Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar NovelR50579 Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 12)
Rate this Novel
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi (Episode 12)
Ik Shaam Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar
پندرہ سال پہلے
“انعمتا… ” اپنے پیچھے حنین کی سرگوشی نما آواز سن کر وہ پلٹی تھی
“کہاں گم تھیں دو دنوں سے ؟؟؟” اس نے بیتابی سے پوچھا
“یہیں تھی… میں نے کہاں گم ہونا ہے” وہ دھیرے سے بولی اور اس کے لحجے کا سونا پن حنین محسوس نا کرتا… تو اور کون کرتا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کچھ بھی نہیں… ” انعمتا کی یکدم ہی آواز بھرا گئی
“انعمتا… میری جان کیا ہوا ؟؟؟” حنین نے تڑپ کے اس کا ہاتھ تھام لیا, ارد گرد کی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی
“وہ… ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے” اب اسے کوئی تو بات بنانی تھی
“ادھر آؤ… ” وہ اسے اپنے ساتھ اپنے کیبن میں لے آیا, کرسی کھینچ کر اسے بٹھایا اور خود اس کے عین سامنے بیٹھ گیا
“انعمتا… میری طرف دیکھو” وہ بولا, انعمتا نے نظریں اٹھائیں تو وہ پانی سے بھری پڑی تھیں
“اور کچھ بھی مت سوچو… بس اتنا سوچو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں” وہ بڑے مان سے بولا تھا, انعمتا نے دھیرے سے سر ہلا دیا
حنین کافی دیر اس سے ادھر ادھر کی ہلکی پھلکی باتیں کرتا رہا, پھر اسے لنچ پر لے گیا, اس کے ساتھ ہونے سے انعمتا کے ڈوبتے دل کو بے پناہ سہارا ملا تھا
“میں کچھ دنوں کے لئے اسلام آباد جا رہا ہوں ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں… تمہارے لئے کیا لے کے آؤں ؟؟؟ اس نے واپس آتے ہوئے پوچھا
“جو مرضی لے آنا… ” وہ بولی
“تمہیں اچھا نا لگا تو… ” وہ مسکرایا
“مجھے تمہارا لایا اچھا نہیں لگے گا حنین ؟؟؟؟” انعمتا نے اسے گھورتے ہوۓ پوچھا تھا اور حنین کا سیروں خون بڑھ گیا تھا
واپسی پر بھی سارا راستہ وہ حمدان کی باتوں کو سوچتی رہی
دو دن گزر چکے تھے, وہ کسی بھی وقت اس سے جواب مانگ سکتا تھا… اور جب وہ جواب مانگے گا تو وہ کیا کہے گی.. ؟؟؟
یکلخت ہی اس کی آنکھوں میں حنین کا مسکراتا ہوا چہرہ آن سمایا… بھلا اس سے زیادہ مخلص انسان بھی کوئی ہو سکتا تھا جس نے ہمیشہ اس سے محبت ہی کی تھی …انتہائی بے غرض ہو کر….صرف محبت
“میں حنین کے بنا کیسے رہوں گی ؟؟؟؟ اور حنین بھی بھلا میرے بنا کیسے رہے گا ؟؟؟” اس نے سوچا
دل میں ٹیس سی اٹھی… حنین کے نا ہونے کا سوچ کر وہ کانپ سی گئ
“میں انہیں انکار کر دوں گی… میں آج ہی انہیں NO کا میسیج کر دوں گی… زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے… جاب سے نکال دیں گے, تو نکال دیں, حنین کو ویسے بھی میری جاب سے کوئی سروکار نہیں ہے… “گھر آتے آتے وہ یہ سب کرنے کا پکا تہیہ کر چکی تھی لیکن…
دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی ایک قیامت اس کی منتظر تھی
طارق صاحب کمرے کی دہلیز پر گرے پڑے تھے… اور انہیں اٹھانے کے لئے دوڑ کر آتی صفیہ پاؤں پھسل کر پورے وزن سے فرش پر گر گئی تھیں
ارحہ اور اسمارہ ان دونوں کو بمشکل ہی اٹھا پا رہی تھیں
“ابو… ” وہ ہر شے چھوڑ چھاڑ کر طارق صاحب کی طرف بھاگی
دو, تین محلے داروں کی مدد سے وہ اور اسمارہ انہیں ہسپتال لے گئے تھ, طارق صاحب کو دوسرا اٹیک ہوا تھا, ان کا دل انتہائی کمزور ہو چکا تھا
“ارجنٹ بائی پاس…. ” ڈاکٹر نے خبر سنا دی
دوسری جانب صفیہ کے کمر کا مہرہ کھسک گیا تھا, ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی, ان کا آپریشن ہونا تھا, ساری رات اس ہسپتال میں وہ اور اسمارہ سر جوڑ کر روتی رہیں, دامن تو سارا خالی تھا
بائی پاس کہاں سے ہوتا ؟؟؟
“انعمتا… حنین بھائی کو کال کرو ” اسمارہ نے کہا
“وہ اسلام آباد گیا ہوا ہے… ” انعمتا نے کہا
“پھر ہم کیا کریں گے… ؟؟؟” وہ رو پڑی
اور اس نے بڑی ہمت کر کے حمدان کا نمبر ملا لیا تھا
“جی انعمتا…” وہ پہچان گیا
“سر ابو کو دوبارہ سے ہارٹ اٹیک ہوا ہے… اور امی بھی ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہیں… اگر آپ… ” حمدان نے اس کی بات کاٹ دی
“آپ کس ہسپتال میں ہیں… ؟؟؟”
“سول ہسپتال… “
“اوکے… میں آ رہا ہوں” وہ کال کاٹتے ہوئے بولا تھا اور دس منٹ بعد وہ سول ہسپتال تھا
وہ دونوں بہنیں ہسپتال کے فرش پر ایمرجنسی کے آگے دیوار سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھیں, حمدان اسے اسقدر بدحال دیکھ کر تڑپ ہی گیا
“کہاں ہیں انکل ؟؟؟” اسے سامنے دیکھ کر انعمتا کی جان میں جان آئی تھی
“ابو آپریشن روم میں ہیں اور… امی ایمر جنسی میں” وہ بولی
“آئیں میرے ساتھ… ” وہ خود ڈاکٹر سے ملا تھا, سب کچھ ڈسکس کیا تھا, سارے ٹیسٹ کرواۓ تھے
طارق صاحب کا بائی پاس ہی ہونا تھا… ان کے بائی پاس کا سارا خرچہ اسی نے اٹھایا تھا, اس پوری رات اور اگلا پورا دن وہ ان دونوں کے پاس ہسپتال رکا رہا, صفیہ کی ران میں راڈ ڈلوایا تھا, وہ ذرا سا بھی ہلنے جلنے سے قاصر تھیں
“اسمارہ… بچے آپ گھر جاؤ, وہاں ارحہ اکیلی ہے, یہاں میں اور انعمتا آپ کے امی ابو کو دیکھ لیں گے” اسے ان دونوں پر ٹوٹ کر ترس آ رہا تھا, انعمتا کے اشارے پر وہ حمدان کے ڈرائیور کے ساتھ گھر چلی گئی
طارق صاحب کا بائی پاس کامیابی سے ہو گیا تھا… کچھ دیر بعد انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیا جاتا, حمدان نے اپنے اثر و رسوخ سے ان کے لئے الگ سے کمرہ لے لیا تھا, وہ ابھی تک بے ہوش تھے, صفیہ کا آپریشن جاری تھا
“انعمتا… مجھے تھوڑی دیر کے لیے آفس جانا ہے, ابھی آ جاؤں گا, حنین بھی نہیں ہے اور یزدان نے ایک میٹنگ میں جانا ہے” وہ اسے طارق صاحب کے پاس بٹھاتے ہوۓ بولا
“اٹس اوکے سر… آپ پہلے ہی کل سے یہاں ہیں, اتنا ساتھ دیا ہے آپ نے… ” وہ جلدی سے بولی
“کوئی بات نہیں… میں بس تھوڑی دیر تک آ جاؤں گا” وہ دھیرے سے کہتا ہوا باہر نکل گیا
انعمتا طارق صاحب کے پاس بیٹھ گئی, وہ خود بھی دو راتوں سے جاگ رہی تھی, سو کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہی سو گئی
حمدان آدھے گھنٹے بعد واپس آیا تھا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھٹھک گیا, وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بے خود تھی, دوپٹہ سر پر سے ڈھلک کر کندھے پر آن گرا تھا, بالوں کی آوارہ سی لٹیں چہرے پر جھول رہی تھیں
وہ دہلیز پر ہی تھم گیا… بہت دیر تک وہ کھڑا اسے دیکھتا رہا, پھر اندر آ گیا, آتے ہوئے وہ کھانا لیکر آیا تھا
“انعمتا… ” اس کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر اٹھی, دوپٹہ جلدی سے ٹھیک کیا تھا
“چلو آؤ کھانا کھا لو… ” اس نے شاپر کھولتے ہوئے کہا تھا
“سر آپ اتنا تکلف نا کرتے, پہلے ہی آپ نے اتنا کچھ کیا ہے… ” وہ شرمندہ سی ہو گئی
“کسی کو کھانا آفر کرنا کوئی تکلف نہیں ہوتا… کھاؤ شاباش” وہ بولا, انعمتا چپ چاپ اس کے سامنے بیٹھ گئی
اب جتنی دیر اس نے کھانا تھا… اتنی دیر حمدان نے اسے دیکھنا تھا, اور جب دیکھ دیکھ کر تھک گیا تو بول اٹھا
“آپ نے کوئی جواب نہیں دیا انعمتا… ” اس کے پوچھتے ہی وہ چونک سی گئی, وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
سچ ہی تو کہا تھا اس نے… وہ اس کی ہر پریشانی میں اس کے ساتھ تھا, اس کی ہر تکلیف میں, ہر دکھ میں اس کے ساتھ تھا…پچھلی رات سے اس کے ساتھ تھا
حمدن انٹرپرائزرز کا چیئر پرسن ہونے کے باوجود اس لمحے ہسپتال میں اس کے ساتھ تھا
کیا وہ اکیلی یہ سب کر پاتی ؟؟؟
اس کے باپ کا بائی پاس ہوا تھا, اس کی ماں کا آپریشن ہوا تھا, اس کی دو چھوٹی بہنیں ہسپتال میں خوار ہونے کی بجاۓ سکون سے گھر بیٹھی تھیں… کیا یہ کم تھا ؟؟؟
اور اس لمحے انعمتا طارق کو ادراک ہوا کہ محبت ہی سب کچھ نہیں ہوتی… کبھی کبھار کچھ چیزیں محبت سے زیادہ اہم ہوتی ہیں… جیسے بستر پر پڑا باپ… جیسے ایمرجنسی میں پڑی ماں… جیسے دو چھوٹی جوان بہنیں… جیسے آنیوالے وقت کی کسمپرسی…
اس لمحے اس نے بس یہ سوچا کہ جو حمدان نے کیا… وہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا
یہ سوچا ہی نہیں کہ اگر وہ حمدان کی بجاۓ حنین کو کال کرتی تو کیا وہ نہ آتا… ؟؟؟ کیا وہ دو راتیں اس کے ساتھ ہسپتال میں نا رکتا, کیا وہ اس کا ساتھ نا دیتا… ؟؟؟
نہیں سوچا… بس سوچا تو حمدان سیف خان کا خود پر کیا احسان سوچا… بس یہ سوچا کہ اگر وہ اس کی بات مان لیتی ہے تو کم از کم وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہو گا… اس کے ماں باپ سلامت رہیں گے… اس کی بہنیں محفوظ رہیں گی… سب کچھ مل جاۓ گا
محبت نا بھی ملی تو کیا ہوا ؟؟؟ حنین نا بھی ملا تو کیا ہوا ؟؟
اس نے دھیرے سے اپنا سیل اٹھایا اور YES ٹائپ کر کے اسے سینڈ کر دیا, حمدان دیکھ کر خفیف سا مسکرا دیا
“یہ اس لیے کیونکہ میں نے آپ کا ساتھ دیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… یہ اسلیے کیونکہ آپ ہمیشہ میرا ساتھ دیں گے” وہ سر جھکاتے ہوۓ ایک لمحے میں حنین کو قربان کر گئی تھی
……………………..
طارق صاحب اور صفیہ دونوں گھر واپس آ چکے تھے, صفیہ تو ابھی بستر پر ہی تھیں البتہ طارق صاحب ذرا ذرا چلنے پھرنے لگے تھے, انعمتا کافی دنوں سے گھر پر ہی تھی, حمدان نے خود ہی اسے کچھ دنوں کی چھٹی دے دی تھی
وہ بھی اکتوبر کی ایک خاموش سی شام تھی, انعمتا اور ارحہ نے واشنگ مشین لگائی ہوئی تھی, طارق صاحب باہر صحن میں بیٹھے تھے جبکہ اسمارہ صفیہ کو یخنی پلا رہی تھی جب حمدان کی گاڑی ان کے گھر کے سامنے آ کر رکی
دروازہ ارحہ نے کھولا تھا, اسے دہلیز پر کھڑا دیکھ کر انعمتا کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہو گئی, ارحہ نے اسے اندر آنے کا کہہ کر دروازہ بند کر دیا, طارق صاحب اسے لیکر اندر آ گئے
“انکل اگر آپ برا نا منائیں تو آنٹی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں, مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے” وہ بولا, طارق صاحب اسے صفیہ کے کمرے میں لے آۓ
“اب کیسی طبیعت ہے آنٹی ؟؟؟” اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا
“شکر اللہ کا بیٹے…. تمہارا بڑا احسان ہے ہم پر… ” وہ بولیں, کچھ ہی دیر میں اسمارہ چاۓ لے آئی, چاۓ کے بعد حمدان اصل مدعے پر آیا تھا
“انکل میری بیوی کی موت کو تقریباً ایک سال ہو چلا ہے… میرے تین بچے ہیں… اور تینوں ابھی چھوٹے ہیں, ایک طرف گھر اور دوسری طرف بزنس… زندگی بہت زیادہ مشکل ہو گئی ہے… ” اس نے کہنا شروع کیا, انعمتا دروازے کے باہر کھڑی تھی
“انکل میں سیدھے مدعے کی بات پر آؤں گا… اگر آپ دونوں کو برا نا لگے تو میں انعمتا کو اپنانا چاہتا ہوں” وہ بولا, طارق صاحب اور صفیہ دونوں دم بخود رہ گئے تھے
“میں جانتا ہوں وہ مجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہے… میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ کنواری ہے اور میں تین بچوں کا باپ… لیکن میں پھر بھی آپ سے یہ التجا کرنے چلا آیا… ” وہ بولا
“میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں انکل کہ انعمتا کو زندگی کی ہر خوشی میسر کروں گا, کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے, آپ سب لوگ میری ذمہ داری ہوں گے… ارحہ اور اسمارہ میرے لئے اتنی ہی اہم ہوں گی جتنی انعمتا کے لئے… میرے ہوتے آپ لوگوں کو کسی بھی چیز کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی, میں اللہ کے فضل سے آپ کی ہر ضرورت پوری کروں گا, ارحہ اور اسمارہ کی شادیوں کی ساری ذمہ داری میں اٹھاؤں گا… ” وہ کہتا چلا گیا
“لیکن تم یہ سب کیوں کرو گے بیٹے ؟؟؟” طارق صاحب نے کہا
“کیونکہ میں بھی باقیوں کی طرح ایک خود غرض انسان ہی ہوں انکل جسے اس لمحے صرف اور صرف اپنے بچوں سے سروکار ہے… میرے رشتے دار میری عزت صرف اور صرف میری دولت کی وجہ سے کرتے ہیں, وہ میرے آگے پیچھے صرف اسلیے پھرتے ہیں کیونکہ میں ان کے لئے قارون کا خزانہ ہوں, میرے بچوں سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے….” وہ بولا
“وہ ابھی بہت چھوٹے ہیں انکل… انہیں ایک ماں کی ضرورت ہے… جو ان سے محبت کر سکے, ان کی حفاظت کر سکے, میں چاہوں تو آج اپنی کلاس کی کسی بھی لڑکی سے شادی کر لوں لیکن وہ صرف میری بیوی ہو گی…. وہ میرے بچوں کی ماں نہیں ہو گی” وہ بولا, طارق صاحب نے صفیہ کی طرف دیکھا
” آپ کو ازمیر کی جگہ ایک بیٹا چاہئے نا انکل… اور مجھے میرے بچوں کے لئے ایک ماں…” اس نے ان دونوں کی طرف دیکھا
“آپ پر کوئی زبردستی نہیں ہے … اقرار یا انکار… جو بھی آپ کرنا چاہیں, میں بالکل برا نہیں مناؤں گا” وہ بولا
“انعمتا ابھی پڑھ رہی… ” حمدان نے صفیہ کی بات کاٹ دی
“وہ شادی کے بعد جتنا پڑھنا چاہے گی پڑھ لے گی….. میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی” وہ بولا
“اور تمہارے گھر والے… ؟؟؟؟” صفیہ نے پوچھا
“اگر آپ راضی ہیں تو میں اپنی والدہ کو لے آؤں گا… والد صاحب حیات نہیں ہیں” وہ بولا
“میں آپ کی کال کا انتظار کروں گا انکل… ” وہ کچھ دیر بعد چلا گیا تھا
………………………..
“انعمتا… ” وہ اپنے ازلی لحجے میں اسے پکارتا ہوا وہاں آیا تھا, دو دن پہلے ہی وہ اسلام آباد سے واپس آیا تھا اور سیدھا اس کے کیبن میں چلا آیا, وہ آج کافی دنوں بعد آفس آئی تھی
“کیسی ہو ؟؟؟”
“ٹھیک ہوں… ” وہ نظریں چرا گئی
“انکل آنٹی کیسے ہیں اب ؟؟؟” اس نے پ, اسے یزدان کی زبانی سب پتہ چلا تھا
“ٹھیک ہیں…. “
“میں شام میں چکر لگاؤں گا… ” وہ کہتا جا رہا تھا, انعمتا بس چپ چاپ سنتی جا رہی تھی
“انعمتا… ایک بات مانو گی میری ؟؟؟” اسنے کچھ دیر بعد پوچھا
“ہاں… بولو “
میرے پاس تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے… آج آفس سے واپسی پر ساتھ والے ریسٹورینٹ میں چلو گی تھوڑی دیر…. ؟؟؟” اس نے پوچھا
“حنین… امی ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے… مجھے ذرا جلدی گھر جانا ہوتا ہے” وہ ہچکچاتے ہوۓ بولی
“ہاں ہاں… مجھے پتہ ہے, میں واپسی پر خود تمہیں چھوڑ دوں گا… انکل آنٹی سے مل کر آؤں گا” وہ بولا, انعمتا چپ رہ گئی
“چلو گی نا… ؟؟؟” وہ آس بھرے لحجے میں بولا
“اچھا…. ” وہ دھیرے سے بولی تھی
کچھ دیر بعد اسے اسمارہ کی کال آئی
“تمہارے پاس حنین کے بھائی جان کا نمبر ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں ہے… کیوں ؟؟؟؟”
“سینڈ کر دو مجھے… ابو اور میں ان کے گھر جانے لگے ہیں ” اسمارہ کے کہتے ہی اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا
“کیوں ؟؟؟” حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی پھر بھی پوچھنے لگی, ابھی رات ہی تو طارق اور صفیہ نے اسے سامنے بٹھا کر اس سے پوچھا تھا
“حنین…. یا حمدان…؟؟؟”
اور اس نے حمدان کو چن لیا تھا
“حنین بھائی کی امی اور بھائی سے بات کرنے جا نا ہے… انہیں… انکار بھی تو کرنا ہے, اگر امی کے ٹھیک ہونے کا انتظار کیا تو بہت دیر ہو جاۓ گی” اسمارہ کہتی چلی گئی, اس نے چپ چاپ کال کاٹ کر اسے سبتین کا نمبر سینڈ کر دیا
شام تقریباً چار بجے سے حنین کی کال آئی تھی
“انعمتا… آ جاؤ, میں انتظار کر رہا ہوں, پھر گھر چلیں گے” وہ چہک رہا تھا, انعمت کی آنکھیں بھر آئیں, اس نے کل کاٹ دی, پندرہ منٹ بعد پھر وہ کال کرنے لگا, بار بار… اس نے موبائل بند کر دیا اور چپ چاپ اٹھ کھڑی ہوئی آفس سے باہر نکلی اور زندگی میں پہلی بار رکشہ پکڑ کر گھر آ گئی, اسے پتہ تھا کہ اس کی طرف سے کوئی جواب نا پا کر حنین یقیناً دوبارہ آفس آۓ گا داور اس وقت سب سے مشکل کام اس کا سامنا کرنا تھا
وہ بیچارہ تا دیر اس کا انتظار کرتا رہا… سارا کھانا ٹھنڈا ہو گیا, بار بار کال کی لیکن موبایل بند
ناچار وہ آفس واپس آیا…
“کومل… انعمتا کہاں ہے ؟؟؟”
“وہ تو گھر چلی گئی” اس کی بات سن کر حنین پریشان ہو گیا, اسی وقت انعمتا کے گھر پہنچا, دروازے پر ہوتی دستک سے. ہی اسے حنین کے آنے کا پتہ چل گیا تھا
“ارحہ…. انعمتا واپس آ گئی ؟؟”
“جی… اندر ہیں” وہ بولی
“مجھے اس سے بات کرنی ہے… ” وہ اندر آ گیا
“انعمتا… ” اس نے آواز دی تھی, وہ خاموش اندر بیٹھی رہی
“انعمتا… میری جان کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ ایسا ہی تو تھا… اس کی پریشانی میں پریشان ہو کر ارد گرد کی خبر ہی کھو بیٹھتا تھا, اب بھی وہ پاس کھڑی ارحہ کو بھول گیا
“انعمتا… یار میری بات تو سنو, کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا
“اسے کیا ہوا ہے ؟؟” وہ ارحہ کی طرف مڑا
“پتہ نہیں حنین بھائی… ” اس نے انجان بننے میں ہی عافیت جانی
“انکل کہاں ہیں؟؟؟”
“باہر گئے ہیں کہیں… “
“اور آنٹی… ؟؟؟”
“وہ سو رہی ہیں…”
خدا گواہ ہے کہ وہ لڑکا پورا گھنٹہ باہر کھڑ اس کا انتظار کرتا رہا لیکن انعمتا اپنے کمرے سے نا نکلی
“انعمتا…. ” وہ دروازے کے باہر کھڑا آوازیں دیتا رہا, وہ اندر چپ چاپ تکیے میں منہ دییے روتی رہی
دفعتاً اس کا سیل بجا…سبتین کی کال تھی
“حنین… جلدی گھر آ” وہ ایک نظر بند دروازے کو دیکھتا ہوا واپس پلٹ گیا
گھر پہنچا تو ایک قیامت اس کی منتظر تھی
“کیا ہوا امی ؟؟؟” وہ زینب کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر بولا
“حنین… انعمتا کے گھر والوں نے تم دونوں کے رشتے سے انکار کر دیا ہے” سبتین نے کہا
“کیوں ؟؟؟” وہ سن کھڑا رہ گیا
“انعمتا کو تیری کمپنی کے چیئر پرسن نے پروپوز کیا ہے” وہ بولا
“سر حمدان نے ؟؟؟” وہ ششدر رہ گیا
“ہاں… طارق انکل آۓ تھے, ساتھ انعمتا کی بہن تھی… وہ رو رہے تھے حنین… کہتے کہ ان کی مجبوریاں جیت گئیں… اور ہم سے کیا ہوا وعدہ ہار گیا” سبتین کہتا چلا گیا تھا
…………………………..
طارق صاحب نے اسے کال کر کے ہاں کہہ دی تھی… شاید ان سب کے حق میں ہی ہی بہتر تھا… اور اسی رات کھانے کی میز پر اس نے اپنا فیصلہ سب کے سامنے رکھ دیا
ایک لمحے کو تو سب کو سانپ سونگھ گیا تھا
سب سے پتلی حالت یزدان کی تھی…. اس کی آنکھوں میں فوراً حنین کا چمکتا ہوا چہرہ گھوم گیا
“امی کل میں اور آپ انعمتا کے گھر جائیں گے” وہ اپنے ازلی بے نیاز سے لحجے میں بولا
“تو بیٹا جی یہ جو تم نے ہمیں اطلاع دے کر ہم پر احسان کیا ہے… یہ بھی نا کرتے, تمہاری شادی میں بھی صرف تمہاری ماں ہی آ جاۓ گی” اس کے چچا کیف خان نخوت سے بولے تھے
“وہ آپ کی مرضی ہے… میں کسی پر زبردستی نہیں کروں گا” وہ بولا
“آخر ہے کون وہ.. کس خاندان کی ہے ؟؟؟ کس کلاس کے لوگ ہیں… ایسے بیٹھے بٹھائے… ” اس کی بڑی بہن اور بہنوئی بھی آۓ ہوۓ تھے
“مڈل کلاس سے ہے… میرا ایک بہت اچھا ایمپلائی ہوا کرتا تھا ازمیر طارق… اس کی بہن ہے” وہ بولا
“عمر کیا ہے اس کی ؟؟؟ کتنے بچے ہیں ؟؟؟ پہلے شوہر نے طلاق کیوں دی ؟؟؟” اس کی چچی اس پر چڑھ دوڑیں
” وہ ابھی صرف اٹھارہ سال کی ہے…” اس کے بولتے ہی آئرہ تالیاں بجاتی ہوئی کھڑی ہو گئی
“واہ بھئی واہ… اب حمدان سیف خان ایک اٹھارہ سال کی لڑکی سے شادی کریں گے, چونتیس سال کی عمر میں آ کر ان کا ایک بچی سے شادی کرنے کو دل کرنے لگا ہے… کیا کرے گی وہ یہاں آ کر… تمہیں تو خوش کرنے سے رہی… تمہارے بچے ہی پالے گی نا… تو اس سے تو اچھا تھا کہ تم ان کے لئے کسی بے بی سٹر کا بندوبست کر لیتے ” وہ چنگھاڑ کر بولی تھی
“امی… کل تیار رہیے گا, شام کو چلیں گے” وہ کہہ کر اٹھ گیا, یزدان بس اسے اوپر جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا
اس کے بعد جو غدر اٹھا… الامان الحفیظ….
ایک طرف سے آئرہ کی چنگھاڑ… دوسری طرف سے بلقیس کی دہاڑ
آئرہ کی ماں فریحہ پر چڑھ دوڑی… وہ بیچاری تو ہکا بکا سب دیکھ رہی تھیں
“امی… اٹھیں, اندر چلیں… ” یزدان انہیں ان کے کمرے تک لے آیا تھا
“یزدان… تو جانتا ہے اس لڑکی کو ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“جی امی…. وہ بہت اچھی لڑکی ہے, ازمیر کی بہن ہے… آفس میں ہی کام کرتی ہے” وہ انہیں مطمئن کر کے باہر نکلا تو آئرہ کی توپ کا رخ یکدم اس کی طرف ہو گیا
“…اور لے ے کہ. میرے لئے سب کو یہ نظر آ جاتا ہے… “
وہ بس سر کان لپیٹ کر اوپر چڑھتا چلا گیا
“بھائی… ” اس نے حمدان کے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تھی
“آ جاؤ یزدان… ” وہ تینوں بچوں کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہا تھا
“نیچے قیامت لا کر اب خود سکون سے ٹام اینڈ جیری دیکھ رہے ہیں آپ ؟؟؟” وہ بولا
“ایک سال ہو گیا سب کو میرے پیچھے پڑے ہوئے کہ دوسری شادی کر لو…. دوسری شادی کر لو… اب کرنے لگا ہوں تو قیامت آ گئی ہے” وہ بولا
“بھائی.. میری بات کا برا نا منائیے گا لیکن… آپ کو نہیں لگتا کہ وہ عمر میں آپ سے کافی چھوٹی ہے” وہ بولا
“Do you think it really matters…???
وہ اس کی طرف مڑا تھا… یزدان اس کی بات سمجھ گیا
“میری بات اور ہے بھائی… وہ میری کزن ہے اور… وہ محض مجھ سے چھ سال بڑی ہے… پندرہ سال نہیں” وہ بولا
“یار اب تو مجھے ایسے فیل کروا رہا ہے جیسے میں بوڑھا ہو گیا ہوں ” وہ دھیمے سے ہنسا
“نہیں بھائی… ایسی بات نہیں ہے, چلیں ٹھیک ہے, جیسے آپ کو مناسب لگے” وہ کھڑا ہو گیا, دروازے تک آیا.. اور پھر پلٹا
“بھائی… اس کے ابو نے ہاں کر دی ہے ؟؟؟”
“ہاں… صبح کال آئی ہے” وہ بولا
“اور انعمتا… ؟؟؟” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
“اس نے اوکے کیا ہے تبھی اس کے گھر گیا ہوں میں” وہ بولا
“اس نے کہہ دیا کہ… وہ راضی ہے… آپ سے شادی کرنے پر ؟؟؟” یزدان نے پھر پوچھا
“یزدان کیا ہو گیا یار… اتنی بال کی کھال تو امی نے بھی نہیں اتاری ” وہ بولا
“نہیں نہیں… ایسے ہی پوچھ رہا ہوں, عموماً مڈل کلاس فیملیز اس عمر میں لڑکیوں کی منگنی وغیرہ کر دیتی ہیں نا… ” وہ بولا
“یزدان… میں نے اسے پروپوز کیا… اور اس نے یس کہہ دیا, بنا کسی زور زبردستی کے…اوکے ؟؟؟”
“اوکے بھائی… ” وہ مسکراتے ہوۓ باہر نکلا اور سرعت سے نیچے اترا, گاڑی کی چابی اٹھائی اور حنین کی طرف نکل پڑا, بار بار اسے حنین کی فکر ہو رہی تھی
دروازہ سبتین نے کھولا
“حنین سے ملنا تھا مجھے… ” وہ علیک سلیک کے بعد بولا
“حنین اوپر ہے…. اپنے کمرے میں ” سبتین نے اوپر اشارہ کرتے ہوئے کہا, وہ سر ہلا کر اوپر آ گیا
“حنین… ” وہ بستر پر اوندھا پڑا تھا
“حنین… سن یار, بھائی کہہ رہے ہیں کہ انعمتا کے ابو نے ہاں کر دی ہے” وہ اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر رہ گیا
“اس کے ابو آج آۓ تھے… رشتہ توڑ گیے ہیں ” حنین نے کہا, یزدان ساکت رہ گیا
“انعمتا سے بات ہوئی ؟؟؟” اس نے پوچھا, حنین نے نفی میں سر ہلا دیا
“اس سے تو پوچھتا کہ کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ بولا
“پورا گھنٹہ اس کے کمرے کے باہر کھڑا اسے آوازیں دیتا رہا ہوں میں… وہ باہر ہی نہیں نکلی” وہ ٹوٹا پڑا تھا
“بھائی کہہ رہے ہیں کہ… انعمتا نے خود ان سے شادی کی حامی بھری ہے” وہ بولا
“حنین… ” یزدان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“اگر تو کہے تو میں بھائی کو بتا دوں… یار انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے, جب پتہ چلےبگا تو خود ہی پیچھے ہٹ جائیں گے” وہ بولا
“ابھی رک جا…. مجھے ایک بار انعمتا سے بات کر لینے دے” وہ دھیرے سے بولا تھا
………………………..
“انکل کچھ تو بتائیں… آخر ایسا کیا ہو گیا کہ آپ نے حمدان سیف خان کے مقابلے مجھے ٹھکرا دیا… میرا قصور تو بتائیں, آخر ایسا کیا کر دیا میں نے کہ ایک ہفتے میں آپ نے ہر رشتہ توڑ دیا… ” وہ آج پھر طارق صاحب سے ملنے آیا تھا, دو دن سے وہ اسی حلیے میں تھا, صبح آفس گیا تو انعمتا چھٹی پر تھی, وہ بھی شارٹ لیو لے آیا, فی الحال وہ حمدان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا
وہاں سے سیدھا طارق صاحب کی طرف آ گیا تھا
“حنین… میں نے بہت مجبوری میں یہ فیصلہ لیا ہے بیٹے, انعمتا سے شادی کر کے تو ساری عمر کے لئے مجبوریوں اور ذمہ داریوں میں بندھ جاۓ گا” وہ بولے
“انکل میں نے کب کسی ذمہ داری سے انکار کیا ہے ؟؟” وہ بولا
“یہ ابھی کہنا آسان ہے حنین… چار, پانچ سال بعد نہیں ہو گا, میں دل کا مریض ہوں, آۓ روز کی نت نئی بیماریاں, صفیہ کی صورتحال بھی مخدوش ہی ہے, کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے, تین بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں, جہیز بنانا ہے… سو ذمہ داریاں ہیں, ہاری بیماریاں ہیں… تو کہاں تک کرے گا حنین ؟؟؟” وہ. کہتے چلے گئے
“تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ… حمدان سیف کی دولت جیت گئی انکل… ” وہ ہار گیا تھا
“نہیں حنین… خدا گواہ ہے میں نے اس کی دولت نہیں دیکھی… میں نے صرف اپنی بیٹیوں کا اچھا مستقبل دیکھا…بس” وہ بولے
“وہ سب میں بھی کروں گا انکل… ارحہ اور اسمارہ میری ذمہ داری ہیں… میں پوری طرح نبھاؤں گا” وہ تڑپ کر بولا تھا, طارق صاحب جیسے بے بس ہو گئے
“حنین… میں نے یہ فیصلہ انعمتا کی مرضی پوچھ کر کیا ہے… تو اس سے خود ایک بار پوچھ لے, اگر وہ اپنا فیصلہ بدلتی ہے تو میں آج ہی کال کر کے حمدان کو انکار کر دوں گا” انہوں نے انعمتا کو بلا لیا, وہ چپ چاپ سی دروازے میں آن کھڑی ہوئی
“انعمتا… آگے آؤ”انہوں نے کہا, وہ پیلی پڑتی جا رہی تھی, ہاتھ مسلسل کپکپا رہے تھے, لبوں کی لرزش واضح تھی, وہ دھیرے سے طارق صاحب کے برابر میں بیٹھ گئی
“پوچھ لے اس سے… ” وہ کہہ کر باہر نکل گئے
“انعمتا…. یار مجھے معاف کر دو, مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرے اسلام آباد جاتے ہی انکل کو ہارٹ اٹیک ہو جاۓ گا… یار مجھے ایک بار کال تو کرتیں, میں اسی وقت واپس آ جاتا… انعمتا میں نے کہا تھا نا کہ میں ہر پل تمہارے ساتھ ہوں… تمہاری ساری ذمہ داریاں میں خوشی سے اٹھاؤں گا, میں بھی تمہیں بہت خوش رکھوں گا….. ” وہ اٹھ کر فقیروں کی طرح اس کے قدموں میں آ بیٹھا, وہ بس دونوں ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی
“میں صبح ہی حمدان کو بتا دوں گا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں…. وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاۓ گا” وہ بولا, انعمتا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“میں نے اسے اپنی مرضی سے ہاں کی ہے” وہ بڑے مضبوط لحجے میں بولی تھی, حنین ششدر رہ گیا
یہ اس کی انعمتا تھی ؟؟؟
“جاؤ حنین… دوبارہ یہاں مت آنا پلیز” وہ بس اتنا کہہ کر کھڑی ہو گئی اور دروازے کی طرف بڑھی, حنین نے بھاگ کر اس کی کلائی تھام لی
“میرا کیا ہو گا انعمتا ؟؟؟” وہ زور سے بولا
“ہاتھ چھوڑو میرا…. ” وہ بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی
حنین نے چند لمحوں بعد اس کا ہاتھ چھوڑ دیا, وہ کمرے سے نکلتی چلی گئی
اس لمحے حنین یامن میر کی بے بسی کو کون جان سکتا تھا
