Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Episode 35)
تمہیں یقین ہے مہرا ج جس کو تم لوگوں نے دیکھا وہ سیرت کا بھائی ہی تھا یہ بھی تو ہو سکتا ہے تم لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو
سالار کو یقین نہیں آرہا تھا جس ایک کی بنا سیرت اس سے دور ہے اللہ نے وہ وجہ ہی دور کردی ۔
کیا بات کر رہا ہے سالار آیت اس سے ملی ہے اس سے باتیں کی ہے ۔اس سے کافی بے روخی سے بات کررہا تھا لیکن وہ زندہ ہے ۔
میں خود تو نہیں مل پایا اس سے لیکن پھر بھی ْ۔ وہ یہاں مری میں ہی ہے ۔
مہراج نے ساری تفصیل بتائی۔
تو اب جلدی سے سیرت کو یہ بتادے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
نہیں مہراج جب تک میں اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتا جب تک مجھے اس بات کا یقین نہیں ہو جاتا کہ وہ زندہ ہے تب تک میں سیرت کو کوئی امید نہیں دوں گا ۔
کیا تجھے مجھ پر یقین نہیں ہے مہراج نے پوچھا ۔
یقین ہے جگر دیکھ تو نے ہی تو کہا تو اسے خود نہیں دیکھ پایا ۔بس آیت کو دو لوگوں کے پاس کھڑی دیکھا ہے۔ مہراج نے سمجھانا چاہا ۔
تجھے کیا لگتا ہے آیت مجھ سے اس قسم کا جھوٹ بولے گی ۔مہراج کو نہ جانے کی سالار پر غصہ آنے لگا ۔
اف میں یہ نہیں کہہ رہا جگر کیا ہوگیا ہے تجھے تو بات کہاں سے بات کہاں لے جارہا ہے ۔سالار نے غصے سے کہا تو مہراج کو بھی احساس ہوا کہ وہ اوور ایکٹ کر رہا ہے ۔جو خود جانتا تھا کہ اس نے مہرا ج کے علاوہ زندگی میں کسی پر بھروسہ نہیں کیا ۔
اچھا ٹھیک ہے اب تو بتا میں کیا کروں۔۔؟ مہر اج نے معذرت خوہ انداز میں کہا ۔
تو سیرت کے بھائی کے بارے میں پتہ لگا۔
میں بھی مری میں ایک آدمی کو جانتا ہوں اس سے رابطہ کرتا ہوں ۔
سالار کے دماغ میں حاشر کا خیال آیا تو اس نے کہا ۔
ٹھیک ہے تو فکر مت کرو اس کے بارے میں پتہ لگاتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر گھر واپس آیا تو اپنے آپ کو کمرے میں بند کرلیا ۔
اس کی تلخ یادوں نے آج بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا تھا ۔
وہ ایک نئی زندگی شروع کرنے یہاں آیا تھا ۔وہ اپنی پرانی زندگی میں سب کچھ بھلا دینا چاہتا تھا ۔
اس نے جو کچھ کیا جس طرح سے اپنی بہنوں کو چاہا جس طرح سے ان کی پرورش کی ۔ہر ایک بات کو بلا کر اس نے اپنی اور منت کی زندگی شروع کی تھی ۔
منت کتنی ہی دیر باہر بیٹھی بس یہی سوچتی رہی نہ جانے آیت کس حال میں ہوگی ۔
جس طرح سے حاشر نے اس کے ساتھ بے روخی سے کام لیا ۔منت کو اچھا نہیں لگا تھا ۔
اور اب وہ خود اندر جا کے بیٹھ گیا تھا ۔صبح تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اب سب کچھ پھر سے ایک بار خراب ہو چکا تھا ۔
سچ تو یہ تھا کہ اتنے عرصے کے بعد آیت کو دیکھ کر وہ بہت خوش تھی
وہ جانتی تھی کہ اگر آیت اس کے بھائی ارمان کے ساتھ ہوتی تو شاید کبھی اتنی مطمئن نہ ہوتی
کیونکہ اس سے لگتا تھا کہ اس کا بھائی ارمان باقی بھائیوں سے الگ ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ اسے خود ہی اندازہ ہوگیا ۔
کے اس کا بھائی ارمان اس کے باقی بھائیوں سے الگ نہیں بلکہ ان سے زیادہ پتھر دل اور بے حس ہے
وہ آیت کو دیکھ کر جتنی خوش تھی وہ حاشر کے سامنے اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتی تھی۔
وہ آیت کو بتانا چاہتی تھی ۔کہ وہ پھوپھو بننے والی ہے ۔لیکن حاشر نے اسے موقع نہ دیا ۔
لیکن اب اس میں فیصلہ کیا تھا حاشر کو آیت کو معاف کرنے پر مجبور کرے گی ۔وہ آیت کو واپس لائے گی ۔وہ جانتی تھی یہ کر کے وہ حاشر کو مزید تکلیف سے دوچار کرے گی لیکن وہ اس بات سے بے خبر نہ تھی کہ آیت اور سیرت سے دور لے کر حاشر خود بے چین ہے ۔اور وہ اس کی یہی بے چینی ختم کرنا چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی سیرت کو بتا دے کہ اس کا بھائی زندہ ہے اور اپنی اور اس کی ساری دوری مٹا دے ۔
لیکن پہلے وہ یقین چاہتا تھا ۔وہ خود اپنی آنکھوں سے سیرت کے بھائی۔
کو دیکھنا چاہتا تھا
وہ سیرت کو کوئی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتا تھا ۔
سیرت نے اس سے کہا تھا کہ سالار سے محبت کرنے کے لئے اسے اس کا بھائی واپس چاہیے ۔
تو کیا سالار کی محبت میں اتنی شدت تھی ۔کہ اللہ نے سیرت کے بھائی کو مرنے نہیں دیا ۔
خیر جو بھی تھا ۔وہ جلد سے جلد مری جانا چاہتا تھا ۔کیونکہ بہت کوشش کے بعد بھی وہ حاشر سے رابطہ نہیں کر پا رہا تھا ۔
مزمل جاؤ اور حویلی جا کے میرا کچھ سامان پیک کرو ۔اور میری غیر موجودگی میں سیرت کا خیال رکھنا ۔
اور ایسا کرو کہ تم اپنی بیوی زینب کو سیرت کے پاس چھوڑ دو ۔
تب تک میں مری سے واپس آ جاؤں گا ۔
سائیں میں بھی آپ کے ساتھ آنا چاہتا ہوں آپ جانتے ہیں کہ اس وقت چودری کی آپ کے ہر قدم پر نظر ہے میں آپ کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا ۔مزمل کو اس کی فکر تھی
ٹھیک ہے مزمل تو میرے ساتھ آ جانا ۔لیکن فی الحال تم حویلی میں جاؤ اور میرا کچھ سامان لے آو۔
اور سیرت کو اس بارے میں کچھ بھی مت بتانا
تب تک میں چودھری سے مل کر آتا ہوں آج میں یہ مسئلہ حل کر ہی لوٹوں گا
سائیں کیا آپ کا اکیلے وہاں جانا ٹھیک رہے گا ۔۔مزمل نے پوچھا ۔
مزمل تم اتنا کرو جتنا میں کہتا ہوں ۔سالار نے سخت نگاہ مزمل کو دیکھا جب اس نے نظریں جھکا لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے ساتھ کون کون مرتا ہے مجھے بس سیرت کی لاش دیکھنی ہے دریا نہ جانے کس سے فون پر بات کر رہی تھی
تمہیں جتنے پیسے چاہیے میں دوں گی لیکن سیرت زندہ نہیں بچنی چاہیے
حنا دریا کو کھانے کے لیے بلانے کے لیے کمرے میں آئی تھی جب اس کے دروازے پر ہی روک گی۔
دریا اتنی گرسکتی ہے حنا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا سالار کو حاصل کرنے کے لیے کسی کی جان لے سکتی ہے ۔یہ تو حنا
کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا ۔
اسے جلد سے جلد زاو یار کو یہ بات بتانی ہوگی یہی سوچ کر وہ واپس مڑی جب کمرے سے باہر رکھا گلدان اس کے پیر سے لگ کرچکنا چور ہو گیا ۔
گلدان کے آواز اتنی زیادہ تھی کہ دریا فوراً کمرے سے باہر بھاگی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو چھپ کر میری باتیں سن رہی تھی دریاغصے سے اس کی طرف بری ۔
نہیں میں تمہاری باتیں نہیں سن رہی تھی لیکن اتفاق سے میں نے تمہاری ساری باتیں سنی ہیں اور اب میں یہ سب کچھ زاویار کو بتاؤں گی حنا بغیر ہچکچائے بولی ۔
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ دریا کے تم سالار کے لیے اس طرح کا قدم اٹھاؤ گی سیرت معصوم ہے وہ تو جانتی تک نہیں تمہارے کتنے خطرناک ہیں۔
تم ٹھیک کہتی ہو حنا سیرت معصوم ہے وہ یہ نہیں جانتی کہ اس نے کس سے پنگا لیا ہے اس نے مجھ سے سالار کو چھینا ہے اور اب میں اس سے اس کی زندگی چھین لوں گی ۔
مجھ سے میرے سالار کو دور کرنے کی بہت مہنگی قیمت چکانی ہوگئی اسے دریا مکر لہجے میں بولی ۔
زاویآر حنا کو اکثر کہتا تھا کہ دریا بیمار ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ دریا پاگل ہے ۔اور وہ اپنے پاگل پن میں کچھ بھی الٹا سیدھا کر سکتی ہے ۔
میں تمہیں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے دوں گی دریا میں ابھی زاویار کو سب کچھ بتا دوں گی ۔
حنا زاویار کو فون کرنے کے لئے نیچے جا رہی تھی جب کسی نے پیچھے سے اچانک سے دھکا دیا ۔
اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گرگی۔
دریا اکثر حنا کو تنگ کرنے کے لیے گھر کے سارے ملازموں کو چھٹی دے دیتی تھی اور آج بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا ۔
حنا کی چیخ و پکار سن کر کوئی یہاں نہیں آیا جبکہ دریا آخری سیڑھی پر سکون سے بیٹھی اسے روتے طرف دیکھ رہی تھی ۔
تم جانتی ہو حنا میں نے زندگی میں صرف ایک شخص کو چاہا ہے ۔میرے باپ اور بھائی میری زندگی کے ہر خواہش پوری کرتے ہیں ۔
اس لیے وہ یہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتے تھے ۔اور پھر میری خواہش کے بیچ میں تمہاری منہوس سہیلی سیرت آگئی گی ۔جس کی سزا اب تم بھگت رہی ہو ۔
میں اپنے بھائی کو بتا رہی ہوں کہ میں سالار سے پیار کرتی ہوں اس کے بغیر جی نہیں سکتی
لیکن وہ سمجھ ہی نہیں رہا تھا ۔لیکن فکر مت کرو اب وہ سمجھ جائے گا اب جب تم مروگی نہ تب اسے پتہ چلے گا کہ محبت میں جدائی کیسی ہوتی ہے ۔اور سیرت کو تمہیں ویسے بھی مروا دوں گی ۔
اور پھر تم دونوں کا کالا سا یہ ہماری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے دور ہوجائے گا ۔دریا اس کے قریب بیٹھی بولے جا رہی تھی ۔اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ حنا تڑپ رہی ہے ۔
یہ وقت اس کے لیے عذاب سے کم نہ تھا ۔
لیکن دریا کو اس کی پروا نہ تھی وہ تو شاید انتظار کر رہی تھی کب حنا اپنا دم توڑدے۔
لیکن شاید ہی حنا نے اس کی کوئی بات سنی ہوگی وہ تو بس چلا رہی تھی کہ اس کا بچہ مر جائے گا ۔
حنا بہت کمزور تھی ۔ڈاکٹر نے اسے ابھی بچہ پیدا کرنے کے لیے منع کیا تھا ۔زاویار بھی اس بات کو لے کر بہت پریشان تھا ۔لیکن ہیں نا نے اس نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرنے دیا جس سے ان کے آنے والی اولاد پر برا اثر پڑے ۔
وہ یہ بچہ چاہتی تھی کیونکہ یہ زاویار اس کی محبت کی پہلی نشانی تھی ۔
یہی سوچتے تڑپتے اس کی آنکھیں نہ جانے کب بند ہوگی ۔
جب دریا کو یقین آگیا کہ اس کا وجود بھی جان ہو چکا ہے وہ اٹھ کر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی سائیں کے چند ایک کپڑے پیک کر دیجئے ہمیں کہیں جانا ہے۔
مزمل نے حویلی میں قدم رکھتے ہی اس سے کہا جب کہ وہ منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی
اس کے اس طرح سے منہ پھیرنے کا مزمل سمجھ چکا تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے ۔
اس کے اس طرح سے ناراض ہونے پر وہ ذرا سا مسکرایا ۔
جب اس کا فون بجنے لگا ۔اس نے دیکھا اسے قمر کی کال آ رہی تھی۔قمر تو شاہ سائیں کے ساتھ گیا تھا اگر انہیں مجھ سے کوئی کام ہوتا تو وہ خود مجھے فون کرتے قمر مجھے کیوں فون کر رہا ہے یہی سوچ کے اس نے کال اٹینڈ کر لی۔
مزمل جلدی پہنچو شاہ سائیں کو گولی لگ گئی ہے ۔
کیا سائیں کو گولی لگی ہے مزمل کے اچانک کہنے پر سیرت کے پیروں سے کسی نے زمین کھینچ لی ۔
وہ حیران و پریشان نظر مزمل کو دیکھنے لگے ۔
تو میں نے ہسپتال پہنچاو میں بھی پہنچ رہا ہوں مزمل جلدی سے فون جیب میں رکھتے ہوئے بھاگتے ہوئے سے باہر نکلنے لگا ۔جب سیرت بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آئی۔
مزمل بھائی شاہ کو کیا ہوا ہے مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں ۔ایک پل کو سیرت بھول چکی تھی کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہی ہے ۔
نہیں بی بی میں آپ کو اپنے ساتھ نہیں لے کے جا سکتا اس کو روتے دیکھ کر مزمل نے کہا ۔
اس کو کچھ ہو جائے گا ۔مجھے اپنے ساتھ لے چلیں ۔مزمل بھائی پلیز مجھے اپنے ساتھ لے چلیں اب روتے ہوئے سے ملنتں کرنے لگی۔
بی بی جی میں وعدہ کرتا ہوں انہیں کچھ نہیں ہوگا لیکن میں آپ کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا ۔
مجھے جانے دیں اس کے ہاتھ سے زبردستی اپنا ہاتھ چلا گیا ۔جبکہ سیرت وہیں زمین پر بیٹھ کر رونے لگی نہ جانے اب ان کی قسمت میں کیا لکھا تھا
سیرت پر چینی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی۔یہ احساس کی جان لیوا تھا کہ سالار کو گولی لگی ہے ۔
تو کیا اس کی بددعا ایسے لگ گئی ۔لیکن اس نے تو اسے کوئی بد دعا نہیں دی تھی۔
تو پھر۔ پچھلے دو گھنٹوں سے کبھی فون کو دیکھتی کبھی دروازے کو لیکن سالار کی کوئی خبر نہیں آرہی تھی ۔
یااللہ سالار کو کچھ نہ ہو ۔اگر اسے کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ۔
پچھلے دو گھنٹے سے ایک سیکنڈ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو الگ نہ ہوئے تھے ۔
بی بی جی آپ کی فکر نہ کریں سب بالکل ٹھیک ہوگا ۔شاہ سائیں کو کچھ نہیں ہوگا ۔آپ بس اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے شاہ سائیں جلدی سے واپس آجائیں۔
سب اسے دلاسہ دینے لگے ۔کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ سالار اس کی اس روتی دھوتی حالت پر واپس آ گیا تو ان میں سے کسی ایک کو نہیں چھوڑے گا ۔
بی بی آپ شاہ سائیں سا کتنا پیار کرتی ہیں تو نے بتاتی کیوں نہیں ۔پتا نہیں ملازمہ کے دل میں کیا سمائی جو اس کی آنسو دیکھ کر یہ کہہ بھیٹی ۔
پیار ۔سیرت میں حیرانگی سے یہ لفظ دہرایا ۔
معاف کیجیے گا بی بی جی لیکن ہمدردی میں آنسو نہیں بہنتے ۔آنسو کا رشتہ محبت سے ہوتا ہے ۔اگر محبت نہیں تو پھر آنسو بھی نہیں ۔کیا آپ نے کبھی انجان لوگوں کے لئے آنسو بہائے ہیں۔ نہیں نہ۔ آنسو صرف ان لوگوں کے لئے بہہتے ہیں جنہیں ہم اپنا مانتے ہیں ۔
ملازمہ نہ جانے اس پر کیا ثابت کرنا چاہتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ سالار کی جان خطرے میں جس کی وجہ سے آنسو نہیں رک رہے ۔
بی بی شاہ سائیں صرف ایک بات سننا چاہتے ہیں آپ سے اللہ نہ کرے انھیں کچھ ہوجائے ۔تو ان کی خواہش تو ادھوری ہی رہ جائے گی ۔
بکواس بند کرو انہیں کچھ نہیں ہوگا سمجھی تم ۔پر دفع ہو جاؤ یہاں سے شاید ہی زندگی میں کبھی سیرت نے کسی سے اتنی اونچی آواز میں بات کی ہو گی ۔
لیکن اس بدتمیزی کی وجہ سے وہ خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی ۔
کچھ نہیں ہوگا سالار کو یا اللہ آپ سالار کو کچھ نہیں ہونے دیجئے گا ۔
ملازمہ کی باتیں بار بار اس کے دماغ میں گھوم رہی تھی ۔اگر واقعی ہی سالار کو کچھ ہوگیا ۔تو کیا اس کی وجہ سیرت ہوگی ۔
لیکن اس نے کبھی نہیں چاہا تھا سالار کو کچھ ہوجائے ۔لیکن سالار تو اس سے ایک پر اپنا نام سننا چاہتا تھا نا ۔
آج سیرت سمجھ چکی تھی کہ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ سب کچھ قسمت کا لکھا تھا ۔
یا اللہ میں نے سب کچھ آپ کی مرضی سمجھ کر قبول نہیں کیا ۔جب کہ آپ تو اپنے بندوں کی بھلائی چاہتے ہیں ۔
سآلار کے ساتھ شادی میں میر ی بھی کوئی بھلائی ہوگی ۔لیکن میں نے اسے آپ کی رضا سمجھ کر قبول کرنے کی بجائے ٹھکڑا دیا ۔۔
یا اللہ اگر یہ میرے کیے کی سزا ہے تو پلیز سالار کو نہ دیں آپ میری جان لے لی لیکن میری سالار کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔اگر میرے سالار کو کچھ ہوگیا تو میں جی کر کیا کروں گی
۔وہ نہیں جانتی تھی یہ محبت ہے یا کچھ اور لیکن وہ اتنا جانتی تھی کہ اگر سے اس کے سالار کو کچھ ہو کیا تو وہ جی نہیں پائے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آٹھ بجے جب شاکر صاحب کر آئے تو خا موشی دیکھ کر ان کو لگا کہ یہاں کوئی نہیں ہے ۔
لیکن گھر کے اندر قدم رکھتے ہیں جو منظر ان کے سامنے تھا وہ ان کے ہوش اڑا دے چکا تھا ۔
حنا سیڑھیوں سے گری زمین پر پڑی تھی ۔
وہ جلدی سے زاویار کو فون کرکے آسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کرنے لگے ۔
لیکن جب انہوں نے حنا کی نفس چیک تو انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ان زندہ ہے یا مر چکی ہے ۔
شاکر صاحب جب تک اسپتال پہنچے تب تک زاویار بھی آ چکا تھا ۔
ڈاکٹر نے فوراً اسےآئی ایس یو میں شفٹ کر دیا ۔
بابا حنا کو کچھ ہوگیا تو نہیں اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں کیسے جیوں گا ۔زاویار کسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہا تھا جب شاکر صاحب کے دماغ میں دریا کا خیال آیا ۔
کچھ نہیں ہوگا تمہاری جنا کو اللہ سب بہتر کرے گا ۔ تم یہاہی ر ہو تب تک میں دریا کو بتا کے آتا ہو ں۔
بابا دریا شام تک گھر پہ ہی تھی میں نے فون کیا تھا ۔اس کے بعد میں فون کرتا رہا لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا میری میٹنگ تھی اس لئے میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا ۔لیکن مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے دھیان دینا چاہیے تھا آج میری دھیانی کی وجہ سے حنا کہ یہ حال ہے ۔
ڈاکٹر نے انہیں دعا کرنے کے لئے کہا تھا
کیونکہ ڈاکٹر انہیں کوئی جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی کا دروازہ کھلتے ہی سالار کی گاڑی اندر آئی ۔سیرت بھاگ کا دروازہ پر پہنچی
گاڑی سے نکلنے والا شخص سالار ہی تھا ۔سیرت بھاگ کر اس کے سینے سے لگی ۔
اور بری طرح رونے لگی۔
سیرت میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں ۔گولی بس چھو کر گزر گئی ۔
سالار سے ہمت دینے کی کوشش کر رہا تھا وہ اتنی برے طریقے سے رو رہی تھی ۔
سیرت میری بات تو سنو ۔۔
سالار کب سے اسے کچھ بتانا چاہ رہا تھا لیکن سیرت کے آنسوؤں کی ٹینکی ختم ہوتی تو اسے کچھ بتانا ۔
نہیں مجھے کچھ نہیں سننا آج کے بعد آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ۔
سالار نہیں جانتا تھا کہ یہ وقتی احساس ہے یا سیرت اپنے دل کا حال کہہ رہی ہے ۔لیکن سیرت کے یہ لفظ اسے سکون دے رہے تھے ۔
اگر اب آپ مجھے چھوڑ کر گئے تو میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی ۔
اس کے سینے میں منہ چھپائے وہ بولے جا رہی تھی ۔
پھر ایک سیکنڈ سر اٹھا کے اس کے چہرے کی طرف دیکھا ۔
آپ نہیں جائیں گے نہ مجھے چھوڑ کر ۔۔؟
نہیں کبھی نہیں ۔۔اس کا آنسووں سے بھگا چہرہ صاف کرتے ہو سالار نے محبت سے اس کی پیشانی چومی ۔
سیرت ایک بار پھر سے اس کے سینے میں اپنا منہ چھپانے لگی ۔
میں اب آپ کو کہیں جانے ہی نہیں دوں گی ہمیشہ اپنے پاس رکھو گی ۔
سیرت کیسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہی تھی ۔ جو اپنا فیورٹ کھلونہ کسی کو نہیں دینا چاہتی تھی ۔
لیکن سالار اس کے لئے اس کا کھلونا بننے کو بھی تیار تھا ۔اسے اپنے سینے سے لگائے وہ تو آج آسمان میں اڑ رہا تھا ۔
اور اس وقتی کیفیت سے نکلنے کے بعد سالار سیرت کی حالت کے بارے میں سوچ کر مسکرائے جا رہا تھا ۔
لیکن آج سیرت نے سالار سے دوری کے سارے راستے خود ہی بند کر دیے تھے.
_________________________••
