Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 12
مہراج کی آنکھ کھلی تو آیت بستر پر نہیں تھی….
اسے لگا شاہد وہ تہجد کی نماز پر رہی ہوگی…
کافی دن سے آیت بہت خوش رہنے لگی تھی…
اس کا موڈ بھی اچھا رہتا ہوں سعداور مہراج کا خیال بھی بہت رکھتی
گھڑی کی طرف دیکھا تو وہ ساڑھے3 بجا رہی تھی_ اس وقت تک توآیت روم میں واپس آجاتی ہے ابھی تک کیوں نہیں آئی یہی سوچتے ہوئے مہراج بستر سے اٹھا اور باہر آگیا جہاں آیت باہر کا دروازہ کھولے کھڑی تھی_ آیت نا تو اداس تھی اور نہ ہی پریشان بس تیز بارش کو برستے ہوئے دیکھ رہی تھی_
کیا ہواآیت دروازہ کیوں کھولا ہے تم نے اور یہاں کیوں کھڑی ہو مہراج آیت کے قریب آکے بولا
وہ میں بارش کو دیکھ رہی ہوں آیت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
بارش تو شام کی ہو رہی ہے تو اس وقت اس کو دیکھ رہی ہو
مہراج مجھے بارش دیکھنے کا بہت شوق ہے
میری بہت ساری یادیں جڑی ہیں اس بارش کے پانی کے ساتھ
مہراج سمجھ سکتا تھا کہ آیت کونسی یادوں کی بات کررہی ہے.
لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ پرانی باتوں کو یاد کرکے پھر سے اداس ہو جائے
آیت میں نہیں کہوں گا کہ تم اپنی پرانی یادوں کو بھلا دو
لیکن آیت میں تمہاری ہر یاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں
وہ آیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہا تھا
آیت میں چاہتا ہوں جب تم کسی پرانی یاد میں کھو جاؤ تو اس میں بھی شامل رہوں
اور اس کے لیے ہمیں نئی یادیں بنانی ہوگی وہ مسکرایا
تمہیں یہ بارش بہت کچھ یاد دلاتی ہے نہ
چلو ہم اپنی یادیں بنانااسی سے شروع کرتے ہیں
آیت نہ سمجھی سے معراج کی باتیں سن رہی تھی
اس سے پہلے کے آیت کچھ کہتی.
مہراج آگے بڑھا اورآیت کو اپنی باہوں میں اٹھایا
اور باہر لان میں نکل آیا
مہراج کیا کر رہے ہیں تیز بارش ہو رہی ہے ہم بھیگ جائیں گے آیت نےاس کو سمجھانے کی کوشش کی
مہراج نے باہر آکر اسے زمین پر کھڑا کیا
آئی لو یو آئی لو یو سو مچ
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کی پیالی میں لیے
جا بجا اس کے چہرے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرنے لگا
اور اس کو اپنے پیار کی بارش میں بھیگا نے لگا
آیت مہراج کی باہوں میں قید اپنے آپ کواس دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرتے ہوئےاپنا آپ مہراج کو سونپ دیا
سالار کی خواہش پہ سلمان اور سارہ سالار کا رشتہ لینے سیرت کے گھر گئے تھے
حاشر نے بنا کوئی تہمت باندھے صاف صاف لفظوں میں انکار کر دیا
حاشرنے صاف صاف بتا دیا کہ دو دن کے بعد اس کی بہن سیرت کا نکاح ہے
جس کی وجہ سے سلمان اور سارہ خالی ہاتھ ہی واپس لوٹ آئے
اب سلمان کوسمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ بات وہ سالار کو کیسے بتائیں
کیونکہ سالار نے پہلی بار ان سے کچھ مانگا تھا
سالار کے رشتے کے لئے جانے والی بات صرف مہراج کو پتہ تھی
انہوں نے مہراج کو بھی منع کردیا کہ یہ بات وہ سالار کو نہ بتائیں کہ سیرت کی شادی ہونے والی ہے
کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سالارضد میں آئے
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سالارضد میں آگیا تو وہ کچھ بھی کر گزرے گا
اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ سالار ضد میں آکر سیرت کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کر بیٹھے
کیونکہ سیرت ایک بہت معصوم اور سیدھی سادی لڑکی ہے.
کیا بات ہے مہراج آج آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں آیت میں جب مہراج کو پریشان دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی
آیت بات ہی پریشانی والی ہے مہراج ہمیشہ سے آیت سے ہر بات شیئر کر دیتا تھا
ایسی کونسی بات ہے جو آپ کو اتنا پریشان کررہی ہے
آیت سالارجس لڑکی کو پسند کرتا ہے پرسوں اس کا نکاح ہے
بس اسی لیے پریشان ہوں
سالارنے پہلی بار کسی لڑکی کے بارے میں اتنا سیریس ہوکے سوچا تھا
اور چاچو نے مجھے منع کیا ہے کہ یہ بات میں سالار کو نہیں بتاؤں
تم ہی بتاؤ آیت جس شخص نے ہمیشہ میری ہر معاملے میں مدد کی ہے
کیا مجھے اس کی مدد نہیں کرنی چاہیے
سالارصرف مجھ پہ یقین کرتا ہے صرف میری بات مانتا ہے
جب اسے پتہ چلے گا کہ اس لڑکی کے نکاح کے بارے میں میں جانتا تھا لیکن میں نے اسے نہیں بتایا تو اسے کتنی تکلیف ہوگی
چاچو کو ڈر ہے کہ سالارضد میں آکر کچھ الٹا سیدھا نہ کر بیٹھے
سچ کہوں توڈر تو مجھے بھی ہے اس بات کا لیکن
سالار لڑکی سے بہت پیار کرتا ہے
اور یہ غلط بھی نہیں ہے آیت سالار کو حق ہے خوش رہنے کا
اس کے ساتھ قسمت ہمیشہ کوئی ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ اے کی ساری خوشیاں غرق ہو جاتی ہیں
میں ہمیشہ سوچتا ہوں شاید خدا سالار کی نصیب میں خوشیاں لکھنا ہی بھول گیا
سالار جس چیز کو چاہتا ہے وہ اسے دور ہوجاتی ہے
اور میں نہیں چاہتا کہ یہ لڑکی اس سے سالار سے دور ہوجائے وہ اسے بہت چاہتا ہے آیت
اب میں کیا کروں سیرت مجھے تو رونا آ رہا ہے
حنا نے رونے کی مکمل تیاری پکڑتے ہوئے کہا
کتنی بری لگوں گی میں اب حنا باقاعدہ رونے لگی
حنا چپ کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا
سیرت نے اس سے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آرہی نہ کہ ایک ہی رات میں پمپل آیا تو آیا کہاں سے
سیرت نے تجسس سے پوچھا
مجھے کیا پتا حنا کواس کی معصومیت پہ غصہ آ رہا تھا
تمہیں پتہ ہونا چاہیے حنا تمہارے فیس پے آیا تو آیا کیسے ایسے ہی تو اٹھ کر آنے سے رہا
ہاں بالکل ٹھیک کہا تم نے ایسے ہی تو آنے سے رہا پہلے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا
پھر اجازت مانگی شرماتے ہوئے کمرے میں آیا میرے پاس آیا
اور پھر ڈرتے ڈرتے مجھ سے پوچھنے لگاحنا باجی آپ کے فیس پےنکل آؤں
حنا نے سیرت کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے کہا
آج حنا کہ رخصتی تھی اور اس کے فیس پے پمپل آگیا
شاید اتنے دنوں سے میک اپ کرنے کی وجہ سے
یا شادی کی ترکیبات میں آئلی چیزیں کھانے سے
لیکن جس کی وجہ سے آیا حنا کے فیس پے پمپل نکل چکا تھا
جس کی وجہ سے حنا کو رونا آ رہا تھا
وہ تو اپنی شادی پہ دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن لگنا چاہتی تھی لیکن
شاید اس کی قسمت میں خوبصورت دلہن بننا لکھا ہی نہیں ہے یہ حنا کی سوچ تھی
آج زاویار کی بارات تھی
زاویار کو سالار پر بہت غصہ تھا وہ اس سے ناراض نہیں تھا
پر اس نے کہا تھا کہ اس کی شادی کے ہر تقریب میں شامل ہوگا
سالاراس کی شادی میں شامل نہ تھا بلکہ وہ تو منگنی والے دن کی ترہی جا چکا تھا
منگنی والے دن ہی وہ سالار سے فون پر بات کر کے اس پر اپنا غصہ نکال چکا تھا
لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ سالار موڈی انسان ہے
جب اس کا موڈ ہوتا ہے تو سب سے اچھے سے بات کرتا اور اگر موڈ نہیں ہوتا تو کسی کو پوچھتا تک نہیں ہے
لیکن وہ اپنی چھوٹی بہن دریا سے بے انتہا محبت کرتا تھا
اور دریا کی سالار کے ساتھ دلی وابستگی کے بارے میں بھی اچھے سے جانتا تھا
اور اپنی بہن کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا
اسی لیے وہ سالار کے ہر قسم کے رویے کو برداشت کر لیتا
بھائی آپ تیار ہیں وہ سالار کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب دریا آئی
دریا میں بالکل تیار ہوں دیکھو کیسا لگ رہا ہے تمہارا بھائی زاویار نےمسکراتے ہوئے کہا
بھائی آپ تو بہت ہیںڈسم لگ رہے ہو مجھے لگتا ہے کہ
پرانے زمانے میں لڑکیاں شادی والے دن بہت خوبصورت لگتی تھی اس لیےانہیں ڈولی میں چھپا کر سسرال بھیجا جاتا تھا
تاکہ انہیں کسی کی نظر نہ لگے لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج آپ کو ڈولی میں چھپا کر آپ کے سسرال روانہ کرنا پڑے گا تاکہ آپ کو کسی کی نظر نہ لگے
دریا نے مسکراتے ہوئے کہا
تھینکیو دریا لیکن تمہاری بھابھی سے تو کم ہی اچھا لگوں اس نے تو پہلی نظر میں اپنے حسن کا دیوانہ بنا دیا ہے
ہاں بھابی بہت خوبصورت ہے دریا نے دل سے تعریف کی
آخیر پسند کس کی ہے زاویار نے اپنے کرتے کے کالر کھڑے کرتے ہوئے کہا
میرے بیسٹ بھائی کی بیسٹ چوئس ہے
دریانے زاویارکے گلے لگتے ہوئے کہا
حنا کا پمپل والا مسئلہ بیوٹیشن نے حل کردیا
بیوٹیشن نے اس طرح سے میک اپ کیا کہ وہ پمپل نظر ہی نہ آئے
لیکن پھر بھی حناخوش نہیں تھی
کیونکہ آج اسے ان عورتوں اور اپنے آپ میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا تھا جو
خوبصورت نہیں ہوتی لیکن میک اپ کی وجہ سے خوبصورت نظر آتی ہیں
اسے لوگوں کی مثالیں یاد آنے لگی جن پر وہ اکثر ہستی تھی
کہ لڑکی صرف شادی والے دن خوبصورت نظر آتی ہے
بعد میں ماسی لگتی ہے
پھرحناکی رخصتی کا وقت بھی آگیا
جب حنا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے اپنوں کو چھوڑ کر سسرال آگئی
جہاں زاویارکی بیوی کے بہت خوبصورت ہونے کے بہت چرچے تھے
سعد کی طبیت خراب تھی جس کی وجہ سے آیت نےشادی پے جانے سے انکار کر دیا
اور ویسے بھی مہراج جانتا تھا کہ آیت گھبرا جاتی ہے
اس لیے اس نے زیادہ فورس نہیں کیا
وہ یہی چاہتا تھا کہ اس وقت آیت صرف سعد پردھیان دے جس کی طبیعت خراب ہے
مہراج شادی میں بھی بہت پریشان رہا وہ ہر وقت سالار کے بارے میں ہی سوچتا رہا
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط
اپنے چاچو سے کیا ہوا وعدہ نبھائیں سالار سے دوستی
جب آیت کو پانے کا ہر راستہ بند ہوگیا تھا تب سالار نے اس کی مدد کی تھی
تب سالار اس کے ساتھ کھڑا اپنی دوستی نبھا رہا تھا
اور مہراج کی شادی میں سب سے بڑا ہاتھ سالار کا تھا
جب جب مہراج آیت کی یادوں میں بکھرتا سالار نے اسے سہارا دیا تھا
سالار کے سینے سے لگ کر وہ آیت کے نام سے روتا تھا
اور آج سالار اسی موڑ پر کھڑا تھا
جہاں اسے ایک دوست کی ضرورت تھی
سالار ایک جنونی انسان تھا اپنی پسند کی چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر جانے والا
جب سالار نے مہراج کو یہ بتایا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو شادی میں اس سے باتیں کر رہی تھی تو
تب مہراج کو سالار کی پسند پر خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانگی بھی ہوئی
کل سیرت کا نکاح تھا اور مہراج نے سوچ لیا تھا کہ
وہ سالار سے کچھ نہیں چھپائے گا
یہی سوچتے ہوئے اس نے فون نکالا اور سالار کو فون کرنے لگا
اسے زاویار کے کمرے میں لایا گیا
آج اس کمرےکو بہت خوبصورتی سے ڈیکوریٹ بھی کیا گیا تھا
ہرچیز کی خوبصورتی دیکھتے ہوئے پتا نہیں کیوں حنا کو اپنی خوبصورتی کم لگی
کتنے ہی لوگوں نے میری تعریف کی لیکن یہ سب جھوٹ ہے
میں بالکل خوبصورت نہیں ہوں میرے فیس پہ کتنا بڑا پمپل ہے
یہحنا کی زندگی کا پہلا پمپل تھا پتا نہیں یہ کبھی جائے گا یا نہیں حنااپنےپمپل کا رونا رو رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی
اتنے ہیوی میک اوور کی وجہ سے حنا کی گردن پہلے جھکی ہوئی تھی
اسے آتے دیکھ کر اورجھک گی
زاویارنے بڑی محبت سےحنا کو سلام کرتے ہوئے اس کے برابر آ بیٹھا
اور چاہت سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا
پتہ ہے میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے مجھے تم سے پیار ہوگیا تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو
میری نظر میں اس دنیا کی سب خوبصورتی تم پہ آکے ختم ہو جاتی ہے حنا کا سر اور جھک گیا
اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے
کیونکہ اسےزاویارکی یہ تعریف بھی جھوٹی لگ رہی تھی
حنا نے زاویار کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے
زہے نصیب سو بار کہیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ زاویار نے پھر سے اس کا ہاتھ تھام لیا
میں آپ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی زاویار میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں حنا کی بات پر زاویار کو جیسے کرنٹ لگا
کیسادھوکہ……………..
اس نے ایک ہی سیکنڈ میں حنا کا ہاتھ چھوڑ دیا حنا بیڈ سے اٹھ گئی
کہاں جا رہی ہو تم زاویار نہیں سے اٹھتے دیکھتے ہوئے پوچھا
میں ابھی آئی یہ کہہ کر وہ واشروم میں چلی گئی
نہ جانے کیوں زاویار کو دریا کے اندشے سچے لگنے لگے
اگر اس کی شادی زبردستی کی گئی ہوئی تو
ہوسکتا ہے وہ اس شادی سے خوش نہ ہو کتنے اندشے زاویار کے ذہن میں گھومنے لگے
زاویارکو اس پر غصہ آنے لگا
اگر حناشادی سے خوش نہیں تھی تو یہ بتا سکتی تھی
میں کونسا اس سے زبردستی شادی کر لیتا میں پہلے اس کی خواہش کا احترام کرتا
زاویار کورہ رہ کرحنا پے غصہ آ رہا تھا
تقریبا پانچ منٹ کے بعد وہ منہ دھوکر واش روم سے باہر آگئی
اور کسی مجرم کی طرح سر جھکا کے اس کے سامنے کھڑی ہوگئی
زاویار حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
کیونکہ زاویار کے ذہن میں ابھی تک وہ لفظ دھوکہ گردش کررہا تھا جوحنا تھوڑی دیر پہلے استعمال کرکے واش روم میں گئی تھی
تم اس طرح سے کیوں کھڑی ہو کچھ بولتی کیوں نہیں ہو تم
کونسی بات بتانا چاہتی ہو کونسا دھوکا دے رہی ہو تم مجھے
زاویارنے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش شادی کی پہلی رات اس طرح سے بات کرے گی
یہ دھوکا ہی تو ہے حنا دھیرے سے منمنائی
اور اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا
میں بالکل بھی خوبصورت نہیں ہوں دیکھیں میرے چہرے پر کتنا بڑا پمپل ہے اس نے معصومیت سے کہا
جس پر زاویار کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
میں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتی آپ کو لگتا ہے کہ میں خوبصورت ہوں اسی لئے آپ نے مجھ سے شادی کی لیکن میں بالکل بھی خوبصورت نہیں ہوں میری ساری خوبصورتی پمپل کھا گیا
آج رات اب میری بہت ساری تعریف کریں گے لیکن جب صبح اٹھیں گے تب کہیں گے رات کو تو کوئی اور لڑکی تھی ابھی یہ کوئی اور آ گئی ہے
پھر آپ کہیں گے کہ میں نے آپ کو دھوکا دیا لیکن میں آپ کو دھوکا نہیں دینا چاہتی
زاویار حیرانگی اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں بیڈ پر آکر بیٹھ گیا
زاویار نے اس کے چہرے پہ دیکھا جہاں پہ ایک نکتہ نما پمپل تھا
تو یہ وہ دھوکا تھا جو تم مجھے نہیں دینا چاہتی تھی
حنا نے زور زور سے گردن ہاں میں ہلائی
اس کے لئے تم نے پچھلے پندرہ منٹ سے مجھے سولی پر لٹکا کر رکھا تھا
حنانے گردن جھکا لی
پر اب تو دھوکا ہو گیا میرے ساتھ اب میں کیا کروں
زاویار نے دلچسبی سے پوچھا
دوسری شادی کرلیں وہ بھی مجھ سے زیادہ حسین لڑکی سے
حنا نے اس کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا
جس پرزاویار نے زور دار قہقہہ لگایا
میری جان اس دنیا میں میری نظروں میں تم سے زیادہ حسین اور کوئی نہیں ہے
اوریہ پمپل تمہارے حسن کو بالکل بگاڑ نہیں سکتا
اور ایسا ایک کیا بیس پیمپز بھی نکل آئے تب بھی تمہیں دنیا کے سب سے خوبصورت کہوں گا
زاویار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
20 جبکہ حنا کی سوئی بیس پے اٹک گی
نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا تمہیں کیوں پیمپز نکلے گیے یہ بھی چلا جائے گا کچھ دن میں
زاویار کو اس کی روتی شکل دیکھ اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اپنی سکن کے معاملے میں کافی ٹچی ہے
تو میں حوبصورت ہوں نہ حنا نے بے یقینی سے پوچھا
محترمہ منگنی والے دن تمہیں کہا تھا کہ میں تمہیں لفظوں میں نہیں بتاؤں گا
بلکہ عمل کر کے دکھاؤں گا کہ تم کتنی حسین ہو
یہ کہتے ہوئے زاویار اس کے چہرے پر جھکا
مجھے نیند آرہی ہے حنا نے شرماتے ہوئے کہا
ایسی کی تیسی تمہاری نیند کی زاویار نےاسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے کے آیا
تو اب بتانا شروع کروں کہ تم کتنی حسین ہوحنا کےچہرے جھکتے ہوئے اس نے شرارت سے کہا
حنانےشرماتے ہوئے اسکے سینے میں اپنا منہ چھپایا
اور یہ حسین رات آہستہ آہستہ اپنے منزل کی طرف رواں ہوئی.
