Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 07)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

پندرہ سال پہلے

اس چھوٹے سے گھر کےصحن میں کسی قیامت کا سا سماں تھا, ازمیر کا سفید چادر سے ڈھکا ہوا بے جان وجود صحن کے عین وسط میں پڑا تھا, اس کی ماں کی آہوں کا کوئی حال نہیں تھی, تینوں بہنیں اس کی لاش سے لپٹ لپٹ جاتی تھیں, باپ کو تو جیسے سکتہ ہو گیا تھا

کون جان سکتا ہے ان بوڑھے ماں باپ کے دل کا حال جن کے جوان بیٹے کی لاش ان کے آنگن میں پڑی ہو, کون جانے اس باپ کا دکھ جس کا اس کے قد سے نکلتے ہوئے قد کا جوان بیٹا مستقل آنکھیں بند کر جاۓ, اس ماں کے دکھ کا اندازہ کون کرے جو خود زندہ ہو ور اس کا کڑیل جوان بیٹا آنکھیں موند جاۓ, ان بہنوں کے دکھ کا اندازہ کون کرے جنہیں جوان بھائی کی میت پر آنسو بہانے پڑیں… ؟؟؟

کوئی نہیں کر سکتا…. اس لمحے ازمیر کے ماں باپ اور بہنوں کا دکھ کوئی نہیں جان سکتا تھا

حمدان بس تھوڑی دیر کے لئے آیا تھا, وہ روتے بلکتے ماں باپ اور تڑپتی ہوئی بہنیں دیکھنا کونسا آسان کام تھا, ابھی چند ماہ پہلے ہی تو وہ یہ قیامت خود پر جھیل کر بیٹھا تھا

“حنین, یزدان… ازمیر کے ابو کا خیال رکھنا, وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں, دونوں یہیں رہنا… میں جنازے پر آ جاؤں گا” وہ فریحہ کے مسلسل فون کرنے پھر گھر چلا آیا تھا

ازمیر کا جنازہ عشاء کی نماز کے بعد رکھا گیا تھا

اس کے ابو اور انعمتا کی حالت سب سے زیادہ نازک تھی… اس کے کفن دفن اور کھانے وغیرہ کا سارا خرچہ کمپنی نے ہی افورڈ کیا تھا, حمدان جنازہ اٹھنے سے پہلے ہی پہنچ گیا

اس کی بہنوں کی چیخوں نے آسمان ہلا دیا تھا

“ازمیر بھائی…. ” وہ دوپٹے سے بے نیاز اس کی میت کے پیچھے دروازے تک آئی تھی

“انعمتا… ” کسی نے اس کا نام پکارا تھا, حمدان نے بس ایک نظر پلٹ کر دیکھا

وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر دہلیز پر گر گئی تھی

……………………….

رات کے تقریباًبارہ بج رہے تھے جب وہ اور یزدان گھر واپس آۓ, سارا گھر ہی سو چکا تھا, یزدان فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے اوپر چلا گیا, اس نے دھیرے سے فریحہ کے کمرے میں جھانکا, تینوں بچے ان کے پاس ہی سو رہے تھے, ظاہر ہے رعنین اور حیان ابھی اتنے بڑے تو نہیں ہوۓ تھے کہ خود ہی اوپر جا کر سو جاتے, اور فریحہ سے سیڑھیاں چڑھنا بھی مشکل تھا

ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے وہ اوپر اپنے کمرے میں آ گیا, سارے دن کی تھکن سے بدن ٹوٹے جا رہا تھا, کوٹ اتارتے ہوئے اس نے پاس پڑے صوفے پر اچھال دیا اور خود ٹائی کھولنے لگا

یکلخت ہی خوشبو کا ایک جھونکا سا اس کی سانسوں میں گھلا تھا, وہ چونک کر پلٹا, آئرہ اس کے کمرے کی دہلیز پر کھڑی تھی, وہ سیاہ رنگ کا پیروں تک آتا ڈھیلا ڈھالا سا سلیپنگ گاؤن پہنے ہوئے تھی

“آج بڑی دیر کر دی حمدان… ” وہ اندر آ گئی

“ایک ایمپلائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے آج… عشاء کے بعد اس کا جنازہ تھا” حمدان نے کہا

“لاؤ میں اتار دیتی ہوں” وہ اس کے قریب آئی اور ٹائی کی ناٹ پکڑ لی

“آئرہ… مجھے ٹائی کھولنی آتی ہے” حمدان نے سختی سے اس کے دونوں ہاتھ جھٹک دییے تھے, وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکراتے ہوئے اس کے کف لنکس کھولنے لگی

“حمدان… آخر کیوں اتنا دور بھاگتے ہو مجھ سے ؟؟؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی تھی

“مجھے کیا ضرورت ہے تم سے دور بھاگنے کی ؟؟؟” حمدان نے اس کے ہاتھوں سے اپنا کف چھڑوایا تھا

“پھر پاس کیوں نہیں آنے دیتے..” وہ فسوں خیز لحجے میں کہتی اس کے قریب ہوئی تھی, اس کے وجود سے اٹھتی مہک حمدان کے حواس سلب کر لینے کے لیے کافی تھی

“آئرہ… میری ایک بات آج کان کھول کر سن لو, تم مجھے زبردستی اپنا نہیں بنا سکتیں” حمدان نے کہا

“پھر کیا کروں ؟؟؟ کیا کروں کہ تمہارے دل میں تھوڑی سی جگہ پا سکوں” آئرہ نے ہر لحاظ بالاۓ طاق رکھتے ہوئے اپنے دونوں بازو اس کے گلے میں ڈال دیئے

“اپنی ان گھٹیاں حرکتوں سے باز آ جاؤ… بس” حمدان مڑنے ہی لگا تھا جب آئرہ نے اس کی شرٹ کا کالر اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیا

“حمدان… آئی لو یو, پتہ نہیں کب سے” وہ جیسے بھیک مانگ رہی تھی

“اس بار تو اپنا لو… پلیز حمدان… اس بار تو نہ دھتکارو” آئرہ کی سانسیں اس کی سانسوں میں گھلنے لگی تھی

“آئرہ…. جاؤ یہاں سے” حمدان نے ذرا سختی سے اس کی دونوں کلائیاں جکڑتے ہوۓ اسے پیچھے کو دھکیلا تھا, آئرہ نے اس کا کالر اور مضبوطی سے جکڑ لیا, حمدان کا توازن بگڑا تھا, اور اگلے ہی پل وہ اپنے پورے وزن سے آئرہ کے دھان پان سے وجود کے اوپر گر گیا تھا

“بس اتنے قریب آنا ہے تمہارے حمدان… بس اتنے قریب کے تمہاری مہک مجھے سرشار کر دے, بس اتنے قریب کے تمہاری سانسیں میرے لبوں سے ٹکرانے لگیں… بس اتنا سا قریب کر لو مجھے حمدان سیف خان…بس اتنی سی خواہش ہے میری… ” وہ اس کی قربت سے زیر ہوتی جا رہی تھی

حمدان نے بمشکل اپنے باغی ہوتے جذباتوں پر قابو پاتے ہوئے یکدم ہی اسے دونوں کندھوں سے جکڑتے ہوۓ دوسری طرف موڑا اور خود اس کے اوپر جھک آیا, لمحوں میں اس نے آئرہ کی دونوں کلائیاں جکڑ کر اس کے کندھوں سے اوپر کر دی تھیں

“چلو پھر… تمہاری خواہش آج رات ہی پوری کر دیتا ہوں لیکن وعدہ کرو… صبح اٹھ کر میرا نام بھی بھول جاؤ گی” وہ سرد ترین لحجے میں بولا تھا, آئرہ ششدر سی اسے دیکھتی رہ گئی

“تمہیں صرف میں چاہئے ہوں نا آئرہ کیف خان… تو میں اپنی آج رات تمہارے نام کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن وعدہ کرو… کہ اس کے بعد آنے والی کسی بھی رات میں تمہیں اپنے کمرے کی دہلیز پر نہیں دیکھوں گا” وہ پورے حق سے اس پر جھک گیا تھا, اس کے لبوں کے کنارے آئرہ کے لرزتے ہوۓ لبوں سے مس ہونے لگے تھے

“کہو منظور ہے ؟؟” حمدان نے اس کی کلائیوں پر گرفت ذرا مضبوط کی تھی

“نہیں… مجھے تم ایک رات کے لئے نہیں چاہئے ہو حمدان… مجھے تم آنے والی ہر ایک رات میں چاہئے ہو… اپنے دل کے اتنے پاس ….جتنے اس وقت ہو” آئرہ نے سرگوشی میں کہا تھا

“تو جاؤ… اور یاد رکھنا اگر دوبارہ تم مجھے آدھی رات کو اس کمرے میں نظر آئیں تو… مجھے درندہ بننے میں دیر نہیں لگے گی” وہ انتہائی سخت لحجے میں کہتا ہوا اس کے اوپر سے ہٹ گیا تھا

………………………..

آج ازمیر کی قرآن خوانی تھی… حمدان نے حنین اور یزدان کو صبح ہی اس کے گھر بھیج دیا تھا, ساری رات اس کے والد ہسپتال میں داخل رہے تھے, ماں کا رو رو کر برا حال تھا, ایک بہن کسی دروازے کو پکڑے بیٹھی تھی تو دوسری کسی دیوار کے ساتھ گری ہوئی تھی

وہ انعمتا کو ڈھونڈتا ہوا اوپر آیا تھا

چھت پر بنے اس سٹور نما کھنڈر سے کمرے کے ایک تاریک سے کونے میں گری وہ خاموش سسکیاں بھر رہی تھی

“انعمتا… ” وہ تڑپ ہی تو گیا تھا

“میری جان بس کرو… کل سے رو رہی ہو” اس نے بنا کوئی پرواہ کئے اس کا نڈھال سا وجود اپنے ساتھ لگایا لیا تھا

“حنین ہم کیا کریں گے بھائی کے بغیر… ” وہ ایک بار پھر بلک پڑی تھی

“اللہ ہے نا تم لوگوں کے ساتھ… ازمیر نا ہوا تو کیا وہ تمہیں بے آسرا چھوڑ دے گا… ؟؟؟ نہیں نا… تو بس حوصلہ کرو” وہ اسے خود سے لگاۓ تھپکتا چلا گیا

“چلو آؤ نیچے چلیں… کچھ کھا لو, کل سے بھوکی پیاسی روۓ جا رہی ہو” حنین نے اس کا چہرہ خشک کیا تھا, سیاہ جھیل نما آنکھیں صحیح معنوں میں چھلک رہی تھیں, ناک سرخ ہوۓ جا رہی تھی

“میرے حلق سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں اتر پا رہا حنین… “

“ایسے نہیں کرتے انعمتا… ازمیر کے بعد آنٹی اور انکل کا سہارا کون ہے… ؟؟؟ تم ہو… تم ہی ڈھے گئیں تو وہ دونوں کیا کریں گے ؟؟؟؟ اٹھو, آنٹی بھی کچھ نہیں کھا رہیں, خود بھی کچھ کھاؤ اور انہیں بھی کھلاؤ ” وہ بڑے جتن کر کے اسے نیچے لیکر آیا تھا

جانے والا تو چلا گیا تھا

اور جانے والوں کے ساتھ تو نہیں جایا جاتا….

………………………….

حمدان واپس جاتے ہوئے ازمیر کے ابو سے ملنے اندر آیا تھا, وہ تو بستر سے اٹھ بھی نہیں پا رہے تھے, اس کی امی بھی نڈھال سی وہیں بیٹھی تھیں

“میرے لفظ آپ لوگوں کے دکھ کا ذرا سا بھی ازالہ نہیں کر سکتے انکل… لیکن پھر بھی… مجھے ازمیر جیسا مخلص انسان شاید دوبارہ کبھی نہیں مل سکے گا, اس کے ہوتے مجھے کبھی کسی کام کے لئے پریشانی نہیں ہوئی, وہ میرے پیچھے بہت سارے کام خود ہی سنبھال لیا کرتا تھا…. مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں آپ لوگوں کے لئے حاضر ہوں” وہ سر جھکاۓ دھیرے دھیرے کہتا چلا گیا

تبھی وہ پانی کا گلاس اور طارق صاحب کی دواؤں کا شاپر پکڑے اندر آئی تھی, حمدان نے بس ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا

ملگجہ سا حلیہ, سر پر دوپٹہ, سوجی ہوئی آنکھیں اور سرخ سرخ ناک

“ابو دوا کھا لیں…. ” اس نے پانی کا گلاس طارق صاحب کی طرف بڑھا دیا

“تمہارا بہت شکریہ بیٹا… تم نے بہت کچھ کیا ہے ہمارے لئے ” ازمیر کی امی اور کیا کہتیں

“کوئی بات نہیں آنٹی… یہ سب کرنا میرا فرض تھا, میں چلتا ہوں اب” وہ طارق صاحب کے سرہانے کھڑی انعمتا پر دوسری نظر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا

………………………..

وہ کھانے کے برتن رکھنے کچن میں آیا تھا, بچوں کے لئے دودھ گرم کرتی مایا نے پلٹ کر اسے دیکھا اور پھر اپنے کام میں لگ گئی

اس رات سبتین نے اسے کافی مارا تھا, بہت دنوں تک اس کے چہرے کے نشان مندمل نہیں ہو سکے تھے, اس رات کے بعد حنین نے تو اس کے سامنے آنے سے توبہ ہی کر لی تھی, صبح کا ناشتہ بھی خود ہی نکال کر اپنے کمرے میں لے جاتا اور رات کو بھی اپنے کمرے میں ہی کھانا کھاتا

مایا سے بات چیت اس نے صفر کر دی تھی, ظاہر ہے سبتین کا زیادہ تر عتاب اسی کو سہنا پڑتا تھا

اب بھی وہ برتن رکھ کر انہی قدموں واپس مڑنے لگا تھا جب ذرا سا رکا

“مایا ایم سوری… میری وجہ سے تمہیں… مار پڑ گئی” اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے

“اور اگر تم فوراً یہاں سے نہیں گئے تو مجھے پھر سے مار پڑ جاۓ گی… جاؤ یہاں سے” وہ زور سے بولی تھی

“ہاں ہاں… میں جا رہا ہوں, مایا وہ سبتین بھائی نے تھوڑی دیر تک امی کو ازمیر کے گھر لیکر جانا ہے, افسوس کے لئے, تم بھی ساتھ چلنا پلیز… وہ… ” حنین ادھر ادھر دیکھتا ہوا اس کے قریب ہوا تھا

“انعمتا سے بھی مل کر آنا… پھر میں امی سے بات کروں گا…” وہ منت کرتے ہوئے بولا تھا

“پتہ نہیں سبتین مجھے جانے بھی دیں گے یا نہیں ؟؟؟” وہ ڈر رہی تھی

“میں امی سے کہتا ہوں وہ بھائی کو منا لیں گی… تم بس چلی جانا… اچھا, بھائی خود بھی جا رہے ہیں” حنین جلدی جلدی کہتا ہوا کچن سے چلا گیا

زینب کے ترلے منت مار مار کے اس نے مایا کو ساتھ لے جانے کے لیے تیار کیا تھا, سبتین کو زینب نے ہی راضی کیا تھا, حنین بچوں کے ساتھ گھر پر ہی رک گیا تھا, صرف سبتین, زینب اور مایا ہی گئے تھے

وہ دونوں خواتین کافی دیر ازمیر کی امی کے پاس بیٹھی رہیں

“آنٹی میں ذرا انعمتا اور باقی دونوں سے مل لوں” مایا کچھ دیر بعد کھڑی ہو گئی

“ہاں بیٹا… مل لو” انہوں نے کہا, وہ اٹھ کر اندر چلی گئی

اب اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ انعمتا کون ہے… ؟؟؟ کچن میں اسے دو لڑکیاں کھڑی نظر آئی تھیں

“انعمتا… ” اس نے کچن میں آتے ہوئے دھیرے سے کہا تو مڑنے والی انعمتا ہی تھی

“میں… حنین کی بھابھی ہوں” وہ بولی, انعمتا سر ہلاتے ہوئے اس سے گلے ملی, آنکھیں نم ہو گئیں

“بیٹھیں آپ… ” انعمتا نے اس کے لئے کرسی کھینچی تھی, مایا چپ چاپ بیٹھ گئی

“یہ میری سب سے چھوٹی بہن ہے… ارحہ” انعمتا نے کہا, ارحہ اسے سلام کہتی ہوئی باہر نکل گئی تھی

مایا کچھ دیر اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی

“ایک پرسنل سی بات پوچھوں انعمتا… ؟؟” مایا نے کہا

“جی پوچھیں…. “

“تمہارا کہیں رشتہ وغیرہ تو طے نہیں ہوا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“نن.. نہیں تو” وہ بوکھلا سی گئی

“حنین نے خاص طور پر مجھے بھیجا ہے… وہ کہہ رہا تھا کہ انعمتا سے ضرور مل کر آنا” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی, انعمتا پزل سی ہو گئی, اس سے مایا کی طرف دیکھا ہی نہ گیا

“تمہارے بھائی کا چالیسواں گزر جاۓ… پھر میں اور ممانی دوبارہ آئیں گے” وہ انعمتا کے ہاتھوں کو تھپتھپاتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئی تھی

………………………..

“پاپا… آپ خالہ سے شادی کرنے لگے ہیں ؟؟؟” وہ دونوں بچوں کو ہوم ورک کروا رہا تھا جب رعنین نے ایک دم پوچھ لیا, حمدان ششدر رہ گیا

“آپ سے کس نے کہا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“خالہ نے… ” وہ بولی

“پاپا پھر خالہ آپ کے روم میں رہا کریں گی ؟؟” اب کے حیان نے پوچھا تھا, حمدان کو آئرہ پر شدید غصہ آیا

“پاپا پھر آپ ہمیں اپنے ساتھ نہیں سلایا کریں گے ؟؟؟” وہ دونوں بچے سوالیہ نشان بنے بیٹھے تھے, آنکھوں میں دور کہیں خوف ہلکورے کھا رہا تھا

“اور کیا کہا خالہ نے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“خالہ کہہ رہی تھیں کہ وہ آپ سے شادی کریں گی اور پھر آپ کے روم میں رہا کریں گی, پھر ہم تینوں الگ روم میں سویا کریں گے اور دانی بھی ہمارے ساتھ سویا کرے گی… اور…” وہ دونوں بچے کہتے چلے گئے تھے, حمدان نے تاسف سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے دونوں بازوؤں میں بھر لیا

“رعنا…. حیان… آپ نے میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی ہے… آپ تینوں میری جان ہو اور میں آپ کے لئے جو کروں گا…. وہ سب سے بہتر ہو گا سمجھے” اس نے دونوں کا ماتھا چوما تھا

“یعنی آپ خالہ سے شادی نہیں کریں گے نا ؟؟؟” حیان نے پوچھا

“نہیں… ” اس کے کہتے ہی دونوں زور سے اس سے لپٹ گئے تھے

اگلے ہی دن حمدان نے آئرہ کو فریحہ اور سیف خان کے سامنے طلب کر لیا تھا, اس کے ماں باپ بھی وہیں موجود تھے

“آج ان سب لوگوں کی موجودگی میں میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ باز آ جاؤ… میرے بچوں کے ذہنوں میں زہر بھرنا بند کر دو, آج آخری بار کان کھول کر سن لو کہ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی… سمجھی” حمدان کا پارہ آسمانوں کو چھو رہا تھا

آئرہ مارے غصے کے سرخ ہوتی چلی گئی تھی

…………………………

وہ ازمیر کے چالیسویں پر آیا تھا… حنین کو ساتھ لے کر آیا تھا اور آفس یزدان کے حوالے کر کے آیا تھا, دعا کے بعد طارق صاحب بہت مجبور کر کے اسے اندر لے گئے تھے

“انعمتا بیٹے حمدان صاحب کے لئے کھانا لگاؤ” انہوں نے آواز دے کر کہا

“انکل مجھے صرف حمدان کہا کریں… پلیز” وہ شرمندہ سا ہو گیا

“اور بڑی معذرت کے ساتھ… مجھے آج ایک میٹنگ میں جانا ہے سو… کھانا رہنے دیں, انشاءاللہ پھر کبھی سہی” وہ بولا

“نہیں بیٹے ایسے بنا کچھ کھاۓ پئے تو نہیں جانے دوں گا میں… چاۓ تو پی لو” طارق صاحب نے کہا

“اچھا چلیں… چاۓ پی لیتے ہیں” وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا, ڈرائینگ روم کے بالکل ساتھ کچن کا دروازہ تھا, طارق صاحب نے چاۓ بنانے کا کہا تھا

حنین, حمدان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا

کچھ دیر بعد انعمتا چاۓ لے آئی, حمدان نے ایک بار پھر اسے دیکھا تھا

اس دن کی نسبت آج وہ قدرے بہتر حلیے میں تھی, گلابی سے رنگ کا عام سا سوٹ پہن رکھا تھا, ساتھ گلابی دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا, حمدان کا کپ پرچ میں رکھ کر انعمتا نے اس کی طرف بڑھا دیا

“یہ میری سب سے بڑی بیٹی ہے… انعمتا, اس دن اس کا سیکینڈ اییر کا پریکٹیکل تھا جس دن ازمیر کا ایکسیڈینٹ ہوا… ” طارق صاحب کے کہتے ہی انعمتا کی آنکھیں نم ہو گئیں, حنین کو چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ اس کی انگلیوں کی لرزش کو حمدان نے واضح محسوس کیا تھا

“کتنی بیٹیاں ہیں آپ کی ؟؟؟” حمدان نے دوبارہ اس کی طرف دیکھا

“تین ہیں… ” وہ بولے, انعمتا انہیں چاۓ کا کپ پکڑا کر باہر نکل گئی تھی, حمدان بس دس منٹ میں چاۓ پی کر اٹھ کھڑا ہوا, حنین اس کے ساتھ ہی میٹنگ پر گیا تھا, اس نے ہاشمی ٹریڈرز اور حاتم برادرز کے ساتھ ایک بہت بڑی ڈیل سائن کی تھی, واپسی پر پانچ بج گئے

“حنین… اب باقی کا کام یزدان کے ساتھ ڈسکس کر کے مکمل کر لینا… میں نے فی الوقت یزدان کو ازمیر کی جگہ پر سیٹ کیا ہے, پھر کچھ دنوں تک کوئی نیا لڑکا رکھ لیں گے” حمدان نے کہا

“جی سر… “

“ازمیر کی فیملی کے لئے ایک سال تک کا سٹیپن مقرر کر دو, وہ پہلی تاریخ کو ہی اس کے گھر بھجوا دیا کرنا… ٹھیک ہے ؟؟؟” وہ پھر بولا

“اوکے سر…. “

“حنین… تمہارا تو کافی آنا جانا ہے نا ازمیر کے گھر… تو تم اس کے ابو سے ذرا کھل کے بات کر لینا, اگر وہ چاہیں تو ہم انعمتا طارق کو اپنے آفس میں کہیں ایڈجسٹ کر لیتے ہیں, ساتھ ساتھ وہ اپنی سٹڈی بھی جاری رکھ سکے گی… ہو سکتا ہے ازمیر کی طرح ذہین ہوئی تو کام جلدی سیکھ لے, اپنی فیملی کو سپورٹ تو کر سکے گی” حمدان کہتا چلا گیا اور اس دوران حنین یامن میر کی آنکھوں کی چمک دیکھ ہی نہ سکا, اس کے لبوں پر پھیلتی انتہائی خوبصورت سی مسکان نظرانداز ہی کر گیا, اسے پتہ ہی نہ چلا کہ جانے انجانے وہ حنین کے دل پر کیسا جادو کرتا جا رہا تھا

“جی ٹھیک ہے سر… میں انکل سے بات کر لوں گا” وہ بمشکل اپنی خوشی دباتے ہوۓ بولا تھا

……………………..

وہ فریج سے پانی کی بوتل نکالنے آیا تھا, آئرہ سلیب کے پاس کھڑی زارون کے لئے سیب چھیل رہی تھی, اسے دیکھ کر یزدان کی شرارتی رگ پھڑک گئی تھی

“میں نے سنا ہے کہ ایک بندے کی بڑی بے عزتی ہوئی ہے کل… ” وہ بڑی لگاوٹ سے بولا تھا, آئرہ چپ چاپ اپنے کام میں لگی رہی

“افسوس… کہ لوگ محبت کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن… محبت بن کر کسی کی سر آنکھوں پر بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے…” وہ گھونٹ بھرتے ہوئے بولا تھا

“گیٹ لاسٹ… ” آئرہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا

“ویسے میرا کمرہ بھی حمدان بھائی کے کمرے سے ذرا ہی آگے ہے… اگر تم کبھی راستہ بھول پڑو تو… ” آئرہ نے اگلے ہی پل اپنے ہاتھ میں پکڑی چھری بجلی کی سی تیزی سے اس کی گردن پر رکھنی چاہی تھی لیکن یزدان اس سے زیادہ شاطر تھا

اگلے ہی لمحے اس نے آئرہ کا وہی بازو مروڑ کر وہی چھری اس کی گردن پر رکھ دی تھی

“مجھے نہیں پتہ کہ تم نے ان سے کیا بھیک مانگی ہے لیکن… میں وہی بھیک تم سے مانگ رہا ہوں آئرہ… چلو میری محبت میرا حق سمجھ کر نہ دو, ترس کھا کر بھی مت دو…. خیرات سمجھ کر ہی دے دو” یزدان کی سانسیں اس کے بالوں سے الجھنے لگی تھی

آئرہ نے یکدم اسے پیچھے کو دھکا دے کر اس کے چنگل سے نکلنا چاہا لیکن اپنے ہاتھ میں آتی اس کی کلائی کو زور سے جھٹکا دیتے ہوئے یزدان نے اسے کچن کی دیوار کے بالکل ساتھ لگا دیا تھا

“تم میری خیرات کے بھی لائق نہیں ہو… ” آئرہ نے نفرت سے کہا

“مجھ میں اور حمدان سیف خان میں فرق ہی کیا ہے آئرہ کیف خان ؟؟؟” وہ بے خود ہو کر اس پر جھکا تھا

“بس اتنا کہ تم حمدان سیف خان کے پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہو… یزدان سیف خان” آئرہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا تھا

…………………….

حنین نے کھلے الفاظ میں زینب کے سامنے اپنی فرمائش رکھ دی تھی

انہیں بھلا کیا اعتراض ہونا تھا… وہ خود بھی انعمتا کو دیکھ چکی تھیں, ازمیر کی فیملی بھی ان لوگوں کی دیکھی بھالی تھی

شام کو انہوں نے یہ معاملہ سبتین کے سامنے بھی رکھ دیا… اس رات کے بعد سے آج حنین اس کے سامنے آیا تھا

“چلیں دیکھتے ہیں… ” سبتین نے کہا, مایا نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا کہ شائد شادی کے بعد سبتین کا شکی ذہن بھی تھوڑا سا بدل جاتا

ایک ہفتے بعد زینب نے پھر اسے پوچھا تھا

“کب جانا ہے ؟؟؟” وہ بولا

“جب تو فارغ ہو… ” زینب نے کہا

“اتوار کو چلیں گے… ” سبتین کے کہتے ہی حنین ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا

اسی رات اس نے انعمتا کو کال ملا لی, ازمیر کو گئے تین ماہ ہونے کو آۓ تھے

“کیا کر رہی ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا

“ابو کو دوا کھلا کر آئی ہوں” وہ بولی

“انعمتا… ایک گڈ نیوز سنانی تھی تمہیں… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا

“گڈ نیوز ؟؟؟”

“امی اور بھائی اتوار کو تمہارے گھر آئیں گے… میرے اور تمہارے رشتے کی بات کرنے” حنین کے تو پیٹ میں درد ہوۓ جا رہا تھا, انعمتا بس چپ بیٹھی رہ گئی

“ہے.. کہاں گئیں ؟؟” حنین نے اسے پکارا

“یہیں ہوں… ” وہ بمشکل بولی تھی

“انعمتا طارق… ” حنین نے بڑی محبت سے اسے بلایا تھا

“ہاں… ” اس کی شرم سے لبریز آواز نکلی

“تم شرما رہی ہو… ؟؟؟” وہ. مسکراۓ جا رہا تھا

“حنین… میں فون بند کرنے لگی ہوں” وہ واقعی شرما رہی تھی

“میں بھی آ جاؤں ساتھ ؟؟؟” وہ اسے ستاۓ جا رہا تھا

“مجھے نہیں پتہ… ” وہ سچ میں کال کاٹ گئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *