745.5K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 8

آج ایک بار پھر سے حنا اور سیرت بازار میں تھی
سیرت نہ جانے کتنی دیر سے بھوک بھوک کر رہی تھی جس کا حنا کوئی اثر نہیں لے رہی تھی
کیونکہ جس جگہ وہ تھی وہاں سے ہوٹل بہت دور تھا
اس لئے اس کی بھوک بھوک کی گردان کو نظر انداز کرکے وہ اگلی دکان میں گھس گئے
یہ ایک جیولری شاپ تھی حنا کو اپنی بھابھی کے لئے کچھ جیولری لینی تھی
دوکان میں ہر طرح کی جیولری تھی لیکن سیرت کی نظر ایک لاکٹ پہ آکر رکی
جس میں بہت ہی خوبصورتی سے S لکھا گیا تھا
سیرت کو اپنے دل کے بہت قریب لگا لیکن جب اس نے اس لاکٹ کی قیمت پوچھی
تب سیرت کو اندازہ ہو گیا کہ وہ لاکٹ بچوں کے لئے نہیں ہے
یار ہے تو یہ بہت خوبصورت اور بہت مہنگاہےبھی
کوئی بات نہیں یار ایک لاکٹ ملے نہیں گا تو کیا مر جاؤں گی سیرت نے کسی بڑی بری عورت کی طرح کہا
لیکن کاش مل جاتا پھر منہ بسور کر ویسے ہی بچوں کی طرح بولی
ایکسکیوز می میڈم شاپ کیپر ان کے پاس آیا
جی انکل بولنے سیرت اور حنا دونوں گھڑی ہوگی
کیا آپ دونوں میں سے کسی نے آج بالیاں خریدی ہیں
جی ہاں میری فرینڈ سیرت نے خریدی ہیں حنا نے جواب دیا
میڈم آج ہمارے یہاں ایک قراندازی تھی جویہ بالیاں خریدے گا اسے ہماری طرف سے ایک تحفہ دیا جائے گا
کیسا تحفہ سیرت خوشی سے اچھلی
کیونکہ اسے ہمیشہ سے قراندازی میں حصہ لینے کا بہت شوق تھا
بلکہ کہی بار قراندازی میں اس نے حصہ بھی لیا لیکن افسوس کبھی جیت نہیں پائی
میڈم یہ تحفہ آپ کے لیے یہ وہیلاکٹ کا جسے ابھی پسند کر کے آئی تھی اور مہنگا ہونے کی وجہ سے خرید نہیں سکی تھی
یا اللہ آپ نے میری اتنی جلدی سن لی
وہ خوشی سے پاگل ہوئی جا رہی تھی لیکن اسے یقین نہیں آیا
انکل آپ صرف 16 ہزار کی بالیوں کے بدلے اتنا مہنگا گفٹ دے رہے ہیں
جی بیٹا قراندازی تو قراندازی ہے شاپ کیپر نے بہت پیار کا جواب دیا
تو میں اسے لے لوں لاکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جی بیٹا یہ آپ کا ہے اب آپ ا سے لے سکتی ہیں
سیرت نے فورا اسے لے لیا
اب وہ گھر جا کر یہ سب کچھ بھابھی کو بتانا چاہتے تھے
اس کے بعد سیرت کو اس دکان کی ایک رسید بھی دی گئی
جس پر علانیہ طور پر وہ قراندازی جیتی تھی
ہاں بھائی اب بتاؤ کتنے کا تھا تمہارا لاکٹ جیسے ہی حنا اورسیرت کودکان
سے باہر نکلیں سالار چلتا ہوا دکاندار کے پاس آیا
کل مہراج اور سالار کے کزن کی منگنی تھی
اس لئے وہ تحفہ میں کچھ خریدنے کے لئے اس دکان میں آیا تھا
تووہی میٹھی آواز اسے اپنے کانوں میں پڑتی محسوس ہوئی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پلٹنا بھول گیا پلکیں جھپکنا بھول گئی تو دل کو دھڑکنا یاد نہ رہا
یہ وہی تھی اس کی محبت اس کی تلاش اس کا سکون تھا
وہ کسی معمولی سی چیز کو حسرت سے دیکھ رہی تھی
سالار کی ہونے والی بیوی اور معمولی معمولی چیزوں کے لیے اتنی پریشان ہو رہی ہے اور یہ تو صرف ایک ذرا سا لاکٹ تھا اپنی محبت کے لیے ساری دنیا خریدنا چاہتا تھا
سالار نے فورا دکاندار سے بات کی اور وہ لاکٹ اس کے لیے خریدا
اور ایک جوٹھی کہانی کے سہارے یہ لاکٹ اس تک پہنچا دیا
سیرت کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی
اور یہ وہ پہلی خوشی تھی جو سالار نے اپنی وجہ سےسیرت کے چہرے پر دیکھی تھی
سالار جیولرز شاپ سے نکل کر ان دونوں کے پیچھے آیا
وہ دونوں کسی ہوٹل کے اندر گئی
وہ دونوں ایک ٹیبل پر بیٹھی تھی سالار بھی اس کے قریب والے ٹیبل پر بیٹھ گیا
سالار ابھی تک یقین نہیں کر پا رہا تھا جس لڑکی کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے وہ اسے یہاں ملے گی اور وہ اس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہو گی
تھوڑی دیر میں کھانا کھا کر اب وہ پالر کی طرف جا رہی تھی
ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئےایک آوارہ لڑکا سیرت کے ہاتھ سے ہاتھ ٹچ کرکے کے آگے گیا
سیرت اچانک رک کر غصے سے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جو ابھی اس کے پاس سے گزرا
کیا ہوا سیرت حنا نے اسے روکتے ہوئے دیکھا تو پوچھا
حنا اس لڑکے نے مجھے ٹچ کیا
اس کی اتنی ہمت حنا فورن غصے سے سے آگے بڑھی مگر سیرت نےاس کا ہاتھ تھام لیا
چھوڑو نہ دفعہ کرو ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگتے وہ حنا کا ہاتھ تھام کا زبردستی اسے لے کر جانے لگی
سیرت نے حناسے تو اس لڑکے کو بچا لیا لیکن سالار سے نہیں بچا پائی
وہ ابھی تھوڑی سی اگے گی تھی کہ پیچھے سے شور کی آواز آنے لگی کوئی اس لڑکے کو برے طریقے سے پیٹ رہا تھا
وہ دیکھ سیرت جس نے ابھی تجھے ٹچ کیا اس کا برا حال ہو رہا ہے لگتا ہے اس نے کسی اور کے ساتھ بھی یہ حرکت کی ہے تبھی درگت بن رہی ہے اچھا ہے ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے میری طرف سے اور مارو سڑک کے پار کھڑیحنا جوش سے بولی
نہیں حنا اس بےچارے کو درد ہو رہا ہوگا اب سیرت کو یہ بات کون سمجھاتا کہ اس طرح کے لڑکے بیچارے نہیں ہوتےیار مجھے تو اس پر بہت ترس آ رہا ہے مجھ سے دیکھا نہیں جانا چل یہاں سے چلتے ہیں سیرت نے زبردستی ہیں نہ کا ہاتھ تھام اور اپنے ساتھ لے کر جانے لگی
نہیں سیرت ذرا رک مجھے اس آدمی کی بینڈ بچتی دیکھنی ہے
حنا نے اسے روکتے ہوئے کہا
نہیں چل حنا مجھ سے یہ دیکھا نہیں جا رہا پلیز چل نا کوئی ان کو بول کے اسے اس طرح سے نہ مارے
یار سیرت تو اپنے ننھے سے دل کے ساتھ نہ کہیں بھی آیا جایا مت کر
اور اگر غلطی سے آتی ہے تو اپنا دل مضبوط کرلیا کر
سیرت میری جان یہ دنیا ایسےی نہیں ہے جیسی دیکھتی ہے تجھے اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہیے حنا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
توخود کو جتنا کمزور سمجھے گی دنیا تجھے اتنا ہی کمزور کردے گی
اور اگر تو خود مضبوط ہو جائے گی تو تجھے کوئی بھی توڑ نہیں پائے گا اب چل یہاں سے چلتے چلتے اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے
اسی پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی آدمی جو ابھی اس لڑکے کو پیٹ رہا تھا
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے ایک نظراسے دیکھا اور پھر حنا کے ساتھ چل دی
سالار کھل کر مسکرایا کیونکہ اس کی محبت میں اتنی شدت تھی کہ
اتنی دور سے بھی سیرت نے اسے محسوس کر لیا
تم میری ہو سیرت بہت جلدی تمہیں پورے حق سے اپنی زندگی میں شامل کر لوں گا
اس کے بعد نہ تو تمہیں کوئی بری نظر سے دیکھ پائے گا اور نہ ہی برے انداز میں کوئی ہاتھ لگائے گا
یہ سوچتے ہوئے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ لڑکا زمین پر پڑا تھا
اور اس کے ہاتھ سے برے طرح سے خون نکل رہا تھا جب
سالار اس کے قریب آیا اس کے اسی ہاتھ پہ اپنا پیر رکھا
اور بہت برے طریقے سے اسے کچھلا
وہ لڑکا درد سے چلا اٹھا
اور اس کی چخہیں سالار کو سکون دے رہی تھی


مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے سارا بیگم سڑھیاں چر رہی تھی جب سالار کی آواز ان کے کانوں میں پڑی
سالار انہیں کبھی خود سے محاطب نہیں کرتا تھا
لیکن آج سیرت کے لیے اسے یہ بھی کرنا پڑا تھا
جو شاید وہ مر کر بھی نہ کرتا
سلمان سے بات کرنے کے لیے سالاد نے کبھی بھی تہمت نہ بانھدی تھی
اسی لیے انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ان سے بات نہیں کر رہا
سارا بیگم خاموشی سے سیڑھیاں اتر کر سلمان صاحب کے ساتھ صوفے پہ آ بیھٹی
سالار نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور کچھ ڈھونڈ کر موبائل ٹیبل پر ان کے سامنے رکھ دیا
اس لڑکی کا نام سیرت ہے میڈیکل کالج کے تھرڈ ایئر میں پڑتی ہے
سلمان صاحب نے موبائل اٹھا کر تصویر دیکھی
یہ ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کی تصویر تھی
ہا ں بیٹا ٹھیک ہے لیکن یہ سب کچھ تم ہمیں کیوں بتا رہے ہو
کیونکہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ جب مجھے کوئی لڑکی شادی کے لائق لگے گی تب میں آپ کو بتاؤں گا
لیکن بیٹا یه سلمان سب کچھ بول رہے تھے کہ سالار بولا
بابا مجھے یہ چاہیے
آج 17 سال بعد سالار نے ایک بار پھر سے انہیں بابا کہہ کر پکارا
ورنہ کبھی ڈیڈ کبھی سلمان صاحب اور کبھی مسٹر سلمان کہہ کر پکارتا
بابا میں دو دن بعد ترکی جا رہا ہوں میں چاہتا ہوں جب میں واپس آؤں تو یہ صرف میری ہو جائے
سلمان صاحب کچھ نہیں بولے کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی ضدی طبیعت سے واقف تھے
ایسا ہوگا نہ بابا سالار نے امید بھری نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا
ہاں بیٹھا ضرور ہو گا کیوں نہیں ہوگا
بس کل زاویار کے منگنی ہو جاٸے پھر ہم اس کے گھر جاتے ہیں
کیا خیال ہے سارا بیگم چلوگی نہ میرے ساتھ انھوں نے موبائل سارا بیگم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
سارہ بیگم نے موبائل میں اس تصویر کو دیکھا جس میں ایک بہت ہی معصوم کم عمر سی لڑکی تھی
پھر اس سخت گیر انسان کو دیکھا
جس کی مرضی کے خلاف اگر اس کے گندے کپڑے بھی بیڈ سے اٹھا لیے جائیں
تو آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے
انهیں بے اختیار اس معصوم بچی پر رحم ایا
سلمان بہت کم عمر نہیں لگتی یہ بہت دھیمی آواز میں اعتراض کیا
ارے کیا کم عمر بتا تو رہا ہے میڈیکل کے تیسرے سال میں ہے
سلمان لیکن پھر بھی یہ لڑکی 18 سال کی نہیں لگتی انہوں نے پھر سے بھی اعتراض کیا
سالار سیرت کے معاملے میں کوئی بھی اعتراض نہیں چاہتا تھا
اسی لئے سارا بیگم کی بات پرموڈ آف ہو گیا
18 سال کا اچار ڈالنا ہے آپ نے وہ بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا
لیکن سیرت کے معاملے میں اسے کوئی بھی دخل اندازی ہرگز پسند نہ تھی
نہیں بیٹا میرا وہ مطلب نہیں تھا تم تو ماشاء اللہ 29 سال کی ہوگٸے هو اس کی تو چھوٹی سی
ساره بولتے بولتے رہیں گی کیونکہ سالار کی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو چکی تھی
وہ بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کئے بیٹھا تھا
بابا مجھے سیرت چاہیے
سارا بیگم کو مکمل اگنور کر کے وہ سلمان صاحب سے محاطب ہوا
بیٹا سلمان کچھ کہنا چاہتے تھے
بابا مجھے سیرت چاہیے کسی بھی قیمت پر کسی بھی حال میں
وہ چلاتے ہوئے بولا اور سامنے آئی ہر چیز پر ٹھوکر مار کے وہ باہر نکل گیا
جبکه سلمان ایک بار پھر سے اپنے بیٹے کی حددرجہ بدتمیزی پر اپنی بیگم ساره سے شرمندہ تھے
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
خدا کا شکر ہے کہ آج کی تاریخ میں آپ کی تشریف آوری ہوگی سیرت میڈم
حنا اپنے شرارے سے الجھتی ہوئی سیرت سے ملی
ایک سو ایک بار فون کیا اور ہر بار بھابھی نے اٹھایا
اور انہوں نے بتایا کہ تو حاشر بھائی کے ساتھ گھر سے نکل چکی ہے اور کچھ نہیں یارتو اپنا فون ھی لے لے
ںهاں بھاٸی نے وعدہ کیا ہے کہ اس برتھ ڈے پر وہ مجھے فون لے کر دیں گے
سیرت نےجیٹ اپنی خوشی حنا کے ساتھ شئیر کی
او بیوقوفوں کی سردارنی اب تجھے اپنے بھاٸی سے نهیں اپنے میاں سے پیسے نکلوانے ہیں
وہ کیسے سیرت نے حیرت سے کہا
اوہو بیوقوف لڑکی نکاح کے بعد وه تجھے ایک موبائل بھی نہیں دے گا کیا
حنا نے حیرت سے منہ کھولا
مجھے کیا پتا سیرت نے معصومیت سے جواب دیا
کیاپتہ نہیں سیرت نکاح کے بعد سارے ہی ہزبنڈ اپنی وائف کو موبائل دیتے ہیں
میری بات الگ ہے میرے نکاح کے ساتھ رخصتی بھی تو ہو رہی ہے نہ
مجھے اگر نہیں دے گا تو میں اس سے زبردستی نکلوا لوں گی
لیکن تیری بات الگ هے
اسی لئے اس سے تجھے گفٹ میں فون دینا تو چاہیے اب دیکھتے ہیں دیتا ہے کہ نہیں
اور اگر نہیں دیا تو سیرت نے پھر پوچھا
تو تم میرے والالےلنا میں نے تو ویسے بھی نیالینا ہے اور ویسے بھی کینیڈا میں جا کے ہنی مو ن کی پکچر بھی تجھے سینڈ کرو گی نہ
ویسے دلها بھاٸی کرتے کیا ہے سیرت نے پوچھا
کافی امیر ہے کوئی دوائیوں کی فیکٹری ہے اس کی حنا نے سیرت کو آنکھ مارتے ہوئے بتایا
بیچارے تجھ سے شادی کر کے تو کنگال ہی ہو جائیں گے
حناکھل کھلا کر ہنسی تو یار ہم لڑکیاں ان لڑکوں سے شادی کرتی ہی کیوں ہیں
کیوں سیرت نے حیرت سے پوچھا
ان لڑکوں کو کنگال کرنے کے لیے
حنا نے پھر سے آنکھ ماری جس پے سیرت بھی کھل کھل اٹھی
ویسی کیسی لگ رہی ہو ں میں حنا نے اپنا عکس آئینے میں دیکھا
بالکل پری جیسی سیرت نےحنا سے چھپتے ہوئے حنا کے موبائل سے سیلفی لی
پری تو تم لگ رہی ہو میری جان حنا نے سیرت کے لاکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ تم نے پہن بھی لیا
ہاں تو دیکھنے کے لیے لیا تھاکیا سیرت نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے لاکٹ پر انگلی پھیری
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماشاء اللہ ایسا لگتا ہے یہ تمہارے لئے ہی بنایا گیا ہے حنا نے دل سے تعریف کی
تھنکیو سیرت نے مسکراتے ہوئے کہا
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
آیت جب کمرے میں داخل ہوئی تو میراج کوفل تیار ہوا دیکھا
اور آج وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا
ہو تو اس کا مطلب اگر میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی تو اس طرح سے تیار ہوکے جائیں گے آگے بھیجے
آیت تیوری چراتے ہوئے آگے بڑھی
کیوں میں نے کیا کیا آیت. معراج کو کچھ سمجھ نہیں آیا
یہ آپ اپنی لک دیکھ رہے ہیں آیت نے اس کی تیاری پر چوٹ کرتے ہوئے کہا
کیوں کیا ہے اس لک کو معراج کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آیا
مہراج وہ سفید رنگ پر نہ مکھیاں بہت آتی ہیں آیت نے مہراج کے کرتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
آیت نے بہانہ بنایا کیونکہ وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی اسے بتاٸےکہ وہ بہت زیادہ هنڈسم لگ رہا ہے
آیت اس موسم میں مکھیاں ہوتی ہی نہیں هیں میرا ج یاد دلایا
مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کس موسم میں مکھی ہوتی ہے اور کس موسم میں نہیں جائیں کپڑے چینج کیجیے
کیامطلب ابھی سالار آرہا ہوگا اور تم کہہ رہی ہو چینج کرو
ہاں کہہ رہی ہوں کچینج کریں آپ بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے
آیت کے اندر والی جیلس بیوی جاگ چکی تھی جو ہرگز آپ نے اتنے ہینڈسم شوہر اس لک میں کہیں نہیں بیجنے والی تھی
مہراج نے ایک نظر شیشے کی طرف دیکھا پھر حیرت سے آیت کی طرف دیکھا
پھر وجہ سمجھ کر خود ہی مسکرا دیا
سیریسلی آیت
مہراج نے ایت کی طرف دیکھا جو نظریں نیچے کئے کھڑی تھی
ابھی وہ کچھ کہتا کہ سالار کی آمد ہوگی
اسے دیکھتے ہی وہ کمرے سے باہر آٸے
آج تو بہت پیارا لگ رہا ہے تو
سالار نے کھلے دل سے مہراج کی تعریف کی جس پر معراج نےایت کی طرف دیکھا اور مسکرایا
آیت نظریں چرا گی
تو بھی بہت پیارے لگ رہے ہو
آئی نوسالار نے ہمیشہ والا جواب دیا
چل چلتے ہیں سالار نے کہا
ہاں تو چل میں اپنے موبائل لے کے آیا
معراج کے کہنے پر آیت اس کا موبائل لینے کمرے میں آگئی
آیت نے اسے موبائل لا کردیا جس میں اس نے آیت کا ہاتھ پکڑا
فکر مت کرو بیوی مکھیوں کے بیچ میں جا کر بھی تمہارا ہی شوہر رہوں گااور اگر کسی مکھی نے زیادہ تنگ کیا نہ تو ماتھے پہ لکھ دوں گا کہ میں شادی شدہ ہوں
مہراج کی بات پر آیت بھی مسکرادی۔