Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Episode 39)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Episode 39)
حنا بس کرو اور کتنا رو گی ۔آج تین دن سے حنااس کے ساتھ تھی ۔وہ اس وقت سالار کے گھر پے آئی تھی ۔
سیرت نے اسے اپنی اور سالار کے کمرے میں ہی روکا تھا ۔
سیرت میں کیا کروں ۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ جس احساس کو میں کچھ دن پہلے محسوس کر رہی تھی وہ اچانک ختم ہو گیا اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے اس کی گود میں سر رکھ کے روئے جا رہی تھی ۔
اور تین دن سے وہ یہی کر رہی تھی جب بھی اپنے ساتھ ہوئی زایاتی یاد آتی تو وہ رونے لگتی ۔
سیرت اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھی ۔لیکن جب بھی سارا بیگم اس کے قریب آتی تو ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے کیونکہ یہ دن وہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ چکی تھی حنا کی تکلیف سے واقف تھی ۔
آج زاویار کا فون آیا تو اس نے کہا کہ وہ شام کو حنا کو لینے آئے گا ۔
حنا بھی تیار تھی ۔جب سلمان صاحب نے سارہ بیگم کو آکر یہ بتایا کہ انھیں آج ہی مری کے لیے نکلنا ہوگا سالارنے ا نہیں جلدی میں بلایا ہے ۔
سیرت کو اس بات پر بہت غصہ آرہا تھا کیونکہ تین چار دن سے سالار نے اسے فون تک نہ کیا تھا وہ سالار کو بہت مس کر رہی تھی ۔اور سالار جو ہمیشہ اس سے محبت کے دعوے کرتا تھا اس کو یاد تک نہ کیا یہاں تک کہ اس کو ایک فون تک نہ کیا
خیر یہ سب شکوے تو بعد کے تھے لیکن اس وقت سارا ب اور سلمان کو کیوں بھلا رہا تھا ۔۔۔؟
سارہ اور سلمان نہیں جانتے تھے لیکن وہ سیرت کو اکیلے چھوڑ کر بھی نہیں جانا چاہتے تھے جبکہ سالار نے سیرت کو ساتھ لانے کے لئے منع کیا تھا کیونکہ اس کے لیے بہت براسر پرائز پلان کر رہا تھا
اس لیے وہ اسے اپنے ساتھ بھی لے کر نہیں جا پا رہے تھے
سیرت تو میرے ساتھ چل ۔ویسے بھی اکیلی رہ کر کیا کرے گی حنا نے اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا
لیکن وہ دریا کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی نہ جانے کیوں وہ اپنے آپ کو دریا کا گناہ گار سمجھتی تھی ۔
اس لئے اس حناکو بھی منع کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت حاشر کے سہارے بیٹھی تھی جب حاشر نے اسے یہ بتایا کہ وہ اس کا بھائی نہیں ہے
اس کا اصل بھائی سالار ہے اوراس نے اپنے ماں باپ کو بھی یہاں بلا لیا ہے اور وہ اس سے ملنے آ رہے ہیں ۔
آیت کو سلمان صاحب کو دیکھ کر ہمیشہ سے الجھن ہوتی تھی ۔عجیب سا احساس ہوتا جب بھی ان کو دیکھتی تھی جب بھی وہ اس کے سر پے ہاتھ رکھ کر اس سے ملتے تھے آیت کا دل چاہتا تھا کہ وہ ان کے سینے سے لگ جائے اسی احساس کی وجہ سے آیت نے ان سے ملنا ہی چھوڑ دیا
لیکن آج جب آیت کو یہ پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا اسے اُس احساس کی وجہ سمجھ میں آ گئی
لیکن حاشراس کا بھائی نہیں تھا اس حقیقت کو وہ ایکسیپٹ نہیں کر پا رہی تھی ۔
نہیں بھائی سالار بھائی میرےبھائی نہیں ہیں وہ مہراج کے بھائی ہیں آپ میری بھائی مجھے اور کوئی بھائی نہیں چاہیے
ویسے بھی وہ مجھے بالکل بھی اچھے نہیں لگتے ۔
وہ ہمیشہ مجھے تنگ کرتے رہتے ہیں میں ان کو اپنا بھائی بناؤنگی نہیں ۔وہ نہیں ہیؑ میرے بھائی اس کے سینے سے لگ کر وہ بچو ں کی طرح رونے لگی ۔
ارے پاگل ۔ اس کو بھائی کہنے سے میرا رشتہ ختم تھوڑی نہ ہو جائے گا ۔
اور شتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں ۔
وہ چاہے تیرا خون کا رشتہ ہے لیکن تجھے مجھ سے زیادہ پیار نہیں کر سکتا ۔اسے اپنے سینے سے لگائے وہ پیار سے سمجھا رہا تھا کہ سالار کے سامنے آنے سے وہ زیادہ ری ایکٹ نہ کرے ۔
بھائی سیرت ۔آیت ہے کچھ کہنا چاہا جب حاشر نے اسے روک لیا ۔
آیت تم چاہتی ہو میں یہاں تمہارے پاس بیٹھوں تو تم اس لڑکی کا نام نہیں لو گی ۔
اس نے غصے سے کہا ۔
نہیں بھائی سیرت کی کوئی غلطی نہیں ہے ایت نے سمجھانا چاہا
آیت میں نے کہا میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا حاشر کے غصے سے کہنے سے آیا چپ ہوگئی ۔
جب سالار آہستہ سے چلتے ہوئے ان کے کمرے میں آیا ڈاکٹر کے ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی وہ بیڈ پر نہ ٹکا
لیکن جیسے ہی روم کے اندر انٹر ہوا وہاں حاشر کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔
جبکہ آیت نے زور سے حاشر کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے سالارا سے حاشر سے چھین کر لے جائے گا
اور یہاں سالار کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔
یعنی اس کا دوست حاشر ہی سیرت اور آیت کا بھائی تھا
یعنی کہ اس نے حاشر سے اس کی دونوں بہنوں کو چھین لیا تھا
ایک کا بھیا بن کر دوسری کا سیاں بن کر
رات کو ڈھائی بجے کوئی گھر میں داخل ہوا
چوکیدار نے کچھ محسوس تو کیا لیکن اگنور کردیا ۔
لیکن تھوڑی دیر بات چوکیدار کو گھر کے اندر کوئی سایہ جاتا نظر آیا وہ فوراً الرٹ ہو کر اس کے پیچھے چلنے لگا ۔
وہ جو کوئی بھی تھا اس نے ہوڈ پہن رکھا تھا ۔
وہ سیدھا سالار کے کمرے میں آیا اور لائٹ آن کیے بغیر بیڈ کی طرف گیا
ایک روشنی سے اس کے ہاتھ میں چمکی
وہ یقینا چاقو تھا
وہ اس چاقو سے بیڈ پر دربدر وار کرنے لگا ۔۔وہ حیران ہو کے پیچھے ہٹا کیونکہ بیڈ پر کوئی وجود نہ تھا
چوکیدار نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لائٹ ان کی ۔ جھٹکے سے پیچھے مڑا
دریا میڈم آپ سیرت میڈم کو مار آئی تھی چوکیدار فوراً سمجھ چکا تھا ۔
اس سے پہلے کے دریا کو کچھ کہتا وہ کھڑکی سے باہر کی طرف بھاگ گئی ۔
چوکیدار نے سالار کو فون کرنے کی بجائے زاویار کو فون کرکے اس کی بہن کی کرتوت بتائی
وہ تو شکر تھا کہ حنا سیرت کی منتیں کر کے سیرت کو اپنے ساتھ اپنے نئے گھر میں لے آئی جہاں دریا نہیں تھی ۔
زاویار نےحناکو بتایا تو وہ بھی پریشان ہوگی
زاوہار دریا کو ہو کیا گیا ہے کیوں وہ سیرت کی دشمن بنی ہوئی ہے کیا بگاڑا ہے سیرت نےاس کا ۔حنا بہت پریشان تھی ۔
سالار ۔یہ سب کچھ اس نے سالار کو پانے کے لئے کیا ہے ۔
اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک چلی جائے گی ۔
مجھے بابا سے بات کرنی پڑے گی ۔
کیا آپ سالار بھائی کو بتائیں گے اس بارے میں حنا نے پوچھا ۔
بتانا پڑے گا حنا کیونکہ اگر سالار کو کسی اور سے یہ بات پتہ چلی تو وہ زمین آسمان ایک کر دے گا اور ویسے بھی اس کنڈیشن میں سیرت کے پاس سالار کا ہونا بہت ضروری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ حاشر کو کس طرح سے سیرت کے بارے میں بتائے گا
جبکہ حاشر یہ جان کر بہت خوش تھا کہ اس کا مسیحا ہی اس کی بہن کا بھائی ہے
جس دن سیرت گھر سے بھاگ گئی اس دن حاشر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ۔
جبکہ سیرت کو حویلی چھوڑ کر وہ اسی رات واپس آ گیا تھا ۔
جب اس نے راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے دیکھا تو اسکو 18سال پہلا وہ ایکسیڈنٹ یاد آگیا جس میں اس نے اپنے عزیز رشتوں کو کھویا تھا سالار نے اسے بچانا اپنا فرض سمجھا لیکن اس وقت وہ اس حقیقت سے انجان تھا کہ وہ سیرت کا بھائی ہے ۔
اب جو بھی تھا حاشر کو سیرت کے بارے میں تو بتانا ہی تھا ۔
جس کے لیے سالار اب مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔
حاشر فریش ہونے گھر جا رہا تھا جب سالار نے اسی باہر جاتے ہوئے روکا
بولو نا کیا کہنا چاہتے ہو وہ واپس مڑ گیا
تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں ایک لڑکی کے بارے میں بتایا تھا
جس کو میں نے اغوا کر کر شادی کرلی ۔
ہاں تمہاری بیوی بالکل کیا بنا تم دونوں کا اب سب کچھ ٹھیک ہے نہ تم دونوں میں حاشر نے پوچھا ۔
حاشر وہ لڑکی سالار سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ سیرت کے بارے میں اسے کیسے بتائے ۔
ہاں بولو نا تم چپ کیوں ہو گئے کیا ہوا اسے حاشر نے پھر پوچھا ۔
حاشروہ میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سالار پھر رک گیا وہ بیوی کے ساتھ ایک اچھے دوست کو نہیں کھونا چاہتا تھا ۔
تو کچھ بولنا بھی چاہتا ہے یا نہیں
تو پتا ہے کیا کر تو پریکٹس کر لے اپنی بات کی تب تک میں واپس آ جاؤں گا حاشر نے اس کا مذاق اڑایا
نہیں مجھے بتانا ہے کہ وہ لڑکی ۔حاشر لڑکی ۔حاشر وہ لڑکی جو میری بیوی ہے ۔جس کے ساتھ میں نے نکاح کیا ہے ۔
تجھے پریکٹس کی ضرورت ہے سالار ۔میں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں تم لگے رہو ۔
اور حاشر جانے لگا
وہ لڑکی تیری بہن ہے سیرت حاشر کے قدم وہی رکھ چکے تھے
وہ بے یقینی سے مڑ کر آیا
کیا کہا تو نے ایک بار پھر سے بول ۔
حاشر اس کے بالکل سامنے آ کر رکا
وہ تیری بہن سیرت ہے اس سے پہلے کہ سالار کچھ اور کہتا ہوں حاشر زوردار مھکا اس کا منہ توڑ کے
تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ ایسا کرنے کی حاشر غصے سے دھاڑتے ہوئے اس کی طرف بڑھا
حشر ایک بار میری بات سن
میں تجھے زندہ گاڑ دوں گا حاشر نے ایک اور مھکا بنا کر اس کے منہ پر مارا
ہاں گاڑ دے مجھے مار ڈال مجھے اسی کے لائق ہوں میں ایسا ہی کرنا چاہیے کہ میرے ساتھ لیکن ایک یہ سب کچھ کرنے سے پہلے بس ایک بار تو میرے ساتھ چل
تیری بہن مر رہی ہے وہ پل پل مر رہی ہے حاشر وہ خوش نہیں ہے
میں نے اسے اس کی شادی سے اٹھا کر زبردستی شادی کریں ۔لیکن اسے خود سے پیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکا
وہ مجھے کبھی اکسیپٹ نہیں کرے گی ۔ اور نہ ہی میں اس قابل ہو ں نہ اس کے لائق ہوں مار مجھے لیکن اس سے ناراض مت ہونا وہ بے قصور ہے
میرے دل کے حال سے تو واقف ہے میں نے تجھے سب کچھ بتایا ہے سیرت کیسے میری زندگی میں شامل ہوئی ہے تو میرے ہر ایک پل کو جانتا ہے
اس لڑکی نے اپنا آپ گنوا کر دیا ہے
تو اسے اگنور مت کرنا ۔تیرے ہاتھ جوڑتا ہوں تو سیرت کو معاف کر دے اور اسے اپنا لے ۔
معاف میں نے اس بہن کو معاف کردیا جو گھر سے بھاگ کر گئی تھی ۔اور سیرت کی تو کوئی غلطی ہی نہیں ہے ۔
کہاں ہے میری سیرت بتا ۔۔؟۔ایک پل میں حاشر کا لہجہ جذبات سے بھرپور تھا تو اگلے ہی لمحے اس کے لہجے میں غصہ آگیا ۔
کراچی ۔۔سالار نے بتایا
مجھے ملا نا ہے اس سے حاشر نے کہا
ہاں ہم سب دو دن بعد جا رہے ہیں آیت کو ڈاکٹراجازت نہیں دے رہے تھے لیکن مہراج نےاجازت لے لی ۔
دو دن بعد میں تجھے یہاں سے لے کے جا کر سیرت کو بہت برا سرپرائز دینے والا تھا
خیر تب میں یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ حاشرتو حاشر ہے ۔
ٹھیک ہے ۔ہم دو دن بعد کراچی چلیں گے
حاشر سالار کو وہیں چھوڑ کر ہسپتال کے اندر جانے لگا
لیکن پھر واپس آ گیا
ایک بات کان کھول کر سن لے سالار اگر اس سب کے بعد سیرت تیرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو ٹھیک ورنہ تجھے اسے طلاق دینی ہوگی میں اپنی بہن کو زبردستی کے کسی رشتے میں باندھ کے نہیں رکھنے والا یہ بات اپنے دماغ میں ڈال لے
حاشر کہہ کر اندر چلا گیا جبکہ سالار وہی پتھر بن گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان صاحب کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی ان کو ان کی بچھڑی ہوئی بیٹی مل گئی
سارا بیگم کی تو آیت ویسے بھی بیٹی تھی
سارا آیت سے ہمیشہ بہت محبت سے پیش آتی اس کے بہت سارے مسائل کا حل کرتی
وہ اکثر اس سے کہتی تھی کہ آیت ہے ہی اس کی بیٹی
لیکن یہ جاننے کے بعد کہ آیت سچ مچ میں سلمان صاحب کی بیٹی ہے سارا بھی بہت خوش تھی
سلمان صاحب روئے جارہے تھے اور آیت سے معافی مانگ رہے تھے کیونکہ ان کی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے ان کی بیٹی ان سے اتنے سالوں تک الگ رہی اور آج اتنے سالوں میں ملی بھی تو بستر پر اتنی بری حالت میں کہ وہ اسے پہچان تک نہ پائے
لیکن شاید یہ آیت کے صبر کا پھل تھا یا تہجد کی نمازوں کا اثر آج اسے ایک ساتھ کتنی خوشیاں ملی تھی
جبکہ سالار ابھی تک ہسپتال واپس نہ آیا
سلمان صاحب اور سارا بیگم کو دیکھ کر حاشر پہچان گیا یہ لوگ ایک بار سیرت کے رشتے کے لئے ان کے گھر آئے تھے
سلمان حاشرکے بہت شکر گزار تھے ۔
سالار ہسپتال کے اندر جانے لگا جب اس کا فون بجا ۔فون پر زاویار کا نمبر دیکھ کر اسے حیرت ہوئی ۔
لیکن زاویار کی بات سن کر غصے سے اس کے ماتھے کی رگیں باہر آگئی
دریا نے سیرت پر جان لیوا حملہ کیا ۔یہ جاننے کی دیر تھی کہ سالار نے اپنے ٹکٹ بک کروائی اور ایک دن پہلے ہی کراچی جانے لگا ۔
سب نے وجہ پوچھی تو سالار نے بس اتنا ہی کہا کہ سیرت وہاں اکیلی ہے
دریا کیوں کی تم نے ایسی حرکت میں نے کہا تھا نہ اب کوئی ایسی حرکت مت کرنا جس کی وجہ سے مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے۔۔۔۔۔۔۔
آخر تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا کہ یہ سب کچھ کرنے سالار تمہارا نہیں ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
آج زاویار آیا تھا تم جانتی ہو اس نے کیا کہاوہ کہتا ہے کہ تمہیں پاگل خانے بھیج دینا چاہیے شاکر صاحب نے غصے سے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو بھیج دیں آپ اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں لیکن یہ مت سوچیے کہ وہاں جاکے سالار کو بھول جاؤں گی سالار میرا ہے اور ہمیشہ میرا ہی رہے گا ۔۔۔۔
دریاسالار شادی شدہ ہے اور وہ اس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہے تم بھول جاؤ سالار کو وہ کبھی تمہارا نہیں ہو سکتا۔شاکر صاحب نے سمجانا چا ہا۔ ۔۔۔۔۔۔
اسے میرا ہونا ہوگا کیوںکہ جس سے وہ محبت کرتا ہے وہ اس سے زندہ ہی نہیں رہنے دوں گی وہ صرف میرا ہی رکھیے گا بدتمیزی سے کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
مجھے دریا کو سمجھانا ہوگا اس طرح سے وہ اپنا فیوچر خراب کردے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار واپس آچکا تھا اور اس وقت صرف سیرت سے ملنا چاہتا تھا۔
اس لئے وہ سیدھا گھر آیا تھا سیرت ٹی وی لانچ میں بیٹھی tv دیکھ رہی تھی تھی سیرت کو دیکھ کر اسے بہت سکون ملا۔وہ تقریبا سب ہوئے اس کے قریب آیا ۔
اسے اچانک یہاں دیکھ کر سیدھا تب بھی ا کھڑی ہوگئی۔ اس نے سرحد کے قریب آتے ہی اسے اپنے سینے میں بھیج لیا
نجانے کیوں اس کو دیکھا سیرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔اور اس کے آنسو سالار کا گریبان بگھونے لگے
کیا ہوا میری جان تم رو کیوں رہی ہو
کیا ہوا تمہیں چوٹ لگی ہے کیا وہ اسے جانچنے لگا
نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں وہ کیا ہے نہ کبھی اکیلی نہیں رہی اس لیے شاید اس نے اپنے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
سب میری غلطی ہے سیرت مجھے تمہیں اکیلا چھوڑ نہیں چاہیے تھا
سالاردوبارہ اسے اپنے گلے سے لگایا
سالار آپ کی کزن مجھے کیوں مارنا چاہتی ہے سیرت نے اس سے الگ ہو کر پوچھا
کیونکہ اس کا دماغ خراب ہے لیکن تم فکر نہ کرو میں اس کا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا ۔
آپ کیا کریں گے سیرت میں گھبراتے ہوئے پوچھا
تم ٹینشن مت لو اور نہ ہی پریشان ہونے کی ضرورت ہے
تم بس انجوائے کرو بہت جلدی تمہیں بہت بڑا سرپرائز دینے والا ہے
اس کی بات پر سیرت کے گال پر ڈمپل پڑے لیکن سالار مسکرا بھی نہ سکا
کونسا سرپرائز ۔۔ سیرت نے پوچھا
اگر بتا دوں گا تو وہ سب پرائز کیسے رہے گا مگر تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا اثر پرائز کو دیکھ کر تم مجھے نہیں بھولوگی ۔
آپ مجھے سرپرائز دیں گے تو کیا میں آپ کو یہی بھول جاؤں گی سیرت نے معصومیت سے کہا ۔
ہاں کیونکہ سرپرائز بہت بڑا ہے ۔اس لئے مجھے بھولنے کے بھی چانس ہیں ۔
سالار نے اس کے گال کو چھوٹے ہوئے کہا
میں بھولوں گی وعدہ سیرت نے مسکرا کر کہا
سالار نے اس یہ انداز نوٹ کیا تھا وہ پہلے سے بہت بدل چکی تھی ۔یقینناً اس رشتے کو قبول کر چکی تھی ۔
حنا اور سارا نے اسے سمجھایا تھا کہ سالار اس سے بہت محبت کرتا ہے اور اسے پرانی باتوں کو بھلا کر ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہیے ۔
اور سچ تو یہ تھا کہ سالار سے اپنی نفرت کا اظہار کرکر کے تھک چکی تھی اسے اپنی محبت کا اندازہ تو اسی دن ہو گیا تھا جس دن سالار کو گولی چھو گزری تھی ۔
سیرت نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ سالار کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرے گی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش سیرت بستر پہ ہوتی میں اسے مار دیتی سالار ہمیشہ کے لئے میرا ہوجاتا لیکن کوئی بات نہیں ایک اور کوشش سہی
وہ زمین پر بیٹھی تیبل پر انگلی چلا رہی تھی اس کے بال بکھرے ہوئے تھے
اپنی حالت سے بیگانہ وہ صرف بے خبری میں بولی جارہی تھی
سیرت کو مرنا ہوگا کیونکہ سالار میرا ہے
لیکن اب کیسے سالار واپس آ چکا ہے
سالارس لڑکی سے محبت کرتا ہے دریا کی آنکھوں سے آنسو نکلا
کوئی بات نہیں جب سیرت مر جائے گی تو سالار مجھ سے محبت کرنے لگے گا ۔
وہ صرف میرا ہو جائے گا صرف مجھ سے پیار کرے گا لیکن اس کے لیے سیرت کو مرنا ہوگا ۔
اس کے ٹیبل پر امریکہ کی ٹکٹس پڑی تھی اس کا باپ اسے امریکہ بھیج رہا تھا
اس نے وہ ٹکٹ اپنے پاس کی اور اس کی اتنے ٹکڑے کیے کہ کوئی گن نہ پائے
سالار کوئی سمجھ ہی نہیں رہا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتی ہو
ہر کوئی تمہیں مجھ سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے
لیکن تم فکر مت کرو
میں تم سے دور کبھی نہیں جاؤں گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی لیکن ڈاکٹر نے پھر بھی اسے سفر کرنے کی اجازت دے دی
آیت سیرت سے ملنے کے لیے بہت بے چین تھی کیونکہ اس کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں سیرت کو نہیں بتایا گیا تھا
دوسری طرف سعد جو اس کے پاس جانے کے لیے اور رویے جا رہا تھا لیکن مجبوری کی انتہا یہ تھی کہ وہ ساتھ کو اٹھا بھی نہیں پا رہی تھی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
