Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 10)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 10)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
پندرہ سال پہلے
اس کے پاس انعمتا طارق کی دو دن کی چھٹی کی درخواست آئی تھی
تیز بخار, سر درد اور نزلہ زکام
وہ اس پر سائن کرتے ہوئے مدھم سا مسکرا دیا جیسے جانتا ہو کہ ایسا ہو گا, بھلا وہ دھان پان سی لڑکی جاب اور پڑھائی دونوں ایک ساتھ کیسے مینیج کر سکتی تھی ؟؟؟
دو دن بعد وہ آئی تو حمدان نے اسے اپنے آفس میں بلا لیا
“بیٹھیں انعمتا… ” وہ بس اس کا زردی مائل چہرہ اور کئی کئی انچ اندر کو اتری ہوئی آنکھیں دیکھتا رہ گیا تھا
“کیا ہوا ؟؟؟”
“کچھ نہیں سر… بس بخار ہو گیا تھا… “
“کام کے بوجھ کی وجہ سے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی شاید… ” وہ اس کے سامنے نظریں ہی نہیں اٹھا پاتی تھی
“انعمتا میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ خدا کسی انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا… اگر اس نے ازمیر کے بعد آپ کے والدین اور آپ کی بہنوں کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے تو یقیناً آپ اسے اٹھانے کے قابل ہیں… ” وہ کہتا چلا گیا
“میں بھی اٹھارہ سال کا تھا جب میں نے بی سی ایس میں ایڈمیشن لیا تھا, مجھے شروع سے ہی بزنس کا بہت شوق تھا, میرے گھر والوں کو آج بھی نہیں پتہ کہ میں کالج کے بعد ایک ملٹی نیشنل فرم میں جونئیر کلرک کی جاب کیا کرتا تھا, اور رات میں ابو مجھے دوکان پر بٹھا دیتے تھے… مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے ایم بی اے کے بعد اس کمپنی کو خریدا تھا, اس کی بدحالی کا کوئی حال نہیں تھا, نا کوئی پروجیکٹ, نا کوئی ورکر, نا کوئی شییر… کچھ بھی نہیں… یہ بالکل ایسے تھی جیسے مر گئی ہو, اور میں نے ٹھان لیا تھا کہ مجھے اس مری ہوئی کمپنی کو دوبارہ سے زندہ کرنا ہے…. میں نے اپنا دن رات ایک کر دیا انعمتا… اور انسان صرف دو ہی صورتوں میں کسی کام کے لئے اپنا دن رات ایک کرتا ہے… یا تو اسے انتہا کا شوق ہو یا پھر انتہا کی مجبوری… مجھے شوق تھا… بے پناہ شوق… میں مسلسل کئی کئی راتوں تک سوتا نہیں تھا, بعض اوقات تو یہ بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ کچھ کھانا بھی ہے, بس پانی کے ایک گلاس پر صبح سے شام ہو جاتی تھی, میرا جنون تھا… مجھے ایک انتہائی کامیاب انسان بننا تھا… اپنے بل پر… اور صرف تیس سال کی عمر میں میں نے حمدان انٹرپرائزرز کو ٹاپ ٹین میں شامل کر دیا تھا…” وہ اسے بتاتا چلا گیا
“آپ کا معاملہ مجھ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے انعمتا… میں شوقین تھا… آپ مجبور ہیں… اور بات ایک ہی ہے… ” وہ بولا
“سر میں نے کبھی محنت سے جی نہیں چرایا… ” وہ بس اتنا ہی سمجھ سکی
“میں جانتا ہوں… اگر آپ محنت سے جی چرانے والی ہوتیں تو اس کمپنی میں ستائس دن تو کیا… ستائس منٹ بھی نہیں گزار پاتیں” وہ مسکرایا تھا
“میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ عورت اگر چاہے تو مرد سے کہیں آگے نکل سکتی ہے کیونکہ اس میں صبر کا مادہ مرد سے کہیں زیادہ ہوتا ہے… آپ سب کچھ کر سکتی ہیں انعمتا… بس خود پر یقین کرنے کی دیر ہے” وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
“جی سر… ” وہ دھیرے سے بولی
“اب اگلی لیو ایپلیکیشن کب آۓ گی میرے پاس ؟؟؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا, انعمتا نے فوراً اس کی طرف دیکھا, وہ بدستور مسکرا رہا تھا
“اگر زیادہ بیمار ہو گئی تو… ؟؟” اس کے پوچھتے ہی حمدان زور سے ہنسا تھا
آخر ایک اٹھارہ سالہ لڑکی میں وہ وقت سے پہلے میچورٹی کیسے پیدا کر دیتا… ناممکن تھا
……………………
اس دن موسم کافی زیادہ خراب تھا, نیلا آسمان پوری طرح سیاہ بادلوں سے گھر چکا تھا, کسی بھی وقت چھما چھم شروع ہو جاتی, کمپنی بس سروس کے لئے گئی ہوئی تھی سو وہ واپسی پر کافی لیٹ ہو گئی, اس کی کافی ساری کولیگز تو خود ہی گھر چلی گئی تھیں
چار بجے تک بھی بس واپس نہ آئی تو وہ حنین کے کیبن تک چلی آئی, وہ اور یزدان کسی پراجیکٹ کو ڈسکس کر رہے تھے, حنین اسے دیکھتے ہی چونک گیا
“پلیز مجھے گھر تک چھوڑ آؤ گے ؟؟؟” وہ یزدان کو وہاں دیکھ کر نروس سی ہو گئی
“بس نہیں گئی آج ؟؟”
“وہ سروس کے لئے گئی ہوئی ہے” وہ بولی
“چلو… ” حنین اسی وقت کھڑا ہو گیا
“میں بس دس منٹ تک آیا… ” وہ یزدان کا مسکراتا ہوا چہرہ نظرانداز کرتا ہوا انعمتا کے ساتھ باہر نکل آیا, یزدان کو اس نے کل ہی اپنے اور انعمتا کے رشتے کے بارے میں بتایا تھا… وہ بھی اس لئے کیونکہ یزدان مسلسل اس پر دوست کی بہن پر ڈورے ڈالنے کا الزام دھرے جاتا تھا
وہ دونوں باہر نکلے تو موسم واقعی بہت خراب ہو رہا تھا, ہلکی ہلکی ہوا بھی چل پڑی تھی, حنین کے بائیک سٹارٹ کرتے ہی وہ اس کے پیچھے بیٹھ گئی, ابھی دو منٹ بھی نہیں ہوۓ تھے کہ بوندیں گرنے لگیں
“حنین…. بارش ہونے لگ گئی ہے” وہ زور سے بولی تھی
“پھر کیا ہوا… دونوں مل کر بارش میں نہائیں گے” حنین نے ہنستے ہوئے کہا تھا, لمحوں میں جل تھل ہو گیا, وہ دونوں پانی سے شرابور ہو گیے تھے
دفعتاً بائیک گڑگڑاہٹ کی آواز کے ساتھ بند ہو گئی
“اسے کیا ہوا ؟؟”
“پتہ نہیں… ” حنین کا ہر حربہ بیکار ہی گیا
“چلو آؤ… گھر تھوڑا ہی دور ہے اب… ” اس نے بائیک ایک دوکان کے سامنے کھڑی کر کے لاک لگایا اور مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا, وہ تیز ٹھنڈی ہوا سے کپکپانے لگی تھی, حنین نے اپنا کوٹ اتارا اور اس کے کندھوں پر ڈال دیا
“ویسے تو یہ بھی گیلا ہی ہے لیکن… گزارہ ہو جاۓ گا” وہ اپنی شرٹ کی آستینیں نچوڑتے ہوۓ بولا تھا, انعمتا نے اس کا کوٹ زور سے اپنے کندھوں سے لپیٹ لیا
“انعمتا… ” حنین نے بڑی محبت سے پکارا تھا, وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی
“جیسے ہی تمہارا بی سی ایس ہو گا… ہم شادی کر لیں گے… ٹھیک ہے ؟؟؟ ” وہ بولا
“بالکل نہیں… ایم سی ایس کون کرے گا ” وہ بولی
“وہ شادی کے بعد کر لینا” حنین نے کہا
“شادی کے بعد کونسی پڑھائی ہوتی ہے ؟؟؟” وہ بولی
“ساری پڑھاییاں شادی کے بعد ہی تو ہوتی ہیں انعمتا جان… ” حنین کے معنی خیز سے انداز پر وہ جھینپ سی گئی, اس نے مسکراتے ہوئے پھر اس کا ہاتھ تھام لیا
“چھوڑو… ” وہ کسمسائی تھی
“کبھی بھی نا چھوڑوں…” حنین نے ایک جھٹکے سے اسے قریب کیا تھا, انعمتا لہرا کر اس کے کندھے سے جا ٹکرائی, وہ دونوں مین روڈ سے نیچے اتر آۓ تھے, ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا اور جل تھل کرتی بارش…حنین کا بازو بڑے حق سے اس کے نازک سے وجود کے گرد حصار بنا گیا
“حنین… کوئی دیکھ لے گا” وہ بولی
“اچھا ہے نا… پھر ہماری شادی جلدی ہو جاۓ گی” حنین نے بازو موڑ کر اسے اپنے سامنے کیا تھا, دفعتاً سامنے سے کوئی آتا دکھائی دیا, وہ فوراً اسے لیکر دیوار کی اوٹ میں ہو گیا, اس کا گھر چند قدم کی دوری پر تھا
“چھوڑو مجھے… گھر آ گیا ہے” وہ دھیرے سے بولی اور اس کا کوٹ اتار کر اس کی طرف بڑھا دیا
“تھینک یو نہیں کہو گی” حنین اس کے بھیگے بھیگے سے وجود سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا
“تھینک یو… ” وہ اس کی نظروں کے ارتکاز سے سمٹی جا رہی تھی, حنین اپنا کوٹ بازو پر ڈالتے ہوئے اس کے قریب ہو گیا… اتنا کہ انعمتا کا بھیگا ہوا چہرہ اس کے لبوں سے ذرا ہی دور رہ گیا تھا
“میری بس ہوتی جا رہی ہے اب… تم میری ہو کر بھی میری نہیں ہو یہ کیسا امتحان ہے میرا… پوری پوری رات تمہارے تصور میں گزر جاتی ہے, ہر کروٹ پر تم نظر آتی ہو…” حنین نے بڑے حق سے اس کا پھول سا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا, انعمتا کے لبوں میں لرزش ہونے لگی تھی, وہ جیسے ہر شے سے بیگانہ ہو گیا تھا
“میں کب تک بس تمہیں دیکھ دیکھ کر جیتا رہوں گا… مجھے تم میری بانہوں میں چاہئے ہو انعمتا… میرے دل کے بالکل پاس, میری سانسوں میں گھلتی ہوئی” وہ دیوانہ وار اس کے لرزتے ہوۓ لبوں پر جھکا تھا, انعمتا ایک جھٹکے سے اس کا حصار توڑ کر نکل گئی
وہ بس خالی ہاتھ سا اس دیوار کے پاس کھڑا رہ گیا تھا
…………………………
آج صبح سے اس کی طبیعت مضمحل سی تھی, وقفے وقفے سے گردے میں درد اٹھ رہا تھا جو کمر کے پچھلے حصے کی طرف جا رہا تھا, خود پر بے تحاشا قابو پاۓ وہ دوپہر تک کرسی پر بیٹھا رہا لیکن درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا
تقریباً ایک بجے وہ کرسی سے اٹھ کر واش روم گیا, کمر ٹوٹنے والی ہو گئی تھی, باہر نکلا تو چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا, گردے کا یہ درد اسے اکثر و بیشتر ہی اٹھتا تھا, چھ مہینے پہلے اس نے پتھری کا آپریشن کروایا تھا جو چار ماہ بعد پھر بن گئی تھی, پھر آپریشن کروایا…لیکن صورتحال دن بدن بگڑتی ہی جا رہی تھی
اب بھی تکلیف کی شدت سے وہ اپنی کمر پر ہاتھ رکھتا ہوا درد سے دوہرا ہو کر آفس ٹیبل کے پاس ہی گر گیا, آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا, بمشکل اس نے کال کر کے یزدان کو بلایا
“بھائی کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ تو اسے منہ کے بل فرش پر گرے دیکھ کر ہی دہل گیا تھا
“یزدان… دراز میں سے انجیکشن نکالو, جلدی” یزدان نے اسے سہارا دے کر صوفے پر لٹا دیا, ہر بار ایسی صورتحال میں یزدان ہی اس کے ساتھ ہوتا تھا, اب بھی اس نے جلدی سے انجیکشن بھرا اور اس کے لگا دیا
“بھائی ہسپتال لے چلوں… ” وہ اس کا نڈھال سا چہرہ دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا
“ذرا درد کم ہو جاۓ… پھر چلتے ہیں” وہ بولا, تقریباً آدھے گھنٹے بعد یزدان اسے ہسپتال لے آیا, وہ ڈاکٹر چھ ماہ سے اس کا ٹریٹمنٹ کر رہا تھا
“اب کیسی طبیعت ہے حمدان… ” ڈاکٹر نے اس کے ٹیسٹ کرواۓ تھے
“اب تو بہتر ہے… ” وہ بولا
“نہیں حمدان… یہ بہتر نہیں ہے… تمہارا ایک کڈنی دھیرے دھیرے ناکارہ ہوتا جا رہا ہے, دوسرے میں دو بار سٹونز بن چکے ہیں… زیادہ سے زیادہ چھ ماہ… اور پھر تم ڈائلسز پر آ جاؤ گے” وہ بولا, حمدان چپ رہ گیا
“ٹرانسپلانٹ کروا لو ؟؟؟” ڈاکٹر نے کہا
“اس کا رسک فیکٹر بہت زیادہ ہے ڈاکٹر… ” وہ بولا
“تو ڈائلسز میں رسک نہیں ہے کیا…. ہر ہفتے اسقدر تکلیف… کیسے جھیلا کرو گے ؟؟؟” وہ بولا
“میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں ڈاکٹر… وہ تنہا ہو جائیں گے… بالکل تنہا” وہ چپ چاپ وہاں سے پلٹ آیا, یزدان کو اس نے گھر میں کسی کو بھی کچھ بتانے سے سختی سے روک دیا تھا
شام میں بشر اس سے ملنے آیا… یزدان نے اس کے منع کرنے کے باوجود اسے بتا دیا تھا
“دوسری شادی کر لے حمدان…. ہر سوتیلی ماں تو بری نہیں ہوتی” وہ بولا, اس لمحے ڈرائینگ روم میں بس وہ اور بشر ہی تھے
“اور اگر بری نکل آئی تو… ؟؟؟ وہ بولا
“بشر میں جانتا ہوں کہ میرے آنکھ بند کرنے کی دیر ہے… میرے رشتے دار میرے معصوم بچوں کو رول کر رکھ دیں گے, ابھی کل میں نے سنا کہ آئرہ زارون کے لئے رعنین کے رشتے کی بات کر رہی تھی… میری بہنیں الگ سے حیان پر نظر رکھ کر بیٹھی ہیں, چچا اور ان کے بیٹے نہ جانے کیسے میرا لحاظ کر رہے ہیں, آج اگر میری آنکھ بند ہو گئی تو انہیں صرف حمدان انٹرپرائزرز سے سروکار ہو گا, میرے بچوں کو کوئی نہیں پوچھے گا… اور اگر اس سب میں میری دوسری بیوی بھی انہی جیسی نکل آئی تو کیا ہو گا… ؟؟؟ میں سوچ کر کانپ جاتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا
“حمدان…. یزدان یے نا تیرے ساتھ” وہ بولا
“کب تک… ؟؟؟اسے بھی شادی کرنی ہے بشر, اسے بھی گھر بسانا ہے, وہ کب تک میرے بچوں کی دیکھ ریکھ کرتا رہے گا…”وہ ازحد پریشان تھا
“مجھے میرے رب پر پورا بھروسہ ہے بشر لیکن…. اس کٹھور دنیا پر نہیں ہے, یہ میرے معصوم بچوں کو نوچ کھاۓ گی, میری ماں کب تک ان کی ڈھال بنی رہے گی… ؟؟؟” وہ بولا
“حمدان…. خدا پر بھروسہ ہے تو اس کا نام لیکر دوسری شادی کر لے, ہو سکتا ہے اس نے تیرے بچوں کے نصیب میں ایک بہترین سوتیلی ماں لکھی ہو” وہ جاتے ہوئے اسے کہہ کر گیا تھا
اس رات اس نے رعنین اور حیان کو خود ہی ہوم ورک کروایا, دانین اس کی گود میں ہی سو گئی تھی
“حمدان…. دوسری شادی کر لے… ” بشر کی آواز بار بار اس کے کانوں میں گونج رہی تھی
اور المیہ یہ تھا کہ دوسری شادی کے نام پر جو چہرہ ذہن کے پردے پر ابھر رہا تھا وہ اسی اٹھارہ سالہ معصوم لڑکی کا تھا جو پچھلے کچھ عرصے سے اس کے حواسوں پر سوار تھی
اس سے پندرہ سال چھوٹی… انعمتا طارق
“حیان… رعنا… آپ اپنے پاپا سے کتنا پیار کرتے ہو ؟؟؟” اس نے دونوں کو اپنے دائیں بائیں لٹا لیا تھا, دانین اس کے سینے پر لیٹی ہوئی تھی
“بہت زیادہ… ” وہ دونوں اس سے لپٹ گئے
“اور پاپا آپ لوگوں کے لئے جو کریں گے وہ ہمیشہ بہت اچھا ہو گا… ہے نا ؟؟؟” اس نے کہا
“جی پاپا… “
“دیکھو دانی ابھی بہت چھوٹی ہے… اور آپ کو اور رعنا کو بھی تو ماما کی کمی محسوس ہوتی ہے… ہے نا ؟؟؟” وہ بولا
“جی پاپا… “
“تو اگر پاپا آپ کو ایک بہت اچھی دوسری ماما لا دیں تو اچھا ہو گا نا… ؟؟؟” اس کی بات سن کر دونوں چونک گئے
“پاپا آپ خالہ سے شادی کر رہے ہیں؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“نہیں بیٹے… کوئی اور… کوئی بہت اچھی” وہ بولا
“وہ پھر آپ کے روم میں رہے گی… ؟؟؟”
“نہیں… ہم اسے ایک الگ روم دے دیں گے” وہ بولا, دونوں بچے تشویشناک سی صورتحال میں تھے
“دیکھو بیٹے… وہ بہت اچھی ہو گی, آپ لوگوں کا بہت خیال رکھے گی, آپ کو ناشتہ کروایا کرے گی, لنچ باکس بنا کر دیا کرے گی, واپسی پر کپڑے چینج کروایا کرے گی, اور پھر شام کو ہوم ورک بھی کروایا کرے گی, آپ کے ساتھ مل کر کھیلا کرے گی… ” حمدان کہتا چلا گیا
“پھر آپ کیا کیا کریں گے پاپا… ؟؟؟” حیان نے پوچھا
“میں بھی آپ کے پاس ہی ہوں گا… ” وہ بولا, بچے سوچ میں پڑ گئے تھے
“پاپا آپ کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے نا بیٹے… اسلیے کہہ رہا ہوں” حمدان نے ان دونوں کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا
…………………………
طارق صاحب کو دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا تھا, بظاہر وہ نارمل ہی نظر آتے تھے لیکن جوان بیٹے کی موت نے انہیں اندر سے بالکل ہی کھوکھلا کر دیا تھا, دو دن وہ ہسپتال میں ایڈمٹ رہے, حمدان ایک بار انہیں دیکھنے آیا تھا
صفیہ کی حالت بھی تشویشناک ہی تھی, ان کے جوڑوں اور پٹھوں میں مسلسل کھچاؤ تھا, یورک ایسڈ حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا, کوئی باقاعدہ علاج نا ہونے کی وجہ سے وہ بالکل ہی مفلوج ہوتی جا رہی تھیں
پھر آۓ روز کے خرچے… راشن, بجلی کا بل, پانی کابل, دودھ کا بل… دونوں لڑکیوں کی پڑھائی… فیسیں…زندگی مشکل ترین ہوتی جا رہی تھی
انعمتا بیچاری کہاں تک کرتی… ؟؟؟ وہ بھی تھک جاتی تھی, اوپر سے صفیہ کو دن رات اس کی شادی کے اندیشے ستاۓ رکھتے تھے, نا کوئی تیاری تھی اور نا کوئی پیسہ
ادھر حمدان کی حالت بھی روز بروز بگڑ رہی تھی, دائیں گردے میں پھر سے پتھری کی شکایت ہونے لگی تھی, وہ اپنے بچوں کی طرف دیکھتا تو لرز جاتا تھا… مائرہ کے بعد اگر وہ بھی دنیا سے چلا گیا تو ان تینوں کا کیا بنے گا ؟؟؟
اس کے سارے رشتے دار سچ میں جیسے گھات لگاۓ بیٹھے تھے, چچا کے دونوں بیٹوں کی آۓ روز کی شکایات اس تک پہنچتی تھیں, ایک دفعہ تو وہ دونوں وہیں کمپنی میں ہی گتھم گتھا ہو گئے تھے, آئرہ ہر طور اس سے شادی کرنے کے درپے تھی, دونوں بہنوں نے اپنی اپنی نندوں کے رشتے لا کر الگ سے اس پر چڑھائی کی ہوئی تھی, روزانہ ہی اسے فریحہ کے سامنے پیش ہونا پڑتا, دونوں بہنوئیوں کی فرمائشیں دن بدن بڑھتی جا رہی تھیں, حالانکہ حمدان انٹرپرائزرز سراسر اس کی اپنی کاوش تھی… سراسر اس کا اپنا حق تھی, اس پر کسی بھی رشتے دار کا
کوئی حق نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ سب اس کے سر پر سوار تھے, اسے ان سب کو پالنا پڑ رہا تھا, سیف خان کے گزرنے کے بعد تو وہ سبھی اسے مزید جونک کی طرح چمٹ گئے تھے, اس پورے خاندان میں اگر کوئی اس کے ساتھ مخلص تھا تو وہ یزدان تھا… لیکن آخر کب تک ؟؟؟
صورتحال اس تیسرے گھر میں بھی مخدوش ہی تھی, اس اکیس سالہ لڑکی کا صبر اب جواب دیتا جا رہا تھا, پچھلے پانچ سالوں سے وہ سبتین کا بے جا شک اور غصہ برداشت کر رہی تھی, دو بچے پیدا کر چکی تھی, سارا گھر سنبھالتی تھی… اس کا بھی آخر کو ایک ظرف تھا جو چھلک جاتا تھا
اس رات بھی ایسا ہی ہوا تھا
سبتین کسی معمولی سی بات پر اس پر چڑھ دوڑا تھا اور مایا کی بس ہو گئی تھی, وہ بھی جواباً چیخ پڑی… اور مرد سے بھلا کہاں برداشت ہوتا ہے عورت کا سر اٹھانا…. اس نے مایا کے ساتھ اچھی ہی مار پیٹ کی تھی… اسی رات وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی امی کی طرف چلی گئی تھی
بڑی ہی مشکلوں سے سبتین وہاں جانے پر راضی ہوا, مایا کے بھائی ہتھے سے اکھڑے پڑے تھے, پانچ سالوں میں بھی اس بیچاری کے چہرے پر آسودگی کی کوئی رمق نہیں تھی, ہمہ وقت بس اسے سبتین کے موڈ کی فکر پڑی رہتی تھی
…………………….
وہ نومبر کا ایک خوشگوار سا دن تھا, ایک ہفتہ پہلے ہی حمدان کی لیتھو ٹرپسی ہوئی تھی, اس بار یزدان نے فریحہ کو بھی بتا دیا تھا, وہ تو جوان بیٹے کو بے سدھ ہسپتال کے بستر پر پڑے دیکھ کر ہی ڈھے گئیں, سیف خان کی موت کے بعد وہ بھی بہت اکیلی ہو گئی تھیں
“حمدان… تیرے پاس صرف ایک ہفتہ ہے لڑکے, اگر تو نے مجھے اپنی پسند نا بتائی تو میں خود اپنی پسند سے تیری دوسری شادی کر دوں گی” انہوں نے اسے الٹی میٹم دے دیا تھا
اب بھی وہ ایک ہفتے بعد آفس آیا تھا, کئی پراجیکٹس اور ٹینڈرز پینڈنگ پڑے تھے
“حنین… ساری فائلز لے آؤ… ” اس نے آتے ہی حنین کو بلا لیا, کافی دیر وہ اس کے ساتھ فائلیں ڈسکس کر کے سائن کرتا رہا, پھر اس نے فاران کو بلایا, سارا فنانسنگ سیٹ اپ ڈسکس کیا, تقریباً بارہ بجے کے قریب یزدان نے آ کر اسے انجیکشن لگایا تھا
“کچھ دیر ریسٹ کر لیں اب… ” وہ اسے صوفے سے اٹھنے نہیں دے رہا تھا
“یزدان… انعمتا کو بھیجو میرے پاس” بمشکل اٹھ کر وہ اپنی کرسی تک آیا تھا
“اور ایک لیپ ٹاپ بھی بھیجنا…. ” وہ بولا, یزدان سر ہلا کر باہر نکل گیا, کچھ ہی دیر بعد وہ چلی آئی
جامنی رنگ کے ریشمی سوٹ میں ملبوس, ساتھ ہلکا کاسنی کنٹراسٹ کا دوپٹہ سر پر اوڑھے, لبوں پر مدھم سی کاسنی لپ اسٹک لگاۓ وہ اندر آ گئی
“بیٹھیں انعمتا… ” حمدان نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, وہ سر جھکاتے ہوۓ بیٹھ گئی
“کیسی ہیں آپ ؟؟؟؟”
“ٹھیک ہوں سر… “
“انعمتا میرے لئے ایک لیٹر ٹائپ کریں گی آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی سر…. ” اس نے لیپ ٹاپ کھول لیا, حمدان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اسے دیکھا, وہ اس کے بولنے کے انتظار میں بیٹھی تھی
“To whom may it concern….
وہ بولنا شروع ہوا
“This was just a request… More precisely just a wish…a wish to have a very beautiful and amazing person… and today… I want to put my wish before that person”
“یہ صرف ایک تمنا ہے… یا یوں کہہ لیں کہ ایک خواہش ہے, ایک انتہائی خوبصورت اور خاص ہستی کو حاصل کر لینے کی خواہش… اور آج میں یہ خواہش اس کے سامنے رکھ دینا چاہتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا, انعمتا بنا کوئی تاثر دیئے ٹائپ کرتی چلی گئی, حمدان جانتا تھا کہ وہ اس وقت صرف اس کے لئے ایک لیٹر ٹائپ کر رہی ہے, اس کے لفظوں پر کوئی دھیان نہیں دے رہی
“I am 34 year old… Having three kids, one son, two daughters, I know i have only a little time left… and in this time, i want to be with you… “
“میں چونتیس سال کا ہوں, میرے تین بچے ہیں… ایک بیٹا, دو بیٹیاں, مجھے پتہ ہے میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے لیکن جتنا ہے… اسے میں تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں” وہ کہہ ہی گیا… انعمتا نے ٹائپ کر دیا, حمدان مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا
“I”ll be with you… in your evey bad time, I” ll be with yiu in your all responsibilities, worries, sorrows… My everything will be yours and yours are mine… I”ll be yours and you will be mine… “
“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گا… تمہارے ہر برے وقت میں, ذمہ داریوں میں, پریشانیوں میں, تکلیفوں میں, دکھوں میں… میرا سب کچھ تمہارا ہو گا اور تمہارا سب کچھ میرا… میں تمہارا ہوں گا… اور تم میری… ” وہ اس سے زیادہ اور کیا کہتا لءکن شاید اسے مزید کچھ کہنے کی ضرورت تھی
“I am not forcing you, not threatening you, not blackmailing you… I just want to ask that will you be mine till death… “
“میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کر رہا… کوئی ڈراوا نہیں, کوئی ایموشنل بلیک میلنگ نہیں… صرف ایک التجا ہے کہ کیا تم میری بننا چاہو گی… مرنے تک کے لئے ” اس نے پوچھ لیا تھا, انعمتا کی انگلیاں رینگتی چلی گئیں, وہ خاموش ہو گیا, وہ کچھ دیر انتظار کرتی رہی, پھر اس کی طرف دیکھا
“سر بس… ؟؟؟”
“ذرا پڑھو تو کیا لکھا ہے ؟؟؟” حمدان نے کہا
“دھیان سے پڑھنا… دھیرے دھیرے ” وہ جیسے اس کا چہرہ کھوج رہا تھا
انعمتا نے پڑھنا شروع کیا
“To whom may it concern…
“This was just a request… More precisely just a wish…a wish to have a very beautiful and amazing person… and today… I want to put my wish before that person”
وہ ذرا سا رکی تھی… چہرے کا رنگ ذرا سا بدلا تھا
“I am 34 year old… Having three kids, one son, two daughters, I know i have only a little time left… and in rhis time, i want to be with you… “
وہ ٹھٹھک گئی… خشک ہوتے لبوں پر دھیرے سے زبان پھیری, پلکوں میں لرزش ہونے لگی تھی
“I”ll be with you… in your evey bad time, I” ll be with yiu in your all responsibilities, worries, sorrows… My everything will be yours and yours are mine… I”ll be yours and you will be mine… “
وہ ذرا سا رکی, مطلب سمجھ آنے لگا تھا, ماتھے پر پسینہ ابھر آیا, گال تمتمانے لگے
“I am not forcing you, not threatening you, not blackmailing you… I just want to ask that will you be mine till death… “
آخر میں اس کی زبان لڑکھڑا گئی, چہرہ تمتما اٹھا تھا, بہت دیر تک وہ لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظریں نا ہٹا سکی, اسے پتہ تھا کہ وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
“اسے مکمل کریں انعمتا… ” حمدان نے کہا, اس نے اپنی انگلیاں کی بورڈ پر رکھ دیں
“Will you marry me…. Anamta Tariq??? “
“کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی… انعمتا طارق ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, انعمتا ٹائپ نہ کر سکی, بس انتہائی پزل ہوتی حالت میں بیٹھی رہ گئی
“انعمتا… میری طرف دیکھیں… ” حمدان نے کہا, اس نے بمشکل نظریں اٹھائیں تھیں
“مجھے صرف آپ کی مرضی درکار ہے انعمتا… صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کو مجھ سے شادی پر کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟؟” وہ بولا, انعمتا جواب نہ دے سکی….بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“یہ میرا پرسنل نمبر ہے… آپ آج گھر جا کر اچھی طرح سوچ لیں… اور جب فیصلہ کر چکیں تو مجھے بس ایک ٹیکسٹ کر دینا… اور یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ آپ کا ٹیکسٹ YES ہی ہو… وہ NO بھی ہو سکتا ہے… مجھے صرف آپ کا جواب چاہئے انعمتا… باقی کا سارا کام میں خود کر لوں, آپ کے ابو سے میں خود بات کر لوں گا” حمدان نے کہا اور پانی کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا
“میں اب جا سکتی ہوں ؟؟؟” اس نے کپکپاتے ہوۓ لبوں سے پوچھا تھا
“جی بالکل… تھینک یو” حمدان نے کہا, وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل گئی تھی
