259K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Lafz Ishq (Episode 24)

سالار کا دو دن کے بعد ولیمہ کی خبر دریا کے لیے کسی شاک
سے کم نہ تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ سالار اسے چھوڑ کر کسی اور لڑکی سے شادی کرنے جارہا ہے
ان کے گھر میں عجیب سی بے سکونی پھیلی تھی
جب سے سالار کی شادی کی خبر آئی تھی دریا نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا تھا
شاکر صاحب بہت پریشان تھے یہاں تک کہ اسی پریشانی میں انہوں نے زاویار کو فون کر کے بھی بتا دیا زاویار کو سالار پر بہت غصہ آرہا تھا ۔۔لیکن اس وقت اسے دریا کی فکر ستا رہی تھی
زاویار جانتا تھا کہ دریاسالار کی محبت میں بہت آگے نکل چکی ہے اب اس کا واپس آنا بہت مشکل ہے
ناواقف تو اس کی محبت سے سالار بھی نہ تھا لیکن سالار کو اپنے ماں باپ کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا تو دریا کس کھیت کی مولی تھی
زاؤ یار کو پریشان دیکھ کر حنا بھی بہت پریشان تھی ہاں یہ بات الگ ہے کہ اسکو اپنی یہ مغرور نند پہلی نظر میں بھی اچھی نہ لگی تھی
لیکن اس کی پریشانی کی وجہ اس کا محبوب شوہر تھا ۔۔
جس سے وہ پریشان نہیں دیکھنا چاہتے تھے
زاویار آپ فکر نہ کریں دریا سنبھل جائے گی انشاء اللہ اس میں زاو یار کو پریشان دیکھ کر کہا
وہ ابھی یہی بات کر رہے تھے کہ فون دوبارہ بجا
زاویار بیٹا دریا نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے میں اسے ہسپتال لے کے جا رہا ہوں تم جتنا جلدی ہو سکے پاکستان آ جاؤ
بابا آپ فکر نہ کریں ہم جتنا جلدی ہو سکےآجائینگے
زاویار نے باپ کی ہمت بڑھا کر فون بند کردیا
میں اس سالار کے بچے کو زندہ نہیں چھوڑوں گا اس کی ہمت کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ ایسا کرنے کی ۔۔زاویہ غصے سے کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ حنا اس کی بات سن کر وہی دل تھام کے بیٹھے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت قریشی بنت زیان قریشی آپ کا نکاح سالار شاہ ابن سلمان شاہ سے کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے ۔۔۔؟ کمرے میں صرف مولوی صاحب کی آواز گونج رہی تھی
قبول ہے ۔۔ سیرت اپنی ہی آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی
کیا آپ کو قبول ہے ایک بار پھر سے آواز آئی
قبول ہے پھر وہی اجنبی آواز
کیا آپ کو قبول ہے مولوی صاحب نے تیسری بار پوچھا
قبول ہے ۔۔ہاں سالار شاہ مجھے یہ موت قبول ہے
ہر طرف مبارک باد شروع ہو چکی تھی جب کسی نے تمہیں بوت بنی بیٹھی تھی
کیسی شادی تھی اس کی جس میں نہ اس کا کوئی اپنا تھا اور نہ ہی وہ خوش تھی لیکن یہ اس کی خوشی کو کون دیکھ رہا تھا یہاں تو اپنی مرضی کی جارہی تھی سالار شاہ اپنی ضد پوری کر چکا تھا
مہراج جس نے اسے کبھی اپنی بہن کہا تھا اپنے دوست کے گلے لگے اسے مبارکباد دے رہا تھا
جب اس نے پہلی بار مہراج کو حویلی میں دیکھا تو اس سے امید کی ایک کرن دکھائی تھی جیسے وہ اس کا بھائی بن کر اس کے سر پہ اپنا ہاتھ رکھے گا اسےسا لار شاہ کی قید سے اپنی بہن کو چھڑوا لے گا
لیکن وہ یہ اس کا بھائی نہیں بلکہ سالار شاہ کا دوست بن کے آیا تھا
اور اب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سالار شاہ کی بن چکی تھی وہ اپنی ضد جیت چکا تھا
تھوڑی دیر بعد اسے یہاں سے سالار کی کمرے میں پہنچا دیا گیا یہ وہی کمرہ تھا جہاں وہ اتنے دن سے رہ رہی تھی لیکن اسے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیے گئے بیڈ پر اسے لا کر بٹھایا گیا اور وہ موم کی گڑیا کی طرح جہاں بٹھایا جاتا وہی بیٹھ جاتی سارا دن نہ تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں گرااور نہ ہی اس نے کسی سے بات کی تھی کسی بات کرتی کس کو اپنا دکھ سناتی یہاں تو سب ہی سالار کی اپنے تھے ۔۔اور وہ جسے اپنا سمجھ رہی تھی وہ تو اس سے نظریں تک نہ ملا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں نکاح ہو چکا ہے ہم کل واپس آئیں گے تم اپنا اور سعد کا دھیان رکھنا
آپ میری فکر نہ کریں سالار بھائی تو خوش ہیں نہ ایت نے پوچھا
خوش خوش نہیں اسے خوشی میں پاگل ہونا کہتے ہیں سالار کی کیفیت بتاتے ہوئے وہ مسکرایا
وہ سب مجھے نہیں پتا لیکن آپ میرا نیگ ان سے لے لیجئے گا آیت نے کہا
ہاں ٹھیک ہے میں لے لوں گا آپ نے فون بند کرتا ہوں سالار آ رہا ہے
ویسے تو سالارا س سے بہت ناراض تھا لیکن نکاح کے بعد اس نے سب سے پہلے مہراج کو گلے لگایا
مہراج سیرت سے بہت شرمندہ تھا بہت کے وہاں سے نظر تک نہ ملا سکا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ سالار اس سے کتنی محبت کرتا ہے
رکو سا لار تو اس طرح سے کمرے میں نہیں جا سکتے پہلے تم نے آیت کا نیگ دینا ہوگا مہراج نے اسے کمرے سے باہر ہی روک لیا
دیکھ بھائی نیگ آیت کا ہے اور وہ یہاں ہے نہیں تو کوئی نیگ نہیں بنتا اب تو راستے سے ہٹ اور مجھے اندر جانے دے مجھے سیرت کو دیکھنا ہے سالار نے اپنی بے قراری بتاتے ہوئے کہا پر مہر آج کوئی اس پر ترس آگیا
ٹھیک ہے بھائی چلا جا میں تجھے نہیں رکھوں گا ہاں لیکن دو دن بعد اپنی بہن سے خود ہی لڑ لینا نا اس میں تیری کوئی مدد نہیں کرنے والا مہراج نے ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے کہا
سالار مسکراتا ہوا کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سآلار جانتا تھا جو کچھ وہ سیرت کے ساتھ کر چکا ہے اس کے بعد سیرت اسے آسانی معاف نہیں کرے گی لیکن وہ کیا کرتا وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا
جسے سیرت کو اپنا بنانے کی ضد تھی لیکن سالار جانتا تھا کہ وہ سیرت کو جلدی منا لے گا وہ اسے اتنا پیار دے گا کہ وہ سب دکھ تکلیف بھول جائے گی
وہ کمرے میں آیا تو سیرت اس کے بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی تھی
شاید دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن ۔۔۔سالار اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا
سیرت اس دل کی یہ خواہش تھی کہ تمہں اپنا بنا لوں لیکن میرے رب نے مجھ پر ایسا کرم کیا کہ تم مجھے مل گئی ہہ انسان اپنی منزل کو پانے کے لئےخود اپنا راستہ بناتا ہے ہے سیرت میں مانتا ہوں کہ میرا راستہ غلط تھا لیکن تمہیں میری محبت میں کبھی کوئی کھونظر نہیں آئے گی
سالار نے اس کی چوڑیوں سے کھیلتے ہوئے اس کا ہاتھ چوما۔ ۔
سیرت میں نے زندگی صرف تمہیں چاہا ہے میں پیار محبت پر کبھی یقین نہیں رکھتا تھا تم سے ملنے سے پہلے میں یہ ساری باتیں فضول سمجھتا تھا
لیکن تمہیں دیکھتے ہیں مجھے محبت پر یقین آ گیا سالارنے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور محبت سے اس کی نتھ اتاری
سیرت تم میری زندگی ہو تمہارے بغیر سالار کچھ نہیں ہے سب کچھ جیت کرتمہارے سامنے ہار گیا میں خود نہیں جانتا کہ میں اپنی محبت کو کس طرح تمہارےسامنے لفظوں میں بیان کرو بس تم مجھ سے کبھی دور مت جانا
وہ جا بجا سیرت کے چہرے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرنے لگا یہ جانے بغیر کے مقابل کس قیامت سے گزر رہا ہے
سالارنہیں اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے اپنے آپ کو سیراب کیا
سیرت آپ مجھے کچھ نہیں چاہئے سوائے تمہارے اپنی آنکھیں بند کئے وہ سیرت کو اپنی محبت کا یقین دلایا رہا تھا لیکن جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اندر تک پہنچ گیا وہ لڑکی جس نے سارا دن ایک آنسو تک نہ بہایا تھا اس کا سارا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا
لیکن نہ تو اس نے سالار کو خود سے الگ کیا اور نہ ہی کوئی مزاحمت کی بس خاموشی رہی تھی لیکن اس کی خاموشی برداشت کرنا سالار کے بس میں نہ تھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ سالار شاہ مجھے تم سے نفرت ہے
سالار نے کبھی اس کو اذیت دینے کے بارے میں سوچا تھا وہ تو اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا تھا لیکن وہ خوش نہیں تھی اس کی حالت دیکھ کر سالار کو اپنے آپ پر غصہ آیا ایک گھٹن سی ہونے لگی رات بہت ہوگئی ہے تم چینج کرکے آرام کرو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
جب کہ سیرت اس سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ابھی گھر پہنچا تھا مری کی ٹھٹھرتی سردی میں اپنے آپ کو سردی سے بچانا بھی بہت مشکل تھا اوپر سے برفباری جواب وقت بے وقت شروع ہو جاتے اوپر سے ایک بازو ٹوٹا ہوا جس میں سردی کی وجہ سےدرد ہو رہا تھا ویسے تو ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کچھ دن میں یہ ہاتھ بھی بالکل ٹھیک ہو جائے گا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا بہرحال وہ گھر پہنچ گیا
اس وقت یقینا اس کی بیوی سوچ کی ہوگی
اس لیے جیب سے ڈبلیکیٹ کی نکالی دروازہ کھول کے اندر آ گیا
کمرے میں آیا تو اس کی بیوی سر سے پاؤں تک بلینکٹ میں گھسی ہوئی تھی اسے دیکھ کر اسے شرارت سوجھی کس نے اس کا بلینکٹ کھینچا اور اس کا برف بنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا وہ بلبلا کر اٹھی آپ کیا کر رہے ہیں اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لئے جب کہ وہ قہقہ لگا کر ہنسا
لڑکی تمہیں ذرا ہوش نہیں ہے تمہارے شوہر باہر سے تھکا ہارا آیا ہے اور گھوڑے بیچ کے سو رہی ہو
اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
ہاں تو یہ شوہر جناب ابھی شام کو ہی تو کھانا کھا کر گئے تھے اب آپ ہر تھوڑی دیر کے بعد آ کر مجھے میرا فرض نہیں اگر لایا کریں میں اپنے سارے فرض اچھے سے نبھا رہی ہوں اور آپ آپ دور ہٹا ہیں مجھے آرام سے سونے دیں اور جب تک آپ کے ہاتھ پیر ٹھیک سے گرم نہ ہوجاۓ تب تک آپ میرے بیڈ پر مت آئے گا یہ کہہ کر وہ پھر سے بستر اپنے اوپر لینے لگی
لیکن اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر وہ اس کے ساتھ نہ صرف بیڈ پر آ گیا بلکہ اسے اپنی باہوں میں بھی لے لیا
بیوی کو کیا ہے نہ جب سردی زیادہ ہو جائیں نہ تو بیوی کو زیادہ دیر تک اپنے شوہر سے دور نہیں پہننا چاہیے وہ اسے اپنی باہوں میں لئے سرگوشی کرنے لگا
ؓمجھے صبح جلدی اٹھنا ہے وہ ہلکے سے منمنائی
۔۔۔۔
ارے یار تمہیں کون سا سیرت کو کالج بھیجنا ۔۔وہ اچانک چپ ہو گیا ہے
میرا مطلب ہے کوئی معرکہ مارنا ہے جو جلدی اٹھے بغیر مار نہیں پاؤگی وہ ایک بار پھر سے اپنی باہوں میں لے چکا تھا
اس ذکر کے بعد اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی لیکن اگلے ہی پل اس نے اپنے آپ کو نور مل کر لیا کیونکہ اب وہ خوش رہنا چاہتا تھا
اپنی چھوٹی سی زندگی میں جس میں صرف وہ اور اس کی بیوی شامل تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہراج پانی پینے کی نیت سے کمرے سے باہر آیا تھا جب اس موفے پر سالار کو سگریٹ سلگاتے ہوئے دیکھا
سالار تو یہاں کیا کر رہا ہے اس وقت تجھے سیرت کے پاس ہونا چاہیے ارو یہاں سگریٹ سلگائے جا رہا ہے
ہم نے جب نظر اٹھا کے اسے دیکھا تو مہراج ہے کہ دفعہ چونک گیا سالار کیا ہوا ہے تجھے وہ فکر مندی سے پوچھنے لگا
وہ مجھ سے پیار نہیں کرتی مہراج وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے بے تحاشا نفرت میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھی ہے اس کی نظریں چیخ چیخ کر نفرت کا ثبوت بن رہی تھی
مہراج میں یہ نہیں دیکھ سکتا میں نہیں دیکھ سکتا کہ جس کے کو میں جان سے زیادہ چاہوں مجھ سے نفرت کرے مہراج میں کیا کروں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا
تو اسکی اس نفرت کو محبت میں بدلنے کر دکھا وہ چاہے جتنی بھی نفرت کرے لیکن تو سے محبت کر نفرت کو نفرت نہیں مارتی محبت مار دیتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ تیری محبت اس کی نفرت کو مار دے گی آپ یہاں بیٹھ کے اس خوبصورت رات کو برباد کرنا بند کر اور اٹھ کر کمرے میں جا ہو تیرا انتظار کر رہی ہو گی مہراج نے اسے ایک ناممکن سے امید دلوائی
نہیں میں اسے سو نے کا بول کر آیا ہوں اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے جب تک وہ مجھے دل سے قبول نہیں کرتی تب تک میں اس کے پاس نہیں جاؤں گا سالار نے اسے اپنا فیصلہ سنایا
سالار کو تجھے قبول کر چکی ہے اب اٹھا اور کمرے میں جا وہ تیرے نکاح میں ہے اور تو نے اسے میری طرح نشے میں قبول نہیں کیا پورے ہوش و حواس میں اسے اپنی زندگی میں شامل کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو وہ نیچے زمین کے قالین پر سو رہی تھی اس وقت وہ دلہن کے روپ میں نہیں بلکہ سادہ سا کالا جوڑا پہنے دنیا جہان سے بے خبر تھی
سالار کواس کی بے اعتباری پر بہت غصہ آیا وہ اس کے قریب آیا اور بازو سے پکڑ کر اسے ایک ہی جھٹکے میں کھڑا کردیا
ایک بات کان کھول کر سن لو سیرت میں تم سے دور اپنی مرضی سے رہ رہا ہوں میں جب چاہوں تم سے اپنا حق وصول کر سکتا ہوں تو پلیز ڈرامے کرنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے یہ بستر ہے اور آرام سے اس پر سو جاؤ سالار نے اسے ایک جھٹکے سے بستر پر گرایا
اور ہاں ایک اور بات آج کے بعد میں تمہیں اس کالے رنگ میں نہ دیکھوں مجھے یہ کلر بالکل بھی پسند نہیں ہے اس لیے ابھی کے ابھی اسے چینج کرو اور آج کے بعد جب میں گھر آوں تو تم مجھے یہاں بیڈ پر ملو زمین پر نہیں ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میں تمہیں وقت دے رہا ہوں اسے رشتے کو قبول کرنے کے لئے سیرت آرام سے اس کی باتیں سنتی رہی آگے سے کچھ نہیں بولی اور نہ ہی نظریں اٹھا کے اس کی طرف دیکھا
سالار اپنے کپڑے اٹھا کر وہ شو روم میں گھس گیا جب واپس آیا تو سیرت بیڈ کے دوسرے کونے میں میں لیٹی ہوئی تھی ایک کونے کے علاوہ سارا بیٹھ خالی تھا جیسے جب سالار اس کے قریب آئے گا تو اٹھ کر بھاگ جائے گی سالار اس کے اس معصوم سے پلان پر مسکرایا
جبکہ اب وہ کالے سوٹ کی جگہ سفید سوٹ میں تھی ساری باتیں مان رہی ہوں اس کا مطلب ہے زندگی آرام سے کٹے گی سے سناتے ہوئے کہا اورآ کر بیڈ پر لیٹ گیا اور اگلے ہی جھٹکے سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا مجھے ہرگز پسند نہیں ہے کہ تم مجھ سے منہ موڑ کر سو یہ تمہارا بیڈ ہے تم جسے چاہے سو سکتی ہو لیکن مجھ سے فرار کی راہیں ڈھونڈنا چھوڑ دو میں جب چاہے تمہیں اپنا بنا سکتا ہوں اس لیے اب تم مجھ سے دور رہنے کی یہ معصوم معصوم منصوبے بنانا چھوڑو کیونکہ جب میں تمہارے قریب آنا چاہوں گاتو کوئی بہانہ نہیں چلے گا اب سو جاؤ
سالار نے زبردستی اس کا سر اپنے سینے پر رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ شہر واپس آ چکے تھے کل رات اور اب گاؤں سے شہر کے سفر میں سالار میں جو ایک چیز بہت زیادہ نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ سیرت اس سے بالکل بات نہیں کر رہی اور نہ ہی اسے دیکھ رہی ہے البتہ وہ سب گھر والوں کے ساتھ باتیں کر رہی تھی
تو چپ کا روزہ کی صرف میرے لیے رکھا ہوا ہے سالار نے دل میں سوچا
جب سالار کو دریا کے خودکشی کا بتایا گیا کہ وہ ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے تو سالار میں کوئی رسپونس نہ دیا
جبکہ سیرت کو بہت برا لگا کیونکہ وہ دریا کو جانتی تھی وہ حنا کی نند تھی اور زاویار کی بہن اللہ نے اسے جتنے رشتے دیے تھے وہ اب بھی اس کے آس پاس تھے لیکن اس سے زیادہ کسی اور کے اپنے تھے
بہت منتیں کرنے کے باوجود بھی سالار دریا کو دیکھنے اسپتال نہ گیا حالانکہ وہ تو خوش تھا کہ کل اس کا ولیمہ ہو رہا ہے
وہ کوئی چھوٹا موٹا انسان نہ تھا ایک بہت بڑا بزنس مین تھا جس کی وجہ سے اس کا ولیمہ بھی اس کی شہرت کو دیکھتے ہوئے رکھا گیا شہر کا ہر بڑا آدمی اس ولیمے میں شامل تھا پھر وہ بھی آ گئے جن کا اسے بے تابی سے انتظار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہ آتے ہی اس کے گلے لگا تو آخرکار تم نے اپنی محبت کو جیت ہی لیا سالار
مجھے خوشی ہے کہ جسے تم نے چاہا وہ آج تمہاری ہے ڈاکٹر الفاظ سکندر نے اسے مبارکباد دی گئی
آپ لوگوں کو یہاں پہ جتنا بور ہونا ہے خوشی سے ہوں مجھے بس یہ بتا دیں کہ میری بھابھی کہاں ہے ۔۔؟نور نےپوچھا
جب کے سالار نے اپنی ایک ملازمہ کے ساتھ اسے سیرت کے کمرے میں بھی بھجوا دیا
السلام علیکم سیرت وہ کمرے میں آئی تو بیوٹیشن سیرت کو تیار کر رہی تھی
ماشاءاللہ تم تو واقعی بہت خوبصورت ہو آپ سمجھایا کہ سالار بھائی اتنے سالوں سے شادی کیوں نہیں کر رہے تھے آخرکار برا ہاتھ مارنا تھا انہیں نور نے مسکراتے ہوئے سے گلے لگائے
سیرت اس کمرے میں تمہارے اوربیوٹیشن کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے تمہاری کوئی بہن یا سہیلی نہیں آئی ابھی تک نورنے تجسس سے پوچھا کیونکہ ایسے معاملوں میں تو اس دلہن کی بہن اور سہیلی اس کے آس پاس لیکن سیرت تو پھر کوئی اکیلی تھی یہاں
میری نا تو کوئی سہیلی ہے اور نہ ہی کوئی بہن کہتے ہوئے سیرت کی آنکھوں سے آنسو نکلا تھا
آؤ میم آپ کیا کر رہی ہیں آپ نے پھر سے میک اپ خراب کردیا
نور کو بیوٹیشن کی بات اچھی نہیں ہیں لیکن اب کون سا آنسو پر کوئی زور چلتا ہے
دیکھیں آپ اس طرح سے بات نہیں کر سکتی اسی اپنی بہنوں اور سہیلیوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے اس لیے وہ خود پر کنٹرول نہیں کر پا رہی
نور نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا
آئی ایم ویری سوری میں نے کب سے انہیں تیار کر رہی ہوں لیکن یہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد رونا شروع کردیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا میک اپ خراب ہو رہا ہے
کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کوئی تیار کرنے کی آپ جائیں میں خود ہی سے تیار کر لوں گی نور نے غصے سے کہا تو بیوٹیشن کمرے سے باہر چلی گئی
میں جانتی ہوں ایسے معاملوں میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اپنی بہنوں اور سہیلیوں کی ہوتی ہے
میرے وقت پہ آرزو اور روشانے نے سنبھال لیا تھا اور تم فکر مت کرو میں ہونا تمہاری سہیلی بھی ہو تمہاری بہن بھی چلو آؤ میں تمہیں تیار کرتی ہوں.
__________________________••