Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 19)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

پندرہ سال پہلے

یزدان اگلے ہی دن کراچی چلا گیا تھا… فریحہ کے لاکھ کہنے کے باوجود حمدان نرم نہیں پڑا تھا, یزدان نے اپنے منہ سے سب کچھ قبولا تھا… اب بھلا اس سے بڑھ کر بھی کچھ برا ہو سکتا تھا

حمدان نے اس کی ایک بھی نا سنی… وہ جانے سے پہلے اس کے آفس میں آیا تھا

“بھائی… ہر کسی نے اپنی صفائی دی ہے… میری بھی سن لیں”

“جاؤ یزدان… چلے جاؤ”

“بھائی… میں بہت عزت کرتا ہوں ان کی اور…. ہمیشہ کروں گا” وہ پلٹ آیا تھا

اس کے جانے کے دو گھنٹے بعد ہی بشر اور آئرہ کا نکاح ہو گیا, بشر نے خود بھی زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کیے تھے, وہ بس چند قریبی دوستوں کو لیکر آیا تھا

آئرہ کی آنکھوں میں اس لمحے صرف نفرت تھی… بے تحاشا نفرت… ہر شخص کے لئے

حمدان سے جڑے ہر رشتے کے لئے اور اس نے اب اس نفرت کو ساری عمر پالنا تھا

…………………………….

وہ بھی ایسی ہی ایک کالی سیاہ رات تھی, وہ حسب معمول انعمتا کا سر اپنے بازو پر رکھے ہوئے سو رہا تھا جب اس کی حالت بگڑنے لگی, درد پسلیوں میں جانے لگا تھا, لمحوں میں اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو گیا

“حمدان… کیا ہوا ؟؟؟” وہ اس کی اسقدر نازک صورتحال دیکھ کر ہی حواس باختہ ہو گئی تھی

اس کے ڈائلسز سیشنز تقریبا دو ماہ سے چل رہے تھے لیکن ان سے اسے کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا تھا, بقول ڈاکٹر کے اس کے دوسرے گردے میں بھی پتھری بننی شروع ہو گئی تھی

“حمدان… آپ کو ہاسپٹل لے چلوں؟؟؟” انعمتا نے اس کے لبوں سے پانی کا گلاس لگا دیا

رات کے اس پہر اسے یزدان شدت سے یاد آیا تھا, ہمیشہ وہی اسے ہسپتال لے کر جاتا تھا, ہمیشہ وہی اس کے ساتھ ہوتا تھا… لیکن آج وہ نہیں تھا…

آج وہ اکیلا تھا…!!!

“ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے…” اس نے اپنی ساری ہمت جمع کی اور کھڑا ہو گیا, گھر والوں میں سے کسی کو بھی بتائے بنا انعمتا اسے ہسپتال لے کر آئی تھی, راستے میں اس نے بشر کو فون کیا تھا…. وہ ان دونوں کے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ گیا

“کڈنی ٹرانسپلانٹ… جلد از جلد اور کوئی چارہ نہیں ہے ” ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھ کر ہی کہہ دیا

اگلا پورا ہفتہ وہ ہسپتال میں ہی رہا, آخر کو اس کی یہ بیماری کب تک چھپائی جا سکتی تھی… تقریبا سبھی گھر والوں کو پتہ چل گیا تھا, انعمتا مستقل ہسپتال میں اس کے ساتھ تھی, تین دن بعد اس کا کڈنی ٹرانسپلانٹ کا امآپریشن ہوا جو بقول ڈاکٹر کے فی الحال تو کامیاب ہی تھا… دو ہفتے بعد وہ ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو گیا تھا

لیکن اسے کیا پتا تھا کہ قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا… دھیرے دھیرے وقت گزرتا گیا

اس نے انعمتا کو آفس کا تقریبا سبھی کام سمجھا دیا تھا, اب تو وہ اس کی جگہ میٹنگ اور سیمینار بھی اٹینڈ کرنے لگی تھی, اس کی جگہ پورے ہال کے سامنے کھڑے ہو کر حمدان انٹرپرائزرز کی نمائندگی کرنے لگی تھی, حمدان کی محبت اور توجہ نے دھیرے دھیرے اس کا اعتماد بہت حد تک بحال کر دیا تھا, پہننے اوڑھنے کا سلیقہ بھی پہلے سے بہتر ہو گیا تھا, بات کرنے کا انداز بھی بدل گیا تھا, وہ اسے جس اونچائی پر دیکھنا چاہتا تھا وہ دھیرے دھیرے اس کی طرف گامزن تھی

آئرہ اور بشر کے نکاح کو دو سال ہو گئے تھے اور ان دو سالوں میں اس نے ایک بار بھی مڑ کر اپنے باپ کی دہلیز کی طرف نہیں دیکھا… ان دو سالوں میں کچھ زیادہ بدلاؤ نہیں آیا تھا سوائے اس کے کہ یزدان رات کے اندھیرے میں فریحہ سے ملنے آتا صبح ہوتے ہی واپس چلا جاتا تھا

طارق صاحب اور صفیہ سمیت اس کی دونوں بہنوں کی ذمہ داری بھی حمدان نے خوب نبھائی تھی, وہ ان کے کہے بغیر ان کی ساری ضروریات پوری کر دیا کرتا تھا, اسمارا بی ایس کر رہی تھی جبکہ ارحہ کا میڈیکل میں ایڈمیشن ہو گیا تھا

حمدان کے تینوں بچے پوری طرح انعمتا کے ہو چکے تھے, اس نے اپنی محبت سے ان تینوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا, بظاہر دیکھنے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا

انعمتاکے لئے حمدان کی محبتوں میں کوئی کمی نہیں تھی

حمدان کے لئے انعمتا کی وفاؤں میں کوئی کھوٹ نہیں تھا

حمدان سیف خان, انعمتا حمدان خان اور ان کے تین بچے…. اس کے علاوہ اور بھلا کیا چاہیے تھا…؟؟؟

فریحہ بالکل بھی روایتی ساس کی طرح نہیں تھیں, انہوں نے ہمیشہ انعمتا کو اچھا ہی کہا, اپنی دونوں بیٹیوں کے مقابلے میں ہمیشہ اس کی فیور ہی کی, کیف خان کی دونوں بہوؤں کے مقابلے میں ہمیشہ اس کا دفاع ہی کیا اور ہمیشہ اسے آئرہ کے شر سے بچانے کی کوشش کی

وقت دھیرے سے ذرا اور سرکا تھا

………………………

اس کے اور مایا کے نکاح کو چھ ماہ ہو گئے تھے, وہ ابھی تک اپنے ہی کمرے میں سوتا تھا اور مایا دونوں بچوں کے ساتھ الگ کمرے میں سوتی تھی, وہ بالکل پہلے جیسی ہی تھی… انتہائی مہربان… انتہائی مخلص… انتہائی وفادار

وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال بالکل ایسے ہی رکھتی تھی جیسے پہلے رکھا کرتی تھی, وہ چاہے رات کو کتنا بھی لیٹ کیوں نہ آئے… مایا جاگ رہی ہوتی تھی, سبتین کے جانے کے بعد معیز اور سنایا دونوں ہی اس سے بہت زیادہ اٹیچ ہو گئے تھے

اس رات وہ ذرا جلدی گھر آگیا, زینب کو سلام کرتے ہوئے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا

“حنین کھانا لگا دوں…؟؟؟” مایا نے نیچے کچن میں سے نکلتے ہوئے پوچھا

“ہاں لگا دو…” اس سے کہتا ہوا وہ اوپر چلا گیا, اندر آتے ہی اس نے اپنا بیگ اتار کر صوفے پر پھینکا, پھر کوٹ اتارا اور ٹی وی آن کرتے ہوئے واش روم میں گھس گیا, چینج کرکے باہر نکلا تو یکلخت ہی اس کی نظر ٹی وی سکرین پر جا پڑی, ایک لمحے کو تو وہ جیسے تھم سا گیا تھا

وہ وہی تھی… وہی بے وفا لڑکی جو اسے محبت میں دغا دے گئی تھی, وہ شاید کسی بزنس سمینار کی فوٹیج تھی

بلیک تھری پیس میں ملبوس حمدان سیف خان اور اس کے پہلو میں کھڑی اس کی انتہائی خوبصورت بیوی انعمتا حمدان خان… وہ کتنی خوش تھی…؟؟؟

بات بات پر مسکرا رہی تھی… حمدان کا ایک بازو اس کی کمر کے گرد تھا

کسی صحافی کی بات پر ہنستے ہوئے وہ انعمتا کے کان پر جھکا تھا اور جوابا وہ شرم سے مسکراتے ہوئے اپنا سر اس کے کندھے پر ٹکا گئی تھی

حنین بس سلگتی ہوئی نظروں سے دونوں کو دیکھتا رہ گیا…

“اگر وہ خوش ہے تو تمہیں بھی خوش ہونے کا پورا حق ہے حنین یامن میر… ” کسی نے سرگوشی کی تھی

“اگر اسے خدا نے حمدان جیسے سحر انگیز شخص سے نوازا ہے تو تمہارے حصے بھی آئی اس انتہائی مہربان لڑکی جیسا اور کوئی نہیں ہے” آواز نے دھیرے سے کہا تھا, وہ ٹی وی آف کرتا ہوا نیچے آ گیا, مایا نے کھانا لگا دیا تھا, وہ کچھ دیر بعد کھانا کھا کر باہر نکل گیا, تین چار سگریٹیں پھونکیں, شاید آخری بار انعمتا کا ماتم منایا اور پھر گھر واپس آ گیا

مایا دونوں بچوں کو سلا کر کچن سمیٹ رہی تھی

“مایا… ایک کپ چاۓ بنا دینا پلیز” وہ بولا

“اچھا… ” وہ فوراً بولی تھی, حنین وہیں دروازے میں کھڑا اسے دیکھتا رہا

“میں اوپر دے جاؤں گی” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی, حنین چپ چاپ اوپر چلا گیا

کچھ ہی دیر بعد وہ اس کا کپ لے آئی تھی

“یہ لو… ” وہ کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر مڑنے لگی تھی جب حنین نے اس کی کلائی تھام لی

“بیٹھ جاؤ مایا… اب کونسا سبتین بھائی ہیں جو تمہیں گھسیٹ کر نیچے لے جائیں گے” وہ دھیرے سے بولا تھا مایا تھم سی گئی, پھر ہولے سے اس کے پاس بستر پر بیٹھ گئی

“مایا میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ…. تم اکیلی ہو جاؤ, انہوں نے اس رات تمہیں تھپڑ مارا… خدا کی قسم مجھے اچھا نہیں لگا… مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ…. ” مایا نے اس کی بات کاٹ دی

“حنین مجھے پتہ ہے کہ تم نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا… اٹس اوکے” وہ بولی

“میں جانتی ہوں تمہارا مجھ سے نکاح بس حالات کے پیش نظر ہوا ہے… تم جب چاہو اپنی مرضی سے دوسری شادی کر سکتے ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا” وہ کہتی چلی گئی, حنین ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا تھا

“مایا… ہم ہمیشہ اچھے دوست تھے… اور ہمیشہ رہیں گے… ” اس نے اپنے دونوں بازو اس کی جانب کھول دئے, مایا کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے

“I’ll be with you… forever”

وہ دھیرے سے بولا تھا اور مایا اس کے حصار میں سما گئی تھی

…………………………

اس کا بی بی اے کا لاسٹ سمیسٹر چل رہا تھا, اس رات بھی حمدان کمرے میں آیا تو وہ اپنی بیساختہ خوشی دباتی ہوئی اس کے پاس آ گئی, وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر اس کی طرف کروٹ لیے لیٹا تھا

“میرے مڈز کے سارے پیپرز میں اے پلس گریڈ ہے حمدان… آج کے سیمینار میں سب نے میری اتنی تعریف کی کہ حد نہیں… سر واصف اتنا خوش تھے کہ میں ان کی سٹوڈنٹ ہوں… اور پتہ ہے اس کے بعد کیا ہوا ؟؟” وہ خوشی سے چور لحجے میں کہتی چلی گئی, حمدان یک ٹک اس کا دمکتا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا, ہر شے سے بیگانہ ہو کر بس اسے تکے جا رہا تھا

“میرا ایک کلاس فیلو ہے انس… وہ سیمینار کے بعد میرے پاس آیا اور تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہتا کہ انعمتا میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں… ” وہ کہتے ہوئے ہنستی چلی گئی, حمدان کی آنکھوں میں حسرت سی ابھر آئی

کاش… کاش کے وہ ہمیشہ یونہی ہنستی رہے… اور وہ اسے ہمیشہ یونہی دیکھتا رہے

“میں نے جب اسے کہا کہ میں تو پہلے سے شادی شدہ ہوں تو اس کا چہرہ دیکھنے لائق تھا حمدان… ” وہ کہتی چلی گئی, حمدان نے بس بہت محبت سے اسے اپنی آغوش میں لے لیا تھا

صبح فجر کے قریب اسے گردے میں درد شروع ہوا تھا اور پھر بڑھتا ہی گیا… انعمتا اسے آفس کے لیے جگانے آئی تو وہ پسینے میں شرابور بستر پر اوندھا لیٹا تھا, “حمدان کیا ہوا…؟؟؟” اس کے ہوش اڑ گئے تھے

اسی وقت وہ اسے گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے کر آئی تھی, اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی میں لے گئے, انعمتا نے وہیں کھڑے کھڑے بشر کو فون کر دیا, وہ کچھ ہی دیر میں آ گیا تھا

کچھ دیر بعد ایمرجنسی پر مجبور ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر نکلا

“ڈاکٹر کیا ہوا اسے…؟؟؟” بشر نے پوچھا

“جو کڈنی ٹرانسپلانٹ کیا تھا اس میں پیچیدگیاں شروع ہو گئی ہیں… بہت نازک صورتحال ہے اور دوسرے کڈنی کو ڈائلیسز کرنا پڑے گا” ڈاکٹر کہتا چلا گیا

“اب کیا ہوگا ڈاکٹر…؟؟؟” انعمتا نے پوچھا

“ان کا کڈنی دوبارہ سے ٹرانسپلانٹ کرنا پڑے گا اور جلد از جلد کرنا پڑے گا” ڈاکٹر نے کہا تھا

حمدان کے پاس کسی چیز کی کمی تو نہیں تھی, اسے اگلے ہی دن کسی نے گردہ عطیہ کردیا, اس کے لئے بلڈ بھی ارینج کر لیا گیا تھا, وہ مسلسل ڈائلسز مشین پر تھا, تقریبا دونوں ہی گردے ناکارہ ہو چکے تھے, فریحہ مسلسل اس کے لئے دعا گو تھیں , انعمتا تین دن سے اس کے ساتھ ہسپتال میں تھی

اس ہسپتال کے قابل ترین ڈاکٹر نے اس کی سرجری کی لیکن خدا کو اس کی مزید زندگی منظور نہیں تھی “مجھے ایک بار اپنی بیوی سے ملنا ہے ” اپنی آخری سانسوں پر اس نے ڈاکٹر سے کہا تھا,انعمتا بوکھلائی ہوئی سی اندر اگئی

“حمدان آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کیا آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے…. دیکھیں میں نے اپنا وعدہ پورا کیا… میں نے بی بی اے بھی پورا کر لیا ہے, اور سارا کام بھی سیکھ لیا ہے, اور گھر والوں کو ہینڈل کرنا بھی سیکھ لیا ہے, پلیز آپ بھی اپنا وعدہ پورا کریں… پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جائیں…” وہ اس کے پاس بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی

“انعمتا… میری بات سنو… میرے بچوں کا دھیان رکھنا, میرے بچوں کی حفاظت کرنا… میں نے اپنی وصیت لکھ دی ہے, جب تک میرے بچے بڑے نہیں ہو جاتے حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن تم ہوگی.. میرے حیان کو میری کرسی پر بٹھانا انعمتا… اور میری رعنا کو وہ سب کرنے دینا جو وہ کرنا چاہے… اور…” حمدان کی سانس اکھڑی تھی

“…اور میری دانی کو.. کبھی رونے مت دینا” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا

“حمدان…” انعمتا بلک بلک کرو پڑی

“…اور… اگر کبھی وہ لوٹ کر آۓ… تو اس کی ہو جانا انعمتا… “وہ اس سے کیا ہر وعدہ ایک لمحے میں توڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا

اس کا جنازہ نماز فجر کے بعد رکھا گیا…. اسے قبر میں اتارتے وقت سب سے دل سوز حالت یزدان کی تھی

وہ اسے بنا معاف کیے ہی انکھیں موند گیا تھا

…………………………

ایک قیامت ہی تو تھی جو ان تین معصوم بچوں پر ایک دم سے ٹوٹ پڑی تھی, مائرہ کا جانا تو انہوں نے جیسے تیسے برداشت کر لیا لیکن حمدان کا جانا وہ بھول نہیں پا رہے تھے

بعض اوقات تو وہ تینوں اس قدر روتے کہ انعمتا سے انہیں سنبھالنا دوبھر ہوجاتا تھا, حمدان کو گزرے آٹھ دن ہو چکے تھے, یزدان ابھی تک یہیں تھا, حمدان کی موت پر آئرہ نے اس گھر میں قدم رکھا تھا

اس دن صبح سے ہی اس کی طبیعت مضمحل سی تھی, بار بار ابکائیاں آ رہی تھیں, بڑی ہی مشکلوں سے اس نے تینوں بچوں کو ناشتہ کروایا… اتنے دنوں سے وہ آفس بھی نہیں جا سکی تھی, اب بھی وہ سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی تو یکدم زور دار چکر آیا, صفیہ نے بھاگ کر اسے تھاما تھا

” انعمتا بچے کیا ہوا… ؟؟؟” وہ اسے سہارا دے کر صوفے تک لے آئیں, اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی, اسے ایک دم ابکائی آئی تھی… وہ ایک دم اٹھ کر کچن کی طرف بھاگی اور پھر چکر کھا کر وہیں فرش پر گر گئی, صفیہ اور یزدان اسی وقت اسے لے کر قریبی کلینک پر آۓ تھے

She is expecting..

وہ لیڈی ڈاکٹر کے منہ سے یہ الفاظ سن کر بلک بلک کرو رو پڑی تھی

اس کی نازک صورتحال کے پیش نظر صفیہ اور طارق اسے تھوڑی دیر کے لئے اپنے گھر لے آئے, وہ مسلسل آٹھ دنوں سے بے آرامی کی کیفیت میں تھی, ساری ساری رات جاگتی رہتی تھی

فریحہ نے بھی اس کی حالت دیکھتے ہوئے صفیہ کو اسے ساتھ لے جا لینے دیا تھا

………………………..

شام تقریبا چھ کا وقت تھا جب اس نے ڈرائیور کو فون کرکے گاڑی منگوائی, وہ کل شام سے طارق اور صفیہ کی طرف تھی, نہ جانے پیچھے بچوں کا کیا حال تھا… ڈرائیور دس منٹ تک آ گیا, وہ گھر پہنچی تو باہر کوئی بھی نہیں تھا

اندر داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹھک گئی, کھانے کی میز طرح طرح کے لوازمات سے پر تھی, آئرہ, اس کی ماں, دونوں بھابھیاں اور اس کی دونوں نندیں کرسیوں پر براجمان تھیں, دس سالہ رعنا اور نو سالہ حیان کیف خان کی بہوؤں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھاۓ کھلا رہے تھے جبکہ سات سالہ دانین اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کھانے کے برتن رکھ رہی تھی

انعمتا کو یکلخت ہی غصہ آیا تھا

“رانی… آنٹی کہاں ہیں ؟؟” اس نے ملازمہ سے پوچھا, ان سب نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا

“وہ.. بی بی جی یزدان صاحب کے ساتھ کلینک تک گئی ہیں” وہ. بولی

“تم دوبارہ یہاں کیوں آئی ہو… ؟؟” آئرہ اٹھ کھڑی ہوئی

“جس سے تمہارا رشتہ تھا وہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے ” وہ تڑخ کر بولی

“اس سے میرا رشتہ مرتے دم. تک رہے گا سمجھیں… دانی یہاں آؤ” اس نے ایک دم. اسکے ہاتھوں سے برتن چھینے تھے

“ابھی دس دن بھی نہیں ہوۓ تمہارے بھائی کو اس دنیا سے گئے اور تم نے اس کی اولاد کو نوکر بنا دیا… ” وہ شاہین اور بلقیس پر برس پڑی

“میں ایک دفعہ کہوں گی کہ نکلو یہاں سے… ” آئرہ زور سے چیخی

“یہ مجھے تم سے کہنا چاہئے آئرہ کیف خان… کیونکہ جہاں تم کھڑی ہو …یہ گھر میرا ہے” انعمتا نے کہا

“بکواس بند کرو اپنی” وہ دہاڑی

“یہ بکواس نہیں ہے… میں نے بلایا ہے اپنے وکیل کو, حمدان کی وصیت جلد ہی تم بھی سن لینا” وہ تینوں بچوں کو لیکر اوہر چلی گئی تھی

کچھ ہی دیر میں وکیل آ گیا

بقول وصیت کے… حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن اب انعمتا حمدان خان تھی

ان کا آبائی گھر جس میں موجود کیف خان کا حصہ جو کہ وہ پہلے ہی حمدان کو دے چکے تھے وہ انعمتا کے نام تھا, اس کا دل کرتا تو انہیں وہاں رہنے دیتی… نہیں تو نکال باہر کرتی, یزدان کا حصہ پہلے ہی اس کے نام تھا, حمدان کی. کسی بھی زمین, جائیداد یا بینک بیلنس پر ان میں سے کسی کا کوئی حق نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی ایک گھر کیف خان کے نام کر گیا تھا

“اگر آپ لوگ یہاں رہنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن… انسانوں کی طرح” اس نے قہر بار نظروں سے آئرہ کو گھورا تھا

سبھی نے خوب شور مچایا… خوب

لیکن اسے حمدان کی بات یاد تھی.. ہم اپنے ہر عمل کے لئے ہر ایک کے آگے جوابدہ نہیں ہوتے… اور ہونا بھی نہیں چاہئے

دو دن بعد ہی بغاوت کھڑی ہو گئی, شاہین اور بلقیس کے شوہروں نے اسے چیئر پرسن ماننے سے انکار کر دیا تھا, لیکن وہ یہ بھول گئے کہ وہ حمدان نہیں تھی جو ہر بار ان کا لحاظ کر جاتا تھا… وہ انعمتا حمدان خاں تھی جسے ان سے کوئی سروکار نہیں تھا, اس نے اسی وقت ان دونوں کو ایڈوانس تنخواہیں دے کر نکال باہر کیا

یزدان کچھ دن بعد کراچی واپس چلا گیا تھا, شاہین اور بلقیس نے فریحہ کے آگے خوب ہی رونا پیٹنا ڈالا, انعمتا کے خلاف اچھا ہی بولیں, فریحہ بس سنتی رہیں اور اگلے ہی دن انہوں نے یزدان کو فون کر دیا, انعمتا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ یزدان کے ساتھ کراچی چلی گئی تھیں

“آپ بھی مجھے چھوڑ کر جا رہی ہیں ؟؟؟” وہ رو پڑی تھی

“میرا ہونا تجھے کمزور کر دے گا انعمتا… جیسے حمدان ہمیشہ میری وجہ سے گھر والوں کے آگے جھکتا رہا, کبھی میرے منہ کو بہنوں کو نوازے گیا, کبھی چچا کو… کبھی چچا کے بیٹوں کو…میں یہاں رہی تو تیرے ساتھ بھی یہ ہی ہو گا… تو بھی ہمیشہ ان کے ورغلانے میںنآتی رہے گی, مجھے جانے دے… میرا جانا ہی بھلا ہے” وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھیں

اگر وہ یہیں رہتیں… تو صرف ان کے منہ کو انعمتا کبھی بھی ان دیمک زدہ رشتوں سے جان نا چھڑوا پاتی, وہ بس ان کی بات سن کر خاموش ہو گئی تھی

ان کے کراچی جاتے ہی اس نے ایک ایک کر کے ان تمام جونکوں کو کھینچ کھینچ کر اتارنا شروع کر دیا جو حمدان سے چمٹی اس کا خون نوچ رہی تھیں, کیف خان کے دونوں بیٹوں کو بڑے طریقے سے اس نے کسی اور کمپنی میں ایڈجسٹ کروا دیا تھا کیونکہ یہاں تو بس مفت کے ٹکڑے تھے جو وہ توڑ رہے تھے, یہ ہی حال جاوید اور ماجد کا ہوا, جب انہیں محنت کر کے کھانا پڑا تو عقل ٹھکانے آ گئی

گھر والی سیاست کو بھی ختم کرنا تھا, روز روز سکے جھگڑوں سے تنگ آ کر اس نے نئے گھر کی پوری طرح فرنشنگ کروائی اور تینوں بچوں کے ساتھ وہاں شفٹ ہو گئی, کیف خان اور ان کی بیوی اپنا آبائی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں تھے, کچھ ہی دنوں میں اس نے سنا کہ ان کے دونوں بیٹوں نے اس گھر کا بھی بٹوارہ کر دیا تھا

فریحہ کے لئے حمدان الگ سے ایک پلاٹ چھوڑ گیا تھا جو فریحہ کے ہی نام تھا

زندگی رفتہ رفتہ معمول پر آتی جا رہی تھی, اس نے حمدان کے جانے کے بعد حمدان انٹرپرائزرز کو بہت اچھی طرح سنبھالا, تینوں بچوں کی اچھی سے اچھی تربیت کی, دن بدن وہ اس کمپنی کو اونچائی کی طرف ہی لے جا رہی تھی

……………………………

حمدان کے جانے کے نو ماہ بعد اس نے سنان کو جنم دیا تھا… وہ ننھا سا وجود جس ساری عمر باپ کے لمس سے نا آشنا ہی رہنا تھا, وہ تا دیر اسے سینے سے لگاۓ روتی رہی

“حمدان… آپ کو تو پتہ بھی نہیں تھا… ” وہ بس یہ ہی کہے جا رہی تھی, صفیہ نے بمشکل اسے حوصلہ دیا, فریحہ اور یزدان بھی آۓ تھے, وہ بس فریحہ کو ہسپتال چھوڑ کر وہیں سے واپس چلا گیا, انعمتا نے بس اس کی شکل حمدان کی موت پر ہی دیکھی تھی

دو دن بعد وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئی, فریحہ اس کے پاس ہی تھیں, وہ تینوں بچے اس روئی جیسے پھوۓ کو چھو چھو کر خوش ہو رہے تھے

“انعمتا… ” اس رات فریحہ نے اس کے کمرے میں آئی تھیں

“ایک بار یزدان کی بات سن لے…. ” وہ ایک ماں تھیں, وہ ماں جس کا ایک بیٹا دنیا چھوڑ گیا تھا اور دوسرے کو ہمیشہ کے لئے سزا کی زنجیروں میں باندھ گیا تھا

“انعمتا خدا کی قسم… میں نے واقعی کچھ نہیں کیا, اگر مءں اس دن قرآن. پر ہاتھ رکھ دیتا تو جھوٹا کون. ہوتا ؟؟؟ میں نے بس اپنی مقدس کتاب کا مان رکھا… کسی ایک کو تو جھوٹا ہونا ہی تھا نا… پلیز مجھے معاف کر دیں انعمتا, میں نے ہمیشہ آپ کی بہت عزت کی ہے, اور ہمیشہ کروں گا, اپنے بچوں کے بعد حمدان بھائی کو اگر کوئی ہستی عزیز تھی تو وہ آپ ہیں انعمتا…. اگر آپ مجھے معاف کر دیں گی تو شاید بھائی بھی روز قیامت مجھے معاف کر دیں… ” وہ اس کے پاس فرش پر بیٹھا کہتا چلا گیا

“میں نے تمہیں معاف کیا یزدان…. ” وہ دھیرے سے بولی تھی

“میری طرف سے تمہیں کوئی سزا نہیں ہے…. تم جب چاہو اپنے شہر واپس آ سکتے ہو” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی

“حالانکہ آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی… آپ جب آواز دیں گی میں حاضر ہو جاؤں گا” وہ نظریں نہیں اٹھا پا رہا تھا

“ساری زندگی کسک میں مت گزار دینا یزدان… حمدان بھی. معاف کر دیں گے تمہیں” وہ بولی تھی

……………………..

وہ اکیس سال کی عمر میں حمدان انٹرپرائزرز کے چیئر پرسن کی کرسی پر بیٹھی تھی… تب اس کی کمپنی ساتویں نمبر پر تھی, ہاشمی ٹریڈرز کی دھومیں مچی ہوئی تھیں… وہ شہر کی ٹاپ کمپنی مانی جاتی تھی

اس کے ساتھ جن چند مخلص لوگوں نے ہمیشہ ساتھ نبھایا ان میں ایک بشر تمیم ہاشمی بھی تھا جو حمدان کے جانے کے محض دو سال بعد ہی آنکھیں موند گیا تھا

قسمت نے کیا ہی بازی پلٹی تھی… اس کی بیٹی تب صرف دس سال کی تھی, سو ہاشی ٹریڈرز کی چیئر پرسن اس کی بیوہ کو بنا دیا گیا

مس آئرہ کیف خان… جس نے کبھی اپنے سر نیم میں اپنے شوہر کا نام استعمال نہیں کیا

بشر کی موت کی خبر سن کر بہت دیر تک تو انعمتا کو یقین نا آیا… بہت سوچنے کے بعد اس نے یزدان کو کال کی تھی

“یزدان…. بشر بھائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے” وہ دھیرے سے بولی

“جی مجھے پتہ ہے… میں ان کے گھر پر ہی ہوں” وہ بولا تھا

“ان کے جنازے میں ضرور شریک ہونا یزدان… میں تھوڑی دیر تک آتی… ” وہ رو پڑی تھی, یزدان نے اس کی بات کاٹ دی

“انعمتا… آپ مت آئیں, وہ مجھے دیکھ کر کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑی ہے, آپ کو دیکھ کر پھر بے قابو ہو جاۓ گی… آپ رہنے دیں” یزدان نے کال کاٹ دی تھی

………………………..

وہ بشر کی موت کے بعد دوبارہ کراچی نہیں گیا تھا, فریحہ کے لئے حمدان جو پلاٹ چھوڑ گیا تھا اس نے اس پر گھر بنوایا اور فریحہ کو وہاں لے گیا, انعمتا سے اس کی بات چیت نا ہونے کے برابر تھی, بچے بھی جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے, مصروفیتیں بھی بڑھتی چلی گئیں

اس دن وہ بینک گیا تھا, اپنا بزنس شروع کرنے کے لیے اس نے اپنے حصے کی زمین فروخت کر دی تھی, وہیں اسے حنین ملا تھا

“حنین… ؟؟؟” وہ بڑی گرمجوشی سے اس سے گلے ملا

“کیا حال ہے ؟؟؟”

“فائن… تو سنا… ؟؟؟”

باتوں ہی باتوں میں یزدان.کو پتہ چلا کہ وہ بھی نوکری چھوڑ کر بزنس کرنے کے چکروں میں تھا

دونوں ہی قابل تھے… تجربہ کار تھے, دونوں کے پاس سرمایہ تھا

سو ان دونوں نے آپس میں پارٹنرشپ کر کے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کھڑی کر لی تھی

انعمتا پوری طرح بزنس میں گم ہو گئی, اس نے آگے پیچھے ہی اسمارہ اور ارحہ کی شادیاں کی تھیں

دس سال… پورے دس سال اسنے. بزنس انڈسٹری پر راج کیا… اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ حمدان انٹرپرائزرز کو نمبر ون پوزیشن پر لے آئی…وہ پورا سال اس کا تھا

اس سال کا ہر ایوارڈ اس کے لئے تھا

وہ سال ہاشمی ٹریڈرز کے لئے خوفناک ترین سال تھا, وہ کمپنی ٹاپ ٹین میں بھی شامل نہیں رہی تھی

حیان نے جیدے ہی اپنا بی بی اے مکمل کیا… انعمتا نے اس کے باپ کی کرسی اس کے حوالے کر دی تھی

رعنین کو وہ سب کرنے دیا جو وہ کرنا چاہتی تھی… اور دانین… اس کی پوری کوشش کے باوجود دانین کی آنکھوں میں آنسو چمک اٹھتے تھے

ان دس سالوں میں اس نے ایک کے بعد ایک طارق اور صفیہ کو بھی کھو دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *