Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Last Episode)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Last Episode)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
اس کی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال کے بستر پر تھی… اسے جو پہلا چہرہ نظر آیا وہ حیان کا تھا
“انا… ” وہ ایک دم اس کے قریب آیا
“حیان… ” اس کے لبوں سے سرگوشی میں نکلا
“انا ایم سوری… مجِھے معاف کر دیں, پلیز مجھے معاف کر دیں… میں آپ کے بنا کچھ بھی نہیں ہوں… ” وہ بائیس سالہ لڑکا اس کا ہاتھ تھامے آنسوؤں سے روتا جا رہا تھا
“حیان… اٹس اوکے” اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں تھیں
“انا… ” دانین دوسری طرف سے اس کے بستر پر چڑھ کر اس کے گلے سے لگ کر بلک بلک کر رو دی تھی
“انا آئی پرامس… میں آئیندہ آپ سے کوئی بدتمیزی نہیں کروں گی… میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی… پلیز ایم سوری” وہ نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی
انعمتا دھیرے سے اٹھی اور بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا لی, اس کے ایک کندھے پر حیان کا سر تھا اور دوسرے پر دانین… وہ دونوں رو رو کر ہلکان تھے
اس نے سامنے کی طرف دیکھا تو رعنین اس کے بستر کی پائنتی کی جانب کھڑی تھی…. بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے پوری طرح لبریز تھیں, انعمتا کو دیکھتے ہوئے اس بے اپنے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دئے اور بے تحاشا رو دی… بولی کچھ بھی نہیں بس روتی چلی گئی
“رعنا… وہ تڑپ گئی تھی
“یہاں آؤ… ” اس کے کہنے پر حیان نے اسے بازو سے پکڑ کر انعمتا کے قریب کر دیا
“بس میری جان…. چپ کرو, میں نے پندرہ سال گزارے ہیں تم لوگوں کے ساتھ… بھلے ہی تم لوگ نا سمجھو لیکن میں تمہاری ماں ہوں…. اور ماں بھلا اپنے بچوں سے ناراض ہو سکتی ہے؟؟؟” وہ ان تینوں کو خود میں سمیٹ کر بیٹھی تھی
تا دیر وہ تینوں اپنا کتھارسس کرتے رہے
تبھی یزدان آ گیا… وہ سنان کو لیکر آیا تھا
“ماما… ” وہ بھاگتا ہوا اس کے بستر پر چڑھ گیا
“اوۓ… سارے ایک ساتھ بستر پر چڑھ گئے ہو… ٹوٹ گیا تو کیا ہو گا ؟؟؟” یزدان نے حیان اور رعنین کو نیچے اتارا تھا
“بس کرو.. رو رو کر خود بھی ہلکان ہو رہے ہو اور اسے بھی کر رہے ہو” یزدان نے کہا تھا
اسی نے فائر بریگیڈ کو کال کی تھی اور ان تینوں کو لیکر وہاں پہنچ گیا تھا, فائر بریگیڈ والوں نے ہی ان دونوں کو واش روم سے نکالا تھا
“وہ کیسا ہے اب؟؟؟” انعمتا نے یزدان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا”
ٹھیک ہے… بس کمر اور گردن جگہ جگہ سے جل گئی ہے…واش روم کی چھت گرنے کی وجہ” یزدان نے کہا
“یہیں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا, یزدان نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا
………………………….
“پاپا… اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو…” عنایہ کب سے اس کے گلے لگی بس یہ ہی کہے جا رہی تھی, سنایا بھی چپ چپ سی ایک طرف بیٹھی تھی
“ہوا تو نہیں نا…. دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوں” وہ مسکراتے ہوئے اس کا ماتھا چوم کر بولا
“معیز کہاں ہے ؟؟؟” اس نے سنایا سے پوچھا تھا
“میڈیسنز لینے گیا ہے” وہ بولی, تبھی وہ بھی آ گیا
“دیکھ لیں اب آپ اپنے کام…. ؟؟” وہ خفگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق…. ” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
“دو منٹ اور دیر ہو جاتی تو اس وقت کوئلہ بنے بیٹھے ہوتے آپ… میری ایک بات سن لیں کان کھول کر… آج کے بعد اس بڑھیا چڑیل عورت کے پاس بھی نا دیکھوں میں آپ کو…” معیز آپے سے باہر ہو گیا تھا
……………………….
وہ اسے دیکھنے آیا تھا… ہاتھوں میں گلابوں کا ایک گلدستہ تھام رکھا تھا
حیان نے ڈاکٹر سے بات کر لی تھی, وہ کچھ ہی دیر میں ڈسچارج ہو کر گھر جانے والی تھی, حیان اس کی ڈسچارج سلپ بنوانے گیا ہوا تھا, دانین اور سنان کو اس نے رعنین کے ساتھ گھر بھیج دیا تھا
انعمتا اسے دیکھ کر چونک سی گئی
“کیسی ہیں اب آپ ؟؟؟” وہ پھول اس کے سرہانے رکھتے ہوئے بولا
“شکر خدا کا… ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“ایم سوری میم…. ” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولا
“کس بات کے لئے ؟؟”
“جو کچھ میری مام نے کیا… م اس سب کے لئے ” وہ بولا
“وہ سب تم نے نہیں کیا زارون… ؟؟؟” انعمتا نے کہا
“لیکن جس نے کیا… وہ آپ سے کبھی معافی نہیں مانگیں گی… وہ آپ کے لئے اپنے دل سے نفرت نکال ہی نہیں سکتیں میم… ” وہ بولا
“کہاں ہے وہ اب ؟؟؟”
“جیل میں… ” زارون کے کہتے ہی وہ ٹھٹھک گئی
“اسے جیل کس نے بھیجا… ؟؟؟”
“کسی نے نہیں… آپ کو فارم ہاؤس میں اکیلا چھوڑ کر وہ خود ہی پولیس سٹیشن چلی گئی تھیں” زارون نے کہا, انعمتا بس تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی
“زارون… میں دل سے کہہ رہی ہوں کہ مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں ہے… میں جانتی ہوں کہ وہ یہ سب کیوں کرتی ہے ؟؟؟ اس کی اسقدر نفرت کی واحد وجہ آج بھی حمدان سے محبت ہے… اسے گھر لے آؤ زارون… میں نے اسے معاف کر دیا” انعمتا نے کہا
“میں ابھی وہیں سے آیا ہوں…. وہ کوٹھری سے باہر ہی نہیں نکل رہیں… ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے… ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے, اس نے کہا ہے کہ مام کو نیند آور انجیکشنز دے کر گھر لے جانا پڑے گا… پھر ان کے سائکیٹرک سیشنز چلیں گے” زارون نے کہا
“زارون میں نے کبھی اس کا برا نہیں چاہا… مجھے اس کی اسقدر نازک حالت کے لئے بہت افسوس ہے”
“اٹس اوکے میم… ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا
“تم مجھے انعمتا بلا سکتے ہو…. ” وہ دھیرے سے بولی تھی, زارون نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
“After all… We are one team… “
وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بولی تھی, زارون کی آنکھیں چمکتی چلی گئی تھیں
……………………..
“انا… میں نے سارا سامان گاڑی میں رکھوا دیا ہے… چلیں آئیں ” حیان کمرے میں آتے ہوئے بولا
“یزدان کہاں ہے ؟؟”
“چاچو… تھوڑی دیر کے لئے گھر گئے ہیں, دادی کو بچوں کے پاس چھوڑنے” وہ بولا
“حیان… مجھے ایک بار حنین سے ملنا تھا… ” اس نے دھیرے سے کہا
“آئیں… ” حیان اسے اپنے ساتھ لیے حنین کے کمرے کی طرف آ گیا
“میں باہر ویٹ کر رہا ہوں.. ” وہ بولا, انعمتا سر ہلا کر اندر آ گئی, وہ کروٹ لئے لیٹا تھا, اسے اندر آتے دیکھا تو ذرا سا سیدھا ہو گیا
کمرے میں اور کوئی بھی نہیں تھا
“کیسے ہو اب ؟؟؟” وہ اس کے بستر کے قریب آ گئی
“زندہ ہوں… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“زیادہ جل گئے ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“دیکھ لو… ” وہ بولا, انعمتا دھیرے سے اس کی پشت کی طرف آ گئی, وہ بنا شرٹ کے لیٹا تھا, اس کی کمر جگہ جگہ سے کافی زیادہ جل گئی تھی, گردن پر بھی جلنے کے زخم تھے, پوری کمر سفید پٹی سے ڈھکی ہوئی تھی, انعمتا کی آنکھیں بھر آئیں
“تمہیں کس نے کہا تھا کہ تم وہاں آؤ… ؟؟؟” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
“مجھے کسے کے کہنے کی ضرورت نہیں ہے انعمتا طارق… میرے وہاں جانے کے لئے یہ ہی کافی تھا کہ
” تم ” وہاں تھیں… اکیلی…. بے بس… شعلوں میں گھری ہوئی ” وہ بولا
“میں تمہاری کچھ نہیں لگتی حنین… میری خاطر موت کے منہ میں چھلانگ لگانا تم پر قطعی فرض نہیں ہے… ” وہ بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی
“تم میری محبت ہو انعمتا… اور محبت کی خاطر موت کو گلے لگا لینا مجھ پر اولین فرض ہے” وہ بولا, انعمتا کوئی جواب نا دے سکی, بس بیدردی سے اپنے آنسو رگڑتے ہوۓ دروازے کی طرف مڑ گئی
“انعمتا طارق… Get well soon تو کہہ دو” وہ مسکراتی آواز میں بولا تھا
“کارڈ بھجوا دوں گی… ” وہ مڑے بنا باہر نکل گئی تھی
…………………….
اس کے اعتراف جرم کے بعد انعمتا نے اسے معاف کر دیا تھا, زارون نے اس کی ضمانت کروا لی تھی اور بڑی مشکلوں سے اسے گھر لے آیا تھا
ذہنی طور پر وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھی, بات بات پر کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی, چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی تھی…. زارون نے اس کے لئے ایک سائکیٹرس ہائر کیا تھا جو روزانہ اس کی کاؤنسلنگ کے لئے آتا تھا
زارون اس پر پوری توجہ دے رہا تھا, زاہا بھی اس کا کافی خیال رکھ رہی تھی لیکن وہ اور بات تھی کہ زاہا کی شکل دیکھ کر اکثر ہی اسے غصہ آ جاتا تھا
……………………
وہ اس رات اپنے کمرے میں تھی جب حیان اس کے پاس آیا
“انا… سونے تو نہیں لگیں ؟؟؟”
“نہیں تو… آ جاؤ” حیان اندر آ گیا
“انا… زاہا کی رخصتی تو کروا دیں” وہ مدعے پر آ گیا, انعمتا دھیرے سے مسکرائی تھی
“ویسے میرے حساب سے تمہیں ذرا جلدی میرے پاس آ جانا چاہئے تھا” وہ بولی
“میں نے سوچا کہ آپ پوری طرح ٹھیک ہو جائیں… اور ماحول بھی تھوڑا سیٹ ہو جاۓ تب آپ سے کہوں گا” وہ جھینپ سا گیا
“دیکھو حیان… اب اس کی ماں سے تو کوئی بات کر نہیں سکتے, زارون سے ہی کہنا پڑے گا کہ اسے اپنے ہاتھوں تمہارے ساتھ رخصت کر دے” وہ بولی
“پھر کب کہیں گی اسے ؟؟؟” وہ اتاؤلا ہو رہا تھا
“اب صبر تو کرو… ” وہ ہنس پڑی
“کب سے تو کر رہا ہوں انا….. ” وہ بھی ہنستے ہوئے بولا تھا
انعمتا نے اگلی صبح ہی زارون کو کال کی تھی
“اب جب چاہیں زاہا کو لے جا سکتی ہیں… انعمتا” زارون نے کہا تھا
اور ایک ہفتے بعد ہی حیان زاہا کو رخصت کروا کر لے آیا تھا, آئرہ کی ذہنی حالت کے پیش نظر بس چند ایک افراد ہی مدعو کئے گئے تھے, زاہا کی رخصتی اس کے علم میں بالکل نہیں لائی گئی تھی
زارون نے اسے بالکل سگے بھائیوں کی طرح مان سے رخصت کیا تھا
“یہ تمہارے پاپا کا گھر ہے زاہا…. تمہارا میکہ ہے… اور تمہارے میکے کے نام پر میں ہمیشہ تمہیں اس گھر کے دروازے پر کھڑا ملوں گا” وہ اسے خود سے لگاۓ ہوۓ گاڑی تک لیکر آیا تھا
……………………………
وہ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, حیان اس کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا, زاہا کی مخروطی انگلیاں دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں سرسرا رہی تھیں, حیان نے اس کا دوسرا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا ہوا تھا, سرخ گلابوں کی خوشبو سے پورا کمرہ معطر تھا… وہ بس رات کی سیاہی بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے میں ڈھلتے جا رہے تھے
اس کمرے کے سامنے والے کمرے میں رعنین اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی
” تم نے محبت نہیں کی… تمہیں بس وہ اچھا لگا… تم بس اس پر فدا ہو گئیں, وہ بس تمہار کرش تھا… وہ بس ایک وقتی ابال تھا جس نے سب کچھ جلا ڈالا…” زارون کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی
واقعی اس نے محبت نہیں کی تھی… محبت خود غرض نہیں بناتی… محبت آنکھوں کا اندھا نہیں کرتی, محبت بغض کا نام نہیں ہے, محبت حسد اور جلن سے باکل پاک ہوتی ہے…
اس نے سب کچھ کیا…. بس محبت نہیں کی
اس کے ساتھ والا کمرہ انعمتا کا تھا…. وہ سنان کے ساتھ اپنے بستر میں لیٹی ہوئی تھی, سنان اس سے لپٹ کر سو رہا تھا
اس کی نظروں میں بار بار حنین کے جلے ہوئے زخم ابھر رہے تھے… اس کی تکلیف… اور تکلیف دہ مسکراہٹ
وہ ہمیش سے اسی کا تھا
اس نے اسے سب سے پہلے ڈھونڈا تھا
وہ اس تک سب سے پہلے پہنچا تھا
وہ اس کی خاطر آگ میں کود گیا تھا
وہ اس کی ڈھال بن گیا تھا
بارہ سال… بارہ سال بعد کوئی اس کی ڈھال بنا تھا
بارہ سال بعد اسے ایک بار پھر کسی کے لیے بہت اہم ہونے کا احساس ہوا تھا
اس کے سامنے والا کمرہ دانین کا تھا… وہ مسکراتے ہوئے معیز کو Good Night کہہ رہی تھی
وہاں سے کچھ دور حنین ہسپتال کے بستر پر پڑا تھا, معیز اس کے برابر والے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا
نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی… بس ایک ہی چہرہ یاد میں آ رہا تھا… اس کی انعمتا طارق
وہاں سے کچھ دور آئرہ کیف خان اپنے کمرے میں لیٹی تھی, اس کی ذہنی حالت بہت آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی تھی, زارون اسے دوا کھلا کر کمبل اوڑھا کر نیچے بیسمینٹ میں چلا آیا تھا
اس کی پوری رات اب بیسمینٹ میں ہی گزرنی تھی
………………………
اس رات وہ سب ڈنر پر جمع ہوئے تھے… انعمتا حمدان کی کرسی پر بیٹھی تھی, زاہا, حیان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی, ان دونوں کی شادی کو دو ماہ ہو چکے تھے
زاہا نے ہاشمی ٹریڈرز کو پوری طرح سنبھال لیا تھا…. حیان بھی گرتا پڑتا انعمتا کے مشوروں سے حمدان انٹرپرائزرز کو چلاۓ ہی جا رہا تھا, رعنین اور زارون نے اپنے ریسٹورنٹ کی اوپننگ کر دی تھی جو کہ کافی شاندار چل رہا تھا, دانین کا لاسٹ سمیسٹر شروع ہو گیا تھا
“حیان… آج ذرا آفس سے جلدی آ جانا, ہمیں معیز کی طرف جانا ہے” انعمتا نے کہا, دانین نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
“کیوں انا… ؟؟؟” وہ بولا
“اچھا… خود تو شادی کروا لی ہے تم نے… بہنوں کا نہیں سوچنا ؟؟؟” انعمتا نے اسے لتاڑا, دانین کے گال تمتما اٹھے تھے
“بہنیں مطلب… ؟؟؟” رعنین نے پوچھا
“بہنیں مطلب… تم اور دانی… ” انعمتا نے کہا
“انا… آپ صرف وہاں دانی کی بات کرنے جائیں گی… میری نہیں ” رعنین نے کہا
“کیوں… میں تو تم دونوں کی بات کرنے جاؤں گی” وہ بولی
“انا پلیز… میں پہلے ہی بہت شرمبدہ ہوں آپ سے…. اب اور مت کریں” وہ واقعی شرمندہ تھی
“تم کیوں شرمندہ ہو رعنا… تم نے کچھ غلط نہیں کیا…. ؟؟؟ محبت کسی سے پوچھ کر تو نہیں کی جاتی نا ؟؟؟” وہ بولی
“انا…. مجھے اس سے محبت نہیں تھی… بس ایک کرش تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاۓ گا” عہ بولی
“رعنا… بیٹے میں پاگل نہیں ہوں, مجھے کرش اور محبت کا فرق بہت اچھی طرح معلوم ہے… تم کیا کوئی چودہ, پندرہ سال کی بچی تھیں جسے کرش آ گیا… تم بائیس سال کی میچور لڑکی ہو اور میں خود تمہارا رشتہ طے کرنے جاؤں گی” وہ بولی
“انا… مجھے اس سے شادی نہیں کرنی” وہ بولی
“رعنا… ساری عمر اسے کھونے کی کسک رہے گی” وہ بولی
“نہیں رہتی…. میں اپنی مرضی سے اسے کھو رہی ہوں” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولی تھی, انعمتا اس وقت تو خاموش ہو گئی لیکن رات کو جانے سے پہلے دوبارہ اس کے کمرے میں چلی آئی
“میری وجہ سے انکار کر رہی ہو نا…. ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں تو… “
“ہاں ایسا ہی ہے… تم صرف اسلیے پیچھے ہٹ رہی ہو کیونکہ ماضی میں کہیں میں اس سے محبت کی دعویدار تھی” وہ بولی
“انا… خدا کی قسم انکار آپ کی وجہ سے نہیں ہے.. انکار اس کی وجہ سے ہے… وہ آج بھی آپ سے محبت کا دعویدار ہے” وہ بولی
“آپ مجھے بائیس سالوں سے جانتی ہیں… میری فطرت سے اچھی طرح آگاہ ہیں… میں بہت کم لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل ہونے دیتی ہوں اور وہ بہت خاص ہوتے ہیں, پورے بی ایس کے دوران میں نے صرف ایک دوست بنایا…. زارون حاطب… کیونکہ وہ سب سے خاص تھا… اور جسے دل دینے کا سوچا…. وہ بھی بہت خاص لگا تھا… انا مجھے میرے پاپا کی قسم اگر آج وہ آپ کی بجاۓ کسی بھی اور سے محبت کا دعویدار ہوتا… تو بھی میں اس سے شادی نہیں کرتی… انکار آپ کی وجہ سے نہیں ہے انا… انکار اس کی محبت کی وجہ سے ہے… آپ کو تو پتہ ہے نا کہ دانی اور سنان مجھے کیا کہتے ہیں…. Moody… Proudy… کیونکہ میں جب میں کہہ دوں ہاں تو کبھی پیچھے نہیں ہٹتی لیکن….جب میں کہہ دوں ناں… تو کوئی اسے ہاں میں نہیں بدل سکتا…. ” وہ کہتی چلی گئی, آنکھیں بھر آئی تھیں
“بات یہ نہیں ہے انا کہ آپ اس سے محبت کرتی تھیں… بات شاید یہ بھی نہیں ہے کہ وہ آپ سے محبت کرتا تھا… بات یہ ہے کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا… اور کبھی نہیں کرے گا… ساری عمر نہیں کرے گا… کیونکہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے… ” وہ بولی
“… اور وہ کوئی اور… میں ہوں, تو وجہ تو میں ہی ہوئی نا” انعمتا نے کہا
“انا یار… آپ سمجھ نہیں رہیں, وہ ساری عمر میرا نہیں ہو سکے گا, ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے کہنے پر مجھ سے شادی کر بھی لے لیکن…. میں ساری عمر بس اس کے دل سے آپ کو نکالنے کے ہی جتن کرتی رہوں گی… آپ میری مام ہیں انا… اور یہ کیسے ممکن ہو گا کہ آپ دونوں کا آمنا سامنا نا ہو… اور پندرہ سال پرانی محبت کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ پل بھر میں مجھے بھول جایا کرے گا” وہ سچ کہہ رہی تھی
“اور سب سے اہم بات انا… وہ کبھی مجھ سے شادی نہیں کرے گا… آپ بیشک مجھ سے شرط لگا لیں” وہ بولی
“رعنا… اب میں ساری زندگی گلٹ میں رہوں گی” وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی
“نہیں انا… کوئی گلٹ نہیں… مجھے نہیں کرنی ایک ایسے شخص سے شادی جس کا دل ہی میرا نا ہو سکے… جسے بس میں ساری عمر زبردستی اپنا بنانے کے جتن کرتی رہوں…. خدا کی قسم اگر مجھے اس بات کا یقین ہوتا کہ اس کے دل میں کوئی بھی نہیں ہے… میں بھی نہیں تو میں یہ جواء ضرور کھیلتی… لیکن اب نہیں انا… مجھے کسی دوسری کی محبت میں گرفتار ایک ناکام سا عاشق نہیں چاہئے ” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی تھی, انعمتا بول نہ سکی
“پاپا نے آپ سے میرے لئے کیا وعدہ لیا تھا بھلا ؟؟؟” رعنین نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“یہ ہی کہ میری رعنا کو وہ سب کرنے دینا… جو وہ کرنا چاہے” انعمتا نے کہا
“تو بس پھر… مجھے وہ کرنے دیں جو میں چاہتی ہوں” وہ مسکراتے ہوئے انعمتا کے گلے لگی تھی
“اچھا پھر… زارون سے بات کروں ؟؟” وہ بولی
“کس لئے ؟؟؟”
“تمہاری شادی کے لیے ” وہ اس وقت بالکل ایک روائتی ماں بنی ہوئی تھی
“انا یار پلیز… زارون اور حنین میں بھلا کوئی فرق ہے کیا… ؟؟؟ میرے لئے سارے دو نمبر بندے ہی رہ گئے ہیں.. ” وہ کلس گئی
“نہیں کرنی کسی ٹوٹے ہوئے دل والے مجنوں سے شادی… اس سے کروں گی جس کا دل میری محبت سے ٹوٹے گا” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“رعنا… دیکھو بیٹے میری بات…. ” رعنین نے اس کی بات کاٹ دی
I fall in love for him… and I learnt that how to love only… “
وہ اس کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی تھی
