745.5K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Lafz Ishq (Episode 28)

زاویار اور حنا ابھی تک ایک دوسرے سے ناراض تھے وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے
زآو یار کو لگ رہا تھا کہ شاید حنا اپنے رویہ کی معذرت کرے گی
کیونکہ اسے نہیں لگا تھا کہ ایک سہیلی کی وجہ سے حنا اپنا رشتہ خراب کرے گی
اور حنا کو لگا تھا کہ زاویار سیرت کولے کرجس کا غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اس غلط فہمی کو دور کرکے اسےمنائے گا
لیکن دونوں ہی اپنی اپنی جگہ غلط ثابت ہوئے
دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہ کی
زاویار رات لیٹ گھر آتا اور آتے ہی سو جاتا
ہر رات اس انتظار میں کہ حنا خود اس سے بات کرے گی
اور پھر صبح جلدی چلا جاتا ۔۔شاید حنا اسے روکے
ایک دوسرے سے اُکھڑے اُکھڑے رہنے کی وجہ سے ان دونوں میں خود تعمیر کردہ ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی
جسے نہ زاو یار نے گرانے کی کوشش کی اور نہ حنا نے
حنا بہت دنوں سے گھر نہیں گئی تھی
اب دریا کی طبیعت سبھل چکی تھی
اسی لیے وہ شاکر صاحب سے پوچھ کر کچھ دن کے لیے اپنے گھر چلی گئی
لیکن اسے بتائے بغیر جانا زاو یار کو بہت برا لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت بہت خوش رہنے لگی تھی وہ مہراج اور سعد کا بہت خیال رکھتی روز ان کے لئے کچھ نیا بناتی جو کبھی تو بہت اچھا بنتا اور کبھی بہت ہی خراب
آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا آیت نے ایک چائنیز ڈش ٹرائی کی
اور سب سے پہلے مہراج کو پیش کی
مہراج بنا کچھ بولے اسے کھائے جا رہا تھا
مہرا ج اب بتادیں نا کیسی بنی ہے آیت کب سے ایکسائٹڈ تھی
اچھی ۔۔مہراج نے بس اتنا ہی کہا
صرف اچھی۔۔ آیت کامنہ بن گیا
ہاں آج صرف اچھی ہے مہراج نے سچ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا
لیکن جب آیت نے وہ ڈش ٹرائی کی تو اچھی بھی نہ کہہ سکی
مہراج یہ کتنی گندی ہے آپ کیسے کھا رہے تھے آیت کو عجیب لگا
آیت میں شادی سے پہلے سے کھاتا رہا ہوں اور چائنیز ڈشز ایسی ہی ہوتی ہیں کیونکہ یہ بہت ہی ہلتھی ہوتی ہیں اس لیے ہم نے برا نہیں کہہ سکتے لیکن یہ ہمارے کھانوں کی طرح مزے دار بھی نہیں ہوتی اس لیے ہم اسے بہت اچھا بھی نہیں کہہ سکتے
مہراج نے سمجھاتے ہوئے کہا
اس کا مطلب آپ نے اچھی میرا دل رکھنے کے لیے نہیں کہا تھا ۔ایت نے اچھی پر زور دیتے ہوئے کہا
تمہیں پتا ہے آیت اس معاملے میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں
مہراج نے مسکراتے ہوئے کہا
سالار بھائی نے دن میں کھانا کھایا تھا اس نے پوچھا
نہیں یار اس نے نہ دن میں کھانا کھایا اور نہ ہی شام میں اور صبح ناشتہ اس خوشی میں نہیں کیا تھا کہ سیرت اس کے لیےکھانا بنانے والی ہے
بیچارہ میرا یار تمہاری بہن کے پیار میں بھوکا ہی مرے گا ۔۔مہراج نے آہ بھر کر کہا
خبردار مہرا ج جو آپ نے میری بہن کے خلاف ایک بھی بات کی آیت جٹ بیوی سے بہن بن گئی تھی
آیت مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے اگر سیرت نے حاشر کی موت کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلی ہے ہے تو سالار کے ساتھ کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کیوں نہیں کر رہی ۔مہراج ایکدم سیریس ہو گیا ۔
کیونکہ اس سے سالار کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی
مہر آج سالار بھائی نے اس کے ساتھ زبردستی نکاح کیا ہے وہ اتنی جلدی رشتے کو کیسے قبول کرے
ا سے تھوڑا سا وقت لگے گا لیکن وہ سمجھ جائے گی میں بھی اسے سمجھا رہی ہو ں
سالار بھائی کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسے اپنی محبت کا احساس دلائیں تاکہ سیرت ان کی باتوں پر دھیان دینا شروع کرے
یار ہم بھی کیا بات لے کر بیٹھ کے ابھی چائنیز جس کے بعد مجھے رومینس چاہیے مہراج نے ایسے کہا تھا آج اسے کھانے کے بعد اسے سویٹ ڈش کی ضرورت ہو
مہراج ہم اتنے سیریس ٹاپک پر بات کر رہے ہیں آپ اور آپ کو رومنس کی سوج کر رہی ہے
سوری جانو یہ ٹاپک میرے بھائی اور تمہاری بہن کا ہے وہ خود سے حل کریں ۔یہ کہتے ہوئے مہراج سے اپنی باہوں میں اٹھایا اور اندر لے گیا
مہراج آپ دن با دن بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں آیت نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا
ہاں تو تمہاری ہی غلطی ہے تم مجھ پر دھیان نہیں دے رہی ہ تومیں نے خراب ہی ہوگا نا
چلو اب مجھ پر تھوڑا سا غصہ کرو اور بعد میں پیار کرو ۔۔
مہراج نے کسی چھوٹے سے بچے کی طرح فرمائش کی جس پر آیت مسکرائیں
ہنسی تو پھنسی
مہراج نے اسے اپنے قریب کیا اور اس طرح سے اپنی باہوں میں قید کیا کہ وہ آزاد نہ ہو پائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کو جب سے آیت نے بتایا تھا کہ سالار نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اس سے بہت عجیب لگا
اسے لگ رہا تھا کہ اس کی غلطی کی وجہ سے وہ بیچارہ صبح سے بھوکا ہے
لڑائی غصہ سب اپنی جگہ لیکن اس کو بھوکاتو نہیں رکھ سکتی اس نے تو صرف چھوٹی سی شرارت کی تھی
سالار کمرے میں آیا اور آرام سے بیڈ پر لیٹ گیا سیرت اس سے بات نہیں کرتی تھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سالار کو کھانا کھانے کے لیے کیسے کہیں اسی لیے اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے کھانا منگوا کر بیڈ پر رکھا اور جانے لگی
بیگم آپ کے ہاتھوں سے کھانا ہے ۔۔۔سالار نے محبت سے کہا مگر سیرت ریسپونس دینا ضروری نہ سمجھا
سالار کو برا لگ رہا تھا سیرت کا اس طرح سے اگنور کرنا ایک تو وہ بے چارہ صبح سے بھوکا تھا اوپر سے سیرت اسے نخرے دکھا رہی تھی
تھوری دیر بعد بھی سیرت نے کوئی رسپونس نا دیا تو سالار نے پلیٹ اٹھا کر دیوار پر دے ماری
مجھے چیلنج مت کرو کھانا تمہارے ہاتھ سے ہی کھاؤں گا غصے سے چلاتے ہوئے واپس سے بیڈ پر لیٹ گیا
ایک پل کے لئے سیرت کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی
شور سن کر ملازمہ دوڑتی ہوئی آئی ۔۔اچھا ہوا شمع آپ آ گئی یہ پلیٹ اور کھانا یہاں سے اٹھا کر لے جائیں
کچھ لوگوں کو اس کی قدر ہی نہیں ہے کتنے لوگوں کو نہ جانے کتنے دن ایک نوالہ بھی نہیں ملتا اور کچھ لوگ اسے ویسٹ کر دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی ویسٹ کردہ چیز کسی دوسرے کے کام آ سکتی ہے
اس نے سالار کو سنانے والے انداز میں کہا تھا
جی بی بیجی آپ بالکل ٹھیک کہتی ہیں لیکن بھلا ہو سالار صاحب کا جو ہر ہفتے بڑی مسجد میں غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں ملازمہ نے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
سیرت جو اسی کو سنانے کے لیے یہ سب بول رہی تھی شرمندہ ہو گئی
اس پر شرمندگی ظاہر کرنے سے بہتر تھا کہ وہ کمرے سے باہر چلی جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوبیٹا کھانا کھاؤ سلمان صاحب ابھی واپس آئے تھے اسے کمرے سے باہرنکلتے دیکھ کر بولے
نہیں بابا میں کھا چکی ہوں
آپ کھائیں
ویسے بابا سالار میں بھی کھانا نہیں کھایا
یہ نہیں تھا کہ وہ سالار کے لئے کچھ فیل کرتی تھی بس وہ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی
اور وہ جانتی تھی کہ سالار اس کے ساتھ ضد کرکے بھوکا ہی سو جائے گا
ارے بیٹا اس نے کھانا کیوں نہیں کھایا وہ تو بھوک کا بہت کچا ہے بلاوجا کے اسے اس وقت اس نے ہنگامہ مچایا ہوتا اس نے
ملازمہ کے کہنے پر سالار کمرے سے باہر آ گیا
جی بابا آپ نے مجھے بلایا سالار نے آتے ہی پوچھا
بیٹا تم نے کھانا کیوں نہیں کھایاسیرت بتا رہی ہے کہ تم نے کھانا نہیں کھایا ۔
اس کے کہنے پر سالار نےسیرت کی طرف دیکھا جو نظر جھکائے بیٹھی اس طرح سے ظاہر کر رہی تھی کہ آگے پیچھے کچھ خبر ہی نہیں
وہ بابا مجھے بھوک ہی ہے اور مجھے کچھ کام ہے کام کر کے میں آپ کے کمرے میں آونگا یہ کہہ کر واپس جانے لگا جب سیرت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
کام بعد میں بھی کیے جا سکتے ہیں بابا کھانا کھانا ضروری ہے سیرت نے کہا تو سلمان صاحب کو تھا لیکن سنا سالار کو رہی تھی
اس نے کھینچ کر سالار کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا سنار نے اپنا جسم بالکل ہلک چھوڑ دیا تاکہ سیر ت با آسانی سے کھینچ سکے
سیرت نے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر اس کی منہ کی طرف کیا
پہلے تو سالار کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ ہو کیا گیا ہے پھر سوچنا سمجھنا ایک طرف رکھ کر اس نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔۔ سلمان صاحب کو امید نہ تھی کہ سیرت ان کے سامنے اتنی بے باکی دکھائے گی ان کو کھاتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلے گئے
کھانا کھانے کے دوران ایک سیکنڈ کے لئے بھی سالار کی مسکراہٹ اس کے لبوں سے جدا نہ
وہ اپنی ضد پوری کر چکا تھا سیرت نے اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا دیا تھا سالار کے لیے یہ بات بھی بہت بڑی تھی کہ سیرت سے بھوکھا نہیں دیکھ سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر صبح سے گھر سے گیا ہوا تھا رات کے دو بج رہے تھے ابھی تک واپس نہ آیا ۔۔۔۔
جب سے حاشر کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا منت بہت ڈر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ حاشر کو زیادہ دیر باہر نہ رہنے دیتی۔ ۔آگر چلا بھی جاتا تو بھی اسے فون کرتا رہتا ۔۔۔
لیکن آج صبح سے حاشر کا ایک بار بھی فون نہ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت کے دل میں عجیب عجیب اندیشہ پیدا ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ایک تو انجان شہر منت اس شہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔۔۔اور اوپر سے حاشر کا رات کو اس ٹائم تک غائب رہنا ۔۔اب تو اسے ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ بار بار حاشر کے فون پر کال کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو مسلسل بند جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
منت بار بار فون کرتے رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کچھ نہ بن پڑا تو بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی اسے روتے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب دروازہ بجا ۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگ کر دروازے کے پاس آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جلد بازی میں دروازہ کھولنے کی بجائے اس نے پوچھنا بہتر سمجھا
تمہارا بوائے فرینڈ ۔شوخ لہجے میں جواب آیا ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا اور بنا سوچے سمجھے حاشر کے سینے سے جالگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اولڑکی کیا کر رہی ہے تمہارے ہسبینڈ نے دیکھ لیا تو۔۔۔؟ انداز اب بھی شوخ تھا ۔۔۔۔
نہ کریں حاشر آپ جانتے ہیں میں کتنی پریشان تھی منت رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
ارے یار کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا تھا تمہیں بتاتا اس سے پہلے فون چوری ہو گیا اور چور صاحب نے فون بند بھی کر دیا جس کی وجہ سے تم سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔۔۔۔۔
دو تین بار سوچا تمہیں کسی کی pco سے فون کرو ں۔ ۔پھر سوچا تمہیں پریشان کرنے کی کیا ضرورت ہے میں تھوڑی دیر میں آ ہی جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کام بر جانے کی وجہ سے لیٹ ہو گیا اور پھر وا رے قسمت دیکھو۔۔۔ راستے میں گاڑی بھی خراب ہو گئی ۔۔۔۔
حاشر آج کے بعد آپ کسی دوسرے شہر نہیں جائیں گے منت نے آرڈر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہا اوکے جانو آپ کچھ کھانے کو دے دو بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔
حاشر نے پیٹ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت ابھی کمرے میں آئی تو سالار نہا کر نکلا تھا ۔۔۔
اسے دیکھ کر ایک اسمائل پاس کی جسے سیرت نے اگنور کر دیا ۔۔اس کے اس طرح سے اگنور کرنے پر سالار مسکرایا ۔۔۔اور اسکے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔
سیرت ایک قدم پیچھے ہٹی اس سے فاصلہ قائم کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن سالار نےاسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب ترکرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بر اشوق ہے تمھیں فاصلہ بھرانے کا ۔سالار نے اس کے بالوں میں ہاتھ دیا اور ایک جھٹکے سے اس کے بالوں سے کیچر نکال دیا ۔۔اس کے بال کھول کر اس کی پوری کمر چھپا گئے
تمہیں پتا ہے کہ اتنا شوق تھا مجھے تمہارے بال دیکھنے کا آج میں اپنی یہ خواہش پوری کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اس کے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے سرگوشی کی
سیرت کی جان پر بن گئی تھی
سیرت کا سارا وجود کانپنے لگا اس کی حالت دیکھ کر سالار کو اس پر ترس آیا لیکن اس وقت پر س کھانے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے سیرت کی پرواہ کیے بغیر اس کے کانپتے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اپنے آپ کو سیراب کیا ۔۔ ۔ ۔ ۔
سیرت اپنے آپ کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
پھرسالار نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کردیا۔۔۔۔۔
یار میں تمہیں بتا چکا ہوں میں اچھا بچہ بالکل بھی نہیں ہوں اب ایسی چھوٹی چھوٹی سی شرارتی تو کروں گا ہی
کیونکہ بڑی بڑی شرارتوں کے لئے مجھے تمہاری اجازت کی طلب ہے اسے اسی حالت میں چھوڑ کر وہ بیڈ پر لیٹ گیا
جبکہ سیرت ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے بعد کوشش کرنا کہ یہ رنگ میرے سامنے پہن کے نہ اؤ بہکاتا ہے بہت اس کے ریڈ کلر کے سوٹ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
ہاں لیکن جس دن تم مجھے اپنے قریب آنے کی اجازت دے دو تو خود سے تو کہہ نہیں پاو گی بس ریڈ کلر کی ڈریس پہن کے آ جانا میں سمجھ جاؤں گا سالرر نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
جبکہ سیرت نے ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر واش روم میں گئی اور جب واپس آئی تو اس نے لاٹ پنک کلر پہن رکھا تھا
سالاراس کی معصوم حفاظت پر کھل کر ہنسا وہ بیڈکے ایک کونے میں ہو کر سونے لگی جب سالار نے کھینچ کر اسے خود سے قریب کر لیا
تمہاری جگہ یہاں ہے میرے قریب وہاں کونے میں نہیں اسے اپنی باہوں میں لیے سالار نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا ۔۔۔جب کہ اس کے سونے کے بعد سیرت نے اپنا اپ چڑرانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی
۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حناگھر واپس آئی تو زاویار اس سے بات نہیں کر رہا تھا
وہاں پر بھی زاویار نے ایک بار بھی اسے فون نہ کیا یہاں تک کہ بابا نے پوچھا بھی کے سب کچھ ٹھیک ہے نا
جس پرحنانے انہیں تو مطمئن کرلیا لیکن خود نہ ہو سکی زاویار بہت بدلتا جا رہا تھا وہ پہلے جیسا پیار کرنے والا شوہر نہ رہا تھا
وہ دریا اور شاکر سے بالکل ٹھیک طریقے سے بات کرتا لیکن اس سے تو بات کرنا بھی پسند نہ کرتا
حنا کو لگتا تھا کہ زاویار خود ہی مان جائے گا
لیکن ایسا نہ ہوا زاویار تو اس سے دن بادن اور ہی ناراض ہوتا جا رہا تھا اب حنا کو اس کےنظر انداز کرنا پر رونا آنے لگا
اس نے سوچا ایسا کب تک چلے گا اسے خود ہی زاویارسے بات کرنی چاہیے
اس نے رات کو جب زاویار سے بات کرنے کی کوشش کی زاویاراس کی بات سنے بغیر ہی سو گیا
اور صبح اس کے اٹھنے سے پہلے ہی آفس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمہ اپنی بیٹی سے ملنے کے لیےگئی ہوئی تھی جس وجہ سے اس نے آج چھٹی کی تھی
جبکہ سارہ کہیں باہر گئی ہوئی تھی اس کے علاوہ یہاں کوئی اور ملازمہ نہ تھی جب کہ سارے ملازم باہر کام کرتے تھے گھر کے اندر آنے کی کسی کو اجازت نہ تھی
سیرت بہت بور ہو رہی تھی
اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں
تھوڑی دیر تک ٹی وی دیکھتی رہی
پھر اس سےبور ہوئی تو بابا کی سیڈی میں آگئی تھوڑی دیر کتابیں پڑھنے لگی لیکن یہاں زیادہ تر ہسٹوریکل بکس تھی جبکہ سیرت کو لو سٹوریز اور ناولز پسند تھے
تھوڑی دیر کتابیں پڑھتے پڑھتے وہ بور ہو گئی پھر اٹھ کر باہر لان میں آئی
یہاں ہر قسم کا پودے لگے ہوےتھے ایسا لگتا تھا یہاں پھولوں کی دکان ہے یہ ایک نہایت خوبصورت لان تھا جس میں ہر قسم کا پھول تھا
وہ یہاں آ کر پھول دیکھنے لگی آیت کو بچپن سے ہی پودے لگانے کا شوق تھا وہ ان میں پانی ڈالتے یہ سب کچھ کرتے سیرت بچپن سے اسے دیکھتے آئی تھی
اس کا دل چاہا کہ یہ اس نے پودوں میں پانی ڈالیں اس نے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پانی ڈال بھی دیا
پھر اندر آئی جہان جانے کتنی دیر سے فون بیچنے کی آوازیں آرہی تھیں اسے پتہ تھا کہ فون کس کا ہے اسی لیے ڈھیٹ بنی رہی فون نہیں اٹھایا
پہلی دو تین بار تو فون دو تین بار بچ کر بند ہو گیا لیکن اب سالار تقریبا مسلسل آٹھویں بار فون کر رہا تھا
فون کی ٹرن ٹرن سے بور ہو کر اس نے اٹھا ہی لیا لیکن بولی کچھ نہیں
سالار جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولنے والی
شام کو تیار رہنا تمہاری بہن اور میرے بھائی کے گھر جانا ہے
کیونکہ تمہاری بہن کہتی ہے کہ میں تم پر بہت ظلم کرتا ہوں تمہیں کہیں آنے جانے نہیں دیتا اس لیے تیار رہنا شام کو چلیں گے یہ کہہ کر سالار نے فون نہیں رکھا اسے امید تھی شاید سیرت ” ٹھیک ہے” ہی کہہ دے
لیکن وہ کچھ نہیں بولی
اب فون رکھ دو میری آواز سننے کا بہت شوق ہے کیا تمہیں سالارنے شرارت سے کہا
جس پر سیرت نے فورا فون رکھ دیا.
________________________••