Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Last updated: 14 March 2026
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 01)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 02)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 03)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 04)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 05)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 06)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 07)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 08)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 09)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 10)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 11)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 12)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 13)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 14)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 15)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 16)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 17)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 18)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 19)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 20)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 21)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 22)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 23)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 24)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Last Episode)Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Last Episode)Part 2
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
"رعنین... " وہ پچھلے دو گھنٹوں سے اسے بلانے کے دو سو جتن کر چکا تھا لیکن رعنین نے بھی جیسے منہ نہ کھولنے کی قسم ہی کھا لی تھی, ان دونوں نے آج اپنے نئے ریسٹورنٹ کی اوپننگ کے لئے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ ہاؤس جانا تھا
ان دونوں نے چھ ماہ پہلے ہی فوڈ سائنسز ایند ٹیکنالوجی میں بی ایس کیا تھا اور اب اپنا ذاتی ریسٹورنٹ کھولنے کے لئے تگ و دو کر رہے تھے, حالانکہ انعمتا رعنین کے ریسٹورنٹ کھولنے کے حق میں بالکل نہیں تھی لیکن رعنین نے اے لیولز کے بعد ہی اپنی لائن سلیکٹ کر لی تھی
کچھ ایسا ہی حال زارون کا تھا, آئرہ کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسے ہاتھ پیر باندھ کر آفس لے جاۓ لیکن وہ لڑکا اپنے پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتا تھا, شروع دن سے اس نے ہمیشہ آئرہ کے خلاف جا کر اپنی فیلڈ کا چناؤ کیا تھا, جب جب اس نے زارون کو بزنس کی طرف کھینچنے کی کوشش کی, تب تب وہ لڑکا ماں کے آگے کھڑا ہو گیا, آئرہ کی ہر ممکن کوشش کے باوجود اس نے بی بی اے میں ایڈمیشن نہیں لیا تھا, اور زارون کے حصے کا سارا عتاب وہ زاہا پر اتار دیتی تھی... زاہا پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی تھی
اب بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے کی جانے والی ساری کوششیں سراسر زارون اور رعنین کی خود ساختہ تھیں, ان دونوں کی ماؤں میں سے کوئی بھی اس ریسٹورنٹ کے لئے راضی نہیں تھی
"رعنا... یار کچھ تو بولو" زارون جیسے تنگ آ گیا
"زارون.. جب میں بولتی ہوں تو تمہیں تب بھی ناقابل برداشت لگتی ہوں... اب اگر میں نہیں بول رہی تب بھی مسئلہ ہے " رعنین بھڑک پڑی
"اچھا ایم سوری.... " وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا
"زارون میری ایک بات کان کھول کر سن لو... اگر آئیندہ کبھی تمہارا کسی کام کو دل نہ کرے... تو پلیز مجھے صاف صاف بتا دینا... گھمن گھیریاں ڈالنے والے لوگ مجھے زہر لگتے ہیں" وہ بولی
"اچھا سوری کہا نا.... میں کل واقعی بہت ڈسٹرب تھا رعنا" وہ بولا
"تو تم مجھ سے شییر کر لیتے " رعنین نے کہا, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا
"زارون... جب سے ہم نے پاس آؤٹ کیا ہے نا... تب سے تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے, کیمپس کے چار سالوں تک تم بالکل ٹھیک تھے ... اس کے بعد تمہیں کچھ ہوا ہے... اور ہوا ضرور ہے....مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟؟" وہ کہتی چلی گئی
"اچانک ہی بیٹھے بٹھاۓ تمہارا موڈ آف ہو جاتا ہے, کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی اور تمہارا ہر چیز سے دل اچاٹ ہو جاتا ہے... زارون ہم دوست ہیں یار... پکے والے دوست... مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے... ؟؟؟ " وہ پوچھ رہی تھی, زارون نے اس کی طرف دیکھا, وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
"ایک منٹ... ایک منٹ... زارون کہیں تمہیں... کسی سے پیار تو نہیں ہو گیا" رعنین کے کہتے ہی زارون نے یکدم بریک لگائی تھی, وہ بیچاری اڑتی ہوئی گاڑی کے ڈیش بورڈ پر جا پڑی
"زارون... " وہ متوحش نظروں سے ساکت بیٹھے زارون کو دیکھے جا رہی تھی
