Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 13)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

“میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں… ” زاہا کی آواز کی بازگشت ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھی

“کون ہے وہ… ؟؟؟”

“حیان حمدان خان… ” نفرت کی ایک لہر تھی جو آئرہ کے دل میں اٹھی تھی, غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا

آخر کیوں ؟؟؟ کیوں قسمت ہر بار اسی کے ساتھ داؤ کھیل جاتی ہے ؟؟؟ کیوں ہمیشہ مات اسی کے نصیب میں لکھی جاتی ہے ؟؟؟

“حیان حمدان خان…. ” زاہا کی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے دماغ پر برسنے لگی تھی

“نہیں… اس بار نہیں… اس بار میں اس دو ٹکے کی لڑکی کے سامنے نہیں جھکوں گی… “اس نے فیصلہ کرتے ہی اپنا سیل اٹھایا اور حنین کا نمبر ملا لیا

“کیسی ہیں میم آپ ؟؟” اس کی وہی مسکراتی سی آواز

“مسٹر حنین… میرے خیال سے زاہا اور معیز نے ایک دوسرے کو کافی حد تک جان لیا ہے… میں چاہ رہی تھی کہ اب ہمیں ان دونوں کی منگنی کر دینی چاہئے ” وہ بولی

“جی میم… کیوں نہیں… آپ کوئی بھی دن ڈیسائیڈ کر لیجیے ” وہ تیار تھا

“ٹھیک ہے پھر… اگلے ہفتے میں ” وہ بولی

“جیسے آپ کہیں میم… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا, آئرہ نے کچھ دیر بعد کال کاٹ دی

کچھ دیر یونہی بیٹھی رہی پھر اٹھ کر اوپر زاہا کے کمرے تک چلی آئی, وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تھی

“میم آپ ؟؟؟”

“اگلے ہفتے تمہاری اور معیز کی منگنی ہے.. بس تمہیں یہ ہی بتانا تھا” وہ سخت سے لحجے میں بولی

“لیکن میم… ” زاہا کی ساری نیند اڑنچھو ہو گئی

“دیکھو زاہا… دو میں سے کسی ایک کو چن لو, حیان حمدان خان… یا پھر ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن کی کرسی… The choice is yours ” وہ کٹھور ہو گئی تھی

“پلیز میم… We love each others” زاہا روہانسی ہو گئی

“میں نے کہا فیصلہ تمہارا ہے… ” وہ بولی, زاہا کچھ دیر اس کی طرف دیکھتی رہی پھر بول پڑی

“حیان حمدان خان… ” اس کے کہتے ہی آئرہ دم بخود رہ گئی, وہ ایک لمحے میں محبت کے لئے ہر شے سے دستبردار ہو گئی تھی

“Sorry… Your time’s up…

“سوری… تمہارا وقت ختم ہو گیا تھا تھا… اگلے ہفتے تک اپنی منگنی کا جوڑا خرید لینا” وہ سخت لحجے میں کہتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر نکل گئی تھی

…………………….

“اگلے ہفتے… ” حیان بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے جا رہا تھا, زاہا اسے ساری بات بتا کر خاموش ہو گئی تھی

“یہ کیا بات ہوئی بھلا… بیٹھے بٹھاۓ انہیں معیز میں نظر کیا آیا بھلا…میں آج ہی اسے سب کچھ بتا دوں گا, وہ دوست ہے میرا… اور اسے تم سے کوئی دلی لگاؤ بھی نہیں ہے سو… وہ میرے لئے خود ہی پیچھے ہٹ جاۓ گا” وہ بولا

“تمہیں کیسے پتہ کہ اس کی کوئی دلی وابستگی نہیں ہے ؟؟؟” زاہا نے پوچھا

“کیونکہ وہ اور… ” وہ کہتے کہتے رکا, معیز نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ دانین کو پسند کرتا ہے… دانین کی محبت سراسر یکطرفہ تھی

“حیان یہ ایک بزنس ڈیل ہے… ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کی پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے… زاہا تمیم ہاشمی اور معیز ضامن میر…. ” زاہا نے کہا

“اگر اس کی کسی اور سے کمٹمنٹ ہوتی تو وہ مجھ سے ملنے ہی نا آتا, اس نے بتایا تھا مجھے کہ میرے چاچو نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر میں کسی سے محبت کرتا ہوں تو انہیں صاف صاف بتا دوں, وہ محبت کا پورا پورا ساتھ دیں گے لیکن…. ” وہ ذرا سا رکی

“وہ مجھ سے ملنے چلا آیا… ایک بار نہیں, بار بار… کیوں ؟؟؟ کیونکہ وہ کسی سے محبت نہیں کرتا, اس کے چاچو مجھ سے اس کا رشتہ طے کرنے پر تیار ہیں کیوں ؟؟؟ کیونکہ وہ کہیں اور کمیٹیڈ نہیں ہے… اور اگلے ہفتے ہم دونوں کی منگنی ہے جس کی صبح اس نے مجھے مبارکباد دی ہے کیوں ؟؟؟ کیونکہ وہ راضی ہے” وہ انتہائی دھیمے مزاج کی لڑکی آخر میں چیخ پڑی

“اچھا… تو پھر کیا کرو گی تم ؟؟؟ پہن لو گی اس کے نام کی انگوٹھی ؟؟؟” حیان بھی تڑخ گیا, زاہا خاموش بیٹھی رہ گئی

“زاہا… میری بات سنو, ہم دونوں اپنی محبت کو یونہی قربان ہونے نہیں دیں گے, معیز تم سے پیار نہیں کرتا, وہ بس اپنے چاچو کے کہنے پر تم سے شادی کر رہا ہے… میری بات سنو, آج رات جو منتھلی کلوزنگ ک سیمینار ہے تم اس میں آ رہی ہو… میں بھی آؤں گا… وہیں میں تمہیں انا سے ملواؤں گا اور وہیں انا تمہاری مام سے میرے اور تمہارے رشتے کی بات کریں گی… اوکے ؟؟؟؟” وہ کہتا چلا گیا

“اگر مام نہیں مانی تو ؟؟؟؟” وہ بولی

“تو میں معیز سے خود بات کر لوں گا… چاہے مجھے اس سے بھیک ہی کیوں نا مانگنی پڑے” وہ فیصلہ کن لحجے میں بولا تھا

………………………..

وہ بینک سے واپسی پر وہاں سے گزرا تھا

The tasty treat…

بڑا سا سائن بورڈ دیکھ کر اس نے رفتار کم کی تھی, کچھ فاصلے پر اسے زارون کھڑا نظر آیا, وہ گاڑی ایک ساییڈ پر کھڑی کر کے باہر نکل آیا

“کیا حال ہے زارون کیف خان… ؟؟؟” وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا

“زارون حاطب سر… ” وہ اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا

“ہاں ہاں… یاد آیا, تمہیں اپنی مدر کا سر نیم پسند نہیں ہے” وہ مسکرایا

“کہاں تک پہنچا کام ؟؟؟” اس نے پوچھا

“کچن سیٹ ہو گیا ہے, بس ایک دو ہفتوں تک فرنیچر رکھوا لیں گے” وہ بولا

“گڈ… تمہاری وہ نک چڑھی سی پارٹنر کدھر ہے ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“اندر ہے… ” حنین اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اندر آ گیا, رعنین دروازے کی طرف پشت کیے ریسٹورنٹ کا نقشہ دیکھ رہی تھی

“کھانا پکانا کب شروع کریں گی مس رعنین حمدان خان…. ؟؟؟” وہ اس کی آواز سن کر پلٹی تھی, ڈارک گرین کلر کے تھری پیس میں ملبوس دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ دشمن جاں دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا, رعنین کے دل کی دھڑکن یکلخت تیز ہو گئی

“بس کچھ دنوں تک… ” وہ اپنے ازلی پر اعتماد لحجے میں بولی

“خود پکایا کریں گی ؟؟؟” اس نے پوچھا

“کوئی بہت سپیشل مہمان آ گیا تو شاید خود بھی پکا لوں” وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی

“اچھا… اور وہ کون ہو گا ؟؟؟ تمہاری سٹیپ مام… آخر کو وہ شہر کی ٹاپ بزنس آئیکون ہیں” وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا

“میرے نظر میں سپیشل ہونے کے لئے شہر کا ٹاپ بزنس آئیکون ہونا ضروری نہیں ہے… ” وہ پگھل رہی تھی…. قطرہ قطرہ

حنین خفیف سا مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھا…

جانتے ہو… آپ ایک لمحے میں جج کر سکتے ہو کہ سامنے کھڑی لڑکی آپ پر دل ہار چکی یا نہیں…اس کی جانب بڑھو, بڑھتے رہو, اگر وہ ڈٹی رہے تو تم اس کے لئے کچھ بھی نہیں… لیکن… اگر وہ لڑکھڑا جاۓ, اپنے قدم چھوڑ دے, پیچھے ہٹ جاۓ… تو سمجھو وہ تمہیں خود سے اوپر مان چکی ہے

اور اس لمحے… حنین یامن میر کے آخری قدم کے ساتھ ہی رعنین نے اپنا پیر پیچھے ہٹایا تھا… وہ مسکرایا… انتہائی جان لیوا انداز سے

پھر مزید اس کی جانب بڑھا… وہ پیچھے ہٹی… ہٹتی گئی… یہاں تک کے میز سے ٹکرا گئی, راستہ مسدود ہو گیا تھا

وہ اس کے کپکپاتے ہوۓ لب دیکھ چکا تھا… لبوں کے بھیگتے ہوۓ کنارے بھی دیکھ چکا تھا, تمتماتے ہوۓ سرخی مائل گال بھی دیکھ چکا تھا

بڑے حق سے اس نے اپنے دونوں بازو اس کے دائیں بائیں میز پر ٹکا دییے یوں کے رعنین کا گلنار سا چہرہ عین اس کے سامنے تھا

وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا… دیکھتا رہا… مسکراتا رہا

یہاں تک کے اس بائیس سالہ انتہائی پر اعتماد لڑکی کی حالت غیر ہو گئی, پسینے کے قطرے کنپٹیوں پر چمکے اور ٹپک کر بالوں میں جذب ہو گئے

“پھر تمہاری نظر میں سپیشل ہونے کے لیے کیا ہونا ضروری ہے ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, حالانکہ سب کچھ جان چکا تھا, اس کی آنکھوں کے راستے اس کے دل میں اتر چکا تھا

“یقیناً تمہاری نظر میں سپیشل ہونے کے لئے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کا آنر ہونا تو ضروری نہیں ہو گا… ؟؟؟ ہے نا مس رعنین حمدان خان ؟؟؟” وہ اسے پوری طرح اپنے سحر میں جکڑ چکا تھا

“بالکل… ” رعنین نے اپنی پوری ہمت جمع کی تھی اور حنین بس مسکراتے ہوئے اس کے سامنے سے ہٹ گیا تھا

……………………….

وہ ایلیٹ کلاس کا ایک بڑا شاندار سا سیمینار تھا, شہر کی مشہور بزنس شخصیات وہاں مدعو تھیں, صحافیوں اور کیمرہ مینوں کا بھی رش لگا ہوا تھا

حیان انعمتا کے ساتھ آیا تھا… سب سے زیادہ پروٹوکول اسی کے لئے تھا, اس کے لئے الگ سے ٹیبل سیٹ کروائی گئی تھی

آئرہ کے پر زور اصرار پر بھی حنین نہیں آ سکا تھا… عنایہ کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وہ گھر پر ہی رک گیا تھا اور اس کے بار بار کہنے کے باوجود معیز نے بھی ہری جھنڈی دکھا دی, اسے اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں ریسنگ کرنے جانا تھا

آئرہ کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن جب دیکھا کہ زارون اس کے ساتھ جانے کے لئے راضی ہے تو زاہا کو بھی کہہ دیا, وہ لمحوں میں تیار ہوئی تھی

نیلے رنگ کی پیروں تک آتی میکسی میں وہ غضب ڈھا رہی تھی, اس کی سانولی رنگت پر فدا ہو جانے والے ہزاروں تھے, اس کی دلکش آنکھوں پر مر مٹنے والے لاکھوں تھے… اس شمع پر دل ہارنے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی

وہ دونوں جیسے ہی ہال میں داخل ہوئیں, حیان نے دیکھ لیا, وہ فوراً انعمتا کے پاس آیا تھا

“انا… مجھے آپ کو کسی سے ملوانا ہے” وہ انتہائی پر جوش تھا

“کس سے ؟؟؟” انعمتا حیران رہ گئی

“ابھی تھوڑی دیر تک پتہ چل جاۓ گا” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا, انعمتا بس اسے دیکھتی رہ گئی

کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر آئرہ اور زاہا کی طرف آ گیا

“ہاۓ زاہا… کیسی ہو ؟؟” اس نے بڑی گرمجوشی سے اس سے ہاتھ ملایا تھا, زاہا بس اسے دیکھ کر رہ گئی, آئرہ کی ساری مسکراہٹ مفقود ہوئی تھی

“تم کون ہو ؟؟” اس نے پوچھا

“اوہ ہیلو میم…. میں زاہا کا دوست ہوں… قریبی دوست… کیوں زاہا ؟؟” وہ مسکراتے ہوئے بولا

“اگر آپ برا نا منائیں تو میں اسے کسی سے ملوانا چاہتا ہوں ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا

“مس کیف خان… کیسی ہیں آپ ؟؟؟” کسی عورت کی آواز پر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئی تو حیان نے زاہا کا ہاتھ تھاما اور انعمتا کے پاس لے آیا

“انا… یہ زاہا ہے… “وہ اس کے پاس آتے ہوئے بولا

“ہیلو میم…. ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی

“انا… یہ میرے لئے بہت خاص ہے” وہ اکیس سالہ لڑکا جھینپ رہا تھا

“ہاں میں جانتی ہوں… اسی کی خاطر تم مرسیڈیز چھوڑ کر آٹو میں بیٹھ جاتے ہو” انعمتا نے کہا, زاہا شرما سی گئی

“انا… زاہا کی مام بھی یہاں آئی ہیں, پلیز آپ آج ہی ان سے ہم دونوں کے رشتے کی بات کریں” حیان نے کہا

“اتنی جلدی ؟؟” وہ حیران ہو گئی

“انا جلدی کہاں ہے… دو سال ہو گئے ہماری محبت کو…” وہ بولا

“حیان… پہلے بی بی اے کا رزلٹ تو آ لینے دو” انعمتا نے دھیرے سے کہا

“نہیں فیل ہوتا میں بی بی اے میں… لیکن اگر آپ نے آج زاہا کی مام سے بات نا کی تو میں اپنی محبت میں ضرور فیل ہو جاؤں گا انا…. ” وہ جلدی سے بولا, زاہا خاموش کھڑی تھی, وہ جانتی تھی کہ کچھ فاصلے پر کھڑی آئرہ کی نظریں مسلسل اس پر جمی ہوئی تھیں

“اچھا کہاں ہیں زاہا کی مدر ؟؟؟” اس نے پوچھا

“وہ… وہاں ہیں… ” حیان نے آئرہ کی طرف اشارہ کیا تھا, انعمتا نے اس طرف دیکھا

آئرہ اسی کو دیکھ رہی تھی… اسے جیسے یقین نا آیا

“کون… ؟؟”اس نے پوچھا

“آئرہ کیف خان… ” زاہا کے کہتے ہی وہ ششدر رہ گئی

“تم بشر تمیم ہاشمی کی بیٹی ہو ؟؟” اس نے بدقت پوچھا تھا

“جی میم… ” وہ سر جھکا کر بولی تھی, انعمتا تھم سی گئی, اسے لگا جیسے آئرہ کی نظریں اس کا تمسخر اڑا رہی ہوں, وہ دوبارہ اس کی طرف دیکھ ہی نہیں پائی

دفعتاً ہلکا ہلکا میوزک آن ہو گیا, ساتھ ہی لائیٹیں مدھم ہو گئیں

“انا… پلیز آپ ابھی زاہا کی مام سے بات کریں” وہ اس کا ہاتھ تھام کر سٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا

انعمتا اپنی نشست پر گر سی گئی

کیسے… ؟؟؟ کیسے بات کرے گی وہ آئرہ سے ؟؟؟

اور آخر کیوں بات کرے وہ اس سے ؟؟؟

آئرہ کیف خان… اس کی سب سے بڑی دشمن, بزنس میں بھی…محبت میں بھی

وہ کیسے اسے کہے کہ حمدان کے بیٹے کے لئے زاہا کا رشتہ دے دو ؟؟؟؟

اور باالفرض… اگر وہ کہہ بھی دے…. تو کیا آئرہ ایسا ہونے دے گی ؟؟؟

کیا وہ حمدان سیف خان کے بیٹے کو اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے گی… چاہے اس کی سوتیلی بیٹی ہی سہی… نہیں… کبھی نہیں… ؟؟؟

وہ جس شخص کا نام بھی سننا گوارا نہیں کرتی… اس کے بیٹے کو کیسے برداشت کرے گی ؟؟؟

اس نے ایک نظر آئرہ کی طرف دیکھا, وہ خونخوار نظروں سے سٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی,… انعمتا نے بھی سٹیج کی طرف دیکھا

حیان کا ایک بازو زاہا کی کمر کے گرد حمائل تھا اور. زاہا کا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا… وہ دونوں ڈانس کر رہے تھے…مسکرا رہے تھے

دفعتاً حیان نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی, زاہا ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر جھک گئی, دونوں ہنستے چلے گئے

انعمتا نے تھک ہار کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا… یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا, تبھی کسی نے پانی کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا

“پانی پی لیں انعمتا…” مانوس سی آواز پر س نے سر اٹھایا تھا

وہ یزدان تھا… یزدان سیف خان

وہ دھیرے سے عین اس کے سامنے بیٹھ گیا

“تم جانتے تھے ؟؟؟ انعمتا نے دھیرے سے پوچھا تھا

“اتنا زیادہ نہیں جانتا تھا ” وہ بولا

“اسے روک دیتے ؟؟؟” انعمتا نے کہا

“کس رشتے سے ؟؟؟” یزدان نے پوچھا, وہ چپ رہ گئی

“یہ میں جانتا ہوں کہ وہ میرا بھتیجا ہے… وہ تو نہیں جانتا… پھر میں کون ہوتا ہوں اسے یہ کہنے والا کہ زاہا تمیم ہاشمی اسے کبھی نہیں مل سکتی” وہ بولا تھا

انعمتا نے بے بسی سے سٹیج کی طرف دیکھا

وہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کے سحر میں گرفتار ہو چکے تھے

………………………….

“آپ نے اس کی مام سے بات کیوں نہیں کی ؟؟؟” حیان گھر آتے ہی اس کے کمرے میں چلا آیا, وہ اس سے پہلے ہی واپس آ گئی تھی

“حیان میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی سو بات نہیں ہو سکی” وہ بولی

“انا یہ ضروری تھا…. بہت ضروری” وہ بے بسی سے بولا

“اس کی مام اگلے ہفتے اس کی منگنی کر رہی ہیں… کسی اور سے” وہ بولا

“تو پھر بھلا اس کی ماں سے بات کرنے کا کیا فائدہ ؟؟؟؟ اس نے جو ٹھان لی ہے وہ وہی کرے گی” انعمتا نے کہا

“بات کرنے میں کیا حرج ہے ؟؟؟” وہ اس کے پاس آ گیا

“حیان…. میری بات سنو, اس کی ماں کا نام آئرہ کیف خان ہے, وہ اگر فیصلہ کر چکی ہے کہ اپنی بیٹی کی منگنی کسی اور سے کرنے کا تو اس فیصلے کو کوئی نہیں پلٹ سکتا… خود زاہا بھی نہیں, وہ انتہائی ہٹ دھرم اور ضدی عورت ہے, میری بات لکھ لو کہ وہ کبھی تمہیں زاہا کا رشتہ نہیں دے گی, پچھلے کئی سالوں سے اس کی حمدان انٹرپرائزرز سے دشمنی چل رہی ہے… وہ تو ہمیں ایک ٹینڈر دے کر راضی نہیں ہے نا کہ اپنی بیٹی کا رشتہ دے… بات سمجھنے کی کوشش تو کرو” انعمتا کہتی چلی گئی

“انا… آپ بھی تو میری بات سمجھنے کی کوشش کریں, میری اس سے کوئی چھوٹی موٹی پسندیدگی نہیں ہے جو اس کہ منگنی ہوتے ہی میں اسے بھول جاؤں گا… میں نے محبت کی ہے اس سے… پورے دو سال, خواب دیکھے ہیں اس کے… پورے دو سال” وہ زور سے بولا, انعمتا چپ رہ گئی

“پلیز انا…. صرف ایک بار, ایک بار اس کی مام سے ملیں تو سہی, بات تو کریں” وہ ملتجی ہو گیا

“حیان… اگر وہ نا مانی ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا

“انا… میں فی الحال یہ سوچنا بھی نہیں چاہتا” وہ زور سے بولا تھا

………………………..

وہ اور فریحہ دونوں رات کا کھانا کھا رہے تھے, یزدان مسلسل حیان اور رعنین کے بارے میں بات کر رہا تھا, بارہ سال ہو گئے تھے فریحہ کو ان بچوں سے ملے… اور انہیں دیکھے, انہوں آخری مرتبہ جب رعنین کو دیکھا تو وہ دس سال کی تھی, بس پھر یزدان انہیں اپنے ساتھ لے گیا تھا

اور اب بارہ سال بیت چکے تھے

“یزدان… مجھے کسی دن وہاں لے چل, زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے, میں ان سے مل تو لوں” وہ بولیں

“انعمتا سے ملا تھا میں کل.. ” وہ بولا, لیکن اس سے پہلے کہ فریحہ کچھ کہتیں, دروازے پر دستک ہونے لگی

یزدان نے اٹھ کر دروازہ کھولا… انعمتا دہلیز پر کھڑی تھی… بالکل اکیلی

“آپ… ؟؟؟”

“تم سے بات کرنی ہے” وہ بولی, یزدان نے اسے راستہ دے دیا

“انعمتا…. ” فریحہ کھڑی ہو گئیں

“کیسی ہیں آپ ؟؟؟” وہ ہمیشہ کی طرح ان سے جھک کر ہی ملی تھی

“بس زندگی گزار رہی ہوں… ” انہوں نے کہا, وہ وہیں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی, یزدان بھی اپنی کرسی پر آن بیٹھا

“میرے ساتھ چلو یزدان…. ” اس نے کہا

“کہاں… ؟؟؟”

“حیان کا رشتہ لیکر… بشر کی بیٹی کے لئے ” وہ بولی

“وہ اب صرف بشر کی بیٹی نہیں ہے انعمتا… وہ آئرہ کیف خان کی سوتیلی بیٹی ہے” یزدان نے کہا

“آئرہ… ؟؟؟” فریحہ چونک گئیں

“حیان آئرہ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے امی… زاہا سے” یزدان نے کہا, وہ چپ رہ گئیں

“انعمتا… میرے وہاں جانے سے کچھ نہیں ہو گا… آپ کی بات تو شاید وہ دو منٹ سن بھی لے..مجھے تو دہلیز سے ہی دھکے مار دے گی” یزدان بالکل درست تھا

“میں نے بہت سمجھایا ہے اسے… لیکن وہ محبت کو بیچ میں لے آیا ہے… میں شاید کبھی مر بھی اس عورت کی دہلیز پر نا جاتی لیکن…. ” اس نے یزدان کی طرف دیکھا

“وہ روۓ گا تو میں کیسے برداشت کروں گی… وہ روۓ گا تو میں حمدان سے کہا کہوں گی ؟؟؟” اس کی آنکھیں بھر آئیں

“یزدان حالات نے مجھے بہت مضبوط کر دیا ہے لیکن… وہ تینوں آج بھی میری سب سے بڑی کمزوری ہیں” وہ بولی

“میرے ساتھ چلو… مجھے اکیلے آج بھی اس عورت سے بہت ڈر لگتا ہے یزدان” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی

“انعمتا… میری بات سنیں, آپ ذرا ہمت سے کام لیں اور حیان کو ساتھ لے جائیں… اگر وہ نا مانی تو پہلے میں حیان سے بات کروں گا… پھر آئرہ سے” وہ دھیرے سے بولا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *