Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 20)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 20)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
“مسٹر حنین… میرے خیال سے اب ہمیں معیز اور زاہا کی شادی کی تاریخ کے بارے میں سوچنا چاہیے ” وہ آج پھر کسی کام سے ہاشمی ٹریڈرز آیا تھا, وہ اور آئرہ دونوں چاۓ پی رہے تھے
“بالکل مس کیف خان… ” وہ خوشدلی سے بولا
“میں چاہ رہی ہوں کہ ان دونوں کی شادی جلد از جلد ہو جاۓ” وہ بولی
“کیوں… کسی کا ڈر ہے کیا ؟؟؟” حنین نے کہا
“بالکل نہیں…. بس اس میسنی عورت پر بھروسہ نہیں ہے” وہ بولی
“وہ کتنی ہی بار میرے پاس آ چکی ہے, حیان کی نظروں میں اچھا بننے کے لئے ہر ممکن زاہا کا رشتہ مانگنے کے جتن کر رہی ہے, اور پھر وہ معیز کے لیے بھی تو حمدان کی بیٹی کا رشتہ دینے کے لئے تیار ہے نا… ” آئرہ نے کہا
“معیز انکار نہیں کرے گا… آپ بے فکر رہیں” وہ بولا
“آپ اس شاطر عورت کو نہیں جانتے مسٹر حنین… وہ اپنی معصوم صورت کی آڑ میں ایک شیطان چھپاۓ بیٹھی ہے” آئرہ نے نفرت سے کہا تھا
“ایک بات کہوں مس کیف خان… ” وہ ذرا سا آگے کو ہوا
“حمدان سیف خان کو اس دنیا سے گزرے بارہ سال بیت چکے ہیں… تو کیا بارہ سالوں میں بھی آپ انعمتا اور حمدان کی شادی کا جرم معاف نہیں کر پائیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
کاش کے اس لمحے آئرہ کو حنین کے ماضی کے بارے میں پتہ ہوتا تو وہ اس سے ضرور پوچھتی کہ کیا تم نے ان دونوں کا یہ جرم معاف کر دیا ؟؟؟”
“میں نے اکتیس سال حمدان سے محبت کرنے میں گزار دیئے مسٹر حنین… اکتیس سال میں نے اس شخص کی راہ دیکھی… ذرا سوچیں کہ آپ اکتیس سال کسی شخص کا انتظار کریں اور وہ شخص آپ کو ٹھکرا کر اپنے سے پندرہ سال چھوٹی ایک لڑکی کو چن لے… ؟؟؟” وہ کرب سے بولی تھی, حنین خاموش رہ گیا
“مجھے اس عورت کی شکل سے ہی نفرت ہے… میرا بس چلے تو اسے اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتار دوں” وہ بولی
“مس کیف خان…. میں آپ سے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں پلیز… ہماری اس پارٹنرشپ کا مقصد صرف حمدان انٹرپرائزرز کو نقصان پہنچانا ہے… انعمتا حمدان کو نہیں” وہ بولا تھا
“اگر اس کے مقدر میں موت میرے ہاتھوں ہی لکھی ہے تو ایم سوری یہ وعدہ ٹوٹ جاۓ گا… ” وہ زہریلا سا مسکرائی تھی, حنین بس تاسف سے اسے دیکھتا رہ گیا تھا
………………………
وہ اپنے کمرے میں تھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی
“آ جاؤ… ” اس کی آواز سن کر انعمتا اندر داخل ہوئی تھی, رعنین ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی
“دانین کہاں گئی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اس نے اپنا روم الگ کر لیا ہے ” وہ بولی, انعمتا چپ چاپ اس کے پاس بستر پر بیٹھ گئی
“مجھے پتہ ہے آپ مجھ پر غصہ ہیں…. بہت زیادہ ” وہ اپنی انگلیوں کو مسلتے ہوۓ بولی تھی
“رعنین بیٹے دوش تمہارا نہیں ہے… دوش کسی بھی محبت کرنے والے کا نہیں ہوتا… دوش سراسر محبت کا اپنا ہے, یہ ہمیشہ دل کے تار وہیں الجھاتی ہے جہاں رونے کا سامان زیادہ ہو, جہاں رت جگے کے چانسز زیادہ ہوں… مسئلہ اس کے تم سے عمر میں تیرہ, چودہ سال بڑے ہونے کا نہیں ہے… مسئلہ یہ ہے کہ تم حمدان سیف خان کی بیٹی ہو اور وہ تمہیں صرف استعمال کرے گا رعنا… اپنا نہیں بناۓ گا” انعمتا کہتی چلی گئی
“انا… اس نے کہا کہ… آج اگر پاپا زندہ ہوتے تو انہیں شاید میرے اور اس کے رشتے پر کوئی اعتراض نا ہوتا” وہ بولی, انعمتا ٹھٹھک سی گئی
“وہ کہتا ہے کہ… آپ کبھی میرے لئے اس کا رشتہ نہیں مانگیں گی ” وہ کہہ ہی گئی, انعمتا کے چہرے کا رنگ یکلخت تبدیل ہوا تھا
“انا… ” وہ اس کے پاس نیچے فرش پر آ بیٹھی
“I love him… “
وہ دونوں آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی, انعمتا کا جیسے کسی نے دل چیر دیا
“تم کہو تو میں کل ہی اس کے پاس چلی جاتی ہوں رعنا… میں نے جتنی کوششیں حیان کے لئے کی ہیں اس سے زیادہ کوششیں تمہارے لئے کرنے کو تیار ہوں لیکن… میں نے بتیس سال دنیا دیکھی ہے رعنا, وہ نہیں مانے گا, وہ تمہیں صرف فریب دے سکتا ہے بس” انعمتا نے کہا
“انا کوشش تو کر ہی سکتے ہیں نا… ” وہ اس کے گھٹنوں پر اپنا سر رکھ گئی تھی
…………………….
وہ دونوں ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے آۓ تھے, سارا وقت حیان اس کے پہلو میں بیٹھا بس اسے تنگ ہی کرتا رہا تھا, کبھی ہاتھ پکڑ لیتا, کبھی پاؤں کو چھیڑنے لگتا, زاہا بیچاری زچ ہو گئی تھی
“چلو آؤ لنچ کرتے ہیں ” وہ. باہر نکلتے ہوئے بولا
“ابھی لنچ کی کوئی کسر باقی ہے ؟؟؟” زاہا نے اسے رکھ کے گھورا
“کسر ہمیشہ باقی رہتی ہے زاہا تمیم ہاشمی… ” وہ معنی خیز سا ہنستا ہوا اسے ساتھ لیے اپنی گاڑی کی طرف چلا آیا, وہیں سے وہ دونوں ریسٹورنٹ آۓ تھے حیان اس کے بالکل سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
آرڈر لکھوا کر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھا, کچھ دیر بعد اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر زاہا کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا…
“تم کچھ زیادہ ہی نہیں مسکرا رہے… ؟؟” وہ جھلا گئی
“زاہا…. تم بہت خوبصورت ہو” وہ دونوں بازو میز پر رکھتے ہوئے اس کی طرف کو جھکا تھا, زاہا چند لمحے تو اس کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھتی رہی, پھر ٹھٹھک گئی
“میرے پیچھے کسی میز پر معیز بیٹھا ہے نا ؟؟؟؟” اس نے پوچھا, وہ بس کھل کر مسکرا دیا تھا
“تمہیں پتہ تھا نا کہ وہ یہاں آنے والا ہے ؟؟؟” زاہا سمجھ گئی تھی
“اس نے بس مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں ہوں… اور میں نے بتا دیا” وہ مسکراتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ تھام گیا تھا
“حیان… اگر میری اس سے شادی ہو گئی جو کہ یقینا ہو جاۓ گی تو وہ میری زندگی اجیرن کر دے گا” زاہا نے کہا
“تمہیں میری قسم ہے زاہا… جس دن اس نے میری اور تمہاری محبت کو لیکر تمہیں کوئی طعنہ دیا… تو اسی لمحے اسے چھوڑ دینا” وہ بولا
“ہاں تم تو چاہتے ہی یہ ہو کہ میرا گھر نا بسے… ” زاہا نے اپنے ہاتھ پیچھے کو کھینچے تھے
“زاہا… پلیز تھوڑا سا مسکرا دو… پلیز” وہ اس کی جانب جھکتا ہی جا رہا تھا
“اگر تمہارا پلان فیل ہو گیا نا… تو میری پوری زندگی فیل ہو جاۓ گی حیان حمدان خان” زاہا اس کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے سے مسکرائی تھی
اور کچھ فاصلے پر بیٹھا معیز بس ایک نظر ان دونوں کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
………………………..
وہ اپنے آفس میں تھا جب ریسیپشنسٹ سے بتایا کہ مس انعمتا حمدان خان آئی ہیں, اس کے لبوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئی تھی, خود کو چوٹ لگی تھی تو وہ بھاگی چلی آئی تھی
“بھیج دو اندر…. ” وہ بولا, کچھ دیر بعد انعمتا اندر داخل ہوئی, حنین نے اس پر ایک بھرپور نظر ڈالتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
وہ گولڈن براؤن کلر کا ریشمی سوٹ پہنے ہوئے تھی, ریشمی دوپٹہ سر پر ٹکایا ہوا تھا, ایک کندھے پر شولڈر بیگ اور دوسرے کندھے پر گولڈن شال… ساتھ ہلکا ہلکا سا گولڈن میک اپ کیا ہوا تھا, پیروں میں گولڈن براؤن بلاک ہیلز پہن رکھے تھے
حنین یامن میر کے دل کی پوری کی پوری دنیا ایک لمحے میں تلپھٹ ہو گئی تھی, آنکھوں نے اسے جو دیکھنا شروع کیا تو پلکیں جھپکنے سے انکاری ہو گئیں, وہ بلاشبہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی, بلکہ شاید مزید نکھر گئی تھی
“بیٹھنے کو نہیں کہو گے ؟؟؟” وہ اس کے بولنے کا انتظار کرتے کرتے خود ہی بول پڑی تھی
“کہاں بیٹھو گی ؟؟؟ سر آنکھوں پر تو تم بیٹھی نہیں تھیں ؟؟؟” حنین نے دھیرے سے کہا
“تم سے ایک ضروری بات کری تھی مجھے… ” وہ خود ہی بیٹھ گئی
“تو آخر کار وہ وقت آ ہی گیا جب انعمتا حمدان خان مجھ جیسے سے بھی ضروری بات کرنے آ گئی ہے” وہ طنزیہ سا بولا تھا
“رعنین کو کسی ایک کنارے پر لگا دو حنین… یا تو اسے اپنا لو… یا پھر الگ کر دو” وہ بولی
“تم کیا چاہتی ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اسے اپنا لو… ” وہ یکدم ہی بولی تھی, حنین مسکراتا چلا گیا
“یعنی ثابت ہوا کہ وہ شخص اور اس سے جڑا ہر رشتہ تمہارے لئے ہمیشہ اہم رہے گا… ہے نا ؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ایسا ہی ہے, میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ اس کے بچوں کا خیال رکھوں گی ” وہ بولی
“اور تمہارا خیال کون رکھے گا… ؟؟؟” وہ آگے کو ہوتے ہوئے بولا
“پچھلے بارہ سالوں میں تمہارا خیال کس نے رکھا انعمتا ؟؟؟”اس کے پوچھتے ہی انعمتا کی آنکھیں بھر آئی تھیں
“وہ صرف چھ سال کی تھی حنین جب میں نے اسے گلے سے لگایا تھا, میں نے کبھی اسے رونے نہیں دیا ہے… اور کل رات….وہ صرف تمہاری وجہ سے رو رہی تھی” انعمتا نے کہا
“وہ…. تم سے محبت کرتی ہے” وہ بولی
“میں بھی تم سے محبت کرتا تھا… ” وہ بولا
“اور بھلا یہ کہاں لکھا ہے جو ہم سے محبت کرے… یا جس سے ہم محبت کریں, اسے اپنا بھی لیں, وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے… میرا نہیں” وہ کٹھور ہو گیا
“حنین… پلیز صرف اسلیے اسے مت ٹھکراؤ کہ ماضی میں میں نے تمہیں ٹھکرا دیا تھا ” وہ بولی
“تو کیا کروں ؟؟؟” شادی کر لوں اس سے ؟؟ تمہارا داماد بن جاؤں ؟؟؟” وہ یکدم پھٹ پڑا…. انعمتا خاموش بیٹھی رہ گئی, دو آنسو ٹوٹ کر ہاتھوں کی پشت پر آن گرے تھے
“تم نے تو مجھے مذاق ہی سمجھ لیا ہے انعمتا طارق… تم اپنی بیٹی کے لئے اس شخص کا رشتہ مانگنے آ گئیں جو ماضی میں تم سے بے پناہ محبت کا دعویدار رہا ہے, جسے ٹھوکر مار کر تم حمدان سیف خان کی ہو گئی تھیں…. صرف اسلیے کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ دولتمند تھا” وہ بولا
“ایسا نہیں ہے حنین…. ” وہ بولی
“ایسا ہی ہے… ایسا ہی ہے انعمتا…. اور جانتی ہو میں دس سال تمہارے سمنے کیوں نہیں آیا, کیونکہ مجھے تمہارے سامنے کھڑے ہونے سے خوف آتا تھا… مجھے حمدان جیسا بننا تھا…. بہت بلند, بہت اونچا… ناقابل تسخیر…. تاکہ جب میں اس جیسا بن کر تمہارے سامنے آؤں تو تم ایک بار اور مجھے ٹھکرا نا سکو… تمہیں کیا لگتا ہے میں نے ان دس سالوں میں تمہیں کبھی نہیں دیکھا… بہت بار دیکھا لیکن بس دیکھ کر منہ پھیر لیا… مجھے وہ سب کچھ حاصل کرنا تھا انعمتا جس کی خاطر تم نے مجھے ٹھکرا دیا تھا….اور دیکھو… آج میرے پاس سب کچھ ہے… وہ سب کچھ جس کی خاطر تم نے میری بجاۓ حمدان کو چن لیا تھا, آج میں بھی شہر کے ٹاپ ٹین بزنس ٹاییکونز میں آتا ہوں, آج میری کمپنی بھی ٹاپ ٹین میں آتی ہے, آج میرے پاس بھی ایک بڑا سا گھر ہے, بینک بیلنس ہے… ” وہ تڑپتا ہوا کھڑا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھ زور سے اس کی کرسی کے بازوؤں پر دائیں بائیں ٹکاتے ہوۓ سرخ ہوتی آنکھوں سے اس پر جھکا
“تم مجھے منہ کے بل گرا کر چلی گئیں تھیں انعمتا…. اور میں نے ٹھان لیا تھا کہ میں اب تم سے تبھی ملوں گا جب حمدان سیف خان بن چکا ہوں گا…. اور دیکھو…. میں آج بالکل اسی جیسا ہوں, آج پینتیس سال کی عمر میں میرے پاس بھی سب کچھ ہے انعمتا طارق… ” اس کی آنکھیں یکلخت ہی پانیوں سے بھر گئی تھیں, انعمتا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا, وہ اسی کو دیکھ رہا تھا, بے دریغ اس کے آنسو گالوں پر بہہ نکلے
“حنین… تم جو چاہو مجھے سزا دے لو… میں بھگتنے کے لئے تیار ہوں, میں تمہاری مجرم ہوں تو مجھ سے جو چاہے بدلہ لے لو لیکن….” وہ پل بھر کو رکی
“اسے تکلیف مت دو… وہ صرف بائس سال کی ہے حنین… تم بھی تو بائس سال کے ہی تھے نا جب محبت میں زخم کھایا تھا, ذرا سوچو تمہیں کتنی تکلیف ہوئی تھی… تم ایک مرد تھے سو جھیل گئے, وہ تو ایک لڑکی ہے… اور لڑکی بھی وہ جس نے آج تک جو چاہا… وہ پا لیا… اسے صبر کرنا نہیں آتا حنین… وہ نہیں کر پاۓ گی” انعمتا کہتی چلی گئی, حنین زخمی سا مسکراتے ہوئے کرسی پر سے ہاتھ اٹھا کر سیدھا ہوا تھا
“تم پچھلے بارہ سالوں سے تنہا ہو انعمتا… اس سے بڑھ کر بھی کوئی سزا ہو گی کیا تمہارے لئے ؟؟؟” وہ آزردگی سے مسکرایا تھا, انعمتا بھی اٹھ کھڑی ہوئی
“میری بیٹی سے شادی کر لو حنین ؟؟؟” اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا
“سوری… میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
…………………
حیان سو فیصد پر یقین تھا کہ معیز اس کے پاس آۓ گا… اور وہ اسی رات چلا آیا
حیان اپنے بستر میں گھسا ہوا تھا… وہ اس کے کمرے میں ہی آ گیا
“کیسا ہے معیز…. ؟؟؟؟” حیان اس کی آمد کا مقصد جان گیا تھا
“یہ ڈرامہ جو تو اب کھیلنا شروع ہوا ہے… یہ تجھے منگنی سے پہلے کھیلنا چاہیے تھا ” معیز نے کہا
“موقع ہی نہیں ملا… ” وہ بولا
“جھوٹ… جس دن میں تجھے لیکر ایم بی اے ڈپارٹمنٹ زاہا سے ملنے گیا تھا اسی دن مجھے کہہ دیتا… ” وہ بولا, حیان چپ رہ گیا
“تو نے ہر بندے تک دوڑ لگائی ہے حیان… صرف ایک بار میرے پاس آ جاتا… صرف ایک بار مجھے کہہ دیتا کہ تو زاہا سے محبت کرتا ہے بس… ” معیز نے کہا, حیان ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس کے سامنے آ گیا
“میں زاہا سے محبت کرتا ہوں معیز… ” وہ بولا, معیز طنزیہ سا ہنسا تھا
“سوری حیان… وہ اب میری منگیتر ہے اور… ایک مہینے بعد ہماری شادی ہونے والی ہے” معیز نے کہا
“معیز… ہم دونوں دو سالوں سے ساتھ ہیں… ” حیان نے کہا
“کس کو پتہ… ؟؟؟ سب کو تو بس اتنا پتہ ہے کہ زاہا تمیم ہاشمی میری منگیتر ہے” وہ بولا
“وہ منگیتر جو کسی اور سے محبت کرتی ہے” حیان نے کہا
“شادی کے بعد صرف مجھ سے کرے گی… ” وہ. مسکرایا
“معیز… یار میری بات سن… میں نے ہر جتن کر لیا ہے, زاہا کی مام کو منانے کی. ہر ممکن کوشش کر لی ہے, تیرے چاچو کو منانے کا بھی ہر حربہ لگا لیا ہے لیکن…. ” وہ معیز کے قریب آیا
“میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں معیز… اور میں جانتا ہوں کہ ابھی تیری اس سے کوئی دلی وابستگی نہیں ہے, پلیز یار…. اگر کہتا ہے تو میں تیرے آگے ہاتھ جوڑ لیتا ہوں, اس شادی سے انکار دے” حیان نے کہا
“سوری یار… وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے” معیز نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا تھا
…………………………..
ان دونوں کے ریسٹورنٹ کی اوپننگ تھی… چیف گیسٹ کو لیکر زارون اور رعنین میں خوب ہی بحث چھڑی
“انعمتا حمدان خان… ” زارون بضد تھا
“حنین یامن میر… ” رعنین بھی بضد تھی
سو دونوں کی مرضی ہی چلی… دو دو چیف گیسٹ انوائیٹ کیے گئے
زارون خود جا کر انعمتا کو انوائیٹ کر کے آیا تھا
“تمہاری مام تمہیں اس کے بعد زندہ چھوڑ دیں گی ؟؟؟” انعمتا نے حتی الامکان اس کی طرف دیکھنے سے گریز ہی کیا
“انہیں پتہ ہے… ” وہ سکون سے بولا
“کیا… پتہ ہے ؟؟؟” اس نے حیرانی سے پوچھا
“یہ ہی کہ میں اور آپ ایک ہی ٹیم میں ہیں… ” وہ مبہم سا مسکرایا تھا
“زارون… یہ سراسر نادانی ہے” وہ بولی
“اب تو ہو گئی نادانی… اب کیا کروں ؟؟؟” اس نے پوچھا, انعمتا نے رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا, وہ دیوانہ وار اسے دیکھ رہا تھا
“دوسری محبت کر لو… ” وہ نظریں چرا گئی تھیں
دوسری جانب حنین بس مسکراتی نظروں سے رعنین کو دیکھتا رہ گیا تھا
“تمہاری سٹیپ مام بھی آئیں گی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی سر…. ” وہ بولی
“پھر تو ہم دونوں ایک ساتھ افتتاح کریں گے تمہارے ریسٹورنٹ کا… ہے نا ؟؟؟” وہ بولا
“جی سر… ” وہ پھر بولی
“کیسا لگے گا تمہیں رعنین… جب تمہاری سٹیپ مام میرے پہلو میں کھڑی ہوں گی… میرے بہت پاس… میرے بازو میں بازو ڈال کر” اسے رعنین کو زچ کر کے اس کا سرخ چہرہ دیکھنے میں بہت مزہ آتا تھا
“وہ میری مام ہیں سر… مجھے ان سے کبھی جیلسی نہیں ہوتی” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی
لیکن یہ جھوٹ تھا… وہ سر تا پیر جھلس گئی تھی جب اس نے انعمتا کو حنین کے پہلو میں کھڑے دیکھا تھا…. وہ جیسے ہی اپنی گاڑی سے باہر نکلی, حنین مسکراتا ہوا اس کی طرف چلا آیا, اتفاق یہ تھا کہ ان دونوں کا ڈریس کلر بھی ایک جیسا ہو گیا تھا… سکن براؤن
“کیا حال ہے مس انعمتا طارق… ؟؟؟” وہ اسے اب انعمتا طارق ہی بلانے لگا تھا, وہ بس چہرہ موڑ گئی
کیمرہ مینوں اور رپورٹروں کا کافی رش تھا
“سر پلیز… میم کے ساتھ ہو جائیں ” ان کا تو کام ہی آگ لگانا تھا, حنین نے مسکراتے ہوئے اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد حمائل کر دیا
“کیا بیہودگی ہے یہ ؟؟؟” انعمتا غصے سے بولی تھی
“بیہودگی… ؟؟؟ کیمسٹری کہتے ہیں اسے” وہ بولا
“یہ کیمسٹری تم اپنے سے بڑی عمر کی عورتوں کے ساتھ بنایا کرو سمجھے… ہٹاؤ اپنا بازو” وہ سرخ ہو گئی تھی
“حمدان کے ساتھ بھی تو یونہی کھڑی ہوتی تھیں تم…” وہ بولا
“شٹ اپ… اگر تم نے ابھی اپنا بازو نہیں ہٹایا تو میں یہیں سے واپس چلی جاؤں گی” وہ تڑخ کر بولی تھی
“Now you shut up and listen to me…
“میں اور تم دونوں ایک ساتھ اندر جائیں گے اور وہ بھی ایسے… ” اس نے ایک دم اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا تھا, پھر دھیرے سے مسکرایا
“Mam please smile…. “
کیمرہ مین کے کہنے پر وہ اسے گھورتے ہوۓ جبری سا مسکرائی تھی, حنین اسے اپنے بازو کے حلقے میں لئے ربن کے پاس آ گیا, زارون نے ایک چھوٹی سی قینچی اس کی طرف بڑھائی تھی جسے انعمتا نے پکڑ لیا
“چلو کاٹو…. ” بڑے حق سے اس کا قینچی والا ہاتھ پکڑتے ہوئے اس نے سرگوشی کی تھی, انعمتا نے ربن کاٹ دیا, تالیوں کا شور گونج گیا تھا
“پلیز میم…. بیٹھیں” زارون انہیں ایک طرف لگی سپیشل ٹیبل کی طرف لے آیا تھا
انعمتا نے دھیان ہی نا دیا کہ رعنین کے چہرے پر حسد اور جلن کے نشان واضح ہوتے جا رہے تھے
کچھ دیر بعد زارون نے ان دونوں کو اپنے ریسٹورنٹ کا سپیشل ڈرنک آفر کیا
“زارون…. پلیز اگر آپ لوگ مائینڈ نا کرو تو مجھے اب گھر جانا ہے….پلیز” اس سے حنین کی مسکراتی نظروں کا سامنا کرنا انتہائی دوبھر ہو رہا تھا
“میم ایک ریکوئسٹ تھی آپ سے… اگر آپ برا نا منائیں تو ؟؟؟” زارون تذبذب سے بولا
“ہاں کہو… ” وہ بولی
“میم دراصل… میں نے ڈانس فلور سیٹ کروایا ہے, آج میری زندگی کی ایک بہت بڑی خواہش پوری ہوئی ہے تو پلیز…. کیا آپ میری اس خوشی میں میرا تھوڑا سا ساتھ دیں گی… بس چند منٹ پلیز… ؟؟” زارون نے اپنے گھٹنوں پر جھکتے ہوۓ اس کے آگے اپنا ہاتھ پھیلایا تھا
اس سے پہلے کہ انعمتا اسے انکار کرتی, اس کی نظر حنین کے چہرے پر پڑی, وہ سلگتی ہوئی نظروں سے زارون کو دیکھ رہا تھا, آنکھوں سے جلن سی ٹپکتی محسوس ہو رہی تھی
اس کے لبوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ بکھر گئی, ابھی کچھ دیر پہلے کا بدلہ وہ ابھی چند منٹ میں لے سکتی تھی, ایک طنزیہ سی مسکراہٹ حنین کی طرف اچھالتے ہوۓ اس نے زارون کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دھر دیا تھا
اس بیچارے کی تو جیسے مراد بر آئی, اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
یہ اور بات تھی کہ رات کو اسے اپنی ماں کا کڑکتا ہوا عتاب سہنا تھا
………………………..
سنایا کی منگنی طے پا گئی تھی, حنین کے ایک قریبی دوست نے اپنے بیٹے کے لئے اس کا رشتہ مانگا تھا جسے حنین نے سنایا کی رضا مندی سے قبول کر لیا تھا, حنین ابھی منگنی کرنے میں زیادہ انٹرسٹڈ نہیں تھا لیکن سنایا کے سسرالیوں کو بڑی شدت سے منگنی کا ابال آیا تھا
سو ایک ہفتے بعد اس کی منگنی تھی, اس نے خاص طور پر انعمتا طارق کو بمعہ اس کے بچوں کے مدعو کیا تھا
“انا آپ جائیں گی ؟؟؟” سبھی کا مشترکہ سوال تھا
“بالکل بھی نہیں… ” اس کا صاف انکار تھا
اور ستم یہ کہ وہ تینوں وہاں جانے کے لئے تیار تھے
“جس کا دل چاہے چلا جاۓ… میں نہیں جاؤں گی ان منافقوں کے چھتے میں ” وہ بولی
“آپ بھی تو انہی جیسی ہیں انا… ” رعنین کے کہتے ہی وہ چونک گئی, اس کا لحجہ بڑا سلگتا ہوا سا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“کچھ نہیں… ” وہ پلٹ کر کمرے سے نکل گئی, وہ دونوں حیان کے ساتھ وہاں گئی تھیں
“تمہاری سٹیپ مام نہیں آئیں ؟؟؟” حنین ریسیپشن پر کھڑا تھا
“ہم لوگ آ گئے کیا یہ کافی نہیں ہے ؟؟؟” رعنین نے کہا
“اب تم لوگ اس کی نمائندگی کیا کرو گے ؟؟؟” حنین نے ہنس کر کہا تھا, رعنین بس کندھے اچکا گئی
“مسٹر حنین…. ؟؟؟” فنکشن کے دوران وہ اس کے پاس آئی تھی
“آپ نے کہا تھا کہ میری ماں میرے لئے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں مانگے گی… لیکن انہوں نے مانگ لیا… آپ نے انکار کیوں کیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں نے تمہاری ماں کو وجہ بھی بتا دی تھی” وہ بولا
“یہ جھوٹ ہے… میں نہیں مانتی کہ پینتیس سال کی عمر تک آتے آتے آپ کو کسی سے محبت نہیں ہوئی اور اب… اچانک سے ہو گئی” وہ بولی
“میں نے یہ کب کہا کہ اب اچانک سے ہو گئی” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا, رعنین بس اسے دیکھتی رہ گئی
“میرا یقین کرو رعنین حمدان خان… تمہاری سوتیلی ماں تمہیں سب کچھ نہیں بتاتی” وہ دھیرے سے اس کا گال تھپکتے ہوۓ آگے بڑھ گیا تھا
……………………………
ایک مہینہ یونہی گزر گیا… زاہا نے دو اور پراجیکٹس ہاشمی ٹریڈرز کے نام لگوا دیئے, وہ اگلے مہنے کی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر چلی گئی تھی اور اس کی چیئر پرسن آئرہ کیف خان دھڑا دھڑ ایوارڈ جیت رہی تھی, اس نے اپنی اور حنین کی پارٹنرشپ کا یڈ زاہا کو ہی بنا رکھا تھا, درپردہ کام سارا وہی کرتی تھی لیکن نام آئرہ کا ہوتا تھا, حمدان انٹرپرائزرز سے وہ بس ایک ہی ٹینڈر چھین پائی تھی… حیان اس کے بعد کافی محتاط ہو گیا تھا
حنین ایک established بزنس ٹاییکون بن گیا تھا, اس پارٹنرشپ کا فائدہ صرف ہاشمی ٹریڈرز کو ہی نہیں ہوا تھا, اس کی کمپنی بھی ٹاپ ٹین میں آ گئی تھی
پورے بزنس سرکل میں پینتیس سالہ حنین یامن میر کی دھوم تھی… وہ سچ کہتا تھا
وہ واقعی اپنے وقت کا حمدان سیف خان بن چکا تھا
زاہا اور معیز کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں, خود زاہا نے بھی معیز سے بات کی تھی, اسے کہا تھا کہ وہ حیان سے دل لگا بیٹھی ہے تو اگر معیز انکار کر دے تو کام بن سکتا ہے
“تو تم خود انکار کر دو” معیز نے کہا تھا
“میں نے سو بار انکار کیا ہے لیکن…. کاش کے میرے انکار کی کوئی اہمیت ہوتی” وہ بے بس تھی
حیان کئی بار معیز سے بات کر چکا تھا لیکن نہ جانے معیز کو بھی کیا ہو گیا تھا… اسے بس ایک ضد چڑھ گئی تھی
وہ حنین سے بھی ذلیل ہو چکا تھا, کئی بار یزدان کی منت بھی کر چکا تھا… لیکن بے سود
یزدان ایک بار پھر آئرہ سے ملا تھا لیکن سب بیکار ہی گیا تھا
دوسری جانب رعنین پوری طرح انعمتا کے خلاف ہوتی جا رہی تھی, وہ اسے اپنا رقیب سمجھنے لگی تھی, اس کے خیال میں انعمتا حنین سے کوئی چکر چلا رہی تھی, وہ اس کی نظروں میں اچھا بن کر حنین کو اس سے دور کر رہی تھی اور اس خیال کو اس کے دل میں ڈالنے میں کئی فیصد ہاتھ حنین کا بھی تھا
وہ چاہتا تھا کہ انعمتا خود رعنین کو حقیقت بتاۓ جو وہ شاید کبھی نا بتاتی… دانین بھی اس سے کغچی کھچی سی رہنے لگی تھی, ہر وقت اپنے کمرے میں بند رہتی, بہت چپ چپ سی ہو گئی تھی
……………………….
وہ حیان کے بار بار اصرار کرنے پر ایک آخری بار اور اس کے گھر چلی آئی تھی, حیان اس کے ساتھ تھا, آئرہ اسے دیکھ کر بڑا طنزیہ سا مسکرائی تھی
“تمہاری تو ایڑھیاں گھس گئی ہوں گی میرے گھر کے چکر لگا لگا کر ؟؟؟” وہ انہیں لان میں ہی مل گئی
“تو آپ مجھ پر ترس ہی کھا لیں” وہ خود ہی بیٹھ گئی
“یہ آپ کی بہن کا خون ہے آئرہ…. آپ کا سگا بھانجا… کوئی غیر تو نہیں ہے” انعمتا نے کہا
“اچھا… اس سگے بھانجے نے کبھی مجھے سگی خالہ سمجھا ہے… ” وہ بولی
“تاک تاک کے یہ تینوں بہن بھائی اپنے باپ سے میری شکایتیں لگاتے تھے… ” وہ تھوڑا آگے کو ہوئی
“جانتے ہو حیان… اگر تمہارے باپ نے اس عورت سے شادی نا کی ہوتی تو آج زاہا تمہاری ہوتی… میں خود زاہا سے تمہاری شادی کرواتی ” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“آئرہ… پلیز ضد چھوڑ دیں” وہ بے بس ہو گئی تھی
“چلو ٹھیک ہے… میں ضد چھوڑ دیتی ہوں لیکن ایک شرط پر” وہ بولی
“مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے”انعمتا نے کہا
“سوچ لو… بعد میں مکر نا جانا” وہ مسکرائی
“آپ شرط بتائیں ؟؟؟” وہ بولی
“مجھے زاہا کا رشتہ وٹے سٹے پر کرنا ہے… ” وہ بولی, انعمتا نے حیان کی طرف دیکھا تھا
“آئرہ… زارون اور رعنین بہت اچھے دوست ہیں… میں خود رعنین سے بات کروں…. ” لیکن آئرہ نے اس کی بات کاٹ دی
“میں رعنین کی بات نہیں کر رہی” وہ بولی
“دانین تو ابھی چھوٹی ہے… ” انعمتا نے کہا
“مجھے وہ بھی نہیں چاہیے” آئرہ زور سے ہنسی
“پھر… ؟؟؟” انعمتا سمجھ نہ سکی
“میرا اکلوتا بیٹا تمہارا عاشق ہے انعمتا حمدان خان… اور زاہا کے بدلے مجھے زارون کے لئے تمہارا رشتہ چاہیے ” آئرہ مکروہ سا ہنسی تھی, انعمتا دم بخود رہ گئی, حیان بھی ششدر سا اسے دیکھ رہا تھا
“وہ مجھ سے دس سال چھوٹا ہے… ” وہ بمشکل بولی
“تم حمدان سے پندرہ سال چھوٹی تھیں… ” وہ بولی
“آئرہ.. ایسا ممکن نہیں ہے… میرا ایک بیٹا ہے” وہ بولی
“میری یہ ہی شرط ہے انعمتا… میں زاہا کا رشتہ حیان سے کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن بدلے میں تمہیں زارون سے نکاح کرنا ہو گا… زاہا رخصت ہو کر تمہارے گھر جاۓ گی اور تم میری بہو بن کر اس گھر میں آؤ گی… یہ ہی میری شرط ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“ذرا سوچو انعمتا… میں ساس… اور تم بہو… کیسا لگے گا ؟؟؟” وہ بس ہنستی جا رہی تھی
