Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq (Last Episode )
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq (Last Episode )
سارے راستے سیرت حاموش رہی کبھی سالار کو دیکھتی جو خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا اور کبھی اپنی دھڑکنوں کی سپیڈ کو نوٹ کرتی جو کسی سے ریس لگائیں بھاگے جارہی تھی ۔
پھر گھر آ گیا کچھ دیر سیرت ایسے ہی بے مقصد گاڑی میں بیٹھی اپنی سوچوں میں گم رہی
جانم آج آپ کو بچانے کوئی نہیں آئے گا اسی لیے بے کار کا انتظار کرنا چھوڑیں اور اندر چلیں سالار نجانے کب سے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اس کے چہرے کے ایکسپریشنز نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔
می۔ میں ۔کس۔ کا انتظار کروں گی۔۔؟ سیرت کپکپاتی آواز میں بولی اس کے ڈر پر سالارنے بہ شکل اپنی ہنسی کو چھپا یا۔
ہاں تو پھر چلو سالار نے راستہ دیتے ہوئے کہا ۔
سیرت فوراً گاڑی سے اتری اور اندر چل دی ا
اس نے نوٹ کیا کہ گھر میں کوئی بھی نہیں تھا واپس آنے سے پہلے ہی سالار نے سب نوکروں کوچھٹی دے دی تھی سارا بیگم بھی گھر پر نہیں تھی ۔
یااللہ میں سالار کے ساتھ بالکل کیلۓ ہوںں
کیوں پہنی میں نے ریڈ ڈریس اپنے آپ کو کوس کرسیڑھیاں چڑھنے لگی
جب اچانک سالار نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا جانم بہت سستی سے چل رہی ہو
چلو میں تمہاری مدد کر دیتا ہوں سالاراسے اُٹھائے سیڑھیاں چڑھنے لگا
سالار نیچے اتاریں مجھے میں خود چل سکتی ہوں سیرت گھبرا کر بولی
جان میں جانتا ہوں تم چل سکتی ہو لیکن کمرے تک پہنچتے پہنچتے تم نے رات ہی برباد کر دینی ہے اور میں اب ایسا رسک نہیں لے سکتا
اسے کمرے میں لاکر پیر کی مدد سے دروازہ بند کردیا اور دروازے کے ساتھ ساتھ سیرت کا دل بھی بند ہونے لگا ۔
احتیاط سے اسے بیڈ پر بٹھایا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا سیرت نے اٹھ کر جانے کی کوشش کی
اہ ہوں۔ اب یہ غلطی مت کرنا جان ورنہ تمہیں ہی شکایت ہوگی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک دی اور اس پر جھکنے لگا
مجھے ڈر لگ رہا ہے سالار سیرت نے گھبرا کر کہا
تمہیں لگنا بھی چاہیے جانم کیونکہ آج حساب کا دن ہے آج تک تم نے مجھے جتنا بھی ستایا میری صبر کا امتحان لیا آج تمہیں ہر بات کا حساب دینا ہوگا سالار نے کھینچ کر اسے اپنی باہوں میں لے لیا
اور اس پر جھکتا چلا گیا اور مقابل کی حالت دیکھنے کی زحمت اس نے نہیں کیں کیونکہ آج اس کا ترس کھانے کا بالکل کوئی ارادہ نہ تھا ۔
وہ اس کی گردن پر جھک اپنے شدتیں لوٹ آنے لگا
سالا۔ ۔ر۔ ۔سیرت نے کچھ بولنے کی کوشش کی
سشش۔ ۔آج نہیں۔ اس کے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا
اور اس کی سانسوں کی خوشبو اپنے لبوں سے چنے لگا
اور پھر اس پر جھک گیا سیرت نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر مزاحمت کرنے کی کوشش کی
اور یہ اس کی آخری مزاحمت ثابت ھوئی سالار نے اس کے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں قید کر لیا وہ سمجھ چکی تھی کہ بچنے کا کوئی راستہ نہیں
سالار کو آج خود اس نے بلایا تھا وہ اپنی مرضی سے اس کے قریب آئی تھی تو اب پھر وہ اسے کیوں روکتی
سالار جانتا تھا کہ یہ مزاحمتیں صرف اس کا ڈر ہے
اب وہ اس کا یہ ڈر دھیرے دھیرے اپنے لبوں سے چن رہا تھا
سیرت نے اپنے آپ کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑدیا
جس پر سالار سرشاری سے مسکرا دیا۔آج وہ جیت چکا تھا اس کی محبت اس کی پناہوں میں تھی
آئی لو یو سیرت آئی لو یو سو مچ تم میری جان ہو مجھ سے دور کبھی مت جانا اس کے بالوں میں منہ چھپاتے سالاراسے اپنی محبت کا اظہار کرنے لگا
آج کی رات سالار اس پر ٹوٹ کر برسا اور پھر یہ برسات ساری رات ہوتی رہی
………………………..
سالار ساری رات نہیں سو ا اور نہ ہی سیرت کو سونے دیا پھر صبح کے قریب سیرت تو سو گئی لیکن سالار جاگا رہا اور سیرت کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا کیوںكے اس کے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ جو دیکھنے تھے
سالار جوگنگ کرکے واپس آیا تو سیرت ابھی بھی سو رہی تھی اسے سوئے ہوئے دیکھ کر فریش ہونے چلا گیا
ناشتہ نہیں کیا کیونکہسیرت کے ساتھ کرنے کا ارادہ تھا
مگر سیرت اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اب جگانا مجبوری تھی وہ مسکرا کر اس کے قریب آیا
اور اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دئے سیرت کی آنکھ کھل گئی
واہ جانم تمہیں جگانے کا آسان طریقہ مل گیا سالار نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ سیرت نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ چادر میں چھپا لیا
سیرت
سالار میں زور سے پکار کر چادر اس کے چہرے سے کھینچی ابھی تو سالار نے اپنی محبت کے رنگ تک اس کے چہرے پر نہیں دیکھے تھے اور اس سے چھپا رہی تھی
سالار پلیز
سیرت نے منہ چھپا لیا
جانم اپنی اداؤں کو کنٹرول کرو
رات تمہاری اداوں نے مجھے پاگل کیا تھا
سالار پلیز
میں نے کچھ نہیں کیا سب کچھ آپ نے کیا تھا سیرت چادر کے اندر سے بولی
تو یار اب تم کرلو کس نے روکا ہے سالار پھر چادر کھینچنے لگا
پھرفون بجنے لگا
شکر ہے سیرت بے ساختہ چادر کے اندر سے بولی
جس پر سالار کھل کر ہنس دیا سالار فون رکھ کر واپس آیا تو سیرت واش روم میں تھی وہ باہر اس کا انتظار کرنے لگا جب آدھے گھنٹے بعد بھی سیرت باہر نہ آئیں تو سالار پریشان ہوگیا
سیرت دروازہ کھولو
نہیں کھولوں گی آپ پھر سے تنگ کریں گے سیرت نے روٹھے انداز میں کہا
اپنے ہاتھ میں واش روم کی چابی پکڑے مسکراہا
نہیں کروں گا باہر آو
نہیں پہلے آپ روم سے باہر جائیں سیرت نے کہا تو سالار مسکراتے ہوئے چابی واپس دراز میں رکھ دی
اچھا ٹھیک ہے میں جارہا ہوں سالار نے کہا اور دروازے کو زور سے بند کیا اور چلا گیا
سیرت نے ذرا سا منہ باہر نکال کر دیکھا تو سالار ہی نہیں تھا
اسنے آج بھی ریڈ کلر کا ہی ڈریس پہنا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ باہر نہیں آ رہی تھی
سالار پھر رات والے روپ میں نہ آجائے وہ ا بھی آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی
جبا سالار نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا سیرت اس حملے پر اچانک بوکھلا گئی آپ باہر نہیں گئے تھے آپ نے میرے ساتھ چیٹنگ کی ہے سیرت نے روٹھے ہوئے انداز میں کہا
جانم تم نے چیٹنگ کی ہے پھر سے ریڈ کلر پہن کر میرے جذبات کے ساتھ
وہ اس پر جھكا
سالار ہم حاشر بھائی کے گھر جانے والے تھے نا سیرت نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کی
نہیں جانم تمہارے اس روپ پر سالار شاہ کا حق ہے اسے باہوں میں بھرے اس پر پھر سے جھکتا چلا گیا اور فرار کی ساری راہیں بند کردیں
٦ ماہ بعد
کیا کر رہی ہو منت تمہیں کتنی دفعہ منع کیا لیکن تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی
وہ چھت سے کپڑے اتار کے نیچے آ رہی تھی
حاشر دروازے سے اندر آیا
حاشر کی غیرموجودگی میں وہ اپنے سارے کام ختم کر رہی تھی کیونکہ اسے ملازمہ کے ہاتھ کے کام پسند نہیں تھے
حاشر میں بس کپڑے سکھانے گئی تھی اس میں ڈانٹنے والی کونسی بات ہے منت نے بسور کر کہا
منت صرورت کیا ہے یہ سب کچھ کرنے کی
رضیہ کو تمہارے لئے ہی تو رکھا ہوا ہے
حاشر میں سارا دن بیٹھ تو نہیں سکتی نا منت کو بھی غصہ آنے لگا
منت یہ سب کچھ میں نہیں جانتا لیکن اگر اس کی وجہ سے ہمارے بچے یا تم پر کوئی بھی برا اثر پڑا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
حاشر نے غصے سے کہا تو منت حاموش ہو کر ایک طرف بیٹھ گئی لیکن وہ اس سے روٹھ چکی تھی
اب اسے منانے کے لیے ایک سے دو گھنٹے تو صرف کرنے ہی تھے
منت میری جان مجھے بس تمہاری فکر ہے حاشرنے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے میری فکر کرنے کی
ایک بار میرا بےبی آجائے پھر تو میں آپ سے بات بھی نہیں کروں گی
منت نے اپنے ارادے بتائے
جس پر حاشر مسکرا دیا
ہاں بابا ٹھیک ہے لیکن اس وقت تمہیں مجھ سے بات کرنی ہوگی ابھی تو بےبی نہیں آیا ۔
تو ابھی تم مجھ سے راضی ہو جاؤ
جب بےبی آئے گا تب ناراض رہنا
حاشر نے آئیڈیا دیا
ڈاکٹر نے منت کا بہت خیال رکھنے کے لیے کہا تھا
ان دنوں منت بہت چڑ چری ہو گئی تھی ہر بات پہ لڑنے لگتی
لیکن حاشر کے خیال رکھنے کی وجہ سے وہ اور اس کا بےبی بہت ہلتھی تھے۔
حاشر کا بس چلتا تو وہ اسے زمین پیر بھی نہ رکھنے دیتا ۔
💕۔
پہلے پہلے سالار صرف اور صرف مہراج کا ساتھ دیتا تھا اور ہمیشہ آیت کو چراتا تھا ۔
لیکن آپ مہراج اکیلا ہو چکا تھا
ہاں لیکن حاشر کی موجودگی میں وہ ہمیشہ مہراج کا ساتھ دیتا ۔
سالار نے کبھی حاشرکو یہ محسوس نہ ہونے دیا
کہ وہ آیت پرحاشرسے زیادہ حق رکھتا ہے
یا وہ اس کا سگا بھائی ہے
مہراج اور آیت کی نوک جوک میں
حاشرآیت کا ساتھ دیتا تو سالار مہراج کا سایہ بن جاتا
کیونکہ سالار جانتا تھا کہ وہ آیت کی زندگی میں کبھی حاشر کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی لینا چاہتا تھا ۔
جبکہ آیت2۔۔۔2 بھائیوں کو پا کر بہت خوش تھیی
💕
آیت سعد میں میرے موبائل پر پانی گرا کر خراب کر دیا ہے
آیت سعد کو پینسل کس نے دی لائن مار مار کر پوری دیوار خراب کردی ہے ۔
آیت سعد میرےاوپر ناچ رہا ہے یار مجھے تھوڑی دیر سونے دو مہراج نے مینت کرتے ہوئے کہا ۔
وہ بیچارہ ساری رات کام کرتا رہا اب اسے نیند آرہی تھی جو سعد پوری کرنے نہیں دے رہا تھا ۔
سعد کتنا کیوٹ تھا پہلے جب سے اس کی پہلی سالگرہ گزری تھی وہ تو بالکل بدل کر رہ گیا
اس دوران وہ ایک رات سالار کے پاس رکھ کے آیا تھا ۔
اسے لگ رہا تھا سیرت خالہ پلس پھپھو اور مہراج چچا پلس ماموں نے اس سے ٹرینڈ کرکے بھیجا ہے ۔
کہ بیٹا گھر جاکے ماما بابا کو خوب تنگ کرنا ۔
اور اب وہ اچھے بھانجے اور بھتیجے ہونے کا بھرپور ثبوت دے رہا ہے ۔
لیکن اس کی انہیں ننھی ننھی شرارتوں کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی میں رونق تھی ۔
مہراج آیت کا بہت خیال رکھتا تھا
آیت اب بالکل ٹھیک ہو چکی تھی ۔
اور اس ایکسیڈنٹ کے بعد مہرآج بہت ڈر گیا تھا وہ اسے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خود سے دور نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی اکیلے کہیں باہر جانے دیتا اس کا سایہ بنا ہار وقت اس کے آس پاس رہتا ۔
آیت بھی ایکسیڈنٹ کے بعد مہراج کے بہت قریب آگئی ۔
اور اب وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے نہیں تھی
ساری رات مہراج کی باہوں میں سکون سے سوتی تھی
شاہد اسے اس کی تہجد کی نماز وں کا صلہ ملا تھا ۔
وہ اپنے رب کا جتنا شکریہ ادا کرتے کم تھا ۔
💕
۔۔۔۔
عبدالرافع عبدالمناف بالکل حنا پر تھے
جس طرح سے وہ زاویار کو تنگ کرتی اسی طرح سے وہ دونوں بھی اپنا فرض خوب نبھا رہے تھے ۔
اور زاویار میں اتنی ہمت نہ تھی کہ حنا کے لاڈلوں کو کچھ کہے ۔
اس گھر میں صرف حنا کی چلتی تھی ۔
اور حنا کے بعد حنا کے لاڈلوں کی۔
عبدالمناف عبدالرافع ابھی اپنے پیروں پر نہیں چل سکتے تھے
لیکن اپنے گھٹنوں کی مدد سے زمین پر خوب رنگیتے ۔
اور ہر اس جگہ پر پہنچ جاتے جہاں زاویار ہوتا
اور پھر اسے خوب تنگ کرتے ۔
لیکن ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کی وجہ سے حنا اور زاویار کی زندگی خوبصورت ہو چکی تھی
💕
ہماری غزل ہے تصور تمہارا
تمہارے بنا اپنے جی نا گوارہ
تمہیں یوں ہی چاہیں گے
جب تک ہے دم
اس کی آواز بے شک بہت خوبصورت تھی وہ اس کے بالکل قریب کھڑا تھا
سیرت نے اشارے سے اسے اپنے قریب بلایا
سالار اس کے بالکل قریب آیا اور انچ بھر کا فاصلہ بھی ختم کردیا
وہ اس پہ جھکتا اس نے اسے دھکا مار کے خود سے دور کیا اور دور بھاگی
اس سے پہلے کہ وہ دور جاتی اس کا بازو پکڑا اور غصے سے اپنے قریب کر لیا
اس کے قریب بہت قریب سیرت کی کھلکھلا کر ہنسی
اور اپنا ہاتھ چھڑا کر پھر سے بھاگی
دور کیوں جا رہی ہو میری جان میرے پاس آؤ سالار نے بلاتے ہوئے کہا
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اس کے قریب آیا اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھا
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں نہ سالار وہ اسکے دل پر ہاتھ رکھے پوچھ رہی تھی
ہاں بہت بہت زیادہ میں تم سے محبت نہیں میں تم سے عشق کرنے لگا ہوں بے حد بے شمار بے پنا ہ اسے اپنی باہوں میں سمیٹا
تم میرے لیے اس دنیا میں آئی ہو تم صرف میری ہو
وہ اس کے بالکل قریب اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی
سالار نے اس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا
وہ با آسانی اس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا
تم کرتی ہو مجھ سے محبت اس نے پھر پوچھا
بولو نہ چپ کیوں ہو اسے حاموش پاکر سے پوچھا
سیرت کے گال پر ڈمپل ابھرے
اور شرما کر ہاں میں سر ہلایا
کتنا۔۔؟
سالار نے اس کے کان میں سرگوشی کی
ساگر کی باہوں میں میں موجیں ہیں جتنی ۔۔۔۔۔
ہم کو بھی تم سے محبت ہے اتنی ۔۔۔
کہ یہ بے قراری اب نہ کبھی ہو گی کم ۔۔۔
بہت پیار کرتے ہیں تم کو سنم
سیرت مسکراتے ہوئے اس کے گلے سے لگی
سالار نے اس کے گرد اپنی باہوں کا گھیرا تنگ کردیا ۔
یہ وہ خواب تھا جو اس نے سیرت کے حوالے سے پہلی بار دیکھا تھا
لیکن یہ خواب نہیں تھا یہ حقیقت تھی ۔
کی سیرت اس کے قریب تھی جس سے وہ با آسانی دیکھ سکتا تھا
آج اس کے دل میں کوئی ڈرنا تھا کہ اس کی آنکھ کھلے گی تو اس کی سیرت سے دور ہو جائے گی
ابو اپنی سیرت کو خود سے کبھی دور نہیں جانے دے گا
بارش زور سے گرجی تھی
سیرت نے اپنا آپ سالار کی پناہوں میں جو آیا ۔
جہاں کوئی ڈر کوئی خوف نہ تھا
صرف سکون ہی سکون تھا
وہ سالار کی باہوں میں بارش کی چھوٹی چھوٹی بھوندیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی جو ہوا سے آ تھی ۔
اس خوبصورت موسم میں وہ ایک دوسرے میں کوئی اپنے آنے والی زندگی کے خوبصورت لمحات کے بارے میں سوچ رہے تھے
💕
