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کے قریب آئی تھی
“انعمتا سنبھالیں خود…. آپ نے کیا پیا ہے ابھی… ؟؟؟” یزدان نے بمشکل اس کا لڑکھڑاتا ہوا وجود سنبھالا تھا, سر اس کا بھی بھاری ہونے لگا تھا
“حنین… میں کیا کرتی… مجھے لگا یہ ہی ٹھیک ہے… ایسے ہی ٹھیک ہے…”انعمتا کی دونوں بانہیں اس کے گلے کا ہار بن گئیں, یزدان بمشکل خود پر قابو رکھے ہوئے تھا, مسلسل اس کے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی, وہ خود ہوش کھوتا جا رہا تھا
“انعمتا بات سنیں… ” وہ ٹراؤزر کے اوپر فقط بنیان پہنے ہوئے تھا
“میں تم سے… پیار کرتی تھی…. لیکن… حنین ابو…. اور امی… ” وہ اپنا تمام تر وزن یزدان پر ڈالے جا رہی تھی, وہ پیچھے کو کھسکتا ہوا صوفے کے بالکل قریب پہنچ گیا
“انعمتا…. ” اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا, انعمتا نے اس کے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی
“چپ کرو حنین… ” اس نے زور سے یزدان کے سینے پر سر رکھا تھا, وہ صوفے پر گرا اور انعمتا اس کے اوپر گر گئی
“آئرہ… پلیز ” حواس یزدان کے بھی سلب ہو رہے تھے, لمحوں میں وہ انعمتا کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے اس پر جھک آیا تھا
“حنین… تم بہت یاد آتے ہو…. ” وہ مکمل طور پر ہوش کھو چکی تھی, اس نے زور سے اپنے لبوں کو یزدان کے لبوں سے جوڑنا چاہا لیکن…. یزدان مرد تھا…. سو اپنی قوت ارادی سے ابھی تک اس نشے کے آگے ڈٹا ہوا تھا
“انعمتا… میں حنین نہیں ہوں” بڑی مشکلوں سے اس نے انعمتا کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور واش روم کی طرف لے آیا, کمرے کا دروازہ اسے بند کرنا یاد نہیں تھا, اسے شاور کے عین نیچے لا کر اس نے شاور آن کر دیا تھا
لمحوں میں وہ دونوں ٹھنڈے پانی سے شرابور ہو گئے تھے
انعمتا کو ایک دم ہوش آیا
“حمدان…. ” واش کے کھلے دروازے میں حمدان ششدر سا کھڑا تھا, عین اس کے پیچھے آئرہ کا چہرہ نظر آیا تھا
“حمدان میں… ” وہ یکلخت ہی چونکی, وہ دونوں یوں کھڑے تھے کہ انعمتا کا بھیگا ہوا وجود پوری طرح یزدان کے مضبوط بازوؤں کے حصار میں تھا, یوں کہ اس کی مرمریں بانہیں یزدان کی گردن کے گرد تھیں, یوں کہ وہ بس ایک بنیان اور ٹراؤزر میں ملبوس تھا, یوں کہ انعمتا بنا دوپٹےکے کھڑی تھی, یوں کے یزدان کے لب س کے چہرے کو چھو رہے تھے
“حمدان… ” وہ ایک دم اس کی جانب بڑھی, پانی سے شرابور بھیگے لباس میں وہ پوری طرح نمایاں ہو رہی تھی
“میں نے کچھ نہیں کیا…. ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی , حمدان نے اپنا کوٹ اتارا اور دھیرے سے اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا, پھر شکوہ کناں نظروں سے یزدان کو دیکھا
“ایسا کچھ نہیں ہے بھائی… ” یزدان نے شاور بند کرتے ہوئے آئرہ کی طرف دیکھا تھا
وہ اپنا کھیل کھیل چکی تھی
………………………..
“حمدان خدا کی قسم مجھے نہیں پتہ میں یزدان کے کمرے تک کیسے پہنچ گئی, مجھے بس اتنا یاد ہے کہ میں بچوں کو سلا کر نیچے آئی تھی… اور پانی کی بوتل لیکر دوبارہ اوپر چلی گئی, پھر میں نے پانی پیا… اور بس پھر شاید سو گئی تھی… یا پھر… پتہ نہیں حمدان اس کے بعد کیا ہوا… مجھے نہیں پتہ میں یزدان کے کمرے تک کیسے پہنچی… ؟؟؟” وہ چپ چاپ سا ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا ہوا تھا, انعمتا اس کے گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھے نیچے فرش پر بیٹھی تھی, مسلسل اپنی صفائی دے رہی تھی, رو رہی تھی, حمدان کا کوٹ کندھوں سے لپیٹ کر انہی گیلے کپڑوں میں بیٹھی تھی
فریحہ ششدر سی اسے دیکھ رہی تھیں, حمدان کی چچی خوب ہی بھڑک رہی تھیں…ان کی دونوں بہوئیں بھی محو تماشا تھیں, آئرہ بس طنزیہ سی نظروں سے حمدان کو دیکھے جا رہی تھی, یزدان ایک طرف دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, بنیان پر بس ایک شرٹ پہن لی تھی
“بھائی… پانی والی بوتل میں کچھ تھا…. ” یزدان پہلی بار بولا تھا
“تیرے چچا آج شام ہی نیا کریٹ لیکر آۓ تھے…اور میں نے خود فریج میں لگائی تھیں ساری بوتلیں… بکواس کرتا ہے” چچی بھڑک پڑیں
“یہ رہی وہ بوتل جو انعمتا کے کمرے میں تھی اور… یہ رہی وہ جس سے اس دل پھینک عاشق نے پانی پیا تھا” آئرہ نے دونوں بوتلیں حمدان کے سامنے رکھ دیں, وہ بالکل صاف ستھری تھیں, حمدان نے خود دونوں سے پانی پیا…
“بھائی میرا یقین کریں… میں جیسے ہی پانی کی بوتل لیکر اپنے کمرے میں گیا تو انعمتا پہلے سے اندر تھی.. اور پوری طرح حواس سے بیگانہ… اسے یہ بھی نہیں پتہ چل رہا تھا کہ میں کون ہوں ؟؟؟ میں صرف اسلیے انہیں واش روم لے گیا کہ ان پر پانی ڈال سکوں, میرا اپنا سر چکرانے لگا تھا… ” یزدان کہتا چلا گیا
“یعنی یہ خود گئی تھی یزدان کے کمرے میں…. ” آئرہ کی امی دہاڑیں
“حمدان خدا کی قسم میں خود نہیں گئی… میں تو اپنے کمرے میں تھی حمدان پلیز… میرا یقین کریں” وہ حمدان کے سامنے بیٹھی بلک رہی تھی
“انعمتا جاؤ اوپر… ” حمدان نے کہا
“نہیں حمدان… یہ کہیں نہیں جاۓ گی, اس کے آگے ہاتھ جڑواۓ تھے نا تم نے میرے تو پہلے اس کی پاکدامنی ثابت ہو گی… اور اگر نہیں ہو سکی تو یہ سیدھی اپنے باپ کے گھر جاۓ گی” آئرہ اس سارے معاملے میں پہلی بار بولی تھی
“میں ہر قسم کھانے کے لیے تیار ہوں, جو چاہے قسم اٹھو لیں… میں نے کچھ نہیں کیا” انعمتا روتے ہوئے بولی
“انعمتا….. جاؤ اوپر… ” وہ پھر بولا
“یہ کہیں نہیں جاۓ گی… اس کی خاطر مجھے ٹھکرایا تھا تم نے… پہلے یہ ثابت ہو گا کہ کیا واقعی یہ مجھ سے برتر تھی حمدان… ؟؟؟” وہ پھر بولی
“انعمتا… ” اس بار حمدان زور سے بولا تھا
“حمدان.. ” آئرہ اس سے بھی زیادہ زور سے دہاڑی
“یہ کہیں نہیں جاۓ گی… تم نے سارے خاندان سے لڑ کے اس سے شادی کی, ہر بندے کو اس کے آگے جھکایا, مجھے کہا کہ اس سے معافی مانگو… اور اس نے کیا کیا…. یہ ابھی اسی وقت اپنی بے گناہی ثابت کرے گی” آئرہ نے کہا, حمدان نے بے بسی سے انعمتا کی طرف دیکھا
“اس سے کسی بھی بے گناہی کا ثبوت لینا میرا کام ہے…. تمہارا نہیں” حمدان نے کہا
“میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں…” انعمتا کھڑی ہو گئی
“قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ… کہ تم نے کچھ نہیں کیا… تمہیں کچھ نہیں پتہ” آئرہ نے کہا
“میں رکھنے کو تیار ہوں” وہ بولی, یزدان خاموش کھڑا تھا, آئرہ کی امی فوراً قرآن پاک لے آئیں, انعمتا نے ایک لمحہ ضائع کیے بنا اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی تھی
“میں قسم کھاتی ہوں…. مجھے کچھ نہیں پتہ…مجھے نہیں پتہ کہ میں یزدان کے کمرے تک کیسے پہنچ گئی… ؟؟؟” وہ بولی, آئرہ نے وہی قرآن یزدان کے آگے کیا تھا
“کھاؤ قسم اگر سچے ہو تو…. ؟؟؟” آئرہ نے کہا, یزدان نے ایک نظر اسے دیکھا, وہ دھیما سا مسکرائی تھی
یہ ہی تو اس کا پلان تھا… کہ سچے تو دونوں تھے تو پھر جھوٹا کون تھا, انعمتا نے قسم کھا لی… یزدان بھی قسم کھا لیتا تو جھوٹا کون ہوتا… ؟؟؟؟
حمدان کے دل میں صرف شک کا بال آبے کی دیر تھی… کیا پتہ وہ انعمتا کو چھوڑ ہی دیتا… اور اس نے یہ سب کیوں کیا ؟؟؟ صرف حمدان کو پانے کے لیے
اعر ہو سکتا ہے حمدان اس سے شادی کر بھی لے
“کھاؤ قسم…. ” وہ پھر بولی تھی
یزدان نے ایک نظر حمدان کی طرف دیکھا… وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
انعمتا کی طرف دیکھا… وہ جامد کھڑی تھی
پھر آئرہ کی طرف دیکھا… اور دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا, فریحہ دم بخود رہ گئی تھیں, حمدان ششدر سا اسے دیکھتا رہ گیا
آئرہ کے لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ یکدم ہی ماند پڑی تھی
“انعمتا سچی ہے… میں جھوٹا لیکن….. ” وہ ذرا سا رکا
“میں نے یہ سب اکیلے نہیں کیا” وہ بولا, آئرہ کی سانس بند ہوئی تھی
“مجھے آئرہ نے یہ سب کرنے کو کہا تھا…. ” وہ کہہ ہی گیا
“جھوٹ ہے یہ… ” وہ زور سے دہاڑی
“اسے آپ کو حاصل کرنا تھا حمدان بھائی… چاہے جیسے بھی سہی… چاہے کسی معصوم کی پاکدامنی پر داغ لگا کر ہی سہی… یہ اس کا پلان تھا اور…. میں بس اس پلان کا ایک حصہ تھا” وہ کہتا چلا گیا
“یہ جھوٹ ہے… سراسر بکواس ہے, میں نے کوئی پلان نہیں بنایا… میں قرآن پر ہاتھ رکھنے کے لئے تیار… ” حمدان نے اس کی بات کاٹ دی
“بس آئرہ… ” وہ کھڑا ہو گیا
“بس بہت ہو گیا…. ” وہ اس کی طرف آیا اور قرآن پاک اس کے ہاتھوں سے لے لیا
“یہ کتاب بس اسی کھیل تماشے کے لئے نہیں ہے آئرہ کیف خان… ” وہ بولا
“حمدان میں… ” اس سے بولا نا گیا
“اس نے الکوحل ڈالی تھی پانی میں… انعمتا نے وہی پانی پیا… اور پھر دھوکہ مجھے بھی دیا… کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پلان کامیاب ہونے کے بدلے اسے مجھ سے شادی کرنا پڑے گی” یزدان کہتا چلا گیا
“یہ جھوٹ ہے… ” وہ چیخی
“پلان تم دونوں کا تھا… سو اسے پورا بھی تم دونوں ہی کرو گے” حمدان نے کہا
“چچا جان نکاح خوان کو بلائیں… ان دونوں کا ابھی نکاح ہو گا” حمدان نے اس کی سماعتوں پر بم پھوڑا تھا
“میں مر جاؤں گی…. لیکن اس خبیث سے نکاح نہیں کروں گی” وہ بولی
“تم ابھی اسی وقت اس سے نکاح کرو گی” حمدان کا لحجہ انتہائی سرد ہو گیا
“حمدان… کبھی نہیں” وہ سختی سے بولی
“تو ٹھیک ہے… بشر نے تمہارا رشتہ مانگا ہے” وہ بولا, پورا گھر خاموش تماشائی بنا ہوا تھا
“تمہارے پاس صرف صبح تک کا وقت ہے آئرہ کیف خان… فیصلہ تمہارا ہے, یزدان… یا پھر بشر….؟؟؟” حمدان نے کہا اور مڑا, انعمتا کا ہاتھ تھاما اور اوپر کی طرف بڑھا
آئرہ نے قہر بار نظروں سے یزدان کی طرف دیکھا… وہ مدھم سا مسکرایا تھا
“بشر… ” اس کی آواز پر حمدان کے قدم رک گئے, یزدان کی مسکراہٹ ماند پڑ گئی تھی
“صبح تمہارا اور بشر کا نکاح ہو گا اور تم اس کے ساتھ رخصت ہو کر یہاں سے چلی جاؤ گی… اور میں دوبارہ کبھی اس گھر میں تمہاری شکل نہ دیکھوں, تمہارے ماں باپ تم سے تمہارے سسرال ہی ملنے جایا کریں گے… ” حمدان کہتا چلا گیا
“اور تم…. ” وہ یزدان کی طرف مڑا
“تم کراچی جا رہے ہو… میں صبح ہی تمہیں وہاں ایڈجسٹ کروا دوں گا… اور میرے جیتے جی واپس یہاں مت آنا… اور مجھے اپنی شکل مت دکھانا” انتہائی سخت لحجے میں کہتا ہوا وہ انعمتا کو لیکر اوپر چلا گیا تھا
