Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 21)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 21)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
وہ بھی ایسی ہی ایک شام تھی, چار دن بعد زاہا اور معیز کی مہندی تھی
وہ دونوں اس شام گارڈن آۓ تھے, نومبر شروع ہو چکا تھا, اس سرمئی شام کے ساتھ ہی یاسیت بھی اتنے لگی تھی, پرندوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا
“حیان… میں آج آخری بار تم سے ملنے آئی ہوں, پرسوں میری مہندی ہے… بس اب مجھے کال مت کیا کرنا” وہ بینچ پر بیٹھ گئی
“زاہا… یار دفع مارو ہر شے کو, تمہیں چیئر پرسن بننا ہے نا… میں بناؤں گا تمہیں چیئرپرسن… چاہے تو حمدان انٹرپرائزرز کی چئیر پرسن کی کرسی اپنے حق مہر میں لکھوا لینا” حیان اس کے پاس آ بیٹھا
“نہیں حیان… رہنے دو, جب اتنی کوششیں بارآور نہیں ہوئیں تو شاید ہمارے مقدروں میں ہی کوئی کھوٹ ہو گا”وہ بے بسی سے بولی تھی, حیان نے اپنا ایک بازو بینچ کی پشت پر رکھا اور اس کے اور قریب ہو گیا
“زاہا… یار کیا اس دن کے لئے ایک دوسرے سے محبت کی تھی ہم نے ؟؟؟” وہ اس کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا, زاہا نے دھیرے سے اپنا سر اس کے بازو پر رکھ دیا
“یہ ہی قسمت ہے حیان… شاید ایسے ہی لکھا تھا” وہ بولی
“چار دن بعد تم مسز زاہا معیز ہو جاؤ گی…” حیان نے دھیرے سے اس کے چہرے پر اڑتے بال اس کے کان کے پیچھے اڑسے تھے
“پھر تم مجھے مسز معیز کہا کرو گے ؟؟؟” زاہا کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے, حیان نے اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
“تمہارا میری زندگی میں آنا… میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہے زاہا” وہ دیوانہ وار اس کے افسردہ سے چہرے پر جھکا تھا, بہت نرمی سے اس کے لبوں کو قید کر گیا تھا
“I Love you zaha… Forever”
گارڈن کے دروازے سے اندر آتے معیز نے پورا منظر دیکھا تھا
……………………….
وہ آج خود ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ آئی تھی, پرسوں زاہا اور معیز کی مہندی تھی, حنین اسے اپنے سامنے دیکھ کر کافی حیران ہوا
“سب خیریت تو ہے نا مس کیف ؟؟؟” اس نے چاۓ منگوا لی تھی
“مسٹر حنین میرے خیال سے اب ہمیں ایک فائنل چوٹ مار دینی چاہیے ” وہ بولی
“کیا مطلب… ؟؟؟” حنین نے کہا
“میں نے اپنی کمپنی کو ملنے والے چھ چھوٹے پراجیکٹس واپس کر دئیے ہیں… میرے سبھی ایمپلائی بشمول زاہا اس فیصلے پر مجھ سے سخت نالاں ہیں… لیکن… ایک ہفتہ پہلے حمدان انٹرپرائزرز نے تین بہت بڑی ڈیلز سائن کی ہیں… ہمیں وہ تینوں ڈیلز ان سے چھین سکتے ہیں” وہ بولی
“تین ڈیلز ایک ساتھ ؟؟؟”
“بالکل… اس سے حیان کو بہت بڑا جھٹکا لگے گا”
“لیکن مس کیف… اگر ہم ناکام ہو گئے تو جھٹکا ہمیں بھی بڑا ہی لگے گا” وہ بولا
“ہم ناکام نہیں ہوں گے… ” وہ بولی
“میرے خیال سے ہمیں تھوڑا دھیرے چلنا چاہئے مس آئرہ… کھیل تو سارا ہمارا ہے نا… ہم اسے جب تک چاہیں کھیل سکتے ہیں” وہ اس سے متفق نہیں تھا
“کھیل کو بلاوجہ لمبا کیوں کھینچیں مسٹر حنین… کیوں نا اسے ختم کر دیں” وہ مسکرائی تھی
“ٹھیک ہے… ” اس نے ایک لمبی سانس بھری
“جیسے آپ کو ٹھیک لگے… ” وہ بولا
“انعمتا حمدان خان پر ایک آخری چوٹ لگانے کا وقت آ ہی گیا ہے” وہ بڑی لگاوٹ سے بولی تھی, حنین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“بہت اڑ لیا اس حرافہ نے… اب اس کے پر کاٹنے کا وقت آ گیا ہے… میں بھی تو دیکھوں کہ اس بار وہ مجھ سے کیسے بچ پاۓ گی” وہ زہریلے سے لحجے میں کہتی جا رہی تھی
حنین کو ایک بار پھر اس کا یوں کہنا اچھا نہیں لگا تھا
………………………….
وہ سب ڈنر پر اکٹھے ہوۓ تھے… اور سب ہی خاموش تھے, بس سنان ہی مسلسل انعمتا سے باتیں کر رہا تھا
“انا… ” حیان نے کچھ دیر بعد اسے پکارا
“ہاں… “
“وہ… بس اب کچھ نہیں ہو سکتا ؟؟؟” اس بے پوچھا
“کیا مطلب ؟؟”
“مطلب تین دن بعد زاہا کی مہندی ہے” وہ بولا
“حیان مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں ؟؟؟ اور کیا کروں میں ؟؟؟ ہر کوشش تو کر چکی ہوں… ہاتھ جوڑ لئے ہیں اس کے آگے… معافی مانگ لی ہے اس سے, منتیں کر لی ہیں اس کی…. اور کیا کروں ؟؟” وہ زور سے بولی
“وہ نہیں دے گی تمہیں زاہا کا رشتہ… صرف ایک ہی صورت ممکن ہے اوروہ یہ کہ تم دونوں کورٹ میریج کر لو, زاہا سے کہو کہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ جاۓ… ہمارا سب کچھ اس کا ہے… وہ چاہے تو حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن بن جاۓ… ” انعمتا کہتی چلی گئی
“وہ نہیں مانتی… ” حیان نے کہا
“تو پھر بس بھول جاؤ اسے… پوری توجہ سے اپنی کمپنی سنبھالو… ” وہ بولی
“انا… زارون آپ کو بہت پسند کرتا ہے… ” رعنین کا بولنا ہی قیامت ہو گیا تھا
“تو کیا مطلب ہے اس بات کا ؟؟؟ شادی کر لوں اس سے ؟؟؟؟” انعمتا ایک دم پھٹ پڑی
“پہلے بھی تو کی تھی… ” وہ بولی, انعمتا ششدر رہ گئی
“تم لوگوں کے لئے تھی… ” وہ مارے دکھ کے بول نہ سکی
“تو اب بھی ہم لوگوں کے لئے کر لیں… ” رعنین حد سے زیادہ خود غرض ہو رہی تھی, انعمتا سے بولا ہی نہ گیا
“رعنین… میں دو بار گئی ہوں حنین کے پاس… دو بار کہا ہے اسے کہ تم سے شادی کر لے… اب وہ نہیں مانتا تو میں کیا کروں ؟؟؟” وہ بولی
“آپ کچھ بھی نا کریں.. آپ کچھ بھی نہیں کر سکتیں… “وہ بولی
“رعنین… وہ عورت مجھے اپنی بہو بننے کو کہہ رہی ہے… زارون مجھ سے بارہ سال چھوٹا ہے… تمہاری وجہ سے اس پینتیس سالہ شخص کو میں اپنا داماد بنانے کو تیار ہوں… اور کیا کروں ؟؟؟” وہکلس گئی
رعنین بس تنک کر وہاں سے اٹھ گئی تھی, اس کے بعد حیان اور دانین بھی اٹھ کر چلے گئے
وہ تن تنہا سنان کے ساتھ وہاں بیٹھی رہ گئی تھی
………………………….
وہ اور حیان ایک بزنس سیمینار اٹینڈ کرنے آۓ تھے, اس نے شکر کیا کہ اسے حنین کہیں نظر نہیں آیا, البتہ آئرہ کیف خان آئی ہوئی تھی
سیمینار کے بعد ڈنر کا انتظام تھا… وہ سونیا فیض کے پاس کھڑی تھی جب ایک ویٹر اس کی طرف آیا
“میم… یہ آپ کے لئے ” اس نے ایک ڈرنک اس کی طرف بڑھایا تھا, ساتھ ہی ٹرے میں ایک تہہ کیا ہوا کاغذ پڑا تھا, اس نے اچنبھے سے کاغذ کھول لیا
Room 204 2nd Floor…A business deal
وہ حیران ہو گئی
“یہ کس نے بھیجا ہے… ؟؟؟” اس نے ویٹر سے پوچھا
“مجھے نہیں معلوم میم… ” وہ بولا, انعمتا نے ایک لمبی سانس بھری تھی, اس قسم کی بزنس گیدرنگز اور سیمینارز میں یوں چھپ چھپا کر بٹی بڑی بزنس ڈیلز سائن کرنا ایک عام سی بات تھی, وہ خود کئ بار اسی طرح ڈیلز سائن کرواتی رہی تھی, کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی, حیان اپنے کسی دوست کے پاس کھڑا تھا
سیکینڈ فلور پر آ کر اس بے کمرہ تلاش کیا جو اسے جلد ہی مل گیا, اس نے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا تو دروازہ خود بخود ہی کھل گیا, وہ دھیرے سے اندر داخل ہوئی اور دروازہ احتیاطاً بند کر دیا
اندر کوئی بھی نہیں تھا… لیکن واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی, وہ دروازے کے پاس ہی کھڑی انتظار کرتی رہی, دفعتاً اس کی نظر صوفے پر پڑے فان کلر کے کوٹ پر پڑی, اس کی جیب میں سے ایک آئی ڈی کارڈ باہر جھانک رہا تھا
انعمتا نے آگے بڑھ کر وہ کارڈ نکال لیا
“حنین… ” اس کے لبوں سے نکلتی سرگوشی کے ساتھ ہی واش روم کا دروازہ کھلا اور حنین کمرے میں آ گیا
“میرے کوٹ کی تلاشی کس خوشی میں لے رہی ہو ؟؟؟” وہ گیلے ہاتھ خشک کرتے ہوئے بولا تھا
“مجھے کیوں بلایا ؟؟؟” وہ تڑخی
“میں نے تو نہیں بلایا… ” وہ بولا
“یہ تم نے ہی بھیجا ہے نا… ؟؟؟” انعمتا نے وہ کاغذ اس کے سامنے کر دیا
“بالکل نہیں… میں تو یہاں ایک پارٹی سے ملنے آیا تھا اور… بس واپس جانے لگا ہوں” وہ بولا, انعمتا ہکا بکا رہ گئی
“تو پھر یہ مجھے… کس نے بھجوایا… ” سوچنے کے سے انداز میں کہتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی
“تم جانتی تھیں کہ آئرہ حمدان سے شادی کرنا چاہتی تھی…؟؟؟” حنین کی آواز نے اس کے قدم روک لئے
“حمدان سے شادی کے بعد ہی پتہ چلا تھا… ” وہ مڑتے ہوۓ بولی
کریم کلر کی شرٹ کے ساتھ فان کلر کی پینٹ پہنے, گلے میں فان ڈاٹس والی ٹائی لٹکاۓ, دونوں آستینیں کہنیوں تک موڑے, وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
“کیا وہ صرف اسلیے تمہارے اتنے خلاف ہے کہ حمدان نے اسے ٹھکرا کر تم سے شادی کر لی ؟؟؟” وہ دو قدم آگے کو آیا
“تمہارے لئے یہ جاننا کیوں ضروری ہے ؟؟؟” وہ بولی
“کیونکہ وہ تمہاری جان کے درپے ہوئی ہوئی ہے انعمتا… وہ میرے سامنے ببانگ دہل تمہیں جان سے مار دینے کی بات کرتی ہے… ” حنین نے کہا, انعمتا دھیرے سے مسکرائی تھی
“اچھا ہوا تم نے مجھے بتا دیا… کیوں نا اس کے آگے یہ ہی شرط رکھ دوں حنین… کہ بھلے ہی اپنے ہاتھوں سے میری جان لے لے لیکن…. بدلے میں زاہا اور حیان کو ایک ہو جانے دے” وہ بولی تھی, حنین بس متواتر اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا
“تم اس شخص کی اولاد کے لئے جان بھی دے دو گی ؟؟؟” وہ اس کے قریب آیا تھا
“ہاں… کیونکہ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کے بچوں کا خیال رکھوں گی” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی تھی
حنین بس اسے دیکھتا چلا گیا, صاف شفاف چہرہ جس کے اطراف میں سیاہ بالوں کی لٹیں لہرا رہی تھیں, ریشمی دوپٹہ سر پر سے ڈھلک کر کندھوں پر گر چکا تھا
“انعمتا… ” وہ اس کے بے حد قریب چلا آیا
“مجھ سے بھی تو وعدہ کیا تھا نا تم نے… کہ ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی… پھر وہ کیوں توڑا ؟؟؟” حنین کے دونوں ہاتھوں نے اس کا مومی چہرہ اپنی قید میں لے لیا
“کیونکہ تم سے کیا وعدہ توڑ کر میں نے اپنے ماں باپ کو بچا لیا تھا” وہ دھیرے سے بولی تھی
“صرف ایک بار…. صرف ایک بار کہہ دو کہ میں وہ سب نہیں کر پاتا جو اس نے کیا ؟؟؟” وہ بولا
“حنین… جو ہونا تھا وہ ہو چکا” انعمتا کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی
“انعمتا… ” حنین نے دھیرے سے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکا دیا
“مجھے آج بھی تم سے بہت محبت ہے…. ” اس کی سرگوشی کے ساتھ ہی انعمتا کے دو آنسو ٹوٹ کر اس کے گالوں پر بہہ نکلے تھے
…………………….
وہ نیچے واپس آئی تو حیان اسے کہیں نظر نا آیا… اس نے کئی مرتبہ اسے کال کی لیکن اس نے ریسیو ہی نہیں کی… تبھی اسے فیصل نظر آ گیا, وہ اس کا پراجیکٹ ہیڈ تھا
“فیصل… حیان کہاں ہے ؟؟؟”
“میم وہ تو چلے گئے ” وہ بولا
“چلا گیا… کہاں…؟؟؟” گھر… ؟؟” وہ حیرانی سے بولی
“پتی نہیں میم… میں تو آپ کے انتظار میں تھا” وہ بولا
“چلو… ” وہ فیصل سے کہتی ہوئی باہر نکل آئی
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ گھر پہنچی,گیراج میں ایک اور گاڑی بھی کھڑی تھی… ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹھک گئی
سامنے ہی صوفے پر آئرہ کیف خان بیٹھی تھی
ایک صوفے پر حیان بیٹھا تھا… بالکل خاموش
دوسرے پر رعنین بیٹھی تھی… ستا ہوا چہرہ لئے
دانین دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑی تھی
“آؤ آؤ انعمتا… میں تو کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی” وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کھڑی ہو گئی
“میں بس اپنے بھانجے, بھانجیوں سے ملنے آئی تھی… میں نے سوچا ان بیچاروں کو کب تک پردے میں رکھنا… حقیقت آشکارا کر ہی دیتی ہوں… بلاوجہ ہی یہ تمہیں مظلوم سمجھ کر بیٹھے ہیں” وہ کہتی چلی گئی
“چلو اب تم آ گئی ہو تو میں چلتی ہوں… ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گئی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے بیگ صوفے پر اچھالتے ہوۓ پوچھا تھا, حیان نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے ٹی آن کر دیا
انعمتا حق دق رہ گئی تھی
وہ اسی کمرے کی فوٹیج تھی جہاں وہ کچھ دیر پہلے حنین کے ساتھ تھی… وہ اور حنین
ایک دوسرے سے پیشانیاں ٹکا کر کھڑے ہوۓ
“قصور آپ کا نہیں ہے انا… ظاہر ہے ہمیں پال پوس کر آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا…اس کے بعد پورا حق بنتا ہے آپ کا بھی زندگی کو انجواۓ کرنے کا… لیکن انا… کم از کم یہ تو دیکھ لیتیں کہ….. وہ مجھے اچھا لگتا تھا” رعنین چیخ پڑی
“رعنا میری بات…” لیکن رعنین نے اس کی بات کاٹ دی
“وہ بالکل ٹھیک کہتا ہے… آپ کبھی میرا اور اس کا رشتہ نہیں ہونے دیں گی, آپ خود اس سے چکر چلا رہی ہیں… میرے سامنے اچھی بن جاتی ہیں کہ میں نے دو بار تمہارے لئے اس کا ہاتھ مانگا ہے اور خود… خود اس کی بانہوں میں کھڑی ہو جاتی ہیں… اس کے ساتھ بند کمروں میں انجواۓ کرتی ہیں…. ” وہ ہر حد پھلانگ گئی تھی, انعمتا کو یقین نا آیا کہ یہ وہی رعنین تھی… وہ چھ سالہ رعنین جسے اس نے ہمیشہ اپنے پروں تلے چھپا کر رکھا… وہ آج اسے کیا کہہ رہی تھی… ؟؟؟
“خالہ ٹھیک کہتی ہیں انا… اگر پاپا آپ سے شادی نا کرتے تو آج اس سب کی نوبت ہی نا آتی, میرے اور زاہا کے رشتے میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ ہیں, آپ کی وجہ سے خالہ اس کی شادی مجھ سے نہیں کر رہیں… کیا تھا اگر آپ پاپا سے شادی نا کرتیں ؟؟؟” حیان بھی ستا پڑا تھا, انعمتا جامد کھڑی رہ گئی
“میں نے کچھ نہیں کیا… ؟؟؟” وہ بمشکل اپنے آنسؤؤں کو روکے ہوئے تھی
“آپ نے اپنے فائدے کے لئے پاپا سے شادی کی تھی نا… آپ کے امی اور ابو ہسپتال میں تھے, اور آپ کی دو چھوٹی بہنیں تھیں جنہوں نے ابھی پڑھنا تھا, اور آپ کے پیچھے لگ کر پاپا نے خالہ سے شادی نہیں کی… اور آپ کی وجہ سے ان کی زبردستی شادی ہو گئی…. سارے فساد کی جڑ ہی آپ ہیں انا… ” حیان کہتے ہوئے رکا
“اور اب ہم تینوں کو الو بنا کر آپ خود کتنے مزے سے اس کے ساتھ افییر چلا رہی ہیں… ” وہ زور سے چیخا تھا
“حیان بس…. ” وہ بولی تو صرف آنسو نکلے, آواز نہیں نکلی, سنان ایک طرف خاموش کھڑا ماں کو دیکھ رہا تھا
“آپ کی وجہ سے آج حیان خالی ہاتھ ہے… آپ کی وجہ سے آج میں خالی ہاتھ ہوں… اور صرف آپ کی وجہ سے آج دانی خالی ہاتھ ہے” رعنین روتے ہوئے بولی
“انا… آج آپ نا ہوتیں تو شائد سب ٹھیک ہوتا” دانین کے لبوں سے الفاظ نہیں…نشتر نکلے تھے جو اس کے آر پار ہو گئے
وہ تینوں آج اس کے سامنے کھڑے تھے… تن کر
وہ تینوں آج اس کے خلاف تھے
آئرہ کیف خان بھلے ہی پندرہ سال پہلے ہار گئی تھی… لیکن آج جیت اس کی تھی
آج وہ انعمتا کو خالی ہاتھ کر چکی تھی
وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی… وہ تینوں اپنی اپنی بھڑاس نکال کر اوپر چلے گئے تھے
“ماما… آپ نے کیا کیا ہے ؟؟” سنان اس کے قریب چلا آیا
“سنان… بیٹے چلو چلیں” انعمتا نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور وہیں سے مڑ گئ
اس نے صوفے پر سے اپنا بیگ بھی نہیں اٹھایا تھا, آنسو بے دریغ بہے چلے جا رہے تھے
سنان کا ہاتھ تھام کر وہ مین گیٹ سے باہر نکل آئی
“میڈم جی گاڑی نکالوں ؟؟؟” ڈرائیور نے پوچھا تھا
“نہیں…. ” وہ مختصراً کہہ کر نکلتی چلی گئی تھی
سنان کا ہاتھ تھامے وہ مین روڈ پر آ گئی, ذہن میں صرف ایک ہی فقرہ گونج رہا تھا
“انا آج آپ نا ہوتیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا…. “
تبھی ایک بلیک گاڑی ان دونوں کے بالکل قریب آ کر رکی اور اندر بیٹھے دونوں آدمیوں نے اب دونوں کو گاڑی کے اندر کھینچ لیا تھا
……………………………
صبح انعمتا کھانے کی میز پر نہیں تھی… حیان اور رعنین نے کوئی خاص دھیان نا دیا, وہ دونوں خاموشی سے اپنے کام پر نکل گئے
دوپہر کے قریب رعنین کو دانین کی کال آئی تھی
“انا کہیں چلی گئی ہیں آپی…. ” وہ بولی
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب میں یہ ہی سمجھی کہ وہ اپنے کمرے میں ہوں گی لیکن…. ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میں اوپر گئی تو ان کا کمرہ خالی تھا… سنان بھی نہیں ہے… ڈرائیور سے پوچھا تو اسنے بتایا کہ انا سنان کو لیکر رات ہی گھر سے نکل گئی تھیں” وہ کہتے ہوئے رو پڑی, رعنین ششدر رہ گئی تھی
اس نے اسی وقت حیان کو کال کی
“انا رات سے کہیں چلی گئی ہیں حیان… سنان بھی ان کے ساتھ ہے” وہ بولی
“رعنا… گھر پہنچو… جلدی” وہ اسی وقت بھاگتا ہو آفس سے نکلا تھا
وہ دونوں آگے پیچھے ہی گھر پہنچےتھے, دانین ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی رو رہی تھی
“وہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہیں حیان بھائی…” وہ روۓ جا رہی تھی
“ان کے تو امی ابو بھی نہیں رہے اب… کہاں جا سکتی ہیں؟؟؟” حیان خود بہت پریشان تھا, رعنین نے اسمارہ اور ارحہ دونوں کو کال کر کے باتوں ہی باتوں میں پتہ لگایا لیکن انعمتا ان دونوں کے گھر ہی نہیں تھی, وہ انعمتا کے پرانے گھر بھی دیکھ کر آیا… ندارد
“چاچو کی طرف نا چلی گئی ہوں ؟؟؟” رعنین نے کہا, حیان نے اسی وقت یزدان کو کال کی تھی
“چاچو… کہاں ہیں آپ ؟؟؟”
“آفس… “
“انا آپ کے گھر آئی ہیں ؟؟؟”
“نہیں تو… کیا ہوا ؟؟؟”
“چاچو آپ پلیز جلدی گھر آئیں… انا رات سے غائب ہیں, وہ سنان کو لیکر نہ جانے کہاں چلی گئی ہیں”حیان سے بولنا دوبھر ہو رہا تھا
یزدان اسی وقت آفس سے نکل کھڑا ہوا, سارا راستہ اس کا دھیان آئرہ کی طرف ہی جاتا رہا
“حیان… ” وہ بھاگتا ہوا اندر آیا تھا
“چاچو… ” دانین بلکتے ہوۓ اس کے ساتھ آ لگی
“انا میری وجہ سے چلی گئیں چاچو… میں نے ان سے کہا کہ وہ نا ہوتیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا” وہ روۓ جا رہی تھی
“ہوا کیا تھا ؟؟؟” یزدان نے پوچھا, حیان اور رعنین ایک دوسرے کے منہ کو دیکھنے لگے
“وہ… بس تھوڑی سی گرما گرمی ہو گئی تھی تو…ہمیں غصہ آ گیا….” یزدان نے اس کی بات کاٹ دی
“گرما گرمی کس بات پر ہو گئی ؟؟؟” اس نے پوچھا, حیان نے پھر رعنین کی طرف دیکھا, وہ بس نظریں چرا گئی
“مجھے ابھی اسی وقت پوری بات بتاؤ… ” یزدان کو ہلکا سا غصہ آیا تھا
“چاچو میں اور انا کل رات ایک بزنس سیمینار میں گئے تھے, سمینار کے بعد وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئیں, میں کافی دیر ان کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ وہاں نہیں تھیں…پھر مجھے ایک ویٹر نے آ کر ان کا پیغام دیا کہ میں گھر چلا جاؤں… انہیں ایک ضروری کام ہے, میں گھر واپس آ گیا اور… میرے گھر آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی خالہ آ گئیں… ” حیان کہتا چلا گیا, لفظ “خالہ” پر یزدان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا
“خالہ نے کہا کہ انا ہمارے ساتھ بالکل بھی مخلص نہیں ہیں, انہوں نے پاپا سے شادی نہیں کی بلکہ ایک سودا کیا تھا… انہیں ہم سے کوئی سروکار نہیں ہے, ان کا کام بس ہمیں پال پوس کر بڑا کرنا تھا جو انہوں نے کر دیا, اب وہ پوری طرح اپنی زندگی کو انجوائے کر رہی ہیں…” اتنا کہہ کر حیان نے میز پر سے ریموٹ اٹھایا او ٹی وی آن کردیا, یزدان نے تاسف سے حیان کی طرف دیکھا
” تمہاری پیاری خالہ جان نے تمہیں یہ فوٹیج دکھائی اور دکھا کر کہا کہ تمہاری سوتیلی ماں جو پچھلے پندرہ سال سے تمہیں پال رہی ہے… تمہارے ساتھ مخلص نہیں ہے اور تم نے مان لیا….” یزدان کو شدید غصہ آیا تھا, حیان آگے سے بول نہ سکا
“حیان مجھے بتاؤ کہ تم نے اسے کیا کہا…؟؟؟” وہ دو قدم آگے کو آیا تھا
میں نے بس ان سے یہ کہا کہ… وہ اگر پاپا سے شادی نہ کرتی ں تو آج زاہا میری ہوتی, خالہ صرف اس لئے مجھے زاہا کا رشتہ نہیں دے رہیں کیونکہ پاپا نے ان کی بجائے انا سے شادی کر لی تھی.. اور میں نے کہا کہ انہوں نے پاپا سے شادی اپنے فائدے کے لئے کی… اور…وہ سارے فساد کی جڑ ہیں… اور… ” اس سے آگے حیان سے بولا نہ گیا
“…اور میں نے انہیں کہا کہ وہ انتہائی خود غرض ہیں,انہیں صرف اپنی فکر ہے… اور یہ کہ وہ ایک ایسے انسان سے افیئر چلا رہی ہیں جو مجھے اچھا لگتا ہے… اور یہ کہ وہ کبھی بھی میری شادی حنین سے نہیں کریں گی کیونکہ وہ خود اس کے ساتھ چکر چلا رہی ہیں..م اور…” رعنین کہتے ہوئے زار و قطار رو رہی تھی, یزدان خاموش کھڑا رہ گیا
“…اور چاچو میں نے ان سے کہا کہ اگر آج وہ نہ ہوتیں تو سب کچھ ٹھیک ہوتا… ہم سب نے انہیں کہا کہ ان کی وجہ سے آج ہم لوگ خالی ہاتھ ہیں” دانین اس کے ساتھ لگی رو رہی تھی, یزدان کو یک لخت ہی ان تینوں پر شدید غصہ آیا تھا
“بات صرف اتنی ہے کہ آئرہ کیف خان ے ایک ڈرامہ رچا کر تمہیں اس کے خلاف کرنا چاہا اور تم تینوں آنکھیں بند کر کے اس کے ڈرامے کا حصہ بن گئے, میں نے خود حنین کو اس ہوٹل کے سامنے چھوڑا تھا… اسے وہاں ایک بزنس ڈیل کرنی تھی..م تم قسم اٹھا کر کہو کہ انعمتا اپنی مرضی سے اس کمرے میں گئی ہوگی… تم تینوں کو صرف اتنا پتہ ہے کہ تمہارے پاپا نے تمہاری خالہ کو ٹھکرا کر انعمتا سے شادی کر لی… اس کے علاوہ تمہیں اور کیا پتا ہے…؟؟؟” وہ زور سے دھاڑا تھا
“تم لوگ جانتے بھی ہو کہ اس لڑکی نے تمہارے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں.. ہاں میں مانتا ہوں اس نے سودا کیا..م وہ اپنے بھائی کے جانے کے بعد اپنے ماں باپ اور بہنوں کی ذمہ داری اکیلی نہیں اٹھا سکتی تھی سو اس نے تمہارے پاپا سے سودا کر لیا, تمہارے پاپا نے اس کی ساری ذمہ داریاں اٹھا لیں اور بدلے میں تم تینوں کی ذمہ داری اسے سونپ دی…. جانتے ہو انعمتا سے شادی کرنے سے پہلے تمہارے پاپا کو پتا تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے, ان کے دونوں گردے ناکارہ ہوتے جارہے تھے… رعنین صرف چھ سال کی تھی… حیان پانچ سال کا اور دانین تین سال کی تھی… ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے..م تم پوچھتے ہو نا کہ وہ تمہارے پاپا سے شادی نہ بھی کرتی تو کیا ہو جاتا…؟؟؟ جانتے ہو کیا ہو جاتا…؟؟؟ اج تم تینوں کسی ڈیرھ مرلے کے فلیٹ میں پڑے سڑ رہے ہوتے… تمہارے پاپا کی حمدان انٹرپرائزرز تمہاری پیاری خالہ اور اس کے بھائیوں کے قبضے میں ہوتی..م حیان کسی کمپنی میں نوکری کے لیے خوار ہو رہا ہوتا اور رعنین اپنی شادی کے لئے پیسے جوڑ رہی ہوتی… اور دانین کسی سرکاری کالج سے بی اے کر رہی ہوتی…” وہ کہتا چلا گیا
“وہ صرف اٹھارہ سال کی تھی جب تمہارے پاپا نے اس سے شادی کی اور محض چار سال بعد اسے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے, بارہ سال… پورے بارہ سال اس نے تم لوگوں کو سنبھالا… تمہیں تمہارے رشتے داروں کے شر سے محفوظ رکھا… ہر طرح سے تمہاری حفاظت کی..بارہ سال اس نے حمدان انٹرپرائزرز کیلئے دن رات ایک کر دیا صرف اس لئے تاکہ ایک دن تمہیں تمہارے پاپا کی کرسی پر بٹھا سکے… بارہ سال اس نے تمہارے پاپا سے کیا وعدہ پورا کرتے ہوئے گزار دیے اور جانتے ہو وہ بارہ سال اس کی عمر کا کونسا حصہ تھے…؟؟؟ جوانی… شباب… یعنی عمر کا وہ حصہ جس میں اس وقت تم لوگ کھڑے ہو… تو ذرا ایک لمحے کے لئے سوچو اس نے کیا جوانی میں کسی سے محبت نہیں کی ہوگی…؟؟؟ اسے کیا کوئی اچھا نہیں لگا ہوگا..؟؟؟ اس نے کیا کسی کو دل میں نہیں بسایا ہوگا..؟؟؟ تم نے جس شخص کی خاطر اسے خود غرض کہہ دیا وہ شخص اس کی برسوں پرانی محبت ہے…” یزدان کہتا چلا گیا تھا, وہ تینوں دم بخود اسے دیکھ رہے تھے
“اسے تمہارے پاپا نے تمہارے لئے چنا تھا… حالانکہ ہم سب نے انہیں بہت منع کیا, امی نے کئی بار انہیں سمجھایا کہ انعمتا سے شادی نہ کریں, وہ عمر میں بہت چھوٹی ہے… میں نے خود انہیں انعمتا سے شادی کرنے سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے کسی کی نہیں سنی..م انہیں اس پر پورا یقین تھا اور اس نے بارہ سال اس یقین کو بنائے رکھا… اس نے کبھی تم تینوں کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیا, ہمیشہ تم تینوں کا ساتھ دیا… اس نے اپنی پوری جوانی تم تینوں پر وار دی, تمہیں تو بائیس سال کی عمر میں محبت کا زخم لگا ہے نا رعنین اس نے اٹھارہ سال کی عمر میں اپنی محبت ہار دی تھی… سوچو اس کے دل کا کیا حال ہوا ہو گا ؟؟؟ مجھے آج بھی یاد ہے اس کا اور حنین کا رشتہ طے ہو چکا تھا… بہت جلد ان دونوں کی شادی ہونے والی تھی لیکن بیچ میں تمہارے پاپا آگئے…. تم تینوں کو کس نے یہ حق دیا کہ تم اس سے پوچھو کہ اس نے تمہارے پاپا سے شادی کیوں کی…؟؟؟ اگر وہ تمہارے پاپا سے شادی نہ کرتی تو آج تم تینوں کا شاید نام و نشان بھی نہیں ہوتا… حمدان انٹرپرائزز کی کرسی پر تمہاری پیاری خالہ جان بیٹھی ہوتی…” وہ بے حد غصے میں تھا
“چاچو پلیز… مجھ سے غلطی ہوگئی, مجھے بس غصہ آ گیا تھا انہیں حنین کے ساتھ دیکھ کر… میرے جو منہ میں آیا میں انہیں کہتی چلی گئی, مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ تو شروع سے انہی کا ہے…. مجھے نہیں پتا تھا کہ انہوں نے اپنی محبت کے بدلے ہمیں چنا… میں بھول گئی تھی کہ انہیں تو ہمارے پاپا نے ہمارے لئے چنا تھا اور… پاپا کا چنا کبھی غلط نہیں ہو سکتا” رعنین روتے ہوئے کہتی چلی گئی
“تم تینوں نے بہت غلط کیا ہے اس کے ساتھ… تم لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ تمہارے بھائی کی ماں ہے… خدا جانے وہ دونوں ماں بیٹا کہاں خوار ہو رہے ہوں گے…؟؟؟” یزدان نے کہا
“چاچو پلیز… انہیں ڈھونڈنے میں ہماری مدد کریں, بس ایک بار انہیں ڈھونڈ دیں…میں پیروں میں گر کر ان سے معافی مانگ لوں گا, میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں…. اور میں جانتا ہوں ہم تینوں میں سے وہ سب سے زیادہ پیار مجھے کرتی ہیں پلیز” حیان کسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہا تھا
“ایک لمحے کے لئے خود کو اس کی جگہ پر رکھو اور سوچو کہ اس لڑکی نے اپنی ساری جوانی اپنی سوتیلی اولاد کے لئے پھونک دی اور پھر وہی اولاد اس کے سامنے تن کر کھڑی ہو کر کہے کہ اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے…سوچو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی…؟؟؟” یزدان نے کہا
“چاچو ہم نے انہیں نہیں کہا کہ وہ گھر چھوڑ کر چلی جائیں…” وہ بولا
“کیا ابھی اسے یہ کہنے کی کوئی کسر تھی کے گھر چھوڑ کر چلی جاؤ ..؟؟؟” کیا وہ تبھی گھر چھوڑ کر جاتی جب تم اسے کہتے… جو کچھ تم تینوں نے کہہ دیا کیا وہ کم تھا…؟؟؟ کیا اس کے بعد بھی وہ تمہارے گھر رکتی…؟؟؟ اتنا کچھ سننے کے بعد اخر اس کا اس گھر میں کھڑے رہنے کا جواز ہی کیا تھا…؟؟؟” وہ بولا
“چاچو پلیز… میرے ساتھ چلیں, ہم مل کر انا کو ڈھونڈ لیتے ہیں, بس ایک بار وہ ہمیں واپس مل جائیں پھر انہیں کہیں نہیں جانے دیں گے” حیان نے کہا
“اسے کہاں ڈھونڈیں گے…؟؟؟ حیان خدا جانے وہ کہاں ہوگی…؟؟؟” یزدان انتہائی پریشان تھا
