Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 01)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

کلاس ختم ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالا اور باہر نکل آیا, خود سے دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھے معیز کو وہ بالکل نظر انداز کر چکا تھا

“حیان…. ” معیز نے افراتفری میں اپنے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے اسے آواز دی لیکن وہ سنی ان سنی کرتا ہوا دروازے سے باہر نکلتا چلا گیا

“حیان… یار بات تو سن… ” وہ اس کے پیچھے آتے ہوۓ بولا

“سالے دوبارہ میرا نام لیا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں… اور خبردار… جو مجھے اب یار کہا تو… ” حیان نے پلٹ کر کہا اور دوبارہ کاریڈور میں چلنے لگا

“یہ تو بتا دے کہ ہوا کیا ہے.. ؟” معیز نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تھا

“تجھے نہیں پتہ… ؟” حیان نے پوچھا

“نہیں… ” معیز نے نفی میں سر ہلا دیا

“چل پھر دفع ہو یہاں سے… ” حیان نے اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ کہا جسے معیز نے اور مضبوطی سے پکڑ لیا تھا

“اچھا… میری بات تو سن… ” معیز کے کہتے ہی وہ بھڑک گیا

“کیا بات سنوں تیری… ؟ پچھلے دو ہفتوں سے تو دبئی میں تھا… باکسنگ ٹورنامنٹ کھیلنے کے لئے… اور تو وہاں سے چیمپئن شپ جیت کر آیا ہے اور یہ بات مجھے کسی تیسرے بندے سے پتہ چل رہی ہے” حیان کی آواز اونچی ہو گئی

“تجھے کس نے بتایا ؟” معیز ایک دم اس کے قریب آ گیا

“سالے تو نے تو نہیں بتایا نا… ” حیان نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا تھا

“حیان یار قسم لے لے میں نے تو اپنے ڈیڈ کو بھی نہیں بتایا…” معیز نے کہا

“اچھا… تو تو مجھے صرف وہ باتیں بتاتا ہے جو تو اپنے ڈیڈ کو بتاتا ہے… یعنی دوسرے لفظوں میں میں تیرا ڈیڈ ہوں” حیان تڑخا, معیز کو یکدم ہی ہنسی چھوٹ گئی

“خدا تیرے بچوں کو اتنے ینگ اور ہینڈسم ڈیڈ سے نوازے… آمین, چل بس کر دے اب ” معیز نے اسے آگے کو دھکا دیا تھا, حیان بس اسے گھورے جا رہا تھا

“تو مجھے ابھی اور اسی وقت فورٹریس میں ٹریٹ دے گا جھوٹے انسان… ” حیان نے اس کے سینے پر مکا مارا تھا

“چل آ… ” معیز بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے بولا تھا, حیان نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے گاڑی کی چابی نکالی اور اس کی طرف اچھال دی, معیز نے ہنستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تھی

“ایک بات کہوں تجھے ؟؟؟” حیان فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بولا

“ہاں بول… ” وہ بولا

“تجھے نہیں لگتا تو کچھ زیادہ ہی اپنے خول میں بند رہتا ہے” حیان نے کہا, معیز دھیرے سے مسکرایا

“یقین کر… اس کا بڑا فائدہ ہے ” وہ بولا

“اس کا بڑا نقصان بھی ہوتا ہے معیز ضامن میر… ” حیان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا, وہ بس کندھے اچکا کر رہ گیا

وہ دونوں پنجاب یونیورسٹی میں بی بی اے آنرز کےسٹوڈنٹس تھے اور بیکن ہاؤس سے ایک ساتھ تھے

………………………

چھٹی کی بیل ہوتے ہی وہ دونوں بلڈنگ سے باہر نکل آئیں, مین گیٹ پر انت کا رش تھا, بڑی مشکلوں سے دانین کو اپنی گاڑی نظر آئی

“دانی… شام کو آۓ گی نا… ؟” سنایا نے پوچھا

“ہاں… شام چھ بجے” وہ اسے کہہ کر باہر نکل آئی, وہ اور سنایا دونوں کنیئرڈ کالج سے بی ایس کر رہی تھیں

جون, جولائی کے تپتے ہوئے دن تھے, اے سی والی گاڑی ہونے کے باوجود وہ گھر پہنچی تو گرمی سے برا حال تھا

“ہیلو آپی … ” لاؤنج میں بیٹھی خود سے تین سال بڑی رعنین کو ہاتھ ہلا کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی

“کھانا لگوا دوں ؟” رعنین نے آواز دے کر پوچھا

“حیان بھائی آ گئے ؟”

“نہیں وہ آفس چلا گیا ہے” رعنین نے کہا

“اور سنان… ؟؟؟”

“وہ آنیوالا ہے…. “

“لگوا دیں پھر… ” وہ کہہ کر اپنے کمرے میں گھس گئی, لنچ پر صرف سنان اور وہ دونوں بہنیں ہی تھیں

“آپی… میں نے شام میں سنایا کی طرف جانا ہے ” وہ کھانا کھاتے ہوئے بولی

“کیوں ؟” اس نے پوچھا

“کل ایک ٹیسٹ ہے…. اس کی تیاری کرنی ہے” وہ اس سے آنکھیں چراتے ہوئے بولی تھی

“یہ تم اور سنایا آجکل کچھ زیادہ ہی کمبائن سٹڈی نہیں کرنے لگ گئیں؟” رعنین نے پوچھا

“اچھا ہے نا… دونوں کا فائدہ ہو جاتا ہے” دانین نے کہا, رعنین بس اسے دیکھ کر رہ گئی تھی

شام پورے چھ بجے وہ سنایا کے گھر پر تھی, مین گیٹ سے اس کے کمرے تک جاتے ہوئے دانین کی نظریں مسلسل کسی کو کھوج رہی تھیں, بیگ کندھوں پر لٹکاۓ وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی, سنایا سوئی پڑی تھی

“پوستی… مجھے بلا کر خود ابھی تک سوئی پڑی ہے” اس نے پورا بیگ سنایا پر دے مارا, وہ بیچاری بلبلا کر رہ گئی

“بڑا سناٹا ہے تمہارے گھر… ؟” وہ کھڑکیوں پر سے پردے ہٹاتے ہوئے بولی

“چاچو آفس گئے ہوۓ ہیں, معیز بھائی شاید جم گئے ہوں گے, عنایہ شاید سو رہی ہو گی… ” سنایا جمائی لیتے ہوئے بولی

“تجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ کنفرم بھی ہے شاید کی بچی…اٹھ کے منہ دھو کے آ” دانین نے اسے بستر سے نیچے کھینچا

پورے ڈیڑھ گھنٹے ان دونوں نے ٹیسٹ کی تیاری کی تھی, اس دوران سنایا نے اسے پیزا بھی منگوا کر کھلایا, شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے جب وہ واپسی کے لیے نیچے اتری, سنایا اس کے ساتھ ہی تھی

وہ مین گیٹ سے ذرا دور روش پر تھی جب اس نے معیز کی بائیک گیٹ سے اندر آتے دیکھی

یکلخت ہی دل جیسے اچھل کر حلق میں آ گیا تھا, نا محسوس سے انداز سے اس کے قدموں کی روانی میں سستی سی آ گئی, نظریں جیسے اس کے چہرے پر گڑ سی گئی تھیں, معیز کی بائیک عین اس کے سامنے آ رکی

“واہ بھئی… آج تو بڑے بڑے لوگ آۓ ہیں” وہ بائیک سے اترتے ہوئے بولا تھا

“لیکن افسوس کہ آپ بڑے بڑے لوگوں کے سواگت کے لئے موجود ہی نہیں تھے” وہ بس اس کا چہرہ تکے جا رہی تھی, معیز ہنستا چلا گیا

“دراصل بڑے لوگوں کے آنے کی ٹائمنگ ہی غلط ہے… وہ تب آتے ہیں جب میں گھر پر نہیں ہوتا” معیز نے کہا

“اور اگر آپ گھر پر ہوتے تو کیا کرتے…؟” دانین نے اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو بمشکل سنبھالا تھا

“بڑے لوگوں کا سواگت… ” وہ بولا

“کیسے… ؟” اس نے پوچھا, معیز سے کوئی جواب نہ بن پڑا, وہ بس مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہ گیا

وہ لائیٹ گرین کلر کی لانگ سی شرٹ کے ساتھ جینز پہنے ہوۓ تھی, پیروں میں امپورٹڈ کینوس شوز اور بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل… ہمیشہ کی طرح صاف شفاف چہرہ اور نیلی نیلی آنکھیں

“دیکھا معیز ضامن میر… آپ کو تو پتہ ہی نہیں کہ بڑے لوگوں کا سواگت کیسے کرتے ہیں…؟” دھیرے سے مسکراتے ہوئے وہ اس کے پاس سے گزر گئی تھی, معیز بس سر جھٹک کر رہ گیا

………………………..

وہ اور حیان اکٹھے ہی آفس سے گھر آۓ تھے, ٹی وی لاؤنج میں ایک غل غپاڑہ مچا ہوا تھا, دانین ریفری بنی ہوئی تھی اور رعنین اور سنان کا فل ٹائم ڈانس کمپیٹیشن جاری تھا, ٹی وی فل والیوم میں آن تھا

ان دونوں کو اندر آتا دیکھ کر دانین کے شور کو فل سٹاپ لگا تھا

“نہیں نہیں… رک کیوں گئے, ناچو… ناچو” حیان کا پارہ ایک دم سو پر پہنچا تھا, دانین نے جلدی سے والیوم کم کر دیا

“تم دونوں بچے ہو کیا…؟ تمہاری غیر انسانی آوازیں گیٹ سے باہر تک جا رہی ہیں ” وہ یکدم پھٹ پڑا

“جاؤ فریش ہو لو… ” اس نے بازو سے پکڑ کر حیان کو اوپر کی طرف دھکیلا

“کیا ہوا اسے… ؟” رعنین نے پوچھا

“کچھ نہیں بس تھک گیا ہے, ایک پراجیکٹ فائنل کرنا تھا سو میں نے کہہ دیا کہ یونیورسٹی سے واپسی پر آفس آ جانا… وہاں دیر ہو گئی اور موصوف تپتے چلے گئے” اس نے اپنا بیگ صوفے پر اچھالتے ہوۓ جوتے اتارے تھے

“انا… کھانا لگواؤں ؟”دانین نے پوچھا

“ہاں… میں چینج کر آؤں ” وہ خود بھی تھک گئی تھی

“ماما… حیان بھائی غصہ ہو گئے ہیں” سنان اس کے ساتھ ہی اوپر چلا آیا

“کھانا کھا کر ٹھیک ہو جاۓ گا” وہ اسے خود سے لگاۓ اوپر آ گئی

“آج سکول کا دن کیسا گزرا ؟” اس نے پوچھا

“ماما میرے تینوں ٹیسٹ پیپرز میں اے گریڈ ہے… ” وہ جھٹ سے اپنا بیگ اٹھا لایا, اس نے ایک ایک کر کے اس کے سارے ٹیسٹ دیکھے تھے, پھر اس کا سر تھپتھپاتے ہوۓ واش روم میں گھس گئی

فریش ہو کر نیچے آئی تو حیان بھی آ گیا تھا, وہ ایک نظر اس کا تھکا ہوا چہرہ دیکھ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی

رعنین اور دانین اسے مسلسل سارے دن کی روداد سنا رہی تھیں, اس نے دھیرے سے سنان کو اشارہ کیا تھا, وہ دونوں بھی اسے دیکھنے لگیں

“حیان بھائی… ” سنان نے دھیرے سے اسے پکارا, وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا

“سوری…” اس لمحے دنیا جہان کی معصومیت سنان کے چہرے پر طاری ہو گئی تھی, وہ کچھ دیر اسے گھورتا رہا پھر بیساختہ ہی مسکرا دیا

“شوہدے… مجھے تو آج پتہ چلا کہ تو میری پیٹھ پیچھے کیسے ناچ گانا کرتا ہے… میراثی نہ ہو تو” حیان نے ہنستے ہوئے اسے گھرکا تھا

“اور آپ… خبردار جو آئیندہ مجھ سے اس قسم کی بیکار مشقت کروائی تو” اس کا رخ انعمتا کی طرف ہو گیا

“بیکار مشقت… ؟؟؟ ہم نے پراجیکٹ سیل کر دیا” وہ بولی

“لیکن اس میں آٹھ گھنٹے لگے… آٹھ گھنٹے ” وہ تڑخا

“آٹھ گھنٹے کچھ بھی نہیں ہوتے حیان… دو سال بعد تم صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے تک روزانہ اسی آفس میں گزارا کرو گے” انعمتا نے کہا

“وہ کس خوشی میں ؟” حیان آنکھیں پھیل گئیں

“حمدان انٹرپرائزرز کے چیئر پرسن بننے کی خوشی میں… ” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی

“انا… میرا اگلے کئی سالوں تک حمدان انٹرپرائزرز کا چئر پرسن بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے” وہ بولا

“اس کا فیصلہ تم نہیں… میں کروں گی” انعمتا نے کندھے اچکاۓ تھے

“میں سائن ہی نہیں کروں گا” وہ زور سے بولا

“You know I have the power of attorney…

اور مجھے کوئی بھی کام کرنے کے کے لئے کسی کے بھی دستخط ضروری نہیں ہیں” انعمتا اس کا لال چہرہ دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی

“میں گھر سے بھاگ جاؤں گا… ” وہ اور زور سے بولا, چمچ پلیٹ میں پٹخ دیا تھا

“You know I am the current chair person of Hamdan Enterprises… The second largest private limited of the city…

میں تمہیں چند گھنٹوں میں ڈھونڈ لوں گی حیان حمدان خان… ” انعمتا کے چہرے پر بلا کا سکون تھا, حیان لال بھبھوکا چہرہ لئے اسے گھورتا چلا گیا

“اینڈ یو نو… آئی ہیٹ یو” وہ غصے سے بولا

“تھینک یو مائی بواۓ… ” انعمتا مسکراتی چلی گئی تھی

حیان, رعنین اور دانین تینوں سگے بہن بھائی تھے, رعنین سب سے بڑی تھی, حیان اس سے چھوٹا, اور دانین سب سے چھوٹی…

دانین ابھی صرف ڈیڑھ سال کی تھی جب مائرہ دنیا سے گزر گئیں, حمدان بھلا اتنے چھوٹے چھوٹے تین بچوں کو اکیلا کیسے پالتا… ؟؟؟ دانین تو بہت ہی ضد کرتی تھی, حیان بھی ہمہ وقت اس کے ساتھ چپکا رہتا تھا, حمدان کی والدہ بھی کافی عمر رسیدہ ہو چکی تھیں, بہت مجبور ہو کر اس نے انعمتا سے دوسری شادی کر لی تھی

……………………….

وہ اپنے آفس میں تھا جب یزدان اندر داخل ہوا, اس کے چہرے سے پریشانی صاف ظاہر تھی

“حنین یہ کیا ہے یار… ؟” اس نے ایک فائل میز پر رکھ دی

“پارٹنرشپ… ” اس نے فائل دیکھتے ہوئے کہا

“کس کے ساتھ…؟” یزدان نے پوچھا

“فائل میں لکھا تو ہے… ” وہ بولا

“لیکن فائل میں یہ نہیں لکھا کہ ہاشمی ٹریڈرز نے پچھلے دس سالوں میں کوئی ایک بھی پارٹنرشپ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچائی… پچھلے دس سالوں میں ان سے پارٹنر شپ کرنیوالوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا, اور اس میں یہ بھی نہیں لکھا کہ ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن شرطوں کے بنا کوئی پارٹنر شپ نہیں کرتی” وہ کہتا چلا گیا

“مجھے یہ سب پتہ ہے یزدان… ” وہ بولا

“پھر کنویں میں چھلانگ لگانے کا مطلب… ؟” یزدان نے پوچھا

“دیکھ یزدان… بیشک ہاشمی والوں کا پاسٹ ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے لیکن… وہ شہر کی چند ٹاپ کمپنیز میں سے ایک ہے, ہم نے کئی سالوں سے کسی بڑی کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ نہیں کی ہے, پچھلے کئی سالوں سے ہم بس ایک لیمیٹیڈ سے ایریا میں سفر کر رہے ہیں, وہی چند پرسنٹ کا نفع اور بس… کیا یونہی چلتا رہے گا… ؟ کب تک ہم بس چھوٹے موٹے کیفے ٹیریا اور سٹریٹ فوڈ کارنرز کو فنانس کرتے رہیں گے” حنین کہتا چلا گیا

“کیونکہ ہمارا تجربہ فنانسنگ کا ہے حنین… ہم مائکرو فنانس پرائیوٹ لمیٹڈ ہیں… ہمارا کام ہی یہ ہے کہ ہم چھوٹے بزنس کو سپورٹ کریں اور بدلے میں اپنا نفع کمائیں, پارٹنر شپ کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں پتہ… اور پارٹنر شپ بھی کس سے… ؟؟؟ آئرہ کیف خان سے… پورے بزنس سرکل میں وہ خاتون اپنی جعل سازیوں کی وجہ سے بدنام ہے” یزدان کہتا چلا گیا

“تو پھر کیا کریں ؟؟؟؟ اسی چند فیصد نفع پر پڑے رہیں ؟؟” حنین نے کہا

“تو مجھ سے شرط لگا لے… ہاشمی والوں سے پارٹنرشپ کر کے تجھے یہ چند فیصد کا نفع بھی نہیں ملنے والا میرے دوست… ” یزادن نے کہا تھا

“اڑان بھریں گے تو اڑنا آۓ گا نا یزدان… ” حنین نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا

“ہم یہ اڑان کسی اور کے ساتھ بھی بھر سکتے ہیں…” یزدان نے کہا, حنین کے چہرے کا رنگ یکلخت تبدیل ہوا تھا

“تجھے یاد ہے جس دن ہم دونوں نے یہ مائیکرو فنانس شروع کی تھی اس دن میں نے تجھ سے کیا کہا تھا… ؟؟؟” حنین نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے یزدان کی طرف دیکھا

“یاد ہے… ” بولا

“کیا کہا تھا ؟؟؟”

“یہ ہی کہ حمدان انٹرپرائزرز سے پارٹنر شپ بھلے ہی ہمیں قارون کے خزانوں سے ہی مالا مال کیوں نہ کر دے…ہم دونوں میں سے کوئی اس کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں” یزدان نے کہا

“تو بس پھر… بات ختم” حنین نے فائل واپس اس کی طرف کھسکا دی تھی

“حنین… آج سے… اور ابھی سے… ایک بات میں بھی تجھ سے کہہ رہا ہوں… اور وہ یہ کہ ہاشمی ٹریڈرز سے پارٹنرشپ سراسر تیرا اپنا فیصلہ ہو گا… میں اس فیصلے میں تیرے ساتھ نہیں ہوں… اور نا ہی میں وہاں جاؤں گا” یزدان نے فیصلہ سنا دیا تھا

……………………………

کھانے کی میز پر وہ تینوں ہی بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے

“چاچو یار جلدی آ جائیں… ” سنایا کی بس ہوئی پڑی تھی

“کتنی بار تو کہا ہے کہ میرا انتظار نا کیا کرو… کھانا شروع کر دیا کرو” وہ جلدی سے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

“یہ نہیں کرنے دیتا…” سنایا نے گھور کر معیز کو دیکھا تھا

“پاپا مجھے بھی ڈال دیں کچھ… ” عنایہ نے کہا

“کیا ڈالوں ؟؟”

“جو مرضی… ” وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی تھی

“تمہیں خیر تو ہے ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“محترمہ ایک عدد میڈیم پیزا پورے کا پورا ہڑپ کر کہ بیٹھی ہیں… ” معیز نے مسکراتے ہوئے کہا تھا

“تو پھر یہ ماش کی دال کیسے اترے گی تمہارے گلے سے… ” حنین نے اس کی پلیٹ اپنی طرف سرکا لی تھی

“معیز… کل آفس آ سکتے ہو ؟؟؟” حنین نے پوچھا

“کیوں… ؟؟؟”

“تمہیں کہیں ساتھ لیکر جانا ہے” وہ بولا

“چاچو پلیز… مجھے کوئی بزنس ڈیل کرنے آپ کے ساتھ نہیں جانا… پلیز” وہ بولا

“پھر ڈیل کرنی کیسے آۓ گی؟؟”

“جب سر پڑے گی تو آ جاۓ گی” وہ بولا

“سارا دن یونیورسٹی میں بھی یہ ہی ایک اور ایک دو کرو اور پھر آپ کے ساتھ جا کر بھی دو اور دو چار کرنے لگ جاؤ” وہ ستا پڑا تھا

“دو سال رہ گئے ہیں معیز ضامن میر… اس کے بعد ساری عمر یہ ہی چار اور چار آٹھ کرنا ہے” حنین نے مسکراتے ہوئے کہا تھا

معیز اور سنایا ابھی چھوٹے ہی تھے جب حنین کے بڑے بھائی جان سبتین کی ڈیتھ ہو گئی تھی, سبتین کی بیوی مایا ان کی رشتے دار کزن بھی تھی سو سبتین کی موت کے کچھ ماہ بعد مایا اور حنین کا نکاح ہو گیا تھا, عنایہ کی پیدائش پر وہ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئی تھی

……………………………

اسے کہیں سے پتہ چلا تھا کہ الحمراء میں کوئی بزنس سیمینار ہو رہا تھا… اب بزنس سیمینار ہو اور وہاں حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن نہ آۓ… یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا… ؟؟؟

آناً فاناً وہ گاڑی لیکر بھاگا تھا, حالانکہ اسے ابھی رعنین کے ساتھ مل کر کل کی پریزینٹیشن کے لئے ڈھیر ساری تیاری مکمل کرنی تھی اور رعنین پچھلے آدھے گھنٹے سے اسے مسلسل فون کھڑکا رہی تھی, وہ جانتا تھا کہ جب وہ لائبریری پہنچے گی اور وہ اسے وہاں نہیں ملے گا… تو کیا ہو گا ؟؟

لیکن فی الوقت سب سے اہم کام الحمراء پہنچنا تھا, جتنی دیر میں وہ وہاں پہنچا, اتنی دیر میں سیمینار ختم بھی ہو گیا, دیوانوں کی طرح وہ پورے ہال میں اسے کھوج رہا تھا

“زارون… ” وہ تو اسے نظر نہ آئی… لیکن وہ اپنی ماں کو نظر آ گیا

“تو یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟؟” آئرہ حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی

“وہ… مم میں… ایک دوست سے… ملنے آیا تھا” زارون گڑبڑا سا گیا

“ابھی اگر میں تجھے کہہ دیتی نا کہ ایک بزنس سیمینار اٹینڈ کرنے جانا ہے تو کھڑے کھڑے تیری روح نکل جاتی لڑکے…. اور یہاں تو دوست سے ملنے چلا آیا ہے” آئرہ برس ہی پڑی, دفعتاً وہ اسے اپنی گاڑی کی طرف جاتی نظر آئی تھی

“مام… میں ابھی آتا ہوں… بس دو منٹ” وہ وہاں سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا, لیکن اس کے ہجوم سے باہر نکل کر پارکنگ تک آتے آتے بہت دیر ہو چکی تھی

وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی

اس کی نظروں کے سامنے سے گاڑی ریورس لیکر نکلتی چلی گئی

اور وہ اکیس سالہ لڑکا وہاں خالی ہاتھ کھڑا رہ گیا

سیل بجا تھا… رعنین کی کال تھی

“ہاں رعنا… “

“کام چور انسان… تم ہو کہاں آخر… ؟؟؟” وہ برس ہی تو پڑی تھی

“رعنا… ابھی موڈ نہیں ہے یار… کل کر لیں گی, ایم سوری ” وہ تھکے تھکے سے لحجے میں کہتا ہوا کال کاٹ گیا

تبھی اسے آئرہ اپنی طرف آتی دکھائی دی, وہ بس نا محسوس سے انداز سے ہجوم میں گم ہو گیا تھا

اس وقت جو چیز شدت سے درکار تھی وہ “خاموشی” تھی

……………………..

رات کو کھانے کی میز پر بھی وہ آئرہ کو نظر نہیں آیا

“زارون کہاں ہے ؟؟؟” اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا

“اپنے کمرے میں ہیں… “

“بلا کر لاؤ… ” وہ بولی اور تبھی زاہا بھاگتی ہوئی آ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی

“تم سات منٹ لیٹ ہو… ” آئرہ نے اسے گھورا

“میں واش روم میں تھی.. ” وہ شرمندہ سی تھی

“حلیہ دیکھو ذرا اپنا… ” دوسرا اعتراض

“کیا ہوا ؟؟؟” وہ بس اپنے کپڑے دیکھتی رہ گئی, گرے کھدر کے کرتے سٹائل شرٹ کے ساتھ وہ جینز پہنے ہوئے تھی, بالوں فولڈ کر کے کیچر لگا رکھا تھا

“یہ بھی میں بتاؤں… اکیس سال کی ہو گئی ہو, کم از کم پہننا اوڑھنا تو سیکھ لو” وہ برس پڑی اور جس پر برس رہی تھی اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اس کے پہناوے میں کمی کیا ہے

“اور چہرہ دیکھو… یہ دانے کیوں نکلتے جا رہے ہیں, سارا دن وہاں یونیورسٹی میں جانے کیا الا بلا کھاتی رہتی ہو, مجھے تو لگتا ہے تمہارا وزن بھی بڑھتا جا رہا ہے… ” آئرہ ایک کے بعد ایک اس پر نکتہ چینیاں کرتی جا رہی تھی, وہ بیچاری بس شرمندہ شرمندہ سی سنتی چلی گئی, زارون آیا تو اس کی خلاصی ہوئی

“کتنی بار کہا ہے سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرو” اس نے اسے گھرکا

“سب مطلب… ؟؟؟ کتنے لوگ ہیں اس گھر میں ؟؟؟” وہ بیزاریت سے بولا

“جتنے بھی ہوں… اصول بھی کوئی چیز ہوتی ہے” وہ بولی

“الحمراء کیا کرنے گیا تھا ؟؟؟” آئرہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی

“بتایا تو تھا… ایک دوست سے ملنا تھا”

“کونسا دوست… ؟؟؟”

“مام پلیز… بال کی کھال نا اتارا کریں” وہ زچ ہو گیا

“اور تم ذرا اپنے اس موٹاپے کو کنٹرول کر لو, بے تکا پھیلتی جا رہی ہو…” وہ واپس زاہا کی طرف ہو گئی, اس نے روہانسی سی نظروں سے زارون کی طرف دیکھا تھا

“مام… اگر کھانا کھانے نہیں دینا تو بتا دیں, خاموشی سے کھانا کھانے کا کوئی اصول نہیں ہے ؟؟؟” زارون تڑخ گیا

“تمیز سے… سمجھا” آئرہ نے اسے رکھ کر گھورا, کچھ دیر بعد وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر ایک بار پھر زاہا کو سخت سست سنا کر اٹھ گئی تھی

زارون بس اس کا سرخ سرخ سا چہرہ اور کانپتے ہوۓ لبوں کو دیکھتا رہ گیا

“خدا نے تمہیں دو کان کس لیے دیئے ہیں بھلا… ؟؟؟ ایک سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرو” وہ اسے کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا

آئرہ, زاہا کی سوتیلی ماں تھی…

زاہا تمیم ہاشمی… بشر تمیم ہاشمی کی اکلوتی بیٹی جو کئی سال پہلے ہی اسے تنہا کر گئے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *