Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 24)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 24)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
وہ غصے میں کھولتی ہوئی گھر واپس آئی تھی, سارا کا سارا تختہ ہی الٹ گیا تھا… ہر طرف سے اسے مات تھی, ہر داؤ الٹا چل گیا تھا
مارے غصے کے اس کی شریانیں پھٹنے والی ہو گئی تھیں, چہرہ لال بھبھوکا ہوا جا رہا تھا
“زارون…. کہاں ہے وہ حرافہ ؟؟؟” وہ شاید اس سے زیادہ اونچا نہیں چیخ سکتی تھی
“مام… بس کریں, پلیز بس کریں” وہ اسے دونوں کندھوں سے تھام کر بولا
“شٹ اپ… تیری وجہ سے برباد ہو گئی ہوں میں” وہ بے دریغ اسے مارتی چلی گئی تھی
چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا تھا, زارون خاموشی سے باہر نکل گیا
بی پی کی گولی کھا کر بھی وہ پر سکون نہیں تھی, ہر نیوز چینل پر صرف زاہا اور حیان ہی تھے
بس اب تابوت میں آخری کیل گڑھنے والی تھی
وہ لاؤنج میں صوفے پر گری ہوئی تھی جب اسے یزدان کی کال آئی
“پھر کیا سوچا تم نے ؟؟” وہ بولا
“بھاڑ میں گئے تم… اور بھاڑ میں گئی تمہاری خواہش ” وہ بولی
“آئرہ… حیان نے ایف آئی آر کٹوا دی ہے….کچھ ہی دیر میں پولیس تمہارے گھر پرہو گی” وہ بولا
“بکواس بند کرو… میں اپنی ضمانت خود ہی کروا لوں گی” وہ پھنکاری
“اچھا… پھر جب بات اغواء سے قتل پر آۓ گی تب کیا کرو گی ؟؟؟ پھانسی کے پھندے سے کیسے بچو گی آئرہ کیف خان… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یزدان… میں مر جاؤں گی لیکن تم سے شادی نہیں کروں گی” اس کی نسیں ابھرنے لگی تھیں, رگیں پھڑکنے لگی تھیں, آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا
“تمہاری مرضی… میں تھوڑی دیر تک آؤں گا, اگر تم. نے مجھے YES کا میسیج کر دیا تو نکاح خواں کو لے آؤں گا لیکن… اگر مجھے تمہارا میسیج نا آیا تو میں تب بھی آؤں گا آئرہ… اور پولیس میرے ساتھ ہو گی” وہ کہتا چلا گیا
“Shut up you bastard… “
اس نے کھینچ کے سیل دیوار پر دے مارا تھا
پھر زور سے چیخی
“میں چھوڑوں گی نہیں کسی کو” اس نے ایک کے بعد ایک توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی
………………………..
“زارون… پلیز مجھے بتا دو کہ انا کہاں ہیں ؟؟؟ تمہاری مام نے انہیں کڈنیپ کروا کر کہاں رکھا ہے ؟؟؟” رعنین نے روتے ہوئے پوچھا
“مجھے نہیں پتہ رعنا ” وہ بولا
“تمہیں پتہ ہے… تمہیں پتہ ہے تبھی تو تم اتنے سکون میں ہو” وہ بولی
“رعنا… ایک بات کہوں تمہیں ؟؟؟” وہ بولا
“خدا کی قسم میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں… اور محبت سے بھی زیادہ میں ان کی عزت کرتا ہوں, میں جب انہیں دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے میری ساری زندگی مکمل ہو گئی ہو…. یقین کرو کہ میرے لئے بس انہیں دیکھ لینا ہی کافی ہوتا ہے, وہ مسکرائیں تو میرا دل کرتا ہے کہ میں ان کے ساتھ ہی مسکراتا رہوں… بلا وجہ… میرے لئے ان سے کی میری محبت ہی مجھے کافی ہے… رعنا میں نے تو کبھی اپنی محبت میں حسد نہیں کیا… ہاں ان پر رشک ضرور کیا… خدا کی قسم مجھے بس اس سے سروکار ہے کہ وہ ہمیشہ مسکراتی رہیں… بھلے ہی جس کے بھی پہلو میں کھڑی ہوں, میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ خوش رہیں چاہے جس کے ساتھ بھی ہوں… ہمیشہ آسودہ رہیں, ہنستی رہیں, جگمگاتی رہیں… بھلے ہی میری نا ہوں… لیکن بس مجھے نظر آتی رہیں” وہ کہتا چلا گیا, رعنین روۓ جا رہی تھی
“پھر تم نے کیسی محبت کی رعنین… ؟؟؟ اتنی خود غرض, اتنی نیچ… کیا تمہاری محبت بس حنین یامن میر کو پانے کی حد تک ہی تھی..؟؟؟ کیا تم بس انعمتا کو اس کے پہلو میں کھڑا دیکھ کر ہی سلگ گئیں ؟؟؟” وہ بولا
“چاہے تمہیں برا لگے رعنین… لیکن سچ یہ ہی ہے کہ تم نے محبت نہیں کی… تمہیں بس وہ اچھا لگا… تم بس اس پر فدا ہو گئیں, وہ بس تمہار کرش تھا… وہ بس ایک وقتی ابال تھا جس نے سب کچھ جلا ڈالا” زارون نے کہا
“زارون میں پتہ نہیں کیوں اتنی خود غرض ہو گئی تھی….” وہ سسکتے ہوۓ بولی
“محبت کو پا لینا ہی سب کچھ نہیں ہوتا رعنا… کبھی کبھی وہ دور کھڑی مسکراتی ہوئی ہی بہت اچھی لگتی ہے” وہ اسے بہت نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا
………………………
وہ اپنے آفس میں ڈیسک کے قریب کھڑی کچھ پیپرز دیکھ رہی تھی جب کسی نے بہت نرمی سے اس کی دونوں آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے
زاہا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی
“تو اب تم چوروں کی طرح میرے آفس میں آیا کرو گے ؟؟” اس نے پوچھا, حیان نے اس کی آنکھوں پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا ہاتھ ہنوز اس کی آنکھوں پر تھے
“تم کہو تو میں چور بھی بن جاؤں گا میری جان… ” حیان نے اس کی دونوں آنکھوں کو نرمی سے چوما تھا, زاہا بس مسکراتی چلی گئی
“تمہاری سٹیپ مام کہاں ہیں ؟؟” اس نے پوچھا
“گھر چلی گئی ہیں… ” زاہا نے کہا
“زاہا… مجھے بہت فکر رہتی ہے تمہاری, کہیں تمہاری سٹیپ مام انا کی طرح تمہارے ساتھ بھی کچھ الٹا سیدھا نا کر دیں” حیان نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا
“تم فکر مت کرو… میں ٹھیک ہوں” زاہا نے مسکراتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی تھیں
“جیسے ہی انا واپس آئیں گی میں تمہاری رخصتی کروا لوں گا” وہ بہت محبت سے اس کی بند آنکھوں کو گیلا کرتا جا رہا تھا
……………………….
ریلیکسینٹ کی چار گولیاں بھی اسے پر سکون کرنے کے لئے ناکافی تھیں… ہر پل اسے موت اپنی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی تھی, ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا
ہر آہٹ کے ساتھ ہی اس کا کلیجہ منہ کو آ جاتا… وقت گزرتا جا رہا تھا
وہ اوپر اپنے کمرے میں تھی… کسی پل سکون نہیں تھا
دفعتا اسے باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا
وہ جلدی سے کھڑکی کی طرف آئی, وہ یزدان کی گاڑی تھی
آئرہ کا رنگ پیلا پڑ گیا… وہ آ گیا تھا
“آئرہ کیف خان….. ” وہ اسے پکار رہا تھا, آئرہ سے بولا بھی نا گیا, وہ سیڑھیاں چڑھتا ہو اوپر آ گیا
“یزدان… دفع ہو جاؤ یہاں سے ” چیخ چیخ کر اس کا گلا بیٹھ گیا تھا
“کیوں ضد کر رہی ہو… ؟؟؟؟ آئرہ میں محبت کرتا ہوں تم سے ؟؟؟؟” وہ دو قدم اس کی طرف بڑھا
“دور ہٹو… مجھے تم سے شادی نہیں کرنی” وہ چیخی لیکن آواز حلق میں ہی پھنس گئی
“تو ٹھیک ہے… میں نے کہا تھا نا کہ میں تب بھی آ جاؤں گا” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا
ساتھ ہی باہر پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دینے لگا
“میں نے کچھ نہیں کیا یزدان… ” وہ روئی تھی
“تم بے مجھے برباد کر دیا آئرہ… تم نے مجھے میرے بھائی کی نظروں میں گرا دیا, تمہاری وجہ سے وہ مجھے معاف کیے بنا ہی اس دنیا سے چلے گئے, تم نے میری محبت کو میرا جرم بنا دیا…”وہ کہتا چلا گیا, باہر دوڑتے قدموں کی آواز آئی تھی
“یزدان… پلیز… مجھے معاف کر دو, پلیز مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف کر دو” وہ دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ کر ہذیانی سے انداز میں کہتی چلی گئی
“موت کو سامنے دیکھ کر کی گئی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی آئرہ کیف خان…. ” یزدان نے سفاکی سے کہا تھا
“نہیں…. پلیز, مجھے جیل نہیں جانا… یزدان” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی
“اب سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر سوچنا کہ تم نے کس کس کا کیا کیا بگاڑا ہے…؟؟؟؟” وہ سرد سے انداز میں بولا تھا
……………………….
وہ دونوں گھٹنوں میں سر دیئے نیچے فرش پر دیوار سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی… اسے دو گھنٹے ہو گئے تھے سلاخون کے پیچھے
ابھی دس منٹ پہلے ہی یزدان نے اس کی ضمانت کروا دی تھی اور زارون کو کال کی تھی
“زارون… اسے گھر لے جاؤ” وہ بولا
“انکل… وہ میری مام ہیں” زارون کے لحجے میں ہلکا سا گلہ گھل گیا
“اس کے حسد کی آگ کو بجھانا ضروری تھا زارون… ورنہ وہ سب کچھ جلاکر راکھ کر دیتی ” یزدان نے کہا, لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس نے آئرہ کے وجود میں جلتی اس حسد کی آگے کو بجھایا نہیں تھا… بلکہ سے مزید ہوا دے دی تھی
“اس کے پاس ہی رہنا زارون… ” وہ کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
آہٹ کی آواز پر اس نے سر اٹھایا, کوٹھری کا دروازہ کھلا تھا, کوٹھری کے باہر اسے زارون کھڑا نظر آیا
“مام… چلیں ” وہ اسے اٹھاتے ہوئے بولا اور اپنے ساتھ لگاتے ہوئے باہر لے آیا, آئرہ بالکل خاموش تھی, سارا راستہ وہ خاموش ہی رہی
زارون اسے گھر لے آیا اور اس کے کمرے میں لا کر بستر پر لٹا دیا
“مام یہ کھائیں… اور تھوڑی دیر کے لئے سو جائیں ” اس نے دو گولیاں اس کی طرف بڑھا دیں, پانی کے دو گھونٹ پی کر وہ دوبارہ لیٹ گئی تھی, زارون نے اس پر کمبل دے دیا اور خود اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“مام…. پلیز کچھ مت سوچیں, جو ہونا تھا وہ ہو گیا” وہ اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا تھا
“زارون… میرا دل کیا دل نہیں تھا ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولی تھی, دو آنسو ٹوٹ کر گالوں پر بہہ گئے
“میری محبت کیا محبت نہیں تھی ؟؟” وہ رو رہی تھی
“مام… پلیز” زارون تڑپ گیا
“مجھے سب نے اکیلا کر دیا زارون… تو نے بھی…” وہ بولی
“مام میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں” وہ اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوۓ بولا تھا
“نہیں… تو میرا نہیں رہا, تجھے بھی چھین لیا اس نے مجھ سے… ” وہ روتی جا رہی تھی
“مجھے وہ ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا زارون… تو کیا کوئی مجھے اچھا نہیں لگ سکتا ؟؟؟؟ میں نے ہمیشہ اس سے محبت کی تو کیا میری محبت… محبت نہیں تھی… ؟؟؟ اور اس نے ہر بار مجھے ٹھکرا دیا…. کیا فرق تھا مجھ میں اور مائرہ میں ؟؟؟ ہم دونوں ایک ہی باپ کا خون تھیں… پھر بھی اس نے مائرہ کو چنا… کیوں ؟؟ مجھے کیوں نہیں چنا… میں بھی تو محبت کرتی تھی اس سے ؟؟؟” وہ بکھرتی جا رہی تھی, زارون نے اسے مضبوطی سے اپنے ساتھ لگا لیا
“ہر محبت کرنے والا جسٹیفائیڈ ہے تو میں کیوں نہیں ؟؟؟؟ کیا تھا اگر حمدان مجھے چن لیتا ….؟؟؟ پہلی بار نا سہی…. دوسری بار ہی چن لیتا…. ” وہ بولی
“مام… کوئی ہماری محبت کا مقروض نہیں ہوتا, اگر ہم کسی سے دل لگاتے ہیں تو اپنی مرضی سے… دوسرے کے دل پر وہ مرضی نہیں چلتی ” زارون نے کہا
“ساری عمر میں نے اس شخص کی تمنا کی ہے زارون..
اور اس نے کبھی میری طرف دیکھا بھی نہیں… اس نے خود سے پندرہ سال چھوٹی لڑکی کو میرے مقابلے میں چن لیا… میں کیسے بھول جاؤں اپنی پامالی… ؟؟؟؟ کیسے ؟؟؟ میں کیسے نا اس سے نفرت کروں ؟؟؟” وہ روۓ جا رہی تھی
“مام حمدان سیف خان صرف اکیس سال کی عمر میں انعمتا کو چھوڑ کر چلے گئے تھے… بارہ سالوں سے وہ بھی تو تنہا ہیں… کیا تنہائی کے یہ بارہ سال کسی سزا سے کم تھے جو آپ ایک بار پھر ان سے بدلہ لینے چل پڑیں…. بس مام… انسان کو کہاں اختیار ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سزا دے… ” زارون نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
“ذرا سوچیں… اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو اس دس سال کے بچے کا کیا بنتا ؟؟؟” وہ بولا
“ان سب نے مل کر مجھے برباد کر دیا زارون… مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا” وہ ڈھے سی گئی
“نہیں مام… کچھ بھی نہیں ہوا, کسی نے کچھ نہیں کیا, بس جو جس کا تھا اسے مل گیا…. بس کریں” وہ اسے خود سے لگاۓ کہتا چلا گیا
“تجھے پتہ تھا نا وہ کہاں ہے ؟؟؟ پھر بھی تو نے مجھے جیل بھیج دیا” وہ بے انتہا دکھی تھی
“مام… وہ ٹھیک ہیں… بس بھول جائیں سب کچھ” زارون کو اس پر ٹوٹ کے ترس آیا تھا
“کچھ مت سوچیں… مام اب پلیز اور کچھ مت کرنا ” زارون کہتا چلا گیا
………………………….
یکدم ہی اس کی آنکھ کھلی تھی, گردن گھما کر دیکھا تو زارون اس کے پاس نہیں تھا… وہ اسے سلا کر کمرے سے چلا گیا تھا
اس نے گھڑی کی طرف دیکھا…. وہ شام کے چار بجا رہی تھی
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی… پچھلا سار منظر یکلخت ہی آنکھوں میں جاگ اٹھا
وہ سارا غصہ جو پہلے آنسؤؤں میں ڈھلا تھا اب شرمندگی میں بدلنے لگا…. احساس تحقیر ہونے لگا
کسی کا کیا بگڑا ؟؟؟
جو بگڑا…. اس کا بگڑا
حنین اسے سیڑھی بنا کر ٹاپ فائیو میں شامل ہو گیا
زاہا اسے بلیک میل کر کے ہاشمی ٹریڈرز کی چییر پرسن بن گئی
حیان نے حمدان انٹرپرائزرز کو ایک بار پھر ڈوبنے سے بچا لیا… اسے زاہا بھی مل گئی
یزدان نے اسے جیل تک پہنچا کر اپنا بدلہ لے لیا…
آج کیا تھا اس کے پاس ؟؟؟ کچھ بھی نہیں
سب کچھ چھن گیا تھا
کس کی وجہ سے ؟؟؟
ایک بار پھر انعمتا کا چہرہ اس کی نظروں میں گھوم گیا
انعمتا حمدان خان… جس نفرت کرنا اس کا حق تھا
وہ درست تھی…. جب سب کی محبت جسٹیفائیڈ تھی تو اس کی کیوں نہیں ؟؟؟
کیا اس کی محبت… محبت نہیں تھی ؟؟؟
یکدم ہی اس کے آنسو بہنے لگے
زارون جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے ؟؟؟ اس نے کہا کہ وہ ٹھیک ہے… تو پھر وہ کہاں ہو گی ؟؟؟”
وہ ایک بار پھر سوچنے لگی تھی
دل مسلسل جیسے کسی کھائی میں گرتا جا رہا تھا
“یزدان…. ” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
یکلخت ہی اس کی آنکھوں میں خون اترتا چلا گیا, وہ کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتر گئی, زارون نہ جانے کہاں تھا
خود ہی گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہ باہر نکل آئی, گاڑی ک رخ یزدان کے گھر کی طرف تھا
بیرونی دروازہ اسے کھلا ہی مل گیا.. وہ خاموشی سے اندر آ گئی
یزدان کی گاڑی اندر نہیں تھی… وہ ٹی وی لاؤنج میں چلی آئی, وہاں سنان صوفے پر لیٹا کارٹون دیکھ رہا تھا
“تمہاری ماں کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کچن میں… ” سنان کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر خوف اتر آیا, آئرہ سیدھی کچن میں چلی گئی, اپنے پیچھے اس کے قدموں کی چاپ سن کر انعمتا پلٹی تھی
آئرہ نے کچھ بھی کہے بنا اس کا بازو پکڑا اور باہر لے آئی
“آئرہ… چھوڑو مجھے” وہ مزاحمت ہی کرتی رہ گئی
“ماما… ماما… دادی وہ ماما کو لے گئیں… ” سنان فریحہ کے کمرے کی طرف بھاگا تھا
اتنی دیر میں آئرہ نے اسے اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر دھکا دیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھی
جب تک فریحہ باہر آئیں.. وہ گاڑی نکال لے جا چکی تھی
“سنان… اپنے چاچو کو کال کرو, جلدی کرو” فریحہ نے کہا تھا
“چاچو… وہ آنٹی ماما کو لے گئی ہیں… ” سنان رو رہا تھا
“کیا مطلب… ؟؟؟”
“یزدان… آئرہ انعمتا کو لے گئی ہے… گاڑی میں ڈال کر.. زبردستی ” فریحہ کی آواز نے اس کے حواس گم. کئے تھے
“کہاں ؟؟؟” وہ بولا
“پتہ نہیں…. ” فریحہ کے اوسان خطا ہو رہے تھے
……………………..
“اب کہاں لیکر جا رہی ہو مجھے ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا, وہ جواباً چپ رہی, انعمتا نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح دروازہ کھل جاۓ لیکن بے سود
گاڑی کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی
“آئرہ… تم کیا کرنے لگی ہو ؟؟” وہ ایک دمچیخی تھی
“تمہیں تمہارے پیارے شوہر کے پاس بھیجنے لگی ہوں” وہ اسے فارم ہاؤس پر ہی لے آئی تھی, انتہائی جارحیت سے اس نے انعمتا کے دوپٹے سے ہی اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کو باندھ دیئے تھے, انعمتا نے خوب ہی مزاحمت کی لیکن آئرہ کے دو, تین تھپڑوں نے ہی اس کے چودہ طبق روشن کر دیئے تھے
“آئرہ…. اتنا سب کچھ کر کے بھی تمہیں چین نہیں آیا… بس کرو, خدا کے لئے ” وہ اس کے ساتھ گھسٹتی ہوئی اندر آئی تھی
آئرہ اسے اندر لے آئی تھی اور وہیں فرش پر پھینک دیا, پھر اس کی دونوں ٹانگیں بھی باندھ دیں
“تمہاری موت کے جرم میں میں آرام سے پھانسی چڑھ جاؤں گی انعمتا… ” وہ گیراج سے پیٹرول کی کین اٹھا لائی تھی اور سارا پیٹرول اس کے آس پاس گرانے لگی
“تمہاری وجہ سے میں برباد ہو گئی ہوں انعمتا… تمہیں مار کے مجھے پھانسی بھی چڑھنا پڑا تو میں چڑھ جاؤں گی” وہ جنونی سے انداز میں بولی تھی
“آئرہ… حمدان کو اس دنیا سے گئے بارہ سال ہو چکے ہیں… خدا کا واسطہ اب تو بس کر دو” انعمتا کے آنسو نکل آۓ تھے
بڑے سے رقبے پر پھیلا وہ فارم ہاؤس چاروں طرف سے درختوں اور جھاڑیوں سے چھپا ہوا تھا, اور بالکل وسط میں لکڑی سے بنی دو منزلہ خوبصورت سی عمارت تھی, آئرہ مسلسل پیٹرول ڈالتے ہوئے بیرونی دروازے تک آئی تھی
“کر دیا… آج کے بعد بس کر دیا” اس نے کین ایک طرف پھینک کر ماچس اٹھائی تھی
“آئرہ… پلیز… میرا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے” وہ رو پڑی تھی
“Good bye Anamta… “
اس نے تیلی جلائی تھی
انعمتا نے آنکھیں بند کر لیں
آئرہ نے جلتی ہوئی تیلی فرش پر پھینک دی
ایک سے آگ کے شعلے بلند ہوۓ تھے
اپنے موبائل میں اس منظر کی تصویر کھینچتے ہوۓ وہ باہر نکل آئی
“Your love is on fire…and will be burnt soon… “
اس نے حنین کو تصویر سینڈ کی تھی
………………………….
اس کی گاڑی کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی, پاؤں مسلسل ایکسیلیٹر دبا رہا تھا… وہ اپنے پورے جسم کے رونگھٹے کھڑے ہوئے محسوس کر سکتا تھا, دل کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی وقت سینے کو چیر کر باہر آ جاتا… گاڑی کی رفتار طوفانی ہوتی جا رہی تھی
“انعمتا…. ” فارم ہاؤس سے نکلتے شعلے اسے کچھ فاصلے سے نظر آ گئے تھے, آس پاس آبادی کم ہونے کی وجہ سے ابھی تک کسی نے آگ کی لپٹوں اور دھوئیں کو محسوس نہیں کیا تھا
گاڑی بند کرتے ہوئے وہ تیر کی طرح باہر نکلا اور دیوانہ وار اندر کی طرف بھاگا… نچلے حصے میں آگے پھیلتی جا رہی تھی, خشک لکڑی بھڑ بھڑ کر کے جلتی جا رہی تھی
“انعمتا…. ” اس نے زور سے آواز دی تھی, اندر دھواں بھرتا جا رہا تھا
“حنین… ” انعمتا کی مہین سی آواز پر اس نے کھڑکی کا شیشہ توڑنا چاہا لیکن بے سود…
“انعمتا کہاں ہو ؟؟؟” اس نے چیخ کر پوچھا تھا
“حنین… میں نیچے, سیڑھیوں کے پاس” وہ مسلسل کھانس رہی تھی
“انعمتا میں یہیں ہوں… سب ٹھیک ہو جاۓ گا” وہ واپس گاڑی کی طرف آیا, اور اسے سٹارٹ کر کے زور سے ایکسیلیٹر دباتے ہوۓ سیدھا اندر گھستا چلا گیا, آگ اور دھوئیں کے باعث کچھ بھی نظر آنا ناممکن تھا
“انعمتا… ” اسے پکارتا ہوا وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا, وہ اسے سیڑھیوں کے پاس گری ہوئی نظر آ گئی, آگ سے بچنے کی خاطر وہ سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی
حنین بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا اور جلدی سے اس کے دونوں پاؤں آزاد کئے, پھر اس کے ہاتھ کھولے, انعمتا کی حالت انتہائی نازک تھی, پسینے سے شرابور چہرہ اور مشکل سے آتا ہوا سانس…
“چلو… جلدی کرو” وہ اسے سہارا دے کر گاڑی کی طرف بڑھا لیکن عین اسی لمحے پچھلی دیوار کی جلتی ہوئی لکڑیاں دھڑ دھڑ کرتیں اس کی گاڑی پر گرتی چلی گئیں, انعمتا کی چیخ نکل گئی تھی, آگ کی لپٹیں چھت تک پہنچ رہی تھیں
“اوپر چلو… جلدی کرو” وہ اسے ساتھ لیے سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا, نچلا پورشن تقریباً سارا ہی آگ کی نذر ہو گیا تھا, باہر سے لوگوں کی آوازیں آنے لگی تھیں, دفعتاً حنین کو اپنا سیل بجتا سنائی دیا… وہ گاڑی میں ہی رہ گیا تھا
“حنین…. ” اوپر والے سارے پورشن میں دھواں بھرا ہوا تھا
یکدم ہی نیچے سے دھماکے کی آواز آئی, کچن کا گیس پائپ پھٹا تھا اور دھماکہ ہوا تھا, اوپری فرش ایک دم پھٹتا چلا گیا, انعمتا نے زور سے حنین کی شرٹ کو جکڑ لیا تھا
نیچے جانا موت کے مترادف تھا, آگ سیڑھیاں جلا چکی تھی, واحد راستہ ٹیرس کا راستہ تھا, کچن کے دھماکے سے آگ اوپر تک پھیل گئی تھی
“انعمتا… اس طرف آؤ” وہ اسے لیکر ٹیرس کی طرف آیا
“ہم یہاں سے کود سکتے…. ” اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی, فارم ہاؤس کی خشک گھاس نے آگ پکڑ لی تھی, چھوٹی جھاڑیاں پھونس کی طرح جلنے لگی تھیں… پیچھے مڑا تو آگ ہی آگ
وہ اسے کھینچتا ہوا واش روم میں لے آیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے شاور آن کر دیا, اور دونوں ٹیپس بھی کھول دیں, انعمتا کھانستی ہوئی وہیں دیوار کے ساتھ گر گئی تھی
“حنین…. اب کیا ہو گا ؟؟؟” اسے موت سامنے نظر آ رہی تھی
“یزدان کو پتہ چل گیا ہو گا…. خدا کرے کوئی تو آ جاۓ گا… تم ٹھیک ہو…؟؟؟ ” حنین اس کے پاس بیٹھ گیا, انعمتا نے اثبات میں سر ہلا دیا
“لوگ اکٹھے ہوئے ہیں باہر… فائر بریگیڈ کو کال کر دی ہو گی کسی نے” حنین نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا
“اگر کوئی بھی نا آیا حنین…. ” انعمتا نے اس کی طرف دیکھا
“تو میں پھر بھی تمہارے ساتھ ہوں… ” حنین نے اس کا گیلا شرابور وجود اپنے بازوؤں کے حلے میں لے لیا تھا
“تم کیوں آۓ… ؟؟؟؟ تمہاری ایک بیٹی ہے” وہ آنسوؤں سے بولی تھی
“انعمتا… اگر میں جل رہا ہوتا تو تم نا آتیں ؟؟؟” حنین نے پوچھا, انعمتا بس اسے دیکھتی رہ گئی تھی, آنسو ٹوٹ کر گرے تھے
“حنین…. ایم سوری” وہ روتے ہوئے بولی تھی, آگ واش روم کے دروازے تک پہنچ گئی تھی, دھواں اندر آنے لگا, دفعتاً دروازہ جلنے لگا تھا
حنین نے اسے مضبوطی سے اپنے ساتھ لگایا اور شاور کے گرتے ہوئے پانی کے عین نیچے ہو گیا
“ایم سوری… میں نے اس رات تمہیں کال نہیں کی…” وہ اپنے دونوں بازو مضبوطی سے حنین کی گردن میں ڈال گئی تھی
“اس ایک کال کی قیمت ادا کرنے میں پندرہ سال لگ گئے انعمتا… ” وہ اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولا تھا
باہر سے فائر بریگیڈ کے سائرن کی آواز آنے لگی تھی, دروازہ یکلخت جل کر گر گیا, آگ کی لپٹیں اندر آنے کے لئے تیار تھیں
“آئی لو یو میری جان…. ” وہ دروازے کی طرف پشت کرتے ہوئے اس کے وجود پر ڈھال بن گیا تھا
واش روم کی چھت تڑخ کر دو ٹکڑے ہوئی تھی اور جلتی ہوئی لکڑیاں نیچے کو آ گری تھیں
