Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 08)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

پندرہ سال پہلے

“بھائی صاحب…. میں اپنے حنین کے لئے انعمتا کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں” زینب نے کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اپنا مدعا عرض کر ہی دیا تھا, ازمیر کی والدہ صفیہ بیگم نے فوراً طارق صاحب کی طرف دیکھا

“جیسے چاہیں جانچ پرکھ کروا لیں, حنین آپ کا دیکھا بھالا ہے… برسر روزگار ہے, میں آپ کی بیٹی کی ہر خوشی کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہوں” زینب کہتی چلی گئیں, انعمتا کچن کے دروازے کے پاس کھڑی تھی

دل دھک دھک کر رہا تھا

حنین کی کوئی دس کالز آ چکی تھیں

“ہمیں سوچنے کے لئے تھوڑا وقت دیں بہن… ” صفیہ نے کہا

تھوڑی دیر بعد وہ لوگ واپس آ گئے, اگلے ہی دن حنین طارق صاحب سے ملا تھا اور حمدان کی پیشکش ان کے سامنے رکھ دی تھی

وہ سن کر خاموش سے ہو گئے تھے

“انکل… مجھے نہیں پتہ کہ ابھی مجھے یہ کہنا چاہئے یا نہیں لیکن… آپ کو انعمتا کی عزت اور ناموس کے لئے ذرا بھی فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے… میں اس پر ذرا سی بھی آنچ نہیں آنے دوں گا” وہ کہتا چلا گیا

اس رات صفیہ اور طارق دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے, بظایر حنین کو انکار کر دینے کی کوئی وجہ نہیں تھی, وہ اور ازمیر کئی سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے, حنین اس کے لئے بھائیوں جیسا تھا, حنین کی فیملی کے بارے میں بھی انہیں کوئی خاص چھان بین کروانے کی ضرورت نہیں تھی

اور پھر حمدان کی پیشکش… ظاہر ہے وہ ساری عمر تو ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا, طارق صاحب دل کے مریض تھے, کوئی بھی مشقت آمیز کام ان کی پہنچ سے دور تھا, صفیہ اتنی پڑھی لکھی نہیں تھیں کہ کوئی نوکری کر لیتیں, اوپر سے تین بیٹیاں… اور تینوں ہی پڑھ رہی تھیں

انعمتا کا بی سی ایس کرنے کا ارادہ تھا, ازمیر بھی اسے کمپیوٹر سائنس کی طرف لیکر جانا چاہتا تھا, اس سے چھوٹی اسمارہ فسٹ ائیر میں تھی, سب سے چھوٹی ارحہ ابھی نائنتھ کلاس میں تھی

آگے کو انہیں یہ تین بیٹیاں بیاہنی بھی تھیں

اگر حنین اور انعمتا کا رشتہ ہو جاتا تو وہ انعمتا کے فرض سے سبکدوش ہو جاتے, حنین اسکی ہر قسم کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار تھا

چند دنوں بعد ہی زینب کو صفیہ کا فون آ گیا

“ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے بہن لیکن… ابھی صرف بات طے کر لیتے ہیں, منگنی کچھ عرصہ ٹھر کر کر لیں گے… ویسے بھی انعمتا ابھی بہت چھوٹی ہے” صفیہ سبھاؤ سے کہتی چلی گئیں

زینب کو کوئی اعتراض نہیں تھا, ویسے بھی ابھی ازمیر کو گئے عرصہ ہی کتنا ہوا تھا جو وہ لوگ انعمتا کی منگنی کے لئے تیار ہو جاتے

کچھ دن بعد وہ اور سبتین جا کر انعمتا کے ہاتھ پر پیسے رکھ کر بات پکی کر آۓ… اور ان دونوں میاں بیوی سے صاف کہہ آۓ کہ انہیں قطعی اس احسان کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے

پھر بھی طارق اور صفیہ جا کر حنین کا منہ میٹھا کروا ہی آۓ تھے, ابھی اس خبر کو نا تو طارق اور صفیہ نے زیادہ پھیلایا… اور نا ہی زینب نے اپنے خاندان میں زیادہ لوگوں کو بتایا

یہ ہی فیصلہ کیا گیا کہ چھ ماہ بعد جب ان دونوں کی منگنی ہو گی تو سبھی کو پتہ چل جاۓ گا

حنین کی خوشی کا کوئی عالم نہیں تھا…

“انعمتا حنین یامن… “وہ اسے مسلسل چھیڑے جا رہا تھا

“بس کرو… ابھی صرف بات پکی ہوئی ہے” انعمتا کے گال شفق کی سرخی ہوۓ جا رہے تھے

………………………..

وہ آج حمدان انٹرپرائزرز آئی تھی, طارق صاحب صفیہ کو لیکر ہسپتال جاتے ہوئے اسے وہاں چھوڑ گیے تھے, انہیں کئی دنوں سے کمر میں شدید درد کی شکایت تھی, حمدان ابھی تک آفس نہیں آیا تھا سو حنین نے اسے اپنے کیبن میں بٹھا دیا

طارق اور صفیہ ہسپتال چلے گئے تھے

انعمتا کی nervousness کا کوئی حال نہیں تھا, بار بار دوپٹہ ماتھے پر کھینچ رہی تھی, کندھے پر پڑا بیگ دس دفعہ اتارا اور بیس دفعہ دوبارہ کندھے پر ڈال لیا, دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تو اچھی ہی شامت آئی ہوئی تھی, انہیں وہ مروڑ مروڑ کر اکھاڑنے کے درپے ہوئی ہوئی تھی, ماتھے پر آیا پسینہ کتنی ہی بار صاف کر چکی تھی, لبوں کی لرزش, اوپری کناروں پر آۓ پسینے کے قطرے, تمتماتے ہوۓ گال…

حنین اس کی اسقدر نروس صورتحال دیکھ کر بس خفیف سا مسکراۓ جا رہا تھا

“وہ کیا پوچھیں گے مجھ سے ؟؟؟” اس نے دسویں بار حنین سے سوال کیا تھا, حنین نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کیبن کا دروازہ دھیرے سے بند کر دیا, پھر اس کے قریب کرسی کھینچتے ہوۓ بیٹھا اور پورے حق سے اس کے کپکپاتے ہوۓ ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید کر لیا, انعمتا پوری کی پوری لرز اٹھی تھی

“وہ انسان ہیں انعمتا… کوئی جن یا بھوت تھوڑی نا ہیں جو اتنا کنفیوز ہو رہی ہو… پلیز, ریلیکس” وہ اس کے ہاتھوں کو تھپتھپاتے ہوۓ بولا تھا

“مجھے ایک اور گلاس پانی پلا دو پلیز… ” وہ اپنے ہاتھوں کو اس کی گرفت سے چھڑواتے ہوۓ بولی

“اوکے… ” حنین نے دھیرے سے کہتے ہوئے اسے ایک گلاس پانی منگوا دیا تھا

“حنین…. ” کچھ دیر بعد اسے یزدان نے آواز دی تھی

“سر آ گئے ہیں… ” وہ بولا

“میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں… یہیں بیٹھو” حنین اسے کہتا ہوا باہر نکل گیا

“سر ازمیر کی سسٹر آئی ہوئی ہیں…. ” اس نے حمدان کے آفس میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا

“کب سے ؟؟؟”

“تقریباً آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے… “

“کہاں ہیں ؟؟؟”

“میرے کیبن میں… “

“بلاؤ جلدی… ” حمدان کے کہتے ہی وہ باہر نکل گیا, کچھ دیر بعد انعمتا اس کے پیچھے اندر داخل ہوئی تھی

“بیٹھیں مس انعمتا… ” حمدان نے اپنے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا

“حنین کل والا پراجیکٹ فائنل کر کے لے آؤ… جلدی” حمدان کے کہتے ہی وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا

اب انعمتا کے اصل پسینے چھوٹے تھے, حنین کے ہونے کا جو ذرا سا حوصلہ تھا وہ بھی گیا, کپکپاتی ہوئی انگلیوں سے اس نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا

حمدان نے آفس کا دروازہ بند ہوتے ہی اس کی طرف دیکھا

ساڑھے سترہ سالہ انعمتا طارق… جو اس وقت انتہائی پزل ہوتی صورتحال میں اس کے سامنے تھی, ہلکے سبز رنگ کا لان کا سوٹ پہنے, سوٹ کا میچنگ دوپٹہ سر پر اوڑھے, دائیں کندھے پر براؤن رنگ کا شولڈر بیگ ڈالے… وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر بیٹھی تھی, اے سی خنکی کے باوجود اس کا ماتھا گیلا ہو رہا تھا, اس کے کپکپاتے ہوۓ گلابی ہونٹ حمدان سیف خان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھے

اس کے یوں غور سے دیکھنے پر وہ معصوم لڑکی مزید حوصلہ ڈھا گئی, ٹھاں کی آواز سے گود میں دھری فائل نیچے گر گئی, اسے اٹھانے کے لئے جھکی تو بیگ دھڑام سے نیچے گر گیا

“مس انعمتا… ریلیکس… یہ لیں” حمدان نے اپنی مسکراہٹ روکتے ہوئے اس کے لئے پانی کا گلاس بھرا تھا

“تھینک یو سر… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی

“نیکسٹ ایڈمیشن لے لیا ؟؟؟”

“جی سر… “

“کس میں لیا ؟؟؟

“بی سی ایس… “

“سبجیکٹس…؟؟” اس نے پوچھا

“اکنامکس, کمپیوٹر سائنس اور جیوگرافی… ” وہ بولی

“میتھ کیوں نہیں رکھا… ؟؟؟”

“مجھے… وہ بہت مشکل لگتا ہے…” اس نے دھیرے سے کہا

“آئی سی ایس میں کیسے پڑھا پھر ؟؟؟” اس نے پوچھا

“بہت مشکل سے… ” وہ بولی, حمدان کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل گئی

“فائل دکھائیں ” وہ بولا, اس نے اپنی فائل اس کے سامنے رکھ دی, وہ بیچاری واقعی سچی تھی, میٹرک اور انٹر دونوں میں ہی اس کے میتھس کے مارکس بس پورے سورے ہی تھے, حالانکہ ازمیر کا میتھس بہت اچھا تھا, اس نے ایم کام کیا تھا تبھی تو حمدان نے اسے فنانس سیکشن میں رکھا ہوا تھا, انعمتا کی انگلش اور کمپیوٹر سائنس… یہ دو سبجیکٹس اچھے تھے

“آپ ٹائپنگ کر لیتی ہے ؟؟” اس نے پوچھا

“جی… “

“سپیڈ کیا ہے ؟؟؟”

“پتہ نہیں… کبھی جج نہیں کی” وہ بولی, حمدان نے انٹرکام اٹھایا تھا

“یزدان… ایک لیپ ٹاپ بھجواؤ ” اس نے کہا, کچھ ہی دیر بعد لیپ ٹاپ آ گیا

“”یہ پیراگراف ٹائپ کریں ذرا… ” اس نے ایک فارم اس کے سامنے رکھا تھا, انعمتا کا کانفیڈینس تھوڑا سا بحال ہوا تھا, وہ تھوڑا آگے کو ہوئی اور ٹائپ کرنے لگی, حمدان نے اس کے پیچھے لگی گھڑی پر ٹائم نوٹ کیا تھا

وہ ٹائپ کرتی جا رہی تھی

حمدان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی… اب اس کے پاس ایک منٹ تھا

حمدان انٹرپرائزرز کے اس ڈیشنگ سے چیئر پرسن کے پاس پورا ایک منٹ تھا انعمتا طارق کو دیکھنے کے لئے… اور وہ دیکھنے لگا

سب سے خوبصورت اس کی آنکھیں تھیں… گہری گہری کالی سیاہ آنکھیں… کھڑی کھڑی سی ستواں ناک…. اور گلابی گلابی سے ہونٹ جن پر وہ وقفے وقفے سے زبان پھیر رہی تھی

بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی, نہ جانے کیوں اس چونتیس سالہ انتہائی کامیاب اور دور اندیش انسان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی

“گنتی کریں کتنے لفظ ٹائپ ہوۓ ہیں… ؟؟؟” اس نے ایک منٹ پوچھا

“انتیس…. ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی

“گڈ… میں فی الحال آپ کو آئی ٹی سیکشن میں ایڈجسٹ کر رہا ہوں… صبح آٹھ سے دوپہر دو بجے تک… اوکے ؟؟؟” حمدان نے اس کی فائل بند کرتے ہوئے کہا تھا

“اوکے سر… ” وہ بولی

“کالج میں کتنے بجے سے کلاسز ہیں ؟؟”

“تین بجے سے… ” وہ بولی

“ٹھیک ہے… کمپنی کی فیمیل ایمپلائز کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت ہے…آپ چاہیں تو وہ avail کر سکتی ہیں” اس نے دوبارہ یزدان کو بلایا تھا

“یزدان… انہیں مس کومل کے پاس لے جاؤ, وہ ان کے ضروری ڈاکیومینٹس بھی لے لیں گی اور انہیں ان کا کام بھی بتا دیں گی.. میں نے انہیں کال کر دی ہے” وہ بولا

“تھینک یو سر… ” وہ اپنی فائل اٹھا کر کھڑی ہو گئی تھی

“کل سے جوائن کر لیجیے گا” حمدان نے کہا

“جی… ٹھیک ہے سر” وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے یزدان کے پیچھے آفس سے باہر نکل گئی

……………………………

شام کے چھ بج رہے تھے جب وہ گھر واپس آیا, دروازہ معیز نے کھولا تھا, اندر آتے ہی اسے سبتین کی چنگھاڑ سنائی دی تھی

“کیا ہو گیا تمہارے پاپا کو ؟؟؟” اس نے بائیک کھڑی کرتے ہوئے پوچھا

“پتہ نہیں…. وہ ماما پر غصہ ہو رہے ہیں” معیز بھاگتا ہو اندر چلا گیا, وہ بھی جلدی سے آندر آیا تھا, مایا ایک طرف سہمی ہوئی سی کھڑی تھی, سبتین کا عتاب اپنے عروج پر تھا

“کیا ہوا امی ؟؟؟” اس نے سرگوشی میں زینب سے پوچھا

“کیا ہوتا ہے ؟؟؟ وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے” زینب خود تھک گئی تھیں

“دفع ہو جاؤ یہاں سے… ” سبتین نے اسے تھپڑ مار ہی دیا تھا

“بھائی ہاتھ اٹھاۓ بنا آپ سے بات کیوں نہیں ہوتی ؟؟؟” حنین سے برداشت نہیں ہوا

“بکواس بند کر اپنی… میری بیوی ہے یہ سمجھا… چاہے مار مار کر زندہ گاڑھ دوں” توپ کا رخ حنین کی طرف ہو گیا

“ایسے کیسے زندہ گاڑھ دیں گے آپ ؟؟؟ لاوارث ہے کیا یہ ؟؟؟ ماں باپ دونوں حیات ہیں اس کے, آج اس کے بھائیوں کو پتہ چل جاۓ کہ آپ کیسے اس کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ؟؟؟” حنین کہتا چلا گیا

“سالے میں اس کے بھائیوں سے ڈرتا ہوں کیا ؟؟” سبتین دہاڑا

“چل بس کر سبتین… یہ دیکھ میرے جڑے ہاتھ” زینب نے بے بسی سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے, وہ قہر بار نظروں سے مایا کو گھورتا ہوا اندر چلا گیا

“ممانی قسم سے افشین بھابھی کی کال تھی… ” مایا روتے ہوئے بولی تھی

“چل بس کر میرا بیٹا… تجھے پتہ تو ہے اس کا… چپ کر جا… ” زینب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا

“میں تو کہتا ہوں مایا کہ ایک بار اپنے گھر والوں کو بتا ہی دو کہ بھائی تمہارے ساتھ کچھ زیادہ ہی مار پیٹ کرنے لگ گئے ہیں… ” حنین نے کہا

“عدنان بھائی مجھے ایک بار لے گئے تو پھر واپس نہیں آنے دیں گے… اسی لئے میں نہیں بتاتی” وہ آنسو پونچھتے ہوۓ بولی تھی

جس دن میری بس ہو گئی اس دن میں عدنان بھائی کو فون کر دوں گا” وہ تن فن کرتا اوپر چلا گیا تھا

………………………..

وہ حنین کو ساتھ لیکر وزٹ پر نکلا تھا, ازمیر کی جگہ اس نے ایک نیا لڑکا ہائر کر لیا تھا سو یزدان کو واپس اس کی پوسٹ پر بھیج دیا تھا, حنین پراجیکٹ ہیڈ تھا

“کیسے ہو فاران ؟؟؟” وہ فنانس مینیجر کے پاس رکا تھا, اسے جوائن کیے ابھی دو ہفتے ہی ہوۓ تھے

“فائن سر… “

“بہت loyalty سے کام کرنا ہے فاران… تم سے پہلے جو اس کرسی پر بیٹھا کرتا تھا اس نے کبھی مجھے “کیوں ” کہنے کا بھی موقع نہیں دیا” حمدان نے کہا

“انشاءاللہ سر… آئیندہ بھی ایسا نہیں ہو گا” وہ بولا, وہاں سے وہ ورکرز کی طرف آیا, تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ آئی ٹی سیکشن کی طرف آ گیا, کومل اسے دروازے پر ہی مل گئی تھی

اس سے بات کرتے ہوئے حمدان کی نظر انعمتا پر پڑی, وہ کسی کولیگ کے ساتھ مل کر ٹائپنگ کروا رہی تھی, دفعتاً اس نے دروازے کی طرف دیکھا, حنین نے بڑے نا محسوس سے انداز سے اسے آنکھ کا اشارہ کیا تھا, وہ خفیف سا مسکراتے ہوئے کمپیوٹر کی طرف متوجہ ہو گئی

“حنین… کومل سے کل کی میٹنگ کا ایجنڈا لے لینا” حمدان نے کہا لیکن حنین یامن میر کا سارا دھیان اس لمحے اس چھاؤں جیسی لڑکی کی طرف تھا

“حنین… ” حمدان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ذرا سختی سے کہا

“جی سر… ” وہ بوکھلا گیا

“میں نے کیا کہا ہے ابھی ؟؟؟”

“وہ.. سر… آپ نے کہا کہ… وہ… ” اسے نہیں پتہ تھا, اور شاید ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ حمدان کے سامنے شرمندہ سا کھڑا رہ گیا تھا

“دھیان کہاں ہے تمہارا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“سوری سر… ” وہ سر جھکا کر بولا, حمدان بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا

بریک ٹائم میں وہ دوبارہ اس کے پاس آیا تھا

“لنچ کرو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا

“میں نے تمہارے ساتھ باہر کہیں نہیں جانا… جو کھلانا ہے یہیں کھلا دو” وہ بولی تھی, حنین کچھ دیر بعد اس کے لئے پیزا لے آیا

“حنین… دھیان کہاں ہے تمہارا ؟؟؟” انعمتا نے ہنستے ہوئے اس پر چوٹ کی تھی

“تمہاری طرف…” وہ بے چارگی سے بولا

“سر کو کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” وہ مسلسل ہنس رہی تھی

“اڑا لو میرا مذاق… حق بنتا ہے تمہارا” وہ اس کے کھانے کے بعد بچا ہوا ٹکڑا اٹھا کر کھانے لگا تھا

“تم شادی کے بعد بھی میرا بچا ہوا کھا لیا کرو گے ؟؟؟” انعمتا نے کچھ دیر بعد پوچھا

“میں ساری عمر تمہارا بچا ہوا کھانے کے لئے تیار ہوں انعمتا… ” وہ بغور اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا, انعمتا کی پلکیں جھک گئیں, چہرہ گلنار سا ہو گیا تھا

حنین دیوانہ وار اسے دیکھے گیا

ہمارے عشق کی دس بیس نے بھی داد نہ دی​

کسی کا حُسن ،،،،، زمانے میں اِنتخاب ہُوا​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *