Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Episode 25)
نور اسے تیار کر رہی تھی جب ایان دوڑتا ہوا کمرے میں آیا
ماما یہ اینٹی دلہن ہیں ایان نے معصومیت سے پوچھا ایان کے اس طرح منہ کے ڈیزائن بنانے پر سیرت مسکرائی اس کے دونوں گالوں کے ڈمپل روشن ہوئے
آنٹی آپ ہنستے ہوئے بہت پریٹی لگتی ہو میں آپ کو کس نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کا میک اپ خراب ہو جائے گا لیکن آپ مجھے کرلو ایان نے آفر کی
یہ سیرت نے فورا مان لی
اس سے کس لینے کے بعد ایان ایک سیکنڈ بھی اس کمرے میں نہیں رکا سیدھا سالار کے پاس جا کر کھڑا ہوا
انکل سالار جب بھی ماما بابا سے ناراض ہوتے ہیں تو بہت اداس ہو جاتی ہیں پھر بابا مجھے اس کال پہ کس کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ جاؤ ماما سے بھی اسی گال پہ کس لے کے آؤ تو پھر وہ دونوں آتے ہیں اور خوش ہوجاتے ہیں اس کی بات سن کر الفاظ کے کان کھڑے ہوگئے جبکہ سالار اور مہراج کی دبی دبی ہنسی وہ لوٹ کر رہا تھا
آؤ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ماما اور بابا کی لڑائی ختم کر دیتے ہو راج الفاظ کو بخشنے کے بالکل موڈ میں نہ تھا
ہاں کیونکہ میں ان دونوں کو اداس نہیں دیکھنا چاہتا
لیکن بیٹا یہ باتیں تم یہاں کیوں بتا رہے ہو الفاظ نے دانت پیستے ہوئے کہا جبکہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے لاڈلے بیٹے کے منہ پر ٹیپ لگا دی
کی سالار انکل اور سیرت آنٹی ایک دوسرے سے ناراض ہیں نا اسی لئے تو اداس ہیں میں نے سوچا کیوں نہ میں آپ دونوں کو راضی کرلو ں ہمیں اپنے اس گال پر سیرت آنٹی سےکس لے کے آیا ہوں آپ کے آپ بھی مجھے اس گال پر کس کرو اور راضی ہو جاؤ
اس کی بات پر سالار نہ صرف مسکرایا بلکہ اسے اپنی گود میں لے کر اتنے زور سے چوما ایان رونے لگا
او بس کر یار میرے بیٹے کی جان لے گا کیا الفاظ کو اپنے بیٹے کی فکر ستانے لگی جبکہ سالار سیدھا سیرت کے کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیاتو سیرت مکمل دلہن کے لباس میں تیار کھڑی تھی نور نے اس کو بہت خوب صورتی سے تیار کیا تھا
دلہن کے روپ میں وہ آسمان سے اتری کسی پری سے کم نہ لگ رہی تھی
لگ تو نکاح کے روز بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن آج وہ ضرورت سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی
کسی لئے سالار اس کے قریب آیا اور اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کی چہرے پر ڈال دیا یہ ڈوپٹہ چہرے سے مت ہٹانا باہر بہت لوگ ہیں بے کار کسی کی نظر لگ جائے گی اور ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ تمہیں میرے علاوہ کوئی اور دیکھیں
سالار نے نور کے وہاں ہونے کی بھی پروا نہ کی
نور کو اپنا گلا کھٹکا کے اس کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑا
نور بھابھی آپ اسے باہر لے آئیں
وہ کمرے سے باہر چلا گیا تو الفاظ اکیلے کھڑا تھا
تو یہاں کیوں کھڑا ہے مہراج کہا گیا سالار نے پوچھا
وہ اپنی وائف کو لینے گیا ہے مہر آج صبح سے اب گھر گیا تھا کیونکہ آیت نے کہا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک محفل میں نہیں رہ سکتی اس سے زیادہ لوگوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے
اسی لئے مہراج اسے لینے تب گیا جب میں ولیمہ ختم ہونے کے قریب تھا
تقریب میں سیرت کا چہرہ کوئی دیکھ نہیں پایا کیونکہ پوری تقریب میں اس نے گھونگھٹ کر رکھا تھا یہ سالار کا حکم تھا کیونکہ وہ اپنی بیوی کو کسی کو نہیں دکھانا چاہتا تھا
کتنی ہی عورتوں نے اس کا چہرہ دیکھنے کی ضد کی لیکن سالار نے گھونگھٹ نہیں اٹھانے دیا
جبکہ سیرت کو اس سب سے کوئی مطلب نہ تھا وہ تو یہ سب کچھ ختم کرنا چاہتی تھی
یہاں تک کہ تھکن کی وجہ سے اسے بخار بھی ہونے لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب ختم ہوئی تو سب ہی لوگ اپنے اپنے گھر جانے لگے
جب الفاظ نور مہراج آیت آخری بار سیرت کو ملنے آئے کیونکہ اب انہیں اپنے اپنے گھر جانا تھا
پہلے تو نور آیت نے سالار کا راستہ روک لیا کیونکہ یہ توتہ تھا کہ وہ اسے نیگ دیے بغیر کمرے میں نہیں جانے دیں گی
اپنی بیویوں کو سمجھا مجھے میری بیوی کے پاس جانے دے سالار نے الفاظ اور مہراج کو دیکھتے ہوئے حکم سنایا
لیکن ان دونوں نے ناک سے مکھی اڑ آئی تمہارا معاملہ ہے تمہیں سلجاؤ
نہ چاہتے ہوئےاسے اپنی جیب سے پیسے نکالنے ہی پڑے
آیت تم بھی ملو اپنی بھابھی سے مہراج نے اسے کہا تو وہ کمرے کے اندر آگئے
یہ کیا زبردستی ہے یار اب تو مجھے میری بیوی کے پاس اکیلے جانے دو سالار نے آہ بھر کر کہا جس پر سارے ہنسنے لگے
جبکہ نور نےپاس آکر سیرت کے چہرے سےگھونگھٹ ہٹایا
آیت اس کی پیچھے کھڑی تھی
تم واقع ہی چھپا کے رکھنے والی چیز ہو نور نے تعریف کی اور اسے آیت کے سامنے کیا
چٹاخ” “”””
آیت کے زور دار تھپڑ سے سیرت بیڈ پہ جا گری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخار میں ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے ہی چکر آ رہے تھے اوپر سے آیت کے تھپڑ نے اسے سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا لیکن اس کی وجہ سے سالار اپنے آپے سے باہر ہو چکا تھا اس نے اگلے ہی پل آیت کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دینا چاہا لیکن مہراج نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
ہاتھ نہ صرف ہوا میں رک گیا بلکہ اس نے غصے سے وہی ہاتھ سامنے شیشے پہ دے مارا لیکن آیت نے اس کی پروا نہ کی
مہراج اپنی بیوی کو ابھی اور اسی وقت یہاں سے جا سالار غصے سے بولا
مہراج نے آیت کو یہ بتایا تھا کہ جس لڑکی سے سالار شادی کر رہا ہے وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گھر سے بھاگ کر آئی ہے
یہاں سے تب تک نہیں جاؤں گی جب سیرت میرے سوال کا جواب نہیں دے گی سیرت کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔؟ایک بار ترس نا آیا تمہیں بھائی اور بھابھی پر
ایسی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے ایک بار شرم نہ آئی کیسے ہوئی تم سے یہ غلطی سیرت بولو آیت غصے سے روتے ہوئے بولی
میری غلطی آپ کی غلطی سے چھوٹی ہے آپی
ہاں جو غلطی میں نے کی نہ وہ آپ کی غلطی سے بہت چھوٹی ہے مجھے یہاں زبردستی لایا گیا ہے لیکن آپ تو اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ گئی تھی
اس لیے مجھے کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں
سیرت اور آیت ایک دوسرے کو جانتی تھی یہ بھی مہراج اور سالار کے لئے ایک جھٹکے سے کم نہ تھا لیکن وہ دونوں بہنیں تھیں یہ جان کر مہراج اور سالار دونوں ہی پریشان ہو چکے تھے
جبکہ الفاظ اور نور ان کا آپسی معاملہ سمجھ کر جا چکے تھے کیوں کے وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ان کے پرسنل میٹر میں انٹر فیر کریں
یہ تو کیا کہہ رہی ہیں سیرت کیا سالار تجھے زبردست یہاں لائے ہیں آیت سیرت کے قریب آئیں لیکن سیرت نے ایک ہی جھٹکے سے خود سے الگ کر دیا
ہاں زبردستی لائے ہیں یہ مجھے یہاں لیکن آپ تو اپنی مرضی سے گئی تھی نہ آپ نے تو اپنی مرضی سے مہراج بھائی سے شادی کی میں آپ کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی آیت آپی
کیونکہ میرا بھائی تو تین سال پہلے ہی مر گیا تھا اس کے احساسات جذبات خوشیاں سب تین سال پہلے مر چکی تھی اب تو صرف اس کی روح نے اس کا جسم چھوڑا ہے آپ نےقتل کیا ہے میرے بھائی کا آپ سب میرے بھائی کے قاتل ہو میں آپ سب کو کبھی معاف نہیں کروں گی
اس نے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
چلے جائیں یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دے پہلی ہی بخار اور تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب تھی پھر رونے کی وجہ سے اس کی طبیعت اور بھی زیادہ بگڑ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت جب سے گھر آئی تھی روئے جارہی تھیں اس نے مہر آج سے کوئی بات نہ کی مہراج نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تووہ اس کی کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نہ تھی مہراج نے اس سے جھوٹ بولا تھا کی سیرت گھر سے اپنی مرضی سے بھاگ کر شادی کر رہی ہے لیکن یہاں حقیقت کچھ اور ہی تھی سالار نے زبردستی سیرت کو اٹھاکر اس سے نکاح کیا تھا اس کا بھائی مر چکا تھا جو ڈرا سے کتنے دنوں سے کھائے جا رہا تھا وہ ڈر سچا تھا
حاشر مر چکا تھا
مہراج مجھے منت بھابھی سے ملنا ہے اس نے کمرے میں آتے ہی کہا
لیکن وہ کہاں ہیں ہم نہیں جانتے
مہراج نے کہا
اگر سیرت یہ جانتی ہے کہ حاشر بھائی نہیں رہے تو وہ یہ بھی جانتی ہوگی کہ منت بھابھی کہاں ہہں
ہم سیرت سے پوچھ سکتے ہیں لیکن کیا منت بھابھی مجھ سے ملیں گی کیا وہ اپنے شوہر کے قاتل سے ملنا پسند کریں گی آیت اپنے آپ کو سنبھال نہیں پا رہی تھی وہ ایک بار پھر سے رونے لگی
نہیں مہراج وہ میری شکل تک نہیں دیکھیں گئی وہ مجھ سے نفرت کرتی ہوں گی میں ان کے بھائی کو چھوڑ کر شادی سے بھاگ گئی اور پھر اپنے ہی بھائی کی موت کا سبب بن گئی کیاگزری ہوگی ان پر
کتنی تکلیف میں ہوں گی وہ
مہراج نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا خود کو سنبھالنے کی کوشش کرو آیت شاید ان کی موت ایسے ہی لکھی تھی تم اپنے آپ کو ان کی موت کا ذمہ دار مت سمجھو بلکہ تمہیں تو سیرت کو بھی سنبھالنا ہوگا وہ اکیلی ہے اپنے اندر گھٹن پال رہی ہے
تمہیں اسے بھی سمبھالا چاہیے
سالار اس سے بہت محبت کرتا ہے اور یقین مانو آیت سالار نے بھی ایسا کبھی نہیں چاہتا تھا
اس دن سیرت کا نکاح ہو رہا تھاچاچا اور چاچی نے مجھے یہ بات بتانے سے منع کیا تھا لیکن میں نے پھر بھی اسے بتا دیا یقین کرو آیت میں نے اس کے لئے سالار کی محبت دیکھی ہے وہ کسی کے ساتھ اتنی خوش نہیں رہ سکتی جتنی کے سالار کے ساتھ اس دنیا میں کوئی بھی سیرت کو اتنا پیار نہیں کرسکتا جتنا کہ سالار کرتا ہے ہمیں اس کی مدد کرنی چاہئے
دیکھنا آیت سیرت سب کچھ بھلا دے گی اور ایک سیمپل لایف گزارے گی
اس سب کے لئے ہمیں سالار کی مدد کرنی ہوگی
کروگی نہ ہماری مدد ۔آپ نے آیت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
ہاں مہر آج میں اپنی بہن کو ویسے ہی ہنستے کھیلتے دیکھنا چاہتی ہوں جیسی وہ پہلے تھی
میں آپ کی اور سالار بھائی کی مدد کرو گی
میں آپ دونوں کا ساتھ دوں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں مسز حاشر سے بات کر سکتا ہوں
منت نے ایک بار پھر غور سے نمبر کو دیکھا پھر فون کان سے لگایا
آپ مسز حاشر قریشی سے ہی بات کر رہے ہیں منت نہیں یاد دلایا
دراصل بات یہ ہے کہ میں نے کچھ دن پہلے آپ کو مری کے ایک شاپنگ مال میں دیکھا تھا اس وقت سے اپنا دل ہار بیٹھا ہوں کیا آپ میرے ساتھ ایک چھوٹا موٹا افئیر چلانا پسند کریں گے
آفیئر کی بات تو ایسے کی جارہی تھی جیسے شاپ کیپر کوئی چیز بھیج رہا ہو
نہیں میں آپ کے ساتھ افیئر چلانا پسند نہیں کروگی میں شادی شدہ ہوں منت نے ایک ادا سے کہا
تو میں کون سا کنوارا ہوں میری شادی کو بھی ماشاءاللہ سے سال گزر چکے ہیں لیکن اب میں کیا کہوں میری بیوی اتنی بورینگ ہے کہ جہاں رومینس کی بات آئے تو وہاں سے ایسے غائب ہوتی ہیں جیسے بوتل کا جن ۔آہ بھر کر کہا گیا
آؤ تو اپنی بیوی سے بہت تنگ ہیں اس لئے مجھ سے آفیئر چلانا چاہتے ہیں خیر سچ کہوں تو تنگ تو میں بھی ہوں اپنے ہسبنڈ سے منت نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
کیوں سوال آیا ۔
درصل وہ ضرورت سے زیادہ رومانٹک ہیں نہ جگہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی وقت بس رومینس سٹارٹ اس لئے میں ان سے بہت پریشان رہتی ہوں من آپ نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں تو اسی لئے تو کہہ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے آفیٙئر چلا لیں ہو سکتا ہے آپ کو کچھ فائدہ ہو جائے ویسے بھی ہے کیا یا شکل نہ صورت ایوریں کو جا سا
بس بہت ہو گیا خبردار جو تم نے میرےمیاں کو جا وہ اس دنیا کے سب سے ہینڈسم مرد ہیں منت نے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا
تو میں کیا سمجھوں آپ میرے ساتھ افیئر نہیں چلائی گئی خیر کوئی بات نہیں یہاں میرے آفس میں تین بہت خوبصورت لڑکیاں ہیں لگتا ہے انہیں میں سے ہی کسی ایک پر ٹرائی کر رہا ہو گا
خبردار حاشر جو آپ نے کسی کے ساتھ افیئر چلانے کی کوشش کی میں آپ کو گھر میں نہیں گھسنے دوں گی منت نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
اس کا مطلب کہ آپ میرے ساتھ افیئر چلانے کے لیے تیار ہیں آگے سے اگنور کرتے ہوئے وہ اپنی دھن میں بولا
منت سر پکڑ کر بیٹھ گی جی ہاں میں تیار ہوں آپ سے ساتھ افیئر چلانے کے لیے نا آپ کسی اور عورت کو آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے
جو حکم جانے من پھر کل فون کروں گا آپ کو لیکن انداز میں کہا گیا
ٹھیک ہے لیکن سنیں کل دس بجے کے بعد مجھے فون کیجیے گا کیا ہے نہ کہ دس بجے سے پہلے میرے ہسبنڈ گھر پے ہوتے ہیں منت اسی کے انداز میں بولی
جو حکم میرے آقا
بند ہوچکا تھا تھا اور منت جو اتنے وقت سے یہ سوچ رہی تھی کہ اس سب کے بعد حاشر ٹوٹ چکا ہوگا ایک بار پھر سے اس کی ساری خوشیاں لٹ چکی ہیں وہ کیسی سنبھالے گی اسے
لیکن ایسا کچھ نہ ہوا تھا منت نےحاشر کو نہیں بلکہ اس نے منت کو سنبھال لیا تھا وہ دونوں کراچی سے سے مری شیٹ ہوچکے تھے اس ایکسیڈنٹ کے بعد حاشر واپس گھر نہ گیا بلکہ منت کو لے کر یہاں آ گیا جہاں صرف حاشر اور منت تھے ان دونوں کی زندگی میں کسی تیسرے کی جگہ نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا اب خطرے سے باہر تھی زاویار رہنا اسی دن یہاں پہنچ آئے تھے اب یار ہر طرح سے دریا کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن دریا کسی کی کچھ نہ سنتی نہ کچھ کھاتی نہ کچھ پتی تھی اسے صرف سالار چاہیے تھا
لیکن سالار کو اس سے کوئی مطلب نہ تھا یہاں تک کہ وہ تو اس کو دیکھنے ہسپتال تک نہ آیا جبکہ سلمان اور سارا دوبارا چکے تھے
اور شاکر ارو زاویار سے معافی بھی مانگ چکے تھے
لیکن اس سب کے باوجود بھی دریا کی ایک ہی ضد تھی وہ ایک ہی رٹ لگائے جا رہی تھی کہ اسے سالار چاہیے جیسے انسان نہیں کوئی کھلونا مانگ رہی ہو
لیکن سالار کی زندگی میں وہ کتنی اہمیت رکھتی ہ تھی یہ سالار میں ہوسپٹل نہ آ کر ہی اسے بتا دیا
جس کا شاکر صاحب نہ جانے کتنی بار گلہ کر چکے تھے
سلمان صاحب اور سارا نے گھر آکر سالار کی منتیں کیں تھیں کہ وہ صرف ایک بار ہی سہی لیکن دریا کو دیکھ آئے بار بار کہنے پر آخرکار سالارمان گیا اور کہہ دیا کہ وہ چلا جائے گا لیکن سیرت کے ٹھیک ہونے کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جائے گا
سیرت کی طبیعت خراب تھی اسے اب بھی بخار تھا ڈاکٹر نجانے کتنی بار آ کر چیک کر کے جا چکی تھی سالار ساری رات اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا لیکن اس سب کے باوجود بھی اس کی طبیعت پر کوئی فرق نہ پڑھ رہا تھا
وہ بیچارہ ساری رات سیرت کے سرہانے بیٹھا رہا اس کی طبیعت کی وجہ سے ایک پل بھی اس کی آنکھ نہ لگی ۔ وہ ہسپتال لے کر نہیں گیا تھا گھر پہ ہی اسے ڈاکٹر چیک کرنے کے لیے آتی
پہلی میل ڈاکٹر آیا تھا جیسے سالار نے سیرت کو دیکھنے تک نہ دیا اور پھر سالار خود ہی فی میل ڈاکٹر کو لے کر آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کی طبیعت تھوڑی سی سمبلی تو سارہنے اسے دریا کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ سالار اسے اپنے ساتھ وہاں لے کے جانا چاہتا ہے لیکن سیرت جانتی تھی کہ دریا حنا کی نند ہے اگر حنا کو پتہ چل گیا کہ اس نے سالار سے شادی کی ہے تو اسے بہت برا لگے گا
کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے حنا اس سے دوستی ختم کر دے لیکن اسے یہ بھی یقین تھا کہ نہ کبھی ایسا نہیں کرے گی کیونکہ وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے لیکن مسئلہ زاویار بھائی کا تھا جینے اس پر کتنا یقین تھا
اب جب انہیں پتہ چلے گا کہ ان کی بہن کا گھر پر برباد کرنے والی اور کوئی نہیں بلکہ انہیں کی منہ بولی بہن ہے تونے کتنی تکلیف ہوگی
اس لیے وہاں نہیں جانا چاہتی تھی لیکن ساری نے اسے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر سیرت وہ نہیں جائے گی تو سالار بھی دریا کو دیکھنے نہیں جائے گا اور بیچاری دریا کتنے ہی دنوں سے سالار کو بس ایک نظر دیکھنے کی منتیں کیے جا رہی ہے
دریا شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ
محبت میں انسان جتنا جھکتا ہے سا نے والااسے اتنا ہی نیچ اور گرا ہوا سمجھا جاتا ہے اس کی محبت کی کوئی قدر نہیں کرتا
اور سالار بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کر رہا تھا وہ اپنے آپ کو جتنا جھکا رہی تھی سالارا سے جھکاتا جا رہا تھا نہ تو اس کی نظروں میں اس کی محبت کی کوئی اہمیت تھی
اور نہ ہی اس سے اس کی محبت کی قدر تھی اس کی نظروں میں دریا بھی ویسی ہی ایک لڑکی تھی جو اس کے پیچھے بھاگا کرتی ہیں چاہے سالارا سے منہ لگائے یا نہ لگائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
لڑکوں کے معاملوں میں لڑکیوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے جب ان کے سامنے کوئی لڑکا اپنی جان دینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ڈر جاتی ہے اسے چاہیں یا نہ چاہیں لیکن اس کی محبت کی قدر ضرور کرتی ہے
لیکن مردوں کا دل نہیں بہت سخت ہوتا ہے اگر ان کے سامنے کوئی لڑکی اپنی جان دینے کی کوشش کرے تو وہ سے کریکٹر لیس نیچ اور گرا ہوا سمجھتے ہیں نہ کہ اس کی محبت کو قبول کرتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی لڑکیاں یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکتی جس محبت کو بچانے کے لئے اپنا آپ تک داؤ پر لگا دیتی ہیں وہی محبتیں انہیں سب سے زیادہ ذلیل کرتی ہیں.
