Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 17
آیت نے جس دن سے کالج اسٹارٹ کیا تھا کالج کے کچھ آوارہ لڑکے اسے تنگ کرتے تھے آوارہ لڑکوں میں مہراج شاہ اور سالار شاہ سرفرست تھے اور باقی لڑکے انہی کے کالج کے لاسٹ ایئر کے اسٹوڈنٹس تھے
یہ دونوں دو سال پہلے اپنی پرھائی مکمل کرچکے تھے لیکن پھر بھی یہ کالج ان کے باپ کی خیرات سے چلتا تھا اس لیے جب ان کا دل چاہتا یہ منہ اٹھا کر یہاں چلے آتے
ایت کے کالج کے پہلے دن یہ لوگ سیڑھیوں پر کھڑے تھے اور نئے اسٹوڈنٹ کو آتے دیکھ کر ان کی شرارت سے آنکھیں چمک اٹھی ان لوگوں نے آیت اور اسکی دوست کو یہی سیڑھیوں پر کھڑا کر دیا
اور سینئر ہونے کا روعب جمانے لگے
ایک طرف آنکی کالج کی پہلی کلاس مس ہو رہی تھی اور دوسری طرف یہ دونوں انہیں تنگ کیے جا رہے تھے سالار نے اس کی فرینڈ نازیہ سے کہا کہ وہ اس کے لئے نیچے کینٹین سے برگر لاکے دے کیونکہ اسے بہت بھوک لگی ہے جبکہ آیت کو گانا گانے کا بول کر مہراج ایک طرف ہوگیا آیت کو گانا گانا نہیں آتا تھا اسی لیے کنفیوز ہو گئی
اس کی جگہ سیرت ہوتی تو وہ گانا بھی گاتی اور سٹیپ بائی سٹیپ ڈانس بھی کرتی لیکن یہ آیت تھی جو ان کاموں سے کوسوں دور تھی اسے تو صرف پڑھنا آتا تھا وہ بہت محنتی تھی اسے کسی بھی حال میں ڈاکٹر بننا تھا کیونکہ یہ اس کے بھائی کی خواہش تھی اسے جیسا تیسا گانا آتا تھا اس نے سنایا جس پر سالار مہراج اور ان کے ساتھی ۔ہنس ہنس کے پاگل ہو رہے تھے
آیت کو ان لوگوں کی ہنسی پر رونا آ رہا تھا روتے اور گاتے ہوئے وہ باقاعدہ کانپ رہی تھی جس پر مہرا ج کی ہنسی کو بریک لگ گئی وہ جو آنکھیں بند کئے رونے اور گانے میں مصروف تھی مہراج اسے دیکھ رہا تھا
پھر آیت باقاعدہ رونے لگی تو مہراج نے سب کو چپ ہو جانے کے لیے کہہ دیا
سالار نے دونوں ہاتھوں اوپر کیے جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا
کچھ نہیں تم دونوں جاؤ یہاں سے اس نے ان دونوں کو کہا جس پر آیت اور نازیہ فوراً اپنی کلاس کی طرف چل دی
کیا ہوگیا جگر کتنا مزا آ رہا تھا اورتو نے ان دونوں کو بیج دیا سالاد نے ان کے جانے کے بعد مہراج کی کلاس لی
چھوڑ نہ یار کتنی معصوم لڑکی تھی اور بیچاری روئے جارہی تھی اور ہم بے کار میں انہیں تنگ کررہے تھے یہ الفاظ مہراج کے منہ سے پہلی دفعہ نکلے تھے
جس پر سالار کا منہ پوری طرح کھل چکا تھا
یہ تُو کہہ رہا ہے مہراج تُو ۔جو خود بہانے ڈھونڈتا ہے نئے اسٹوڈنٹس کو تنگ کرنے کا
ہاں میرے بھائی میں کہہ رہا ہوں اور یہ بھی کہہ رہا ہوں کہ ہر سٹوڈنٹ کو تنگ نہیں کرنا چاہئے کچھ بہت معصوم ہوتے ہیں اس نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
او۔ معصوم سٹوڈنٹس ۔اس نے معصوم کو خاصہ لمبا کھینچا ویسے مجھے نہیں لگتا کہ اس سے زیادہ معصوم اسٹوڈنٹ کبھی ہمارے کالج میں آئی ہے سالار نے جانچتے ہوئے کہا
ہاں تو میرے یار کچھ سٹوڈنٹس زیادہ بھی تو معصوم ہو سکتے ہیں نا وہ سالار کے کندھے پر ہاتھ رکھ سیرھیوں سے نیچے اترنے لگا
سالار کو یہ بات کچھ عجیب لگی کیونکہ اس سے پہلے مہرا ج نے کبھی کسی لڑکی کے بارے میں اس طرح سے کمنٹ نہیں کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت نے اس بارے میں گھر میں کسی کو نہیں بتایا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے گھر والے ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہوں
اس کو بس اپنی پڑھائی پر دھیان دینا تھا اس لیے وہ زیادہ باتوں پر کوئی خاص غور بھی نہ کرتی
پھر آیت کو احساس ہوا کہ اس بات کے بارے میں اس نے گھر میں نہ بتا کر بہت بڑی غلطی تھی
کیونکہ اب وہی لڑکے اسے روز تنگ کرنے لگے تھے تنگ آکر اس نے پرنسپل سے شکایت کردی
لیکن پرنسپل نے کوئی رسپونس نہیں دیا کیونکہ یہ ادارہ ان ہی کی فونٹز پہ چل رہا تھا آیت کو اس بات پر بہت غصہ آیا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
اس نے کہیں بار سوچا کہ یہ بات اسے حاشر کو بتا دینی چاہیے
لیکن پھر اسے ارمان کا خیال آتا جواآئے دن شادی کے لیے جلدی مچائے جا رہا تھا
اس سے ڈر تھا کہ کہیں ان سب باتوں کی وجہ سے اس کی شادی کی جلدی نہ ہوجا ئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کو لگتا تھا کہ مہرا ج آیت کو تنگ کرکے صرف اپنا ٹائم پاس کرتا ہے لیکن اس کی یہ غلط فہمی تب دور ہو گئی
جب مہراج سے گھرمیں پوچھا گیا کہ وہ شادی کے بارے میں کیا سوچتا ہے
مہراج کا جواب یہ تھا کہ وہ اپنے لئے لڑکی پسند کر چکا ہے لیکن پہلے وہ خود اس سے بات کرے گا پھر اس کے گھر رشتہ بھیجے گا
سالار سوچ میں پڑگیا کہ یہ لڑکی ہے کون جسے سالار بھی نہیں جانتا
جب سالار نے مہراج سے پوچھا تو اس نے آیت کا نام لیا کہ وہ آیت سے شادی کرنا چاہتا ہے
تب سالار کو سمجھ میں آیا جو مہراج منتں کروانے کے بعد کالج کا ایک چکر لگاتا تھا اب روز وہاں کیوں جاتا ہے
سالار کو مہراج کی پسند اچھی لگی لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ آیت مہراج سے بہت تنگ آ چکی ہے اور وہ ایک بار پرنسپل سے اس بارے میں شکایت بھی کر چکی ہے جس کا مہراج پر کوئی اثر نہیں ہوا
خیر جو بھی تھا آیت اس کی محبت تھی وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور سالار اس بات کو لے کر خوش تھا کہ اس کے دوست نے اپنے لیے ایک لڑکی ڈھونڈ لی ہے اور اپنی زندگی میں آئی پہلی لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت کالج سے واپس لوٹ رہی تھی کہ راستے میں اچانک اس کے پاس ارمان کی گاڑی آ کررُکی
ارے آیت کیسی ہو تم اور یہاں پر کیا کر رہی ہو اس نے راستے میں دیکھا تو پوچھنے لگا
وہ میں کالج گی تھی آج ہماری بس نہیں آئی تو سوچ گھر قریب ہی ہے تم میں ایسی ہی چلے جاؤں
آیت نے بتایا
اچھا ہوا اسی بہانے تمہاری مجھ سے ملاقات ہوگی آؤ میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں ارمان نے آفر کی
نہیں میں چلی جاؤں گی آپ میری وجہ سے پریشان نہ ہوں
ایت نے معذرت کرنا چاہی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا بھائی اس معاملے میں بہت سخت ہے
کیوں نہیں آیت ہماری شادی ہونے والی ہے تم منگیتر ہو میری اتنا تو کرہی سکتا ہوں میں تمہارے لیے لڑکے تو اپنی منگیتروں کو لے لے کر گھومتے ہیں اور دیکھو تمہاری تو شکل بھی قسمت سے دیکھنا نصیب ہوتی ہے
ارمان نے بے باک انداز میں کہا
اب اس سے آگے آیت کیا بولتی مجبور ہوکر اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی
ایک کپ کافی ہوجائے ارمان نے کہا
نہیں مجھے گھر جانا ہے آیت نے انکار کرنے کی کوشش کی
کیا ہوگیا ہے آیت کس زمانے کی لڑکی ہو تم یار منگیتر ہوں تمہارا شادی ہونے والی ہے ہماری اس طرح سے مجھ سے شرمانہ بند کرو مجھے شرمانے اور گھبرانے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں ہیں ارمان نے صاف صاف بات کی
ارمان پلیز آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں میں نے گھر سے نہیں پوچھا اس معاملے میں
ایت نے وجہ بتائی
ہو تو ذرا سی بات ہے میں ابھی منت کو فون کر کے پوچھ لیتا ہوں اس نے جلدی سے اپنا فون نکالا اور اس کے گھر میں فون کرنے لگا
آیت اسے منع بھی نہ کر سکی
نہیں ارمان بھائی آپ آیت کو سیدھا گھر چھوڑیں منت نے صاف صاف کہا
منت کیا ہوگیا ہے تمہیں میں تھوڑی دیر میں سے واپس گھر چھوڑ دوں گا نا ارمان نے منت کو منانے کی کوشش کی
نہیں ارمان بھائی اسے گھر چھوڑیں پلیز اس سے پہلے کہ حاشر آجائیں پلیز آپ اسے گھر چھوڑ دیں
حاشر کے ساتھ رہ رہ کر تم بھی اولڈ فیشن ہوگئی ہو میت تھوڑی دیرمیں” میں آیت کو کھا نہیں جاؤں گا صرف ایک کافی کا سوال ہے
اسکی اولڈ فیشن والی بات پر منت سوچ کر رہ گئی کہ اپنی بہن کو اس نے کبھی گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا اور آج آیت کو اپنے ساتھ باہر لے جانے پر اسے اولڈ فیشن کہہ رہا تھا
لیکن پھر بھی منت اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹی اور آیت کو گھربلا کر ہی دم لیا
جس پر ایت نے گھر آتے ہی اسے گلے لگ کر شکریہ ادا کیا
آیت کافی گھبرائی ہوئی تھی اس طرح سے پہلے وہ کسی کے ساتھ باہر نہیں گئی تھی جس کو منت اچھے سے سمجھ سکتی تھی
ایک بات کان کھول کر سن لو آیت آج کے بعد تم کسی غیر مرد کی گاڑی میں نہیں بیٹھو گی وہ تمہارا منگیتر ضرور ہے شوہر نہیں اور مرد سہی مینوں میں عورت کی عزت تب کرتا ہے جب وہ اس کی اپنی عزت ہو
آیت نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ارمان کی سگی بہن ہوکر اپنے بھائی کے لیے اس طرح سے بات کرے گی
بے شک وہ بہن سے زیادہ اچھی بھابھی تھی جو اپنی نند کو صحیح اورغلط کی پہچان سمجھا رہی تھی
آیت ابھی ابھی کالج گیٹ سے اندر ہوئی تھی کہ اس نے دیکھا کہ زمین پر پھولوں کی پتیاں بچھائی گئی
ہیں ضرور آج پھر کوئی مجنوں اپنی لیلی کو اظہار عشق کرنے جارہا تھا
خیر اسے کیا اسے تو اپنی پرھائی سے مطلب تھا بہت ہی خوبصورتی سے پتیاں راستے کی صورت میں زمین پر بچھائی گئی تھی اس نے سوچا کہ یہ پتیوں کے سائیڈ سے گزرے تاکہ کسی کا پلان خراب نہ ہو
اس لیے وہ اور نازیہ ایک سائیڈ سے گزر رہی تھی جہاں پتیوں بھرا یہ خوبصورت راستہ ختم ہوا وہاں ایک بہت ہی خوبصورت پوسٹر لگا ہوا تھا
جس سے بڑے بڑے لفظوں میں” آئی لو یو “لکھا ہوا تھا آیت کو حیرانی ہوئی کیونکہ ان کے ادارے میں یہ سب کچھ الائیڈ نہیں تھا
پھر اس نے سوچا ضرور کوئی امیرزادہ ہوگا کیونکہ ایسی حرکتیں کوئی امیر زادہ ہی اس کالج میں کرسکتا ہے
وہ جیسے ہی سائیڈ سے ہوکر گزرنے لگی اوپر سے سٹوڈنٹس نے اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی
تبھی مہراج شاہ ہاتھ میں انگوٹھی لیے اس کے سامنے آکر بیٹھا
آیت میں جانتا ہوں یہ سب کچھ تمہیں بہت عجیب لگ رہا ہوگا لیکن وہ کہتے ہیں نہ محبت میں سب جائز ہے تو اسی رول کو فالو کرتے ہوئے میں تم سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں میں مہراج شاہ آیت قریشی کو اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے شادی کے لئے پرپوز کرتا ہوں یہ کہتے ہوئے مہراج نے آیت کا ہاتھ تھام جسے آیت نے فورا کھینچ لیا
مہراج اٹھ کر کھڑا ہوگیا آیت۔۔۔
وہ کچھ کہتا آیت نے زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہ سب کہنے کی میرا روز سارا دن برباد کرکے تمہیں سکون نہیں ملا کہ اب تم ان حرکتوں پر اتر آئے
جتنا گھٹیا میں تمہیں سمجھتی تھی اس سے بھی زیادہ گھٹیا اور گرہوے انسان ہو
مہراج اس سے زیادہ کوئی اچھا طریقہ نہیں ملا تو مجھے تنگ کرنے کے لئے کہ سارے کالج میں میرا تماشہ لگا دیا تم نے آیت بنا سوچے سمجھے اس کے جذبات کو اپنے پیروں تلے روندنے لگی تھی
نہیں آیت یہ کوئی مذاق نہیں ہے میں تمہیں تنگ کرنے کے لئے سب کچھ نہیں کہہ رہا میں سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں میں سچ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں مہراج نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی
خبردار جو اپنی گندی زبان سے میرا نام بھی لیا تو ہو گے تم امیرزادے لیکن میری نظر میں تمہاری اوقات کسی سڑک پہ چلنے والے لوفر انسان سے کم نہیں ہے اور تم نے سوچا کہ کیسے کہ میں تمہاری باتوں میں آؤں گی
جاؤ مہراج شاہ کسی اور کے سامنے کرو یہ ڈرامے میں آیت قریشی تمہاری باتوں میں آنے والی نہیں ہوں اور آج کے بعد تم نے ایسی کوئی بھی گھٹیا حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا آیت نے انگلی اٹھا کر وارن کیا
آیت میں سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں مہراج نے اپنے آگے پیچھے اسٹوڈنٹس کا ہجوم دیکھا اور دھیرے سے بولا
مہراج شاہ میں نے کہا نہ اپنی زبان سے میرا نام مت لینا آیت اونچی آواز میں دھاڑی جب سالار آگے بڑھا
تیری اوقات کیا ہے تودو ٹکے لڑکی میرے دوست کو ٹکرائے گی سالار غصے سے آگے آیا جب مہراج نے اسے تھام لیا
سالار چل یہاں سے مہراج دھیمی آواز میں غرایا اور سالار کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے آیت یہ لڑکے اپنی بےعزتی بھولنے والے نہیں ہیں
مجھے تو لگتا ہے کہیں یہ تمہارے ساتھ کچھ ایسا ویسا نہ کردیں اس کی کلاس فیلو نے اسے ڈرانے کی کوشش کی
ایسا ویسا سے کیا مطلب ہے تمہارا میں ڈرتی ہوں ان لوگوں سے تمہیں کیا لگتا ہے میں ان لوگوں کی باتوں میں آ جاؤ گی
“”محبت””کتنی آسانی سے اس نے کہہ دیا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے محبت کا مطلب بھی سمجھتا ہے ان کے نزدیک لڑکی کے ساتھ ٹائم پاس کرنا محبت ہے
یہ مت سمجھنا کے میرے ساتھ یہ کچھ بھی کر سکتا ہے کچھ نہیں کرے گا وہ میرے ساتھ میں آج گھر جا کے بھائی کو سب کچھ بتاؤں گی بہت بڑی غلطی کی یہ سب کچھ حاشر بھائی سے چھپا کر بھائی کو نہیں بتایا اسی لئےیہ آدمی اس حد تک فری ہوگیا کہ سارے کالج کے سامنے اس نے میرا تماشہ بنایا سوچتا ہو گا دھبو سے لڑکی ہے اسی تو کچھ سمجھ ہی نہیں ہے کیوں نا اس سے بیوقوف بنا اس کا تماشہ بنایا جائے آخر انٹرٹینمنٹ بھی تو کوئی چیز ہے بیچارا تنگ کیا ہوگا میرے ساتھ چھوٹے چھوٹے پرینگز کرکے اسی لیے بڑا پرینگ کرنا چاہتا تھا
لیکن آیت یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں مہراج نے آج تک کسی لڑکی سے بات تک نہیں کی تھی کالج میں اور تجھ سے اظہار محبت کر رہا ہے آیت اگر وہ سچ میں تجھ سے پیار کرنے لگا تو زندگی بدل گئی بہت امیر آدمی ہے اس کی کلاس فیلو نے اسے سمجھانے کی کوشش کی جب آیت نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھاکر انگوٹھی دکھائی
یہ میری منگنی کی انگوٹھی ہے اور میری شادی ہونے والی اور یہ شادی میری اپنی مرضی سے ہورہی ہے جس سے میں بہت خوش ہوں ارمان بہت اچھا انسان ہے کم ازکم مہراج شاہ سے تو بہت اچھا مجھے محبت کرنے والا شوہر چاہیے دولت کا روعب جمانے والا نہیں
کوئی بھی امیر آدمی اپنے پیسے سے میرے دل میں اپنے لیے جگہ نہیں بنا سکتا اس نے اپنی کلاس فیلو کو جتلانے والے انداز میں کہا کہ دولت اور امیر ہونے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اٹھ کر باہر آ گئی اس کی بس انے والی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ٹکے کی لڑکی کی ہمت دیکھ مہراج شاہ کو انکار کر رہی ہے اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو تیرے پیر دھو دھو کرپیتی
سالار غصے سے نجانے کب سے آیت کے خلاف بولے جا رہا تھا
اور مہراج اس کی بات پر مسکرایا
ہممم اسی لیے شاید کوئی اور لڑکی نہیں ہے
مہراج نے اسے آیت کی اہمیت بتانا چاہیی
اس آیت قریشی کی ہمت کیسے ہوئی انکار کرنے کی دو ٹکے کی لڑکی ۔۔۔۔۔
بس سالار کب سے ایک ہی لفظ بار بار بولے جا رہا ہے کتنی بار سمجھا یا وہ کو ئی تو ٹکے کے لڑکی نہیں مہراج شاہ کے دل میں بستی ہے مہراج نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
انکارکردیا اس نے اب کیا کرے گا
کرنا کیا ہے شادی تو اسی سے کروں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے
مہراج نے پرسکون انداز میں کہا
اچھا اب گھر تو چل مجھے آفس بھی جانا ہے سالار نے کہا
آنے دے اسے ایک بار دیکھوں گا پھر چلا جاؤں گا ویسے صبح کافی غصے میں تھی تھپڑ بھی مار دیا مہراج نے اپنا گال سہلاتے ہوئے کہا ویسے ہاتھ بہت بھاری ہے تیری بھابھی کا
مہراج کی بات پر سالار بھی مسکرایا جب سیڑھوں سے آیت کو اترتے دیکھا
آیت ان کو اگنور کرتے ہوئے کالج گیٹ سے باہر نکلی جب وہ دونوں بھی اس کے پیچھے کالج سے باہر نکل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمان کی گاڑی کو دیکھ کر آیت کو کچھ عجیب لگا ارمان اس کے کالج کے باہر کیا کر رہا تھا یہ سوچ کر وہ اس کی گاڑی کے قریب آئی
ارمان آپ یہاں کیا کر رہے ہیں کسی سے ملنے آئے ہیں کیا آیت کو قطعی امید نہیں تھی کہ وہ اس سے ملنے یہاں آیا ہوگا
میں تم سے ملنے آیا ہوں آیت آج میں نے تمہارے بھائی سےلانچ کی اجازت مانگی ہے جو کہ میں تمہارے ساتھ کروں گا اور اس نے خوشی خوشی اجازت دے دی شکر ہے تمہارا بھائی میری بہن کی طرح اولڈ فیشن نہیں ہے
اس کی بات پر آیت کو دھکا لگا بھائی اور اس کو باہر کسی مرد کے ساتھ لانچ کرنے کے اجازت دیں یہ توناممکن سی بات تھی
یہ کیسے ہو سکتا ہے بھائی لانچ کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں
آیت کچھ کنفیوز ہوئی
تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے ٹھیک ہے یار میں ابھی حاشر بھائی کو فون کر کے پوچھ لیتا ہوں یہ کہتے ہوئے اپنا فون نکالا
نہیں نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے آیت اپنے پیچھے مہراج کو آتے دیکھ چکی تھی اور اس پر یہ ظاہر بھی کرنا چاہتی تھی کہ وہ ایک منگیتر رکھتی ہے
یہ کہتے ہوئے وہ ارمان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی جب مین گیٹ سے نازیہ نکلی
سنو لڑکی یہ بتاؤ وہ لڑکا اس کا بھائی ہے جو اسے لینے کے لئے آیا ہے مہراج نے غصے سے دھاڑتے ہوئے پوچھا
جی نہیں وہ ارمان بھائی ہیں اور آیت کی ان کے ساتھ منگنی ہوئی ہے اور کچھ ہی مہینوں میں ان دونوں کی شادی ہے نازیہ نے بتایا
شادی ۔۔۔۔؟؟
جی ہاں شادی اور اب آپ پلیز اسے تنگ مت کیجئے گا کچھ مہینوں میں اس کی شادی ہے وہ اپنے منگیتر کو بہت پسند بھی کرتی ہے سو مجھے امید ہے کہ اب آپ اسے تنگ نہیں کریں گے نازیہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گی
مہراج ۔۔۔سالار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
سالار اس کا منگیتر ہے مہرا ج جیسے خود کو یقین دلاتے ہوئے بولا
ڈونٹ وری نہیں رہے گا سالار کی بات پہ مہراج نے اسے بے ساختہ دیکھا
جو لڑکی میرے بھائی کو پسند ہے اس کی شادی صرف میرے بھائی کے ساتھ ہوگی سالار نے اسے یقین دلایا
سالار تو کیا کرنے والا ہے مہراج نے پوچھا
تیری خوشی کے لیے جو کرنا پڑا وہ سب سالار کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
