Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ishq Lafz Ishq ( Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Lafz Ishq ( Episode 26)
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے ہیں تھے منت آرام سے سو رہی تھی جب اس کا موبائل بجا اس نے مڑ کر دیکھا تو حاشر اس سے کروٹ لئے شاید سو رہا تھا
موبائل دیکھا تو وہاں حاشر کا نام جگمگا رہا تھا
آپ میرے ساتھ سو کر مجھے ہی فون کر رہے ہیں اس نے حاشر کے ہاتھ میں فون دیکھتے ہوئے کہا
میں تمہیں فون نہیں کر رہا بلکہ اپنے ورکر کو کر رہا ہوں حاشر نے شرارتی انداز میں کہا
اس کی شرارت سمجھ کر منت نے فون اٹھا لیا اور کان سے لگایا
آپ کو پتا نہیں ہے مسٹر اس وقت میرے ہسبنڈ گھر پے ہوتے ہیں اور آپ مجھے فون کرکے تنگ کر رہے ہیں ایک ادا سے کہا
جانتا ہوں تمہارا کو ہسبینڈ تمہارے ساتھ تمہارے بیٹھے سو رہا ہو گا لیکن میں کیا کروں تمھیں دیکھے بغیر تم سے بات کیے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا سرگوشی کے انداز میں جواب آیا جس پر منت کی ہنسی چھوٹ گئی
دیکھیں مسٹر میں نے آپ کو پہلے بھی سمجھایا تھا کہ میرے ہسبنڈ کو کو جا نہ کہیں یہ نہ ہو کہ میں آپ سے بریک اپ کر لو ں دھمکی دی گئی
نہیں نہیں پلیز بریکاپ مت کیجئے گا میں آپ کے کوجے ہزبنڈ کوجہ نہیں کہوں گا حاشر نے شرارت سے کہا
ویسیے مسٹر آپ کی بیوی کو برا نہیں لگتا ہے جب آپ مجھ سے اس طرح سے رات کو چھپ کر باتیں کرتے ہیں منت نے پوچھا
اگر برا لگتا ہے تو لگتار ہے مجھے کیا میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ سے دل کھول کر باتیں کروں گا اس کی بات سن کر منت اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے نازک ہاتھ کا موکا اس کے سینے پپ دے مارا
جس پر حاشر بلبلا کر اٹھ
ا کیا کہا برا لگتا ہے تو لگتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔؟
ارے بیوی تم جاگ رہی ہو یقین کرو آفس سےفون تھا وہ ورکر فون کر رہا تھا اسے مجھ سے کوئی ضروری کام تھا حاشر نے خوب ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے جھوٹ بولا
جس پر منت کی ہنسی کمرے میں گونجنے لگی
میں بھی اپنی سہیلی سے بات کر رہی تھی منت بھی اسی کے انداز میں بولی
یہ کون سی نئی سہیلی ہے جو آدھی رات کو فون کرتی ہے آنکھوں میں شرارت چہرے پر غصہ لیے وہ بول رہا تھا
اب آپ میری ساری سہیلیوں کو تھوڑا جانتے ہیں یہ بھی ایک سے ہیں بہت خاص بہت پیاری منت نے مسکراتے ہوئے جھوٹ بولا
بہت خاص اور بہت پیارا تو میں بھی ہوں مجھ سے تو کبھی نہیں کی اس طرح سے راتوں کو اٹھ اٹھ کر باتیں وہ منت کو اپنے قریب کھینچتے ہوئے بولا
بس بن گے نا پرانے والے حاشر نکل گی ساری ہیروپنتی منت نےاس کے سینے پہ ہاتھ رکھے خود سے دور کرتے ہوئے کہا
وہ کیا ہے نا اس وقت بیوی کی خدمت کرنے کا وقت ہے صبح دوبارہ ہیرو بن جائیں گے اس کی مزاحمت کو نظرانداز کرتے اس نے ایک بار پھر سے اپنے قریب کھینچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی وہ سالار کو انکار نہیں کر سکی کیونکہ وہ سالار سے بالکل بات نہیں کرتی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ سالار سے اس کے کیے کا بدلہ نہیں لے سکتی لیکن اسے یہ چھوٹی سی معمولی سزا تو دے ہی سکتی ہے وہ اس کی آواز سننا چاہتا ہے اس کے منہ سے اپنا نام سننا چاہتا ہے اپنے نام سی آئی اس کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہے لیکن سیرت میں نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایسا کبھی نہیں ہو کرے گی وہ کبھی اس کے لیے نہیں مسکرائے گی اور نہ ہی اس کا نام اپنی زبان سے لے گئی
سالار اس کے سامنے آتا نہ جانے محبت کی کون کون سی کہانیاں سناتا اس کے سامنے بیٹھی بنا کوئی چوں چراں اس کی ساری باتیں سنتی وہ کسی بات پر مسکرا تا تو آگے پیچھے دیکھنے لگتی لیکن آگے سے کسی بات کا جواب نہیں دیتی
جبکہ باقی سب گھر والوں سے وہ ٹھیک سے بات کرتی تھی سلمان صاحب شام کو گھر واپس آتے تو دو دو گھنٹے اپنے پاس بٹھا کے باتیں کرتے رہتے سارا بیگم سے نجانے کیا کیا سمجھآتی سیرت کو واقع ہی ماں باپ مل چکے تھے لیکن اسے شوہر نہیں چاہیے تھا یہ بات سالارسمج چکا تھا ۔۔۔
پہلے تو وہ یہی سوچتا رہا کہ وہ اس سے ناراضگی کا اظہار کر رہی ہے لیکن اب وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ اس سے بدلہ لے رہی ہے
گاڑی میں بھی سالار نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسے ایسے نظر انداز کر رہی تھی کہ جیسے اس کے علاوہ گاڑی میں کوئی اور ہے ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کو گھر بھیج دیا گیا تھا اس لئے وہ سیدھے گھر ہی آئے ۔۔ حنا سیرت کو دیکھ کر خوشی سے پاگل ہورہی تھی بھاگ کی آئی اور اسے گلے لگایا
تو ٹھیک تو ہے تیرے نکاح والے دن کہاں غائب ہو گئی تھی پتہ ہے کتنے پریشان ہوگئے تھے سب کتنی پریشان تھی میں میں تو زاویار سے کہا تھا کہ وہ پولیس میں کمپلین کریں یہ بتا کہ تو یہاں کس کے ساتھ آئی ہے حنا تیز تیز بول رہی تھی جب اچانک سالار سامنے آیا
سیرت تجھے پتہ ہے یہ آدمی میری نند دریا کا منگیتر تھا اس نے کسی اور سے چوری چوری شادی کرلی حنا نے اس کے کان میں سرگوشی کی جو سالار نے باآسانی سن لی
اچھا تو آپ میری بھابھی ہونے کے ساتھ ساتھ میری سالی بھی ہیں سالار ان کے بالکل قریب کھڑا ہو کے بولا
کیا مطلب ۔۔؟ حنا نے پوچھا زاویار اور شاکر صاحب کمرے سے باہر نکلے
مطلب یہ بھابی جی ۔کہ جس کے کان میں آپ سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ نہ جانے کس سے میں نے شادی کر لی وہ یہی ہے میری بیوی ۔
میسز سیرت سالار شاہ ۔۔ایک غرور سے کہا گیا
حنا نے جھٹکے سے سیرت کا ہاتھ چھوڑا
ان سے ہی شادی کرنے کے لیے ان کو نکاح سے غائب کیا تھا
نہایت ادب و احترام سے حنا کے سامنے سر جھکائے لبوں مسکراہٹ لیے کھڑا تھا
جب کے سیرت کا دل چاہا کہ اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ نوچ کر کہیں پھینک دے
سیرت تو نے اس سے شادی کیہے حنانے پریشانی سے سیرت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
جب کے دروازے سے باہر آتے زاو یار نےسن لیا تھا
او تو اب میں سمجھا کہ تم شادی والے دن گھر سے بھاگ کر کیوں گئی تھی سیرت مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تم اس قسم کی لڑکی نکلو گی اتنی گھٹیا حرکت
تمہیں ذرا شرم نہ آئی سیرت ایسا قدم اٹھاتے ہوئے
لیکن تمہیں بھی میں کیا کہوں تم جیسی گھٹیا اور نیچ لڑکیاں دولت کے لئے بڑے گھروں کے لڑکوں کو تو پھساتی رہتی ہیں
وہ اس کے لیے بہت غلط لفظ استعمال کر رہا تھا جو سیرت کو نہ صرف حنا کی بلکہ اپنی ہی نظروں میں گرا رہے تھے
زاویار زبان سنبھال کر بات کرو تم اس وقت میری بیوی سے بات کر رہے ہو سالار نے ا سے سیرت کی اہمیت بتانے کی کوشش کی
نہیں سالار میں تمہاری بیوی سے نہیں بلکہ ایک گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی سے بات کر رہا ہوں جو اپنے نکاح کے دن تم سے شادی کرنے کے لیے گھر سے بھاگ گئی زاویار نے سیرت کو دو کوڑی کا کر گیا
سالار تم تو ایسی لڑکیوں سے دور بھاگتے ہو نہ تو پھر اس لڑکی کے جھانسے میں کیسے آگے سمجھ سکتا ہوں اس معصوم شکل کے پیچھے کتنا چالباز دماغ چھپا ہے
بس زاو یار بہت ہوگیا سالار غصے سے آگے بڑھا
ہاں سالار بہت ہوگیا اندر کمرے میں میری بہن بستر پر پڑی ہے اور یہ لڑکی تمہارے ساتھ عیاشیاں کر رہی ہے
اس ٹوٹکے کی لڑکی کی ہمت کیسے ہوئی زاویار اس سے پہلے کچھ کہتا کہ سالار کے مکا اس کا منہ بند کر دیا
خبردار جو میری بیوی کے خلاف ایک لفظ بھی کہا تم ہوتے کون ہو میری بیوی کو دو ٹکے کا کہنے والے اپنی بہن کی کیا اوقات ہے
پاگلوں کی طرح میرے آگے پیچھے پھرنے والی وہ لڑکی جو میرے ساتھ ان لڑکیوں کی طرح رہنے کے لئے تیار تھیں جنہیں ایک بار چھوڑ کر میں مر کر بھی نہیں دیکھتا
تم اس بہن کا مقابلہ میری بیوی کے ساتھ کر رہے ہو ۔۔میری بیوی کو کریکٹر لیس کہہ رہے ہو سالار غصے سے آگے بڑھا
سالار تو اس لڑکی کے لیے میری بہن پہ انگلی اٹھا رہا ہے بھول مت کے وہ تیری بچپن کی منگیتر ہے اور کچھ نہیں تو اتنا ہی سوچ لے دریا جیسی منگیتر کے ہوتے ہوئے تو نے شادی کی کیسے ۔۔؟
اتنا تو خیال کرتا کہ یہ تیری مری ہوئی ماں کی آخری خواہش تھی ۔۔زاویار کے یاد دلایا اس پر سالار کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی
اور سالار کی اس مسکراہٹ نے زاو یار کو اس کی ماں کی آخری خواہش یاد دلادی تھی
ہاں میں بالکل اپنی ماں کی آخری خواہش پوری کروں گا جس طرح سے تم نے کی
جس جہاں سے تم نے اپنی مرضی سے عنایا کو بھول کر کسی ارو لڑکی سے شادی کرلی اسی طرح میں نے اپنی مرضی سے سیرت سے شادی کرلی حساب برابر
سالار نے اس کے سامنے ہاتھ کے اشارے سے حساب برابر کرتے ہوئے کہا
عنایا اب اس دنیا میں ہے یا نہیں ہم نہیں جانتے لیکن دریا یہی تھی تم نے دریا کو دھوکا دیا ہے
اور تجھے اس لڑکی کو چھوڑ کر اس سے شادی کرنی پڑی تھی
زاویار نے جیسے فیصلہ سنایا
جبکہ سارے سچوئیشن میں سیرت چاپ کھڑی تھی ۔۔جیسے اس سب سے اس کا کوئی تعلق ہی نہ ہو
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ۔۔میں سیرت کو چھوڑ کر دریا سے شادی کر لیتا ہوں ۔۔سالارنےسیرت کے سر پر دھماکا کیا بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
پہلے تو حنا کو طلاق دے کر ان عنایا سے شادی کر ،۔۔سالار میں حنا کے پیروں تلے سے زمین کھینچی
میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا بہت شکر ہے کہ عنایا ہے یہاں ہی نہیں اگر ہوتی تب بھی حنا کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا ۔ کیوںکہ حنا صرف میری بیوی نہیں بلکہ میری محبت ہے زاویار نے غصے سے کہا
ارو تو چاہتا ہے کہ میں تیری بہن کے لئے اپنی محبت کو چھوڑ دوں سالار نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں رکھتے ہوئے کہا
چلو سیرت ۔۔اور باہر کی طرف جاتے ہوئے سیرت کا ہاتھ تھاما
نہیں سالار تم ایسے نہیں جا سکتے تو میں تمہیں دریا سے ملا نا ہوگا وہ تم سے ایک بار ملنا چاہتی ہے زاویار نے اسے روکتے ہوئے کہا
اسے میرا فیصلہ سنا دینا ہے یقینا وہ دوبارہ مجھ سے نہیں ملنا چاہیے گی یہ کہہ کر سالا سیرت کا ہاتھ تھام کر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاویار آپ کو سیرت سے اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی حنا کو زاویار کا اس طرح سے سیرت کو بےعزت کرنا ہرگز پسند نہ آیا
حنا جانتی تھی کہ جن لفظوں کا استعمال وہ کر چکا ہے شاید سیرت ان لفظوں کا مطلب بھی نہ سمجھ سکے
بس کر دو حنا مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تم اس معاملے میں اسے سپورٹ کروں گی
زاویار سیرت بہت معصوم ہے وہ یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتی حنا نے سمجھانے کی کوشش کی
اور میری بہن حنا جس نے بچپن سے ایک ہی شخص کے بارے میں سوچا ایک ہی شخص کو چاہا حنا کیا میری بہن معصوم نہیں ہے جو ایک شخص کے نام پر اپنی ساری زندگی ۔ گزارنے کو تیار ہے
یہ سب کچھ میں نہیں جانتی لیکن میری سیر ت ایسا نہیں کر سکتی
زاویار کو اس معاملے پر ہی نہ کا سیرت کو سپورٹ کرنا بالکل بھی نہ بھایا تھا
ٹھیک ہے اگر وہ گھٹیا اور نیچ لڑکی اتنی ہی عزیز ہے میں اپنی بہن کو اکیلے سنبھالوں گا مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے زاویار کا انداز ہر جذبات سے عاری تھا
بس کر دیں زاویار آپ جانتے ہیں کہ سیرت ایسی نہیں ہے حنا پیچھے نہیں ہٹی
بس حنا اب میں اس لڑکی کا نام اپنے گھر میں نہیں سونا چاہتا اگر تمہارے دل میں اس کے لیے اتنی ہی محبت بڑھ رہی ہے تو سن لو اب وہ زیادہ دور نہیں ہے بہت امیر ہو چکی ہے
یہ سب کو اس نے دولت کے لئے ہی تو کیا ہے تم جب چاہے پھو پھو کے گھر جا کے اس سے مل سکتی ہو لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو وہ میری بہن کی خوشیوں کو لوٹنے والی ہے اس سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو مجھ سے تعلق ختم کرنا ہوگا
ایک ہی جملے میں وہ حنا کو کتنا بے مول کر گیا تھا حنا نے کب سوچا تھا اتنی محبت کرنے والا شوہر اس کی سیرت کے خلاف ایسا کہے گا لیکن وہ لڑکی جو اپنی اس سہلی کے لیے کسی سے بھی لڑ سکتی ہے وہ زاویار سے لڑنے کے لیے بھی تیار تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کو سالار پر بہت غصہ آرہا تھا اسی لیے وہ وہاں نہیں جانا چاہتی تھی نہ جانے اس کی حنا اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی زاو یار میں کیسے الفاظ استعمال کیے تھے اس کیلئے وہ ایسی تو نہیں تھی اگر سالار اس کے لیے اس طرح سے لڑنے کے بجائے ان لوگوں کو حقیقت بتا دیتا تو شاید وہ اسے غلط نہیں سمجھتے
حنا تمہاری بہت قریبی دوست ہے سالار اس سے بات کرنے کے لیے کافی دیر سے کچھ نہ کچھ بول رہا تھا
لیکن یہاں تو مرغی کی ایک ٹانگ جو اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی اس لئے منہ موڑے کھڑکی سے باہر ہی دیکھتی رہی.
بس کردو سیرت بند کرو یہ سارا ڈراما اور مجھ سے بات کرو اس نے کب سوچا تھا کہ کوئی اسے اس طرح سے اگنور کرے گا لڑکیاں تو اس کی ایک جھلک دیکھنے پر مرمٹینے پر تیار تھی اور
اس کی بیوی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی
سیرت میں تم سے بات کر رہا ہوں یار بس کرو یہ چپ کا روزہ باقی سب سے تو ٹھیک سے بات کرتی ہوں بس میرے سامنے چپ رہتی ہو
سیرت میں گاڑی سے بات نہیں کر رہا سالار غصے سے غرایا
سیرت میرے سامنے ضد مت کرو اس معاملے میں تم سے زیادہ ضدی ہوں سن رہی ہو تم میں کہہ رہا ہوں مجھ سے بات کرو ایک ہاتھ سے گاڑی چلا کے دوسرے ہاتھ سے اس کا بارو زور سے پکڑ کے بولا
سی ۔۔وہ بس اتنا ہی بول سکی
آئی ایم سوری سیرت تمہیں درد ہو رہا ہے میں نہیں کرنا چاہتا تھا گاڑی ایک دم سے رک گئی
دکھاؤ مجھے اس نے سیرت کا بازو تھام لیا
آئی ایم ریلی سوری سیرت میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا تمہیں تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا
اس کے بازو سے چادر ہٹائی تو نیٹ کی سلیوز سے کوئی بھی درد نما نشان نظر نہ آیا
ایم سوری سیرت دوبارہ ایسا کبھی نہیں ہوگا وہ اس کے بازوسہلاتے ہوئے بولا
لیکن اگلے ہی پل سیرت نے اپنا بازو کھینچ کر اس کے ہاتھ سے چھڑوا لیا
جیسے اسے احساس دلانا چاہتی ہوں کہ اور بہت ساری تکلیف ہیں جو وہ اسے دے چکا ہے جن کے سامنے یہ نہ ہونے کے برابر ہے
سیرت یار پلیز مجھ سے اسے منہ موڑکے مت بیٹھو تمہیں یہ حق بنتا ہے کہ تم مجھے ڈانٹوں یار مار بھی لو مگر اس طرح سے مجھے اگنور مت کرو تم جانتی ہوآج تک میں نے جس بھی انسان سے پیار کیا ہے اس نے مجھے اگنور کیا ہے ماما سے پیار کرتا تھا وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی بابا سے پیار کرتا تھا تو انھوں نے دوسری شادی کرلی سوچا ان کی دوسری بیوی آئے گی تو وہ مجھے پیار کرے گی لیکن اس کے لیے سوتیلا ہی رہا
اس کے بات پر سیرت نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
سیڑت میرے لئے سب سے امپورٹنٹ تم ہو ۔تمہارے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہئے ۔تم مجھے کوئی بھی سزا دو لیکن پلیز اس طرح سے چپ مت رہو میں تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لیے کچھ کہو وہ گانا گاؤ جسے سنتے ہی میں تم سے محبت کر بیٹھا
پلیز بس ایک بار ایک بار مجھ سے بات کرو تمہارے میں سب دکھوں کا ازالہ کروں گا میں تمہاری ہر تکلیف دور کر دوں گا
ٹھیک ہے آپ میری ہر طبیعت دور کریں گے آپ میرے ہر درد کا ازالہ کریں گے تو لاہیں دی میرا بھائی ۔۔جائیں اللہ سے مانگ کر واپس لے کے آئیں میرا بھائی بھائی میری بھابھی کو دوبارہ سہاگن کریں ۔مجھے میرا بھائی چاہیے زندہ مجھ سے باتیں کرتا ہوا میرا خیال رکھتا ہوا لا کے دے سکتے ہیں آپ وہ جیسے پھوٹ پڑی
نہیں لا کے دے سکتے آپ کیونکہ سالارشاہ آپ کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کر سکے اس لیے اب دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کیجئے گا مجھے آپ سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔۔اور ٹھیک کہا آپ نے آپ کبھی میری دکھ و تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتے
اور چاہے کچھ بھی ہو جائے میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ ایک ہی سانس میں نجانے کتنا بھول گئی تھی وہ
اور جو سالار حاموشی سے اس کو سن رہا تھا مسکرانے لگا
سیرت یہ اتنی ساری باتیں میرے لئے تھی مجھ سے اتنی ساری باتیں کی سالار خوشی کی انتہا پر تھا
لیکن سیرت ا سے سمجھانا چاہتی تھی کہ باتیں کرنے اور باتیں سنانے میں فرق ہوتا ہے
لیکن شاید اسی آدمی کا دماغ خراب تھا اسی لیے حیرت سے باہر دیکھنے لگی
ایم ریلی سوری سیرت تم نے بہت ساری باتیں کی لیکن میں سمجھ نہیں سکا کہ تم نے کیا کیا کہا تمہاری آواز کے سحر سے نکل ہی نہیں پا رہا تھا ایک بار پھر سے دوہرا دو گی پلیز سالار نے منت بھرے انداز میں کہا
سیرت کا دل چاہا کہ گاڑی سے نکل کر سب سے بھاری پتھر اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے
فی الحال تو وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کیہ آخر اتنی ساری باتیں وہ کس طرح سنا گئی جب کہ سچ تو یہ تھا کہ جب بھی سالار اس کے اتنے قریب بیٹھتا خوف سے اس کادل کاپنے لگتا
جانے سالارا سے کہاں لے کے جا رہا تھا کیونکہ یہ وہ راستہ نہیں تھا جہاں سے یہاں آئے تھے.
__________________________••
