Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 22)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

اسے ہوش آ گیا تھا, مندی مندی سی آنکھوں سے اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں… سنان اس کے پاس ہی فرش پر گرا سو رہا تھا, اس کے دونوں ہاتھ کمر کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور منہ پر ٹیپ لگی ہوئی تھی, اس سے پہلے کہ وہ سنان کو جگاتی… کمرے کا دروازہ کھلا اور آئرہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی

” دیکھا… دنیا ٹھیک ہی کہتی ہے, سوتیلے رشتے کبھی سگے ہو ہی نہیں سکتے چاہے ان کے لیے پوری جوانی ہی کیوں نہ پھونک دی جائے…” وہ دھیرے سے اس کے پاس پنجوں کے بل بیٹھی اور اس کے منہ پر سے ٹیپ کھینچ دی

“اتنی گری ہوئی حرکت کا کیا مقصد ہے..؟؟؟” انعمتا نے پوچھا

“تمہارے سوتیلے بچوں کو اب تک تمہاری گمشدگی کے بارے میں پتہ چل گیا ہوگا, میں بس زاہا کے نکاح تک تمہیں یہاں رکھوں گی اور جیسے ہی وہ رخصت ہو کر اپنے گھر جائے گی تمہیں کسی چلتی بس یا ٹرک کے آگے تھکا دے دوں گی… خس کم جہاں پاک” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی

“جانتی ہو آئرہ… اس لمحے بھی تمہاری آنکھوں میں مجھے کیا نظر ارہا ہے…؟؟؟ ہار… وہ ہار جو ہمیشہ سے تمہارا مقدر رہی ہے” انعمتا نے کہا

“اس بار میں نے اپنا مقدر بدل دیا ہے انعمتا حمدان خان… ” وہ بولی

“نہیں آئرہ… تمہارا مقدر آج بھی وہی ہے… تم آج بھی مجھے انعمتا حمدان خان کہتی ہو… کیونکہ تم مان چکی ہو کہ حمدان میرا تھا” وہ مسکرائی

“ہم کسی جانور کے ساتھ بھی پندرہ سال گزاریں تو وہ بھی ہمارا گرویدہ ہو جاتا ہے وہ تینوں تو پھر انسان ہیں…وہ مجھے ڈھونڈ لیں گے آئرہ کیف خان… اور… ” وہ ذرا سا رکی

“…ان سے بھی پہلے مجھے وہ ڈھونڈ لے گا جو آج بھی مجھ سے محبت کرتا ہے…” وہ مسکراتی چلی گئی تھی… آئرہ بس اسے دیکھتی رہ گئی تھی

……………………….

اسے یزدان سے انعمتا کی گمشدگی کے بارے میں پتہ چلا تھا… اور وہ سنتے ہی کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا…انعمتا کو غائب ہوۓپوری ایک رات اور پورا ایک دن ہو گیا تھا

یزدان اور حیان نے اسے ہر جگہ تلاش کر لیا, سارے ممکنہ ٹھکانے چھان مارے, سارے قریبی دوستوں سے پتہ کروا لیا لیکن بے سود… وہ کہیں بھی نہیں تھی

دھواں دار گاڑی چلاتے ہوئے وہ سب سے پہلے حیان کے سر پر پہنچا تھا

وہ تینوں لاؤنج میں ہی آڑے ترچھے سے بیٹھے تھے… دانین کا رو رو کر برا حال تھا… یزدان بھی وہیں تھا جب وہ آندھی طوفان کی طرح اندر آیا

“کہاں گئی ہے وہ ؟؟؟” وہ دہاڑ کر بولا تھا

“حنین… ذرا حوصلے سے” یزدان جو اس کے تیوروں سے خوف آیا تھا

“بھاڑ میں گیا حوصلہ… کیوں نکالا اسے گھر سے ؟؟؟” وہ حیان کی طرف آیا تھا

“میں نے نہیں نکالا… ” وہ خود انتہائی پریشان تھا

“تو پھر کہاں چلی گئی وہ ؟؟؟ ” حنین نے زور سے کہا تھا

“حنین… یار بس کر, مل جائیں گی وہ” یزدان نے اس کا بازو پکڑا تھا

“کیا یزدان یار… ہر بار کیا یہ ہی ہو گا میرے ساتھ… پندرہ سال پہلے بھی وہ مجھ سے چھن گئی تھی ان کے باپ کی وجہ سے… اور آج پھر وہ مجھ سے چھن گئی ہے ان تینوں کی وجہ سے… ” وہ دہاڑا

“اپنے باپ کا ہی خون ہو تم تینوں… اسی کی طرح خود غرض اور مطلب پرست… اس نے بھی صرف اپنا سوچا, اپنی کمپنی کا, اپنے بچوں کا… یہ نہیں سوچا کہ جب وہ نہیں ہو گا تو وہ کیا کرے گی… بارہ سال سے وہ لڑکی تنہا ہے… اور آج تم تینوں نے بھی وہ ہی کیا, صرف اپنا سوچا…. اس کا کسی نے نہیں سوچا” وہ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا

“سوتیلی ماں کو تو دھکا دے دیا…. اس دس سالہ باپ جنے پر تو ترس کھا لیتے ” وہ بولا

“میری ایک بات یاد رکھنا تم تینوں… اگر اسے کچھ ہو گیا نا تو میں ایک ایک کو زندہ گاڑھ دوں گا” وہ انگلی اٹھا کر کہتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا تھا

……………………..

“ماما… ہم یہاں سے کب جائیں گے ؟؟؟” سنان اس کے کندھے پر سر رکھے بیٹھا تھا

“پتہ نہیں بیٹے… ” وہ بولی

“ماما ہمیں اس آنٹی نے یہاں کیوں بند کر رکھا ہے؟؟”

“بیٹے وہ مجھ سے نفرت کرتی ہیں…. اسلیے “

“حیان بھائی ہمیں ڈھونڈ لیں گے… ہیں نا ماما ؟؟” وہ بولا

“انشاءاللہ…. ” وہ بولی اور ساتھ ہی آہٹ کی آواز آئی تھی

تبھی دروازہ کھلا اور آنے والے کو دیکھ کر انعمتا ششدر سی رہ گئی

“سوری میم… میں ذرا لیٹ ہو گیا” وہ اس کے پاس بیٹھا تھا

“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں؟؟” وہ حیران تھی

“ابھی تھوڑی دیر پہلے رعنین نے بتایا کہ آپ کل رات سے غائب ہیں… مجھے تبھی اندازہ ہو گیا کہ یہ کارنامہ میری مام کا ہی ہو سکتا ہے” وہ اس کے ہاتھ کھولتے ہوئے بولا تھا, انعمتا نے جلدی سے سنان کے ہاتھ کھولے تھے

“اپنی مام سے کیا کہو گے اب ؟؟؟”

“یہ ہی کہ میں اور آپ ایک ہی ٹیم ہیں ” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا

“آپ کو کہاں چھوڑوں؟؟” اس نے باہر آتے ہوئے پوچھا

“کسی کو بتاؤ گے تو نہیں…. ؟؟؟” جواباً اس نے اپنا منہ بند رکھنے کا اشارہ کیا تھا

“چلو… ” وہ اس کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی تھی

………………………

دھاڑ سے اس کے آفس کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ اندر آیا تھا

آئرہ نے بڑے اچنبھے سے اسے دیکھا

“انعمتا کہاں ہے ؟؟؟” اس نے بمشکل خود پر قابو رکھا ہوا تھا

“آپ کو وہ یہاں نظر آ رہی ہے مسٹر حنین… ؟؟؟” وہ بولی

“بس آئرہ کیف خان… بہت ہو گیا… میں آخری بار پوچھوں گا کہ انعمتا کہاں ہے ؟؟؟” وہ اس کی میز پر دونوں ہاتھ ٹکاتے ہوۓ بولا تھا

“یہ تم مجھ سے کس لحجے میں بات کر رہے ہو ؟؟” وہ سارے آپ جناب لمحوں میں بھول گئی تھی

“آج رات کو زاہا اور معیز کی مہندی ہے مس کیف خان… اور اگر تم چاہتی ہو کہ سب کچھ ویسے ہی ہو جیسے تم چاہتی تھیں تو مجھے ابھی اسی وقت بتا دو کہ انعمتا کہاں ہے ؟؟؟” وہ سرد لحجے میں بولا تھا

“تمہیں اس کی اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے بھلا… ؟؟؟” آئرہ نے پوچھا

“وجہ وہی ہے جو ہر بار ہوتی ہے….اور وجہ ہر بار محبت ہی ہوتی ہے آئرہ کیف خان… ” وہ بولا اور آئرہ بس ساکت سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی

انعمتا نے درست کہا تھا…

“میں نے پوچھا… انعمتا کہاں ہے ؟؟” وہ پھر بولا

“مجھے نہیں پتہ… ” آئرہ نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی

حنین نے چند لمحوں بعد اپنا سیل نکالا اور معیز کو کال ملا لی

“معیز…. یار ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے سو رات کا فنکشن کینسل کرنا پڑے گا… بلکہ فی الحال یہ شادی ہی کینسل سمجھو… جتنے مہمانوں کو کارڈز بانٹے ہیں انہیں کال کر دو کہ… شادی منسوخ ہو گئی ہے” معیز سے کہہ کر اس نے کال ڈس کنکٹ کر دی پھر یزدان کو کال ملائی

“یزدان… ایک پریس کانفرنس کرنی ہے یار ابھی… ہم ہاشی ٹریڈرز سے پارٹنرشپ ختم کر رہے ہیں… آج اور ابھی سے ہماری آئرہ کیف سے ہر قسم کی ڈیلنگ ختم…. ” آئرہ نے ایکدم اس کی بات کاٹی تھی

“میں بتاتی ہوں وہ کہاں ہے… ؟؟؟” اس کے کہتے ہی حنین رک گیا

“میں تمہیں وہاں لے چلتی ہوں لیکن… یہ سب مت کرو” وہ پوری ہاشمی ٹریڈرز داؤ پر لگا کر بیٹھی تھی, حنین نے کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا

آئرہ اسے اس فارم ہاؤس پر لے آئی جہاں اس نے انعمتا کو بند کر رکھا تھا

“وہ اندر ہے… ” آئرہ نے کہا

“انعمتا… ” اسے آواز دیتا ہوا وہ اندر چلا گیا, آئرہ بھی اس کے پیچھے اندر آئی تھی

حنین نے سارا فارم ہاؤس چھان مارا… وہ کہیں بھی نہیں تھی, آئرہ کو اس کے ہاتھوں پر بندھا کپڑا وہیں پڑا نظر آ گیا تھا

“کہاں گئی وہ ؟؟؟” حنین کو غصہ آ گیا

“میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ… وہ یہیں تھی, ابھی کچھ دیر پہلے وہ یہیں تھی…. شائد بھاگ گئی ہو گی” آئرہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی

حنین نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے اپنا پرسنل ریوالور نکالا اور اس کے ماتھے سے لگا دیا

“میری ایک بات کان کھول کر سن لو… اگر اسے کچھ ہوا تو میں صرف تمہاری زندگی ہی برباد نہیں کروں گا بلکہ تمہاری موت بھی اجیرن کر دوں گا” وہ انتہائی سرد لحجے میں کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا

“زارون… ” آئرہ نے سرگوشی میں کہتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں

……………………….

تقریباً شام چار بجے کا وقت تھا جب وہ یزدان کے گھر پہنچی… زارون اسے اتار کر وہیں سے واپس پلٹ گیا تھا

اس کی قسمت کے یزدان گھر پر ہی تھا… انعمتا اور سنان کو اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑے دیکھ کر وہ دم بخود رہ گیا

“تمہارے گھر میں بھی میرے لئے کوئی جگہ ہے یا نہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا, یزدان نے آگے بڑھ کر سنان کو اپنے ساتھ لگایا تھا

“یہ آپ کا گھر ہے انعمتا… ” وہ اسے اندر لے آیا, فریحہ نے بھی اسے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا تھا, یزدان نے احتیاطاً دروازہ بند کر دیا

“بچے کیسے ہیں یزدان… ؟؟؟” اس نے پوچھا, سنان کو فریحہ اپنے ساتھ لے گئیں تھیں, وہ بھوک بھوک کرنے لگا تھا

“شرمندہ ہیں… بہت شرمندہ ہیں, دانین کے تو آنسو ہی نہیں تھم رہے… حیان سارا دن ٹی وی لاؤنج میں پڑا ادھر ادھر فون کھڑکاتا رہتا ہے… اور… رعنین کی حالت سب سے خراب ہے, وہ رو بھی نہیں پا رہی کہ اندر سے غبار ہی نکل جاۓ” یزدان نے کہا

“جانتے ہو یزدان…. میرے لئے ان تینوں کا یہ رد عمل بہت زیادہ شاکنگ نہیں تھا… حمدان نے بہت پہلے مجھے اس خطرے سے باور کروا دیا تھا, انہوں نے ڈائلسز مشین پر لیٹے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ انعمتا جب تک تینوں بچے چھوٹے ہیں تب تک تم ان کے کچے ذہن صاف کر لو گی لیکن… اگر ان کے بڑے ہونے کے بعد کسی نے ان کے ذہنوں میں زہر گھولا… تو وہ صاف نہیں ہو پاۓ گا…. انہوں نے مجھے کہا تھا کہ دنیا کی نظروں میں سوتیلی ماں ہمیشہ سوتیلی ہی رہتی ہے بھلے ہی وہ اپنی اولاد پر جان ہی کیوں نا وار دے… ” وہ کہتی چلی گئی

“انعمتا وہ تینوں دل سے ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں… بس محبت میں ہارے ہوئے ہیں اسلیے چوٹ زیادہ لگی ہے, کم سن ہیں اسلیے درد برداشت نہیں کر پا رہے, اب ہر کوئی زارون حاطب کی طرح سمجھدار اور مضبوط تو نہیں ہوتا کہ محبت کے رموز و اوقاف جوانی میں ہی سیکھ سکے” یزدان نے کہا

“وہ تینوں میرے دل کا حصہ ہیں یزدان… اسی لئے تو میرے دل کو اتنی تکلیف ہوئی ہے” انعمتا نے کہا

“اگر آپ اس لمحے ان تینوں کی حالت دیکھ لیں تو برداشت نہیں کر سکیں گی… وہ بھوکے پیاسے بس آپ کو ڈھونڈنے کے جتنوں میں لگے ہوئے ہیں” یزدان نے کہا

“اور حنین… ؟؟؟” اس نے پوچھا

“حنین یامن میر کے ہاتھوں میں ریوالور ہے جو وہ اب تک آئرہ کیف خان کے ماتھے سے لگا چکا ہو گا” یزدان دھیرے سے مسکرایا تھا, انعمتا ششدر سی اسے دیکھتی رہ گئی

“وہ آتش فشاں بنا پھر رہا ہے انعمتا…” یزدان نے کہا

“یزدان… میں چاہوں تو اسی وقت واپس جا کر اس سارے تماشے کو ختم کر دوں لیکن… کچھ عرصے بعد پھر وہی ہو گا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے, ہمیشہ آئرہ کیف خان نامی اس سانپ کو ڈرا کر بھگا دیا جاتا ہے… اس کا سر نہیں کچلا جاتا… اس بار اس کا سر کچلنا ہے” وہ بولی

“اور اگر تم چاہو…. تو اس بار اس سے اپنی بربادی کا تھوڑا بہت بدلہ لے سکتے ہو” انعمتا نے کہا

“میں سمجھ گیا ہوں انعمتا… آپ سکون سے یہاں رہیں… اس کھیل کو اب میں خود ہی کھیل لوں گا” وہ بولا

“اس نے ہمارے تین پراجیکٹس ہتھیا لئے ہیں یزدان… حیان کو بہت بڑا دھچکا لگاۓ گی وہ… اگر تم حنین سے بات کرو کہ… ” اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی, بیرونی دروازہ بڑی زور سے بجا تھا

“انعمتا… آپ اندر جائیں, امی سنان کو اوپر لے جائیں ” وہ دھیرے سے کہتا ہوا باہر چلا گیا

“یزدان… ” حنین گرجتا ہوا ندر آیا تھا

“انعمتا کو اس شاطر عورت نے ہی اغواء کروایا ہے… میں ابھی اس کے فارم ہاؤس سے ہی واپس آیا ہوں, بقول اس کے وہ بھاگ گئی ہو گی لیکن… مجھے یقین ہے کہ اس دھوکے باز عورت نے اسے اور اس کے بیٹے کو کہیں اور چھپا کر رکھا ہے اور… اس سے کوئی بعید نہیں کہ اس نے انعمتا کو…. ” اس سے آگے اس سے بولا نا گیا

“حنین… اب کیا کریں ؟؟؟”

“میں نے اسے کل تک کا وقت دیا ہے… اگر کل تک انعمتا نا ملی تو وہ عورت سلاخوں کے پیچھے ہو گی… تو دیکھ لینا” وہ بولا, انعمتا دروازے کی اوٹ میں کھڑی سب سن رہی تھی

“حنین…. میرے خیال سے ہمیں اسے پارٹنرشپ کا ڈراوا دینا چاہئے ” وہ بولا

“پارٹنرشپ گئی بھاڑ میں… تو بس دیکھتا جا کہ میں اس عورت کا حشر کیا کرتا ہوں… اس نے مجھ سے کمٹمنٹ کی تھی کہ نقصان صرف حمدان انٹرپرائزرز کو پہنچایا جاۓ گا… اس کی چیئر پرسن کو نہیں… اور اس نے کمٹمنٹ توڑ دی… اگر مجھے کل تک انعمتا نہیں ملی تو اس عورت کی سات پشتیں یاد رکھیں گی کہ اس کا مجھ سے پالا پڑا تھا” وہ گرجتا جا رہا تھا, اندر کھڑی انعمتا کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ بکھر گئی…

وہ ہمیشہ سے اسی کا تھا… پھر کیا تھا جو بیچ میں پندرہ سال حائل تھے… وہ پندرہ سال بعد بھی اسی کا تھا

“حنین.. سب ٹھیک ہو جاۓ گا” یزدان نے کہا

“یزدان… میں تھوڑی دیر کے لئے ہال تک جا رہا ہوں, رات کو مہندی ہے… اگر کل تک انعمتا نا ملی تو مجھے معیز کو بھی سمجھانا ہے کہ… بھاڑ میں گئی یہ شادی” وہ تن فن کرتا ہوا باہر نکل گیا تھا

یزدان دروازہ بند کر کے پلٹ آیا, انعمتا بھی اندر سے نکل آئی تھی

“دیکھا آپ نے… مجھے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے… یہ خود ہی اس کا دماغ ٹھکانے لگا لے گا” یزدان دھیرے سے مسکرا دیا

“آئرہ کے ساتھ رہ رہ کر اس کا دماغ بھی شاطرانہ ہو گیا ہے…” وہ بھی مسکرا دی تھی

…………………………

چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کی ماں کا تھپڑ اس کے گال پر پڑا تھا… وہ بس سر جھکاۓ کھڑا رہ گیا

“کہاں ہے وہ ؟؟؟” وہ زور سے دہاڑی تھی

“پتہ نہیں… ” وہ بولا

“زارون…. میں آخری بار پوچھ رہی ہوں کہ وہ کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“پتہ نہیں… ” ساتھ ہی اسے دوسرا تھپڑ پڑا تھا

“تو نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا زارون… ” وہ چیخی

“آپ نے انہیں وہاں کیوں رکھا ؟؟” زارون نے پہلی بار سر اٹھایا تھا

“میرا بس چلے تو میں اسے جہنم واصل کر دوں… ” وہ بولی

“کیوں ؟؟؟” کیا بگاڑا ہے اس نے آپ کا… اگر سچ کہیں تو آج اس کی وجہ سے آپ ہاشمی ٹریڈرز ی چیئر پرسن ہیں” وہ بولا

“مجھے حمدان انٹرپرائزرز کی چیئر پرسن بننا تھا… ” وہ بولی

“جو چیز خدا نے آپ کے مقدر میں لکھی ہی نہیں… وہ آپ زبردستی کیسے حاصل کر لیتیں ؟؟؟ اور جو چیز خدا نے انعمتا کے مقدر میں لکھ دی وہ آپ زبردستی کیسے ان سے چھین لیتیں… ؟؟؟ جو ان کا تھا… وہ انہیں مل گیا… اور جو آپکا تھا… وہ آپ کو… پھر لڑائی کس بات کی مام ؟؟؟ ” وہ کہتا چلا گیا

“اس نے میری محبت چھین لی تھی… ” وہ بولی

“وہ محبت جو کبھی آپ کی تھی ہی نہیں…. حمدان انکل کبھی آپ کے نہیں تھے مام… کبھی بھی… وہ یا تو مائرہ خالہ کے تھے… یا پھر انعمتا کے… آپ کے نہیں تھے” وہ بولا

“ہمارا کسی سے محبت کرنا سراسر ہمارا اپنا فعل ہوتا ہے مام… چاہے تو سامنے والا اس محبت کو قبول کرے یا نا کرے… ہمارا کام صرف محبت کئے جانا ہے… آپ نے سب کچھ کیا… بس محبت نہیں کی”وہ کہہ کر باہر نکل گیا تھا

…………………………

زاہا کی مہندی کے فنکشن میں ان تینوں میں سے کوئی بھی نہیں گیا تھا, حیان نے ہر ممکن کوشش کر لی تھی لیکن انعمتا کا کوئی سراغ نہیں تھا, دانین تو بس اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی

اس رات بھی رعنین نے اسے بمشکل اس کے کمرے سے باہر نکالا… وہ دو دن سے بھوکی تھی

بمشکل تین چار نوالے زہر مار کر کے وہ وہیں ٹی وی لاؤنج کے صوفے پر ہی گر گئی, تبھی حیان تھکا ہارا سا اندر آیا تھا, رات کے دس بج رہے تھے, وہ کوٹ صوفے پر پھینکتا ہوا وہیں کارپٹ پر ہی گر گیا

“کچھ پتہ چلا حیان ؟؟” رعنین اس کے پاس آتے ہوئے بولی

“نہیں یار… وہ کہیں بھی نہیں ہیں, میں تو آج سارے قریبی ہسپتال بھی چھان آیا ہوں” وہ بولا

“حیان بھائی… انہیں کچھ ہو گیا تو ؟؟؟” دانین روتے ہوئے بولی تھی

“سنان بھی ان کے ساتھ ہے… پتہ نہیں سنان کا کیا حال ہو گا ” وہ بولی

“حیان… کہیں یہ خالہ کا کام نا ہو ؟؟؟” رعنین کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں

“وہ کونسا مان جائیں گی ؟؟” حیان نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تھا

“رعنا ہم نے بہت غلط کیا ہے… بہت زیادہ, یار وہ صرف اٹھارہ سال کی تھیں جب پاپا نے ان سے شادی کی تھی… اور صرف اکیس سال کی عمر میں انہیں چھوڑ گئے تھے… رعنا یار ہم انہیں کس منہ سے خود غرض کہہ رہے تھے… ؟؟؟ اکیس سال کی عمر میں ان کے پاس چوائس تھی کہ وہ اپنا سوچ لیتیں, وہ تب حنین کی طرف پلٹ سکتی تھیں لیکن… وہ نہیں پلٹیں, ان کے پاس سب کچھ تھا رعنا…. وہ اپنے حصے کی جائیداد اور بینک بیلنس لیکر اگر ہمیں چھوڑ بھی جاتیں تو ہم کیا کر لیتے… ؟؟؟ ” حیان کہتا چلا گیا

“انہوں نے بارہ سال ہمارا خیال رکھا… انہوں نے اپنی پوری جوانی ہمارے لئے برباد کر دی رعنا اور ہم نے کیا کیا… ہم نے کیا کیا ؟؟؟” وہ رو پڑا تھا

“میں نے ان کے منہ پر انہیں فساد کی جڑ کہہ دیا… میں ہوتا کون ہوں انہیں یہ کہنے والا…. میں نے انہیں کیسے کہہ دیا کہ آج وہ نا ہوتیں تو زاہا میری ہوتی… میں نے کوئی نرالی محبت کی تھی ؟؟؟ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں صرف میری خاطر اپنی محبت قربان کر گئیں اور میں…میں نے سارا دوش ان کے سر رکھ دیا” وہ روتا جا رہا تھا

“حیان سب بڑی زیادتی میں نے کی ہے… میں نے انہیں وہ سب کچھ کہا جو…” وہ خود بھی رو پڑی تھی

“حیان بھائی… ہم پاپا کو کیسے فیس کریں گے ؟؟؟” دانین نے کہا

“انہیں پاپا نے چنا تھا اور ہم نے انہیں کھو دیا… ” وہ بولی

“میں کیا کروں ؟؟؟ انہیں کہاں ڈھونڈوں ؟؟؟” وہ بے بس تھا

“پچھلے ہفتے تین بڑے پراجیکٹس میرے ہاتھ سے چلے گئے ہیں… بس چند دن اور… پھر میں حمدان انٹرپرائزرز بھی ڈبو دوں گا” وہ بولا تھا

…………………………….

معیز اور زاہا کی مہندی کا فنکشن جیسے تیسے انجام پا ہی گیا… وہ تقریباً ایک بجے ہال سے فارغ ہوۓ تھے, حنین آتے ہوئے ایک بار پھر آئرہ کو الٹی میٹم دے کر آیا تھا

انعمتا کا ہنوز کوئی سراغ نہیں تھا…

وہ چینج کر کے نکلا تو معیز اس کے انتظار میں تھا

“آپ سے بات کرنی ہے… ” وہ بولا

“تو کرو… ” وہ بولا

“چاچو یار مجھے سمجھا کیا ہے آپ نے ؟؟؟ ” وہ تڑخ گیا

“اب کیا ہو گیا ؟؟؟”

“وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی… ” معیز چیخ پڑا

“تو میں کونسا تمہیں کہہ رہا ہوں کہ اس سے شادی کر لو… ” حنین کے کہتے ہی وہ ٹھٹھک گیا

“کیا مطلب ؟؟؟”

“معیز اس لڑکی کی سوتیلی ماں چاہے جتنی بھی شاطر سہی لیکن اس کا باپ ایک بہترین انسان تھا… وہ بالکل اپنے باپ جیسی ہے…خدا کی قسم میں نے اسے تمہارے لئے صرف اپنے بزنس کی خاطر نہیں چنا… بلکہ اسلیے چنا کہ وہ چنے جانے کے قابل تھی… ” حنین کہتا چلا گیا

“اس کی سیرت پر مجھے کوئی شبہ نہیں ہے چاچو لیکن… وہ میرے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گی… وہ حیان سے محبت کرتی ہے… میں کب تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھوں گا…. آنیوالے وقتوں میں وہ ہاشمی ٹریڈرز کی چیئر پرسن ہو گی… تو کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ حیان کو دیکھ کر آنکھیں بند کر سکے…” معیز کہتا چلا گیا

“آپ تو واقف ہیں نا اس درد سے… پھر آپ کیوں چاہتے ہیں کہ زاہا بھی ساری عمر اسی درد کے ساتھ گزار دے… ” وہ بولا

“میں نے پہلے دن تمہیں کہا تھا کہ تمہارے اوپر کوئی زور زبردستی نہیں ہے… ” وہ بولا

“پھر آپ چاہتے کیا ہیں ؟؟؟” وہ سمجھ نا سکا

“جس دن مجھے زاہا اور حیان کی محبت کا ادراک ہوا تھا اسی دن میں آپ کے پاس آیا تھا… کہ آئرہ کو انکار کر دیں, آپ نہیں مانے… حیان فقیروں کی طرح میری منتیں کرتا رہا… میں بار بار آپ سے کہتا رہا کہ انکار کر دیں لیکن آپ نہیں مانے… دانین میری خاطر گھل گھل کر آدھی رہ گئی, میں پھر آپ کے پاس آیا لیکن… آپ نہیں مانے… اور اب کہہ رہے ہیں کہ… تمہاری مرضی… ؟؟؟؟ ” وہ کہتا چلا گیا

“مجھے اس کے برابر آنا تھا معیز… مجھے بالکل حمدان سیف خان بننا تھا… تاکہ جب میں ایک بار پھر اس کے سامنے آتا تو پھر وہ کسی اور کی طرف نا دیکھ پاتی…. وہ ایک بار پھر مجھے کسی حمدان سیف خان کے لئے ٹھکرا نا پاتی…اور مجھے اس سے بدلہ لینا تھا… زیادہ نہیں… بس تھوڑا سا, بس اتنا سا کہ وہ ایک بار میری طرف پلٹ کر ضرور آتی… ایک بار میرے آگے ہاتھ ضرور پھیلاتی… ایک بار بس اتنا ضرور کہتی کہ اس نے مجھے ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا… ” وہ کہتا چلا گیا

“….اور اس نے کہہ دیا… اس بے کہہ دیا کہ وہ میری مجرم ہے, میں اسے جو چاہے سزا دے لوں, وہ مان گئی کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی” وہ بولا

“اور بس… یہ ہی میرا پلان تھا… لیکن میرے اس پلان کی وجہ سے وہ ایک بار پھر مجھ سے چھن جاۓ گی… یہ میرا پلان نہیں تھا… ” وہ اس کی طرف مڑا

“اگر آج تم میرے پاس نہیں آتے… تو میں خود تمہارے پاس آنے والا تھا… میں کہ جس نے خود محبت میں ہجر کی چوٹ کھائی ہے… وہ کسی اور کو یہ چوٹ کیسے پہنچا سکتا ہے ؟؟؟ وہ میرے پاس بھی آیا تھا… روتا ہوا…. کہتا ہوا کہ زاہا کو مجھ سے نا چھینیں… اور مجھے لگ رہا تھا کہ میرے سامنے دوسرا حنین کھڑا ہے…. ” وہ بولا

“اگر آپ مجھے پہلے بتا دیتے کہ یہ صرف ایک پلان ہے تو…. میں کم از کم دانین کو تو تسلی دے دیتا” وہ بولا

“کھیل سارا آئرہ کیف خان کا تھا معیز… اسے حمدان انٹرپرائزرز کو نیست و نابود کر دینا تھا… اور انعمتا کو فنا کر دینا تھا… اور اس کھیل میں اس نے سب کو مہرہ بنایا.. مجھے, تمہیں, زاہا کو, سب کو… ” وہ کہتے کہتے رکا

“اور دیکھنا اب وہ اپنے اس کھیل میں خود ہی ہار جاۓ گی… اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آۓ گا… نا ہاشمی ٹریڈرز… نا زاہا تمیم ہاشمی… اور نا حمدان انٹرپرائزرز… ” وہ کہتا چلا گیا

……………………………

وہ اپنے آفس میں تھی وہ اندر داخل ہوا, آئرہ اسے دیکھ کر چونک گئی تھی

“تمہاری اتنی ہمت ہو گئی کہ میرے آفس میں قدم رکھ سکو… ” وہ بولی

“ہمت ہوئی ہے تو آیا ہوں… ” وہ دھیرے سے مسکرایا

“دفع ہو جاؤ… ابھی” وہ تڑخ کر بولی تھی

“آئرہ… انعمتا کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“میں نہیں جانتی… ” وہ زور دے کر بولی

“لیکن میں جانتا ہوں…. ” اس کی بات پر آئرہ زور سے چونکی تھی

“اسے تو پہچانتی ہو گی نا تم ؟؟” اس نے انعمتا کا دوپٹہ اس کے سامنے رکھ دیا, وہ کناروں پر سے جگہ جگہ سے سرخ ہو رہا تھا, آئرہ دم بخود اسے دیکھتی رہ گئی

“کل رات مال روڈ پر ایک ایکسیڈنٹ ہوا ہے آئرہ… اب خدا جانے ہوا ہے یا کروایا گیا ہے, لیکن مجھے بس وہاں یہ گرا ہوا نظر آیا…” وہ کہتا چلا گیا

“پھر میں ہسپتال پہنچا… تو پتہ چلا کہ وہ تیس سال کے لگ بھگ لڑکی تھی جو مر چکی ہے” وہ اس کی کرسی کی پشت پر آ گیا

“اور اس کے ساتھ جو بچہ تھا وہ انتہائی نگہداشت میں ہے… انتہائی نگہداشت سمجھتی ہو نا… آئی سی یو… ” وہ بولا, آئرہ کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا

“میں نے اسے دیکھا ہے آئرہ… وہ پہچانی نہیں جاتی… اس کے کپڑوں سے پہچانا ہے میں نے اسے” یزدان نے اپنا موبائل اس کے سامنے کر دیا, آئرہ ششدر رہ گئی, وہ انعمتا کے ہی کپڑے تھے… جگہ جگہ سے خون سے سنے

“اور پتہ ہے میں کیا کروں گا ؟؟؟” وہ اس کی کرسی کی پشت سے ہوتا ہوا اس کے سامنے آ گیا

“میں حیان کو نہیں بتاؤں گا… حنین کو بھی نہیں…. میں زارون کو بتاؤں گا کہ.. تمہاری ماں نے انعمتا حمدان خان اور اس کے بیٹے کو مروا دیا” وہ بولا

“جسٹ شٹ اپ… ” وہ زور سے دہاڑی, لب کپکپانے لگے تھے

“میں نے اسے نہیں مروایا… میں نے بس اسے کڈنیپ کروایا تھا… اور فارم ہاؤس پر رکھا تھا لیکن وہ بھاگ گئی تھی فارم ہاؤس سے… ” وہ بولی

“اب تم جو بھی کہو آئرہ کیف خان… اب تمہارے خلاف ایف آئی آر کٹے گی… اور تم سلاخوں کے پیچھے ہو گی” وہ اس کے عین سامنے آ گیا, آئرہ لرزنے لگی تھی, یزدان دونوں ہاتھ اس کی میز پر رکھ کر آگے کو جھکا

“سب کو پتہ چل جاۓ گا… اور پھر تمہیں پولیس ہتھکڑی لگا کر لے جاۓ گی… میڈیا پر خبر آۓ گی کہ… ” وہ پھر زور سے دہاڑی تھی

“میں نے کچھ نہیں کیا… “

“تم نے قتل کیا ہے…. ” وہ بولا

“لیکن…. میں تمہیں بچا سکتا ہوں آئرہ ؟؟؟” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا, آئرہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا

“اگر تم چاہو ؟؟؟” وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا, آئرہ کی زرد ہوتی رنگت اسے صاف نظر آ رہی تھی

“کیا چاہیے تمہیں … ؟؟؟” اس نے پوچھا

“وہی… جو میں تم سے بیس سال سے مانگ رہا ہوں… ” وہ ایک بار پھر اس کی کرسی کی پشت پر آیا تھا, اور پھر اس کے کندھے پر جھکا

“آئرہ کیف خان… ” یزدان نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *