Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 15)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

حنین کی طرف سے پندرہ دن کی چھٹی کی ایپلیکیشن آ گئی تھی, پچھلے دو سالوں میں اس نے اکا دکا ہی چھٹیاں کی تھیں, یہ پہلی بار تھا کہ اس نے اتنی لمبی چھٹی مانگی تھی

حمدان کو اس نے اب بھی کال نہیں کی تھی…. بس یزدان کو اپنی ایپلیکیشن فارورڈ کر دی تھی, حمدان کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ حنین کے نا ہونے سے اسے کتنا نقصان ہو گا لیکن پھر بھی سائن کر دیئے

وہ اگست کی ایک حبس بھری شام تھی, وہ تقریباً شام پانچ بجے آفس سے نکل کھڑا ہوا… بادل گھرتے چلے آ رہے تھے, اور جلد ہی چھما چھم ہونے لگی

جب وہ گھر میں داخل ہوا تو بارش موسلا دھار ہو گئی تھی, گاڑی اندر لاتے ہی وہ ٹھٹھک گیا, انعمتا سمیت اس کے تینوں بچے لان میں بارش میں کھیل رہے تھے, ان تینوں کی خوشی اور مستی کا کوئی عالم نہیں تھا

“اگر ٹھنڈ لگ گئی تو… ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا… انجیکشن لگیں گے پھر ؟؟؟” اس نے گاڑی سے اترتے ہوئے زور سے کہا تھا

“انا کہہ رہی تھیں کچھ نہیں ہوتا… ” یعنی اب انا کی بات زیادہ اہم تھی

“بس کرو اب… آ جاؤ” وہ انہیں اشارہ کرتا ہوا اندر چلا گیا, انعمتا نے کچھ ہی دیر میں تینوں کو کپڑے تبدیل کروا دیئے

رات کے کھانے کے بعد وہ اوپر آ گیا, انعمتا دونوں بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی, وہ وہیں کرسی گھسیٹ کر ان کے پاس بیٹھ گیا

“ایک بال پوائنٹ دو” وہ کچھ فارمز دیکھ رہا تھا, انعمتا نے اسے بال پین پکڑا دی

“میری رول نمبر سلپ بھی آ گئی ہو گی… تھرڈ ائیر کی ” اس نے دھیرے سے کہا تھا

“یہاں سائن کرو اپنے… ” وہ بولا, انعمتا نے چپ چاپ سائن کر دییے

“یہاں بھی… ” وہ کہتا گیا

“یہ کیا ہے ؟؟؟” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا تھا, دونوں بچے انہماق سے ہوم ورک کر رہے تھے, اب تو دانین بھی کے جی کلاس میں تھی

“میں نے تمہارا بی بی اے میں ایڈمیشن کروا دیا ہے…کوئی ضرورت نہیں ہے بی سی ایس کے پیپرز دینے کی” حمدان نے بڑے سکون سے اس کا سکون غارت کیا تھا, وہ دم بخود کھڑی رہ گئی

“پورے سال کی سٹڈی ضائع ہو جاۓ گی…. ” وہ بولی

“کوئی بات نہیں… میں تو پہلے بھی تمہارے بی سی ایس کرنے کے حق میں نہیں تھا” وہ کہہ ہی گیا

“لیکن… مجھے میتھ بالکل نہیں آتا, اور اکنامکس بھی اچھی نہیں لگتی… اور یہ کیا ہے…اکاؤنٹنگ… اور بزنس ایڈمنسٹریشن….. میں کیسے کروں گی ؟؟” وہ رونے والی ہو گئی

“ہو جاۓ گا… ” وہ بولا

“ایسے کیسے ہو جاۓ گا ؟؟؟” اس کی آواز ذرا سی اونچی ہو گئ تھی… پہلی بار حمدان نے اس کی اتنی اونچی آواز سنی تھی, اس نے چونک کر انعمتا کی طرف دیکھا, دونوں بچے بھی پنسل منہ میں دبا کر اسے دیکھنے لگے تھے… وہ بیچاری پزل سی ہو گئی

“میرا مطلب ہے… مجھ سے نہیں ہو گا بی بی اے, مجھے بی سی ایس ہی کر لینے دیں” وہ بولی

“انعمتا… تم صبح نو سے ایک بجے تک میرے ساتھ آفس جایا کرو گی, پھر ایک بجے میں یا یزدان تمہیں اور بچوں کو گھر چھوڑ دیا کریں گے, خود بھی لنچ کیا, بچوں کو بھی کروایا, پھر انہیں سلا کر تم شام تین سے سات بجے تک یونیورسٹی جاؤ گی اور اپنی کلاسز لو گی, سات بجے میں خود تمہیں یونیورسٹی سے واپس لے لیا کروں گا… پھر پوری رات ہماری ہے” وہ سب کچھ پلان کیے بیٹھا تھا

“لیکن… شام ٹائم بچے کون دیکھے گا… ؟؟؟” اس کے پاس بڑا مضبوط بہانہ تھا

“بچوں کی روٹین سیٹ ہو گئی ہے, وہ تینوں سکول سے آ کر سو جاتے ہیں اور میں نے ان تینوں کے لئے ایک بہت اچھی ٹیوٹر کا بندوبست کر لیا ہے, چار بجے قاری صاحب آیا کریں گے اور پانج بجے ٹیوٹر… وہ خود انہیں ہوم ورک کروا دیا کرے گی… ویسے بھی رعنین اور حیان تو اب بڑے ہو گئے ہیں… ہے نا رعنا.. ؟؟؟” اس نے فوراً ان دونوں سے پوچھا

“جی پاپا… ” وہ جوش سے کہہ کر اپنی کاپی پر جھک گئی

“دیکھیں سر… میرا مطلب ہے… وہ… مجھ سے میتھ نہیں پڑھا جاۓ گا… میں پہلے سمیسٹر میں ہی فیل ہو جاؤں گی” وہ بولی

“میں ہیلپ کر دیا کروں گا” وہ بولا

“لیکن… “

“نو مور بحث انعمتا… ” حمدان نے ذرا سختی سے کہا تھا, وہ یکدم خاموش ہو گئی, دونوں آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں جن سے اس وقت نظریں چرا لینا ہی حمدان سیف خان کے حق میں بہتر تھا

اس رات وہ سونے لیٹی تو تا دیر نیند نا آئی, میتھ پڑھنے کا سوچ کر ہی رونگھٹے کھڑے ہو رہے تھے

“بات سنیں…. ” اس نے اپنے برابر لیٹے حمدان کو پکارا جو بس نیند میں اترنے ہی والا تھا

“ہاں… ” وہ اس کی طرف مڑا

“آفس جانا ضروری ہے کیا ؟؟؟” وہ بولی

“ہاں… بہت ضروری”

” بی بی اے کے بعد آفس چلی جایا کروں گی ” اس کے لئے یہ سوچنا بھی محال تھا کہ اسے وہاں حنین کا سامنا کرنا پڑے گا

“انعمتا… ” وہ ذرا سا سیدھا ہوا تھا

“اگر میں آج مر جاؤں تو کمپنی کون سنبھالے گا ؟؟؟” اسے پتہ ہی نہ چلا کہ اس کے الفاظ انعمتا کے دل کی کیا حالت کر گئے تھے

“سو جاؤ… صبح سے آفس بھی جانا ہے” وہ کہہ کر کروٹ بدل گیا تھا, اور وہ بس ساری رات وقفے وقفے سے آنسو ہی بہاتی رہی تھی

………………………..

صبح وہ اسے ساتھ لیکر آفس کے لئے نکلا تھا, آئرہ باہر لان میں چہل قدمی کر رہی تھی

“تمہارا کیا اب آفس میں بھی اس کے بنا دل نہیں لگتا ؟؟؟” اس نے طنز سے کہا تھا

“ظاہر ہے… اتنی خوبصورت بیوی کے بنا میں وہاں آٹھ گھنٹے کیسے گزارا کروں ؟؟؟” وہ گاڑی ان لاک کرتے ہوئے مسکرایا, انعمتا جھینپ سی گئی

“ہاں ہاں… آسمانوں سے حور لے آۓ ہو تم ؟؟؟” وہ کلس گئی

“میرے لئے تو حور ہی ہے… ” وہ ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ اس پر اچھالتے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا, انعمتا اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی

“ایک بات پوچھوں آپ سے ؟؟؟” اس نے بڑا ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

“حکم… ” وہ بولا

“میں نے سنا ہے کہ آئرہ باجی آپ سے شادی کرنا چاہتی تھیں… ” اس کے کہتے ہی حمدان کے لبوں سے ہنسی کا فوارہ نکل گیا, انعمتا بس حیرانی سے اسے دیکھتی رہ گئی

“کس سے سنا… ؟؟؟” وہ ہنسے جا رہا تھا

“بس ایسے ہی…. ادھر ادھر سے” وہ بولی

“میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا انعمتا… کبھی غلطی سے بھی اس کے سامنے اسے “باجی” مت کہنا… سمجھیں” اسے “آئرہ باجی” ذہن میں آتے ہی پھر ہنسی آ گئی

“کیوں ؟؟؟ وہ مجھ سے اتنی بڑی ہیں… اور وہ ہر وقت اتنے سٹائل میں رہتی ہیں تو… باجی نا کہوں تو کیا کہوں؟؟” وہ بولی

“اسے آئرہ ہی کہہ لیا کرو… بس, باجی مت کہنا کبھی بھی…” وہ اسے بار بار وارن کر رہا تھا, انعمتا خاموش ہو گئی

آفس آ گیا تھا, اندر آتے ہی اس کی جان پر بن گئی لیکن اسے حنین کہیں نظر نا آیا, حمدان اسے اپنے ساتھ ہی اپنے آفس میں لے آیا تھا

“تم یہاں بیٹھا کرو گی… میرے ساتھ والی کرسی پر اور جو کچھ میں کیا کروں گا یا سمجھایا کروں گا اسے اچھے سے سمجھنے کی کوشش کیا کرو گی… ٹھیک ہے ؟؟؟” وہ بولا, انعمتا نے اثبات میں سر ہلا دیا

“ہر دن کے اینڈ پر تمہارا ایک ٹیسٹ ہوا کرے گا… ” وہ جو مسلسل اثبات میں سر ہلا رہی تھی ایکدم چونک گئی

“ٹیسٹ… وہ کیوں ؟؟؟”

“تاکہ مجھے پتہ چلتا رہے کہ تم کچھ سیکھ بھی رہی ہو کہ نہیں ” وہ بولا

“سر میرا… مطلب میرا قصور کیا ہے ؟؟؟” وہ روہانسی ہو گئی

“تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے حمدان سیف خان سے شادی کی ہے” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا, انعمتا بس شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی

سارا دن وہ اسے چھوٹی موٹی باتیں سمجھاتا رہا, وہ سنتی رہی… اور دعا کرتی رہی کہ حنین اندر نا آۓ

“یزدان… پراجیکٹ فائلز سائن ہو گئی ہیں ساری؟؟؟” اس نے تقریباً ساڑھے بارہ کے قریب اسے بلایا تھا

“جی سر… “

“حنین کے واپس آتے ہی نئے پراجیکٹس شروع کر لینا ” وہ بولا

“جی سر… ” یزدان نے بس ایک نظر انعمتا کو دیکھا تھا

“یزدان… ایسا کرو, انعمتا کو اور بچوں کو گھر چھوڑ آؤ… تین بجے اس نے یونیورسٹی بھی جانا ہے” وہ بولا

“میں اکیلی جاؤں گی ؟؟؟” وہ تڑپ گئی

“اب میں تو نہیں جا سکتا روز تمہارے ساتھ یونیورسٹی ؟؟؟” وہ بولا

“پہلے دن تو ساتھ چلیں… ” حمدان کو لگا جیسے وہ ابھی رو دے گی

“اچھا دیکھتا ہوں… جاؤ اب” اس کے کہتے ہی وہ اتنی سرعت سے اس کے آفس سے نکلی جیسے کوئی قیدی جیل توڑ کر نکلتا ہے, حمدان بس مسکراتا چلا گیا تھا

گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ اس نے یزدان نے پوچھا تھا

“یزدان… حنین کیوں نہیں آ رہا ؟؟؟”

“اس نے پندرہ دن کی چھٹی لی ہے” وہ بولا

“کیوں ؟؟؟”

“آپ کو نہیں پتہ… ؟؟؟”

“کیا… ؟؟؟

“اس کے بھائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے… کچھ دن پہلے ” یزدان نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا, انعمتا چپ بیٹھی رہ گئی

دل یکدم دکھ سے بھرتا چلا گیا

شام تین بجے حمدان خود اسے یونیورسٹی چھوڑ کر آیا… بلکہ ڈپارٹمنٹ تک چھوڑ کر آیا, وہ خود اسی ڈپارٹمنٹ کا سٹوڈنٹ رہا تھا, پروفیسرز اسے اچھی طرح جانتے تھے

ایک دو کلاسز لیکر اس نے اسمارہ کو کال کی تھی

“اسمارہ… حنین کے بھائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے” کچھ دیر اس سے بات کر کے انعمتا نے دھیرے سے کہا

“ہاں… ہمیں پتہ ہے, ابو گئے تھے اس کے جنازے پر” وہ بولی, انعمتا دنگ رہ گئی

“تمہیں آج پتہ چلا ؟؟؟” اسمارہ پوچھ رہی تھی

“ہمیں لگا کہ تمہیں پتہ ہو گا… حمدان بھائی نے بتایا ہی ہو گا” وہ کہتی جا رہی تھی, انعمتا نے چپ چاپ کال کاٹ دی

تا دیر وہ حنین کا نمبر نکال کر بیٹھی رہی… سکرین دیکھتی رہی… پھر چپ چاپ نمبر ڈیلیٹ کر دیا

……………………

اس دن ہفتہ تھا… انعمتا نے بڑی منتیں ترلے مار مار کر حمدان سے ایک بجے ہی گھر واپس جانے کی چھٹی لے لی تھی, اس دن کے ٹیسٹ میں بھی اس کا صفر نمبر ہی تھا, ایک ہی وقت میں گھر, آفس, یونیورسٹی… وہ کیا کچھ یاد رکھتی

اس دن بچوں کی ٹیوٹر نے بھی چھٹی کر لی

موجیں ہی موجیں تھیں… اس نے جھٹ پٹ تینوں بچوں کو ہوم ورک کروایا اور پھر فٹ بال لیکر باہر لان میں نکل آۓ, رعنین اور حیان سے تو اس کی اچھی دوستی ہو گئی تھی, کیونکہ عقل کے معاملے میں وہ ان سے بہت زیادہ اوپر نہیں تھی, اور دانین تو اسے باقاعدہ اپنا ہر دکھ سکھ اپنی زبان میں سمجھانے لگی تھی جسے وہ سمجھ بھی لیتی تھی

اب بھی ان چاروں نے لان میں اچھا ہی غدر مچایا, وہ خود دوپٹہ کمر سے باندھے ان کے ساتھ بچی ہی بن گئی تھی, اچانک اس کی نظر مین دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے اس سات سال کے بچے پر پڑی, وہ بڑی حسرت سے انہیں کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا

“حیان وہ کون ہے ؟؟” اس نے پوچھا

“وہ زارون ہے انا… خالہ کا بیٹا, خالہ اسے ہمارے ساتھ زیادہ کھیلنے نہیں دیتیں” حیان نے کہا

“دیکھو اس کا کتنا دل کر رہا ہے ہمارے ساتھ کھیلنے کا” وہ بولی

“آ جاؤ… ” اس نے زارون کو اشارہ کیا تھا, وہ مڑ کر اندر کی طرف دیکھنے لگا

“کچھ نہیں ہوتا… آ جاؤ” وہ ذرا زور سے بولی تھی, زارون بھاگتا ہوا لان میں آ گیا

“چلو اب میں اور زارون ایک ٹیم میں ہیں… تم دونوں دوسری ٹیم میں… ٹھیک ہے ؟؟؟” وہ زارون کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی تھی

اور دور کھڑی قسمت دھیرے سے مسکرائی تھی

…………………….

وہ بھی اس دن آفس سے ذرا جلدی آ گیا, گاڑی اندر لاتے ہی وہ ٹھٹھک گیا, لان میں اچھی خاصی گرما گرمی جاری تھی, آئرہ فل ٹائم زارون کی انگلی پکڑے انعمتا پر برس رہی تھی اور وہ بس سرخ تمتماتا ہوا چہرہ لئے اسے اپنی صفائی میں کچھ کہہ رہی تھی

جیسے ہی وہ کچھ کہتی… آئرہ کا پارہ مزید آسمان کو چھو جاتا, رعنین اور حیان اس کے دائیں بائیں کھڑے تھے

“اب کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ گاڑی سے اتر کر ان کی طرف آ گیا

“پوچھو اپنی اس چھمک چھلو سے… ” آئرہ ایک دم دہاڑی, انعمتا صحیح معنوں میں کانپ سی گئی

“وہ…. ہم سب فٹ بال کھیل رہے تھے, تو میں نے زارون کو بھی بلا لیا, اس کے کپڑے تھوڑے گندے ہو گئے تو آئرہ باجی اسے ڈانٹنے لگیں, میں نے تو آئرہ باجی کو بس اتنا کہا کہ بچہ ہے… پھر کیا ہوا… آئرہ باجی کو غصہ آ گیا…اور آئرہ باجی کب سے مجھے ڈانٹے جا رہی ہیں… ” وہ بیچاری اپنے تئیں اسے آئرہ کی شکایت لگا رہی تھی, حمدان کی بیساختہ ہی ہنسی نکل گئی, وہ اسے کہہ نا سکا کی جتنی دفعہ تم نے اسے باجی کہا ہے شکر مناؤ کہ تم ابھی تک زندہ سلامت کھڑی ہو, آئرہ کے غیض و غضب کا کوئی حال نہیں تھا,

“حمدان… میں آخری بار کہہ رہی ہوں, اپنی اس پھلجھڑی کی زبان قابو میں کروا لو ورنہ میں کسی دن اس کی زبان کھینچ لوں گی” وہ تن فن کرتی زارون کو لیکر وہاں سے چلی گئی تھی

“میں نے اس دن صبح کیا سمجھایا تھا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“کیا… ؟؟؟” اسے یاد ہی نہیں تھا

“کچھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی انعمتا…. اسے غصہ زارون کے تمہارے ساتھ کھیلنے پر نہیں آیا بلکہ تمہارے اسے باجی کہنے پر آیا ہے… اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو آییندہ اسے کبھی باجی مت کہنا” وہ اب بھی مسکرا رہا تھا

انعمتا بس اپنے آنسو صاف کرتی رہ گئی

…………………………

اس رات وہ تینوں بچوں کو آئس کریم کھلانے لیکر آیا تھا, انعمتا بھی ساتھ ہی تھی, وہاں سے واپسی پر وہ انہیں مارٹ لے گیا, ان تینوں نے اپنی فیورٹ کینڈیز, چاکلیٹس اور سنیکس کے انبار اکٹھے کر لییے تھے

“کینڈی کوئی بچہ نہیں لے گا… دانت خراب ہوتے ہیں” اس نے چن چن کر کینڈیز الگ کر دیں

“تم بھی کچھ لے لو” وہ انعمتاکی طرف مڑا, وہ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتی رہی پھر ایک کٹ کیٹ اٹھا کر ایک طرف رکھ دی

“بس… ؟؟؟”اس نے کہا, انعمتا نے اس کی طرف دیکھا اور ایک اور کٹ کیٹ اٹھا لی, حمدان نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پورا ڈبہ دوکاندار کے سامنے کر دیا تھا اور اس لمحے انعمتا کی آنکھوں کی چمک اس کی اپنی آنکھیں خیرہ کئے دے رہی تھی

……………………….

انعمتا کی روٹین شروع ہوۓ ایک ہفتہ ہو گیا تھا, وہ صبح تینوں بچوں کو سکول بھیج کر خود نو بجے حمدان کے ساتھ ہی آفس چلی جاتی, ایک بجے تک اس کے ساتھ ہی آفس میں بیٹھتی, ساڑھے بارہ کے قریب وہ اس کا ٹیسٹ لیتا جس میں وہ ابھی تک تو صفر ہی تھی, ایک بجے یزدان اسے اور بچوں کو گھر چھوڑ دیتا… وہ سب مل کر لنچ کرتے, پھر بچے تو سو جاتے جبکہ وہ تین بجے یونیورسٹی چلی جاتی, سات بجے تک میتھ, اکنامکس اور کمپیوٹر سائنس ہضم کرنے کے جتن کرتی رہتی… اور شام سات بجے حمدان اسے واپس لے آتا تھا, اس طرح وہ آئرہ اور اس کی ماں کے عتاب سے بھی بچی رہتی تھی

وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… حمدان رات دیر سے گھر واپس آیا, فریحہ کو سلام کر کے وہ اوپر چلا آیا, خلاف معمول کمرے میں صرف بچے ہی تھے

اسے دیکھتے ہی رعنین اور حیان اس کی طرف دوڑے آۓ

“پاپا آپ کو پتہ ہے آج کیا ہوا… دونوں پھپھو آئی ہوئی ہیں… انہوں نے انا کی اتنی انسلٹ کی… اتنی زیادہ, انا تب سے وہ اپنے کمرے میں بیٹھی روۓ جا رہی ہیں, لنچ بھی نہیں کیا اور… یونی بھی نہیں گئیں” وہ پکے خبری بنتے جا رہے تھے

ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے وہ الٹے قدموں اس کے کمرے میں چلا آیا, وہ بستر پر کروٹ لیے لیٹی تھی, وہ دھیرے سے اس کے برابر میں لیٹا اور بڑے حق سے اس کے کندھوں کے گرد بازو گزار کر سے اپنی طرف موڑ لیا, انعمتا کی جان حلق میں آئی تھی, وہ واقعی دوپہر سے وقفے وقفے سے رو رہی تھی, آنکھیں سوج کر سرخ بوٹی جیسی ہو رہی تھیں, آنسوؤں کی قطاریں جن کے مٹے مٹے سے نقش اب بھی گالوں پر موجود تھے

“کیا ہوا میری جان کو ؟؟؟” بس اس کے پوچھنے کی دیر تھی, اس کی بڑی بڑی جھیل نما آنکھیں یکدم ہی آنسوؤں سے بھرتی چلی گئیں اور بھرتے ہی کناروں سے چھلک گئیں

حمدان کے جیسے دل پر ہاتھ پڑا تھا

“انعمتا… ” اس نے زور سے اسے اپنی آغوش میں بھر لیا

“کیا کہا انہوں نے… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا

“آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی, آپ یوں کریں… مجھے یا تو ابو کے گھر چھوڑ آئیں یا پھر… کسی اور گھر میں رکھ لیں… کوئی چھوٹا سا…. میں وہاں رہ لوں گی… اس طرح روز روز سب میری اتنی بے عزتی کرتے ہیں کہ حد نہیں… ” وہ بےتحاشا روتے ہوئے اس کی شرٹ گیلی کرتی چلی گئی, حمدان بس تاسف سے سب کچھ سنے جا رہا تھا

“بھلا میں نے کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لیں…. ” وہ اس سے الگ ہو کر پوچھ رہی تھی, آنسؤں سے بھیگا ہوا وہ حسین ترین چہرہ بس اس سے چند انچ کی ہی دوری پر تھا, حمدان کی نظریں اس کے کپکپاتے ہوۓ لبوں پر ٹک گئیں

وی سچ ہی تو کہہ رہی تھی… بھلا اس نے تھوڑی کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو… حمدان نے اپنی مرضی سے اپنایا تھا اسے پھر بھلا وہ آۓ روز اس کے گھر والوں سے بے عزتی کیوں کرواتی… ؟؟؟

بہت محبت سے اس نے انعمتا کے کپکپاتے ہوۓ لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیا تھا, اس کا لرزتا ہوا وجود یکدم ہی ساکت ہو گیا, اس نے مضبوطی سے اس کی شرٹ کا کالر جکڑ لیا, حمدان بس ایک کے بعد ایک ان لبوں سے اپنا سکون کھینچتا چلا گیا تھا, ان سے زیادہ شیریں تو شاید دنیا میں کچھ بھی نہیں تھا

کافی دیر بعد حمدان نے اس کے لبوں کو آزادی بخشی تھی

“آؤ میرے ساتھ… ” وہ اس کا ہاتھ تھام کر نیچے لے آیا, وہ دونوں فریحہ کے کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھیں

“میں صرف ایک بار پوچھوں گا کہ تم دونوں نے انعمتا کو کیا کہا ہے ؟؟؟” وہ انتہائی سخت لحجے میں بولا تھا

“ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا… ” وہ صاف مکر گئیں

“چلو ٹھیک ہے… تم دونوں کا جو مشترکہ اکاؤنٹ کھلوایا تھا میں نے وہ میں بلاک کروا رہا ہوں… تم دونوں کا خرچہ اٹھانا تمہارے شوہروں کی ذمہ داری ہے, میری نہیں… اور مجھے دو دن کے اندر جتنا قرض لیا تھا واپس چاہئے… کتنا تھا بھلا… ؟؟؟” ہاں ساٹھ لاکھ… ” اس کے کہتے ہی دونوں کے رنگ اڑے تھے

“اپنے شوہروں سے کہنا کہ دو دن کے اندر اندر مجھے ساٹھ لاکھ واپس چاہئے, ایک انویسٹمنٹ کرنی ہے…” وہ بولا

“حمدان میری بات سن… ” لیکن اس نے ہاتھ کھڑا کر دیا

“میری ایک بات تم دونوں کان کھول کر سن لو… یہ میری بیوی ہے اور میری عزت ہے… آج تم دونوں نے اسے بے عزت نہیں کیا… مجھے بے عزت کیا ہے اور میں اپنی بے عزتی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتا” وہ انتہائی سرد لحجے میں کہتا ہوا انعمتا کا ہاتھ تھامے باہر نکل گیا تھا

اگلے ہی دن اس نے اپنے دونوں بہنوئیوں کو طلب کر لیا, وہ دونوں ہی آفس میں نہیں تھے

“بھائی یہ تو عام معمول ہے ان دونوں کا… اول تو آنا ہی لیٹ… اور پھر کبھی کہیں نکل جانا تو کبھی کہیں… ” یزدان خود عاجز آیا ہوا تھا

“یزدان کال کر ذرا… اور ریکارڈنگ آن رکھنا, یہ نا کہنا کہ میں نے بلایا ہے” وہ بولا, یزدان نے اسی وقت کال کی تھی, شاہین کے میاں جاوید نے اسے وہ سنائیں کہ خدا کہ پناہ… بلقیس کے شوہر ماجد کا بھی یہ ہی حال تھا

ان دونوں کے آفس آتے ہی حمدان نے وہ ریکارڈنگز ان دونوں کے سامنے آن کر دیں اور ساتھ ہی ان دونوں کو ٹرمینیشن لیٹر جاری کر دیا

“میں نے ہر کام چور کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا… ” وہ بولا

“کل تک ساٹھ لاکھ واپس نا کیے تو میں پولیس سے رابطہ کروں گا” اس نے دونوں کی سٹی گم کی تھی

کچھ ہی دیر میں وہی صدیوں پرانا حربہ… جو ہر جوائی استعمال کرتا ہے

“اپنی بہن کو لے جاؤ… “

“میری بہن پہلے ہی میرے گھر بیٹھی ہے… سو بیٹھی رہے, خبردار جو اسے کوئی فون کیا, اپنے چاروں بچے اپنے پاس ہی رکھو… جب مرضی اسے طلاق بھجوا دینا, تم سمیت تمہارے چار بچوں کو پالنے سے ایک بہن کو پالنا آسان ہو گا میرے لئے ” وہ اس بار سخت ہو گیا تھا, دو دن میں اس نے شاہین اور بلقیس کا اکاؤنٹ بند کروا دیا, دونوں سے فون بھی لے لئے, انہیں واپس بھی نا جانے دیا

صرف ایک ہفتہ…. اور ایک ہفتے بعد وہ چاروں اس کے سامنے سر جھکاۓ بیٹھے تھے

“حمدان… میرے بھائی مجھے معاف کر دے, آج کے بعد میں اسے ایک لفظ بھی نہیں کہوں گی, ہمیشہ اس کے سامنے نظریں نیچے رکھوں گی… ” شاہین روۓ جا رہی تھی, یہ ہی حال بلقیس کا تھا

“بلا اسے حمدان… ہم اس سے معافی مانگ لیتے ہیں, ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتے ہیں”

“حمدان بھائی … غلطی ہو گئی ہم سے, آئندہ ایسے نہیں ہو گا, آییندہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی… وقت پر آفس آئیں گے اور… جلد از جلد آپ کے سارے پیسے واپس کر دیں گے” جاوید اور ماجد بھی شرمندہ سے تھے

“رعنین…. انا کو بلانا ذرا” اس نے لاؤنج میں کھیلتی رعنین کو آواز دی تھی, وہ فوراً اسے بلا لائی

“انعمتا… چندا ہمیں معاف کر دے, تو تو لاڈلی بھابھی ہے ہماری… ہیں… آئندہ تیرے آگے بول بھی جائیں تو زبان کاٹ دینا… ” انعمتا ہکا بکا کھڑی تھی

“بھابھی ہم شرمندہ ہیں آپ سے, ان دونوں کی زبانیں ویسے ہی بہت کھلی ہوئی ہیں… ہمیں معاف کر دیں” جاوید نے کھڑے ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, انعمتا کچھ بول ہی نہ سکی

اور حمدان نے اس رات ہی اندازہ لگا لیا کہ اسے دوسرے سانپ کا سر بھی اٹھنے سے پہلے ہی کچل دینا چاہئے تھا اور اس نے ایسا ہی کیا, اگلی باری کیف خان اور ان کے دونوں بیٹوں کی تھی, اس نے وقت سے پہلے ہی انہیں گھٹنوں پر کر لیا

“آئندہ ہماری طرف سے تیری بیوی پر کوئی انگلی نہیں اٹھاۓ گا… یہ ہماری بھی عزت ہے” کیف خان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, عنقریب ان کے دونوں بیٹوں کی شادی تھی

“چچا جان بہتر ہو گا آپ آئرہ کو بھی اپنے لفظوں میں سمجھا لیں… ورنہ وہ انعمتا سے معافی مانگتی اچھی نہیں لگے گی” حمدان نے سخت لحجے میں کہا تھا

اس رات وہ اس کے پہلو میں آ کر لیٹا تو وہ بہت خوش تھی… بات بات پر ہنس رہی تھی, بلا وجہ مسکرا رہی تھی

شوہر پر صرف بیوی کی عزت کرنا ہی لازم نہیں ہوتا… اس کی عزت کروانا بھی لازم ہوتا ہے… اور آج حمدان نے اس کی عزت کروائی تھی, اپنے پورے خاندان سے… اور اس کے لئے یہ ہی بہت تھا

“تھینک یو… ” وہ ابھی تک اس کا نام لینے سے کتراتی تھی

“میرا نام لیکر تھینک یو کہو” وہ کروٹ لیکر اس کی طرف مڑا, انعمتا اس کے پاس ہی بیٹھی تھی, اس کی بات پر چپ سی ہو گئی

“اتنا مشکل تو نہیں ہے میرا نام… ” وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا, وہ ہلکے سبز رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھی, ساتھ ریشمی دوپٹہ حسب معمول گلے میں ڈالا ہوا تھا, بالوں کو اونچی سی پونی میں قید کیا ہو تھا, حمدان نے ذرا سا آگے ہو کر اس کے گلے سے دوپٹہ کھینچ دیا, وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے سامنے شرم سے سمٹتی چلی گئی

“تھینک یو حمدان…. ” وہ دھیرے سے بولی تھی

“پاس آ کر کہو… وہ بولا, انعمتا اس کے تھوڑا سا اور قریب ہو گئی

“اور پاس… ” وہ بولا, انعمتا نے ایک نظر اسے دیکھا, وہ سر کے نیچے ہاتھ رکھے, کروٹ لیے, بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا, وہ اس کا تھا… پورے کا پورا

بڑی ہمت کر کے اس نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا

“تھینک یو حمدان…. ” اس نے بالکل اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی, وہ بس خفیف سا مسکراتے ہوئے اس کے نرم و نازک وجود کو اپنے دونوں بازوؤں میں بھرتا چلا گیا تھا

………………………

وہ اس شام یونیورسٹی سے ذرا جلدی گھر واپس آ گئی تھی, حمدان اسے گیٹ کے سامنے اتار کر دوبارہ آفس چلا گیا, وہ اندر آئی تو رعنین اور حیان کہیں جانے کے لئے تیار کھڑے تھے

“تم دونوں کہاں چلے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“انا… آج پاپا کا برتھ ڈے ہے, ہم ان کے لئے گفٹ لینے جا رہے ہیں, چاچو کو کال کی ہے وہ بس آ رہے ہیں” حیان نے کہا

“انا آپ بھی چلیں… آپ نے بھی تو پاپا کو گفٹ دینا ہو گا” وہ بولا

“لیکن میرے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں… ” وہ بے چارگی سے بولی

“چاچو سے لے لینا… ” رعنین نے کہا

“نہیں… تم لوگ جاؤ, میں کچھ اور سوچ لیتی ہوں” اسے یزدان سے کہنا اچھا نا لگا, یہ سچ تھا کہ اس کے پاس فی الحال کوئی پیسہ نہیں تھا

حمدان کے آنے سے پہلے ہی وہ دونوں واپس آ گئے, وہ دانین کے لئے بھی گفٹ لاۓ تھے, حمدان آٹھ بجے فغر آیا, ان دونوں نے انعمتا کے ساتھ مل کر اسی کے کمرے میں کیک سیٹ کیا تھا, شاپنگ ساری یزدان نے کروائی تھی

“چاچو… پاپا کو مت بتانا پلیز” وہ دونوں بار بار کہہ رہے تھے

کھانے کے بعد وہ اسے اوپر لے آۓ, دانین تو خوشی سے اس کی گود میں چڑھی ہوئی تھی

“Happy birthday Papa… Happy birthday papa… “

تینوں بچوں نے کمرہ سر پر اٹھا لیا, انعمتا بھی ایک طرف کھڑی مسکرا رہی تھی

“پاپا کیک کاٹیں… ” حیان نے اسے کرسی پر بٹھا دیا, اس نے اور دانین نے مل کر کیک کاٹا تھا

“پاپا یہ آپ کے لئے… ” رعنین نے اسے زور سے جپھی ڈال کر اپنا گفٹ پکڑایا تھا, پھر حیان نے اس کے گلے میں بازو ڈال کر اسے گفٹ دیا, رعنین نے تو اس کے دونوں گال ہی چوم ڈالے تھے

“پاپا… گف…. گف” وہ بھی اسے گفٹ دے رہی تھی

“انا… آپ بھی پاپا کو وش کریں… اور گفٹ دیں” وہ تینوں اس کی طرف دیکھنے لگے

“میرا گفٹ… ؟؟؟” وہ بھی اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا

“happy birthday hamdan… “

اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے ایک چاکلیٹ اس کی طرف بڑھائی تھی

“تمہیں پتہ ہے نا کہ مجھے چاکلیٹس بالکل پسند نہیں ہیں” وہ بولا

“میرے پاس بس یہ ہی تھی… “

“گفٹ کیوں نہیں لیا… ؟؟؟”

“وہ.. میرے پاس… پیسے نہیں تھے” اس کے کہتے ہی حمدان چونک گیا

“کیوں ؟؟ میں تو ہر مہینے تمہارے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرواتا ہوں…” وہ بولا

“مجھے نہیں پتہ تھا. ..” وہ معصومیت سے بولی تو حمدان کو خود پر غصہ آیا

“تمہارا کارڈ کہاں ہیں ؟؟؟”

“دراز میں… “

“اس سے نکلوا لیا کرو پیسے” وہ بولا

“مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ… میرا کوئی اکاؤنٹ بھی ہے…. اور مجھے کارڈ بھی چلانا نہیں آتا… میں تو یہ ہی سمجھی کہ وہ کارڈ آپ کا ہے” وہ کہتی چلی گئی, حمدان کو خود پر افسوس ہوا تھا, اسے انعمتا کو کیش دینا چاہئے تھا, وہ ایک لکھ پتی کی بیوی ہونے کے باوجود اتنے دنوں سے خالی ہاتھ تھی

“پاپا… آپ انا کو ہماری طرح پاکٹ منی دے دیا کریں نا” حیان اس سے زیادہ سمجھدار تھا

“اچھا چلو وش تو کر دو.. ” وہ بولا

“کر تو دیا… ” وہ بولی

“انا ایسے نہیں… پاپا کو hug کر کے وش کریں نا” رعنین بھی اس سے زیادہ سمجھدار تھی, انعمتا بس اسے دیکھتی رہ گئی اور حمدان جانتا تھا کہ وہ قیامت تک خود سے آگے بڑھ کر اسے وش نہیں کرے گی سو خود ہی اٹھا اور آگے بڑھ کر اسے اپنے بازو کے حلقے میں لے لیا, بہت محبت سے اس نے انعمتا کی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے

…………………………

وہ یونیورسٹی میں تھی جب اسے حمدان کی کال آئی

“انعمتا آج شام کو ہمیں ایک بزنس سیمینار میں جانا ہے… میری واپسی تک اچھا سا تیار ہو جانا….میں نے پچھلے ہفتے جو سوٹ خرید کر دیا تھا وہ پہن لینا… ” حمدان نے اس کا سکون برباد کیا تھا

گھر آ کر اس نے وہ سوٹ نکالا… اور نکالتے ہی شرم سے سرخ ہو گئی, نا اس کے بازو, نا اس کے ساتھ دوپٹہ, نا کوئی پاجامہ…

اس نے اپنے پرانے کپڑوں میں سے ایک سوٹ نکال لیا, پھر شیشے کے سامنے آ گئی, جتنا اسے تیار ہونا آتا تھا اتنا ہو گئی

حمدان نو بجے واپس آیا, تب تک وہ بچے سلا کر اس کے انتظار میں تیار بیٹھی تھی

“انعمتا تیار ہو… ؟؟؟” اندر آتے ہی وہ ٹھٹھک گیا, انعمتا کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے

“میں نے کہا تھا بہت اچھا سا تیار ہو جانا…” وہ بولا

“بہت اچھا تو نہیں کہا تھا…. ” وہ روہانسی ہو گئی

“وہ سوٹ کیوں نہیں پہنا… ؟؟؟”

“اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے…. نا بازو, نا دوپٹہ”

“انعمتا تمہارا کوئی حال نہیں ہے…. ” وہ اپنا سر پیٹ کر الماری کی طرف بڑھا, اپنا ایک تھری پیس نکالا اور جلدی سے چینج کیا, پھر بال بناۓ, پرفیوم لگایا اور اس کا وہ سوٹ نکال کر شاپر میں ڈالا

“چلو… ” وہ اس کا ہاتھ تھام کر نیچے آیا تھا

“یزدان یار اوپر بچوں کے پاسجا کر لیٹ جا… ہم بس دو گھنٹے تک آ جائیں گے” وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے یزدان سے کہہ کر باہر نکل گیا

وہاں سے سیدھا وہ ایک پارلر پر آیا تھا

“حمدان سر آپ… ” بیوٹیشن اسے جانتی تھی

“حرا… تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں, یہ پکڑو سوٹ, اور یہ رہی میری وائف… ” وہ بولا

“سر اپ فکر ہی نا کریں… ” وہ اسے لیکر اندر چلی گئی

حمدان وہیں اس کا انتظار کرنے لگا, سیمینار ہال سے کالز پر کالز آ رہی تھیں, اس کے لئے ایک ایوارڈ بھی تھا

وہ بیس منٹ بعد ہی باہر آ گئی, حمدان سیل کان سے لگاۓ اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا

“حمدان سر… ” حرا کی آواز پر وہ پلٹا, سیل ہنوز کان سے لگا تھا

“آپ کی وائف… ” وہ بولی اور انعمتا کی طرف اشارہ کر دیا

حمدان صحیح معنوں میں اپنے کان سے سیل ہٹانا بھول گیا تھا

وہ بے پناہ حسین لگ رہی تھی, فیروزی رنگ کی پیروں تک آتی اس ہاف سلیوز میکسی میں گولڈن اور پنک میک اپ کے ساتھ وہ پہچانی نہیں جا رہی تھی, سیل کان سے ہٹاتے ہوئے وہ اس کی طرف آیا تھا

“پلیز میری شال تو دے دیں” وہ حد سے زیادہ پزل ہو رہی تھی, حرا نے ہنستے ہوئے شال حمدان کی طرف بڑھا دی, اس نے مسکراتے ہوئے وہ شال اس کے کندھوں پر ڈال دی تھی

اس کا ہاتھ تھام کر وہ سیمینار ہال کی طرف بڑھا تھا, اپنے ہاتھوں میں مقید اس کے نم ہاتھوں کی کپکپاہٹ سے اسے اس کے نروس ہونے کا اندازہ ہو رہا تھا, سیمینار ہال کی سیڑھیاں چڑھتے وقت اس نے انعمتا کا ہاتھ چھوڑا اور پورے حق سے اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا یوں کے وہ بالکل اس کے حصار میں آ گئی تھی

پیٹھ پیچھے لوگ اسے جو بھی کہتے ہوں لیکن اس وقت وہ رات صرف ان دونوں تھی, ریسیپشن پر اسے پھولوں کا بکے پیش کیا گیا تھا

“Congratulations sir.. & mam too… “

وہ اپنا ایوارڈ وصول کرنے اسے ساتھ لیکر سٹیج پر گیا تھا, وہ ہر نگاہ کا منظر تھی… اور ہر نگاہ میں ستائش تھی, گرے تھری پیس میں ملبوس انتہائی شاندار شخصیت کے حامل اپنے شوہر کے پہلو میں کھڑے ہونا ہی اس کے لئے باعث فخر تھا

وہ تقریباً دو گھنٹے وہاں رکا رہا, مختلف لوگوں سے ملا, سب سے اس کا تعارف کروایا, بشر بھی آیا ہوا تھا

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ دونوں وہاں سے واپس آۓ, انعمتا پورا راستہ ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی, گاڑی سے اترتے ہی وہ لڑکھڑا گئی, اسے کہاں عادت تھی اتنی دیر تک ہائی ہیلز پہننے کی, اندر آتے ہی سب سے پہلے اس نے صوفے پر بیٹھ کر دونوں جوتے اتارے تھے

“خود چلی جاؤ گی اوپر یا مجھے اٹھا کر لے جانا پڑے گا…؟؟؟” حمدان نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا

“نہیں میں خود ہی چلی جاؤں گی” وہ دھیمے سے کہتے ہوئے دونوں جوتے اٹھا کر کھڑی ہو گئی, حمدان نے مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ پزل سی ہو کر اوپر کی طرف بڑھ گئی, وہ اس کے پیچھے ہی اوپر آیا تھا

دھیرے سے دروازہ کھول کر اس نے بچوں والے کمرے میں جھانکا, یزدان سمیت وہ تینوں مست سو رہے تھے, وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گیا

انعمتا آئینے کے سامنے کھڑی تھی, اپنے ریشمی بالوں اور ان میں الجھتے نیکلس اور جھمکوں سے لڑ رہی تھی, حمدان نے اپنا کوٹ اتار کر صوفے کی پشت پر ڈالا, پھر ٹائی اتاری اور دھیرے سے اس کی طرف آیا

“چھوڑ دو.. ” اس نے سرگوشی میں کہا تھا, انعمتا نے دھیرے سے بال چھوڑ دیئے, حمدان نے بہت نرمی سے اس کے جھمکوں میں الجھتے بال آزاد کرواۓ اور دونوں جھمکے اتار دیئے, پھر اس کے لمبے ریشمی بال اس کی گردن پر سے ہٹا کر آگے کو ڈال دییے تھے, انعمتا کی جان جیسے اس کے حلق میں اٹک گئی, حمدان کی انگلیاں اس کے گردن سے مس ہوئیں تھیں, بہت نرمی سے اس نے نیکلس کا لاک کھولا اور اتار دیا, انعمتا نے اپنے پوری ہمت جمع کرتے ہوئے آئینے میں نظر آتا اس کا عکس دیکھا تھا… وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا

بڑے حق سے, بڑی محبت سے, اس نے انعمتا کے دونوں کندھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے تھام لیا, بہت چاہت سے, بہت الفت سے اس نے اپنے لب اس کی سفیدی مائل گردن پر رکھے تھے, انعمتا کی آنکھیں بند ہو گئیں, بہت شدت سے, بہت جنونیت سے وہ اس کی چاندی مائل گردن کو گیلا کرتا جا رہا تھا, اس کے لب گردن سے فاصلہ طے کرتے کرتے اس کے مرمریں بازوؤں پر اتر آۓ, انعمتا کے رونگھٹے کھڑے ہو رہے تھے, اس کے دونوں کندھوں پر ہلکا سا زور ڈال کر حمدان نے اسے اپنی طرف موڑ لیا

زمین کی وہ حور سر تا پیر اس کی تھی, صرف ایک رات کے لئے نہیں… پوری زندگی کے لئے, وہ اس کا نصیب تھی… وہ اس کا سکون تھی

“میری محبت میں تم کبھی کوئی کمی نہیں دیکھو گی انعمتا… میں پورے کا پورا تمہارا ہوں… ہر پل, ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہوں” اس کے لئے پھول سے مشابہ انعمتا حمدان خان کو اپنی بانہوں میں اٹھا لینا کوئی مشکل نہیں تھا, وہ پوری طرح اس کی قربت سے سرشار ہو چکی تھی, بہت دھیرے سے اسے بستر تک لا کر وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا

“وہ ہونٹ ہیں کہ گلاب کی پتیاں جن کو ہوا نے چھو کرہر اک شجر کی لچکتی ڈالی پہ خوش خطی سے محبتوں کے صحیفے لکھے… ” وہ اس کی ان گلابی پتیوں کو اپنی محبت سے یوں مسل رہا تھا کہ وہ مزید گلابی ہوتی جا رہی تھیں

“وہ جب چمن سے گزرتی ہو گی تو ہر ایک ٹہنی ادب سے جھک کر اس کی بل کھاتی نازک کمر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہو گی اور تتلیاں اس کے پیروں تلے اپنے پروں کو بچھاتی ہوں گی” وہ اپنے چہرے اور گردن پر اس کے سلگتے ہوئے لبوں کے دیوانہ وار حملوں سے گھبرا کر بل کھاتی جا رہی تھی, مڑتی جا رہی تھی, سمٹی جا رہی تھی, اس کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی تھی

“گلابی, نیلی, سنہری , سبز اور سرخ کلیاں مہکتے روشن سفید پیروں پہ اپنی خوشبو لٹاتی ہوں گی…” وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اس پر کسی بادل کی طرح برس گیا تھا, بڑی شدتوں سے اس کے سفیدی مائل ہاتھوں اور پیروں کو اپنے لبوں سے چھو رہا تھا اور وہ اس کے قرب کی حدت سے کسی شمع کی طرح قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی, پگھل کر بستر کی سلوٹوں میں بکھر رہی تھی, وہ اپنی آنکھوں اور لبوں سے اس کے وجود کے ان بکھرے ہوئے ٹکروں کو چن رہا تھا

“حمدان…. ” سانسوں کی تیز شورش میں انت پر جا کر اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی

“میں ایک مدت سے اس کے نازک….. نفیس مہکے حسین ہونٹوں… پہ بننے والی حسین قوسوں… کے دائروں میں پھنسا ہوا ہوں… “

وہ گلابی پھول پورے کا پورا مسلا گیا تھا اور اس کی خوشبو حمدان کی سانسوں میں گھل کر اس کے خون میں شامل ہو گئی تھی, وہ اس لمحے اس بستر پر تھی ہی نہیں… وہ تو حمدان سیف خان کی رگوں میں دوڑنے لگی تھی

“I love you meri jaan… “

حمدان کو اس کی خوشبو کا ذائقہ اپنے لبوں پر محسوس ہو رہا تھا

“میں کائناتوں کے بند رازوں کو جاننے کے لیے زمین پر اتر کے آیا تھا… اور اس کے حسین ہونٹوں کی جنبشوں میں الجھ گیا ہوں “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *