Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 09)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 09)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
“اور آپ کا سر نیم کیا ہے مس…؟؟؟” حنین یامن میر کی طنزیہ سی آواز پر یکدم ہی اس کی آنکھ کھلی تھی, پچھلی تین راتوں سے یہ ہی ہو رہا تھا, جیسے ہی اس کا ذہن ذرا سا فری ہوتا… جھٹ سے ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کا وہ مغرور سا چیئر پرسن آنکھوں میں اتر آتا
“میں نے کچھ پوچھا ہے مس… ” وہی طنزیہ سی آواز, جتاتا ہوا لحجہ, انتہائی پر غرور نظریں اور… وجہیہ سا چہرہ
نامحسوس سے انداز سے رعنین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی, گردن موڑ کر اس نے اپنے برابر سوئی دانین کو دیکھا, وہ بے خبر نیند میں دھت تھی, سیل اٹھا کر ٹائم دیکھا… ایک بج رہا تھا
اس نے جیسے ہی واٹس ایپ کھولا, زارون کی کال آنے لگی
وہ چپ چاپ اٹھ کر ٹیرس پر آ گئی
“تم ابھی تک جاگ رہے ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یہ ہی پوچھنے کے لئے تو میں نے کال کی ہے کہ تم کیوں ابھی تک جاگ رہی ہو؟؟؟” وہ بولا
“نیند ہی نہیں آ رہی” وہ بے بس سی کرسی پر گر گئی
“کہاں چلی گئی ؟؟؟” زارون نے پوچھا, اس کے پوچھتے ہی وہ دلکش سا چہرہ پھر سے اس کی نظروں میں آن سمایا
“پتہ نہیں… ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“اچھا… رعنا, یار ایک کام تو کر دو” وہ کچھ دیر بعد بولا
“ہاں… “
“میرا ایک دوست ہے… اس نے ابھی آئی کام کیا ہے, یار وہ بہت زیادہ ضرورت مند ہے, اسے اپنی سٹیپ مام سے کہہ کر کہیں ایڈجسٹ کروا دو پلیز” زارون نے کہا
“تو تم اپنی مام سے کہہ دو… “
“کہا ہے… وہ نہیں مان رہیں, کہتیں آئی کام والے کا میں کیا اچار ڈالوں گی” وہ بولا
“اچھا میں انا سے بات کروں گی” وہ بولی
“یاد سے کرنا پلیز… کل ملتے ہیں اوکے” وہ محسوس ہی نہ کر سکی کہ زارون ضرورت سے زیادہ ہی خوش ہو گیا تھا
……………………..
وہ ناشتے کی میز پر اکٹھے ہوئے تھے, آئرہ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھی تھی
میں نے تم دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے” آئرہ کے کہتے ہی ان دونوں کی چھٹی حس جاگ اٹھی تھی, دونوں نے فوراً ایک دوسرے کی طرف دیکھا
“ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کی پارٹنر شپ ہیڈ تم ہو گی… ” وہ زاہا کی طرف مڑی
“میں… ؟؟؟” وہ حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی
“ہاں… اس پارٹنر شپ کے سارے پراجیکٹس تم ڈیل کرو گے, غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے زاہا… ویسے بھی تمہیں بڑا شوق ہے نا اپنے باپ کی کرسی سنبھالنے کا, تو میں تمہیں ایک موقع دے رہی ہوں, اپنے آپ کو ثابت کرو, اس پارٹنر شپ کا کوئی پراجیکٹ نقصان میں نا جاۓ…” وہ کہتے کہتے رکی
“اور شاید اب میرا بیٹا بھی مجھ سے خوش ہو جاۓ بقول جس کے میں تمہارے باپ کی کرسی پر قابض ہو کر بیٹھی ہوں” وہ بولی, زارون سر جھکا گیا
“فائنل ایئر کے پیپرز کب ہیں ؟؟؟”
“اگلے مہینے… “
“ٹھیک ہے… یونیورسٹی سے واپسی پر آفس آ جایا کرو” وہ بولی
“اوکے میم…. ” وہ کافی عرصہ سے اسے میم ہی بلا رہی تھی
“اور تم… ” وہ زارون کی طرف مڑی
“میرا لون اپروو ہو گیا ہے… میں تو آج سے اپنے ریسٹورنٹ کی بلڈنگ کھڑی کروانے لگا ہوں” وہ اس سے پہلے بولا تھا
“تمہارا لون حنین نے اپروو کیسے کر دیا… ؟؟؟ میں نے منع بھی کیا تھا اسے” وہ یکدم دہاڑی
“انہوں نے نہیں کیا… ان کے پارٹنر نے کیا ہے” وہ بولا
“زارون تو نے ٹھان لی ہے کہ ساری عمر تو لڑکیوں کی طرح ہانڈی روٹی کرتے ہی گزارے گا” آئرہ کے رونکھے سے انداز پر زاہا کو ہنسی آگئی
“مام… نا تو میں ہانڈی پکا رہا ہوں اور نا روٹی… پلیز ” وہ برا منا گیا
“تیری طبعیت میں صاف کر لیتی ہوں لڑکے, حنین سے بات کر لینے دے مجھے” وہ تن فن کرتی رہ گئی تھی
………………………
وہ عنایہ کی برتھ ڈے پارٹی پر آئی تھی, چھوٹا سا گھر کا فنکشن تھا لیکن سنایا نے زبردستی اسے بلا لیا, جانے سے پہلے اس نے انعمتا سے اجازت لے لی تھی
پورے فنکشن کے دوران معیز اس کی نظروں کا مرکز بنا رہا, نیلی جینز پر آف وائیٹ شرٹ کے ساتھ نیلی ڈینم جیکیٹ پہنے وہ معمول سے کچھ زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا, سٹائلش سے بال, ہلکی ہلکی ڈاڑھی اور متبسم سا چہرہ… دانین بس اسے ہی دیکھ رہی تھی
“لو دانی… ” سنایا نے کیک پلیٹ میں رکھ کر اس کی طرف بڑھا دیا
“ارے… دانین بھی آئی ہوئی ہے” معیز کو تو وہ نظر ہی نہیں آتی تھی
“چلیں شکر ہے میں آپ کو نظر تو آئی” وہ مسکراتے ہوئے بولی مگر آنکھوں کے گوشوں میں دو قطرے چمکنے لگے تھے, معیز بس مسکرا کر رہ گیا
وہ تقریباً ایک گھنٹہ وہاں رکی رہی, آج دل کچھ زیادہ ہی اداس ہو رہا تھا
“سنایا… میں چلتی ہوں یار, نیند آ رہی ہے” وہ سنایا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی, وہ اس سے گلے مل کر کسی اور کی طرف متوجہ ہو گئی تھی, وہ اپنے گلے میں پڑا سٹالر ٹھیک کرتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئی
“دانین… رکو” معیز کو وہ نظر آ گئی تھی
“جانے لگی ہو ؟؟؟”
“جی… ” وہ وہ دھیرے سے بولی تھی
“ڈرائیور آ گیا ؟؟؟”
“جی… “
“چلو آؤ میں گاڑی تک چھوڑ آتا ہوں” وہ بولا, دانین چپ چاپ اس کے برابر میں ہو لی
“دانین… مجھے ایک بات کہنی تھی تم سے ” وہ مین گیٹ سے ذرا ہی دور تھے
“جی کہیں… ” دانین رک گئی, روش کے دونوں اطراف میں لگے لیمپس کی روشنی میں معیز کو اس کا معصوم سا چہرہ نظر آیا
“تم ابھی بہت چھوٹی ہو دانین حمدان خان… ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا
“تو کیا ہوا… ایک دو سالوں میں بڑی ہو جاؤں گی” اس نے دھیرے سے کندھے اچکاۓ تھے
“تب تک مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی تو ؟؟؟” معیز نے کھل کر کہہ دیا, دانین کے جیسے دل پر ہاتھ پڑا تھا, وہ کچھ دیر اس کا خوبرو سا چہرہ دیکھتی رہی, پھر دو قدم چل کر کیاری میں لگا گلاب توڑا, پھونک مار کر صاف کیا اور اسے معیز کی طرف بڑھا دیا
“تب کی تب دیکھی جاۓ گی… معیز ضامن میر” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“اس کا کیا مطلب ہے ؟؟؟” معیز نے یوں پوچھا جیسے جانتا ہی نہ ہو
“It means I love you… “
وہ کہہ کر گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی
……………………..
انہیں ایک فائل پر یزدان کے سائن چاہئے تھے, زارون انجینئر سے ملنے گیا ہوا تھا سو وہ اکیلی ہی فائل لیکر ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ چلی آئی
دن کے گیارہ بج رہے تھے, آنکھوں پر لگاۓ سن گلاسز سر پر کرتی ہوئی وہ اندر آ گئی
“سر یزدان سے ملنا ہے” ریسیپشنٹ اسے جانتی تھی
“آپ اندر چلی جائیں ” وہ بولی, رعنین سر ہلاتے ہوئے اندر آ گئ, آفس میں کوئی بھی نہیں تھا, اٹیچ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی, وہ فائل میز پر رکھ کر وہیں کھڑی ہو کر انتظار کرنے لگی
تبھی واش روم سے قدموں کی آواز آئی
“سر اس فائل پر آپ کے سائن…. ” حنین کو دیکھ کر اس کے لفظوں کو بریک لگی تھی
“ایم سوری… مجھے سر یزدان سے ملنا تھا” وہ بولی
“کہیں نظر آ رہا ہے وہ تمہیں؟؟” حنین نے گیلے ہاتھ تولیے سے صاف کرتے ہوئے اس سے پوچھا
“کہاں ملیں گے وہ ؟؟؟” رعنین نے صبر کا گھونٹ پیتے ہوۓ دوبارہ پوچھا
“میری جیب میں دیکھ لو… شاید مل جاۓ” حنین کو وہ ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی, رعنین کا چہرہ سرخ ہو گیا, ایک نظر س کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
“اوکے… میں پھر آ جاؤں گی” اس نے فائل اٹھاتے ہوئے کہا اور دروازے کی طرف مڑی
“حمدان انٹرپرائزرز کیادیوالیہ ہو گئی ہے جو حمدان سیف خان کی بیٹی یوں سڑکوں پر آ گئی ہے” حنین کی چبھتی ہوئی آواز پر وہ یکلخت پلٹی تھی
“مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ آپ کو حمدان سیف خان کی بیٹی سے آخر مسئلہ کیا ہے ؟؟؟” اس نے بھی سارا لحاظ بالاۓ طاق رکھ دیا
مسئلہ… ؟؟؟ اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ ریسٹورنٹ کے لئے لون حمدان سیف خان کی بیٹی اپروو کروا رہی ہے تو میں تمہیں اس آفس کی دہلیز بھی پار نہیں کرنے دیتا… ” اس نے رعنین کی عزت نفس رگڑ کر رکھ دی تھی
“لیکن دیکھ لیں… آپ کے ظرف کا امتحان… کہ میں آپ سے بس چند قدم کی دوری پر کھڑی ہوں” وہ دھیما سا مسکرائی تھی
“اور مجھے بس چند سیکینڈز ہی لگیں گے اس لون کو کینسل کرنے کے لئے ” وہ بولا
“کریں… ابھی کر دیں, میں کینسلڈ فائل لیکر جاؤں گی” وہ فائل اس کے سامنے رکھتے ہوئے خود بھی عین اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی
“لیکن آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ میرا لون اپروو نہیں کریں گے تو میرا ریسٹورنٹ نہیں بنے گا… ؟؟؟ میں اسی سال آپ کو وہ ریسٹورنٹ کھڑا کر کے دکھاؤں گی مسٹر حنین یامن میر… ” وہ اس کی عمیق تر آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی تھی
یہ اور بات تھی کہ نظریں اس کے دلکش چہرے پر گڑی جا رہی تھیں
“حنین کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رہا… پھر ہولے سے مسکرا دیا
اس کی مسکراہٹ اسقدر جان لیوا تھی کہ اس کے سامنے بیٹھی رعنین چند لمحوں کے لئے تو جیسے مفلوج سی ہو گئی
حنین نے اس کی فائل اپنے سامنے کی اور یونہی مسکراتے ہوئے اس پر سائن کر دیئے
وہ چوٹ ہی کیا جو ایک ہی بار مار دی جاۓ… وہ درد ہی کیا جو ایک ہی بار دے دیا جاۓ… اور وہ بدلہ ہی کیا جو ایک ہی بار لے لیا جاۓ…
چوٹ تو وہ ہے جو زخم کے ناسور بننے کے بعد ماری جاۓ… عین اس زخم کے اوپر, درد تو وہ ہے جو مسلسل دیا جاۓ… کسی زہر کی مانند… اور بدلہ تو وہ ہے جو بار بار لیا جاۓ…
“جاؤ… بناؤ چل کے ریسٹورنٹ ” اس نے فائل رعنین کی طرف کھسکا دی, وہ خاموشی سے اپنی فائل اٹھا کر کھڑی ہو گئی, دروازے کی طرف بڑھی تو حنین نے پھر پکار لیا
“تمہاری سوتیلی ماں کیسی ہے ؟؟؟” اس نے بڑی لگاوٹ سے پوچھا تھا, رعنین سلگ اٹھی, مڑی تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
لائیٹ گرے فارمل شرٹ کے ساتھ ڈارک گرے ڈریس پینٹ پہنے, گلے میں گرے لائننگ والی ٹائی لٹکاۓ, شرٹ کی دونوں آستینیں کہنیوں تک چڑھاۓ, شرٹ کا اوپری بٹن کھولے, ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ, کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ, اسے گھماتے ہوۓ, طنزیہ سا مسکراتے ہوئے…. اسے ہی دیکھ رہا تھا
رعنین کا دل اتنی زور سے دھڑکا جیسے ابھی سینہ پھلانگ کر باہر نکل آۓ گا, اس کی سیاہ چمکتی آنکھوں سے جیتنا انتہائی محال تھا
“شام کو آئیں گی وہ… ARY NEWS پر, وہاں دیکھ لیجیے گا” بالکل اسی کے سے انداز میں کہتی ہوئی وہ دروازہ پار کر گئی تھی
……………………………..
وہ اب تقریباً روزانہ ہی یونیورسٹی کے بعد آفس جانے لگا تھا, جس دن نا جاتا, اس دن انعمتا کی کال آ جاتی, اب بھی اسے آفس میں بیٹھے تقریباً ایک گھنٹہ ہو گیا تھا, انعمتا اپنے مینیجر کے ساتھ کسی میٹنگ کا ایجنڈا ڈسکس کر رہی تھی
“اس میٹنگ کے لئے حیان جاۓ گا… ” اپنا نام سن کر اس نے موبائل پر سے نظریں ہٹائیں
“کیا مطلب ؟؟؟ آپ نہیں جائیں گی” اس نے پوچھا
“مجھے ایک دو پراجیکٹس دیکھنے ہیں… تم اور فیصل چلے جاؤ” وہ اپنے فنانس آفیسر کا نام لیتے ہوئے بولی
“انا… اگر آپ نہیں جائیں گی تو میں بھی کہیں نہیں جا رہا” وہ اڑ گیا
“حیان… میں ہمیشہ تو ہر جگہ تمہارے ساتھ نہیں جایا کروں گی نا” وہ بولی
“ابھی تو چلیں… ” وہ بولا
“تم اور فیصل… بس بات ختم” وہ ذرا سختی سے بولی
“میں اور آپ… نہیں تو میں بھی نہیں… بس بات ختم” اس نے دوبارہ موبائل آن کر لیا, انعمتا نے تاسف سے اسے دیکھا, تبھی اس کی پرسنل سیکرٹری اندر داخل ہوئی
“میم… آج کی میٹنگ کے لئے ہمارے representative کا نام مانگ رہے ہیں… ” اس نے سیل کان سے لگا رکھا تھا
“اور کون کون ہے ؟؟؟” انعمتا نے پوچھا
“جواد احمد… حاتم برادرز سے, سونیا فیض… فیض انٹرنیشنلز سے, ملک شاہ… ملک برادرز سے, یزدان سیف خان…ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ سے, زاہا تمیم ہاشمی… ہاشمی ٹریڈرز سے… ” سیکریٹری کہتی چلی گئی, حیان یکدم چونکا
“چلو ایسا کرو ہماری طرف سے فیصل کا نام… ” حیان نے اس کی بات کاٹ دی
“اچھا ٹھیک ہے… چلا جاتا ہوں میں” وہ بیزار سا منہ بناتے ہوئے بولا تھا حالانکہ دل خوشی سے اچھلنے لگا تھا
“اب کیا ہو گیا تمہیں ؟؟؟” انعمتا نے حیرانی سے اسے دیکھا
“تو اور کیا کروں ؟؟؟ میں آج نا گیا تو اگلا پور ہفتہ آپ کا موڈ بنا رہے گا” وہ اس پر احسان دھرتا کھڑا ہو گیا تھا, انعمتا نا سمجھی سے اسے دیکھتی رہ گئی, اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ کبھی اس نے حیان سے موڈ بنایا ہو
“دے دو میرا نام… ” وہ باہر نکلتے ہوئے بولا
“فیصل سے کہو میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں, ساری فائلیں اٹھا لاۓ” وہ موبایل جیب میں ڈالتا ہوا باہر نکل گیا, انعمتا حق دق سی اسے جاتے کو دیکھتی رہ گئی تھی
کچھ ہی دیر بعد وہ میٹنگ ہال میں تھا… زاہا اس سے پہلے ہی آ چکی تھی, اس کے برابر والی کرسی خالی نہیں تھی
“ایکسکیوزمی سر… پلیز آپ ساتھ والی کرسی پر بیٹھ سکتے ہیں, مجھے میڈم زاہا سے کچھ ضروری ڈسکشن کرنی ہے” وہ اس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بڑی خوش اخلاقی سے بولا تھا
“کس کی طرف سے ہو تم ؟؟؟” کرسی والے نے پوچھا
“حمدان انٹرپرائزرز… ” وہ بولا, کرسی والا ذرا سا ٹھٹھک گیا
“your good name ??? “
اس نے پھر پوچھا
“حیان حمدان خان… ” وہ بولا, کرسی والے کے لبوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئی
“بیٹھو… حیان حمدان خان” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“شکریہ سر… ” حیان نے اس کے لئے ساتھ والی کرسی کھینچی تھی, وہ مسکراتا ہوا اس پر بیٹھ گیا, حیان بڑی دلنشین سی مسکراہٹ زاہا کی طرف اچھالتے ہوۓ اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا
“کیسی ہو ؟؟؟” خوشی اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی
“تم یہاں کیسے ؟؟؟” زاہا نے پوچھا
“میں نے بس تمہارا نام سنا اور… یہاں چلا آیا” وہ اس کی طرف جھکتے ہوۓ بولا
“سیدھے ہو کر بیٹھو, یہ کیمپس نہیں ہے” زاہا نے اسے ٹہوکا مارا تھا, وہ جلدی سے سیدھا ہو گیا
میٹنگ بالکل ویسی ہی تھی جیسی ہر بزنس میٹنگ ہوتی ہے… بورنگ, سب کی اپنی اپنی راۓ… اختلافات, مشورے
حیان نے بڑی مشکلوں سے اپنی جمائی روکتے ہوئے آگے کو ہو کر ایک کہنی میز پر ٹکائی اور دوسرا ہاتھ اپنے ساتھ بیٹھی زاہا کے ہاتھ پر رکھ دیا
“حیان… یہ کیمپس نہیں ہے” وہ پراجیکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں بولی تھی
“تو یہ کہاں لکھا ہے کہ تمہارا ہاتھ پکڑنا بس کیمپس میں ہی جائز ہے ؟؟؟” اس نے زاہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
“کسی نے ٹیبل کے نیچے دیکھ لیا تو ؟؟؟” وہ بولی
“مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آدھی پبلک ٹیبل کے نیچے یہ ہی کر رہی ہو گی” وہ اس کی طرف جھکتے ہوۓ بولا تھا, زاہا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی
حیان کی انگلیوں نے دھیرے دھیرے اس کے بازو پر سفر کرنا شروع کر دیا, وہ کوارٹر سلیوز پہنے ہوئے تھی, اس کی کہنی تک پہنچ کے حیان کی انگلیوں نے واپس نیچے کی طرف آنا شروع کر دیا, وہ جیسے ہی زاہا کے ہاتھ تک پہنچیں, اس نے مضبوطی سے حیان کی چاروں انگلیاں اپنے ہاتھ میں مقید کر لیں
“چھوڑو… ” اس نے زاہا کے کان میں سرگوشی کی تھی
“چھڑوا لو… ” وہ دھیما سا مسکرائی, حیان نے زور لگایا لیکن وہاں وہ پورا زور تو نہیں لگا سکتا تھا
“زاہا… چھوڑ دو یار” وہ بولا
“No way… “
وہ بھی انجواۓ کرنے لگی تھی, حیان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے اپنا پیر جوتے سے نکالا اور اس کے پیر پر رکھ دیا
“نہیں چھوڑا تو میں نے یہاں شروع ہو جانا ہے… ” اس نے دھمکی دی تھی, زاہا یونہی خفیف سا مسکراتے ہوئے اس کی انگلیاں جکڑے بیٹھی رہی, حیان کے پیر کا انگوٹھا دھیرے دھیرے اس کی ٹانگ پر رینگنے لگا تھا
“حیان… پلیز یار” وہ بے بس سی ہو گئی
“ہاتھ چھوڑو میرا” وہ بولا, زاہا نے اس کی طرف مڑتے ہوۓ دھیرے سے اس کی انگلیاں رہا کر دیں, حیان بس مسکراتا چلا گیا تھا
اسی دوران میٹنگ ختم ہو گئی, لوگ اٹھ اٹھ کر جانے لگے تھے
“میں جا رہی ہوں…. ” وہ کھڑی ہو گئی
“تو میں کونسا ساری رات یہاں بیٹھا رہوں گا” حیان نے کھڑے ہوتے ہوئے دھیرے سے اس کے ہاتھ کو اپنی طرف جھٹکا دیا تھا, زاہا یکدم ہی اس کے انتہائی قریب ہو گئی
بس لمحوں کا کھیل ہوا تھا اور وہ اس کی کمر کے گرد بازو ڈال گیا تھا
“I love you zaha… “
اس کے کانوں میں سرگوشی گھولتے ہوۓ وہ پیچھے کو ہو گیا, زاہا سرخ ہوتی ہوئی باہر نکلتی چلی گئی, حیان نے مسکراتے ہوئے اپنا جوتا پہنا تھا
“ہو گئی ڈسکشن ینگ مین… ؟؟؟” اس کے برابر والی کرسی والا بھی کھڑا ہو گیا تھا
“جی سر… تھینکس ٹو یو” وہ بولا
“کوشش کرنا اگلی بار تمہاری ڈسکشن on the table ہو مسٹر حیان… Below the table نہیں” اس نے مسکراتے ہوئے حیان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, حیان شرمندہ سا ہو گیا
باۓ دا وے… میں یزدان ہوں, ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ سے” یزدان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا
……………………….
آج ان تینوں نے اپنے پہلے پراجیکٹ کے لئے میٹنگ رکھی تھی… آئرہ, حنین اور زاہا
آئرہ نے بڑی تاکید کر کے اسے معیز کو ساتھ لانے کا کہا تھا
“معیز کہاں ہے یار ؟؟؟” حنین تیار کھڑا تھا
“میں یہاں ٹریفک میں پھنس گیا ہوں” وہ واقعی پھنسا کھڑا تھا
“معیز یار یہ کیا بات ہوئی, وہ دونوں وہاں انتظار کر رہی ہیں… ” حنین تپ گیا
“میں کیا کروں پھر ؟؟” وہ بھی سڑا پڑا تھا, حنین نے مزید پندرہ, بیس منٹ اس کا انتظار کیا لیکن معیز ندارد… ناچار وہ اکیلا ہی فورٹریس چلا آیا
اس بار کی. میٹنگ فورٹریس میں تھی, وہ دونوں وہاں پہنچ چکی تھیں
“سوری میم…. ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہو گیا” وہ اپنی کرسی کھینچتے ہوۓ ہوۓ بولا
“معیز نہیں آیا ؟؟؟” آئرہ نے پوچھا
“وہ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہے… بس اسی لئے نہیں آ سکا” حنین نے کہا
“اوہو… میں تو آج اسی سے ملنے آئی تھی ورنہ صرف زاہا نے آنا تھا” وہ بولی
“باۓ د اوے…. یہ میری بیٹی ہے… زاہا تمیم ہاشمی” اس نے تعارف کروایا
“ہیلو سر… ” زاہا نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا, حنین نے بھی سر ہلاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا, وہ سانولے سی رنگت کی بڑے خوبصورت نین نقش والی لڑکی تھی
“معیز زاہا سے کیمپس میں ہی مل لے گا میم… دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں تو پڑھتے ہیں” حنین نے کہا
“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے… زاہا ایم بی اے ڈپارٹمنٹ میں ہوتی ہے, اسے کہئے گا کہ کل ہی اس سے مل لے” آئرہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے درپے تھی, زاہا کی چھٹی حس اسے کچھ کچھ آگاہ کر تو رہی تھی کہ کچھ عجیب ہونے والا ہے
“ضرور… کیوں نہیں” حنین نے کہا, ویٹر جوس رکھ گیا تھا
“مسٹر حنین… مجھے ایک گلہ ہے آپ سے, میں نے آپ کو منع بھی کیا تھا اس کے باوجود آپ نے زارون کا لون اپروو کر دیا” وہ بولی
“اس کا لون یزدان مجھ سے پہلے ہی اپروو کر چکا تھا میم… اگر آپ کہتی ہیں تو میں اسے کینسل کر دیتا ہوں لیکن… یہ ہماری فرم کی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کے خلاف ہو گا کیونکہ وہ ساری شرائط پوری کر رہا ہے” حنین کہتا چلا گیا
“سب سے پہلے تو اس یزدان الو کے پٹھے کو فارغ کریں آپ… میں آپ کو وارن کر رہی ہوں اس خبیث نے آج تک اپنی زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا ہے” آئرہ کو غصہ آ گیا, زاہا بے پناہ شرمندہ ہوئی
“میم بس کریں پلیز… ” وہ دھیرے سے بولی, حنین بس مسکراۓ جا رہا تھا
“وہ میرا بہت پرانا دوست ہے میم… بہت قابل دوست… دس سالوں سے ہم دونوں ایک ہیں… اب اگر اس نے ایک لون مجھے پوچھے بنا اپروو کر بھی دیا تو خیر ہے… میں بھی تو آپ سے پارٹنرشپ اس سے پوچھے بنا ہی کر رہا ہوں” حنین کہتا چلا گیا
“آستین کا سانپ ہے وہ شخص… میں بتا رہی ہوں آپ کو کہ وہ ایسی جگہ ڈنگ مارے گا جہاں سوچا بھی نہیں ہو گا” آئرہ کلس گئی
“جانے دیں میم… کوئی بات نہیں, ایک چھوٹابسا لون ہی تو ہے” وہ بولا
“ہم پراجیکٹ ڈسکس کر لیں اب… ” وہ فی الحال اس کا دھیان یزدان سے ہٹانا چاہ رہا تھا
“مسٹر حنین آپ زاہا سے اس پراجیکٹ کی ڈسکشن کر لیں, کب فنانسنگ کرنی ہے, کب ٹینڈر لینا ہے اور کب ڈلیوری کرنی ہے… مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے” وہ بولی
“اوکے میم… ” وہ بولا, آئرہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑہ ہوئی
ان کی پارٹنرشپ کا پہلا پراجیکٹ پچاس ملین کا تھا, زاہا نے اس کے لئے سارا ہوم ورک مکمل کر لیا تھا, پراجیکٹ فیض برادرز کا تھا, انہیں دو ہفتوں میں ڈلیوری چاہیے تھی, پورا ایک گھنٹہ ان دونوں نے اس پراجیکٹ کو ڈسکس کیا اور اس ایک گھنٹے میں وہ پوری طرح زاہا کی ذہانت کا قائل ہو گیا تھا, وہ چیزوں کو بہت باریک بینی سے دیکھتی تھی
“ایک بات کہوں آپ سے مس زاہا… ” ڈسکشن کے بعد انہوں نے لنچ بھی ایک ساتھ کیا تھا
“ضرور… لیکن آپ مجھے تم کہیں گے تو اچھا لگے گا” وہ مسکرائی
“مجھے آج بھی یاد ہے جب اس شہر میں تمہارے ڈیڈ کا نام بولتا تھا… بشر تمیم ہاشمی, کئی سالوں تک ہاشمی ٹریڈرز شہر کی ٹاپ کمپنی رہی تھی, میں بس ایک دو بار ہی ان سے ملا تھا… تب میں ایک معمولی سا پراجیکٹ ہیڈ ہوا کرتا تھا… ” حنین کہتا چلا گیا
“میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ جاتے ہوئے اپنی کرسی تمہیں سونپ کر جاتے تو آج ہاشمی ٹریڈرز کی جگہ حمدان انٹرپرائزرز سے کہیں اوپر ہوتی” وہ کہہ ہی گیا
“لیکن ایسا ممکن نہیں تھا… جب ڈیڈ نے آنکھیں بند کیں تو میں صرف تیرہ سال کی تھی” وہ بولی
“You are just like your Dad… “
حنین اس سے بہت متاثر ہوا تھا
“تھینک یو سر… ” وہ بس مسکرا دی
اور اس لمحے وہاں کھڑی قسمت بھی حنین کی اس بات پر مسکرائی تھی, یقیناً وہ آنیوالے وقتوں میں بزنس انڈسٹری کی ملکہ بننے والی تھی
……………………….
وہ اور حیان کلاس لیکر نکلے تھے جب اسے حنین کی کال آئی
“فارغ ہو گیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جی… “
“چل پھر جلدی ایم بی اے ڈپارٹمنٹ کو نکل… ” وہ بولا
“کیوں… وہاں جا کر حج ہونا ہے میرا؟؟؟” معیز تڑخ گیا
“معیز تو جاتا ہے کہ میں آؤں ؟؟” حنین نے اسے گھرکا
“جا رہا ہوں… ” اس نے کلس کر کال کاٹ دی
“کیا ہو گیا ؟؟؟” حیان نے کینٹین سے دو ٹن خریدے تھے
“حیان میرے ساتھ چل ذرا… ایم بی اے ڈپارٹمنٹ جانا ہے” وہ اس سے ٹن پکڑتے ہوئے بولا
“وہاں کیا ہے ؟؟؟” حیان اس کے برابر میں چلتے ہوئے بولا
“خدا جانے… ایک ہفتے سے چاچو نے میرا دماغ کھا رکھا ہے, پارٹنرشپ ان کی اور سودا میرا…” وہ ستا پڑا تھا
“پتہ نہیں کس سے پارٹنرشپ کی ہے… اس کی ایک عدد بیٹی ہے جو یہاں ایم بی اے ڈپارٹمنٹ میں ہوتی ہے, کل کہیں اس سے کوئی میٹنگ کر کے آۓ ہیں اور میرا جینا محال کیا ہوا ہے کہ میں جا کر اس کے درشن کر کے آؤں… ” وہ بولتا جا رہا تھا اور گھونٹ بھرتا جا رہا تھا, حیان اس کے ساتھ ہی تھا
ایم بی اے ڈپارٹمنٹ کا سوچ کر اس کا دل بھی اچھلنے لگا تھا
“نام کیا ہے اس کا… ؟؟” حیان نے پوچھا لیکن عین اسی لمحے معیز سامنے سے آتی اس لمبے سے قد کی سانولی سی رنگت والی انتہائی پر کشش لڑکی کو روک چکا تھا, اس کے ساتھ کھڑے حیان کی چہرے پر یکلخت ہی قوس قزح کے رنگ پھیلے تھے
“ایکسکیوزمی… یہاں فائنل ایئر کی زاہا تمیم ہاشمی کون ہیں ؟؟؟” اس کے پوچھتے ہی اس کے سامنے کھڑی زاہا اور اس کے برابر کھڑا حیان دونوں ہی چونک گئے
“میں ہی ہوں… آپ کون ؟؟؟” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“میں معیز ہوں… معیز ضامن میر” اس نے قدرے خوشدلی سے کہا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا, زاہا نے بمشکل مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا
حیان حمدان خان کے دل کی دنیا لمحوں میں اتھل پتھل ہوئی تھی
یہ سب نظارے اداس کیوں ہیں ؟؟؟
سوال پوچھا تو بات نکلی
تمام موسم ہیں ، دل کے موسم
وہ ساتھ ھے تو حسین موسم
اگر نہیں تو ، اداس موسم
تمام موسم ، ادھار موسم ۔۔!!!
