Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 Ik Lafz Ishq ( Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Ik Lafz Ishq ( Episode 38)
مہراج مایوسی سے ایک بار واپس ہسپتال لوٹ آیا
اسے لگ رہا تھا کہ اس کی سب خوشیاں لٹ چکی ہیں
اس کی آیت اس سے دور ہو چکی ہے اور وہ اپنی آیت کو بچا نہیں سکا ۔
مسٹر مہراج آپ کہاں تھے ۔آپ کو پتہ ہے آپریشن کے دوران کسی ایک گھر کے منمبر کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
ڈاکٹر نے کہا ۔
ایم سوری ڈاکٹر آپریشن نہیں ہو سکتا
میں آیت کے بھائی کو نہیں لا سکا ۔
کیا کچھ اور ہو سکتا ہے جس سے آیت کی جان بچ سکے
دیکھیں آپ کو جتنے پیسے چاہیے میں دونگا لیکن آیت کی جان بچا لیجئے ۔
مہراج نے ڈاکٹر کی مینت کی
مسٹر مہراج یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں پیشنٹ کا بھائی تو کب سے آ چکا ہے اور بون میرو بھی ٹرانسفورہورہا ہے
اس وقت بے ہوش ہے ۔ڈاکٹر نے بتایا ۔
کیا مطلب حاشر آچکا ہے ہاں ۔مہراج نے پوچھا
جی ہاں پشینٹ کا بھائی یہاں آچکا ہے آپ بس دعا کیجئے انشاء اللہ آپ کی وائف ٹھیک ہوجائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہراج حاشر کو دیکھنے آیا تھا لیکن وہ سالار کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔
ڈاکٹر یہ آیت کا بھائی نہیں میرا کزن ہے
آپ چیک کیے بغیر ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔؟
مہراج کو غصہ آیا
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مہراج صاحب یہ کوئی وقت ہے مذاق کرنے کا اگر یہ آیت کابھائی نہیں ہوتا تو اس کا بون میرو 100% آیت سے میچ کیسے ہوتا ۔
پلیز دوبارہ ایسا مذاق مت کیجئے گا ڈاکٹر غصے سے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
جب کہ مہراج سالار کے بے ہوش و حواس وجود پر نظر گھرا تھا
۔سیرت زاویار سے پوچھ کر حنا کو اپنے ساتھ گھر لے کے آئی۔
اس کا کہنا تھا کہ جب تک حنا بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ سیرت کے ساتھ رہے سیرت اس کا اچھے سے خیال رکھ سکتی ہے ۔
زاویار خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ حنا اور دریا آمنے سامنے رہے ۔دریا کی اس حرکت نے زاویار کو بہت غصہ دلایا ۔
اصلی غصہ تو اسے شاکر صاحب پہ آ رہا تھا جو ہر دریا کی اتنی بڑی غلطی کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ۔
جبکہ زاویار کا کہنا تھا کہ دریا کو اس غلطی کی سزا ملنی چاہیے ۔
کالج لائف میں جب دریا نے ایک لڑکی کو چھت سے دھکا دے کر نیچے گرایا تھا طبیعت سے پاگل خانے بھیج دینا چاہیے تھا ۔
اس کے علاوہ بھی دریا نے ایسی بہت ساری پاگل پن کی حرکتیں کی تھی ۔
لیکن دو تین سال پہلے علاج کے بعد دریا کافی حد تک بہتر ہوچکی تھی ۔
آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا تھا کہہ
دریا سالار کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔
لیکن وہ اس حد تک جا سکتی ہے کہ اپنے ہی گھر کے لوگوں کو نقصان پہنچائے یہ زاویار کو ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔
اس لیے زاویار نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب تک ہی نا واپس آتی ہے تب تک وہ ایک نئے گھر کا انتظام کر ریا تھا۔ کیوں کہ اگر دریا ایک بار ایسا قدم اٹھا سکتی ہے تو دوبارہ ایسا کرنے کے لیے بھی نہیں سوچے گی ۔
اور اب وہ ہی نہ کی زندگی پر رسک نہیں لے سکتا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں کیوں آئے ہو دیکھنا چاہتے ہو میری آیت زندہ ہے یا مر گئی مہراج دھارتے ہوئے حاشر سے بولا ۔
دیکھو مجھے صرف اپنی بہن کو دیکھنا ہے میں چلا جاؤں گا یہاں سے حاشر کو بھی مہراج کروں یا کچھ خاص پسند نہیں آیا ۔
بہن ۔۔۔؟مہراج طنزیہ ہنسا ۔
ابھی صبح تک تو وہ تمہاری بہن نہیں تھی اب اچانک وہ تمہاری بہن کیسے ہو گئی اب کیسے جاگ آئی تمہاری ہمدردی اس کے لیے ۔۔
ویسے میں تمہیں بتا دوں تم نے فون نہیں دیا تو کیا ہوا آیت پھر بھی بچ گئی ہے ۔
میرے بھائی نے اسے بچا لیا ہے اور اب ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے فکر مت کرو دوبارہ تمہاری چوکھٹ پہ کبھی قدم نہیں رکھوں گا ۔مہراج نے حاشر پہ اپنا غصہ نکالا ۔
میں سمجھ سکتا ہوں اس وقت تم پریشان ہو گے سچ کہوں تو میری حالت بھی تم سے الگ نہیں ہے ۔وہ لڑکی میرے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ تمہارے لیے ۔لیکن میں سچ کہتا ہوں میرے اس کی جان نہیں بچا سکتا تھا ۔
حاشر نے حقیقت بیان کرنی چاہی۔
کیوں نہیں بچا سکتے تھے تم میری آیت کی جان۔تم جانتے ہو حاشر میری آیت ہمیشہ کہتی تھی اس کا بھائی لاکھوں میں نہیں کرو میں ایک ہے ۔وہ اس کے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہے لیکن یہاں دیکھو تم تو اس کے لئے ذرا سا درد بھی نہیں سہ پائے ۔تم کیا جانو گے اس کے لیے ۔جاؤ جاؤ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے ہے مہراج نے وہی سردمہری دکھائی جو سب حاشر نے دکھائی تھی۔۔
بس بہت کہہ لیا آپ نے ۔ہم نجانے کیوں آپ کو برداشت کر رہے ہیں اور آپ کی سنتے جا رہے ہیں اور آپ چپ ہونے کے بجائے مزید ہمارے سر پہ چھڑتے رہے ہیں ۔
اور آپ جانتے کیا ہے حاشر کے بارے میں آپ کو کیا پتا کے حاشرنے آیت اور سیرت کے لیے کیا کیا ۔کیا ہے ۔منت حاشر کے آگے آ کھڑی ہوئی ۔
منت چھوڑو چلو یہاں سے ۔حاشر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا ۔
نہیں حاشر مجھے بولنے دے ۔ان کو پتہ ہونا چاہیے ۔آپ نے اتنے سال ایک لڑکی کی پرورش کی اپنا آپ گنوا کر اس لڑکی نے آپ کے ساتھ کیا کیا کو دھوکا دے کر بھاگ گئے ۔
آپ جانتے ہیں مسٹر ایکس وائی زیڈ جو بھی آپ کا نام ہے ۔۔آپ کی بیوی کو اپنے بھائی سے زیادہ ایک غیر انسان پے یقین تھا ۔
وہ اپنے بھائی کو نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ ارمان سے شادی نہیں کر سکتی لیکن وہ گھر سے بھاگ سکتی تھی ۔
وہ ایک مجبوری تھی منت بھابی ۔مہراج نے سمجھانا چاہا ۔
جی مجھے نہیں جانا کہ وہ کیا مجبوری تھی لیکن جس طرح سے آیت مجبور تھی گھر سے بھاگ جانے کے لیےاسی طرح حاشر بھی مجبور تھے آیت کو خون نہ دینے کے لیے ۔
آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی لیکن پھر بھی آپ کو بتاؤں گی کہ حاشر آیت کس کے بھائی نہیں ہیں ۔ اور یہی مجبوری ہے حاشر کی جس کی وجہ سے وہ آیت کوا پنا خون نہیں دے سکے ۔
لیکن اگر کوئی اور طریقہ ہوتا نہ ایت کے لئے اپنی محبت کو ظاہر کرنے کا تہ حاشر اپنی جان بھی دے دیتے ۔منت کی باتوں نے مہراج کو کافی حد تک شرمندہ کیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حاشر آیت اور سیرت سے بہت محبت کرتا ہے ۔
لیکن اگلے ہی لمحے منت کی باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسے دھکا لگا
منت بھابی آپ نے ابھی کہا کہ آیت حاشر کی سگی بہن نہیں ہے ۔مہر آج کو شک ہوا کہیں ڈاکٹر کی بات سہی تو نہیں ۔
جی وہ حاشر کی بہن نہیں ہے منت نے بس اتنا ہی جواب دیا ۔
اس کا مطلب آیت سلمان چاچو کی بیٹی ہو سکتی ہے یعنی آیت عنایا ہو سکتی ہے ۔
حاشر پلیز مجھے بتاؤ کہ تمہیں آیت کہاں پے ملی تھی ۔۔؟میرا مطلب ہے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آیت کے سسٹم سیلز صرف اس کے بھائی یا بہن سے مل سکتے ہیں لیکن اس کے سسٹم سیلز میرے کزن سے میچ ہو رہے ہیں ۔
دیکھو میرا مطلب ہے 18 سال پہلے کراچی سنسان روڈ ایک ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں عنایا کھو گئی تھی ۔ اور اس کے بعد عنایا ہمیں نہیں ملی۔مہراج نہ اثر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
حاشر سمجھ چکا تھا کہ مہراج ا سی ایکسیڈنٹ کی بات کر رہا ہے ۔
ہاں مہراج 18 سال پہلے وہ ایکسیڈنٹ ہماری گاڑی کے ساتھ ہوا تھا ۔جس میں میرے امی ابو اور ایک بہن انتقال کر گئی تھی۔
جبکے دوسری گاڑی میں صرف ایک لڑکی زندہ تھی پر وہ ہماری آیت ہے ۔خواہش نے جواب دیا ۔
مطلب آیت ہی عنایا ہے مہراج مسکراتا ہوا بے یقینی سے ڈیسک پر بیٹھ گیا ۔
میں آیت سے ملنا چاہتا ہوں حاشر نے کہا حاشر ابھی اسے ہوش نہیں آیا ۔مہراج نے بتایا ۔
اور آیت کا بھائی پتہ نہیں کیوں اس اجنبی کو آیت کا بھائی کہتے حاشر کے دل میں کانٹا سا چبھا ۔
ہاں سالار اسے بھی ہوش نہیں آیا ۔حاشر مہراج کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آیت کا بچہ ہے ۔۔؟تھوڑی دیر بعد حاشر نے مہراج کے کندھے سے لگ کر سوتے ہوئے بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
ہاں یہ ہمارا بچہ ہے ۔مہراج نے مسکرا کر جواب دیا غلط فہمیاں دور ہوئیں تو احساس بھی جاگ اٹھے ۔
سعد اٹھو بیٹا دیکھو ماموں آئے ہیں آپ سے ملنے مہراج بڑے پیار سے سعد کو جگایا ۔
ماموں ۔حاشر کے منہ سے بڑی حسرت سے لفظ نکلا ۔
کیونکہ حاشرجان چکا تھا کہ اس بچے کا ماموں وہ نہیں بلکہ اندر لیٹا وہ شخص جس کو دیکھنے تک کہ وہ ہمت نہیں کر پا رہا تھا ۔مہراج نے اس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کر لیے تھے ۔
ہاں ماموں کیونکہ وہ جو اندر لیٹا ہوا ہے نا وہ اس کا چاچو ہے ۔
کیونکہ ماموں کا کام ہوتا ہے بچے کو اچھے سے سکھانا سمجھانا صحیح غلط کی پہچان بتانا نا ۔اور یہ کام میرے اس بھائی کے بس سے باہر ہے ۔
اور چاچو کا کام ہوتا ہے بچے کو بگارنا اس کو الٹی سیدھی حرکتیں سکھانا اسے اپنے سے بڑا ماسٹر بنانا یہ کام ماشاءاللہ کمال کا کرتے ہیں ۔کراتے ہوئے سالار کی تعریف کی جس کے حاشر بھی مسکرا دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس کوہوسپیٹل کو نہیں چھوڑوں گا میں اس پر کیس کر آونگا
مجھے بلیڈ کا کہہ کر میرے جسم کے سارے اندرونی پرزے نکالنے میں بالکل بے جان محسوس کر رہا ہوں ۔
سالار کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہوش آیا تھا جب مہراج اس کے پاس آیا ۔
کب سے سالار نہ جانے کیا کیا بولے جا رہا تھا ۔
بس کر دے سالار جیسے بچوں کی طرح ری ایکٹ کیوں کر رہا ہے ۔مہراج میں تنگ آ کر کہا ۔
بچوں کی طرح۔۔۔۔؟ مہر آج انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم آیت کے بھائی ہو ۔میں نے ہمدردی میں کہہ دیا ہاں میں ہوں آیت کابھائی مجھے نہیں پتا تھا وہ مجھے ایسے لٹا دیں گے ۔سالار نے غصے سے کہا تو مہراج ہنسنے لگا ۔
تو ہنس کیوں رہا ہے سالار تنگ آ کر بولا ۔
کیونکہ جس کے ساتھ تو نے ہمدردی کی ہے وہ کوئی غیر نہیں تیری سگی بہن ہے ۔سالار اس کی طرف دیکھنے لگا جیسے کچھ سمجھانا ہو ۔
ہاں سالار آیت ہی عنایا ہے۔مہراج نے اسے بتایا ۔ تو نے جس کے ساتھ ہمدردی کی ہے وہ کوئی غیر نہیں تیری سگی بہن ہے اور مجھے یہ سب کچھ حاشرنے خود بتایا ہے۔
حاشر نے ۔۔۔؟
ہاں سالا حاشر نے حاشر آیا ہوا ہے آیت کے روم کے باہر کھڑا ہے اور اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا ہے ۔مہراج نے بتایا ۔
مہراج میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔
ہاں سالار میں سمجھ سکتا ہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تجھ سے ملنا چاہتا ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ تجھ سے جیلس ہے کیونکہ جب بھی میں تیرا نام لیتا ہوں وہ پریشان ہو جاتا ہے ۔
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا زاویار یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔؟
نہیں بابا یہ کوئی بچپنا نہیں ہے یہ میرا آخری فیصلہ ہے میں یہ گھر چھوڑ رہا ہوں ۔۔
کیونکہ میں آپ کی پاگل بیٹی کے ساتھ نہیں رہ سکتا زاویار نے بے مروتی سے کہا ۔
زاویار وہ تمہاری بہن بھی ہے شاکر صاحب نے سمجھانا چاہا
ہاں وہ بہن جسے بھائی کا احساس تک نہیں اتنا بھی نہیں پتا اس کا بھائی اسپتال میں آج آٹھ دن سے اپنی اولاد کو کھو کر بیٹھا ہے ۔
اور وہ بھی صرف اور صرف اس کی وجہ سے ۔آپکی بیٹی کی وجہ سے آج میں بے اولاد رہا ۔
آپ کی بیٹی کی وجہ سے حنا کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔
آپ کی بیٹی نے اس سے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین لی۔
۔زاویار اپنی تکلیف اپنے باپ سے شیئر کرنا چاہتا تھا جس سے اس کی بیٹی کے آگے اور کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔
اولاد اولاد اولاد زاویار حنا ماں نہیں بن سکتے لیکن تم تو باپ بن سکتے ہو نا دوسری شادی کر لو ۔ اور بچے ہو جائیں گے چھوڑ دو حنا کو۔
شاکر صاحب نے مسئلہ کا حل پیش کیا ۔
تو یہ حل نکالا ہے آپ نے ۔۔۔؟
اپنی بیٹی کی غلطیوں کی سزا دینے کی بجائے آپ مجھے مشورہ دے رہے ہیں ۔
زاویار لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجا کر بولا
حناکو کبھی نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ وہ میری محبت ہے
آج وہ بے اولاد ہیں میری بہن کی وجہ سے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھن چکی ہے میری بہن کی وجہ سے ۔اور اب میں مزید رسک نہیں لے سکتا
میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
میں اور حنا اب یہاں مزید نہیں رہ سکتے ۔اس نے باپ کو فیصلہ سنایا
زاویار بیٹا تم ایسا کیسے کر سکتے ہو یہ بوڑھے کندھے اب اتنا بزنس نہیں سنبھال سکتے ۔یہ سب کچھ تمہارا ہے بلکہ تمہارے نام پر ہے یہ سب کچھ چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو میں تمہیں اس طرح سے نہیں چھوڑ کے جانے دے سکتا ۔
نہیں بابا مجھے ان سب چیزوں سے کوئی غرض نہیں ہے جب تک آپ دریا کا کوئی فیصلہ کر لیں تب مجھے واپس ملا لیجئے گا
خدا حافظ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت کو ہوش آیا تو سب سے پہلے مہراج اندر گیا ۔
آیت کا پورا وجود پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا ۔ڈاکٹر نے اسے چار سے پانچ مہینے تک ریسٹ کرنے کے لیے کہا تھا کیونکہ اس ایکسیڈنٹ میں اس کی ریڑ کی ہڈی بہت متاثر ہوچکی تھی
جب کہ ایک بازو کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی تھی ۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت آیت کس تکلیف سے گزر رہی ہے لیکن اس کی آیت زندہ تھی اس کی خوشیاں اس کے ساتھ تھی
مہراج نے آتے ہی اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔آیت نے آنکھیں کھولیں مہراج کو آپ نے اتنے قریب دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گے ۔
نہ یہ آنسو بچا کے رکھو کیونکہ تھوڑی دیر میں ویسے بھی یہاں سے سیلاب آنے والا ہے مہراج نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
کیا مطلب ۔۔؟آیت کو بولنے میں تکلیف ہو رہی تھے
جب مہراج نے دروازے پر کھڑے حاشر کی طرف اشارہ کیا ۔
بھائی ۔۔ایک درد کی لہر آیت کے وجود میں دوڑی ۔اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ناکام جب حاشر تیز جسے اس کے بالکل قریب آ گیا ۔
نہیں اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے حاشر نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے روکا ۔
بھائی مجھے معاف ۔۔۔
بس کچھ بھی بولنے کی ضرورت نہیں ہے جو کچھ ہوا وہ سب بھول جاؤ اب کچھ غلط نہیں ہوگا ۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا حاشر نے آیت کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔جبکہ مہراج ان دونوں ایک ساتھ چھوڑ کر خود اٹھ کر باہر آ گیا ۔وہ دونوں تین سال بعد مل رہے تھے مہر آج بہت خوش تھا ۔
اسے یقین تھا کہ آپ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
پھر اسے یاد آیا کہ سیرت بھی تو حاشر کی بہن ہے کیا وہ اسے معاف کرے گا ۔۔۔؟
ہاں کیوں نہیں جب آیت کی غلطی ہونے کے باوجود وہ سے معاف کر سکتا ہے تو سیرت تو بالکل بے قصور ہے اسے کیوں نہیں
یہی سوچ کر سا لار والے کمرے میں آ گیا جہاں اسے ایک ہفتہ ریسٹ کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔
اور بیچارہ سالار بستر پر ٹک نہیں پا رہا تھا اور اوپر سے ہسپتال کے اندر موبائل یوز کرنا بھی مانا تھا ویسے یہ رول کچھ عجیب لگا لیکن مری کے اکثر ہسپتال میں یہی رول تھا ۔
یہاں صرف ڈاکٹر فون یوز کر سکتے تھے وہ بھی صرف ضرورت کے وقت اور اگر ضروری فون کرنا ہوتا تو نے ہسپتال سے باہر جانا پڑا ۔
میراج سالار والے کمرے کی طرف چل دیا آخر اسے بھی تو خوشخبری سنانے تھی.
_______________________••
