259K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 22

سارے راستے میں اس کی گاڑی میں سسکیوں کی آوازیں گونجتی رہی اسے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی وہ جانتا تھا کہ دل کا درد صرف آنسو سے ہی ہلکا ہو سکتا ہے
اس نے کبھی نہیں چاہاتھا کہ سیرت کے گھر والے کے ساتھ چاہا تو سالار نے بھی نہیں تھا وہ تو صرف اپنی محبت کو حاصل کرنا چاہتا تھا
لیکن سیرت نے ٹھان لیا تھا کہ اب وہ اس شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گی جس کی وجہ سے اس کا اکلوتا رشتہ اس سے چھن چکا تھا اس کا بھائی مرگا اسکی بھابھی اپنے بھائیوں کے درپے بیٹھی ہے ایسے بھائیوں کے جنہوں نے کبھی سے مڑ کر بھی نہیں دیکھا
حویلی واپس آنے کے بعد سیرت ایک بار پھر اسی کمرے میں بند ہو چکی تھی
اسے اس عورت کی باتیں یاد آنے لگیں جو اکثر ان دونوں بہنوں کے ہمیشہ چادر لینے پر ان کی تعریف کرتی تھی اج وہ اسی چادر پہ گندے داغ لگا رہی تھی آج اس کا کردار بکھیرا گیااور وہ خاموشی سے سنتی رہی
کیونکہ مزمل نے اسے اس کے بھائی کی قسم دی تھی کہ چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے وہ اپنے منہ سے ایک لفظ نہیں نکالے گی
مزمل جانتا تھا کہ وہ وہ رشتے نبھانے اور بنانے والی لڑکی کبھی اپنے بھائی کی قسم نہیں توڑے گی اور مزمل نے اس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ کر اسے حویلی واپس لے آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات شاہ حویلی واپس آیا تو سب سے پہلے وہ سیرت کو دیکھنا چاہتا تھا اس لئے سب سے پہلے اس کے کمرے میں آیا
اس کے کمرے سے سسکیوں کی آوازیں گونج رہی تھی
وہ کمرے میں آیا تو وہ زار و قطار زمین کے بیٹھی رو رہی تھی
وہ فورا اس کے قریب آیا کیا ہوا سیرت اس طرح سے کیوں رو رہی ہو
اتنے دنوں میں سیرت نورمل ہوچکی تھی یہ سچ تھا کہ وہ بہت روتی تھی لیکن اس طرح سے نہیں روتی تھی
سیرت کیا ہوا میری جان بتاؤ تو سہی کیوں رو رہی ہو تم سلار نے سے تھامنے کی کوشش کی
ہاتھ مت لگانا مجھے دور ہٹو مجھ سے عاصم سالار کو دھکا مار کہ خوب سے دور کیا
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا سالار شاہ بیبی نہیں اللہ تمہیں غرق کرے گا ساری زندگی ترکوں کے اللہ تم سے تمہاری زندگی کا سب سے عزیز رشتہ چھین لے جس طرح تم نے مجھ سے میرے عزیز رشتے سنے ہیں
وہزاو قطار رو رہی اس کی وجہ سے سالار اس کے لفظوں کو سمجھ نہیں پا رہا تھا سالار کا سارا دھیان اس کی طرف تھا
سینٹ میری جان مجھے بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے تم اس طرح سے رو کیوں رہی ہو سالارنے سے اپنے قریب کرنے کی کوشش کی
دور ہٹو کا کہانہ مجھے مت
چھو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ پھر سے چلائی
ٹھیک ہے بابا ٹھیک ہے نہیں ہاتھ لگا رہا میں تمہیں پر اس طرح سے رونے کی وجہ تو بتاو
سیرت اسکی بات کوئی اگنور کرتے ہوئے اس سے منہ پھیر کر پھر سے رونے لگی
اسے اسی طرح روتے چھوڑ کے کمرے سے باہر آ گیا
پروین وہ غصے سے چلاتے ہوئے نوکرانی کو بلا رہا تھا
جی جی شاہ سائئں وہ دوڑتے ہوئے اس کے قریب آئیں
کیوں رو رہی ہے وہ اس نے غصے سے ڈھاتے ہوئے پوچھا
سائیں پروین اس کا غصہ دیکھ کر کچھ بول نہیں پا رہی تھی
بولو چپ کیوں کھڑی ہو وہ پھر غصے سے دھاڑا
مزمل کو پتہ ہوگا پروین نے اپنا آپ بچانے کے لئے مزمل کا نام لیا
مزمل کو کیسے پتا ہوگا سالار نے پھر پوچھا
شاہ سائیں وہ آپ مزہمل سے ہی پوچھے پروین لے اپنے اپ کو بچایا
حویلی میں گونجنے والا اگلا نام مزمل کا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روتے روتے نہ جانے کب سیرت کی آنکھ لگ گئی
پھر آنکھ کھلی جب اس کے دروازے پر کوئی زور زور سے دستک دے کر چلا رہا تھا جب سےسالار نے اس کے کمرے میں آنا شروع کیا تھا اس دن سے یہ دروازہ اکثر اندر سے لاک رکھتی
اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ایک 22 23 سال کی لڑکی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں ایک بچی تھی
بی بی جی میرے شوہر کو بچالو شاہ سائیں اسے مار دیں گے وہ لڑکی اس کے پیروں میں بیٹھی منتیں کر رہی تھی ۔۔
اس طرح سے یہاں کیوں بیٹھی ہیں کیا ہوگیا ہے آپ اس طرح سے کیوں رو رہی ہیں کیوں مار رہے ہیں شاہ سائیں کیسی کو
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ لڑکی اس طرح سے کیوں رو رہی ہے
جی وہ شاہ سائیں میری شوہر کو بہت مار رہے ہیں آپ میرےساتھ چلیے اس وقت آپ ہی ان کو بچا سکتی ہیں
وہ دیکھنے میں ایک بہت خوبصورت اور کافی اچھے حال میں لگ رہی تھی
وہ جب سے یہاں آئی تھی اسے یہاں کوئی کڑکی ایسی نہ تھی اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ اپنا بہت خیال رکھتی ہے لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ اس طرح سے اس کے سامنے کیوں رو رہی ہے
کون ہے تمہارا شوہر اور کہاں ہے لے کر چلو مجھے اس کے پاس شاہ سائیں کا تو کام ہے مظلوم انسانوں پر ظلم کرنا
لے کر چلو میں دیکھتی ہوں کیسے ہو تمہارے شوہر کو مارتے ہیں
وہ اس لڑکی کے ساتھ حویلی سے باہر آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے حویلی سے بننے پچھلے کمرے کی طرف لے گئی جہاں سے کافی شور کی آواز آرہی تھی
دروازے پر کھڑے ہو کے دیکھا تو شاہ کسی کو چابک کے ساتھ بہت برے طریقے سے مار رہا تھا
خیرت تو اسے اس بات کی تھی کہ سامنے کھڑا شخص آواز تک نہیں نکال رہا تھا
جھٹکا تو اسے تب لگا جب اس وہ آگے بڑھی اور سامنے مزمل کو پایا
یااللہ ایک آہ بھر کر وہ آگے بڑھی
اورشاہ کا چابک والا ہاتھ تھام لیا چھوڑدیں انہیں رحم کریں ان پر کیا کر رہے ہیں آپ مر جائیں گے وہ اس کا ہاتھ میں وہ چلا رہی تھی
کس کی اجازت سے تم یہاں آئی وہ پہلی بار اس پہ چلایا تھا اس کے چلانے پر اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس سے دور ہٹی
میں پوچھتا ہوں تم یہاں کس کی اجازت سے آئی چابک کو دور پھینک کر وہ اس کی طرف بڑھا
بلکہ یہاں نہیں یہ بتاؤ کہ کس کی اجازت سے تم یہاں سے باہر گئی تھی
سرخ آنکھیں لیے وہ اس کی طرف برا رہا تھا آج اسے صحیح معنوں میں خوف کا مطلب سمجھایا تھا
میں نے منع کیا تھا نا تمہیں میں نے کہا تھا تمہاری غلطی معاف نہیں ہوگی تم سے محبت کرتا ہوں اس لئے تمہیں شادی کرنے کا وقت دے رہا تھا لیکن نہیں اب ہمارا نکاح کل ہی ہوگا
سالار نے سیرت کے سر پر دھماکا کیا تھا
زینب بی بی جی کو یہاں کیوں لے کے آئی لےجاؤ انہیں یہاں سے مزمل نے اپنی بیوی سے کہا جو ایک کونے میں کھڑی رو رہی تھی
زینب فوراً اپنے شوہر کے تکمیل حکم کی تکمیل کرتے ہوئے سیرت کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگی جب کہ اس کے پیچھے ہی سالار بھی باہر جانے لگا
جب مزمل نے اس کے پیر کو پکڑلیا
ناشاہ سائیں یا تو آج میری جان نکال دو یا پھر مجھے معاف کر کے اس کمرے سے باہر جاؤ میں جانتا ہوں جو غداری میں نے کی ہے اس کے بعد معافی نہیں ملتی
اس لیے بہتر یے کہ آپ مجھے گولی مار دی مزمل نے اپنی جیب سے پستول نکالا اور شاہ کے ہاتھ میں رکھا
شاہ سائیں ماردیں مجھے میں آپکا غدار ہوں لیکن میں کیا کرتا وہ مجھے اپنا بھائی کہہ رہی تھی اور بس ایک بار اپنے بھائی سے ملنے کی خواہش کر رہی تھی
آپ تو جانتے ہیں کہ میرے پاس کبھی کوئی رشتہ نہ رہا پہلی بار کسی نے بھائی کہہ کر پکارا تھا تو مجبوراًاپنے دل کی سن کر میں بی بی کو وہاں لے گیا
میں جانتا تھا کہ آپ اس کی اجازت کبھی نہیں دیں گے
شاہ سائیں میں آپکا گناہگار ہوں میں نے آپ کے ساتھ غداری کی ہے میں معافی کے لائق نہیں ہوں آپ مجھے مار دیں
مزمل اس کے قدموں کے گرا مسلسل رو رہا تھا
اٹھو مزمل اور جا کر میرے نکاح کی تیاری کرو اب تم سیرت کے بھائی ہو تونکاح کی ساری ذمہ داریاں تم سنبھالو گے اس نے مزمل کو کھڑا کیا اور اسکا کندھہ تھپتھپا کر باہر جانے لگا اور ہاں آج کے بعد ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہونی چاہیے مزمل میرے پاس تم جیسے وفادار بہت کم ہے اور میں انہیں کھونا نہیں چاہتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری حویلی کو کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا اس حویلی میں آج اس تقریب کے مہمان صرف گھر کے نوکر تھے سالار نے اپنی خوشیوں میں کسی کو شامل نہ کیا تھا
سیرت نکاح کے لیے تیار نہیں ہو رہی تھی بیوٹیشن منتں کر کرکے تھک چکی تھی
سر وہ لڑکی نہیں مان رہی ہے ہم اسے تیار کرنے کی بہت کوشش کر چکے ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو ہاتھ تک نہیں لگانے دے رہی یہاں تک کہ ہمارا قیمتی کوسٹمیٹک سامان تک توڑ چکی ہے
بیوٹیشن اس کے پاس آکر اپنے سامان کا رونا رونے لگے
بکواس بند کرو اور جاکر اسے تیار کرو
میں تمہاری کوئی بھی بکواس سننے میں بالکل انٹرسٹڈ نہیں ہوں سالار نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا
وہ بیوٹیشن ڈرکر واپس جانے لگے
ان کو کیسے سمجھاؤں کہ جب وہ لڑکی تیار ہونے کے لیے راضی ہی نہیں ہے تو ہم اسے کیسے تیار کریں بیوٹیشن نے اپنی ساتھی سے کہا جو خود بھی حیران و پریشان کھڑی تھی
پھر وہ اندر جاکر ایک اور کوشش کرنے لگی
جب حویلی کے باہر گاڑی روکی اور مہراج گاڑی سے نکلا اور حویلی کے اندر آیا سالاد اٹھااور اس کے قریب آ کر اسے گلے لگایا
یار اس سے زیادہ مزید تجھ سے ناراض نہیں رہ سکتا اب تو شادی بھی کرنے جارہا ہوں اب تو خوش ہو جا سالار نے اس سے ملتے ہوئے کہا
جب اس کے پیچھے دیکھا جہاں سلمان صاحب اور سارہ بیگم کھڑی تھی
اس کا مطلب تھا کہ اس کے جگری دوست مہراج نے ایک بار پھر سے دھوکا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پوچھتا ہوں کون ہے وہ لڑکی جسے تم اٹھا کے لائے ہو سلمان صاحب دھاڑے
یہ یقینا وہی لڑکی ہوگی جس کے گھر تم نے ہمیں بھیجا تھا
کیوں اس معصوم کی زندگی برباد کر رہے ہو سلمان صاحب بہت غصے میں تھے جبکہ سالار کیا سارا دھیان مہراج کے چہرے پر تھا
جو نظریں زمین میں گاڑے کھڑا تھا
میں نے تیرے لیے کیا کچھ نہیں کیا مہراج اور تو میرا ایک راز ۔۔راز نہیں رکھ پایا اس نے دکھ سے مہراج کی طرف دیکھا جبکہ سلمان صاحب کی بات کو مکمل اگنور کر چکا تھا
سالار پہلے مجھ سے بات کرو ابھی کے ابھی اس لڑکی کو اس کے گھر چھوڑ کے آؤ سلمان صاحب غصے سے بولے
کہیں نہیں جائے گی وہ اس گھر سےاب وہ یہی رہے گی ہمیشہٰ سالار کی آواز سلمان صاحب سے تیز تھی
آپ میرے بہت سارے رشتے چھین چکے ہیں مزید آپ کو اجازت نہیں دوں گا کہ آپ مجھ سے میرے اپنے دور کرے
سلمان صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بے خوفی سے بولا
جبکہ اس کے الفاظ پر سلمان صاحب اندر سے کٹ چکے تھے
ٹھیک کہا تم نے سالار میں تم سے بہت سارے رشتے چھین چکا ہوں تمہارے بہت سارے اپنے تم سے دور کئے ہیں لیکن سیرت تمہاری اپنی نہیں ہے
وہ ایک معصوم لڑکی ہے جس کے ساتھ ظلم کر رہے ہو
چھوڑ دو اسے وہ تم سے 12 سال چھوٹی ہے سلمان صاحب نے اسے عمر کا احساس دلایا
آپ کی یہ بیگم صاحبہ آپ سے 15 سال چھوٹی ہیں سلمان صاحب سالار چہرے پہ طنزایا مسکراہٹ لیے بولا
مجھے نہیں لگتا کہ آپ کی وجہ اس قابل ہے کہ کے اس سے مدنظر رکھ کر میں سیرت سے شادی نہ کرو
ٹھیک ہے میں اس لڑکی سے پوچھتا ہوں اگر وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے تو میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کرواؤں گا
سلمان صاحب نے آخری حربہ آزمایا
جس پر سالار کے چہرے کا رنگ زرد ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالارکو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا سیرت نے نہ صرف شادی سے انکار کیا بلکہ اب تک اس کے ساتھ ہونے والی ساری کہانی بھی سنائی
جس کے بعد سلمان صاحب غصے میں آچکے تھے اور اب وہ کسی بھی قیمت پر سالار سے سیرت کی شادی کرنے کے لیے راضی نہ تھے بیشک سالار ان کا بیٹا تھا لیکن اس کی ضد پہ ایک مظلوم لڑکی کی زندگی برباد نہیں ہونے دے سکتے تھے
سالار کو اس وقت کسی کی پروا نہ تھی سوائے اپنے اس وقت اگر اسے کسی پر غصہ تھا تو وہ صرف مہراج آج اس کا دل چاہا کہ مہراج کا منہ توڑ دے جس کے لیے اس نے اتنا کچھ کیا اسی نے اس اس کو دھوکا دیا
سالار نے سب کچھ بھلا کر مہراج کو اپنی خوشی میں شامل کیا تھا لیکن مہراج نے سب کچھ سلمان اور سارہ کو بتا دیا
ایک بات تو طے تھی کہ سالار مہراج کو کبھی معاف نہیں کرے گا
سیرت کے شادی سے انکار نے سالار جنونی بنا دیا تھا
سلمان صاحب نے جب سیرت کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا تو سالار جیسے پاگل ہوگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کہیں نہیں جائے گی سالار نے صرف کا ہاتھ پکڑا بلکہ کھینچ کر اپنے قریب کر لیا
اسے اپنے سینے میں بھجے وہ سلمان صاحب کے سامنے کسی دیوار کی طرح کھڑا ہوگیا تھا
باپ ہونے کا لحاظ تو اس نے ویسے بھی کبھی نہ کیا تھا تو اور کسی بات کا لحاظ کیا کرتا
کس رشتے سے رہیں گی یہ تمہارے ساتھ یہ تمہارے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی سالار
سلمان صاحب نے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی کیونکہ وہ اس کی ضد سے اچھی طرح سے واقف تھے آج تک کوئی چیز نہ تھی جسے سالار نے چاہا وہ نہ ملی ہو
بابا یہ بچی ہے یہ نہیں سمجھ سکتی اس کو بھی اندازہ نہیں کہ میں سے کتنا پیار کرتا ہوں جب اسے پتہ چلے گا
سالارشاہ سے عشق کرتا ہے تو آپ دیکھیے گا یہ میری محبت کا جواب محبت سے دے گی
تم جیسے آوارہ لڑکے پیار محبت کا نام برباد کر رہے ہو فقط”” ایک لفظ عشق”” کے نام پہ اس لڑکی کی زندگی تباہ نہیں ہونے دوں گا سلمان صاحب غصے سے بولے تھے
بابا آپ نے اب تک اپنے بیٹے کو جانا ہی نہیں سالار شاہ “”اک لفظ عشق “”” اس پر اپنا آپ لٹا دے گا
بابا پلیز سمجھنے کی کوشش کرے میں مر جاؤں گا اس کے بغیر میں سچ میں مر جاؤں گا بابا میں آپ کو مر کر دکھاؤں گا اگر کسی نے سیرت کو مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کی تو میں اپنا آپ تباہ کر دوں گا
سالار کی آنکھیں کسی انگارے کی طرح سرخ ہو چکی تھی پتھریلا لہجہ اور چہرے پر پسینے کی بوندیں اس کے لمبے بال جو اکثر وہ پیچھے باندھ کے رکھتا تھا وہ اس وقت اس کے چہرے پر اسے
وحشی بنا رہے تھے
نہیں سالار میں تمہیں اس طرح کسی لڑکی کی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گا
اب آپ مجھ سے سب کچھ لے لیں آپ کو جو کچھ چاہیے آپ کیا چاہتے ہیں میں سب کروں گا گا لیکن سیرت کو مجھ سے نہ چھینے
بابا آپ چاہتے ہیں میں غلط کام چھوڑ دوں میں سب غلط کام چھوڑ دوں گا سب کچھ چھوڑ دوں گا آپ مجھ سے سب کچھ لے لیں
کسی معصوم بچے کی طرح سالار اپنا کھلونا اپنے باپ سے مانگ رہا تھا اس وقت وہ یہ بھول چکا تھا کہ یہ کھلونا نہیں بلکہ جیتی جاگتی انسان ہے جس کے اپنے کچھ جذبات ہی کچھ احساسا ت ہیںا
سلاراسے اپنے سینے لگاےاپنے آپ میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا
جیسے آج اسے اس سے چھین لیا جائے گا لیکن سالار اپنی چیزیں کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا تھا کبھی کسی سے کسی کو اپنی چیز نہیں دیتا اگر بچپن سے ہی ایسا تھا اگر اسے کوئی چیز پسند آ جاتی اور وہ اسے نہ ملتی اس چیز کا وہ حال کرتا کہ وہ کسی اور کے قابل بھی نہ رہتی
لیکن سلمان صاحب نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ کبھی سیرت کی زندگی برباد نہیں ہونے دیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن سے شام۔ شام سے رات ہو چکی تھی
سیرت دوبارہ اسی کمرے میں بند ہو چکی تھی سلمان اور سارہ خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھے تھے چپ کی مہر آج اسے سمجھا سمجھا کر واپس جا چکا تھا
جب کہ سالار دروازے پہ بیٹھا تھا جیسے اس کی سیرت کو چھپا کر اس سے دور کر دیا جائے گا
اسے اپنے باپ پر بھروسا نہیں تھا لیکن اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا
وہ صرف اور صرف اپنی ماں کی بات مانتا تھا
کسی کبھی اپنے باپ سے اتنی نفرت نہ ہوتی بچپن میں ایک بار گاؤں میں ایک بیماری شروع ہوئی جو سارے بچوں میں پھیل چکی تھی بچے بری طرح بیمار ہوتے اور پھر لاغر ہو کر مر جاتے پھر انھیں بچانے کے لیے امریکن ڈاکٹر نے انجیکشن دیا
جو کہ بہت زیادہ مہنگا اور کم مقدار میں تھاسلمان صاحب نے جتنا ہو سکا گاؤں والوں کی مدد کی پھر ان کے پاس ایک آخری انجیکشن بچہ ۔۔اسی دوران سالار بی بیمار پڑ گیا
سلمان صاحب اس کے لیے انجیکشن لایا تبہی ایک بوڑھی عورت اپنا بیمار بیٹا لے کے آئیں
اور رونے لگی کہ میرا بیٹا بہت بیمار ہے اسے بچا لیں سلمان صاحب نے وہ انجیکشن سالار کو لگانے کی بجائے اس بچے کو دے دیا
ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ یہ آخری انجیکشن ہے اگر یہ سالار کو نہ لگا تو سالارمر سکتا ہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ میرا بیٹا اس بچے کی دعاؤں سے بچ جائے گا
اس انجیکشن سے مزمل کی جان تو بچ گئی لیکن سلمان صاحب سالار کی نفرت کا نشانہ بن گئے ہر گزرتے دن کے ساتھ سالار کی نفرت اپنے باپ کے لیے بڑھتی جا رہی تھے
وہ جانتے تھے کہ سالار ضدی ہے اس کی اکڑ خاندانی ہے کھبی یہی اکڑ سلمان صاحب اپنے آپ میں پاتے تھے
وہ سمجھتے تھے کہ سالار ضد کے معاملے میں ان پر ہے لیکن بہت جلد انہیں سمجھ میں آ گیا کہ سالار ضد کے معاملے میں ان سے بھی چار نہیں بلکہ چار سو قدم آگے ہے.