Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Episode 34)
آئی ایم سوری آیت باہر بہت سردی ہے اور میں تمہیں کہیں نہیں لے جاسکتا اور سعد بھی بیمار پڑ سکتا ہے۔۔۔۔
آیت کب سے مہراج کی منتیں کر رہی تھی باہر جانے کے لئے لیکن آج موسم بہت خراب تھا جس کی وجہ سے مہراج نے منع کردیا۔۔۔۔
مہراج میں سعد کو تین کمبل میں لپیٹ کر لے کے جاؤ گی وہ بیمار نہیں ہوگا اور ویسے بھی وہ اپنی ماں کی طرح ڈھیٹ ہے مہراج کی پریشانی دور کرتے ہوئے اس نے اپنی بھی تعریف کر دی ۔۔
نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے آیت مہراج نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ۔۔
پلیز چلیں نہ آیت نے اس کی بات کو اہمیت نہ دیتے ہوئے منتیں جاری رکھیں
نہیں۔۔۔ مہراج نے اس بار سختی سے کہا ۔
جس پر آیت خاموش ہو کر ایک سائیڈ پر بیٹھ گئی
مہرا ج نے جلدی ہی اس کی ناراضگی کو نوٹ کرلیا ۔۔
میری جان ناراض ہو گئی مہرا ج اس کے پاس آیا مگر آیت نے دھکا دے کر اسے پیچھے کر دیا ۔۔۔
اور خود جا کر بیڈ پر لیٹ گئی گویا ناراضگی کا اعلان کیا ۔۔
ٹھیک ہے لیکن ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہم واپس آجائیں گے اور تم وہاں جاکرضد نہیں کرو گی مہراج اس سے زیادہ دیر ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔
اب رہنے دیں۔ نہیں جانا ایت نے نخرے دکھاتے ہوئے کہا جبکہ اندر لڈو پھوٹ رہے تھے ۔
اچھا بابا ایم سوری آئندہ نہیں منع کروں گا تمہیں اب چلو مہراج نے کان پکڑے۔
ویسے اب میرا دل نہیں کر رہا اور نہ ہی جانے کا ارادہ ہے لیکن آپ اتنی منتیں کر رہے ہیں تو سوچ رہی ہوں چلی جاتی ہوں
آیت نے احسان جتاتے ہوئے کہا
اور بھاگ کا تیار ہونے چلی گئی کہیں مہراج پھر انکارہی نہ کر دے
جب کے مہراج اٹھ کر سعد کے پاس آیا ۔
جلدی بڑا ہو جابیٹا تیری ماں کے ظلم اکیلے برداشت نہیں کر سکتا اکیلے میرا گزارا نہیں ہے تیری ماں کے ساتھ اسے اٹھاتے ہوئے واش روم کے دروازے کی طرف دیکھا کہیں آیت سن ہی نہ لے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سالار کی طبیعت بہت خراب تھی مزمل ہزار بار پوچھ چکا تھا لیکن اس نے ہر بار یہی کہا کہ وہ ٹھیک ہے
جبکہ اس کے ماتھے کی رگیں اس کی طبیعت خراب ہونے کی نشاندہی کررہی تھی
شاہ سائیں آپ گھر چلے جائیں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مزمل تھوڑی دیر بعد پھر سے بولا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں تم فکر نہ کرو ۔
شاہ سائیں آپ نے ناشتے میں کیا کھایا تھا مزمل کو شک ہوا تو۔ پوچھنے لگا ناشتے کا نام سن کر سالار کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
ناشتہ بہت اچھا کیا تھا مسئلہ تو مجھے چوہدری کا ہے سالار نے آخرکار اسے اپنی پریشانی بتا دی۔
کیوں شاہ سائیں چوہدری نہیں مانا مزمل نے پوچھا
اگر نہیں مان رہا تو ہمیں کورٹ کیس کرنا چاہیے ہمارے پاس ہماری زمینوں کے ثبوت موجود ہیں مزمل نے کہا
نہیں یہ مسئلہ کورٹ سے باہر ہی حل کرنا ہوگا اور ویسے بھی یہ لڑا ئی تو بزرگوں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے اگر وہ کبھی کوٹ نہیں گئے تو ہم کیو ں جائیں
لیکن شاہ سائیں چودھری کا کافی ٹیڑا آدمی ہے آسانی سے نہیں مانے گا آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔مزمل نے فکر مندی سے کہا ۔
مجھ سے زیادہ ٹیڑا نہیں ہوگا مزمل لیکن اس مسئلہ کو ہمیں صحیح طریقے سے حل کرنا ہوگا سالار نے اپنے ہاتھ سے سر دبایا
شاہ سائیں مجھے لگتا ہے کہ آپ کا بی پی ہائی ہے آپ نے کچھ ایسا ویسا تو نہیں کھایا مزمل نے پھر پوچھا
ارے یار کچھ نہیں کھایا ایسا ویسا فکر مت کرو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمہ نے سیرت کو ناشتہ دیا بی بی جی آپ نے شاہ سائیں کے ساتھ اچھا نہیں کیا اب تو سارا دن ان کا سر گھومتا ر ہے گا ملازمہ نے کہا
وہ کیوں ۔۔؟سیرت نے کھاتے ہوئے پوچھا وہ جی ان کو بلڈ پریشر ہائی ہے نہ کھانا کھاتے سیرت کے ہاتھ رک گئے ۔
کیا مطلب سیرت نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔
جی وہ ایک بیماری ہوتی ہے جس میں نمک والی چیزیں منع کی جاتی ہے شاہ سائیں کو بھی وہی بیماری ہے ۔اسی لئے تو وہ انڈا وغیرہ بھی نہیں کھاتے ملازمہ نے ایسے بتایا ۔جیسے وہ بی پی ہآئی کے بارے میں جانتی ہی نہ ہو ۔
اب تک تو ان کا بھی بی پی شوٹ کر چکا ہوگا سیرت نے پریشانی سے سوچا تھا ۔۔
سارا دن اسی سوچ میں گزر گیا صبح جو دو نوالوں سے زیادہ ایک نوالہ نہ کھا پائی۔ ۔
دن میں بھی اس نے کچھ نہیں کھایا ۔
زیادہ پریشانی اسے ملازمہ کی اس بات پر ہوئی تھی کہ سالار بچپن میں ہونے والے ایکسیڈنٹ کے آج تک زیر اثر تھا ۔جس کی وجہ سے اسے آج بھی سر میں درد اٹھتا تھا ۔
اور جب بھی اسے یہ درد اٹھتا تو اسے بہت غصہ آتا اور کسی نہ کسی چیز پر نکالتا اور اگر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو تو درد اور بھر جاتا ۔
اس کا مطلب ہے وہ سارا غصہ مجھ پر نکالیں گے سیرت نے ڈرتے ہوئے سوچاکیونکہ اب وہ شاہ سائیں کی نہیں سالار کی محبت کی عادی ہوچکی تھی جو اس سے اونچی آواز میں بات بھی نہ کرتا ۔
سیرت کو اپنی حرکتوں پر غصہ آرہا تھا اسے سزا دینے کے لیے اس کے ساتھ کتنا غلط کر گئی بنا سوچے سمجھے اس نے سالار کو فون کیا ۔
حویلی سے کال آتی دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا لیکن سیرت کی بات سن کر خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔
وہ میں نے پوچھنا تھا آپ ٹھیک تو ہیں نا
سیر ت نےگھبراتے ہوئے پوچھا۔۔
ہاں لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہوایسے جواب دیتے ہو سالار کا دل چاہ رہا تھا کہ اپنے دل کی ساری باتیں بتا دے کہ اس کے بغیر وہ ٹھیک نہیں ہے لیکن وہ نہ بتا سکا ۔
وہ مجھے آپ کو سوری بولنا تھا مجھے پتا نہیں ہے کہ آپ بی پی ہائی کے پیشنٹ ہیں ۔ اس لئے مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی سیرت نے معصومیت سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا
اور معافی مانگ کر فوراً بند کردیا جبکہ اس کے فون کے بعد وہ کوئی کام نہ کر سکا ۔
آپ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔؟
وہ مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
ان دونوں جملوں نے سالار کو سارا دن کوئی کام نہ کرنے دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔؟
حنا نے کیچن میں جھانکتے ہوئے پوچھا ۔۔ اسے دیکھ کرزاویار مسکرایا
کچھ نہیں دریا مجھ سے ناراض ہے تو میں نے سوچا کہ اسےمیرے ہاتھ کا چوکلیٹ کیک بہت پسند ہے تو میں اس کو راضی کرنے کے لیے بنا رہا ہوں ۔۔۔
آپ دریا سے بہت محبت کرتے ہیں حنا نے اس سے پوچھا ۔
ایک ہی تو بہن ہے میری کیسے نہ کروں اس سے محبّت اسے دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتا ہوں
لیکن مجھے نہیں پتا کہ اس کی ہر خوشی سالار سے جھوڑی ہو گئی
حنا میں جانتا ہوں کہ سیرت کی اس سب میں کوئی غلطی نہیں ہوگی لیکن وہ میری بہن کی تکلیف کی وجہ بنی ہے ۔
سالار جانتا تھا کہ دریا بچپن سے اسے چاہتی ہے پھر بھی اس نے ایسا کیا زاو یار کو رہ رہ کر سالار غصہ آ رہا تھا جیسے وہ بیان نہیں کر پا رہا تھا ۔
خیر چھوڑوآج دیکھنا دریا خوش ہو جائے گی زاویار نے بات بدلتے ہوئے کہا کیونکہ سے دریا کو سالار کے دکھ سے نکالنا تھا
انشاءاللہ حنا بس اتنا ہی کہہ پائی ۔
حنا کو سالار شروع سے ہی عجیب لگا پھر اسے سیرت کے ساتھ دیکھا توسمجھ گئی کہ سیرت بے قصور ہے کیونکہ سیرت کو وہ بچپن سے جانتی تھی اور اسے سیرت پر پورا یقین تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر آیا تو پھر سیرت کو لان میں لگے پودوں کے پاس دیکھا اس کے قریب آیا جاو کپڑے نکالو میرے سختی سے کہا۔۔ وہ اس کے غصے کو سمجھ نہیں پائی کیونکہ فون تو وہ بہت محبت سے بات کر رہا تھا
کپڑے نکالنے کے بعد دیکھا سالار ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا سوچا شاید نیچے ٹی وی لانچ میں ہوگا ۔
وہاں آئی تو یہاں پر بھی نہیں تھا
باہر نکلی تو لان کی حالت دیکھ کر اسے صدمہ ہوا کیوں کہ جتنا خوبصورت وہ ابھی اس لان کو چھوڑ کر گئی تھی اس سے کہیں زیادہ بدترین حالت میں وہ اس وقت تھا ۔
اس وقت وہاں ایک پودا بھی نہ تھا اور کچھ بے دردی سے کٹے ہوئے زمین پر پڑے تھے ۔
یہ کیا کیا آپ نے۔۔سیرت صدمے سے
پوچھ رہی تھی
تمہیں یہاں میں اپنا خیال رکھنے کے لیے لآیا ہوں ان چیزوں کا نہیں مجھے ہرگز پسند نہیں کہ میری بیوی مجھ سے زیادہ کسی اور چیز کو اہمیت دے
یہ کہہ کر وہ جانے لگا پھر واپس آیا
ایک بات اور یہ تو صرف پودے ہیں اگر تم نے میرے علاوہ کسی بھی اور چیز کو اہمیت دی ۔تو اس کا حال اس سے بھی برا ہو گا یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا
جبکہ سیرت کو خوبصورت لان کی اب حالت دیکھ کر رونا آ رہا تھا ۔
جبکہ ملازموں نے اس کو اس طرح سے صاف کیا تھا کہ اب اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہاں کبھی کوئی پودا موجود تھا ۔
اگر اس لان کا ماتم منا لیا ہو تو میرا کھانا لگا دواس کے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی ۔
سیرت نے اس کے چہرے پر دیکھا جہاں تھوڑی دیر پہلے والے غصے کا نام و نشان تک نہ تھا ۔
اورچپ چاپ حویلی کے اندر چلی گئی
اس وقت سالار اپنے غصے پر کنٹرول نہیں کر پایا اور اس کی سزا بھگت رہا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ سیرت نے آج تیسرا دن سے ایک بار پھر سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
جلد بازی میں ہوئی غلطی کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھا ۔
سیرت کو تنگ بھی بہت کیا لیکن وہ پھر بھی نہ بولی۔
ان پودوں کو واپسی اگانا اس کے بس میں نہ تھا ورنہ یہ وہ بھی کر گزرتا ۔۔۔
ایک طرف چودھری کی ٹینشن نے سالار کا جینا حرام کر رکھا تھا اور دوسری طرف سیرت کی ناراضگی نےکے سکون کی تباہی مچا رکھی تھی ۔۔
اب نہ تو سیرت ناشتے میں زیادہ نمک ڈالتی اور نہ ہی کھانے کے لئے انڈے دیتی ۔
اس کی وجہ اس کی ناراضگی نہیں بلکہ فکر تھی کیونکہ وہ اپنی وجہ سے کسی کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی
چاہے وہ اس کا دشمن اول سالار شاہ ہی کیوں نہ ہو ۔
پہلے سیرت کے ناشتے نے اس کا بی پی شوٹ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اور اب اس کی ناراضگی اس کی دماغی نس نقصان کرنے کو تیار تھی
اسے لگ رہا تھا کہ اگر سیرت نے ایک اور دن اس سے بات نہ کی تو وہ پاگل ہو جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو سیرت میری جان شرافت اسی بات میں ہے کہ تم مجھ سے بات کر لو ورنہ میں اس بار ایسی سزا دوں گا کہ تم بہت پچھتاؤ گی
سالار نے اسے ڈرانا چاہا
اس کی بات سن کر سیرت میں اس سے گھوری سے نوازہ ۔یقیناً اگر وہ آنکھوں سے قتل کرنے کا فن رکھتی تو اس وقت تک ہزار بار سالارکو قتل کر چکی ہوتی ۔
تم نے میرا دماغ پہلے ہی خر اب کر رکھا ہے اب مجھے گھورنا بند کرو ۔۔
یقیناًسالار چودھری کا غصہ بھی اسی پر نکال رہا تھا ۔
ٹھیک ہے تم نہیں کرو گی نہ مجھ سے بات اگر تم مجھ سے بات نہیں کروں گی
کوئی بھی تم سے بات نہیں کرے گا ۔
اتنے دنوں میں وہ تو یہ تو سمجھ چکا تھا کہ سیرت باتونی ہے ۔
ہر وقت کسی نہ کسی سے باتوں میں لگی رہتی ہے ۔
اس حویلی میں کوئی تم سے بات نہیں کرے گا سیرت ۔
وہ سیرت کا مجرم تھا لیکن سیرت کو ہی سزا سنائے جا رہا تھا ۔سیرت نے غصے سے منہ پھیر لیا ۔
اس پرسالار بھی غصے سے باہر نکل گیا۔
باہرلان میں پہنچا ۔اور غصے سے مالی بابا کو آواز سے لگا
کی شا ہ سائیں حکم ۔وہ سر جھکائے ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑے تھے ۔
لان میں پھرسے پودے لگاتے اور وہ پودے جلدی سے جلدی برے ہو جائے ۔
جی ۔سائیں۔ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس دن سے زاویار نےدریا کو منایا تھا دریا ایک بار پھر سے اس اس کے سر پر چڑھ گئی تھی ۔۔۔
ہر بات کی ہے کی بات ۔وہ زار یار کو ایک ہی بات منوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
کہ یسے الار چاہیے وہ سالار سے بات کرنا چاہتی ہے
لیکن سالار اس سے یہ کہہ کر گیا تھا کی سیرت کو چھوڑنے کی شرط حنا کو چھوڑنا ہے کیونکہ سالار جانتا تھا کہ زاویار حنا سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ ایسا قدم کبھی نہیں اٹھائے گا
دن کو گزرتے چلے جا رہے تھے اور دریا کی نفرت حنا کے لیے بڑھتی جا رہی تھی
لیکن حنا اس نفرت کو سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔
اگر سالار نے کسی لڑکی سے شادی کرلی تو اس میں حنا کی کیا غلطی تھی ۔۔ وہ اس سے کیوں نفرت کر رہی ہے
یہ بات الگ تھی حنا کو اپنی یہ
مغرور نند پہلی نظر میں بھی اچھی نہ لگی تھی
لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کے زار یار اس سے بہت محبت کرتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی میں کوئی بھی کسی سے بات نہ کر رہا تھا
یہاں تک کہ گھر کی ملازمہ سے دیکھتے ہیں آگے پیچھے کہیں ہوجاتی ۔
اسے اس طرح اکیلے وحشت ہونے لگی ۔
اس نے سوچا کیوں نا کام کاج میں وہ اپنا دھیان بٹائے ۔
لیکن ایسا بھی نہ ہو سکا
ملازموں نے سے کسی کام کو بھی ہاتھ نہ لگانے دیا ۔
مزمل آیا تھا تو اس نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا کہ شاید وہی اس سے بات کر لے
لیکن وہ بھی نظریں نیچے جھکائے کھڑا رہا
وہ اتنا کچھ بولی لیکن اس کے جواب میں اس نے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا
یقیناًوہ اس کا بھائی بعد میں سالار کا وفادار پہلے تھا اسے اب حویلی کاٹنے کو دوڑتی
اپنی قسمت پہ رونے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
سالار سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی اور اس کی یہ سزا سالار سے بات کیے بنا ختم بھی نہیں ہوسکتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تو حاشرا سے اپنے ساتھ ہسپتال لے آیا
لیکن جب اسے طبیعت خرابی کی اصل وجہ پتا چلی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے
وہ اپنی اولاد کی خواہش بھی چھوڑ چکا تھا ۔۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی اپنی کوئی اولاد ہوگی ۔۔
منت نے اسے زندگی کی ہر خوشی دی تھی تو اللہ نے اس معاملے میں بھی اسے پیچھے نہ رہنے دیا
حاشر کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی
دیکھنا منت ہمہیں پیارا سا بیٹا ہوگا حاشر نے خوشی خوشی بتایا ۔
بیٹا منت ایک دم چپ ہو گئی ۔
ہاں بیٹا۔۔ بیٹیاں بہت رسوا کرتی ہیں منت حاشر نے اپنی آنکھوں کے آنسو چھپاتے ہوئے کہا ۔
لیکن شاید بھول گیا تھا سامنے بیٹھی لڑکی اس کے اندر کا حال جانتی ہے ۔
چلو گھر چلتے ہیں ۔حاشر اسے گھر لے جانے لگا ۔جب ہسپتال سے باہر اچانک لڑکی اس سے ٹکرائی
نا تو اس نے اس لڑکی کو پہچاننے میں دیر لگائی اور نہ ہی اس لڑکی کو۔ اور
اگلے ہی لمحے وہ لڑکی اس کے سینے سے لگ کر روئی گی ۔
لیکن اس نے نظریں اٹھا کر بھی اپنی بہن کو نہ دیکھا
بھائی خدارا ایک بار مجھے دیکھیں تو سہی میں آپ کی بہن ہو ں۔ ۔ وہ حاشر کے سینے سے لگی بلک بلک کر رو رہی تھی ۔اور حاشر کسی بت کی طرح کھڑا اسے روتے دیکھ رہا تھا ۔
اس وقت سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کی جان سے پیاری بہن کس حال میں ہے ۔
بھائی آپ۔ زند۔۔ہ ۔۔ہیں۔۔ میرے۔۔ سامنے۔ ۔ مجھے یقین نہیں آرہا ۔وہ ہچکیوں میں رو رہی تھی ۔
تم دونوں بہنوں نے مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو پھر میرے زندہ ہونے کی خوشیاں کیوں منارہی ہو ۔
حاشر نے اسے ایک ہی جھٹکے میں خود سے دور کیا
اگلے کی پل وہ اسے خود سے دور کر کی منت کو گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا ۔
بھابھی ایک بار میری بات سن لے وہ حاشر کو چھوڑ کر منت کی طرف آئی۔
لیکن حاشر اسے منت سے بھی بات نہ کرنے گئی ۔
وہاں سے وہی چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے جبکہ آیت نے اس کے پیچھے آنے کی کوشش کی کہ کسی نے پکڑ کر اسے اپنی طرف کیا ۔
آیت پاگل تو نہیں ہو گئی تم کیا کر رہی ہو آیت کو روتے ہوئے دیکھ کر مہراج اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا
مہراج حاشر بھائی زندہ ہیں میں ان سے ملی ہوں
وہ بالکل ٹھیک ہیں منت بھابھی وہ ان کے ساتھ ہی تھی میں ابھی ان سے ملی ہوں وہ خوشی سے مہراج کا بتا رہی تھی۔اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ لیا ۔
یہ سوچے بنا کے وہ اس وقت پبلک پلیس میں کھڑے ہیں ۔
سعد کی طبیعت خراب تھی جس کی وجہ سے وہاں سے لیکر ہسپتال آئے تھے ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ بھیڑ سے گبھراتی ہے اس لیے وہ اسے اکیلئے اسپتال کے اندر لے گیا اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا ۔لیکن بہت دیر بعد جب وہ واپس نہ آئے تو آیت ہسپتال کے اندر جانے لگی
اور اپنے بھائی سے ملی۔ مہراج اسی اپنے ساتھ واپس مری کے ہوٹل میں لے آیا
سیرت کو پتہ چلے گا وہ تو خوشی سے پاگل ہو جائے گی
آیت سے اپنی خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی ۔
جبکہ مہراج یہ سوچ رہا تھا جب سیرت کو پتہ چلے گا کہ حاشر زندہ ہے تو وہ سالار کو معاف کر دے گی.
______________________••
