Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 06)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 06)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
پندرہ سال پہلے
وہ, یزدان اور ازمیر ایک ساتھ ہی آفس سے نکلے تھے, شام کے چھ بج رہے تھے, دفعتاً ازمیر کا سیل بج اٹھا
“ہاں انعمتا… ؟؟؟” اس کے لبوں سے نکلتا نام سن کر حنین ٹھٹھک گیا
“انعمتا بچے میں نے تو یہاں سے ہسپتال جانا ہے, ابو کو وہاں چھوڑ کر آیا تھا, وہ کب سے وہاں بیٹھے ہیں” ازمیر ہیلمٹ پہنتے ہوۓ بولا
“تو تم رکشے پر آ جاؤ… ” دوسری طرف سے نہ جانے کیا کہا گیا تھا
“انعمتا یہ کیا بات ہوئی بھلا… تھوڑی ہمت تو کیا کرو, کالج سے نکل کر رکشہ پکڑو اور گھر چلی جاؤ” ازمیر نے کہا
“اچھا… میں دیکھتا ہوں” اس نے کلس کر کال کاٹ دی تھی, پھر بائیک سٹارٹ کرنے لگا
“کیا ہوا ؟؟؟” حنین نے پوچھ ہی لیا
“یار انعمتا کا پیپر تھا آج… سیکینڈ ٹائم, اب کہہ رہی ہے گھر چھوڑ کر آؤ, ادھر ابو ایک گھنٹے سے ہسپتال میں بیٹھے ہیں” ازمیر تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا, اس کے والد کو پچھلے کچھ عرصے سے دل کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا, گھر والوں کی ساری ذمہ داری اسی کے کندھوں پر تھی
“اگر تو برا نا مناۓ تو انعمتا کو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں” حنین نے ہچکچاتے ہوۓ کہا تھا, ساتھ ساتھ کن اکھیوں سے یزدان. کو بھی دیکھ رہا تھا
“رہنے دے… تو کہاں خوار ہوتا پھرے گا” ازمیر نے کہا
“ازمیر… اٹس اوکے, تو انکل کو لے آ ” حنین نے کہا
“چل ٹھیک ہے… تھینکس یار” وہ بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے روڈ پر ہو لیا تھا
حنین کے دل میں جیسے تتلیاں اڑنے لگی لگیں, بلا وجہ ہی لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
“شرم سے ڈوب کر مر جا…” یزدان نے اسے مکا مارا تھا
“کس خوشی میں ؟؟؟” حنین تڑپ گیا
“دوست کی بہن سے عاشقی کر رہا ہے تو” وہ. بولا
“اوۓ زبان سنبھال کر… میری محبت ہے وہ, اور محبت سے زیادہ عزت کرتا ہوں میں اس کی” یزدان کو آنکھیں دکھاتے ہوئے اس نے آناً فاناً اپنی بائیک سٹارٹ کی تھی, کچھ ہی دیر میں وہ اس کے کالج کے سامنے تھا, وہ کلپ بورڈ اور پاؤچ ہاتھ میں پکڑے دیوار کے ساتھ کھڑی تھی
“چلو بیٹھو… جلدی کرو” حنین نے عین اس کے سامنے لے جا کر بائیک روک دی
“تم کیوں آۓ ہو ؟؟؟” انعمتا کے پسینے چھوٹ گئے تھے
“یار میں تمہارے بھائی سے پوچھ کے آیا ہوں…. قسم سے” حنین نے مسکراتے ہوئے کہا, انعمتا کو یقین نہیں آیا تھا
“کال کر کے پوچھ لو اسے… ” حنین کلس گیا, اور اس بیوقوف لڑکی نے ازمیر کو کال ملا بھی لی
“ازمیر بھائی حنین کو آپ نے بھیجا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا, آس پاس کی ساری لڑکیاں ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں
“ہاں انعمتا… میں ہسپتال جا رہا ہوں, تمہیں حنین چھوڑ دے گا” ازمیر کی بات سن کر اس کی جان میں جان آئی تھی
“ہو گئی تسلی… بیٹھو اب ” حنین نے کہا, وہ دھیرے سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی
“انعمتا جم کر بیٹھنا… گر گئیں تو میرا ذمہ کوئی نہیں” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا
“اچھا… ویسے تو سارے ذمے اٹھانے کو تیار ہو تم ” انعمتا نے مضبوطی سے اس کا کندھا پکڑ لیا تھا
“دراصل ابھی میں پوری طرح حق نہیں جتا سکتا نا تم پر… ورنہ ابھی تم کسی اور طرح بیٹھی ہوتیں” وہ کہتا چلا گیا
“شرم کرو… ” انعمتا نے اسے کلپ بورڈ سے چوٹ لگائی تھی, حنین ہنستا چلا گیا
وہ پورا راستہ اسے اپنی ذو معنی باتوں سے زچ کرتا آیا تھا اور انعمتا بس ہر دو منٹ بعد اسے شرم ہی دلا رہی تھی
بادِ صبا خاموش ہو، گُلزار چُپ رہیں
وہ بات کر رہا ہے خبردار! چُپ رہیں
یاں بات چُونکہ عِشق کے بارے میں جاری ہے
سو معذرت کے ساتھ! سمجھدار چُپ رہیں
لیکن وہاں بھلا سمجھدار تھا ہی کون… ؟؟؟ وہ سترہ سالہ لڑکی جو ابھی آئی سی ایس کے پیپرز دے رہی تھی یا وہ بائس سالہ لڑکا جسے حمدان انٹرپرائزرز جوائن کئے ابھی صرف ایک سال ہی ہوا تھا
………………………..
“حمدان…. ” فریحہ نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا, سیف خان بھی وہیں موجود تھے
“بیٹے آگے کیا سوچا ہے تو نے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“امی میں نے دوسری شادی کے بارے میں تو ابھی کچھ بھی نہیں سوچا… ” وہ بولا
“لیکن دوسری شادی کئے بنا کیسے پالے گا تو تین بچے ؟؟؟” فریحہ نے پوچھا
“اچھا بتائیں… کس سے کروانی ہے میری دوسری شادی؟؟؟” وہ تھوڑا سا تڑخ گیا
“آئرہ سے کر….. ” حمدان نے ان کی بات کاٹ دی
“امی… اگر آئرہ سے ہی کرنی ہوتی تو پہلی بار ہی نہ کر لیتا…. نہیں کرنی مجھے اس سے شادی, ایک دن بھی نہیں گزار پاؤں گا میں اس کے ساتھ… میرے لئے ناقابل برداشت ہے وہ بہت ” حمدان کو جیسے اس سے چڑ سی ہو گئی تھی
“وہ تیرے چچا کی بیٹی ہے حمدان… ہمارا اپنا خون ہے” سیف خان نے کہا
“تو آپ یزدان کی شادی کر دیں نا اس سے… وہ تو اس سے شادی کرنا بھی چاہتا ہے” حمدان نے کہا
“وہ یزدان کے لئے نہیں مانتی… “فریحہ نے کہا
“تو بس پھر…. اس کے لئے میں نہیں مانتا… امی اگر اس کی پسند ناپسند آپ کے لئے معنی رکھتی ہے تو میرے کیوں نہیں رکھتی…. ؟؟؟ جیسے وہ یزدان سے شادی نہیں کرنا چاہتی بالکل ویسے ہی میں بھی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا… ” حمدان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا, فریحہ نے ایک لمبی سانس بھری
“پھر بلقیس کی نند سے کر لے…. ” وہ بولیں
“مجھے معاف رکھیں… میں پہلے تھوڑا کھپا ہوا ہوں بلقیس اور شاہین کے لئے, نا کہ مزید ان کے نیچے لگ جاؤں” حمدان نے کلس کر کہا تھا
اور یہ بات سولہ آنے درست تھی, جب حمدان نے سیف خان سے اپنا حصہ مانگا تھا تو انہوں نے باقیوں کے حصے بھی ان کے نام کر دییے تھے, سیف خان اور کیف خان کا مشترکہ کاروبار کیف خان کے دونوں بیٹوں کے سپرد کر دیا گیا تھا اور جو زمینی جائیداد تھی وہ حمدان اور یزدان میں بانٹ دی تھی
یزدان نے اپنا حصہ فی الحال ڈیپازٹ کروا دیا تھا اور حمدان نے کمپنی خرید لی تھی, کیف خان کے دونوں بیٹوں نے کچھ عرصہ تو کاروبار چلایا پھر ڈبو کر رکھ دیا… نا ہی تجربہ تھا اور نا ہی شوق… انہیں بس حمدان کی حمدان انٹرپرائزرز نظر آتی تھی, رفتہ رفتہ بچے کھچے کاروبار کو بیچ کر حمدان نے ان دونوں کو ایک چھوٹی سی کمپنی سٹارٹ کروا دی جو سال دو سال بعد ہی دیوالیہ ہو گئی, اب وہ دونوں ہی اس کے پاس کام کر رہے تھے
یہ ہی حال اس کے دونوں بہنوییوں کا تھا, بہنوں کے منہ کو اسے ان دونوں کو اپنے پاس رکھنا پڑتا تھا, آۓ روز اس کے پاس کبھی کسی بہن کی شکایت, کبھی کسی کی منت, کبھی چچا کی التجائیں… صحیح معنوں میں وہ لوگ اسے جونک بن کر چوس رہے تھے
یہ ہی حال گھریلو سیاست کا تھا, کسی کو بھی حمدان یا اس کے بچوں سے کوئی سروکار نہیں تھا, صرف حمدان اور اس کی دولت اور شہرت میں دلچسپی تھی, آئرہ کا تو پہلے دن سے شوق تھا کہ وہ حمدان کے ساتھ اس کے آفس جاۓ, اس کی کرسی پر بیٹھے, حکم چلاۓ
جبکہ اس کی دونوں بہنیں راشن پانی لیکر فریحہ پر چڑھی ہوئی تھیں کہ حمدان کی شادی آئرہ سے تو بالکل نہیں کرنی
“پھر کس سے کرے گا تو شادی… ؟؟؟” فریحہ خود تھک گئی تھیں
“جس سے دل کیا… بس اس موضوع کو یہیں ختم کر دیں” وہ کہہ کر اٹھ گیا تھا
………………………..
وہ دوپہر میں دونوں بچوں کو چھوڑنے گھر آیا تھا
“یزدان کھانا کھاۓ گا ؟؟؟” فریحہ نے پوچھا
“امی میں ذرا شاور لے آؤں… بہت گرمی لگ رہی ہے” وہ ٹائی اتارتا ہوا اوپر اپنے کمرے میں چلا آیا, اے سی آن کرتے ہوئے اس نے شرٹ اتاری تھی, اچانک ہی اس کی نظر گھر کے پچھلی طرف والے لان میں جا پڑی
وہ آئرہ ہی تھی… شاید نہا کر آئی تھی, وہ درختوں کی چھاؤں میں لان کے وسط میں کرسی ڈالے بیٹھی تھی, لمبے سیاہ بال گھٹاؤں کی صورت کمر پر بکھرے ہوئے تھے اور پشت سے قمیض گیلی ہوتی جا رہی تھی, ٹانگ پر ٹانگ جماۓ وہ پوری طرح اپنے موبائل میں منہمک تھی
یزدان بس اسے دیکھتا رہ گیا… وہ اس سے چھ سال بڑی تھی… ہمارے معاشرے میں اگر لڑکا چھ سال بڑا ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا… فرق تو شاید لڑکی کے بھی چھ سال بڑے ہونے سے نہیں پڑتا لیکن…. اسے پڑتا تھا
اس کے نزدیک یزدان سیف خان کچھ بھی نہیں تھا… محض ایک بھیک جو فریحہ اسے حمدان کے بدلے دینے کو تیار تھیں
حالانکہ یزدان میں کوئی کمی نہیں تھی, عمر میں بھلے ہی وہ اس سے چھوٹا تھا لیکن اس کے برابر کھڑا ہوتا تو اس سے اونچا ہی لگتا تھا, خوش شکل تھا, خوش گفتار تھا, پڑھا لکھا تھا… لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ عورت کی نظر میں ہمیشہ اس کا من پسند شخص ہی سب سے خوبصورت ہوتا ہے… چاہے مقابلے میں حسن کا دیوتا ہی کیوں نا کھڑا ہو جاۓ
یہ ہی حال آئرہ کا تھا… اسے کسی چیز سے کوئی سروکار نہیں تھا سواۓ حمدان کے… گزرے چند سالوں میں اس نے حمدان کو پانے کی کوشش کو اپنی ضد بنا لیا تھا
یزدان کافی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا… بلاشبہ وہ اسے بہت اچھی لگتی تھی, بلا شبہ وہ اسے اپنے دل کی ملکہ بنا چکا تھا… اب انتظار تھا تو کسی معجزے کا جو اصل زندگی میں بھی آئرہ کیف خان کو اس کا کر دیتا
یکلخت ہی آئرہ کی نظر اس کی جانب اٹھ گئی, یزدان اسے دیکھتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا تھا, وہ سلگ ہی اٹھی… غصے سے کرسی سے اٹھی اور اندر چلی گئی
یزدان بس مسکراتا ہوا واش روم میں گھس گیا تھا
………………………
وہ آج ہی فارن ٹوور سے واپس آیا تھا اور ائیر پورٹ سے سیدھا حمدان کے گھر چلا آیا, وہ ملک سے باہر تھا جب اسے حمدان کی وائف کی ڈیتھ کی خبر ملی تھی, دل تو کیا تھا کہ اسی وقت واپس چلا جاتا لیکن بس کام آڑے آ گیا, اب بھی وہ چار ماہ بعد واپس آیا تھا
“کیسا ہے بشر.. ؟؟؟” حمدان بڑی گرمجوشی سے اس سے گلے ملا
“فائن…. حمدان یار ایم سو سوری, جس لمحے تجھے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی اس لمحے میں تیرے پاس نہیں تھا” بشر کو صحیح معنوں میں افسوس ہوا تھا
“اٹس اوکے یار… یہ میری قسمت کا لکھا ہے… یہ ایسے ہی ہونا تھا” حمدان اسے ڈرائینگ روم میں لے آیا
“کیا ہوا تھا بھابھی کو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“گردے کا مسئلہ بن گیا تھا… بس جانبر نہیں ہو سکی” حمدان نے کہا اور ساتھ ہی چاۓ کا بھی کہہ دیا
“بچے کیسے ہیں ؟؟؟”
“بڑی مشکل سے سنبھلے ہیں…. دانین تو بہت تنگ کرتی ہے, بڑے دونوں بھی ہر ہر پل مائرہ کو یاد کرتے ہیں” وہ بولا
“خدا تجھے حوصلہ اور ہمت دے حمدان….. اس مشکل وقت کو کاٹنے کے لئے, میرے دوست اگر میری کہیں بھی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں” بشر اس کا بہت پرانا دوست تھا
وہ جدی پشتی بزنس مین تھا… بشر تمیم ہاشمی
ہاشمی ٹریڈرز کا چیئر پرسن جو اس وقت شہر کی ٹاپ کمپنی تھی, ہر چھوٹی بڑی کمپنی کے ساتھ اس کی ڈیلز اور پراجیکٹس چل رہے تھے, آۓ روز ہی وہ باہر کے ممالک کے دوروں پر رہتا تھا
اس کی ایک ہی بیٹی تھی… زاہا تمیم ہاشمی جو ابھی صرف چھ سال کی تھی
تبھی ڈرائینگ روم کا دروازہ کھلا اور آئرہ اندر داخل ہوئی, اسے جب بھی حمدان کے کسی امیر کبیر دوست کے آنے کی خبر ملتی تھی تو چاۓ وہ خود لیکر جاتی تھی
“بشر کیسے ہیں آپ ؟؟؟” وہ چاۓ کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے بولی, بشر سے وہ پہلے بھی ایک دو بار مل چکی تھی
“ٹھیک ہوں… آپ سنائیں آئرہ ” وہ اپنا کپ اٹھاتے ہوئے بولا
“میں بھی ٹھیک ہوں… کب واپس آۓ آپ ؟؟؟” آئرہ کی خوش گفتاری عین اپنے عروج پر تھی
“ابھی تھوڑی دیر پہلے… ” وہ بولا
“بشر آپ حمدان کے دوست ہیں… آپ ہی سمجھائیں نا اسے کہ اپنا بھلے ہی نہ سوچے… اپنے بچوں کا تو سوچے, اتنے چھوٹے بچے بھلا ماں کے بنا کیسے رہ پائیں گے” آئرہ نے کہا, حمدان نے تنبہیہ کے سے انداز سے اسے دیکھا لیکن اسے تو موقع مل گیا تھا
“جب جب اس کی دوسری شادی کی بات کرتے ہیں… تب تب یہ ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے, دانین ابھی اتنی چھوٹی ہے…. یہ اکیلا کیسے پالے گا اسے ؟؟؟” آئرہ اس کی گھوریوں کو نظرانداز کئے کہتی چلی گئی
“حمدان… آئرہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں, تیری ابھی کونسا عمر نکل گئی ہے… بچے بھی بہت چھوٹے ہیں, دوسری شادی کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے” بشر نے کہا
“بشر… وقت آنے پر سوچوں گا, آئرہ جاؤ جا کر بشر کے لئے کھانا لگواؤ” حمدان کا لحجہ تھوڑا سخت ہو گیا, آئرہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی تھی
“حمدان… آئرہ میں کیا کمی ہے یار ؟؟؟” بشر نے پوچھا, حمدان نے اس کی طرف دیکھا
“وہ تیری کزن ہے… چچا کی بیٹی, پھر ایک چھوٹا سا بیٹا بھی ہے اس کا, تیرے بچوں کو ماں مل جاۓ گی اور اس کے بیٹے کو باپ… مضائقہ تو کوئی نہیں ہے” بشر نے کہا
“بشر… تو نہیں جانتا کہ اس گھر میں کیا چل رہا ہے… ؟؟؟ ابھی مائرہ کو گزرے دو ماہ بھی نہیں ہوۓ تھے اور اس گھر کی خواتین کو میری شادی کی فکر پڑ گئی تھی, میں آج آئرہ سے شادی کر لوں لیکن… میرے بچے رل جائیں گے یار…. وہ زارون کو کتنی توجہ دیتی ہے مجھے پتہ ہے… اس سے شادی کر کے میرے بچوں کو قطعاً ایک ماں نہیں ملنے والی” حمدان کہتا چلا گیا تھا
……………………..
چھت پر آ کر اس نے انعمتا کو کال ملائی تھی
“ہاں کیا بات ہے ؟؟؟” وہ رج کے بدمزہ ہوا
“وہ میں نے پوچھنا تھا کہ آج کے میچ میں سری لنکا نے کتنے رنز بناۓ ؟؟؟” وہ بھی آخر کو حنین یامن میر تھا
“تم نے یہ پوچھنے کے لئے فون کیا ؟؟؟” انعمتا نے حیرانی سے پوچھا تھا
“جس طرح تم نے لٹھ مار لحجے میں پوچھا ہے نا کہ کیا بات ہے ؟؟ اب کچھ تو بات بنانی تھی کہ نہیں ” وہ کلس گیا
“اچھا… اب بتا دو کس لیے کال کی ؟؟؟” وہ ذرا دھیما پڑی
“تمہارے پیپرز ختم ہو گئے ؟؟؟”
“ہاں… “
“تبھی تو… میں پورا گھنٹہ تمہارے کالج کے سامنے کھڑا رہا آج… تم نظر ہی نہیں آئیں” وہ ریلنگ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
“تو تم تب کال کر لیتے” انعمتا ہنس پڑی
“کیا کروں… عقل تو ماری گئی ہے میری ساری” حنین نے اسے تصور میں سجا لیا تھا, کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی تھیں
“چلو جی… میں تو نہیں کروں گی کسی بے عقل آدمی سے شادی… ” وہ کھلکھلا کر بولی تھی
“بے عقل بھی تمہاری وجہ سے ہی ہوا ہوں” وہ بولا
“میں نے کیا کہا ہے ؟؟؟” وہ انجان بن گئی
“تم کہتی ہی تو نہیں ہو… بس چپ رہتی ہو…” وہ بولا, انعمتا سرخ ہو گئی تھی
“انعمتا… ؟؟؟” حنین نے بہت محبت سے اسے پکارا تھا
“میری جان کچھ تو کہو… ” وہ پوری طرح اس کے تصور میں سرشار ہوتا جا رہا تھا
“حنین میں…” دفعتاً کسی نے اس کے کان سے لگا سیل کھینچ لیا, وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا, مایا مسکراتے ہوئے اس کا سیل اپنے کان سے لگاۓ کھڑی تھی
“مایا کی بچی… ادھر دو” حنین نے زور سے اپنا موبایل جھپٹ لیا
“مجھے پتہ چل گیا… چل گیا… ممانی کو بتاتی ہوں” مایا نیچے کو بھاگی تھی, حنین نے زور سے بھاگ کر اس کا بازو پکڑا اور کھینچتا ہوا چھت پر لے آیا, انعمتا کال ڈس کنیکٹ کر گئی تھی
“کیا بدتمیزی تھی یہ… ؟؟؟” وہ تڑخا
“کون ہے وہ ؟؟؟” مایا مسلسل مسکرا رہی تھی
“بڑے پیار سے تمہارا نام لے رہی تھی… “
“آہستہ بولو… ” حنین نے اس کا بازو مروڑا تھا, مایا کی سسکی نکل گئی
“میں سبتین کو بتاتی ہوں… ” وہ پھر نیچے کو بھاگی تھی, حنین نے بھاگ کر اسے اپنے دونوں بازوؤں میں جکڑ لیا
اور نیچے اپنے کمرے میں لیٹے سبتین کو چھت پر ہوتی دھڑ دھڑ پر ہی شک ہونے لگا تھا
“مایا… ” اس نے فوراً مایا کو آواز دی… جواب ندارد
“مایا… ” وہ اٹھ کر باہر نکل آیا, معیز اور سنایا, زینب کے کمرے میں کھیل رہے تھے, وہ اوپر آ گیا
عین اسی وقت جب حنین اسے دونوں بازؤں میں جکڑے ریلنگ کی طرف لے جا رہا تھا
“مایا… ” سبتین کی چنگھاڑ نے اس کے حواس سلب کئے تھے
“سبتین آپ… وہ میں… ” حنین نے فوراً اسے چھوڑ دیا
“کیا بیہودگی کر رہے تھے تم دونوں ؟؟” اس کی چنگھاڑ نیچے زینب کے کمرے تک گئی تھی
“بھائی ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں… میں سگریٹ پی رہا تھا اور…. مایا بس امی کو میری شکایت لگانے کا کہہ رہی تھی…. ” حنین کہتا چلا گیا
“کیوں آئی تھیں تم اوپر جب پتہ تھا کہ یہ اکیلا اوپر ہے؟؟؟” سبتین کا تھپڑ مایا کے چودہ طبق روشن کر گیا
“سبتین بھائی دوبارہ ہاتھ نہ اٹھانا اس پر… ” حنین کو تاؤ آ گیا
“کیوں ؟؟ تو کیا لگتا ہے اس کا ؟؟؟ بے غیرت, بے شرم… چکر چل رہا ہے نا تم دونوں کا” سبتین ہر حد ہی پار کر گیا
“حنین کیا ہوا ہے ؟؟” زینب نیچے کھڑی ہول رہی تھی
“بھائی ایسا کچھ نہیں ہے” حنین چیخا اور سبتین کا دوسرا تھپڑ اس کا منہ لال کر گیا تھا, مایا کو گھسیٹتا ہوا وہ نیچے لیکر آیا تھا
…………………………
وہ اپنے آفس میں تھا جب ازمیر اندر آیا
“آؤ ازمیر… ” وہ کچھ پراجیکٹس دیکھ رہا تھا
“سر ایک گھنٹے کے لئے شارٹ لیو چائیے تھی” وہ بولا
“خیریت ؟؟؟”
“جی سر… چھوٹی سسٹر کا پریکٹیکل تھا آج کمپیوٹر سائنس کا… اسے گھر چھوڑنا ہے بس” ازمیر نے کہا
“کیا کر رہی ہے وہ ؟؟؟”
“آئی سی ایس… “
“گڈ… ٹھیک ہے چلے جاؤ, یزدان کو ذرا الرٹ کر کے جانا” حمدان نے کہا
“تھینک یو سر… ” وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا
“یزدان… میں ایک گھنٹے تک آ جاؤں گا” اس نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے یزدان کو آواز دی تھی
“ازمیر جلدی آ جائیں یار… وہ کل والا پراجیکٹ ڈسکس کرنا ہے” یزدان مینیجر کے پاس کھڑا تھا, ازمیر سر ہلا کر باہر نکل گیا
تقریباً دو گھنٹے بعد حمدان نے اسے بلایا تھا
“ازمیر آ گیا ؟؟؟”
“نہیں سر… ابھی تو نہیں آیا” وہ بولا
“کال کرو اسے… ایک گھنٹے کا کہہ کر گیا تھا” حمدان نے کہا, یزدان نے کال کی لیکن نمبر بند
“حنین سے بلاؤ… ” حمدان نے کہا اور حنین جیسے ہی اندر آیا, اسے انعمتا کی کال آنے لگی, اس نے ایک نظر یزدان کو دیکھتے ہوئے کال اٹینڈ کر لی
“ہاں انعمتا… ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“حنین… ازمیر بھائی کا نمبر بند جا رہا ہے… وہ آفس سے نکلے نہیں ابھی, یہاں پورا کالج خالی ہو گیا ہے” وہ انتہائی پریشان تھی
“یہاں سے تو دو گھنٹے پہلے ہی نکل گیا تھا” حنین یکدم ہی چونک گیا
“وہ تو آۓ ہی نہیں… ” وہ بولی
“اچھا رکو… میں آ رہا ہوں” اس نے جلدی سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” حمدان نے پوچھا
“سر ازمیر کی سسٹر کی کال تھی, وہ تو ابھی تک کالج پہنچا ہی نہیں” حنین نے کہا, یزدان بھی ٹھٹھک گیا تھا
“کہاں گیا پھر ؟؟؟” حمدان بھی پریشان ہو گیا
“سر میں جاؤں… وہ دو گھنٹے سے کالج کے باہر کھڑی ہے” حنین کی جان پر بن رہی تھی
“ہاں جاؤ… اور پتہ کرو ذرا کہ ازمیر کہاں ہے ؟؟؟” حمدان کے کہتے ہی وہ باہر نکلا اور بائیک دوڑاتے ہوۓ کالج تک آیا, انعمتا باہر ہی کھڑی تھی
“کہاں گئے ازمیر بھائی ؟؟؟” وہ اس کے پیچھے بیٹھتے ہوئے بولی
“پتہ نہیں… آفس میں تو نہیں ہے” حنین خود پریشان تھا, ازمیر گھر بھی نہیں پہنچا تھا, تبھی اسے یزدان کی کال آئی
“ہاں یزدان … “
“حنین… جلدی سول ہسپتال پہنچ, ازمیر کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا اور اس کی ڈیتھ ہو گئی ہے…” یزدان نے اس کے ہوش گم کئے تھے
