259K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Lafz Ishq ( Episode 27)

سالارا سے لے کر کسی گھر میں آیا تھا یہ گھر پہ بہت برا نہیں تھا لیکن بہت زیادہ خوبصورت تھا اس کر کے ہر چیز بہت قیمتی تھی ہر طرف پودے ہی پودے لگے تھے تھے جب آیت اپنے گھر میں رہتی تھی تب سے پودے لگانے کا بہت شوق تھا لیکن بھائی کو کچھ پودوں سے الرجی تھی خاص کر زیادہ خوشبو والے پھولوں سے جس کی وجہ سے اس کا یہ شوق ادھورا ہی رہا لان میں قدم رکھتے ہیں اسے لگا کہ یہاں آیت کے پسند کا ہر پودا موجود ہے
آج کسی کو میرا یہاں آنا بالکل برا نہیں لگے گا سالار ہے اونچی آواز سے کسی کو سناتے ہوئے کہا
جب کہ اس کی آواز سن کر کوئی بھاگتا ہوا باہر آئے
تیرا ان مجھے ویسے بھی برا نہیں لگتا مہراج نے اسے گلے لگایا
ہاں لیکن آج کسی اور کو بھی برا نہیں لگے گا آخر کار ان کے لئے گفٹ لے کے آیا ہوں اس نے سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس پر مہراج ہنسہ
تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا اندازہ ٹھیک ہی تھا یہ آیت کا ہی گھر ہے
تجھے ایک بات بتاؤ آج میری بیوی نے مجھ سے بہت ساری باتیں کی ہیں سالار نے ایک اسٹائل میں کہا اس پر سیرت حیرت سے اس کا منہ دیکھا
مبارک ہو ۔۔ مہراج نے شرارت سے کہا
جبکہ وہ آیت سے نہیں ملنا چاہتی تھی لیکن پھر بھی آیت نے زبردستی اسے گلے سے لگایا اور اس سے گلے لگتے ہی سیرت کا دل بھر آیا وہ رونا چاہتی تھی لیکن آیت سے ناراض ہونے کی وجہ سے وہ اس کے سامنے ناروی
جب کسی بچے کی رونے کی آواز سنائی دی
سالار اس اور آیت کو مکمل اگنور کرکے اس نے مہراج سے پوچھا
یہ بے بی کہاں رو رہا ہے ۔۔؟کیونکہ ان کے گھر کے آس پاس کوئی گھر نہ تھا
گڑیا سعد جاگ گیا ہوگا میں لے کر آتی ہوں جواب آیت کی طرف سے آیا تھے وہ اٹھ کر اندر جانے لگی
میں نے آپ سے نہیں پوچھا تھا سیرت میں گویا یاد دلایا جس پر آیت مسکرائی
لیکن میں نے تمہیں بتایا ہے اور اندر چلی گئی
آیت کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا وہ مسکرائے جا رہی تھی شاید ہی شادی کے تین سال میں وہ آج تک اتنی خوش ہوئی تھی مہراج کا دل کر رہا تھا وہ اسے دیکھے جائے باربار اس کی نظریں آیت پر اٹھ رہی تھی تھی ۔۔
سعدکو لے کر باہر لان میں آ گئی جہاں یہ سب بیٹھے تھے
سالار بھائی آپ کہتے تھے نا کہ نہ تو میں اتنی کیوٹ ہوں اور نہ ہی مہراج تو سعد کس پے گیا ہے بےتکی بات پر سالار حیرت سے اسے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہوں میں نے کب پوچھا ۔۔؟
کیونکہ ان دونوں میں اتنے بے تکلفی کبھی نہ ہوئی تھی
تو میں آپ کو بتا دوں کے ساتھ اپنی خالہ پہ گیا ہے اس نے سیرت کی گود میں سعد کو رکھا اور خود مہراج کے ساتھ کرسی پہ بیٹھ گئی
بچے تو ویسے بھی سیرت کی کمزوری تھے اور سعد تو اس کی اپنی بہن کا بچہ تھا
اس کی گود میں آتے ہیں رونے لگا اسے روتا دیکھ کر سیرت فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی
سیرت سے بھوک لگی ہوگی ابھی سوتا ہوا اٹھا ہے نہ جاؤ کینی میں اسکا فیڈر پڑا ہے وہ ا سے پلاؤ
آیت کا اس طرح سے سیرت کو حکم دینا مہراج اور سالار دونوں کو حیران کر گیا
جبکہ آیت جانتی تھی کہ سیرت کے ساتھ جتنا بے تکلف رہا جائے وہ اتنی ہی اپنی لاتعلقی ختم کرے گی
اس کے حکم پر سیرت تو ویسے بھی یہاں سے جان چھڑانا چاہتی تھی اندر چلی گئی
اوئے میں اپنی بیوی کو یہاں تمہاری نوکر بنانے کے لئے نہیں لے کے آیا۔ سالار نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا
او ہیلو آپ کی بیوی پہلے میری بہن ہے تو پلیز میرے سامنے یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے
آپ سالار شاہ ہوں گے اپنے گھر میں یہ میرا گھر ہے اور سیرت بھی یہاں صرف میری بہن ہے آیت اسی کے انداز میں بولی
آئندہ لیکر ہی نہیں آؤں گا یہاں غلطی ہوگئی سالار نے تور نکالا جس پر مہرا ج مسکرایا
تو بوریا بستر اٹھا کر وہاں شفٹ ہو جاؤں گی
تو میں دھکے مار کے نکالوں گا
ٹھیک ہے میں گھر کے باہر ٹینٹ لگا لوں گی
میں تمہیں اپنی بیوی کو دیکھنے تک نہیں دوں گا
سالاد نے فیصلہ سنایا تھا
سالار بھائی یہ تو آپ کو دو تین دن میں پتہ چل ہی جائے گا سیرت مجھے دیکھنا پسند کرےگی یہ نہیں آیت کو یقین تھا کہ وہ سیرت کو منالے گی
اور میں یہ بھی دیکھوں گی کہ آپ کی شکل دیکھنا پسند کرے گی یا نہیں خیر میں آپ کو بتا دوں میں اورسیرت ہمیشہ سے ایک ہی ٹیم میں رہے ہیں تو آپ اپنے دماغ سے نکال دے کہ وہ کبھی بھی آپ کے ساتھ دوستی کرے گی وہ ہمیشہ میری ہی بہن رہے گی
آیت اپنی باتوں میں بہن والا غرور لے کر پہلی بار سالار سے اس وقت فری ہوئی تھی
اور اب کیوں نہ ہوتی اب تو ان کا رشتہ بھی بدل چکا تھا اور اس بلاؤں کو لے کر سب سے زیادہ خوش مہراج تھا
سعد چپ ہو چکا تھا یقینناً اس کی سیرت سے دوستی ہو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہراج اور سالار سعد کو لے کر کسی ضروری کام کے لیے گھر سے باہر جا چکے تھے
خیر ضروری کام تو کوئی بھی نہ تھا وہ صرف سیرت اور آیت کو اکیلے بات کرنے کا موقع فراہم کر رہے تھے
لیکن اس کے باوجود بھی نہ تو سیرت آیت کے پاس بیٹھ رہی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی بات سننے کو تیار تھی
ٹھیک ہے سیرت تجھے مجھ سے کوئی بات نہیں کرنی تو ٹھیک ہے میں صرف پانچ منٹ مانگتی ہوں میں پانچ منٹ میں اپنی بات کرکے تجھے تنگ نہیں کروں گی اب صرف پانچ منٹ نہیں دے سکتی اپنی بہن کو آیت نے افسردہ لہجے میں کہا
ٹھیک ہے آپ کو جو بھی کہنا ہے جلدی کہے گویا سیرت نے احسان کیا
سیرت ارمان مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا وہ صرف اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مجھے ایک رات کی دلہن بنا کر اپنے ساتھ لے کے جانا چاہتا تھا اگلی صبح ہی وہ مجھے طلاق دے دیتا
اتنا ہی نہیں سیرت ارمان نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی
اس کی بات نہیں مانی تو اس نے جھوٹا ویڈیو کلپ بنوا لیا اور مجھے بلیک میل کرنے لگا تھا
تو بتا سیرت کیا میں ایسے آدمی سے شادی کر سکتی ہوں ۔۔جس سے مجھے پیار کی کوئی امید ہی نہ ہو ۔۔جو صرف مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنائے ۔۔ میں یہ سب کچھ اپنے منہ سے اپنے بھائی کو نہیں بتا سکتی تھی ۔۔اور منت بھابھی کیا وہ میری بات کا یقین کرتی ارمان ان کا سگا بھائی تھا
اگر میں ان کو کچھ اس بارے میں بتاتی تو وہ ویڈیو بھائی کو دکھا دے دیتا
اور پھر بھائی وہ جیتے جی مر جاتے کہ وہ اپنی بہن کو نہیں بچا پائے ۔۔ارمان کے گندے ارادوں سے مجھے مہراج نے بچا تھا ۔۔سیرت مہراج بہت اچھے ہیں ۔۔میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔۔ یقین کر سیرت میرا ان سے شادی کا فیصلہ غلط نہیں ہے ۔۔یہ بات غلط ہے کہ میں گھر سے بھاگ گئی۔ کہ میرے پاس میری بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں تھا ۔وہ ارمان تو ایک رات میرے ساتھ گزار کر مجھے طلاق دے دیتا ہے پر میرا بھائی ساری زندگی تل تل مرتا
اور میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دے سکتی تھی بس اسی لیے میں نے گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا میں غلط تھی سیرت لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس سب میں بھائی کی جان چلی جائے گی اپنی آخری بات پر آنسووں کی ایک لڑی آیت کی آنکھوں سے ٹوٹی
جسے دیکھا سیرت نے فورا اسے گلے لگایا ۔آپی آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے اگر آپ کی جگہ میں ہوتی تو بھی شاید میں بھی یہی کرتی ۔۔سیرت نے اسے چپ کراتے ہوئے کہا ۔۔
اس میں آپ کی اور مہراج بھائی کی کوئی غلطی نہیں ہے اگر غلطی ہے تو صرف سالار کی
اگر وہ مجھے شادی والے دن اس طرح سے نہ اٹھاتا تو ہمارے بھائی ہمارے ساتھ بالکل ٹھیک ہوتے
۔۔نہیں سیرت بھائی کی موت ایسے ہی لکھی تھی اس میں سالار کی کوئی غلطی نہیں ہے وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہونے والا ہے
تم سالارکو ان سب کا قصوروار نہیں سمجھ سکتی آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
نہیں اپی ساری غلطی سالارکی ہے اور میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی
آیت نجانے کتنی دیر سمجھاتی رہی کہ سالار کی کوئی غلطی نہیں لیکن وہ اپنی بات سے ایک انچ پیچھے ہٹی
اس نے ان سب کا قصور وار صرف اور صرف سالار کو ٹھہرایا ۔۔ایت نے بھی تنگ آ کر اسے سمجھانا ہی چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر بھی سیرت نے سالار سے بالکل بات نہ کی اور وہ نجانے کیا کیا بولتا رہا اور سیرت گاڑی سے باہر دیکھتی اسے اگنور کرتی رہی
یہاں تک کہ اسے آئسکریم لے کے دی جو سیرت نے چپ چاپ کھالی کیونکہ لڑائی جھگڑے ناراضگی سب اپنی جگہ آئسکریم سیرت کی جان تھی لیکن پھر بھی اس نے آئس کریم احسان جتانے والے انداز میں لی ۔۔جبکہ آیت نے اچھی سالی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اسی سیرت کی ہر بات بتا دی
یہاں تک کہ یہ بھی بتا دیا کہ وہ اپنے جوتے کپڑے کتابوں سب کے نام رکھتی ہے
ویسے سیرت ہم اس گاڑی کا کیا نام رکھیں ۔۔سالار نے اس سے بات کرنے کے لیے بہانہ بناتے ہوئے پوچھا
جس پر سیرت ان کے جواب نہ دیتے ہوئے اپنے آئسکریم کے پیالے کی طرف سارا دھیان دے دیا
بنو رانی کیسا ہے۔۔؟ ۔۔سالار نے شرارت سے پوچھا
جب کہ وہ جانتا تھا کہ سیرت کی سائیکل کا نام بنورانی تھا ۔۔
یہ آدمی سیرت کی اتنی خوبصورت سائیکل کا نام اپنی گندی سی گاڑی کو دے رہا تھا ۔۔جو سیرت کو بالکل بھی پسند نہ تھا
اس لیے اس کو جواب دینے کی جگہ گھر آتے ہیں سیدھا سلمان صاحب کے کمرے میں آئی
بابا آپ اپنے بیٹے کو سمجھا دیں کہ میری بنورانی میری بائی سائکل تھی اور ان کی گندی سے گاڑی نام بنو رانی نہیں ہو سکتا
پہلے تو سلمان صاحب سمجھنے کی کوشش کرتے رہے پھر انہیں یاد آیا کہ دو دن پہلے سیرت ایک کتاب پڑھ رہی تھی ۔۔اس کا نام غالب کی شاعری تھا ۔۔
لیکن سیرت نے اس کا نام ۔سمجھ میں نہ آنے والی کتاب رکھا تھا ۔۔جب انہوں نے وجہ پوچھی تو سیرت نے کہا کہ وہ ہر چیز کا نام رکھتی ہے جو اسے پسند ہوتی ہے
آپ بتا دیجئے گا اپنے بیٹے کو خبردار جو میری بنو رانی کا نام آپ نے اپنی اس گندی سی گاڑی کے لیے رکھا ۔۔وہ فیصلہ سنا کے کمرے سے باہر جانے والی تھی جب سالار سے ٹکرائی
جتنا میں بے چین ہوں تمہیں باہوں میں لینے کے لئے اتنا تمہارا بھی دل کرتا ہے میری باہوں میں آنے کا سالار نےا سے باہوں میں لئے کان کے قریب سرگوشی کی
تو وہ فورا اس سے پیچھے ہٹی اور بنا کچھ بولے پاؤں پٹک کر وہاں سے نکل گئی
ہاں تو برخودار اپنی گاڑی کا نام چینج کرو میری بہو کو پسند نہیں ہے سلمان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر سالار بھی مسکرایا اس کا مطلب ہے کہ شکایت ہائی کورٹ تک پہنچ گئی ہے
جو حکم سر اور تو کسی چیز کے لیے منع کرکے نہیں گی نہ
نہیں نہیں فی الحال صرف گاڑی کا نام چینج کرو کہیں تمہاری بنو نورانی تمہاری سیرت کے ہاتھوں قتل نہ ہو جائے ۔۔بچالو اسکی جان سلمان صاحب نے قہقہ لگا کر کہا
جس پر سالار نے منہ بسورتے ہوئے کہا آپ میری بیوی کا مذاق اڑا رہے ہیں
ارے نہیں نہیں میں تو بہت خوش ہوں اپنے بیٹے کو خوش دیکھ کر سلمان صاحب نے محبت سے اپنے بیٹے کو دیکھا
تھینک یو سو مچ بابا سیرت ہو پا کر بہت خوش ہوں بس وہ میری محبت کا یقین کر لے
سب کچھ بھلا کر ایک نئی زندگی کی شروعات کرے
تم فکر مت کرو سالار ایسا ہی ہوگا
آپ اسلام آباد جارہے ہیں میٹنگ کے لیے
۔۔ہاں کل صبح جانا ہوگا۔ سلمان نے بتایا
ہمم ۔تو آپ ریسٹ کریں میں چلتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سارہ بیگم صبح ہی صبح کہیں جا رہی تھی اس لیے سارے نوکروں کو ہدایت دے رہی تھی تو سیرت ان کے پاس آئی
ہاں سیرت بیٹا اچھا ہواجو تم آگئی مجھے تم سے بھی ایک کام تھا انہوں نے سیرت کو آتے دیکھ کر کہا
جی انٹی سوری ماما ۔۔سیرت سارہ سے دو تین بار ڈانٹ کھا چکی تھی کہ وہ اسے آنٹی کیوں کہتی ہے اس لیے اب سیرت کوشش کرتی تھی کہ انہیں ماما اور سلمان صاحب کو بابا کہہ کربلائے جس میں وہ کافی حد تک کامیابی ہو چکی تھی
ہاں سیر ت بیٹا آج مجھے شادی پے جانا ہے اس لیے مجھے تم سے کام تھا آج دوپہر کو آفیس کھانا تم بھیجو اوگی ۔۔میرا مطلب ہے کہ سلمان اور سالاد باہر ہوٹل کا کھانا نہیں کھاتے اس لیے میں روزانہ کھانا گھر سے ج بھجتی ہو ں ۔تو آج یہ کام تمہیں کرنا ہوگا
خیر سلمان کے لیے تو نہیں کیونکہ وہ ایک میٹنگ کے لیے اسلام آباد جارہے ہیں لیکن تمہیں سالار کے لیے آج دوپہر کا کھانا بھجوانا ہوگا
ایسا کرنا سالار سے پوچھ لینا کہ آج وہ کیا کھانا پسند کرے گا
سارہ بیگم نےکل سالاراور سلمان کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ سیرت سالار سے بات نہیں کرتی اس لیے وہ چاہتی تھی کہ سیرت خود سالار سے اس کے کھانے کے بارے میں پوچھے
سالار یہ سب کچھ سن رہا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ سالار کو بھوکھا تو مار دے گی لیکن اس سے بات کبھی نہیں کرے گی
ہاں تو بیگم تم ایسا کرنا بریانی بنانا ۔۔اور مجھے بھنڈی کی سبزی بہت پسند ہے ۔۔اور تمہیں آلو پسند ہیں تو وہ بھی ساتھ میں بنالینا ۔میرے لئے کباب ضرور بھیجنا میں کھانے کے بعد ضرور کھاتا ہوں
سالار کی آواز بالکل اس کے قریب سے آئی
ویسے کھانا بنانا آتا ہے نہ تمہیں ۔۔دو لوگوں کا کھانا بھیجنا ہو سکتا ہے مہراج بھی میرے ساتھ کھائے
سیرت کچھ نہیں بولی بس اسے گھورتی رہی
بیگم آپ کی گھو ریوں سے میرا پیٹ نہیں بھرے گا میں ٹائم پر کھانا کھاتا ہوں اور میں بھوک میں بہت کچہ ہوں اگر مجھے وقت پر کھانا نہ ملے تو میں بہت شور کرتا ہوں بہت گندے بچے کی طرح ۔ محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا
اور آفس چلا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریبا ساڑھے بارہ بجے اس کے گھر کا نوکر کھانے کا ڈبہ دے کر واپس جا چکا تھا یار سیرت نے واقعہ تیرے لیے کھانا بھیج دیا مہراج خوش ہوا
سچ کہوں تو مجھے بھی یقین نہیں آرہا ہے بہت بھوک لگی ہے چل کھاتے ہیں
ہو سکتا ہے میری اپنی بیوی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہو
تیری بیوی کو کھانا بنانا آتا ہے مہرا ج نے پوچھا
ارے آتا ہے تبہی تو بھیجا ہے اس نے ۔سالار نے خوش ہوکر بتایا
اور ٹیبل پے آ کر کھانے کا ڈبہ کھولا
ٹفن کے پہلے ڈبے کے اندر ایک پرچی رکھی گئی تھی جس پر بریانی لکھا تھا ۔۔اس کا کیا مطلب ہے ۔۔؟مہراج نے پوچھا
پتا نہیں سالار نے کہا
دوسرا ڈبہ کھولا تو اس میں بھنڈی لکھا ہوا ایک پرچی تھی
تیسرا کھولا تو اس میں آلو کی سبزی لکھا تھا
جب کہ چوتھے ڈبے میں مزے دار شامی کباب لکھا تھا
یار یہ کیا مذاق ہے ایک تو بھوک سے جان نکل رہی ہے اور اوپر سے ڈبے میں پرچیاں ہیں اب کیا یہ کاغذ کے ٹکڑے کھائیں ہم
بریانی ۔آلو۔ بھ۔نڈی ۔مزے دار شامی کباب سالار منہ بسور ایک پرچی کو اٹھا کر پڑھ رہا تھا
اسے کھانا بنانا نہیں آتا مہراج نے کہا
اگر نہیں آتا تو صبح بتا دیتی اب کیا کھاہیں ہم سالار کو اس واقعہ ہی بہت بھوک لگی تھی اور مہراج کو بھی اس نے یہی کہہ کے بلایا تھا کہ آج سیرت کھانا بھیجنے والی ہے
اب وہ پرچیوں کو ہاتھ میں لیے سوچ رہے تھے کہ اب ان کا کیا کریں جب آیت ڈبہ لے کر حاضر ہوئی
کھانا آ گیا
آیت نے کہا
آیت تم یہاں اور کھانا لے کر تمہیں کس نے بتایا کہ میں یہاں ہوں اور میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ آج کھانا مت بھیجنا مگر کھانے کے ساتھ تم بھی یہاں آ گئی مہراج نے پوچھا
ہاں کیونکہ میری بہن فون پر مجھے اپنا کارنامہ سنا چکی ہے
پلیز مسٹر سالار شاہ بھائی آج کے بعد آپ میری بہن پر اس طرح سے حکم مت چلآیے گا اسے کھانا بنانا نہیں آتا لیکن ڈونٹ وری میں سکھا دوں آیت نے ایک ادا سے کہا
آیت اس کے لیے کسی فرشتے سے کم نہ ثابت ہوئی کیونکہ اسے بھوک برداشت نہیں ہوتی تھی
لیکن بھوک کا اتنا کچہ ہونے کے باوجود سالار نے کھانا نہیں کھایا
سالار بھائی آپ کیوں نہیں کھا رہے کھانا آیت نے پوچھا
کیونکہ جب تک میری بیوی مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا نہیں کھلاتی تب تک میں نہیں کھاؤں گا سالار نے فیصلہ سنایا
سالار یار بس کر میں نہیں چاہتا میرا بھائی تو بھو کا مر جائے مہراج میں دہائی دی
جس کو سالا رنے چٹکیوں میں اڑا یا
کھانے کے بعد آیت جانے لگی
جب سالار نے اسے روک لیا رکو آیت مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے
پہلے نہ سہی لیکن اب آیت کو سالار بہت اچھا لگنے لگا تھا
جی بھائی کہیں نہ آیت نے پوچھا
آیت وہ ایم سوری ولیمے والے دن میں نے تم پہ ہاتھ اٹھایا
تم نے اس طرح سے سیرت کو تھپڑ مارا کہ میرا دماغ گھوم گیا تھا اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناً قتل کر دیتا تھا سالار نے بے بسی سے کہا
میں جانتی ہوں سالار بھائی اور مجھے بہت خوشی ہے کہ میری سیرت کو اتنا پیار کرنے والا ہسبڈ ملا ہے اور اس بات کے لئے میں آپ سے بالکل بھی ناراض نہیں ہوں
آپ نے مجھے تھپڑ نہیں ماراگر مار بھی دیتے تو بھی کوئی بات نہیں میں سالی ہوں بدلہ تو لے ہی لوں گی آیت نے شرارت سے کہا اس پر سالار مسکرا دیا