Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 03)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

وہ سب ایک بار پھر ڈنر کے لئے ایکساتھ تھے, انعمتا اسی نشست پر بیٹھی ہوئی تھی جہاں حمدان بیٹھا کرتا تھا

حمدان سیف خان… انعمتا حمدان خان کا انتہائی محبت کرنے والا شوہر جو صرف اکیس سال کی عمر میں اسے تنہا کر گیا تھا… تب رعنین صرف چھ سال کی تھی, حیان پانچ سال کا… اور دانین تین سال کی

ایک قیامت ہی تو تھی جو ان چاروں پر گزر گئی تھی

حمدان کی موت کے آٹھ ماہ بعد سنان کی پیدائش ہوئی تھی

“حیان… ” وہ اسے پکارتے ہوئے اس کی طرف مڑی

“آخر ایسا کونسا ارجنٹ کام تھا جس کی خاطر رکشے پر بیٹھ کر اڑ گئے تھے تم ؟؟” انعمتا کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی

“ڈپارٹمنٹ جانا تھا انا… معیز کی کال تھی” وہ بولا

“معیز کی کال آئی اور تم مرسیڈیز چھوڑ کر رکشے میں بیٹھ گئے… واہ حیان… مجھے پاگل سمجھا ہے کیا ؟؟” انعمتا نے کہا, حیان بے بسی سے اسے دیکھنے لگا

“حیان حمدان خان…. ” انعمتا نے مسکراتے ہوئے اسے پکارا تھا, دونوں بہنیں بھی حیرت اور مسرت کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہی تھیں

“انا کیا ہے یار ؟؟” وہ جھینپ سا گیا

“کون ہے وہ ؟؟؟” اس نے پوچھا

“وہ… ایم بی اے ڈپارٹمنٹ میں ہوتی ہے, لاسٹ ایئر وہ اکاؤنٹنگ میں گولڈ میڈلسٹ تھی… زاہا ہاشمی ” حیان نے دونوں بہنوں سے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا

“حد ہو گئی یار… انا مجھے لگتا ہے کہ ان لڑکوں میں آجکل کوئی خاص قسم کی وبا پھوٹی ہوئی ہے.. ادھر یہ اکیس کا ہندسہ کراس کرتے ہیں اور ادھر انہیں دن میں تارے نظر آنے لگتے ہیں… وہ زارون کا بچہ بھی کسی سے دل لگا کر بیٹھا ہے, یہ بیچارہ بھی گیا کام سے… پتہ نہیں وہ معیز کیسے ابھی تک بچا ہوا ہے… ” رعنین پھٹ ہی تو پڑی تھی

“آپ کو کیسے پتہ کہ معیز ابھی تک بچا ہوا ہے… ہو سکتا ہے اسے بھی کوئی بھا گئی ہو” دانین کہہ کر پچھتائی تھی

“تم کیا اس کی اسسٹنٹ ہو ؟؟” وہ بولی

“نہیں میں تو… ویسے ہی کہہ… ” رعنین نے اس کی بات کاٹ دی

“انا… اس سے بھی پوچھ لیں, مجھے تو اس کے تیور بھی خطرناک ہی لگتے ہیں, آجکل یہ ضرورت سے زیادہ ہی سنایا کے گھر کے چکر کاٹنے لگ گئی ہے” رعنین نے کہا

“دانی… ” انعمتا اور حیان دونوں نے اسے جن نظروں سے دیکھا, وہ بیچاری شرم سے سرخ ہو گئی

“دانی تم ابھی پورے اٹھارہ سال کی بھی نہیں ہوئیں ؟؟؟” وہ پریشان ہو گئی تھی

“انا… ایسا کچھ نہیں ہے, آپی خوامخواہ ہی شک کرے جا رہی ہیں, میں تو بس ٹیسٹ کی تیاری کرنے جاتی ہوں اس کے گھر… ” وہ بولی

“شیور… ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا

“hundred percent sure… “

اس لمحے اسے اپنی ریپوٹیشن ہر چیز سے بڑھ کر تھی

“آئیندہ ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہو تو سنایا کو یہاں بلا لینا… اوکے ؟؟؟” اس نے کہا

“اوکے انا… ” اس نے رعنین کو گھورتے ہوۓ کہا تھا

“انا… اس رعنا کی بچی کی بھی خبر لیں ذرا… یہ پوری طرح آپ کا نام خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے” حیان نے کہا… دانین میں تو جان تھی اس کی, اب بھی اس کا شرمندگی سے سرخ ہوتا ہوا چہرہ حیان سے برداشت نہیں ہوا تھا

“رعنا… میں نے منع کیا تھا نا… ” وہ بولی

“انا… مجھے وہ کرنا ہے جو مجھے اچھا لگتا ہے, مجھے نہیں اچھا لگتا یہ بزنس اور بزنس کی بھول بھلیاں… ” رعنین نے کہا

“مسئلہ بزنس کا نہیں ہے رعنا…. ریسٹورنٹ چلانا بھی تو بزنس ہی ہے… مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ ریسٹورنٹ میں بھی تمہیں کھول کر دے سکتی ہوں… ” انعمتا نے کہا

“انا… بات وہ نہیں ہے, میں جانتی ہوں آپ چاہیں تو ایک دن میں میرا ریسٹورنٹ کھڑا کر دیں لیکن… اس میں میری کیا efforts ہوں گی ؟؟؟ اور اگر وہ جہ چل سکا تو ؟؟؟ ” رعنین نے کہا

“تو پھر کیا ہوا ؟؟؟ میری کونسا ساری ڈیلنگز کامیاب ہوتی ہیں” وہ بولی, رعنین چپ ہو گئی

“رعنا… پہلی بات… حمدان انٹرپرائزرز میری جاگیر نہیں ہے, یہ سب کچھ تمہارے پاپا کا ہے… اور وہ تم لوگوں کے لئے چھوڑ گیے ہیں, دوسری بات… میں اچھی طرح سمجھ رہی ہوں کہ تم اپنے بل پر کچھ کرنا چاہتی ہو, مجھے کوئی ایشو نہیں ہے اگر تم اپنے ریسٹورنٹ کے لئے حمدان انٹرپرائزرز کی فنانسنگ نہیں لینا چاہتیں لیکن… بیٹا بات صرف اتنی ہے کہ اگر کوئی چیز ہمارے اپنے پاس ہے تو اسے کسی دوسرے سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے ؟؟؟” انعمتا کہتی چلی گئی

“انا… اگر نقصان ہو گیا تو ؟؟؟” اسے بس یہ ہی ڈر تھا

“اگر لون اپروو کروا کر نقصان ہو گیا تو ؟؟؟” انعمتا نے کہا, اس بات کا رعنین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا

“ٹھیک ہے… جیسے تم چاہو کر لو لیکن یاد رکھنا… حمدان انٹرپرائزرز ہر وقت تمہارے لئے حاضر ہے” انعمتا کو اس کی معصوم سی شکل پر ترس آیا تھا

……………………….

سال کا اختتام ہونے والا تھا, ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی بزنس کارپوریشن اور ٹریڈرز نے ایک انتہائی شاندار اینول ڈنر کا اہتمام کیا تھا, ساتھ میں ایک سیمینار بھی تھا جس میں مختلف قسم. کی شیلڈز اور ایوارڈز تقسیم کیے جا رہے تھے

یہ شاید پہلی مرتبہ تھا کہ زارون, آئرہ کے کہنے پر وہاں جانے کے لیے راضی ہوا تھا, کل ہی اسے کسی کے ذریعے اس کے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ جانے کے بارے میں پتہ چلا تھا اور وہ پورے دو گھنٹے اس پر برستی رہی تھی

“میں حنین یامن کے ساتھ پارٹنر شپ کرنے کا سوچ رہی ہوں اور تم اسی کے پاس لون اپروو کروانے چلے گئے… زارون وہ کیا سوچے گا کہ تمہاری ماں تمہیں ایک ریسٹورنٹ کھول کر نہیں دے سکتی ؟؟؟” آئرہ کا پارہ آسمانوں کو چھو رہا تھا

“تو کھول دیں مجھے ایک ریسٹورنٹ… نہیں جاتا میں کسی کے پاس لون اپروو کروانے ” وہ بھی تڑخ گیا

“زارون… یہ ریسٹورنٹ والا خناس دماغ سے کب نکالنا ہے ؟؟؟” آئرہ چیخ پڑی

“مام… آپ کو میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی, میں نے فوڈ سائنسز میں بی ایس کیا ہے, شروع سے مجھے کامرس اور میتھ زہر لگتی ہے, نہیں ہوتا مجھ سے یہ دو اور دو چار والا کام…. آپ ایک کام کیوں نہیں کرتیں, بجاۓ مجھے اپنے ساتھ گھسیٹنے کے آپ زاہا کو گھسیٹا کریں نا… اسے شوق بھی ہے اس سب کا, اکاؤنٹس میں گولڈ میڈلسٹ ہے یہ” وہ تو پھٹ ہی پڑا,

اس بار بھی ہاشمی ٹریڈرز کو زاہا تمیم ہاشمی نے ہی مصیبت سے نکالا تھا

ہر بار ایسا ہی ہوتا تھا, آئرہ کی ساری نادانیوں اور غلطیوں کے نقصان کی بھرپائی عین وقت پر وہی کرتی تھی, بزنس جیسے اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا, ایڈمنسٹریشن اور اکاؤنٹنگ کی ساری الف ب اسے ازبر تھی لیکن آئرہ تو نہ جانے اس گھر میں اسے کیسے برداشت کرتی تھی نا کہ اسے آفس میں بھی ساتھ رکھتی

“مجھے فضول مشورے دینے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے… تم آئرہ کیف خان کے اکلوتے بیٹے ہو, میں چاہتی ہوں کہ میرے بعد تم ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن کی کرسی پر بیٹھو ” وہ بولی

“مام… مجھے اس کرسی پر نہیں بیٹھنا, وہ میری نہیں ہے, زاہا کے پاپا نے ویسے ہی ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے, آپ نے دس سال انکی کمپنی پر راج کیا ہے… اب کیا ضروری ہے کہ آپ کے بعد میں اس پر قبضہ کر لوں” وہ کچھ زیادہ ہی صاف گو تھا

“بکواس بند کرو… کوئی احسان نہیں کیا بشر نے ہم دونوں پر, سڑک کنارے سے نہیں اٹھا کر لایا تھا وہ ہمیں… ” آئرہ چیخ پڑی تھی

“مام… پلیز, آپ آخر اس بحث کو ختم کیوں نہیں کر دیتیں” وہ عاجز آیا پڑا تھا

“ٹھیک ہے… بحث ختم ہو گئی… تم رات کو میرے ساتھ اینول ڈنر پر جا رہے ہو” آئرہ اپنی ضد پر قائم تھی

“مام… ” زارون نے انتہائی بے بسی سے اس کی طرف دیکھا تھا

“وہ عورت مجھے ہمیشہ مات دیتی آئی ہے زارون… مجھ سے کمتر ہونے کے باوجود اس نے ہر بار مجھے شکست دی ہے, پچھلے دس سال سے وہ کسی ملکہ کی طرح بزنس انڈسٹری پر راج کررہی ہے, حمدان انٹرپرائزرز ساتویں نمبر پر تھی جب وہ چیئر پرسن کی کرسی پر بیٹھی تھی اور اب وہ دوسرے نمبر پر آ گئی ہے… ” آئرہ کے لحجے سے چھلکتی نفرت نے زارون کو خاموش کروایا تھا

“وہ آخری بار بھی مجھے ہرا دے گی زارون… وہ حمدان کے بیٹے کو اس کی کرسی پر بٹھا کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گی… اور میں یہ آخری جیت کسی صورت اس کی نہیں ہونے دوں گی, وہ کرسی تمہاری ہے زارون… اور یہ میں آج آخری بار کہہ رہی ہوں کہ میرے بعد تم ہی اس کرسی پر بیٹھو گے ” آئرہ نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا, زارون چپ چاپ کھڑا رہ گیا

“وہ بھی آئیں گی وہاں ؟؟؟” اس نے چند لمحوں بعد پوچھا تھا

“انعمتا حمدان خان… ؟؟؟”

“اسی کے لیے تو سارا فنکشن ہے…. وہ نا آئی تو تاج کون پہنے گا ؟؟؟” آئرہ کلس کر کہتے ہوئے کمرےسے نکل گئی تھی

اور زارون حاطب چپ چاپ اس کے ساتھ اینول ڈنر پر جانے کے لئے تیار ہو گیا

اپنی ماں کی اس ایموشنل تقریر کی وجہ سے نہیں بلکہ حمدان انٹرپرائزرز کی اس بتیس سالہ انتہائی کامیاب چیئر پرسن کے لئے جو پچھلے چھ ماہ سے اس کے دل کی دنیا اتھل پتھل کیے ہوئے تھی

بظاہر وہ آئرہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا لیکن نظریں مسلسل انعمتا حمدان خان کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں

وہ بس دیکھ رہا تھا… جتنا وہ دیکھ سکتا تھا, جتنا وہ دو آنکھوں سے دیکھ سکتاتھا… افسوس کے وہ دو آنکھوں سے اسے کتنا دیکھ سکتا تھا

وہ ہلکے آسمانی رنگ کا انتہائی نفیس سا ریشمی سوٹ پہنے ہوئے تھی, چہرے پر گولڈن شیڈ کا مدھم سا میک اپ تھا, سیاہ ریشمی بالوں کا ہلکا سا سٹائل بنا کر یونہی پشت پر کھلا چھوڑ رکھا تھا, ایک کندھے پر سوٹ سے ہم رنگ ریشمی دوپٹہ ڈال رکھا تھا اور دوسرے کندھے سے ریشمی زلفیں آگے کو لٹک رہی تھیں, نیوی بلو ویلوٹ کی کامدار شال اس نے دونوں کندھو پر ڈال رکھی تھی

وہ بلاشبہ ایک ملکہ تھی… بزنس انڈسٹری پر راج کرنے والی کم سن ترین ملکہ

صرف بتیس سال کی عمر میں اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جسے حاصل کرنے کے لئے لوگ عمریں لگا دیتے ہیں, پچھلے دس سالوں میں وہ حمدان انٹرپرائزرز کو ساتویں نمبر سے دوسرے نمبر پر لے آئی تھی جو بلاشبہ آج رات بزنس ورلڈ کی ٹاپ انڈسٹری بننے والی تھی

بڑی تمکنت سے وہ اپنی مرسیڈیز سے نکلی تھی, ہر آنکھ اسے دیکھ رہی تھی, حیان اس کے ساتھ ہی آیا تھا, اس کے برابر میں چل رہا تھا

حمدان سیف خان کا اکلوتا بیٹا… جو آنیوالے وقتوں میں اپنے باپ کی کرسی کا وارث بننے والا تھا

ہر آنکھ میں ستائش تھی… اس زمینی حور پر مر مٹنے والوں کی ایک لمبی قطار تھی, اس پر فدا ہو جانے والے ہزاروں تھے, نہ جانے وہ کتنے ہی نوجوان دلوں کا کرش تھی, استقبالیہ پر اس نے مسکراتے ہوئے سرخ اور سفید گلابوں کا بکے وصول کیا تھا

“تمہارا زوال بھی آۓ گا ایک دن…. انعمتا حمدان خان… ” آئرہ نے اپنی نشست پر سے اسے دیکھا تھا

“مام… آپ کو وہ اتنی بری کیوں لگتی ہیں ؟؟؟” اس کے برابر والی نشست پر بیٹھا زارون نہ جانے کتنی ہی بار اس پر دل ہار چکا تھا

اس میں اچھا کیا ہے ؟؟؟” وہ بولی

“She is beautiful…. simply beautiful “

وہ جیسے اپنے حواسوں میں نہیں تھا

انعمتا کسی کی بات پر مسکرائی تھی, اس پورے ہال میں جیسے جگنو سے جگمگا گئے تھے

“No son… She is a Slute “

آئرہ کے لئے وہ قطعی ناقابل برداشت تھی

“مام… میں ایک بار پھر آپ سے کہہ رہا ہوں, آپ کو یہاں زاہا کو لیکر آنا چاہیے تھا, مجھ پر فضول وقت ضائع کر رہی ہیں آپ” زارون دھیرے سے کہہ کر اٹھ گیا تھا

کچھ ہی دیر بعد کھانا سرو کر دیا گیا, اس کے بعد پورے سال کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر ایک چھوٹا سا ریویو تھا

ایوارڈز اور شیلڈز دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا, انعمتا, حیان کے ساتھ فرنٹ رو میں بیٹھی تھی

اور اب باری ہے… اس سالانہ تقریب کی روح رواں کی… وہ جو دیکھنے میں تو حسین ہیں ہی… سننے میں بھی حسین ہیں, سوچنے میں بھی حسین ہیں, بولنے میں بھی حسین ہیں… اس سال کے بتیس میں سے ستائس ایوارڈ ان کے ہیں جن میں سے آخری ہے… The top business icon of the year…. مس انعمتا حمدان خان, ” اینکر نے زور سے کہا تھا

تالیوں کا ایک شور عظیم گونج گیا تھا, وہ مسکراتی ہوئی اپنی نشست سے اٹھی تھی

“چلو… ” دھیرے سے اپنے ساتھ بیٹھے حیان سے کہتے ہوئے اس نے حیان کا ہاتھ پکڑا تھا, اسے اپنے ساتھ لئے وہ سٹیج پر آئی تھی

ایوارڈ دینے کے لئے سابقہ ٹاپ بزنس آئیکون اشعر زیدی سٹیج پر موجود تھا, انعمتا نے ذرا سا جھکتے ہوۓ اس سے ایوارڈ وصول کیا تھا

“انشاءاللہ… اگلے سال یہ ایوارڈ حمدان انٹرپرائزرز کے نئے چیئر پرسن وصول کریں گے… حیان حمدان خان” اس نے مائیک پکڑتے ہوئے کہا, حیان بس اسے دیکھ کر رہ گیا

“تو آپ چیئر پرسن کی سیٹ چھوڑ رہی ہیں میم… ؟؟؟” صحافیوں, رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کا ایک رش لگا ہوا تھا

“یہ سیٹ کبھی بھی میری نہیں تھی… یہ سیٹ حمدان سیف خان کے بیٹے کی امانت تھی جو اگلا سال آنے تک اسے واپس مل جاۓ گی” انعمتا نے کہا

“آپ کے خیال میں مسٹر حیان اس قابل ہیں کہ حمدان انٹرپرائزرز کو سنبھال سکیں… ؟؟؟” ایک اور سوال ہوا تھا

“میرا نہیں خیال کہ یہاں موجود کسی بھی شخص کو حمدان سیف خان کے خون پر کوئی شک ہونا چاہیے ” وہ بولی

“تو آپ ریٹائرمنٹ لے رہی ہیں ؟؟؟” کسی نے پوچھا

“ہو سکتا ہے… “

“میم ہم نے سنا ہے کہ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد شادی کر رہی ہیں ؟؟؟” کسی نیوز اینکر نے پوچھا تھا

“آپ کی شادی ہو گئی مسٹر ؟؟؟” انعمتا نے جواباً پوچھا

“نہیں میم… ” وہ جھینپ سا گیا

“تو آپ کریں گے مجھ سے شادی ؟؟؟” اس نے پوچھا, ایک عظیم الشان قہقہہ بلند ہوا تھا, اینکر دوبارہ بول نہ سکا

“مجھ سے ہر انٹرویو میں, ہر تقریب میں, ہر بزنس گیدرنگ میں, سوشل میڈیا پر… بس یہ ہی سوال داغا جاتا ہے اور جب میں پوچھتی ہوں کہ ” آپ کریں گے مجھ سے شادی ؟؟؟ تو کوئی ہاں بھی نہیں کہتا” وہ مسکراتے ہوئے کہتی چلی گئی تھی

عین اسی لمحے زارون نے اس کی تصویر کھینچی تھی… جو اس کی ماں کی نظروں سے چھپی نہیں رہ سکی تھی

وہ شام اس کے نام تھی

The star of the night… Anamta hamdan khan

………………….

“یزدان… ” فریحہ نے اس نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے آواز دی تھی

“جی امی… ” وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا

“طبیعت ٹھیک ہے تیری ؟؟؟” انہوں نے اندر آتے ہوئے پوچھا

“جی امی… ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا

“نوری بتا رہی تھی تو نے کھانا بھی نہیں کھایا” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں

“دل نہیں کیا…. ” وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا

“کیا ہوا ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا

“آج دو بچے آۓ تھے آفس.. UVAS سے گریجوایٹ, اپنے ریسٹورنٹ کے لئے لون اپروو کروانے آۓ تھے… ” وہ بولتے بولتے رکا

“امی وہ… وہ لڑکی… وہ رعنین تھی” یزدان نے کہا, اس کے بالوں میں سرسراتی ہوئی فریحہ کی انگلیاں یکلخت رک گئیں

“رعنین… ” وہ سرگوشی میں بولی تھیں

“امی وہ… بائیس سال کی ہو گئی ہے, بالکل حمدان بھائی کی طرح بولتی ہے… وہی انداز, وہی لحجہ… ” یزدان نے کہا

“تو نے اسے بتایا نہیں کہ تو کون ہے ” فریحہ نے کہا

“نہیں امی… میں شائد ساری عمر اسے نہیں بتا سکوں گا کہ میں کون ہوں” وہ بولا

“یزدان… بیٹے وہ تجھے معاف کر چکی ہے” انہوں نے کہا

“لیکن بھائی نے مجھے معاف نہیں کیا تھا امی…. وہ مجھے معاف کیے بنا ہی اس دنیا سے چلے گئے ” یزدان نے کہا, فریحہ بول نہیں سکی تھیں

………………………..

وہ عنایہ کی ضد کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا تھا, سارے دن کی اوٹ پٹانگ روداد اسے سناتے سناتے وہ نیند میں اتر گئی تو وہ بھی اٹھ کر نیچے چلا آیا, سنایا صوفے پر لیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی

“بس کرو اب سو جاؤ… ” اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اسے گھرکا

“بس آخری دس منٹ ہیں… ” وہ پوری طرح سکرین پر چلتی Elementals میں مگن تھی

“دس منٹ بعد مجھے ٹی وی کی آواز نہ آۓ ” وہ اسے وارن کرتا ہوا اوپر آ گیا, سنایا اور عنایہ دونوں ایک ہی کمرہ شئیر کرتی تھیں, معیز کے کمرے میں جھانکا تو وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا خراٹے لے رہا تھا

وہ سر جھٹکتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا, پانی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے ٹی وی آن کیا تھا, پھر بوتل ساأیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا واش روم میں گھس گیا, چند منٹ بعد باہر نکلا تو اس نے فقط ٹراؤزر ہی پہن رکھا تھا, الماری سے ٹی شرٹ نکال کر پہنتے ہوۓ وہ کمبل میں گھس گیا, بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے چینل سرچنگ شروع کی تھی

اور یکلخت ہی ٹھٹھکا تھا

روشنیوں سے چکا چوند ہوتے اس سٹیج پر کھڑی وہ دلربا… وہی تو تھی

مسکراتی ہوئی… ہزاروں دلوں کو تسخیر کرتی ہوئی, اپنی کامیابی کا ایک اور باب تحریر کرتی ہوئی

وہ بس ریمورٹ ہاتھ میں لیے بیٹھا رہ گیا

“میم ہم نے سنا ہے کہ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد شادی کر رہی ہیں ؟؟؟”

“آپ کی شادی ہو گئی مسٹر ؟؟؟”

“نہیں میم… “

وہ مسلسل ٹی وی سکرین کو دیکھ رہا تھا… بنا سانس لئے, بنا پلکیں جھپکاۓ

“تو آپ کریں گے مجھ سے شادی ؟؟؟”

لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ کئی سال پیچھے چلا گیا تھا

انعمتا… تم شادی کرو گی نا مجھ سے ؟؟؟” گزرے وقتوں میں وہ بھی اس شمع کا پروانہ رہ چکا تھا

“مجھ سے ہر انٹرویو میں, ہر تقریب میں, ہر بزنس گیدرنگ میں, سوشل میڈیا پر… بس یہ ہی سوال داغا جاتا ہے اور جب میں پوچھتی ہوں کہ ” آپ کریں گے مجھ سے شادی ؟؟؟ تو کوئی ہاں بھی نہیں کہتا”

“تم کرو گے… ؟؟؟ مجھ سے شادی ؟؟؟” انعمتا حمدان خان دور کہیں ماضی میں یہ سوال اس سے بھی پوچھ چکی تھی

اس نے ایک دم ٹی آف کر دیا… دل جیسے انگارے کی مانند دہکنے لگا تھا

……………………………….

رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ اور حیان گھر واپس آۓ, حیان بیچارہ تو نیند میں جھولتا ہوا اپنے کمرے تک پہنچا تھا

رعنین اور دانین دونوں کب کی سو چکی تھیں

وہ بھی چینج کر کے اپنے بستر کی طرف آ گئی, سنان کمبل لئے لیٹا تھا, وہ ابھی تک اس کے ساتھ ہی سوتا تھا, وہ لائیٹ آف کرتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی

بہت دیر تک وہ سنان کے بالوں میں انگلیاں چلاتی رہی تھی

“حمدان… ” نیند نہ آئی تو اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی حمدان کی تصویر اٹھا لی

آج اس کے بغیر چودھواں سال بھی گزر گیا تھا

“میں نے آپ سے کئے سارے وعدے پورے کر دییے ہیں حمدان… ” وہ اس کی تصویر پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سرگوشی میں بولی تھی

“انعمتا…. ” اس کی سماعتوں سے حمدان کی لرزتی ہوئی آواز ٹکرائی تھی

“میری رعنا کو وہ سب کرنے دینا جو وہ کرنا چاہے….. میرے بیٹے کو میری کرسی پر بٹھانا…. اور… “

انعمتا کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں

“اور میری دانی کو…. کبھی رونے مت دینا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *