Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 04)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

اس دونوں کی ڈیمانڈ اپروو ہو گئی تھی, کل زارون کو یزدان کی کال آئی تھی کہ ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ ان دونوں کے ریسٹورنٹ کو فنانس کرنے کے لئے تیار تھی, نقصان کی صورت میں 70فیصد ہرجانہ ان دونوں نے بھگتنا تھا, وہ بھی جنوری کا ایک یخ بستہ سا دن تھا جب اسے زارون کی کال آئی, یزدان نے ان دونوں کو آفس بلایا تھا, کچھ ضروری کاروائی مکمل کرنی تھی

“میں بس نکلنے نکلنے لگا ہوں, تم بھی جلدی آ جاؤ” زارون نے خود پر پرفیوم انڈیلتے ہوۓ اسے کال کی تھی

“مجھے ذرا پہلے نہیں بتا سکتے تھے… گاڑی سروس کے لئے گئی ہوئی ہے” رعنین نے کہا

“حیان کی گاڑی لے آؤ” وہ بولا

“وہ یونیورسٹی گیا ہوا ہے… ” رعنین تڑخی

“میں آ جاؤں لینے؟؟؟” اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے پوچھا تھا

“تو یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے… ” وہ بولی

“دس منٹ ہیں تمہارے پاس… میں گیٹ کے سامنے پہنچ کر رنگ کروں گا” زارون نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی, آئرہ آفس چلی گئی تھی, اپنی گاڑی نکالتے ہوئے اس نے رعنین کے گھر کی طرف موڑ دی تھی

دس منٹ بعد وہ گیٹ کے سامنے تھا

“میں باہر کھڑا ہوں… ” اس نے رعنین کو کال کی تھی, وہ بھاگتے ہوئے گیٹ سے باہر آئی

“زارون اندر آ جاؤ… مجھے دس منٹ اور لگ جائیں گے پلیز” وہ اس کی گاڑی کے پاس آتے ہوئے بولی

“اب کیا رہ گیا تمہارا ؟؟؟” وہ تڑخا

“یار جو سوٹ استری کر رہی تھی اس کا دوپٹہ جل گیا… اب دوسرا استری کیا ہے, بس میں نے پانچ منٹ میں شاور لینا ہے اور پانچ منٹ میں تیاری… اندر آ جاؤ” وہ کہتی چلی گئی

“رعنا… یار دفع مارو دوسرے سوٹ کو, یہ جو پہنا ہوا ہے یہ ہی ٹھیک ہے, ایسے ہی آ جاؤ” وہ چشمہ اتارتے ہوئے بولا

“اچھا… خود تو تم Robert Pattinson بن کر آ گئے ہو اور میں ایسے ہی سر جھاڑ منہ پہاڑ ہو کر چلی جاؤں… آ جاؤ, دس منٹ بس” اس نے کہا, زارون اسے گھورتا ہوا گاڑی سے باہر نکل آیا

“ناشتہ کرو گے ؟؟؟” وہ اسے ساتھ لئے اندر آ گئی, پورچ میں کھڑی انعمتا کی گاڑی کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں گیا تھا, اسے کیا پتہ تھا کہ آج صبح ہی صبح قسمت اس پر کیسے مہربان ہونے والی تھی

“نہیں تمہاری بڑی مہربانی… بس جلدی تیار ہو کر واپس آؤ” زارون نے کہا, رعنین اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھی, تبھی انعمتا نیچے اتری تھی

رات ساری آنکھوں میں کٹی تو صبح جلدی اٹھا ہی نہیں گیا… اب بھی وہ سوئی سوئی سی آنکھوں کے ساتھ لمبے بالوں کو فولڈ کرتے ہوئے نیچے اتری تھی

زارون نے ایک نظر اسے دیکھا اور جہاں تھا وہیں تھم گیا

“تمہیں کیا ہو گیا صبح صبح ؟؟؟” وہ رعنین کی پھرتیوں پر حیران ہوئی تھی

“انا… مجھے جانا ہے جلدی” وہ تیزی سے اوپر کو بھاگی, پھر واپس آئی

“باۓ دا وے انا… یہ زارون ہے, میرا دوست ” وہ جلدی سے کہہ کر اوپر چلی گئی تھی

زارون بس دم بخود سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا

“بیٹھو زارون…” وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئی تھی

“تھینک یو… ” اس بیچارے کو تو پتہ نہیں سانس بھی آ رہی تھی یا نہیں

“چاۓ لو گے یا جوس منگواؤں ؟؟؟” اس نے زارون کے بالکل سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

“میں ناشتہ کر کے آیا ہوں میم… ” وہ دھیرے سے بولا

“چلو پھر چاۓ پی لو… رانی چاۓ لیکر آؤ” اس نے کچن کی طرف مڑ کر آواز دی تھی, زارون نے چور نظروں سے اسے دیکھا

وہ ہلکے کاسنی رنگ کا ڈھیلا سا سلیپنگ سوٹ پہنے ہوئے تھی, ساتھ ہی کاسنی رنگ کا وولن سا مفلر گلے میں ڈالا ہوا تھا

“رعنین اکثر ذکر کرتی ہے تمہارا… بس دیکھا آج پہلی بار ہے” وہ بولی

“میم آپ نے پہلی بار دیکھا ہے مجھے… لیکن میں تو تقریباً روز ہی دیکھتا ہوں آپ کو” وہ بولا

“کہاں… ؟؟؟” اس نے پوچھا

“ہر جگہ… ” وہ بیساختہ ہی بولا تھا اور اگلے ہی لمحے سنبھل بھی گیا تھا

“میرا مطلب ہے کہ نیوز چینلز, ٹاک شوز, میگزینز… ہر جگہ آپ ہی تو ہیں” وہ بولا, انعمتا دھیرے سے مسکرا دی, رانی چاۓ لے آئی تھی, تبھی انعمتا کا سیل بجا, اس نے کال ریسیو کرتے ہوئے سیل کان سے لگایا تھا

زارون نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوئے چور نظروں سے اس کی طرف دیکھا

وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ ہوۓ تھے, کیچر میں مقید ریشمی بالوں کی کچھ لٹیں چہرے پر گری ہوئی تھیں جنہیں وہ وقتاً فوقتاً اپنے کانوں کے پیچھے اڑس رہی تھی پھر یکدم ہی کسی بات پر مسکرائی تھی, زارون حاطب اگلا گھونٹ بھرنا بھول گیا تھا

کاش… کاش کہ ہر انسان کو اپنی زندگی میں ایک بار وقت کو روک لینے کا اختیار ہوتا تو زارون حاطب وہ اختیار اس لمحے ہی استعمال کر لیتا… اس ایک پل کو روک لیتا جب اس کے سامنے بیٹھی انعمتا حمدان خان اپنے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ کھل کر مسکرائی تھی

وہ بات کرتی جا رہی تھی, بالوں کی وہ چند ایک لٹیں کچھ زیادہ ہی ضدی تھیں, ہر بار وہ اس کے کانوں سے باہر نکل آتی تھیں

زارون کا دل چاہا کہ اٹھے اور اٹھ کر اس کی مخروطی انگلیوں کی اس مشقت سے آزاد کر دے لیکن… وہ کہتے ہیں نا… ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

اس لمحے وہاں بیٹھے زارون حاطب کو صرف ایک چیز کا ادراک ہوا تھا اور وہ یہ کہ وہ مرتے دم تک صرف اس کی تمنا ہی کر سکتا ہے… بس

اور کچھ نہیں کر سکتا

“چلو زارون… ” رعنین دھڑ دھڑ کرتی سیڑھیاں اتری تھی

“ناشتہ تو کر لو… ” انعمتا نے بات ختم کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا

“انا دیر ہو رہی ہے… ” وہ بولی

“اٹس اوکے… تم کر لو ناشتہ” زارون کے کہتے ہی رعنین کی آنکھیں پھیل گئیں

“ابھی تو تم گاڑی کا سٹیرنگ نہیں چھوڑ رہے تھے کہ ایسے ہی آ جاؤ… ” وہ بولی

“مجھے لگا تھا شاید زیادہ وقت ہو گیا ہے” وہ بولا

“رعنا… ناشتہ کر لو” انعمتا نے کہا, وہ ناسمجھی سے زارون کی طرف دیکھتے ہوئے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی

“ٹھیک ہے زارون… بہت اچھا لگا تم سے مل کر, میں ذرا فریش ہو لوں پھر آفس جانا ہے… گڈ لک ٹو یور پلان” وہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی

اس کے کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی زارون تیر کی طرح رعنین کی طرف آیا تھا

“بس کرو, اور کتنا ٹھونسو گی, پہلے ہی اتنی دیر ہو گئی ہے… بس کرو, اٹھو” اس نے رعنین کے منہ میں جاتا توس کھینچ کر پلیٹ میں پھینکا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف دوڑ لیا, رعنین بیچاری حق دق سی اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ تھی

“زارون… یہ کیا بدتمیزی ہے…؟؟؟ ” وہ بس چیختی ہی رہ گئی, زارون نے اسے فرنٹ سیٹ پر گھسیڑ کر گاڑی سٹارٹ کر دی تھی

“جب ناشتہ کرنے نہیں دینا تھا تو انا کے سامنے ناٹک کرنے کی کیا ضرورت تھی” وہ اس پر چڑھ دوڑی

“سمجھا کرو یار… اب بندہ حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن کے سامبے بھی نمبر نہ بناۓ” وہ ہنسا

“Shame on you… “

رعنین نے اسے اپنا ہینڈ بیگ مارا تھا, اور پھر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی

لیکن اگلے ہی پل وہ کچھ یاد آنے پر پھر سے زارون کی طرف مڑی

“زارون…. ” لحجہ انتہائی خطرناک تھا

“ہاں… ” زارون نے بالکل اسی کے لحجے میں کہا

“کون ہے وہ ؟؟؟” اس نے پوچھا

“کون… ؟؟؟”

“وہی جس نے آجکل تمہارے چھکے چھڑا رکھے ہیں” رعنین نے پوچھا

“اچھا وہ… وہ میری مام ہیں” زارون نے کہا

“زارون.. میں سیریس ہوں” وہ تڑخی

“میں تم سے زیادہ سیریس ہوں رعنا… خدا کی قسم آجکل میری مام نے میرے چھکے چھڑا رکھے ہیں, کل رات انہوں نے میری اتنی بے عزتی کی ہے کہ سوچ ہی ہو گی تمہاری… ” وہ دھیرے دھیرے اسے حنین یامن میر اور آئرہ کیف خان کی آئیندہ ہونے والی پارٹنر شپ اور آئرہ کے غصے کے بارے میں بتاتا چلا گیا

اور اس دوران وہ بہت کامیابی سے رعنین کا دھیان “کون ہے وہ” سے ہٹا چکا تھا

…………………………..

“معیز… پلیز مجھے چھوڑ آؤ” سنایا نے تیسری دفعہ اس کے کمرے کا دروازہ بجایا تھا اور معیز کا کمبل سے نکلنے کا کوئی موڈ نہیں تھا

“معیز… ” وہ اس کے سر پر آ کر زور سے چیخی

“کیا مصیبت ہے ؟؟؟” وہ تڑخ گیا

“آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے تمہاری منتیں کرتے ہوئے کہ مجھے دانی کے گھر چھوڑ آؤ” وہ چیخی

“ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ… “

“وہ چھٹی لیکر چلا گیا ہے”

“سنایا یار کتنا ضروری ہے اس کے گھر جانا… اسے بلا لو” وہ بولا

“ہر بار وہی آتی ہے… اس بار وہ کہہ رہی ہے تم آ جاؤ, پانچ منٹ لگیں گے چھوڑ آؤ” وہ بولی

“چلو… چلو… چڑیل ” معیز ایک دم کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا

سارا راستہ وہ سنایا کو اپنی باتوں سے زچ کرتا آیا تھا, دانین کا گھر آیا تو اس نے شکر کا سانس لیا

“جاؤ… دفع ہو جاؤ” معیز کے کہتے ہی وہ اسے گھورتی ہوئی گاڑی سے اتر گئی اور اس سے پہلے کہ وہ گاڑی ریورس کرتا, حیان نے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا

“معیز… ” حیان نے اسے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور خود بھاگتا ہوا نیچے آ گیا

“کیسے ہیں حیان بھائی ؟؟؟” سنایا اس کا حال چال پوچھتی ہوئی اندر چلی گئی

“گڈ… ” حیان اسے جواب دیتا ہوا باہر آ گیا

“میں تجھے نا دیکھتا تو تو یہیں سے واس پلٹ جاتا سالے… ” حیان نے کہا, معیز گاڑی سے باہر نکل آیا تھا

“مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو گھر پر ہے” وہ اس سے گلے ملا تھا, سمیسٹر بریک کی وجہ سے وہ دونوں پچھلے ایک ہفتے سے نہیں مل سکے تھے

“آ جا… چاۓ پلواتا ہوں تجھے” حیان اسے اندر لے آیا

“دانی… “

“جی حیان بھائی… ” وہ اس کی پکار سن کر اپنے کمرے سے نکلی اور اس کے ساتھ کھڑے معیز کو دیکھ کر تھم سی گئی

“دانی معیز آیا ہے… چاۓ تو بنوا دو” حیان اسے لیکر ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا تھا

“سنایا کی بچی… تم. تو کہہ رہی تھیں کہ معیز واپس چلا گیا ہے” دانین نے سے گھورا

“مجھے تو یہی کہہ رہا تھا… اب چاۓ کے لالچ میں بیٹھ گیا ہو گا” سنایا نے کہا

“رکو میں چاۓ بنوا دوں” دانین اسے کہتی ہوئی نیچے آ گئی

“کیا حال ہے معیز… ؟؟؟” کوشش کو باوحود وہ اسے معیز بھائی نہیں کہہ پائی تھی

“دو سال بڑا ہے تم سے…. تمیز کا صیغہ بھی استعمال کر لو گی تو کیا حرج ہے ؟؟؟” حیان نے اسے گھرکا

“وہ سنایا بھی ان کو نام سے ہی بلاتی یے… مجھے بھی عادت ہو گئی ہے…. معیز کہنے کی” وہ بولی

“اچھا جاؤ… رانی سے کہو چاۓ بنا دے” حیان کے کہنے پر وہ کچن کی طرف چلی گئی

رانی سے کہہ کر نا صرف چاۓ بنوائی بلکہ ساتھ لوازمات کا ایک پلندہ بھی سجا لیا, اس نے خود معیز کوچاۓ کا کپ پکڑایا تھا

“اے دانی… آ جا اب, نیند آنے لگ گئی ہے مجھے” سنایا نے پکارا تو وہ وہاں سے اٹھی

ٹھیک سے پڑھائی ہو ہی نا سکی تھی, دھیان بار بار معیز کی طرف جا رہا تھا, جب تک وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا رہا, دانین کے اوپر نیچے کے چکر ہی لگتے رہے, کبھی کسی بہانے… کبھی کسی بہانے

تقریباً دو گھنٹے بعد وہ دونوں واپس چلے گئے تھے, ان کے جاتے ہی حیان اس کے کمرے میں آ دھمکا

“یہ کیا چل رہا ہے دانین حمدان خان ؟؟؟” وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا

“کک.. کیا ؟؟” وہ واقعی ہکلا گئی

“دانی میں بچہ نہیں ہوں… کونسا ٹیسٹ ہے کل بتانا ذرا, میں دیکھوں وہ کتنا یاد کیا ہے تم نے ؟؟؟” حیان اس کا بیگ اٹھاتے ہوئے بولا

“حیان بھائی… میں نے یاد کیا ہے ٹیسٹ… ” وہ رندھیا گئی

“دانی… ” وہ اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بٹھاتے ہوۓ خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا

“رعنا اس دن جو تکا لگا رہی تھی… وہ سچ تھا نا ؟؟؟” حیان نے پوچھا

“نن.. نہیں تو… وہ میں تو… ” دانین سے بات نہ بن پڑی

“You like him…??? “

حیان نے پھر پوچھا تھا… دانین اس بار بالکل ہی نہ بول سکی, بس اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی, لمحہ لگا اور دانین کی خوبصورت آنکھیں پانیوں سے بھرتی چلی گئیں

“دانین… ” حیان نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا

“اگر آپ کو اچھا نہیں لگا تو میں آئیندہ اس کی طرف دیکھوں گی بھی نہیں… ” وہ گھٹ گھٹ کر بولی تھی

حیان چپ بیٹھا رہ گیا

کیا اس کے لئے محبت کرنا جائز تھا ؟؟؟ کسی کو پسند کرنا جائز تھا.. ؟؟؟ لیکن دانین کے لئے نہیں

اگر اس کے سینے میں ایک دل تھا تو کیا دانین کے سینے میں نہیں تھا…. ؟؟؟

کیا اس کے پاس آنکھیں نہیں تھیں… ؟؟؟ کیا وہ انسان نہیں تھی… ؟؟

“دانی…. “حیان نے بہت محبت سے اس کے آنسو صاف کیے تھے

“میں بس اتنا کہوں گا کہ ابھی تم بہت چھوٹی ہو… اور ابھی وہ بھی اتنا میچور نہیں ہے, پہلے اچھے سے اپنی پڑھائی مکمل کر لو, کچھ بن جاؤ… پھر اسے پانا آسان ہو جاۓ گا” حیان نے کہا

“اور اگر اس دوران وہ کسی اور کا ہو گیا تو ؟؟؟” دانین نے کہا

“کیونکہ میری اس کے لئے فیلینگز سراسر یک طرفہ پیں حیان بھائی… میں نے اسے کچھ بتایا ہی نہیں ہے” وہ بولی

“بتانے میں کوئی مضائقہ تو نہیں ہے لیکن… صحیح موقع آنے پر” حیان نے اس کا سر تھپتھپایا تھا

حیان بھائی… ” وہ دروازے کی طرف بڑھا تو دانین نے پکار لیا

“ہاں… “

“انا کچھ مت بتانا… پلیز” وہ ڈر بھی رہی تھی, حیان بس مسکراتے ہوئے سر ہلا کر کمرے سے باہر نکل گیا

………………………..

آج دونوں کی پہلی آفیشل میٹنگ تھی… ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ ایک دوسرے سے پارٹنرشپ کرنے کے لئے بالکل تیار تھے

“اس پارٹنرشپ کا کوئی مقصد بھی ہونا چاہیے… کیوں مسٹر حنین ؟؟؟” ایک بار پھر وہ آئرہ کیف خان کے انتہائی لگژری آفس میں موجود تھا

“ہر پارٹنرشپ کا کوئی نا کوئی مقصد ہوتا ہے میم… ” حنین نے کہا

“تو مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی اس پارٹنرشپ کو سال کی بہترین پارٹنرشپ ثابت کریں گے, ایک ایسی پارٹنرشپ جو سب سے زیادہ نفع کماۓ گی, آپ کی فنانسنگ اور ہماری پراڈکٹس… ہاشمی ٹریڈرز ہر بڑے سے بڑا ٹینڈر اور پراجیکٹ لینے کی کوشش کرے گی, آپ ہمارے ہر پراجیکٹ کو فنانس کریں گے… ” آئرہ کہتی چلی گئی

“اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کا لیا ہر پراجیکٹ اور ٹینڈر کامیاب ہو پاۓ گا ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“اس کی آپ فکر نہ کریں, میرے پاس ترمپ کا ایک ایسا پتہ ہے جو کبھی نہیں ہارتا… ” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی

“کیا مطلب ؟؟؟”

“ہماری اس پارٹنرشپ کی ہیڈ میری بیٹی زاہا تمیم ہاشمی ہو گی… وہ اکاؤنٹنگ میں گولڈ میڈلسٹ رہی ہے اور اس سال اس کا ایم بی اے بھی مکمل ہو جاۓ گا… ایک اور گولڈ میڈل کے ساتھ” آئرہ نے کہا

“بہت اچھے… مس آئرہ پھر تو آپ چاہیں تو ہم اس پارٹنر شپ کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں ” حنین نے کہا

“وہ کیسے ؟؟” آئرہ نے پوچھا

“میرا بھتیجا بھی انشاءاللہ اسی سال پی یو سے گریجوایٹ ہو جاۓ گا… اس نے بی بی اے آنرز کیا ہے, آپ چاہیں تو اس سے مل سکتی ہیں ” حنین نے کہا

“ارے واہ… آپ نے مجھے بہت زیادہ خوش کر دیا ہے مسٹر حنین… میں ضرور ملوں گے اس سے… کیا نام ہے اس کا ؟؟؟” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی

“معیز ضامن میر… “وہ بولا

“اگلی میٹنگ میں اسے ساتھ لیکر آئیے گا” آئرہ نے کہا

“ٹھیک ہے مس آئرہ… ہم آپ کے ساتھ ہیں, چاہے آپ جتنا بھی بڑا پراجیکٹ شروع کرنا چاہیں” حنین نے کہا

“یہ سال پچھلے دس سالوں جیسا بالکل نہیں ہو گا مسٹر حنین… میں اور آپ مل کر یہ سال بدل دیں گے, کامیابیاں حمدان انٹرپرائزرز کی جاگیر نہیں ہیں… ہم مل کر یہ ثابت کر دیں گے, کم از کم یہ سال انعمتا حمدان خان کے نام نہیں ہو گا… ” وہ اپنے ازلی نفرت بھرے لحجے میں کہتی چلی گئی

اور اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ حنین کو اسے سننا اچھا لگ رہا تھا

“ایک بات پوچھوں مس آئرہ ؟؟؟” وہ بولا

“آخر انعمتا حمدان خان سے اسقدر نفرت کی کوئی تو وجہ ہو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا

“وجہ وہی ہے مسٹر حنین… جو ہمیشہ ہوتی ہے… نفرت کی وجہ ہمیشہ محبت ہی ہوتی ہے” آئرہ نے سرد ترین لحجے میں کہا تھا

………………………..

“اور آپ سنائیں مس رعنین… کیا حال چال ہیں ؟؟؟” آج پھر خوش قسمتی سے ان دونوں کو وہاں یزدان ہی ملا تھا, حنین, ہاشمی ٹریڈرز گیا ہوا تھا

“ٹھیک ہوں سر… “وہ بولا

“اور باقی گھر والے ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا

“وہ بھی ٹھیک ہیں سر… ” وہ بولی

“مبارک ہو مس رعنین… آپ کی سٹیپ مام شہر کی ٹاپ بزنس آئیکون بن گئی ہیں” وہ جان بوجھ کر اسے بولنے کے لئے اکسا رہا تھا

“تھینکس… ” وہ بولی

” زارون…. تم نے بھی پہلی ملاقات میں نہیں بتایا کہ تم مس آئرہ کیف خان کے بیٹے ہو ” یزدان نے کہا

“آپ نے پوچھا ہی نہیں ” وہ ہنسا

“میں نے پوچھا تھا… شاید” وہ بولا

“آپ نے میرے فادر کا پوچھا تھاسر… میری مدر کا نہیں پوچھا” زارون نے کہا, یزدان بس مسکراتا چلا گیا

“ویسے تم دونوں کی جوڑی کافی اچھی لگتی ہے… بہت ساری باتیں تم دونوں میں بالکل ایک جیسی ہیں” یزدان نے ان کی فائل سائن کر دی تھی

“ایسا کچھ نہیں ہے سر… ہم دونوں صرف بہت اچھے دوست ہیں” رعنین نے کہا

“تو جوڑی کا مطلب دوستوں کی جوڑی بھی تو ہو ہی سکتا ہے… ” یزدان نے کہا, رعنین کچھ نہ بولی

“یہ لو… جاؤ جا کر کام شروع کرو” اس نے فائل زارون کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا

“تھینک یو سر… ” وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے

تبھی حنین کی گاڑی باہر آ کر رکی تھی, رعنین کی نظر آفس کی گلاس ونڈو سے اس پر پڑی, وہ آنکھوں پر لگے سن گلاسز اتارتا ہوا اندر کی طرف آیا تھا اور اس سے پہلے کے وہ دونوں باہر نکلتے, وہ دروازہ کھولتے ہوئے اندر آ گیا

“ٹھیک ہے زارون…. تم لوگ جا سکتے ہو” یزدان نے جلدی سے کہا

“یہ دونوں وہ ریسٹورنٹ والے بچے ہیں ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“ہاں….. میں نے ان کا لون اپروو کر دیا ہے” یزدان نے کہا

“گڈ… کہاں سے گریجوایٹ ہو دونوں ؟؟؟” حنین ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے بولا تھا

“UVAS… “

زارون نے کہا

“تم زارون کیف خان ہو ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“نہیں… میں زارون حاطب ہوں ” وہ بولا

“میرے خیال سے اگر تم اپنی مدر کا سر نیم استعمال کرو گے تو کافی اونچی اڑان بھر سکتے ہو” حنین نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا

“میں یہ اڑان اپنے فادر کے سر نیم کے ساتھ بھی بھر سکتا ہوں ” زارون کو اس کا لحجہ اچھا نہیں لگا تھا, حنین مسکراتا چلا گیا

“اور آپ کا سر نیم کیا ہے مس… ؟؟” وہ رعنین کی طرف مڑا

“حنین میرے خیال سے ان دونوں کو اب جانا چاہئے ” یزدان نے کہا, رعنین نے ایک نظر زارون کو دیکھا

“میں نے کچھ پوچھا ہے مس… ؟؟؟” حنین بغور اسے دیکھ رہا تھا

“رعنین حمدان خان… ” وہ اس کی طرف مڑتے ہوۓ پورے اعتماد سے بولی, حنین کے چہرے کی خفیف سی مسکراہٹ لمحوں میں غائب ہوئی تھی

“میرے سر نیم کے لئے بھی کوئی مشورہ ہے آپ کے پاس… سر ؟؟” وہ بولی

“رعنین…. زارون…. تم لوگ جا سکتے ہو” یزدان نے کہا, رعنین ایک نظر حنین کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی تھی

“یہ لون ابھی اسی وقت کینسل کر دے یزدان… ” وہ ٹھنڈے ٹھار لحجے میں بولا

“کیوں ؟؟؟”

“تجھے پتہ ہے کیوں ؟؟” وہ بولا

“حنین… ہم دس سال سے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ چلا رہے ہیں… ہمیشہ میں نے تیری اور تو نے میری بات مانی ہے… لیکن” وہ اس کے قریب آیا تھا

“اس بار ایک تو نے میری نہیں مانی… اور ایک میں تیری نہیں مانوں گا” یزدان نے کہا

“تو یہ بات ہے… ” حنین نے کہا

“میں نے صرف دو بچوں کا لون اپروو کیا ہے… بس اتنی سی بات ہے” یزدان نے کہا

“نہیں یزدان… بات اتنی سی نہیں ہے… بات یہ نہیں ہے کہ وہ تیری بھتیجی ہے… بات یہ ہے کہ وہ حمدان سیف خان کی بیٹی ہے… حمدان سیف خان… جس نے میری بھری جھولی کو الٹ کر خالی کر دیا تھا” حنین کی آواز اونچی ہو گئی

“کسی نے میری جھولی بھی الٹ کر خالی کر دی تھی حنین… اور جس نے خالی کی تو اس سے ابھی ہاتھ ملا کر آیا ہے… تو حساب برابر ہوا” یزدان نے کہا

یعنی تو وہی کرے گا جو میں نہیں چاہتا ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“تو بھی وہی کر رہا ہے…. جو میں نہیں چاہتا” یزدان مضبوط لحجے میں کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *