Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

"رعنین... " وہ پچھلے دو گھنٹوں سے اسے بلانے کے دو سو جتن کر چکا تھا لیکن رعنین نے بھی جیسے منہ نہ کھولنے کی قسم ہی کھا لی تھی, ان دونوں نے آج اپنے نئے ریسٹورنٹ کی اوپننگ کے لئے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ ہاؤس جانا تھا
ان دونوں نے چھ ماہ پہلے ہی فوڈ سائنسز ایند ٹیکنالوجی میں بی ایس کیا تھا اور اب اپنا ذاتی ریسٹورنٹ کھولنے کے لئے تگ و دو کر رہے تھے, حالانکہ انعمتا رعنین کے ریسٹورنٹ کھولنے کے حق میں بالکل نہیں تھی لیکن رعنین نے اے لیولز کے بعد ہی اپنی لائن سلیکٹ کر لی تھی
کچھ ایسا ہی حال زارون کا تھا, آئرہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسے ہاتھ پیر باندھ کر آفس لے جاۓ لیکن وہ لڑکا اپنے پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتا تھا, شروع دن سے اس نے ہمیشہ آئرہ کے خلاف جا کر اپنی فیلڈ کا چناؤ کیا تھا, جب جب اس نے زارون کو بزنس کی طرف کھینچنے کی کوشش کی, تب تب وہ لڑکا ماں کے آگے کھڑا ہو گیا, آئرہ کی ہر ممکن کوشش کے باوجود اس نے بی بی اے میں ایڈمیشن نہیں لیا تھا, اور زارون کے حصے کا سارا عتاب وہ زاہا پر اتار دیتی تھی... زاہا پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی تھی
اب بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے کی جانے والی ساری کوششیں سراسر زارون اور رعنین کی خود ساختہ تھیں, ان دونوں کی ماؤں میں سے کوئی بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے راضی نہیں تھی
"رعنا... یار کچھ تو بولو" زارون جیسے تنگ آ گیا
"زارون.. جب میں بولتی ہوں تو تمہیں تب بھی ناقابل برداشت لگتی ہوں... اب اگر میں نہیں بول رہی تب بھی مسئلہ ہے " رعنین بھڑک پڑی
"اچھا ایم سوری.... " وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا
"زارون میری ایک بات کان کھول کر سن لو... اگر آئیندہ کبھی تمہارا کسی کام کو دل نہ کرے... تو پلیز مجھے صاف صاف بتا دینا... گھمن گھیریاں ڈالنے والے لوگ مجھے زہر لگتے ہیں" وہ بولی
"اچھا سوری کہا نا.... میں کل واقعی بہت ڈسٹرب تھا رعنا" وہ بولا
"تو تم مجھ سے شییر کر لیتے " رعنین نے کہا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا
"زارون... جب سے ہم نے پاس آؤٹ کیا ہے نا... تب سے تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے, کیمپس کے چار سالوں تک تم بالکل ٹھیک تھے ... اس کے بعد تمہیں کچھ ہوا ہے... اور ہوا ضرور ہے....مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟؟" وہ کہتی چلی گئی
"اچانک ہی بیٹھے بٹھاۓ تمہارا موڈ آف ہو جاتا ہے, کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی اور تمہارا ہر چیز سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے... زارون ہم دوست ہیں یار... پکے والے دوست... مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے... ؟؟؟ " وہ پوچھ رہی تھی, زارون نے اس کی طرف دیکھا, وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
"ایک منٹ... ایک منٹ... زارون کہیں تمہیں... کسی سے پیار تو نہیں ہو گیا" رعنین کے کہتے ہی زارون نے یکدم بریک لگائی تھی, وہ بیچاری اڑتی ہوئی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر جا پڑی
"زارون... " وہ متوحش نظروں سے ساکت بیٹھے زارون کو دیکھے جا رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *