Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq ) Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq ) Episode 16
حاشر کے باس کی طبیعت بہت خراب تھی انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا
جس کی وجہ سے اس کے آفس کے سب ہی ممبرز انہیں ملنے ہسپتال گئے تھے حاشر بھی انکی تمنداری کے لیے ہسپتال پھول لے کر گیا جب انہوں نے حاشر کو اپنے پاس بلایا اور مینت والے انداز میں بولے
حاشر میں جانتا ہوں کہ میں نہیں بچوں گا میرا آخری وقت آگیا ہے میں ساری زندگی اپنے کام کے بارے میں ہی سوچتا رہا کبھی اپنے گھر پر اپنے بچوں پر دھیان ہی نہیں دے سکا میں اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرنا چاہتا تھا اور میں نے کی بھی انہیں دولت کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ان کی خواہشات پوری کرکے میں یہ سوچتا رہا کہ میں اپنا فرض نبھا رہا ہوں لیکن میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ ان کی خواہش پوری کرنا میرا فرض نہیں بلکہ انہیں ٹھیک تربیت دینا میرا فرض ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے حاشرتین سال پہلے میری بیوی انتقال کرگئ ۔ اور میں یہ سمجھ کر دیکھ کر ہوگیا کہ میرے بچے آپ سمجھدار ہیں وہ اپنا صحیح غلط سمجھ سکتے ہیں لیکن میں غلط تھا حاشر میرے بڑے بیٹے نے امریکا میں کسی عیسائی لڑکی سے شادی کرلی جبکہ دوسرا تین بار جیل جا چکا ہے جبکہ تیسرا بیٹا ہوسٹل میں پڑھتا ہے حاشر مجھ سے غلطی یہ ہوئی کہ میں نے اپنی ساری جائیداداپنے بیٹوں کے نام کردی اور بیٹی کے لیے کچھ نہ چھوڑا حا شر میری بیٹی بہت معصوم ہے وہ صحیح غلط کی پہچان نہیں جانتی مجھے ڈر ہے کہ کہ میرے بعد میری بچی کو اس کا حق دیا بھی جائے گا کہ نہیں اس کے بھائی میرے سامنے اس سے ٹھیک سے بات نہیں کرتے میں کیسے مانوں کی میرے جانے کے بعد یہ لوگ میری بیٹی کا خیال رکھیں گے
حاشر کے باس نہ جانے کب سے بولے جارہے تھے اور حاشر ان کی بات کا مقصد ڈھونڈنے میں لگا تھا
لیکن سر یہ سب کچھ آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں حاشر نے آخرکار پوچھا
کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم میری بیٹی کا ہاتھ تھام لو اس کے سائبان بن جاؤ حاشر تم اپنی بہنوں کا اتنا خیال رکھتے ہو میں صرف تم پر یقین کر سکتا ہوں
سر آپ کیا کہہ رہے ہیں حاشر ان کی بات سن کر حیران رہ گیا
حاشر بیٹا پلیز انکار مت کرنا یہ ایک مرتے ہوئے باپ کی التجا سمجھ لو میں جانتا ہوں تمہاری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں ہے میری بیٹی تمہارے لیے ایک بہت اچھی ہمسفر ثابت ہوگی میں تم سے وعدہ کرتا ہوں انہوں نے اس کے ہاتھ تھام لئے
سر میں کیسے ۔۔۔؟میں نے تو ابھی تک اس بارے میں سوچا تک نہیں ہے حاشر نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی
دیکھو بیٹا میں اٹھ کر تمہارے پیر پکڑ نہیں سسکتا لیکن میرے بندھے ہاتھوں کی طرف دیکھو
سر یہ آپ کیا کررہے ہیں اس نے فورا ان کے ہاتھ کھولے پلیز مجھے شرمندہ نہ کریں
ٹینشن لینے کی وجہ سے حاشر کے باس کی طبیعت اور بھی زیادہ بگھر رہی تھی
ٹھیک ہے سر میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اس کے سامنے ایک مرتا ہوں اب آپ جس کی آخری خواہش پوری کرنا بہت نہ فرض سمجھتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔نکاح بالکل سادگی سے کروایا گیا اس سے پہلے اس نے کبھی منت کو نہیں دیکھا تھا ہاں لیکن یہ بات وہ جانتا تھا کہ منت کی مرضی کے خلاف اس کی شادی کی جا رہی ہے نکاح کے بعد فورا ہی اس کے ساتھ منت کو رخصت کردیا گیا یہ بات اس کا اس نے ابھی تک آیت اور سیرت کو بھی نہیں بتائی تھی بس فون پر ان کو اتنا کہا تھا کہ وہ دونوں سو جائیں وہ لیٹ گھر واپس آئے گا سفر میں منت بالکل حاموش اس کے ساتھ بیٹھی رہی اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ منت انتہائی خوبصورت تھی لیکن وہ محض 18 سال کی تھی اور یہی بات حاشر کی پریشانی تھی کی ابھی سے دو بہنوں کے ساتھ ساتھ بیوی بھی پالنی پڑے گی منت بچپن سے ہی فلموں ڈراموں اور ناولوں کی حددرجہ شوقین تھی اسے لگتا تھا کہ اس شادی کرنے اس کا کوئی شہزادہ آئے گا لیکن آیا بھی تو کون اس کے باپ کے آفس کا ایک ورکر ۔۔۔
اس کے باپ اور بھائی اسے کبھی گھرسے باہر نہیں نکلنے دیتے تھے کراچی جیسے بڑے شہر میں رہنے کے باوجود اس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا اور اب جن حالات اس کی شادی ہوئی تھی وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اس کا شوہر اسے کسی نوکر کی طرح رکھے گا جو اس سے دو وقت کی روٹی تو دے دے گا لیکن ہر بات پر طعنے مارے گا بیس منٹ کے اس راستے میں منت میں نہ جانے کتنی بار نگاہیں اٹھا کے حاشر کی طرف دیکھا جو حاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جسے کوئی پرواہ ہی نہ تھی کے اس کے پہلو میں اس کی نئی نویلی دلہن بیٹھی ہے پھر ایک جگہ گاڑی روکی اور حاشر گاڑی سے اتر کر باہر چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور گاڑی پر جسے سٹارٹ ھوگی وہ کہاں گیا اور کیا کیا منت نے جاننا ضروری نہ سمجھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر پر پہنچے تو آیت اور سیرت نہ جانے کب سے سوچکی تھی ۔
آیت اورسیرت شاید سوچکی ہیں ان سے تمہاری ملاقات اب صبح ہی ہوگی تم اس کمرے میں چلو میں انہیں دیکھ کر آتا ہوں حاشر یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چل دیا اور یہ پہلی بات تھی جو اتنی دیر میں اس نے منت سے کی تھی
اس کا لہجہ بہت نرم تھا منت کو اچھا لگا کہ اس نے منت سے کوئی سخت بات کرنے کے بجائے اپنا لہجہ نرم رکھا وہ اس کمرے میں آگئی شاید یہ کمرہ حاشر کے استعمال میں تھا یہی سوچ کر وہ وہیں بیٹھ گئی کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی حاشر کمرے میں کافی دیر کے بعد آیا
منت یہی سوچ رہی تھی کہ آخر یہ شخص اس سے کس طرح سے بات کرے گا اس پر اپنا احسان جتائے گا کہ اس کے باپ نے رو رو کر منت کر کہ اس کی شادی حاشر سے کروائی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس گھر کا مالک نہیں بلکہ ایک نوکر ہی سمجھے
منت ہمیشہ سے لو میرج کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے بھائیو اور باپ نے میٹرک کے بعد اسے پڑھنے ہی نہ دیا اور نہ ہی کبھی گھر سے نکلنے دیا
اور کتنے چھوٹےچھوٹے خواب جو منت اپنے لئے دیکھا کرتی تھی
اللہ نا کرے کہ حاشر کی زندگی میں کوئی اور لڑکی ہو یہ نہ ہو کہ وہ کسی اور کے خواب اجاڑ کے بیٹھی ہو کیونکہ یہ سچ تھا کہ جتنی زبردستی شادی کے لئے اس پر کی گئی تھی اتنی ہی حاشر پر بھی کی گئی تھی کیا حاشر اس سے اپنائے گا کیا اس سے محبت کرے گا یہی سوچ منت کو اندر تک خالی کر گئی تھی
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاشر جب کمرے میں آیا تو منت انہی سوچوں میں گم تھی
ایم سوری وہ دروازے کھلے تھے اور لائٹس بھی اون تھی ان کو آف کرتے ہوئے ٹائم لگ گیا وہ اس کے پاس آ کر بیٹھا اور آپنے دیر سے آنے کا سبب بتانے لگا
منت میں سمجھ سکتا ہوں تمہارے لیے یہ سب کچھ بہت نیا ہوگا
سچ کہوں تو میں نے بھی اپنے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا تھا بلکہ میں نے تو کبھی شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا حاشر مسکراتے ہوئے بولا
منت میں تم سے اپنی پرانی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں چھپاؤں گا میری زندگی کا ایک ہی مقصد رہا ہے کہ میں اپنی بہنوں کو خوش رکھوں ان کی ہر خواہش پوری کروں اور آگے بھی میری زندگی کا یہی مقصد رہے گا
میری زندگی میں میری بہنوں کے علاوہ کبھی کوئی عورت نہیں آئی اور اب تمہارے علاوہ کوئی نہیں آئے گی منت میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس رشتے کے لئے تمہارے ساتھ زبردستی کی گئی ہے
میں تم سے نہیں کہوں گا کہ زبردستی کے اس رشتے کو تم نبھاؤ اگر تم چاہو گی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا اگر تمہیں کوئی مجھ سے بہتر ملے تو میں خود تمہاری شادی اس کے ساتھ کرواؤں گا اور اگر تم کسی اور کو چاہتی ہو تو بھی وہ تم مجھ سے شئیر کرسکتی ہو
زبردستی کے رشتوں کو نبھانا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اگر تمہیں پھر بھی لگتا ہے کہ میں تمہارے قابل ہوں اور تم میرے ساتھ خوش رہ سکتی ہو تو میں تمہیں اپنی زندگی میں ویلکم کرتا ہوں حاشرنے اپنی باہیں پھیلائیں
منت جو اپنے دل میں نجانے کیا کیا اندیشے پالے بیٹھی تھی کہ وہ اسے نوکروں کی طرح ٹریٹ کرے گا وہ اس پر اپنا احسان جتائے گا کہ اس کے باپ نے اس کی منتیں کر کے اس سے شادی کروائیں
منت کو ڈھیروں رونا آیا اور ایک پل کی بھی دیری نہ کرتے ہوئے وہ اس کی باہوں میں سما گئ اور حاشر قریشی’ منت کی زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری شخص تھا وہ نا تو کسی کہانی کا شہزادہ تھا اور نہ ہی کسی فلم کا ہیرو لیکن پھر بھی وہ منت کو اپنا دیوانہ کر گیا
صبح جب منت کی آنکھ کھلی تو حاشر بے خبر سو رہا تھا منت فریش ہو کے آئی تب بھی حاشر ایسے ہی سو رہا تھا اب اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ باہر کیسے جائے باہر سے کچھ لوگوں کی آواز آ تو رہی تھی لیکن حاشر کے علاوہ وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی تھی اب اگر ایسے ہی وہ منہ اٹھا کے باہر چلی جائےتو سب اس سے سوال پوچھیں گے کہ وہ کون ہے اور یہاں کیا کر رہی ہے
پہلے اس کا دل چاہا کہ وہ حاشر کو جگالے لیکن پھر اسے حاشر سے شرم آ رہی تھی
کل رات حا شرنے ا سے اپنے دل کی ہر بات بتائی جو وہ ہمیشہ سے کسی سے شیئر کرنا چاہتا تھا اور پھر اسے گاڑی سے نکلنے کی وجہ بھی بتائی وقت حاصل منت کے لئے گفٹ لینے گیا تھا جو کل رات اس نے اسے پہنا یا بھی تھا پچھلے ایک گھنٹے سے وہ بے مقصد کمرے میں گھوم رہی تھی آخرکار اس نے بہت ساری ہمت جمع کی اور خود کر کمرے سے باہر نکل آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے باہر آئی تو کچن سے کچھ لوگوں کی آوازیں آرہی تھی وہ وہی آگئی
جہاں دو لڑکیاں فل یونیفارم میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اور ایک عورت ناشتہ بنا رہی تھی
اس نے انہیں سلام کیا
جبکہ سیرت اور آیت اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی کہ آخر یہ ہے کون اور کہاں سے آئی ہے کیونکہ مین ڈور تو بند ہے
کون ہیں آپ اور کہاں سے آئے ہیں رشیدہ(نوکرانی ) نے پوچھا
دروازہ تو بند ہے آپ اندر کیسے آئی انہوں نے پھر سوال کیا جب کہ منت کنفیوز ہو چکی تھی
وہ میں۔ ۔۔وہ مجھے ۔۔۔حاشر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ان سوال کا کیا جواب دےے
کیا آپ کو بھائی یہاں لے کے آئے ہیں سیرت نے معصومیت سے پاس آ کر پوچھا
جی منت نے اور کچھ نہ کہا
لیکن آپ ہیں کون اور بھائی آپ کو اپنے ساتھ کیوں لائے ہیں اب کے سوال آیت کی طرف سے آیا
اوہو کآہوو آپ کو نہیں پتا بھا ئی نے کہا تھا کہ وہ ہمارے لئے پری لے کے آئیں گے یہ پری ہی تو ہیں۔۔ آپ پری ہیں نہ۔۔؟؟ دس سالہ سیرت نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنی بہن کی عقل پر ماتم کیا اور اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے خود بھی منت سے سوال پوچھ لیا
جبکہ آیت اتنی چھوٹی بچی نہ تھی کے پریوں کی کہانی پر یقین کر لیتی
گڑیا یہ پری بڑی کچھ نہیں ہوتا آپ بتائیں کون ہے آپ اور کہاں سے آئی ہیں اور بھائی آپ کو اپنے ساتھ لے کر کیوں آئے ہیں سیرت کو جواب دے کر اب وہ منت سے پوچھنے لگی
جبکہ منت کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اپنا تعارف کو کس طرح سے کروائے اگر یہاں حاشر ہوتا تو صاف صاف کہہ دیتا کہ یہ اس کی بیوی ہے
جی نہیں جی پری ہوتی ہے اور بھائی نے کہا تھا کہ وہ میرے لیے پری لائینگے اور وہ لے آئے ہیں ۔۔
سیرت فورا اس کے ساتھ چپک گئی کہی آیت اس کی پری کا ہاتھ پکڑ کے گھر سے باہر ہی نہ نکال دے
گڑیا یہ کوئی پری نہیں ہیں کیونکہ پریوں کے پر ہوتے ہیں جو کہ ان کے نہیں
ہیں آیت نے سیرت کو لوجک دیا
جس پر سیرت سوچ میں پڑ گئی
میں بھائی سے پوچھو گی یہ کہ کر وہ کچن سے نکل کر فورا حاشر کے کمرے کی طرف بھاگ گئی
جبکہ آیت اور منت بھی اس کے پیچھے آئی جب تک وہ کمرے میں پہنچی تب تک سیرت حاشر کے سرہانے بیٹھی اسے جگا چکی تھی
بھائی بتائیں نہ آپ میرے لئےپری لے آئے ہیں نہ اب اس نے دروازے پہ کھڑی منت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جسے دیکھ کر حاشر مسکرایا ۔۔۔۔
ہاں میں تم سے وعدہ کیا تھا نہ میں تمہارے لئے پری لے کے آؤں گا وہی لے کے آیا ہوں اس نے مسکراتے ہوئے سیرت کی ہاں میں ہاں ملائی
لیکن بھائی اس پری کے پر کہاں ہیں سیرت نے آیت والا لوجک دیتے ہوئے کہا
جس پر آیت بھی اس کے قریب آکر بیٹھی
۔پر۔ ۔۔۔۔۔اس میں پرکوحاصہ لمبا کیا جیسے جواب سوچ رہا ہوآیت کو تو خیر یہی لگا
پر میں نے کاٹ دیے حاشر نے سوچتے ہوئے کہا
کیوں کاٹ دیےسیرت نے معصومیت سے پوچھا
تاکہ یہ اُڑ نہ جائے حاشر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور اب بہت ہوگئے تم دونوں کے سوال چلو تم لوگوں کی وین آنے والی ہوگی اسکول جاؤ
سکول کا نام سنتے ہی سیرت منہ بسور کر اٹھ کر باہر جانے لگی جب کہ آیت نہیں اٹھی
تمہیں کیا الگ سے کہنا پڑے گا اس نے آیت کو کہا
نہیں پہلے یہ بتائیں کہ یہ کون ہیں اب ایت نے سیریس ہو کر پوچھا جیسے اسے یقین ہو کہ کوئی پری نہیں ہوتی
اس کی بات پہ حاشر مسکرایا تمہاری بھابھی ہے اب خوش چلو سکول جاؤ
حاشر نے جواب دیا
بھابھی بھائی آپ نے شادی کرلی ہے آیت نے حیرانگی سے کہا جب گھر کے باہر ان کی اسکول وین کا ہرن بجا
جس پر حاشر کی بچت ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد آیت حاشر سے کافی دن تک ناراض رہی کیونکہ اسکے اپنے بھائی کی شادی کو لے کر بہت سارے خواب تھے جو ادھورے رہ گئےے
لیکن بعد میں جب اس سے پتا چلا کہ شادی کن حالات میں ہوئی ہے تو اس کی ناراضگی ختم ہوگی
جبکہ سیرت پہلے دن کی طرح اب بھی یہی مانتی تھی کہ منت اس کی پری ہے
اور تو اور وہ اپنے سکول کی سہلی حنا کو بھی ساتھ لے کے آئی تھی کہ اس کے گھر میں پڑھی آئی ہے
جس پرحنا نے بھی گھر جاکر اپنے بھائی سے پری مآنگئ لیکن افسوس کے حناکا بھائی اسے پری لاکر نہ دے سکا
منت کی شادی کے ایک مہینے بعد ہی اس کے والد انتقال کر گئے اس وقت حاشر نے اسے بہت سنبھالا اس کے والد کے انتقال کے فورا بعد ہی اس کے بھائی نے دھوم دھام سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا جس پر منت کو بہت دکھ ہوا
اپنے بھائیوں سے اسے کوئی امید نہ تھی جنہوں نے اس کی شادی کے بعد جھوٹے منہ بھی نہ پوچھا کہ جس لڑکے کے ساتھ اس کی بہن کی شادی کی گئی ہے وہ کون ہے اور تو اور اس کے بھائی نے اپنی شادی پہ اسے مہمانوں کی طرف بلایا
جس پر منت منے دکھی دل سے شادی پہ جانے سے انکار کر دیا لیکن حاشر نے اسے سمجھایا کہ وہ اسے اپنی بہن مانے یا نہ مانے لیکن وہ منت کا بھائی ہے اور منت اپنے بھائی کی شادی پر ضرور جائے گی
حاشر جو سمجھتا تھا کہ اسے اپنی بہنوں کے ساتھ اب منت کو بھی پالنا پڑے گا کیونکہ وہ بھی ایک چھوٹی بچی ہے یہ سوچ اس کی غلط ثابت ہوں گے کیونکہ منت ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوچکی تھی وہ حاشر کی ہر ضرورت کا خیال رکھتیاور حاشر بھی اس سے اپنی ہر بات شیئر کرتا سیرت اور ایت بھی اس سے بہت پیار کرتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی شادی کو 5 مہینے ہوئے تھے جب ایک دن اچانک منت کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر رشیدہ نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ منت ماں بننے والی ہو یہ خبر سن کر منت بہت خوش ہوئی لیکن جب یہ نے حاشر کو بتائی تو وہ پریشان ہوگیا
دعا کرو ایسا کچھ نہ ہو منت میں فلحال کوئی بچہ نہیں چاہتا میرا مطلب ہے کہ صرف ابھی جب تک سیرت اور آیت کی شادی نہیں ہو جاتی
اس کی بات سن کر منت کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
جسے حاشر منے فوراً نوٹ کرلیا میں جانتا ہوں میں تم سے بہت بڑی قربانی مانگ رہا ہو ں لیکن منت سیرت اور آیت بھی تو ہمارے بچے ہی ہیں نہ
بہت دیر بعد بھی جب مننت کچھ نہ بولیں تو حاشر نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا
منت سمجھنے کی کوشش کرو میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے بچوں کی وجہ سے اپنی بہنوں کو نظرانداز کردوں
پھر جب منت کی رپورٹس آئی تو وہ پریگنٹ نہیں تھی یہ باتجان کرمنت پرسکون ہوگی کیونکہ وہ حاشر کی پریشانی کی وجہ کبھی بھی نہیں بننا چاہتی تھی
کیونکہ وہ حاشر کیلئے اب کچھ بھی کرسکتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ حاشر اپنی بہنوں کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو ہمیشہ تیار ہے گا
وقت گزرتا گیا اور ان کی شادی کو تین سال مکمل ہوگئے یہ تین سال منٹ کی زندگی کے خوبصورت ترین سال تھے
حاشر ہر بات میں سب سے پہلے منت کی مرضی پوچھتا لیکن منت نے کبھی بھی حاشر سے کوئی فرمائش نہیں کی وہ حاشر سے کبھی کچھ نہیں مانگتی
تھی اور جب حاشر اس بات کی وجہ پوچھتا تو وہ آگے سے کہتی کہ اس کی ہر ضرورت حاشر خودبخود پوری کردیتا ہے
پھر ایک دن منت کے سب سے چھوٹے بھائی ارمان کا رشتہ آیت کے لیے آیا
ارمان ایک بہت قابل انسان تھا جو اپنے باپ کے بعد اس کا آفس بھی سنبھال رہا تھا حاشر کو بھی وہ بہت پسند تھا وہ اکثر منت سے ملنے ان کے گھر بھی آتا تھا اور منت ارمان کی آیت میں دلچسپی کے بارے میں بھی جانتی تھی
پھر حاشر نے ایک دن آیت کی منگنی ارمان سے کروا دی
کیونکہ شادی وہ آیت کی پڑھائی کے بعد کرنا چاہتا تھا لیکن ارمان نے حاشر کو یقین دلایا کہ وہ آیت کی پڑھائی نہیں روکے گا جس پر منگنی کی جگہ ان کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی
آیت نے ارمان کے لیے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا لیکن ارمان ایک بہت اچھا انسان تھا یہ وہ جانتی تھی اور ایک لائف پارٹنر کے حساب سے وہ اس کے لئے پرفیکٹ تھا اور وہ اس شادی سے خوش بھی تھی لیکن اگر کوئی مسئلہ تھا تو وہ تھا مہراج شاہ کالج میں اسے تنگ کرنے والا لڑکا جس کے بارے میں وہ حاشر کو کچھ نہیں بتا پا رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے حاشر کو کچھ بھی بتائے تو یہ نہ ہو کے کہ وہ اسکی کا کالج ہی چھڑوا دے.
___________________________••
