Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 18)

Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar

“حیان… کہاں ہے تو ؟؟؟” اسے معیز کی کال آئی تھی

“گھر پر ہوں… خیریت ؟؟؟”

“خیریت کے بچے… رات کو منگنی ہے میری… چل میرے ساتھ سوٹ لینے جانا ہے” معیز نے کہا

“معیز یار میں تھوڑا… ” معیز نے اس کی بات کاٹ دی

“شرم سے ڈوب کے مر جا حیان… پھر کہتا ہے کہ تو اپنے خول میں بند رہتا ہے… تو میرا رشتہ طے ہو جانے پر بھی نہیں آیا… جلدی دفع ہو…” وہ اسے جلی کٹی سنا کر کال کاٹ گیا تھا

مجبوراً وہ معیز کے ساتھ مارکیٹ چلا گیا, واپسی پر معیز نے اسے صرف تیس منٹ کا الٹی میٹم دیا تھا ہال پہنچنے کے لئے… وہ گھر پہنچا تو انعمتا بھی گھر آ گئی تھی

“انا… میں جا رہی ہوں ؟؟؟” وہ دانین کو تیار ہو کر نیچے اترتے دیکھ کر حیران تھی

“کہاں…؟؟؟”

“سنایا کے گھر… ” وہ بولی

“دانی… بچے رہنے دو” حیان نے کہا

“کیوں… میں تو جاؤں گی… اس نے بلایا ہے مجھے, میں نے تو معیز کے لئے گفٹ بھی خرید لیا ہے” وہ کمال ضبط سے بولی تھی

“آپ بھی تو جائیں گے نا حیان بھائی… وہ آخر کو آپ کا دوست ہے” وہ بولی

“دانین… بیٹے رہنے دو” انعمتا کو اس پر ٹوٹ کے ترس آ رہا تھا

“پرامس وہاں جا کر نہیں روؤں گی” وہ بولی, انعمتا نے اس کا ماتھا چوم لیا

“چلو میں بھی ساتھ چلتا ہوں” حیان اسے کسی صورت اکیلے بھیجنے پر راضی نہیں تھا

رات کے دس بج رہے تھے جب وہ دونوں ہال پہنچے, زاہا بھی آ چکی تھی

معیز اور زاہا دونوں برابر میں بیٹھے تھے… وہ خاموش تھی…. بالکل خاموش

“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟؟” آئرہ کو وہ نظر آ گیا تھا

“میں اپنے دوست کی منگنی کے فنکشن میں آیا ہوں” حیان نے کہا

“نکلو یہاں سے…. ” وہ تڑخی

“میں نکلا تو زاہا کو بھی نکال لے جاؤں گا… پھر کیا کر لیں گی آپ” اسے بھی غصہ آ گیا

“کیا ہوا مس کیف خان… ؟؟؟” حنین ان دونوں کی طرف آ گیا, وہ ابھی ابھی یزدان کے ساتھ اندر آیا تھا جسے انعمتا نے زبردستی وہاں جانے کو کہا تھا مبادہ حیان کوئی گڑ بڑ نا کر دے

“ارے تم… حمدان سیف خان کے بیٹے ہو نا ؟؟؟” اس نے پوچھا

“جی سر… ” حیان نے کہا

“تمہاری بہنیں نہیں آئیں ؟؟؟” اس نے پوچھا

دانین آئی ہے… ” اس نے سنایا کے پاس کھڑی دانین کی طرف اشارہ کیا تھا

“بڑی ہمت والی ہے دانین… ” حنین مسکرا دیا

“آخر کو خون کس کا ہے ؟؟؟ ” حیان کہہ ہی گیا, حنین بڑی لگاوٹ سے مسکرایا تھا

“خون تو تم بھی اسی کا ہو…. پھر تمہاری ہمت کہاں گئی؟؟؟” حنین نے پوچھا

“میں چاہوں تو ابھی اور اسی وقت زاہا کو ہاتھ پکڑ کر یہاں سے لے جاؤں لیکن… میں نہیں چاہتا کہ صرف میری وجہ سے وہ اپنے باپ کی کرسی کھو دے”حیان نے کہا

“اور یقیناً آپ بھی یہ نہیں چاہیں گے مسٹر حنین…. کیونکہ آپ کی پارٹنرشپ کی کامیابی کی ضمانت تو وہی ہے نا ؟؟؟” حیان کہتا چلا گیا

“تمہارے ساتھ نا جا کر بھی وہ کرسی اسے نہیں ملے گی” آئرہ نے غرا کر کہا

“یہ تو وقت بتاۓ گا ” حیان دھیرے سے مسکرایا تھا اور وہاں سے سٹیج کی طرف آ گیا

وہ دونوں بس ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانے ہی والے تھے, دانین ایک طرف کھڑی تھی

زاہا نے بغور اس کی طرف دیکھا…حیان بھی اسی کو دیکھ رہا تھا

کچھ دیر بعد اس نے معیز کو انگوٹھی پہنا دی

“مبارک ہو معیز… ” دانین کی مہین سی آواز پر وہ چونکا تھا

“دانین… ” اسے وہ ہمیشہ بھول جاتا تھا

……………………..

ان دونوں کی پارٹنر شپ کو چار ماہ گزر چکے تھے, زاہا اور معیز کی منگنی کے فوراً بعد ہی ان دونوں نے مل کر دو اور پراجیکٹس مکمل کئے جن سے بہت فائدہ ہوا, زاہا کی دھومیں مچ گئیں

دوسری جانب انعمتا نے حیان کے سارے ڈاکیومینٹس تیار کروا لئے تھے, اس کا بی بی اے کا رزلٹ آتے ہی انعمتا نے ایک پریس کانفرنس بلوا لی

وہ آفیشلی حیان کو چیئر پرسن بنا رہی تھی

“جیسا کہ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ یہ کرسی میرے پاس حمدان سیف خان کے بیٹے کی امانت تھی…. اور یہ امانت میں آج اس کے سپرد کر رہی ہوں” انعمتا نے رپورٹرز اور نیوز اینکرز کے مجمع سے بات کرتے ہوئے کہا

“میڈم…. کیا آپ کو لگتا ہے کہ مسٹر حیان یہ ذمہ داری نبھا پائیں گے ؟؟؟” کسی نے پوچھا تھا

“بالکل… اس میں کوئی شک نہیں ہے” وہ بولی

“اس وقت حمدان انٹرپرائزرز نمبر ون پراییوٹ لیمیٹڈ ہے میم… کیا مسٹر حیان یہ پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے؟؟” ایک اور سوال

“حیان کے بس میں صرف کوشش کرنا ہے… کامیابی دینا اوپر والے کی ذات کا کام ہے” وہ بولی

“میم… ہاشمی ٹریڈرز اور ایچ اینڈ واۓ فنانسنگ کی موجودہ پارٹنرشپ سے بہت سی کمپنیز متاثر ہوئی ہیں… کئی کمپنیز کو نقصان بھی ہوا ہے… اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟؟؟”

“دیکھیں… کامیابی ہمیشہ محنت کی مرہون منت ہوتی ہے… اس پارٹنرشپ کے پیچھے جس کا ہاتھ ہے… اس کی رگوں میں بہتا خون بشر تمیم ہاشمی کا ہے…وہ اگر نمبر ون بننے کی ٹھان چکی ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا” انعمتا نے کہا

ڈھیروں ڈھیر سوالات کے جوابات دینے کے بعد اس نے آفیشلی حمدان انٹرپرائزرز کی کرسی حیان کے سپرد کر دی تھی

پورے سٹاف کے سامنے اس نے حیان کو اس کے باپ کی کرسی پر بٹھایا تھا

“تمہارے پاپا نے اپنے آخری وقت میں مجھ سے جو چند وعدے لئے تھے… ان میں سے ایک آج پورا ہوا حیان… انہوں نے کہا تھا کہ میرے حیان کو میری کرسی پر بٹھانا… اور میں نے بٹھا دیا” وہ نم آنکھوں سے کہتی چلی گئی

“میں آپ کے بنا کچھ بھی نہیں ہوں انا… ” وہ زور سے اس سے لپٹ گیا تھا

………………………..

وہ حاتم والوں کا ایک ٹینڈر تھا… حمدان انٹرپرائزرز کو ملا تھا, اسے پورا کرنے کے لئے دس دن کی ڈیڈ لائن تھی

آئرہ نے وہ ٹینڈر ان کے چیئر پرسن سے مانگ لیا

“ہم چھ دن میں پورا کر دیں گے… ” اس نے کہا اور حاتم نے وہ ٹینڈر حیان کو کینسل کر کے آئرہ کو دے دیا جسے زاہا نے چھ دنوں میں مکمل کروا دیا

یہ حیان کی پہلی ہار تھی… اور حمدان انٹرپرائزرز کی کئی سالوں بعد پہلی ناکامی

انہیں کافی نقصان پہنچا…

“انا… میں نے کہا تھا نا کہ مجھ سے نہیں ہو گا” وہ بے پناہ شرمندہ تھا

“ناکامی بری چیز نہیں ہوتی حیان….. اس ناکامی کا ڈر سب سے برا ہوتا ہے” انعمتا نے اس کا حوصلہ بڑھایا تھا

وہ جیت آئرہ اور حنین کے لئے ہر جیت سے بڑھ کر تھی, اس جیت کی خوشی میں ایک چھوٹا سا جشن بھی کیا گیا تھا

تقریباً سبھی نیوز چینلز پر اس جیت کی چرچا ہوئی تھی, یہ پہلا دھکا تھا جو پچھلے دس سالوں میں حمدان انٹرپرائزرز کو لگا تھا, ہاشمی ٹریڈرز چھٹے نمبر پر آ گئی تھی

“یہ شروعات ہے حنین… اب ہم رکیں گے نہیں, حمدان انٹرپرائزرز کا ہر ٹینڈر, ہر پراجیکٹ چھین لیں گے” آئرہ کی خوشی کا کوئی عالم نہیں تھا

“بہت اڑ لیا اس عورت نے… میں اسے واپس اسی جھونپڑی میں پہنچا دوں گی جہاں سے وہ آئی تھی… ” وہ بولی

“اور اس کے بعد کیا… ؟؟؟” حنین کو اس کی آنکھوں سے خوف سا آیا

“اس کے بعد انعمتا حمدان خان کی کہانی ختم…میں اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر پر مٹی ڈالوں گی” آئرہ نے کہا… حنین یکدم ٹھٹھک گیا

اسے اس کی آخری بات اچھی نہیں لگی تھی

………………………….

اسے رعنین کے کچھ سائن چاہئے تھے, اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی سو وہ فائل اٹھا کر اس کے گھر چلا آیا, شام تقریباً چھ بجے کا وقت تھا

انعمتا باہر لان میں ہی بیٹھی تھی… سنان اور دانین دونوں ریکیٹ کھیل رہے تھے, وہ گاڑی کھڑی کر کے اس کی طرف آ گیا, دل کی دھڑکن خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی

“ہیلو میم… “

“آؤ زارون بیٹھو… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی, زارون اپنی پلکیں بھی نہیں جھپک پا رہا تھا

“چاۓ لو گے ؟؟” اس نے پوچھا

“جی… ” وہ بولا, انعمتا نے کپ اسکی طرف بڑھا دیا

“اب آپ آفس نہیں جاتیں ؟؟؟” اس نے پوچھا

“نہیں اب میں ریٹائرڈ ہو گئی ہوں” وہ ہنسی تھی, زارون بس دیکھتا رہ گیا, دل میں ہوک سی اٹھی

“زارون… تم نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم وہی پندرہ سال پہلے والے زارون ہو” اس نے پوچھا, زارون نے نظر بھر کر اسے دیکھا

وہ اس سرمئی شام کا ایک حصہ ہی لگ رہی تھی… آخر کب تک… کب تک چلے گی اس کی یکطرفہ محبت… اب اظہار ہو جانا چاہئے تھا

انعمتا اسی کو دیکھ رہی تھی, اپنے سوال کے جواب کی منتظر تھی

زارون نے دھیرے سے کپ میز پر رکھا اور کرسی کھینچ کر اس کے قریب ہو گیا

“آپ نے ٹھیک کہا میم… میں وہ پندرہ سال پہلے والا زارون ہی ہوں… میں آج بھی آپ سے کچھ فاصلے پر کھڑا حسرت سے آپ کی طرف دیکھ رہا ہوں… اس امید پر کہ آپ مجھے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہیں گی… آ جاؤ زارون… ” وہ کہتے کہتے رکا, انعمتا کی مسکراہٹ یکلخت غائب ہوئی تھی

“… اور میں مڑ کر اندر اپنی مام کی طرف دیکھوں گا… آپ پھر کہیں گی… آ جاؤ زارون, کچھ نہیں ہوتا… اور میں دوڑتا ہوا آپ کے پاس آ جاؤں گا…” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا کہتا چلا گیا,انعمتا دم بخود اسے دیکھ رہی تھی

“… اور آپ مجھے خود سے لگا کر کہیں گی کہ… میں اور زارون ایک ہی ٹیم میں ہیں” وہ اتنا کہہ کر کھڑا ہو گیا, فائل اٹھائی اور اندر چلا گیا

انعمتا کو سانس لینا بھی بھول گیا تھا

یہ لحجہ اس کے لئے نیا تو نہیں تھا

تین سال اس نے حنین کا یہ ہی لحجہ سنا تھا, چار سال اس نے حمدان کا یہ ہی لحجہ سنا تھا… حیان جب زاہا کے بارے میں بات کرتا… تو اسی لحجے میں کرتا تھا… دانین جب معیز کے بارے میں بات کرتی… تو اسی لحجے میں کرتی تھی….

اس نے ہمیشہ آئرہ کے لحجے میں حمدان کے لئے یہ ہی لحجہ سنا تھا

……………………..

وہ ایک بڑی سی بزنس گیٹ ٹو گیدر تھی, بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے منعقد کی گئی تھی, تقریباً سبھی بزنس پارٹیز وہاں مدعو تھیں, اس بار آئرہ نے حنین کا کوئی بہانہ نہیں چلنے دیا تھا, وہ دونوں ایک ساتھ اندر آۓ تھے, وائیٹ تھری پیس میں ملبوس حنین یامن میر اس سیاہ رات کا اکلوتا چاند ہی لگ رہا تھا, آئرہ سیاہ رنگ کی شیفون کی فینسی سی ساڑھی میں ملبوس تھی

حیان انعمتا کو ساتھ لیکر آیا تھا… زاہا کو معیز اپنی گاڑی میں لیکر آیا تھا, وہ اس کا ہاتھ تھام کر اندر آیا تھا

رعنین, حنین کو ایک نظر دیکھنے کے جتن کرنے میں پاگل تھی, زارون, انعمتا کا پروانہ بنا ہوا تھا, دانین, معیز کو دیکھے جا رہی تھی

الغرض… محبت نے سبھی کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا, انعمتا نے آج پہلی بار حنین کو یوں روبرو دیکھا تھا, وہ آئرہ کے پہلو میں کھڑا تھا, اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا

انعمتا خاموشی سے رعنین کے ساتھ کھڑی تھی, حیان وقتاً فوقتاً زاہا کو دیکھ رہا تھا, دانین کی معیز میں جان اٹکی ہوئی تھی

دفعتاً وہ اس کی جانب بڑھا, انعمتا نے اپنا دھیان کسی اور جانب کر لیا تھا, وہ مسکراتا ہوا اس کی طرف آ رہا تھا

“مس انعمتا حمدان خان… کیسی ہیں آپ ؟؟؟” وہ ہنوز مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا

“Good… “

وہ بس اتنا ہی کہہ سکی

“ایم سوری میں آپ کی بیٹی دانین کے لئے معیز کا رشتہ نہیں دے سکا… دراصل اس کی منگنی طے ہو چکی تھی” وہ بولا

“چلیں کوئی بات نہیں… جس سے اس کی منگنی ہوئی ہے اس کی ماں نے بھی میرے بیٹے کے لئے اس کا رشتہ نہیں دیا” انعمتا نے اسی کی بات اسے لوٹائی تھی, حنین مسکراتا چلا گیا

“کمال ہے ویسے… سوچا نہیں تھا کہ حمدان سیف خان کا خون اسقدر بدقسمت بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے تینوں بچے ہی جوانی میں محبت سے ہار گئے ” وہ بولا, لفظ “تینوں” پر انعمتا چونکی تھی

“یزدان نے بتایا نہیں آپ کو ؟؟؟” وہ مصنوعی حیرانی سے بولا, انعمتا بول نہ سکی

“آپ کی بیٹی نے بھی نہیں بتایا ؟؟؟” اس نے انعمتا کے ساتھ کھڑی رعنین کی طرف دیکھا, وہ ہلدی کی طرح زرد ہوۓ جا رہی تھی

“Why don’t you tell her dear that you love me… “

اس نے رعنین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا, انعمتا ساکت کھڑی رہ گئی

“ایم سوری… مجھے لگا تھا آپ کے بچے آپ کو ساری بات بتاتے ہیں… ” وہ دھیرے سے بولا

“اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں رعنین کے ساتھ تھوڑا ڈانس کر سکتا ہوں… مس انعمتا ؟؟؟” وہ سلگتی ہوئی مسکراہٹ سے پوچھ رہا تھا, انعمتا بس اسے دیکھتی رہ گئی

محبت کسی سے ایسے بھی نہ بدلے لے…. جیسے اس سے لے رہی تھی

حنین نے اپنا ہاتھ رعنین کے سامنے پھیلا دیا… جسے اس نے ذرا سی پس و پیش کے بعد تھام لیا تھا, حنین اسے سٹیج پر لے گیا

انعمتا کی جیسے ٹانگوں سے جان نکل رہی تھی, وہ ایک دم پاس پڑی کرسی پر گر گئی, دوبارہ حنین کی طرف دیکھنے کی بھی ہمت نہیں تھی لیکن…. دیکھنا تو تھا

وہ رعنین کی کمر کے گرد بازو ڈالے ہوئے تھے, رعنین کا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تھا, اسے گول گھماتے ہوۓ حنین نے نظر بھر کر انعمتا کو دیکھا….اور اس کی آنکھوں سے چھلکتی بے بسی دیکھ کر دل سے مسکرا دیا

“ایک بات کہوں تمہیں… رعنین حمدان خان… ” حنین کا حلقہ ذرا سا اس کی کمر کے گرد تنگ ہوا تھا, رعنین مسلسل اس کی مسکراتی نظروں کو دیکھ رہی تھی, حنین کے کندھے پر رکھا اس کا ہاتھ کپکپاۓ جا رہا تھا

“آج اگر تمہارا باپ زندہ ہوتا تو شاید تمہارے لئے میرا ہاتھ مانگ ہی لیتا کیونکہ اس نے خود اپنے سے پندرہ سال چھوٹی لڑکی سے شادی کی تھی لیکن… تمہاری ماں… ” حنین نے ایک بار پھر انعمتا کی طرف دیکھا, اس کی سفید رنگت میں زردیاں گھلتی جا رہی تھیں

“تمہاری پیاری سوتیلی ماں کبھی تمہیں میرا نہیں ہونے دے گی…. ” حنین نے اسے دوبارہ گول گھمایا تھا

رعنین ایک دم اس کے سینے سے آ لگی تھی

………………………..

رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا…آئرہ کو پیاس لگی تھی, جگ اٹھایا تو پانی ختم… ناچار وہ اٹھ کر نیچے آ گئی, فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور دوبارہ اوپر کی جانب بڑھی

دفعتاً اسے بیسمنٹ میں روشنی دکھائی دی تھی, عرصہ ہوا وہ بیسمنٹ میں نہیں گئی تھی, بس ملازمہ صفائی وغیرہ کر جاتی تھی, وہاں زیادہ تر زارون وقت گزارتا تھا

کسی انجانے سے احساس کے تحت وہ بیسمینٹ کی سیڑھیاں اتر گئی, ایک کمرے کی لائیٹ جل رہی تھی, اس نے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھل گیا

وہ یکدم اندر آئی تھی اور اندر آتے ہی ٹھٹھک گئی

اس سے زیادہ حواس باختہ زارون ہو گیا تھا

“زارون…. “پانی کی بوتل دھڑام سے اس کے ہاتھ سے گر گئی

“مام… آپ یہاں… ” اس نے بوکھلا کر سگریٹ منہ سے نکالا اور پیروں تلے مسل دیا

آئرہ حق دق منہ پر ہاتھ رکھے پورا کمرہ دیکھ رہی تھی

اس کمرے کی دیواروں پر کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں انعمتا کی تصویر نا لگی ہو, پوراج کمرہ اس کے چھوٹے بڑے پوسٹروں اور تصویروں سے بھرا پڑا تھا, پورے کمرے میں اس کے کلون کی دھیمی سی مہک پھیلی ہوئی تھی, ہلکا ہلکا میوزک آن تھا… جدھر نظر جاتی تھی… انعمتا حمدان خان ہی نظر آتی تھی

“مام… میری بات سنیں” زارون آگے کو آیا لیکن آئرہ اسقدر شاک میں تھی کہ بس چپ چاپ اس کے کمرے سے نکل گئی

زارون کچھ دیر بعد اس کے کمرے میں آیا تو وہ کروٹ لیے لیٹی تھی

“مام… ” زارون دھیرے سے اس کے ساتھ جڑ کر لیٹ گیا

“مام.. بات تو کریں” وہ بولا

“تو نے مجھے بولنے لائق چھوڑا ہے زارون…. ” آئرہ کی آواز میں دکھ ہی دکھ تھا

“مام… مجھے پتہ تھا جس دن میں نے آپ سے یہ سب کہہ دیا…. اس دن آپ کو بہت دکھ ہو گا… تبھی تو میں نے آپ کو کچھ نہیں بتایا… ” اس نے کہا, آئرہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی

“زارون میں جس عورت کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اسے تو نے پورے کمرے میں سجا رکھا ہے… ” وہ بولی

“مام میں نے اسے اپنے دل میں بھی سجا رکھا ہے” اس نے آئرہ کے گرد حلقہ بنایا تھا

“زارون…. ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی

“مام… میں آپ سے کبھی نہیں کہوں گا کہ مجھے انعمتا چاہئے… میری محبت ہے تو میں خود ہی جھیل لوں گا” اس نے زور سے آئرہ کو اپنے بازوؤں میں بھرا تھا

“تو تو ساری عمر ایسے ہی رہے گا کیا… ؟؟؟ خالی ہاتھ… خالی دل… زارون تو نے کیا کیا بیٹے ؟؟؟” اسے بے پناہ دکھ تھا

وہ بس روۓ جا رہی تھی

………………………

وہ آج دھڑلے سے اس سے ملنے اس کے آفس چلا آیا تھا, کیمپس کب کا آف ہو چکا تھا, جب سے وہ چیئر پرسن بنا تھا تب سے مصروفیت بھی زیادہ ہو گئی تھی

“کیسی ہو میری جان… ؟؟؟” وہ دھم سے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا

“کتنے بے شرم ہو گئے ہو ” زاہا سرخ ہو گئی

“زاہا میں بے شرم ہی تو نہیں ہوں…. اگر ہوتا تو آج تم میری ہوتیں”وہ بولا

“مبارک ہو تمہیں… تم چیئر پرسن بن گئے ہو” وہ بولی

“اور چیئر پرسن بنتے ہی چونا لگا دیا کمپنی کو” وہ ہنس کر بولا

“پھر کیا ہوا ؟؟؟ اگلی بار سیمینٹ لگا دینا” وہ بھی مسکرائی تھی

“زاہا… اب کیا کرنا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا

“تم نے کمپنی چلانی ہے اور میں نے پارٹنرشپ… پھر معیز سے شادی ” وہ بولی

“تم سچ میں اس سے شادی کر لو گی؟؟؟” حیان نے پوچھا

“منگنی بھی تو کی ہے ” زاہا نے کہا

“زاہا… معیز کو بتا دوں ؟؟؟” وہ آگے کو ہوا

“وہ فوراً مجھ سے پوچھے گا… ” زاہا نے کہا

“تو تم سچ بول دینا… ” حیان نے کہا, زاہا نے ایک لمبی سانس بھری

“حیان… میں بزدل نہیں ہوں, میں چاہوں تو آج ہر شے کو ٹھوکر مار کر تمہارے پاس آ جاؤں لیکن… یہ سب میرا ہے حیان… وہ کرسی میری ہے… وہ میرے پاپا میرے لئے چھوڑ کر گئے تھے… آئرہ نے دس سال اس کرسی پر راج کیا ہے….اگر میں نے آج تمہیں چن لیا…. تو اپنے پاپا کی کرسی کو ہمیشہ کے لئے کھو دوں گی….” وہ کہتی چلی گئی

“کیوں نا ایک کھیل کھیلیں زاہا… ” وہ آگے کو ہوا

“اگر جیت گئے…. تو تم میری ہو گی” وہ بولا

“اور اگر ہار گئے… ؟؟؟” زاہا نے کہا

“تو میری تو تم پہلے بھی نہیں ہو… ” وہ بے دردی سے مسکرایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *