Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq ( Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq ( Episode 40)
وہ سعد کو بہلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن سعد اس کے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا
ویسے تو منت سعد کو ٹھیک سے سنبھال رہی تھی وہ اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی
لیکن پھر بھی شاید سعد اپنی ماں کو مس کر رہا تھا
مہراج سعد کا بہت خیال رکھتا ہمیشہ اس کو اٹھائے رکھتا
کیونکہ اپنی ماں کی طبیعت کی وجہ سے اس کی روٹین بھی کافی حد ڈسٹرب ہوچکی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا اس لئے سو رہا تھا
ویسے بھی رات کے بارہ بجنے والے تھے
سیرت کو نیند نہیں آ رہی تھی وہ سالار کو سوتے ہوئے دیکھ رہی تھے
آج اس نے پہلے بار دیکھا
کہ سالار ایک بہت ہی Handsome انسان ہے بڑی بڑی آنکھیں چھوٹی چھوٹی داڑھی لمبی کھری ناک سرخ و سفید رنگت ۔اس کو دیکھتے ہوئے سیرت کے لب مسکرائے
وہ حارث سے حد درجہ خوبصورت تھا وہ نجانے کیوں اس کا مقابلہ حارث سے کر رہی تھی کبھی حارث کا نام اس کے نام کے ساتھ جوڑا گیا تھا لیکن اب صرف سالار کا ہی دھیان رہتا وہ صرف اسی کے بارے میں سوچتی اور اب وہ اپنے آنے والی خوشحال زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی اور اسے یقین تھا سالار اسکا بہترین ساتھی ثابت ہوگا
سالارکا موبائل چارج پر لگا تھا
اس کے موبائل پر میسج پر لگا تو سیرت اٹھ کر دیکھا ۔
موبائل پر مہراج کے میسجز آرہے تھے
Happy Birthday Dear Brother
I Wish You سب سے پہلے ہمیشہ کی طرح
اس کے نیچے اسمایلی ایموجی تھا
کیا آج سالار کا برتھ ڈے ہے سیرت خوش ہوکر اچھلی۔
سوری مہراج بھائی اس سال سب سے پہلے آپ نہیں میں وش کروںگی ۔
یہ کہہ کر وہ دوڑ کر جا کے بیڈ پرسالار کو جگانے لگی
Happy birthday to you
Happy birthday salar
Happy birthday to you
وہ زور زور سے سالار کے سر پر گا رہی تھی
مجھے یہ گانا نہیں سنا وہ سنا ہے جو کالج کی لائبریری میں گاتی تھی
سالار اسی طرح الٹا لیٹا منہ تکیے میں دیے بولا ۔
لائبریری میں میں کونسا گاتی تھی ۔سیرت سوچ میں پڑ گئی ۔
ہاں جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو تم گانا گا رہی تھی میڈیکل کالج کی لائبریری میں بیٹھ کر بس اسی دن مجھے تم سے پیار ہوگا
اور اب مجھے وہی گانا سنا ہے سالار نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
تو یہ کیا آپ کابرتھ ڈے گفٹ ہوگاسیرت نے پوچھا
نہیں برتھ ڈے گفٹ تو مجھے کل دوگی جب وہ یہاں پہ آئے گا ۔
سالار نے سوچتے ہوئے کہا
کون آئے گا سیرت نے پوچھا
سرپرائز ۔۔تمہارا سرپرائز مسکرایا
یہ کیا Birthday آپ کا ہے اور سرپرائز گفٹ مجھے مل رہا ہے ۔
تم بھی تو کل گفٹ دوں گی نہ مجھے ۔سالار نے کہا
ہاں بتائیں آپ کو کیا پسند ہے میں کل ہی لے آؤں گی سیرت نے خوش ہو کر کہا ۔
تم سے زیادہ مجھے کچھ بھی پسند نہیں ہے سالار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
سیرت نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا
ویسے تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میرا برتھ ڈے ہے
میں آپ کو بتاؤں گی لیکن آپ یہی کہو گے کہ سب سے پہلے آپ کو میں نے وش کیا
سیرت نے بتانے کی شرط رکھی ۔
ہاں یار سب سے پہلے تمہیں نے بھی کیا ہے مجھے یقین ہے مہراج کا میسج آیا ہوگا اس کو جواب دیتے دیتے اس نے مہراج کے بارے میں بھی بتا دیا
یعنی آپ کو پتہ ہے سیرت حیران ہوئی ۔
ہاں بابا پتا ہے ہم ایک دوسرے کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں سالار نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
لیکن پھر بھی آپ کو سب سے پہلے میں نے وش کیا ہے نہ سیرت صدی انداز میں بولی
ھاھاھا پہلے وس کرنے سے کیا ھوتا ھے سالارہنسا
ہوتا ہے جو سب سے پہلے بھی کرتا ہے وہ آپ سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہے سیرت پلیز پلیز بولی اور پھر اس سے الگ ہوکر دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھیے
مجھے واشروم جانا ہے سالارا سے دیکھ رہا تھا وہ دوڑ کرواش روم میں بند ہوگئی۔
جبکہ سالار ابھی تک واش روم کے دروازے کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا
سالار بہت دیر بیٹھا دروازے کو گھورتارہا
پھر آرام سے اٹھا اور واشروم کے دروازے کے قریب آیا لیکن اس کو کھٹکھٹانے کی بجائے سائیڈ دراز سے چابی نکالی
اور واشروم کا دروازہ کھول دیا سیرت سامنے کھڑی تھی
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا
اور احتیاط سے اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر باہر لے آیا سیرت کی سانسیں تیز تیز چلنے لگی
اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمبل ٹھیک کرنے لگا سیرت کی پلیکیں اٹھنے سے انکاری تھی
محبت کوئی جرم نہیں ہے سیرت مجھے پتا تھا آج نہیں تو یہ کل ہوگا
تم فکر مت کرو میں اب بھی تمہاری اجازت کے تمہیں بغیر ہاتھ نہیں لگاؤں گا تم مجھے خود اپنے پاس بلاؤ گی
سالار اس کے قریب آ کر بیٹھا
آج میرا برتھ ڈے ہے میری جان ۔اس کے لئے میں تم سے زیادہ کچھ نہیں مانگوں گا ۔
لیکن میں ایک بار محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔
وہ اس کے اوپر جھکا اور اس لبو ں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا۔
آج پہلی بار سیرت نے مزاحمت نہیں کی۔ پر جھکا اور اپنی بے تاب دھڑکنوں کو راحت پہچانے لگا۔
سالار ۔۔۔۔۔
سالار اس کے لب آزاد کرتا اس کی گردن پر جھکا۔
سالار۔ ۔۔ سیرت نے پکار میں اس پکار میں کوئی ڈر کوئی خوف نہیں تھا ۔
مگر پھر بھی سالار نے اسے آزاد کر دیا۔
ایم سوری میں کچھ زیادہ ہی آگے بھر گیا ۔سالار نے اسے آزاد کرتے ہوئے کہا
کیوںکہ اس سردی میں بھی سیرت کو پسنہ آ رہا تھا۔
مگر سیرت کچھ نہیں بولی ۔پر چہرے پر رنگ بہت کچھ بول گئے۔
سوجاو جان کیونکہ اگر میں اب بہکا تو روکوں گا نہیں۔ سالار سنجدگی سےکہتا اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زاویار گھر آیا تو حنا بیٹھی تھی اسے دیکھ کر وہ اس کے بالکل قریب آ کر بیٹھ گیا
کیا بات ہے جان تم اتنے پریشان کیوں ہو
زاویار نے پوچھا کیونکہ اسے لگا کہ شاید حنا ابھی تک وہ سیرت کو لے کر پریشان ہے
زاویار کیا میں کبھی ماں نہیں بن سکتی حنا نے پوچھا
توزاویار کے چہرے کے رنگ بدل گئے
تم کیوں اس بات کی ٹنشن لیتی ہو
زاویار مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا زاویار میں خوش رہنے کی بہت کوشش کرتی ہوں لیکن کہیں نہ کہیں کمی ہے اور میں جانتی ہوں کہ یہ کمی اب کبھی پوری نہیں ہو پائے گی
حنا رونے لگی تو زاویار اور بھی زیادہ پریشان ہوگیا
کوئی کمی نہیں ہے حنا ۔اور اگر کم ہے بھیی تو یہ کمی پوری ضرور ہوگی
زاویار نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
کیسے۔ ۔۔؟ حنا نے پوچھا
اس دنیا میں بہت سارے ایسے بچے ہیں جو ماں باپ کے بغیر پل رہے ہیں ہم ماں باپ نہیں بن سکتے تو کیا ہواہم ان میں سے کسی کو اپنا بچہ بنا لیں گے ۔
مطلب Adopt کرینگے حنا نے پوچھا
ہاں ۔ ہم بچہ اڈوپٹ کریں گے
زاویار لیکن وہ ہمارا بچہ تو نہیں ہوگا حنا اس کی بات سن کر پریشان ہو چکی تھی
اگر ہم اسے اپنا بچہ سمجھیں گے تو وہ ہمارا ہی ہو گا ہخحنا
اور ویسے بھی ہم ایک مہینے کے بعد یہاں سے ہمیشہ کے لئے ترکی شفٹ ہو رہے ہیں ۔
میں تمہیں اس ماحول سے دور لے کر جانا چاہتا ہوں
اس سے پہلے میں اپنی فیملی چاہتا ہوں
تم دو گی نہ میرا ساتھ ہم اپنے بچے کو لینے جائیں گے ۔
زاویار کے مسکرانے پر حنا زرا سا مسکرائی۔
آئی لو یو۔۔۔۔زاویار نے محبت سے کہا
پر آئندہ میں تمہاری آنکھوں میں یہ آنسونہ دیکھوں اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
آئی لو یو ٹو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت کی آنکھ کھلی تو مہراج سامنے صوفے پر بیٹھا شاید سو رہا تھا ۔
کل اسے ہوسپیٹل سے سیدھے ائیرپورٹ جانا تھا ۔
مہراج نہ جانے کتنی راتوں سے نہیں سویا ہوگا آیت یہی سوچ رہی تھی کیونکہ مہراج اتنے دنوں میں ایک بھی بارایت کی نظروں سے اوجھل نہ ہوا
اسے خود پر غصہ آ رہا تھا
کیوں میں ہمیشہ خود سے محبت کرنے والوں کو تکلیف دیتی ہو ں
اپنے آپ کو کوستی وہ اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بے سود کیوں کہ جب تک اسے کوئی سہارا نہ دے وہ اٹھ نہیں سکتی تھی
اس نے پانی کی طرف ہاتھ بھریاجب مہراج کی آنکھ کھلی لی
آیت مجھے پکار لیتی میں کوئی پکی نیند میں تو نہیں سو رہا تھا
مہراج اس کے قریب آیا اور اس کے لیے گلاس میں پانی ڈالنے لگا
مہراج آپ تھوڑی دیر ہوٹل میں جا کے سو جائے
سعد کو تو بھابھی سنبھال لے گی مگر آپ کی طبیعت خراب ہوگئی تو مجھے کون سنبھالے کا
آیت نے منہ بنا کر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
تو مہراج مسکرا دیا
مجھے تم سنبھالو گی اور ویسے بھی جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میں اتنے دنوں سے تمہارے بغیر رہا ہوں اور ویسے بھی مجھے اکیلے نیند بھی نہیں آتی ۔
مہراج نے اسی کے انداز میں ہنہ بنایا
تو آپ کو میرے بغیر نیند نہیں آتی یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے اس کا تو کوئی حل نکالنا پڑے گا
آخر میرے Caretaker نے میرا بھی تو خیال رکھنا ہے ۔آیت اپنے ساتھ اس کے لئے جگہ بناتے ہوئے بولی
یہ کیا کر رہی ہو تم مہراج نے اسے پیچھے کھسکتے دیکھا تو بولا
آپ کے لیے جگہ بنا رہی ہوں آپ کو میرے بغیر نیند نہیں آتی نہ ۔آیت نے اس کی بات کا جواب دیا تو مہراج ہنسنے لگا
بےبی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جب صبح یہاں نرس یا ڈاکٹر آئینگے تو تم نے ہی شرمندہ ہونا ہے ۔
مہرا ج اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا ۔جی نہیں کسی کے بھی آنے سے پہلے آپ یہاں سے اٹھ جائیں گے
واہ بی
بے بی کیا پلیننگ کی ہے ۔مہراج ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ لیٹ گیا
جگہ تھوڑی کم نہیں ہے ۔۔۔؟مہراج نے پوچھا
مسٹر مہراج شاہ یہ کوئی فائیو سٹار ہوٹل کا روم نہیں ہے۔
یہ ہوسپٹل کا ایک بیڈ ہے اور یہاں آپ کو اتنی سی جگہ نصیب ہوگی ۔
آیت نے منہ بناتے ہوئے کہا
یار جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ ۔میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتا ۔مہراج نے اس کا ہاتھ چوم کر اپنے سینے پر رکھا
آپ فکر نہ کریں میں جلدی سے ٹھیک ہو جاؤں گی ۔
آیت نے محبّت سے کہا تو مہراج نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
مجھے یقین ہے تم جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی ۔
اور مجھے آپ کے یقین پر یقین ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعد کومنت سے عجیب سی لگن ہوگئی تھی
وہ اس کے پاس نہ روتا اور نا ہی اسے تنگ کرتا ۔
منت ہوسپٹل سے نہیں آنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی مہراج نے ضد کرکے اسے بیج دیا ۔
منت آیت کے لیے بہت خوش تھی کہ اسے اتنا اچھا ہمسفر ملا ہے جو اسے اتنا چاہتا ہے کہ ہر وقت اس کا خود خیال رکھنا چاہتا ہے ۔
حاشر بھی مہراج سے مل کر بہت خوش ہوا تھا مہراج واقعی ہی آیت سے بہت محبت کرتا تھا ۔
مہراج نے حاشر کو ارمان کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا ۔کہ کس طرح سے اس نے آیت کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی اگر اس وقت ارمان اس کے سامنے ہوتا تو شاید اسے قتل کر دیتا لیکن ارمان اب یہاں نہیں تھا ۔
وہ لوگ اپنی ساری جائیدادبیچ کر کسی دوسرے ملک شفٹ ہو چکے تھے
اور اب ان لوگوں کا منت یا حاشرسے کوئی رابطہ نہ تھا ۔
اس کی آنکھ کھلی تو منت بیڈپےبیٹھی سعد کو گود میں لیے ہوئے تھی
کیا ہوا منت ابھی تک سوئی کیوں نہیں
منت اسے دیکھ کر مسکرائی تووہ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
حاشر سعد کتنا پیارا ہے نہ ہمارا بچہ بھی ایسا ہوگا ۔۔۔؟ منت نے پوچھا تو حاشر مسکرا دیا ۔
جی نہیں اس سے بھی پیارا ہوگا بلکہ بہت بہت بہت پیارا ہوگا حاشر نے سعد کے گال کو چومتے ہوئے کہا ۔
جی نہیں میرا سعد زیادہ پیارا ہے منت نے اس کا دوسرا گال چومہ
ارے ابھی میرا بیٹا دنیا میں آیا نہیں کہ تم نے اس کا مقابلہ کرنا شروع کردیا حاشر نے برا منایا ۔
میں نے تو صرف اس کو ایک تصویر دینے کی کوشش کر رہی تھی اور آپ تو مقابلے پر ہی اتر آئے ۔
میڈم مقابلے پر نہیں اتر مقابلے پر آپ اتری ہیں ۔حاشر نے اس پر الزام ڈالا
آپ اٹھے ہی کیوں سو جائیں واپس ۔میں سعد سے باتیں کر رہی تھی آپ نے ہم دونوں کو ڈسٹرب کر دیا
منت نے منہ بناتے ہوئے کہا
اوہو ایم ریلی سوری مجھے نہیں پتا تھا یہاں اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چل رہی ہے ورنہ میں صبح ہی جاگتا ۔ حاشر ایک بار پھر سے کمبل تان کر سونے لگا
کے منت پھرسعد کے ساتھ سے باتوں میں لگ گئی جیسے وہ اس کی سب ناتوں کر سمجھ رہا ہو
سعد صرف مسکرائے جا رہا تھا ۔
اس بیچارے کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ منت اس سے کتنا امپورٹنٹ ڈسکشن کر رہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کو صبح صبح سارہ کا فون آیا تھا اس نے بتایا کہ آج واپس آرہے ہیں اور دوپہر تک پہنچ جائیں گے ۔۔۔
سیرت یہ سن کر بہت خوش ہوگئی کیونکہ وہ سالار کے لئے کچھ Special کرنا چاہتی تھی
اور سارہ بیگم نے اسے پارٹی کے بارے میں بتایا
یہاں پر ہر سال پارٹی لازمی ہوتی تھی ۔کیونکہ وہ ایسے ہائی فیملی سے تعلق رکھتا تھا جس میں وہ خود پارٹی میں موجود ہو یا نہ ہو لیکن پارٹی بہت ضروری ہوتی تھی ۔۔
اس میں شہر کے برے سے برے لوگ شامل ہوتے ۔۔
سیرت پارٹی کے بارے میں سن کر بہت خوش تھی سالار نے اس کے لئے بہت کچھ کیا تھا
پر اب وہ سالار کے لئے کچھ بہت سپیشل کرنا چاہتی تھی جس طرح اس نے اس کے لئے کیا تھا لیکن سیرت سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ آخر سے کیا گفٹ دے
ایسا کیا کریں کہ سالار خوش ہو جائے ۔۔
کرنے کے لیے تو اس کے پاس بہت کچھ تھا نگر ہائے رے یہ شرم و حیا
سالار کے بارے میں سوچتے ہی اس کے گال سرخ ہو جاتے
اور پھرٰ شرما کے وہ بیچاری کچھ سوچ ہی نہیں پاتی
جبکہ دوسری طرف سالارنے اس سے کہا تھا کہ وہ آج سے بہت بڑا سرپرائز دینے والا ہے اس کے لئے بھی وہ بہت ایکسائٹڈ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنا اور زاویار ایک یتیم خانے میں آئے تھے ۔
یہاں کچھ ہی دن پہلے ایک عورت اپنے دو جڑواں بچے چھوڑ گئی تھی
جو بے روزگاری کی وجہ سے نہیں پال سکتے تھے ۔
زاویار اورحنا کو وہی بچے بہت پسند آئے لیکن وہ ایک ہی بچہ کے کر سکتے تھے
لیکن وہ دونوں یہ بھی سمجھ چکے تھے کہ یہ دونوں بچے اگر الگ کئے گئے تو اس کا بہت نقصان ہو سکتا ہے
اس لیے حنا نے دونوں بچے لینے کے بارے میں سوچا
انہوں نے ان دونوں بچوں کولے لیا لیکن ولدیت پر اپنا نام نہ لکھا
کیونکہ قرآن پاک میں حکم ہے کہ
“بچے کو اس کے باپ کے نام سے پکارو “
اسلام میں ایک بچے کو گود لینا ثواب کا کام ہے لیکن اس بچے کو اپنا نام دینا نہیں
اسی لئے زاویار نے ان دونوں بچوں کو اپنا نام نہیں دیا
جس کی وجہ سے بہت پروبلم ہوئی لیکن پھر بھی وہ دونوں بچے زاویار کو مل گئے
حنانے ان بچوں کا نام عبدالمناف اور عبدالرافع رکھا ۔
حنا گھر آتے ہوئے بہت پریشان تھی کہ وہ دو بچوں کو ایک ساتھ کیسے سنبھالے گی ۔جبکہ زاویار دونوں بچوں کو پا کر بہت خوش تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منت صبح صبح حاشر سےپہلے جاگی تھی
سامان وغیرہ وہ رات کو ہی پیک کر کے سوئی تھی اس لیے بے فکر ہو کے اب ناشتہ بنانے لگی
ناشتہ بنا کر کمرے میں آئی
تو دیکھا حاشر مزے سے سعد کو اپنی باہوں میں لئے سو رہا ہے
کتنا مکمل منظر تھا یہاں منت کی چھ سال پرانی خواہش پر بہت جلدی اس کی یہ خواہش پوری ہونے والی تھی
منت دل میں سوچتی ہوئی حاشرکے قریب آئی
حاشر اٹھ جائیں ابھی ہمیں کچھ دیر میں نکلنا ہوگا ۔اٹھ کر کچھ کھا لیں
حاشر کو جگاتے ہوئے اس نے سعد کافی فیڈر بھی ہاتھ میں رکھا ہوا تھا
حاشر شروع سے ہی نیند کا بہت کچا تھا وہ ایک ہی آواز میں جاگ جاتا تھا
جبکہ سعد ابھی بھی سو رہا تھا
حاشر یہ اٹھ کیوں نہیں رہا اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ منت نے فکر مندی سے پوچھا جس پر حاشر مسکرا دیا
بالکل ٹھیک ہے میرا بھانجا بس اپنی ماں پر گیا ہے ۔اس کو بھی ڈھول بجا کے جگاناپڑتا تھا اور میرے خیال میں اس کے لیے بھی بینڈ باجے کا بندوبست کرنا پڑے گا
بہت کوشش کے بعد منت سعد کون نہیں جگا پائی۔
جبکہ حاشر ناشتہ کرکے تیار بھی ہو چکا تھا
حاشر یہ ابھی تک نہیں جاگ رہا کیا کروں
ایسا کرو سوتے ہوئے ہی اسے تیار کر دو جب جاگے کا تو اسے کچھ کھلا پلا دینا حاشر نے مسکرا کر کہا جبکہ ان کو آدھے گھنٹے میں ایئرپورٹ کے لئے نکلنا تھا
حاشر سیرت سے ملنے کے لئے بہت بے چین تھا.
_____________________••
