Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 14)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 14)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
پندرہ سال پہلے
وہ اس شام فریحہ کو لیکر آیا تھا, اس نے بس ایک بار کیف خان کو ساتھ چلنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا, سو اس نے چپ چاپ فریحہ کو گاڑی میں بٹھایا اور لے آیا
وہ دور اندیش خاتون انعمتا پر پہلی نظر ڈالتے ہی ڈر گئی تھیں… وہ واقعی ابھی بہت چھوٹی تھی… سسرالی رشتوں کی خوفناک چالبازیوں سے بالکل انجان.. بھلا وہ کیسے ان کے خاندان کی عورتوں کی زبانوں کو مات دے پاۓ گی…؟؟؟
بہر حال… وہ وہاں تو کچھ نہ بولیں, بڑے سبھاؤ سے انعمتا کا ماتھا چوم کر, اس کے ہاتھ پر پیسے رکھ کر رشتہ پکا کر آئیں, حمدان نے وہیں بیٹھے بیٹھے طارق صاحب سے نکاح کی تاریخ بھی مانگ لی تھی, انتظار کا کوئی فائدہ نہیں تھا… انعمتا پورے 18 سال کی ہو چکی تھی, طارق صاحب اور صفیہ بیگم نے آپس کے مشورے سے انہیں اگلے مہینے کی 20 تاریخ دے دی, حمدان نے نہایت سختی سے انہیں کسی بھی قسم کا خرچہ کرنے سے منع کر دیا تھا, وہ انہیں کھلے لفظوں میں بتا آیا تھا کہ انہیں انعمتا کو کسی بھی قسم کا جہیز یا کوئی بھی اور چیز دینے کی ضرورت نہیں ہے, وہ بس ان کے گھر سے اسے ایک جوڑے میں رخصت کروا کر لے جائے گا, انہیں مہمانوں کا ہجوم اکٹھا کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے, طارق صاحب اور صفیہ بیگم کے لیے یہ ایک طرح سے ٹھیک ہی تھا کیونکہ ازمیر کو فوت ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا, اس لئے انعمتا کی رخصتی سادگی سے ہی طے پائی تھی
اسی رات فریحہ نے حمدان کو اپنے کمرے میں بلایا… رات 11:00 کا وقت تھا جب وہ تینوں کمرے بچے سلا کر ان کے کمرے میں چلا آیا…
” حمدان وہ بچی ابھی بہت چھوٹی ہے… یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہی کہ وہ تجھ سے عمر میں پندرہ سال چھوٹی ہے بلکہ اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ وہ ابھی عقل میں بھی تجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہی ہے… تو تو اچھی طرح جانتا ہے نا اپنے خاندان کی عورتوں کو, ان سے تو میں پوری نہیں پڑ پاتی تو وہ 18 سال کی بچی کیسے ان کا سامنا کرے گی…؟؟؟؟ آئرہ… اس کی ماں, شاہین, بلقیس…. اور تو اور کچھ دنوں تک کیف بھائی بھی اپنے دونوں بیٹوں کی شادی کر دیں گے, وہ بیچاری کیسے ان کی زبانوں کا سامنا کرے گی …؟؟؟ کیسے اپنے حق کے لیے اواز اٹھائے گی…؟؟؟” فریحہ کہتی چلی گئیں
اور حمدان کوئی بچہ تھوڑی تھا جو اس نے یہ سب نہیں سوچا تھا, وہ جانتا تھا کہ وہ جس مقصد کے لئے انعمتا سے شادی کر رہا ہے اس میں کامیابی کے چانس صرف اور صرف ایک فیصد تھے… اسے اس بات پر پورا یقین تھا کہ وہ آکر تینوں بچوں کا دل بہلا لے گی, انہیں اپنے ساتھ اٹیچ کر لے گی, لیکن اس کے جانے کے بعد کیا وہ ان تینوں کی حفاظت کر پائے گی…؟؟؟
کیا وہ اپنی حفاظت کر پائے گی…؟؟؟
اس سوال کا جواب صرف اور صرف ایک سوالیہ نشان تھا, فریحہ کا کام سمجھانا تھا سو انہوں نے اسے سمجھا دیا
دو دن بعد یہی بات اسے یزدان نے بھی کہی تھی “بھائی… ایک بار پھر سوچ لیں… آئرہ اس کا جینا محال کر دے گی, آپ 24 گھنٹے تھوڑی اس کے ساتھ ہوا کریں گے, صبح افس کے لئے نکلے اور رات گئے واپس آۓ… اس دوران وہ ائرہ کیف خان کی 8 گز لمبی زبان سے کیسے مقابلہ کرے گی..؟؟؟ وہ تو مجھے تاک کر نشانے مارنے سے باز نہیں اتی تو انعمتا کو کیسے بخش دے گی..؟؟؟ مجھے نہیں پتا اپ نے اسے کیوں چنا…؟؟؟ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ آپ کو اسے نہیں چننا چاہیے تھا….” وہ کہتا چلا گیا
حمدان خاموشی سے اس کی ساری بات سن رہا تھا اگلے دو دن بعد یہی ساری تقریر بشر کے منہ سے سننی پڑ گئی
“حمدان مجھے صرف ایک بات بتا… تو خود کہتا ہے نا کہ تیرے خاندان والے تیرے بچوں کے ساتھ مخلص نہیں ہیں, آئرہ صرف تجھے حاصل کرنا چاہتی ہے…اسے تیرے بچوں سے کوئی سروکار نہیں ہے, ڈاکٹر کے حساب سے تیرے پاس کڈنی ٹرانسپلانٹ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے… حمدان میں کہنا تو نہیں چاہتا لیکن ڈاکٹر کے مطابق تیرے پاس وقت بہت کم ہے… تو کیا اس ساری صورتحال سے نمٹنے کے لئے تو نے ایک 18 سال کی لڑکی کو چنا…؟؟؟؟ اپنے تیز طرار رشتہ داروں سے لڑنے کے لئے, اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے, اپنی کمپنی کو چلانے کے لئے, تو نے ایک 18 سال کی لڑکی کو چنا…؟؟؟؟ وہ لڑکی جو کسی کے اونچی آواز میں بات کرنے پر بھی ڈر جاتی ہوگی…؟؟؟” مجھے کوئی ایک وجہ دے دے حمدان کہ تو نے انعمتا طارق کو ہی کیوں چنا…؟؟؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا
حمدان ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کھڑا ہو گیا, دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا کھڑکی کی طرف آیا تھا
“ہاں میں نے انعمتا طارق کو چنا… ہاں میں نے اس 18 سال کی لڑکی کو چنا… ہاں میں نے اسے چنا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ مجھ سے 15 سال چھوٹی ہے, یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ میرے خاندان والوں کی چالبازیوں کا مقابلہ نہیں کر پائے گی… یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ شاید میرے تین بچوں کی حفاظت نہیں کر پائے گی… یہ جانتے ہوئے بھی کہ شاید وہ میرے بعد میری کمپنی کو نہیں چلا پائے گی… میں نے پھر بھی اسے چنا…کیوں…؟؟؟ کیونکہ میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں” وہ بولا
میں خود سے 15 سال چھوٹی انعمتا طارق سے محبت کرنے لگا ہوں” وہ کہہ گیا تھا, بشر کو اس کے الفاظ پر یقین نہ آیا, وہ بس دم سادھے اسے دیکھ رہا تھا
“اور جانتا ہے بشر کہ میں نے اسے کیوں چنا…؟؟؟کیونکہ مجھے اپنی محبت پر پورا یقین ہے, میں نے اسے ننانوے فیصد “شاید” پر نہیں چنا… میں نے اسے ایک فیصد “یقین” پر چن لیا ہے” وہ مضبوط لحجے میں بولا تھا
…………………………….
وہ دو دن سے آفس نہیں جا رہا تھا, اور نہ ہی حمدان کو کال کرکے کچھ بتانے کی زحمت کی تھی, بس سارا دن اپنے کمرے میں گھسا رہتا اور ساری رات چھت پر گزار دیتا, زینب اور مایا دونوں اس کی ذہنی حالت بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھیں اسی لئے اسے زیادہ ڈسٹرب نہیں کرتی تھیں , زینب بھی آخر کو ایک ماں تھیں بھلے ہی ان کی کوئی بیٹی نہیں تھی لیکن وہ بیٹیوں والوں کا دکھ سمجھتی تھیں
وہ بھلا طارق صاحب کو کیا کہتیں..؟؟؟ بس چپ چاپ ان کی ساری باتیں سن کر خاموش ہو گئیں, سبتین البتہ تھوڑا بہت اچھلا تھا لیکن پھر وہ بھی خاموش ہو گیا تھا
وہ بھی ایسے ہی ایک رات تھی, سگریٹ کی پوری ڈبیا پینٹ کی جیب میں ڈال کر وہ چھت پر چڑھ گیا تھا, اب غم بھی تو غلط کرنا تھا…
“حنین نے کھانا کھا لیا…؟؟؟” وہ زینب کو کھانا دینے آئی تو انہوں نے پوچھ لیا
“نہیں ممانی… اس نے تو صبح سے کچھ نہیں کھایا” مایا نے کہا
“مایا… سبتین کے آنے میں ذرا دیر ہے, اسے کھانے کی ٹرے دے کر آ… تیرے کہنے سے وہ کھا لے گا… جا شاباش اور جلدی واپس آ جائیں” اس لمحے زینب کو اندازہ نہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہی تھیں
مایا نے جلدی سے کھانے کی ٹرے بنائی اور اوپر چھت پر آ گئی, دیوار سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھا تھا, دونوں انگلیوں میں سگریٹ دبا ہوا تھا, مسلسل دھوئیں کے مرغولے چھوڑ رہا تھا, دو تین ادھ جلے ٹکڑے مایا کو اس کے آس پاس بکھرے نظر آۓ تھے
“حنین… یار ایسے تھوڑی کرتے ہیں اگر وہ نہیں ملے گی تو یوں رو رو کر جان دے دو گے کیا…؟؟؟” وہ ٹرے اس کے پاس رکھتے ہوئے فرش پر ہی بیٹھ گئی
” تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا… کھانا کھا لو ” مایا نے کہا
“جانتی ہو مایا… میں سچ میں اس کے لئے جان دے سکتا ہوں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اسے میری بات پر اعتبار ہی نہیں ہے… اسے یقین ہی نہیں ہے کہ میں اس کے لئے جان بھی دے سکتا ہوں” وہ روہانسا ہو گیا
“حنین وہ اپنا فیصلہ لے چکی ہے… اگلے مہینے اس کی شادی ہے, بس کرو اب…” مایا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور حنین کو جیسے بس ایک سہارے کی ضرورت تھی, وہ ایک دم روتا ہوا اس کے کندھے پر گر گیا
“مایا میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے… میں کیسے رہوں گا اس کے بنا…؟؟؟” وہ حقیقتا رو رہا تھا
“حنین… بس کرو پلیز… بس کرو” مایا نے کسی بچے کی طرح اس کا سر تھپتھپایا تھا
“وہ مجھے ہر پل… ہر لمحہ یاد آتی ہے, لڑکیاں تو سراپا وفا ہوتی ہیں مایا .. پھر وہ کیسی لڑکی ہے جس نے مجھے محبت میں دغا دے دیا …؟؟؟؟” حنین کا دکھ کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا, مایا بس ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کا سر تھپتھپاتی چلی گئی
دفعتا اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی
“میں نے منع کیا تھا نہ اوپر آنے سے….” سبتین کی سرد آواز پر وہ ڈر کے مارے ایک دم کھڑی ہو گئی
” اور پھر تو کہتا ہے کہ تیرا اس کے ساتھ کوئی چکر نہیں ہے…” سبتین نے کھانے کی ٹرے کو زور سے ٹھوکر ماری تھی
“سبتین میں بس حنین کو کھانا دینے آئی تھی” مایا نے اٹکتے ہوئے کہا
“بکواس کرتی ہے مجھ سے….” سبتین کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا
“بس بہت ہو گیا…” حنین ایک دم دہاڑا تھا
“ایک اور دفعہ اس پر ہاتھ اٹھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا” سبتین کے سامنے انگلی اٹھاتے ہوئے وہ مایا کے آگے آیا تھا
“سالے تو ہے کون…؟؟؟ کیا لگتا ہے تو اس کا…؟؟؟” سبتین نے اسے ایک طرف دھکا دیتے ہوئے مایا کو بالوں سے جکڑ لیا
” کمینی… کیوں آئی تھی تو اوپر…؟؟؟” اس نے ایک جھٹکے سے مایا کو سیڑھیوں کی طرف دھکیلا تھا “میں نے کہا بہت ہو گیا…” حنین ایک دم وحشیوں کی طرح اس پر پل پڑا
“تم دونوں میری ناک کے نیچے ناجانے کب سے عشق معشوقی کا کھیل چلا رہے ہو اور مجھے کاٹھ کا الو سمجھا ہوا ہے… میری غیر موجودگی میں ہر وقت یہ تیرے آس پاس پائی جاتی ہے… مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ دونوں بچے کس کے ہیں…؟؟؟” سبتین بکتا چلا گیا
حنین اسے گریبان سے جکڑ کر گھسیٹتا ہوا نیچے لے کر آیا تھا
“حنین چھوڑ دو انہیں…” مایا مسلسل کھڑی رو رہی تھی
“آج اخری بہت ہار کہہ رہا ہوں… آیئندہ اگر مایا پر ہاتھ اٹھایا تو جان سے مار دوں گا” حنین نے اسے صحن میں دھکا دیا تھا, زینب بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں سبتین کے پھٹے ہوئے ہونٹ سے خون بہنے لگا تھا
“میں سبتین ضامن میر… اپنے پورے ہوش و حواس میں… مایا نورین کو طلاق دیتا ہوں…” وہ بولا
“سبتین نہیں…” مایا زور سے روتے ہوئے چیخی تھی “طلاق دیتا ہوں… طلاق دیتا ہوں…” وہ تین بار کہہ کر باہر نکلتا چلا گیا
حنین ساکت سا صحن کے وسط میں کھڑا تھا اور مایا دیوار کے ساتھ روتے ہوئے نیچے بیٹھتی چلی گئی
غصے سے پاگل ہوتے سبتین کا اسی رات روڈ ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور جب وہ گھر واپس آیا تو اپنے پیروں پر زندہ سلامت نہیں کھڑا تھا
وہ اسی رات مر گیا تھا
………………………
وہ سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس آئینے کے بالکل سامنے کھڑی تھی, پارلر والی اسے گھر آ کر ہی تیار کر گئی تھی, اس کے نکاح کا جوڑا بھی حمدان نے خود بھجوایا تھا… ساتھ میچنگ جیولری اور دیگر لوازمات…
اس لمحے اس کا دل بالکل ایک خالی کمرے کی طرح تھا جہاں اس کے سانس لینے کی آواز بھی گونج رہی تھی, اگر وہ مسکرا نہیں پا رہی تھی تو رونا بھی نہیں آ رہا تھا, ہر جذبہ جیسے بے معنی سا ہو گیا تھا
حمدان تقریبا 2:00 کے قریب وہاں پہنچ گیا, فریحہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں, جبکہ یزدان گاڑی چلا رہا تھا, اس کے گھر کی خواتین میں سے کوئی بھی نہیں آئی تھی, حتی کہ دونوں بہنوں نے بھی آنے سے انکار کر دیا تھا… صرف کیف خان اور ان کے دونوں بیٹے مارے باندھے ساتھ آۓ تھے
فریحہ اور یزدان دونوں کی غیر موجودگی میں وہ بچوں کو اکیلے چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا, سو تینوں بچے بھی ساتھ ہی لے آیا تھا, حیان اور رعنین کی ایکسائٹمنٹ کے لئے یہی کافی تھا کہ ان کے پاپا کی شادی تھی, وہ جب فریحہ کے ساتھ اندر داخل ہوا تو دانین اس کی گود میں چڑھی ہوئی تھی, طارق صاحب نے بھی بہت زیادہ مہمانوں کو مدعو نہیں کیا تھا, حمدان کی طرف سے بھی بس اس کے قریبی دوست ہی شامل ہوئے تھے
تقریبا دوپہر 3:00 کے قریب نکاح ہو گیا, بنا ایک بھی آنسو بہائے اس نے نکاح کے پیپرز پر سائن کر دیے تھے, حمدان نے طارق صاحب سے رخصتی کے لیے کہا تھا
اور یہ وقت تو ہر باپ پر آتا ہے, ہر وہ باپ جس کے گھر میں ایک بیٹی ہے… وہ بیٹی جس نے اسے 18 سال سینے سے لگا کر رکھا… ایک دم سے وہ بیٹی کسی اجنبی کو سونپ دینی ہوتی ہے… مستقبل کی کسی بھی ضمانت کے بغیر صرف اس اجنبی کی زبان پر یقین کرکے کہ وہ اس باپ کی بیٹی کو بہت خوش رکھے گا… اور اس باپ کے دکھ کو کون جان سکتا ہے جب شادی کے بعد وہ بیٹی آنسو بہاتے ہوئے اسے یہ کہے کہ میں خوش نہیں ہوں… خدا کسی باپ پر ایسا وقت نہ لائے… خدا کسی باپ کی شادی شدہ بیٹی کو واپس اس کے در پر نہ لائے
وہ باپ اپنی عمر سے بہت پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے
وہ 18 سالہ لڑکی اپنی رخصتی پر بھی نہیں روئی تھی, صفیہ بیگم تا دیر اسے اپنے سینے سے لگائے بیٹھی رہیں ارحہ اور اسمارا دونوں اس سے گلے مل کر خوب ہی روئیں, طارق صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی آغوش میں لیے گاڑی تک لے کر آئے تھے, لیکن وہ نہیں روئی… ایک انسو بھی نہیں بہایا… کہا نا ہر جذبہ بے معنی ہو گیا تھا
فریحہ اس کے ساتھ بیٹھ گئیں اور یزدان نے گاڑی کا رخ خان ہاؤس کی طرف موڑ دیا تھا
……………………
وہ رو رہی تھی… بے پناہ… بے تحاشا
اور المیہ یہ تھا کہ اسے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ وہ کس دکھ پر رو رہی تھی…؟؟؟ اپنے مطلقہ ہو جانے کے دکھ پر یا پھر اپنے بیوہ ہو جانے کے دکھ پر…
حنین نڈھال سا ایک طرف دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا, یوں جیسے یہ سب اس کا کیا دھرا ہو, زینب کی سسکیاں پورے صحن میں گونج رہی تھیں, ان کا جوان جہان بیٹا بے حس و حرکت ان کے سامنے پڑا تھا, وہ زندہ تھیں… اور بیٹا چلا گیا تھا, معیز اور سنایا پاپا پاپا کہتے نہ تھکتے تھے
عصر کے بعد اس کا جنازہ تھا… مایا کی آہیں آسمان ہلا گئیں
ایک قیامت تھی جو اس گھر کے مکینوں پر آ گئی تھی
……………………
اس نے اپنے کمرے کے بالکل سامنے انعمتا کے لئے کمرہ سیٹ کروایا تھا, ظاہر ہے وہ تینوں بچے خصوصاً رعنین اور حیان تو اسے اتنی جلدی قبول نہیں کر پاتے سو اتنی جلدی انعمتا اس کے کمرے میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی تھی
گھر پہنچتے ہی اس نے فریحہ کو یزدان کے ساتھ ان کے کمرے میں بھیج دیا… اور خود انعمتا کا ہاتھ تھام کر اوپر لے آیا, دانین ابھی تک اس کی گود میں چڑھی ہوئی تھی
“یہ میرا اور تمہارا کمرہ ہے انعمتا… پہلے سامنے والا کمرہ میرا بیڈروم ہوتا تھا, اب وہاں بچے میرے ساتھ سوتے ہیں, میرا وعدہ ہے تم سے کہ میں دھیرے دھیرے سب کچھ ٹھیک کر دوں گا لءکن…. دھیرے دھیرے… تمہاری ضرورت کا سارا سامان میں نے یہاں سیٹ کروا دیا ہے… اگر کپڑے چینج کرنے ہیں تو کر لو… ایزی ہو جاؤ” وہ اسے دھیمے سے کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا
تینوں بچوں کو کپڑے چینج کرواۓ تھے, پھر انہیں کھانا کھلایا تھا… دانین تو جلدی ہی سو گئی,خود بھی کپڑے تبدیل کر کے وہ رعنین اور حیان کا ہاتھ تھامے اس کے کمرے میں داخل ہوا, انعمتا کپڑے بدل کر بیڈ پر بیٹھی تھی, انہیں دیکھ کر کھڑی ہو گئی
“بیٹھی رہو… بیٹھی رہو” حمدان دونوں بچوں کے لئے اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“رعنا, حیان… یہ کون ہے بھلا ؟؟؟” اس نے پوچھا, وہ دونوں اس کے منہ کی طرف دیکھنے لگے
“یہ آپ کی سیکینڈ وائف ہیں پاپا… ” رعنین زیادہ سمجھدار تھی
“اور یہ آپ کی دوست ہیں… دیکھو بیٹے میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ آپ کی ماما ہیں… کیونکہ ماما صرف ایک ہی ہوتی ہیں لیکن یہ آپ کی ماما جیسی ضرور ہیں… آپ چاہو تو انہیں انا بلا لیا کرنا… ” وہ کہتا چلا گیا
“یہ اب ہمارے ساتھ رہیں گی, اگر آپ کی پھپھو یا خالہ میں سے کوئی بھی آپ کو ان کے بارے میں برا بھلا کہے تو آپ بس اتنا یاد رکھنا کہ انہیں آپ کے پاپا نے چنا ہے… اور آپ کے پاپا کبھی غلط نہیں چنتے” وہ بولا
“ٹھیک ہے پاپا… “پتہ نہیں وہ دونوں سمجھے تھے یا نہیں
“چلو آؤ اب آپ دونوں کو سلا دوں؟؟” حمدان نے کچھ دیر بعد کہا تھا, وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے
“Good night Ana… “
ان دونوں نے جاتے ہوئے اسے مسکرا کر کہا تھا
“سو جاؤ… میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں” وہ دھیرے سے کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا
……………………..
وہ آج چار دن بعد آفس آیا تھا, ڈھیر سارا کام پینڈنگ تھا, فائلوں کا پلندہ اس کی میز پر دھرا تھا, سے سمجھ نا آئی کہ حنین کے ہوتے اتنا کام اکٹھا کیسے ہو گیا
اس نے کافی دفعہ انٹر کام پر حنین کو ٹرائی کیا لیکن بے سود… پھر اس نے یزدان کو ملا لیا
“حنین نہیں آیا ابھی تک ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سر وہ پچھلے ایک ہفتے سے نہیں آ رہا… ” یزدان نے کہا
“کیوں ؟؟؟” وہ حیران رہ گیا
“سر اس کے بھائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے” یزدان نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, حمدان ششدر رہ گیا
“یزدان اندر آؤ… ” وہ کچھ دیر بعد ہی آ گیا
“کب ہوئی ڈیتھ ؟؟؟”
“چار دن پہلے… “
“مجھے کیوں نہیں بتایا… ” اس نے پوچھا
“بھائی آپ نکاح کے سلسلے میں مصروف تھے اسی لئے نہیں بتایا, میں جنازے میں شریک ہوا تھا” وہ بولا
“حنین کا بھائی تو ابھی بالکل ینگ تھا نا… ؟؟؟
“جی سر… روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ہے” وہ بولا
“خدا جانے یہ سڑکیں کب تک جوان لڑکوں کا خون پیتی رہیں گی” وہ تاسف سے بولا تھا
“یزدان… جلدی سے سارا کام نمٹاؤ, پھر تھوڑی دیر کے لئے حنین کی طرف ہو کر آتے ہیں” وہ بولا, یزدان سر ہلا کر باہر نکل گیا
عصر کا وقت تھا جب وہ اور یزدان حنین کے گھر پہنچے, وہ گھر پر ہی تھا
“مجھے بے حد افسوس ہے حنین… ” حمدان اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہہ رہا تھا, وہ بس سنتا چلا گیا, ایک لفظ بھی نہیں بولا
“میں نے تو تم سے گلہ کرنا تھا کہ تم میرے نکاح میں نہیں آۓ… مجھے کیا خبر تھی کہ گلہ تمہاری طرف سے بن جاۓ گا” حمدان اس کے دل کو تاک تاک کر انجانے میں چھلنی کر رہا تھا
کچھ دیر بعد وہ واپسی کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تھا
مایا سبتین کے نویں کے بعد اپنے میکے چلی گئی تھی, اسے اب اپنی عدت پوری کرنی تھی, دونوں بچے بھی وہ ساتھ ہی لے گئی تھی
………………………..
وہ اس رات تقریباً نو بجے گھر آیا تھا, حنین کی غیر موجودگی کی وجہ سے کام بہت بڑھ گیا تھا, اس کے سارے پراجیکٹ حنین ہی فائنل کیا کرتا تھا, اور اب وہ سارا کام اسے خود کرنا پڑ رہا تھا
گاڑی گیراج میں کھڑی کر کے وہ اندر آ گیا… اور اندر کا منظر اسے تپانے کے لئے کافی تھا
انعمتا کچن کے دروازے میں کھڑی کسی سوکھے پتے کی طرح لرز رہی تھی, اس کی دونوں بہنیں ایک کے بعد ایک اس کے چھکے چھڑوا رہی تھیں…فریحہ کبھی ایک کو چپ کرواتیں تو کبھی دوسری کو… آئرہ کی امی بھی وہیں تھیں جو بیچ بیچ میں ان دونوں کو لقمے دے رہی تھیں
“یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟” وہ ذرا اونچی آواز میں بولا تھا
“تم کب آۓ ؟؟؟” اسے واضح لگا کہ شاہین کا ہلکا سا رنگ اڑا تھا
“انعمتا… کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے لرزتی کانپتی انعمتا سے پوچھا
“وہ… میں تو بس نیچے… پانی لینے آئی تھی اور یہ دونوں مجھے… ” گلے میں پھنستے آنسوؤں کے پھندے نے اسے مزید بولنے ہی نہ دیا
“کیا کہا ہے تم دونوں نے اسے ؟؟؟” حمدان شاید زندگی میں پہلی بار اتنا اونچا بولا تھا
“حمدان میں تو اسے…. ” شاہین سے بولا نا گیا
“میں تم دونوں کو آخری بار کہہ رہا ہوں کہ اپنے کام سے کام رکھا کرو, اگر میکے آنا ہے تو انسانوں کی طرح امی سے مل کر واپس چلی جایا کرو… خبردار جو آییندہ میں نے تم دونوں میں سے کسی کو بھی انعمتا سے بات کرتے دیکھا… مجھ سے طرا کوئی نہیں ہو گا” وہ ٹھنڈے ٹھار لحجے میں بولا تھا, دونوں بہنوں کو سانپ سونگھ گیا
“انعمتا میرے کپڑے نکال دو… میں آ رہا ہوں” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا, وہ چپ چاپ اوپر چلی گئی
“امی ان دونوں کو اپنی زبان میں سمجھا دیں… ورنہ پھر میں اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا” وہ انہیں کہتا ہوا اوپر آ گیا تھا
اس کے اور انعمتا کے نکاح کو دو ہفتے ہو چلے تھے, وہ بچوں سے تو کافی حد تک مانوس ہو گئی تھیں لیکن حمدان سے اس کا رویہ ابھی بھی پہلے دن والا ہی تھا, وہ اس کے سارے کام کرنے لگی تھی, اس کے کپڑے بڑا دل لگا کر خود پریس کرتی تھی, اس کے لئے صبح خود ناشتہ بناتی تھی, واپسی پر خود کھانا لگاتی تھی لیکن…. ابھی تک اسے حمدان کہہ کر پکارنے کی بھی ہمت نہیں کر پائی تھی
اب بھی وہ اوپر آیا تو وہ اس کے کپڑے نکال کر واش روم میں لٹکا چکی تھی
“بچوں نے کھانا کھا لیا… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی… دانین میرے کمرے میں ہی سو گئی ہے” یعنی وہ صرف اس کا کمرہ تھا حالانکہ پچھلے کئی دنوں سے وہ اس کے پہلو میں اسی کمرے میں سو رہا تھا, اس کی بات پروہ خفیف سا مسکرانے لگا, کچھ دیر بعد وہ کھانا کھانے نیچے آیا تو وہ اس کے ساتھ ہی آ گئی, رعنین اور حیان ٹی وی لاؤنج میں یزدان سے جڑے اس کا موبائل دیکھ رہے تھے
“تم نہیں کھاؤ گی ؟؟؟” اسے چپ چاپ اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا دیکھ کر اس نے پوچھا
“وہ…میں نے بچوں کے ساتھ کھا لیا تھا, بھوک لگ رہی تھی” وہ بولی
“چاۓ بنانی آتی ہے ؟؟؟”
“ہاں جی… “
“ایک کپ بنا دو… ” وہ سر ہلا کر اٹھ گئی
رات کو جب وہ دونوں بچوں کے سو جانے کے بعد” اس کے کمرے” میں آیا تو وہ ابھی جاگ رہی تھی, وہ اس کے برابر میں بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
“شاہین اور بلقیس کیا کہہ رہی تھیں تمہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یہ ہی کہ میں ایک مڈل کلاس فیملی کی لڑکی ہوں اسلیے مجھے امیر مردوں کو پھنسانے کے بہت گٹس آتے ہوں گے, اور میں نے آپ کو اپنی خوبصورتی کے جال میں پھنسا لیا ہے, اور شاید آپ پر کوئی جادو کر دیا ہے…. ” وہ ایک ہی سانس میں کہتی چلی گئی, حمدان نے زیر لب مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا, وہ نیلے رنگ کا سوٹ پہنے ہوۓ تھی, ریشمی دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا, لمبے بالوں کو کیچر میں مقید کر کے ویسے ہی کھلا چھوڑ دیا تھا, چہرے پر نا ہونے کے برابر میک اپ تھا, وہ بس آنسو بھری آنکھوں سے اسے سب کچھ بتاتی جا رہی تھی…. حمدان اس پر سے نظریں نا ہٹا سکا
اسے خود پر رشک آیا کہ اس لمحے وہ انتہائی حسین اور معصوم لڑکی اس کی تھی… لیکن ساتھ ہی افسوس بھی ہوا کہ آخر کب تک ؟؟؟
“ویسے وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں…. ” حمدان نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا
“کیا ؟؟؟” اسے ایکدم بریک لگی تھی
“یہ ہی کہ تم نے شاید مجھ پر کوئی جادو کر دیا ہے… ” اس نے ذرا سا آگے ہوتے ہوئے اس کے گلے میں پڑا دوپٹہ کھینچ دیا, لمحوں میں اس کے گال سرخ ہوتے چلے گئے تھے
“اور مجھے اپنی خوبصورتی کے جال میں پھنسا لیا ہے… ” وہ بڑے حق سے اس کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا تھا, انعمتا کا وہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں… پچھلے دو ہفتوں میں یہ حمدان کی اسکی طرف پہلی پیش رفت تھی
“بس وہ یہ کہنا بھول گئیں کہ میں تو تمہارا دیوانہ ہو گیا ہوں… ” اس کی انگلیاں انعمتا کے بالوں میں سرسرائیں تھیں, ایک لمحہ لگا اور اس نے انعمتا کے بالوں میں لگا کیچر کھینچ دیا, وہ خوشبو دار گھٹائیں اس کے چہرے پر برستی چلی گئی تھیں
