Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 19
تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے سالار کیا کیا ہے تو نے مہرا ج چلایا تھا سالار پر
وہی جو بہت پہلے کردینا چاہیے تھا لیکن تو ٹائم پاس کر رہا تھا اپنی غلطی پر ذرا بھر شرمندہ نہ تھا
چل اب اٹھااسے اور گاڑی میں ڈال
دماغ خراب ہو گیا ہے وہ کالج جانے کے لئے کہہ رہی تھی اور تم نے اسے بے ہوش کر دیا
دیکھ بھائی یہ لڑکیاں بہت الٹی کھوپڑی کی ہوتی ہے سیدھی بات ان کے ذہن میں جاتی نہیں ہے اس لیے الٹے لوگوں کو ایسے ہی الٹے طریقے سے سیدھے راستے پر لایا جاتا ہے اب آٹھا اسے گاڑی میں ڈال
مہراج جانتا تھا کہ اس وقت سالار سے بحث کرنا بالکل بیکار ہے اسی لیے اس نے احتیاط سے آیت کو اٹھایا
سالار گاڑی ایک زیر تعمیر بلڈنگ کے اندر لے کے آیا تھا
سالار مجھے لگتا ہے ہمہیں اسے واپس چھوڑ آنا چاہیے مہراج نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے کہا
ہاں لیکن اس کے لیے اس کا ہوش میں آنا ضروری ہے اور ہوش میں آنے کے بعد تیری بات سننا ضروری ہے جب تک یہ لڑکی ٹھنڈے دماغ سے تیری بات نہیں سنتی بلکہ تیرے پیار کو نہیں سمجھتی تب تک یہاں سے نہیں جا سکتی کیونکہ تب تک اس کو یہاں سے نہیں جانے دوں گا اب اٹھااسے اندر لے کے آ
یہ تو مہراج بھی جانتا تھا کہ سالار اپنی ضد کا پکا ہے وہ آیت کو یہاں سے تب تک نہیں جانے دے گاجب تک وہ مہراج کی بات نہ سن لے کیونکہ مہراج کے معاملے میں سالار بہت پوسزوتھا
اور وہ مہراج کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا اس لیے اسے اداس دیکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں کتنی ہی دیر سے آیت کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے
آیت کو ہوش میں آنے کے لئے تین گھنٹے لگ گئے مہرا ج چاہتا تھا کہ آیت کو جلدی ہوش آئیں تاکہ وہ اسے کالج واپس چھوڑ سکے کیونکہ وہ اسکی عزت پر حرف نہیں آنے دینا چاہتا تھا
لیکن جب آیت کو ہوش آیا اس کے الفاظ سن کے مہراج کا سر چکرا چکا تھا آیت اسے اتنا گرا ہوا سمجھ سکتی ہے یہ مہرا ج نےکبھی نہ سوچا تھا
کس مقصد کے لیے لائے ہو مجھے یہاں پر مجھے لگ رہا تھا تم میں اور ارمان میں کوئی فرق ہے لیکن تم دونوں ایک جیسے ہو آیت کے الفاظ اس کے لئے زہر سے کم نہ تھے مہراج نے آج تک کسی لڑکی کی طرح گندی نظر سے نہ دیکھا تھا اور آیت کے لئے مہراج کے جذبات سچے تھے جو صرف اور صرف آیت کے لیے تھے
آیت اس کے سامنے بے تحاشا رو رہی تھی
خدا کے لئے مجھے باعزت میرے گھر جانے دو میں پہلے ہی اپنی زندگی سے تنگ آ چکی ہوں
تم تو بہت امیر ہونا تمہیں کوئی بھی مل جائے گی جس کے ساتھ وقت گزار کر تم اپنے دل کو تسکین پہنچا لو گے
آیت میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو مہراج نے ایک قدم اس کی طرح بھریا
وہی رک جاو میں کہتی ہوں میرے پاس مت آنا ورنہ میں اپنے آپ کو ختم کر دوں گی آیت بے بسی کی انتہا پر تھی
مہراج کو آیت کی باتوں پر غصہ آ رہا تھا جو اسے اتنا گھٹیا سمجھ رہی تھی
آیت میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کرنے کے لیے تمہیں یہاں نہیں لایا میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو مہراج نے اسے سمجھانا چاہا
میں کہتی ہوں دور رہو ورنہ میں مرجاونگی تمہیں خدا کا واسطہ ہے مجھ سے دور چلے جاؤ
آیت کے آنسو بہہ رہے تھے
اور اس کے ہر آنسو پے مہراج کو اپنی غیرت ڈوبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا وہ شخص تمہارے قابل نہیں ہے تم اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی آیت مجھے ایک موقع تو دو اپنی محبت کو ثابت کرنے کا میری محبت تم سے صرف ایک موقع چاہتی ہے مہراج اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا بول رہا تھا
لیکن وہ اسے سننا نہیں چاہتی تھی اور نا ہی اس کی محبت پر یقین کرنا چاہتی تھی
خدا کے لئے مجھے میرے گھر چھوڑ دو اس ہفتے میری شادی ہے آیت نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے
جب کہ اس کی شادی کا سن کر مہراج کے پیروں تلے زمین نکل چکی تھی
نہیں آیت وہ شخص تمہارے قابل نہیں ہے میں نہیں ہونے دوں گا تمہاری شادی اس کے ساتھ تم مجھ سے شادی نہیں کرنی نہ سہی لیکن اس شخص کے ساتھ بھی تمہاری شادی نہیں ہونے دونگا میں تمہارے ہی ہاتھوں سے تمہاری زندگی برباد نہیں کرنے دوں گا
مہراج غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا
کیوں نہیں تم کون ہو میرے کیا لگتے ہو میرے کچھ نہیں ہو تم کچھ بھی نہیں اور نہ ہی کبھی کچھ ہو سکتے ہو وہ شخص میرے قابل ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو میں ارمان سے شادی کرو گی اور حل حال میں کروگی
ایت اسی کی طرح چلاتے ہوئے بولی
جب کہ اس کے آنسو ایک لہر کی طرح بہہ رہے تھے
میں تم سے اپنی محبت کو ثابت کرنے کا ایک موقع مانگتا ہوں مجھے یقین ہے کہ تم میری محبت پر یقین ضرور کروں گی
اور اگر نکاح سے ایک سیکنڈ پہلے بھی تم نے مجھ پر یقین کرلیا تو میں تمہاری شادی نہیں ہونے دوں گا یہ وعدہ ہے
مہراج شاہ کا مہراج نے سے یقین دلانے کی کوشش کی
ٹھیک ہے تم جو کچھ کر سکتے ہو کرلو
لیکن مجھے میرے گھر چھوڑو اس سے پہلے میرے بھائی کو پتہ چل جائے تمہیں جو کرنا ہے کرو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن یاد رکھو مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی کیونکہ شادی میری ارمان کے ساتھ ہی ہوگی
ٹھیک ہے آیت . میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ رہا ہوں اور تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری شادی سے پہلے تمیہں اپنی محبت کا یقین دلانے کا تمہیں اتنا بے بس کر دوں گا کہ تم خود میرے پاس ہوگی
مہراج نے اسے گھر چھوڑنے سے پہلے گاڑی میں اپنا کارڈ دیا تھا جس میں اس کا نمبر اور ایڈریس تھا
آیت تمہیں جب بھی میری ضرورت ہوئی تو اس نمبر پر فون کرنا مجھے یقین ہے تمہاری شادی سے پہلے تو میں اس نمبر کی ضرورت ضرور پڑے گی
تمہیں اس ارمان سے ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں
مہراج نے اسے اس کے گھر کی گلی کے پیچھے کی طرف چھوڑا
تاکہ انہیں کوئی اس کےساتھ نہ دیکھیں
یہ بالکل سنسان اور ویران گلی تھی جب وہ گاڑی سے اترنے لگی تب مہراج نے کہا
تم فکر مت کرو آیت میں ہمیشہ تمہارے آس پاس رہوں گا میں اس اگلی سے کہیں نہیں جاؤں گا
جب تک مجھے اس بات کا یقین نہیں ہو جاتا کہ تم ارمان سے شادی کر لو گی
آپ بے کار میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں مہراج شاہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میری شادی ارمان کے ساتھ ہی ہوگی
اسی لیے بہتر ہوگا کہ آپ یہ اپنا وقت برباد نہ کریں
انسان کو بے مقصد چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے کیونکہ بے مقصد چیزیں انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ اس کا وقت اور قابلیت ضائع دیتی ہیں
آیت جسے تم بے مقصد کہہ رہی ہو وہ میری محبت ہے اور میری محبت میرا وقت اور میری قابلیت ضائع نہیں کرے گی اور جہاں تک فائدے کی بات ہے تو محبت میں نقصان اور فائدہ نہیں دیکھا جاتا اور مجھے یقین ہے کہ تم بہت جلد میرے قریب بہت قریب ہو گی اور میں تمہیں اس بات کا احساس دلاؤں گا جب تم ہمیشہ کے لئے میری اور صرف میری ہو کر میرے پاس آؤ گی مہراج کا اعتبار قابل دید تھا
آپ بے کار میں غلط فہمیاں پال رہے ہیں مہراج شاہ یقین کیجئے اس سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا آیت نہیں چاہتی تھی کہ مہراج اس کے گھر کے آس پاس رہے
غلط فہمی ہے تو غلط فہمی ہی سہی لیکن میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا اب تم اپنے گھر جاؤ یہ نہ ہو کہ یہ سڑک پر کھڑےتمہیں کوئی میرے ساتھ دیکھ لے میں تو سچ بول دوں گا مگر تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا
کیا سچ بولیں گے آپ آیت نے بے ساختہ پوچھا
یہی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں جواب واضح تھا
آیت کو سمجھ آ چکا تھا کہ یہاں پتھر پر سر مارنے سے کوئی فائدہ نہیں اسی لئے وہ آگے بھرگی
اور مہراج اسی یقین پر وہیں کھڑا رہا کہ آیت اس کے پاس لوٹ کر ضرور آئے گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھرمیں آیت کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی سیرت کو تو اپنے لیے کپڑے اور میچنگ جیولری کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا وہ بیچاری تو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی کہ اس کی بہن پر کیا بیت رہی ہے
وہ ہر دو منٹ بعد اسے کوئی نہ کوئی چیز دکھانے آ رہی تھی اور آیت بیچاری اپنی بہن کا دل کیسے توڑتی بے دلی سے ہی سہی وہ اس کے پسند کی ہر چیز دیکھتی
آیت کھڑکی کے پردے بند کرنے لگی تھی
کہ اس کی نظر گلی پر پڑی جہاں مہراج کی گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کے وہ کھڑا تھا
یا خدایا یہ بندہ ساری دوپہر سے یہاں دپھوپ میں کھڑا ہے اس کا مطلب ہے یہ یہی کھڑا رہے گا
اس کو میں انکار بھی کرچکی ہوں پر نہ جانے کون سی مٹی سے بنا ہے یہ آدمی
یا اللہ اسے امید کی کونسی ڈور تھامائی ہے آپ نے جو یہاں سے جانے کا نام نہیں لے رہا
کھڑکی کے پردے بند کرنے سے پہلے مہرا ج نے ا سے دیکھ لیا تھا لیکن نہ تو اس نے کوئی اشارہ کیا نا ہی وہ مسکرایا اور ایک بار نظر اٹھانے کے بعد دوبارہ اسے دیکھا بھی نہیں
مہر آج تم یہ کیوں کر رہے ہو اس طرح بھوکے پیاسے میرے گھر کے باہر کھڑے رہنے سے تمہیں کیا مل جائے گا میں اپنا فیصلہ کبھی نہیں بدلوں گی یہ بات آخر تم سمجھتے کیوں نہیں ہو اپنے خیالوں میں مہراج سے محاطب تھی
ناجانے کیوں بے اختیار اس کی آنسو گرے
جب سیرت نے اسے باہر آنے کے لئے آواز دی آیت نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے کیونکہ سے اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی خوشی دکھانی تھی اپنے آپ کو خوش ظاہر کرنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ایک بجا رہا تھا جب اچانک فون سے اس کی آنکھ کھلی
اس نے بے اختیار اپنے بائیں جانب سوئی ہوئی سیرت کو دیکھا اور پھر جلدی سے فون اٹھا لیا تھا کہ سیرت کی نیند خراب نہ ہو
ایت کیسی ہو کیا فیصلہ کیا تم نے تو آرہی ہو نہ میرے پاس ارمان کی بےباک آواز سن کر اسے اپنی بے احتیاری پرغصہ آیا
آپ نے اس وقت فون کیوں کیا ہے آیت جلدی جلدی فون بند کرنا چاہتی تھی
تمہیں بتانے کے لئے کہ جمعہ کے دن ہمارا نکاح اور اس سے پہلے تم میرے پاس آؤ گی ورنہ تم جانتی ہو کہ پھر تمہارے ساتھ کیا ہوگا بھولو مت میں تمہاری ساری زندگی عذاب کر دوں گا
آیت مزید اس کی بے ہودا باتیں نہیں سن سکتی تھی اس لیے اس نے فون نہیں کاٹ دیا
فون بند کر کے ایک سائیڈ پر رکھ کے سونے کے لئے لیٹ گئی پھر اچانک سے کچھ یاد آیا دوڈکے کھڑکی کے پاس آئی کھڑکی کے پردے ہٹا کے دیکھا تو وہ
ا بھی تک وہیں کھڑا تھا
نجانے کیوں اسے اس پر ترس آیا صبح سے وہ بھوکا پیاسا ہی کھڑا تھا
شام سے تو آیت بھول چکی تھی اسے
آیت اپنے آپ کو قصوروار سمجھ رہی تھی لیکن وہ قصور وار نہیں تھی اس نے تو مہراج کو کوئی امید نہ دی تھی مہر آج تو اپنی مرضی سے یہاں کھڑا تھا
جانے کس احساس سے مہراج نے کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں آیت کی کھڑکی کھولے کھڑی تھی
آیت بے چین نظر آرہی تھی اور اس کی یہ بے چینی مہراج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئی تھی
تم میرا انتظار ہوآیت اور وہ مثال ہے نہ کہ انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے مجھے میرے پھل کا انتظار ہے
تمہاری بے چین بتا رہی ہے کہ بہت جلدی میرا انتظار ختم ہونے والا ہے
۔آیت کا دل چاہا اسے فون کرے اور کہے کہ وہ یہاں سے چلا جائے لیکن اسے فون کر کے اسے مزید کسی غلط فہمی میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی
کھڑے رہو یہی پر جب آگے سے کوئی رسپونس نہیں ملے گا تو خود ہی چلے جاو گےآیت نے یہی سوچتے ہوئے کھڑکی کا پردہ برابر کیا اور بند کردی
مجھ سے اپنے آپ کو چھپا کے اپنے چہرے کے تاثرات چھپا لوں گی لیکن اپنے دل کے لئے مہراج مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر چاہتا تھا کہ آیت کی شادی کا ہر فنکشن کیا جائے مہندی۔ مایوں۔ بارات۔ نکاح۔ ولیمہ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن کی کوئی بھی خواہش ادھوری رہے
اس لیے اس نے کافی شاندار انتظامات کروائے تھے
جس طریقے سے حاشر نے سارے انتظامات کروائے تھے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شادی اس طرح اچانک تہہ ہوئی ہے
آج شام اس کی مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا سارا دن بھی مصروف گزرا اور اب رات کا ایک بج رہا تھا ۔۔
جب منت نے آرام کا اعلان سنایا
تبھی اچانک بارش شروع ہوگئی سب اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے جب آیت اپنے کمرے میں آئی تو سیرت کہیں نہیں تھی آج اس کی سہیلی حنا آئی ہوئی تھی تو وہ اس کے ساتھ گیسٹ روم میں سو رہی تھی
کپڑے تبدیل کرکے آرام کی غرض سے بیڈ پر لیٹی تھی جب اس ارمان کی باتیں یاد آنے لگیں
میں تمیہں صرف ایک رات کی دلہن بناؤں گا دوسری صبح میں تمہیں طلاق دے دوں گا ۔۔۔۔تمہارے بھائی کی ساری زندگی پچھتاو ے میں گزرے گی کیسے نظریں ملائے گا وہ یہ سوچتے ہوئے اس نے اپنی بہن کی زندگی اپنے ہاتھ سے برباد کردی ۔۔۔۔کیا کبھی آپنے آپ کو معاف کر پائے گا وہ ۔نہیں ساری زندگی اپنے آپ سے نفرت کرے گا
نیند کا آنا مشکل ہو چکا تھا وہ آٹھ کر بیٹھ گئی بہت کوشش کے بعد بھی نیند نہ آئی تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی
کھڑکی کے باہر کا نظارہ ناقابل یقین تھا
مہراج اب ابھی تک یہی گاڑی کے باہر کھڑا تھا
یااللہ یہ گھر نہیں گیا اس نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں مہراج گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھ بند کیےکھڑاتھا
آیت کے لئے اس بات کا یقین کرنا ناممکن تھا کہ یہ شخص صرف اس کے لیے دھوپ اور بارش میں بھوکے پیاسے یہاں کھڑا ہے
اس کی حالت دیکھ کر آیت کورونا آنے لگا
تو وہاہی زمین پہ بیٹھ کے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی
آج اس کے آنسو نا تو اپنے بھائی کی محبت میں تھے اور نہ ہی ارمان کی نفرت کے تھے
آج جو آنسواس کی آنکھوں سے نکل رہے تھے
وہ صرف اور صرف مہراج کے نام کے تھے۔
اس کے فون پر انجان نمبر سے کال آرہی تھی لیکن اس وقت وہ کسی سے بھی بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں تھا یہاں تک کہ اس نے سالار سے بات بھی نہ تھی
کیونکہ اس معاملے میں سالار کے مشورے کچھ اور ہی تھے وہ مہرا ج سے کہہ رہا تھا کہ وہ آیت کو اٹھاکر اس سے زبردستی نکاح کرلے پھر آہستہ آہستہ آیت اس نکاح کو قبول کر لے گی
لیکن مہراج شاہ محبت میں زبردستی کا قائل نہیں تھا
اس لیے اب وہ سالار کا فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا
رات کے 3 بج رہے تھے بارش زوروشور سے ہو رہی تھی اور مہراج کا فون بار بار بار رہا تھا نا چاہتے ہوئے بھی اس نے فون اٹھا لیا
سالار میں تجھے ایک بار سمجھا چکا ہوں مجھے بار بار فون مت کر تو کیوں ڈسٹرب کر رہا ہے وہ فون اٹھاتے ہی بولا
ڈسٹرب آپ کر رہے ہیں مجھے کیوں نہیں اپنے گھر چلے جاتے کیوں میرے گھر کے باہر اس طرح سے کھڑے ہیں مجھے بد نام کرنا چاہتے ہیں آیت کی آواز سن کر مہراج کو حیرت ہوئی
اگر میرا ارادہ تمہیں بد نام کرنے کا ہوتا آیت بی بی توتمہارے گھر کے پیچھے نہیں بلکہ سامنے کھڑا ہوتا مہراج بنا لحاظ کیے بولا اسے آیت سے اس قسم کے رویہ کی امید نہ تھی
دیکھیں مسٹر مہراج شاہ مجھے میری نظر میں گرانا بند کریں میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں کہ میں ارمان کے ساتھ بہت خوش ہوں آپ مجھے گلٹ فیل کروانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے نہ تو مجھے آپ سے کوئی محبت ہے اور نہ ہی کبھی بھی ہو سکتی ہے اس لیے یہ جھوٹی محبت کا ڈرامہ بند کرے اور چلے جائیں مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا
اگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو اس کا اثر لینا چھوڑ دو کیونکہ میں یہاں سے کب تک ہی نہیں جاؤں گا جب تک مجھے یقین ہو جاتا کہ تم ارمان سے شادی کرلو گی
ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی اگر آپ کو نہیں جانا تو نہ جا ہیں یہ کہہ کرآیت نے فون کاٹ دیا ایک بار پھر آیت کی آنکھوں میں آنسو بھر گے مہراج اس طرح سے کیوں کر رہا ہے کیوں نہیں چلا جاتا یہ یہاں سے اسے کیوں سمجھ نہیں آرہا کہ ارمان سے شادی کرنا میری مجبوری ہے
وہ نہیں جانتی تھی کہ مہراج کی تکلیف دیکھ کر اسے تکلیف کیوں ہو رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آیت کی مہندی دھوم دھام سے کی گئی آیت کے ہاتھوں میں ان کے نام کی مہندی لگ چکی تھی
اس کے خوبصورت ہاتھ مکمل طور پر مہندی سے ڈھک چکے تھے
ساون کے موسم میں سارا دن کھڑی دھوپ نکلی رہتی ارو ساری رات بارشیں ہوتی اور گرمی نے الگ کہر مچا رکھا تھا
اور اس حالت میں اےسی میں رہنے والا آدمی اس کے گھر کے پیچھے کھڑا تھا
وہ جانتی تھی کہ کل کے بعد وہ یہاں پر نظر نہیں آئے گا وہ اس کے نکاح کا انتظار کر رہا تھا جب یہ ارمان ساتھ قبول کر لے گی وہ ہمیشہ کے لئے اسے دور چلا جائے گا
آیت یہی تو چاہتی تھی کہ مہرا ج اس سے دور چلا جائے تو پھر سے اتنا برا کیوں لگ رہا تھا کیوں وہ اپنے دل کو بار بار سمجھا رہی تھی کہ مہراج کے ہونے یا نہ ہونے سے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن وہ اپنے آپ کو یہ سمجھانے میں نہ کامیاب تھی کیونکہ مہندی کی دلہن بنے نہ جانے کتنی بار کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کمرے میں آ کر کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں مہرا ج ابھی تک کھڑا تھا
اب ا سے مہرا ج پےغصہ آرہا تھا اور نہ ہی ترس کیونکہ اب اسے اپنے آپ پہ ترس آ رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کیا کر رہی ہے
کیوں اپنی زندگی کی ڈور وہ اتنی محبت کرنے والے انسان کو چھوڑ کر ایک ناقدرے کے ہاتھ میں تھما رہی ہے ہے
کیا اس شادی کے بعد اس کا بھائی کبھی فخر سے سر اٹھا پائے گا کیونکہ ہزار بار سوچنے کے باوجود بھی وہ ارمان کی بتائی ہوئی جگہ پر نہ جا پائی تھی
اب ارمان نے شادی کے بعد بھی اسے طلاق ہی دینی تھی یہ تو وہ سمجھ چکی تھی کہ ارمان وہ ویڈیو کبھی بھی اس کے بھائی کے سامنے نہیں لائے گا کیونکہ ایسا کرنے سے وہ خود پروبلم میں پھنس سکتا ہے
اور اگر آیت نے خود حاشر کو یہ سب کچھ بتا دیا تو ہو سکتا ہے وہ منت کو ہی چھوڑ دے نہیں وہ اپنی بھابھی کی زندگی کیسے تباہ ہونے دے سکتی ہے
بہت سوچنے کے بعد آخر کار وہ ایک حل پر پہنچ چکی تھی.
