Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 14
سالاررات دیر حویلی پہنچا تھا
اسے حویلی کے باہر دیکھتے ہیں سارے نوکر الرٹ ہوگئے
اس نے احتیاط سے سیرت کو اٹھایا اور حویلی کے اندر لے کر جانے لگا
سیرت کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے کے آیا تھا اسے بیڈ پر احتیاط سے لیٹآیا
پھر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا نہ جانے کیو ں سالار کا دل نہیں چاہا کہ وہ اس کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹائے
تم صرف میری ہو صرف میری شاہ تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دے گا اس نے بے اختیار اس کے ہاتھ کو چوما
تمہیں پتا ہے میں تمہیں بہت پیار دوں گا اب شاہ کو کچھ نہیں چاہئے وہ جو چاہتا تھا اسے مل گیا
تمہیں پتا ہے میری جان آج تک میں نے جو چاہا مجھے نہیں ملا
لیکن آب مجھے کچھ نہیں چاہئے کیونکہ تم مل گئی ہو
شاہ زندگی کی ہر خوشی تم سے شروع کرے گا تم بھی ختم کردے گا
شاہ تمہیں اتنا چاہے گا کہ تم سب کو بھلا دو گی
صرف شاہ یاد رہے گا صرف اس کو چاہو گی سالارنے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دیوانہ وار کہا
میری ہوتم صرف میری سالار نے بے اختیار اس کے ماتھے کو چومنا چاہا
پھر رکا نہیں اب تو نکاح کے بعد ہی تمہارے پاس آؤں گا
تب پروین(نوکرانی) کمرے کے اندر آئی
جی سائیں آپ نے بلایا
دیکھو مجھے ایک ضروری کام کے لیے شہر جانا ہے تب تک تم بی بی کا خیال رکھنا
صاحب جی یہ بی بی کون ہے پروین نےنظریں گاڑے سیرت کے وجود کی طرف دیکھا
شاہ کو ناگوار گزرا خبردار جو آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا شاہ غصے سے دھاڑا
نہ سائیں پہلے کبھی کوئی لڑکی یہاں لے کر نہیں آیے اس لئے پوچھا
یہ میری جان ہے اس کا خیال رکھنا اگر اس کو اتنی سی بھی تکلیف پہنچی تو میں تمہیں زمین میں گاڑدوں گا
اس کا بہت خیال رکھنا میں کل تک اس کے کپڑے جوتے اور باقی سامان لے آؤں گا
نجانے کیوں شاہ کو سیرت کا سرخ جوڑا کسی کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا
اسی لئے وہ اس کو دیکھنے تک سے گریز کر رہا تھا
کیونکہ حارث کے نام سے سجی لڑکی صرف شاہ کی
ہے
شاہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا
ائے ہائے شکل سے تو کتنی معصوم لگتی تھی اور کرتوت دیکھو اس کے ایک عورت نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا
کیا بتاؤں بہن مجھے تو لڑکے پے ترس آرہا ہے بیچارہ
کتنی مشکل سے بہنیں پالی تھی بیچارے نے
دونوں بہنیں بھاگ گئی اپنے عاشقوں کے ساتھ
دوسری عورت پہلی عورت کے کان میں خاصہ اونچا بولی
دونوں…. پہلی عورت نے منہ بناتے ہوئے کہا
بہن کیا بتاؤ دو بہنیں تھیں بیچارے کی دونوں بھاگ گئی وہ بھی نکاح والے دن
ہائے بیچارہ بھائی دیکھو کسی کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا
ہائے ہائے تماشا لگ گیا ہے اس کا
دونوں بہن نے سر میں خاک ڈال دی اس کے تو
یار شکل سے تو اتنی معصوم لگتی تھی جیسے کچھ جانتی ہی نہیں
بنی تو ایسی رہتی تھی جیسے دنیا جہان کی کچھ خبر ہی نہیں ابھی کل ہی پیدا ہوئی ہے
شکر ہے میں اپنی بیٹی کو شادی میں نہیں لائی
ورنہ کیا سیکھتی میری معصوم بچی عورت نے بڑے اسٹائل میں کہا
کون کون جانے کیا کیا بول کر چلا گیا حاشر نے سر نہیں اٹھایا
سب لوگ اپنے اپنے گھر جا چکے تھے رات کے بارہ بج رہے تھے
چار بجے سے شروع ہوا طوفان رک چکا تھا
حاشر کچھ نہ بولا وہ چپ تھا
حاشر نہ رویا نہ کچھ کہا بس بت بن کر بیٹھا رہا
کیوں روتا وہ کون سا اس کے ساتھ یہ سب کچھ پہلی بار ہوا تھا
کون سا اس کا اعتبار پہلی بار ٹوٹا تھا
کونسا یہ دھوکہ پہلی بار ہوا تھا
کون سی یہ رات پہلی بار آئی تھی
کونسا یہ طوفان پہلی بار آکے گزرا تھا
تین سال پہلے بھی تو ایک ایسی ہی رات تھی
ایسے ہی طوفان آیا تھا
ایسے ہی اس کا اعتبارٹوٹا تھا
ایسے ہی کسی نے اسے پہلے بھی دھوکا دیا تھا
غیر تو وہ بھی نہ تھی اس کی اپنی تھی اس کے دل کی دھڑکن تھی اسکی بہن تھی
جس کی ہر خواہش پوری کرنا وہ اپنا پہلا فرض سمجھتا تھا
حاشر اس کی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے ساری ساری رات جاگ کر کام کرتا
بھیا سب کے پاس لیپ ٹاپ ہے صرف میرے پاس نہیں کتنا اداس ہو کر اس نے کہا تھا
اور حاشر اسی رات اپنا خون بیچ کر اس کے لیے لیپ ٹاپ لے کر آیا تھا
اس دن آیت کی چہرے کی ہنسی دیکھ کر وہ اپنا درد بھول گیا تھا
آیت اور سیرت کی ایک مسکراہٹ میں حاشر کی جان تھی
منت نہ جانے کتنی ہی دیر سے دور بیٹھی حاشر کو دیکھ رہی تھی
اسے ڈر تھا کہ آج بھی حاشرٹوٹے گا جیسے تین سال پہلے ٹوٹا تھا
منت کو ہمیشہ سے لگتا تھا کہ اس سب میں شایدآیت کی کوئی غلطی نہ ہو
وہ لڑکا ہی شاہد بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا ہو
لیکن آج سیرت کی اس حرکت پر اس کو آیت غلط لگی تھی
اگر آیت اتنی ہمت نہ کرتی تو شاید سیرت میں بھی اتنی ہمت کبھی نہ آتی
حاشر نے آیت کی شادی سے پہلے اس سے اس کی مرضی نہیں جانی تھی لیکن
سیرت سے تو اس نے ہزار بار پوچھا تھا کہ وہ یہ شادی کرنا چاہتی ہے کہ نہیں
ہر بار سیرت نے کہا کہ اس سے اس کے بھائی کے فیصلے پر بھروسہ ہے
اور پھر آج سیرت نے حاشر کا بھروسا توڑ دیا
بلکہ سیرت نے آج حاشر کو ہی توڑ دیا
منت ہمت جمح کر کے اٹھی اور حاشر کے پاس آکر بیٹھ گئی
حاشر نے بے ساختہ اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا
اس وقت حاشر کو بھی سہارے کی ضرورت تھی
تم نے دیکھا نہ ان دونوں نے کیا “کیا میرے ساتھ حاشر کا لہجہ بکھرا ہوا تھا
منت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
منت میں نے کیا بگاڑا تھا ان دونوں کا میں نے ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جو مجھ سے بن پڑامیں نے کیا
اپنی اولاد کے پیارمیں میں اپنی بہنوں کو اگنور نہ کر دوں اس لیے
میں بچہ تک دنیا میں نہیں لایا اور انہوں نے کیا کیا میرےساتھ
وہ آیت ساڑھے چار سال کی تھی اور سیرت صرف چھ مہینے کی تھی
جب ماما بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا
میں نے کبھی ان دونوں کو ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ان دونوں نے کیا کیا
حاشر کی آنکھوں سے آنسو گرا جو اس نے فورا صاف کر دیا
اس کے بعد حاشر نہیں رکا
گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر نکلنے لگا
حاشر کہاں جارہے ہیں منت نے پوچھا
منت میں نے تمہیں اپنی بہنیوں کی وجہ سے بہت اگنور کیا ہے
دعا کرو اگر میں زندہ واپس آگیا تو صرف تمہارے لئے آؤں گا یہ کہہ کر گھر سے باہر نکل گیا
لیکن حاشر کی بات سن کر منت کے قدموں سے زمین نکل چکی تھی
حاشر پلیز مت جائے وہ رونے لگی
پلیز مجھے چھوڑ کے نہ جائے وہ دروازے سے باہر نکلی جب تک وہ باہر نکلتی تب تک حاشر کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی
وہ لوگ جب سے واپس آئے تھے حنا خاموش بیٹھی تھی
سیرت کے گھر سے بھاگنے والی بات پر یقین تو زاویار کو بھی نہ تھا
معصوم سی لڑکی اس طرح سے اچانک اپنے گھر سے کیسے بھاگ سکتی ہے
حنا سیرت نےتمہیں اس بارے میں کچھ بتایا تھا زاویار نے آخرکار اس بارے میں بات کی
زاویار آپ کو لگتا ہے کہ سیرت ایسا کچھ کرسکتی ہے حنا نے بے یقینی سے کہا
نہیں میری جان مجھے نہیں لگتا وہ لڑکی جو کالج میں کسی لڑکے سے بات تک نہیں کرتی اس طرح سے کسی کے ساتھ نہیں بھاگ سکتی ہے
زاویارنے حنا ک یقین دلانے کی کوشش کی
میری سیرت ایسی نہیں ہے اس کے ساتھ ضرور کچھ غلط ہوا ہے حنا بے اختیار رونے لگی
حاشربھائی نے ایک پل میں مان لیا کہ وہ گھر سے بھاگ گئی حاشربھائی کو اس پر یقین کرنا چاہیے تھا نا
اس کے لئے پولیس میں رپورٹ کروانی چاہیے تھی لیکن وہ تو خاموش ہو گے نہ خود کچھ کر رہے ہیں نہ کچھ کرنے دیں رہے ہیں
حنا سیرت کے لیے بہت پریشان تھی جس کی وجہ سے زاویار بھی پریشان ہو گیا تھا
کل ان دونوں کا ولیمہ تھا اور پرسوں انہیں کینیڈا کے لئے جانا تھا
سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ حنا کو اس حالت میں اپنے ساتھ کیسے لے کرجائے
زاویار تو پولیس میں رپورٹ بھی کروانا چاہتا تھا لیکن
حاشر نے اسے منع کردیا
زاویار جانتا تھا ایسے وقت میں
لوگ اپنے ہمدرد کو پی اپنا تماشائی سمجھتے ہیں
اس لیے زاویار نے زیادہ زور نہیں دیا
زاویارکو سب سے زیادہ غصہ تو حارث کے باپ پہ آیا تھا جس نے کہا تھا کہ
سیرت کے بھاگنے یا نہ بھاگنے سے ان کے بزنس پے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے
جبکہ حارث نے عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا بابا یہ وقت ان سب باتوں کا نہیں ہے
زاویارکو سیرت کے لئے برا تو لگ رہا تھا لیکن اس وقت اسے صرف حنا سے مطلب تھا
جو نجانے کب سے روئے جارہی تھی کہ نہ بس کر دو یار وہ اٹھ کے اس کے قریب آیا
اور اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر اسے دلاسہ دینے لگا
حنا دعا کرو تمہاری سہیلی جہاں بھی ہو بالکل ٹھیک ہو اس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو
گاڑی فل سپیڈ میں چل رہی تھی اس وقت حاشر کو کوئی ہوش نہ تھا
وہ کہاں جا رہا ہے کیوں جارہا ہے وہ کچھ نہیں جانتا تھا
بس بے مقصد سڑک پر گاڑی دورائے جا رہا تھا
اگر جانتا تھا تو بس اتنا کہ اس کی بہنوں نے اسے دھوکا دیا ہے
اس کا یقین توڑا ہے
حاشر وعدہ کرو اگر میں نہ رہا تو تم اپنی بہنوں کا خیال مجھ سے بھی اچھے طریقے سے رکھو گے
حاشر کے کانوں میں اس کے باپ کے الفاظ گھونج رہے تھے
ایکسیڈنٹ سے ایک ہفتہ پہلے انہوں نے حاشر کو اپنے پاس بلا کے کہا تھا
حاشر اپنی بہنوں کا خیال رکھنا بہت خیال تم بھائی نہیں باپ بن کر دکھانا
حاشرمیری بیٹیوں کو کسی چیز کے لیے ترسنے مت دینا
کسی بات کا ڈر تھا شاہد ان کی اولاد کی یتیم ہونے کا ڈر
اس دن ایک 13 سال کا بچہ تڑپ تڑپ کے اپنے باپ کے سینے سے لگ کر رویا تھا
اس کے بعد تو حاشر اپنے باپ کی موت پر بھی نہ رویا تھا کیونکہ اس نے اپنی بہنوں کے آنسو صاف کرنے تھے
اور اس کے بعد تین سال پہلے جب آیت گھر سے بھاگی تھی اس کےلئے رویا تھا
اور آج اس کا دل رو رہا تھا
چلا چلا کر پھوٹ پھوٹ کر کسی معصوم بچے کی طرح اس کا دل رویا تھا
گاڑی فل سپیڈ میں چل رہی تھی سامنے سے ایک تیزرفتارٹرک آکر اس کی گاڑی کے ساتھ لگا
حاشر کی گاڑی بری طرح سے گھومی اور ایک پہاڑی سے نیچے گرنے لگی
اور یہ وہ وقت تھا جب اس کو نہ ایت کا خیال آیا نہ سیرت کا
اگر اس کو کسی کا خیال آیا تو صرف منت کا جو اس کے نام پہ جیتی تھی
دعا کرو اگر میں زندہ واپس آگیا تو صرف تمہارے لئے آؤنگا
کچھ دیر پہلے والے اپنے ہی الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے
حاشر پلیز مت جائے پلیز مجھے چھوڑ کے نہ جائے وہ چلا رہی تھی رو رہی تھی اور حاشرکی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگی
ایک بہت ہی برے خواب کےزیر اثر آیت کی آنکھ کھلی
اس کے ساتھ سویا مہراج اچانک اٹھا کیا ہوگیا ہے آیت
اس کی حالت دیکھ کر وہ فورا اٹھا
آیت برے طرح سے کانپ رہی تھی اور اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا
مہراج حاشربھائی کو کچھ ہوگیا ہے میں نے بہت برا خواب
دیکھاہے مہراج میرے بھائی کو کچھ نہ ہو
آیت کیا ہوگیا ہے اس طرح سے کیوں گھبرا رہی ہو یہ ایک صرف برا خواب
تھا اور کچھ نہیں
مہراج حاشربھائی بہت رو رہے تھے اور مجھے چھوڑ کے جا رہے تھے
آیت روتے روتے بول رہی تھی
آیت کچھ نہیں ہو گا صرف ایک خواب ہے
تم لیٹ جاؤ کچھ نہیں ہوگا مہراج نے اسے اپنے ساتھ لگایا
مہراج مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میرے بھائی کو کچھ نہیں ہوگا نا اس نے یقین سے پوچھا
کچھ نہیں ہوگا آیت صرف ایک برا خواب تھا خواب سمجھ کر بھول جاؤ اسے سمجھانے لگا
صرف ایک برا خواب تھا کچھ نہیں ہوگا میرے بھائی کو
اس نے یقین بے یقینی کی کیفیت میں جواب دیا
آج شاہ حویلی میں رونق لگی تھی شاہ حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا کیونکہ آج حاندان بھر یہاں جمع کیا ہوا تھا
اور4سالہ عنایہ کے انگلی میں زاویار کے نام کی انگوٹھی پہنائی گئی جب کے سات سالہ دریا کی انگلی میں سالار کے نام کی انگوٹھی بھی پہنائی گئی
ارے یہ کیا بھائی صاحب آپ لوگ ابھی جا رہے ہیں کچھ دن رک جاتے بچے ایک سال کے بعد حویلی آئے ہیں اور کچھ نہیں تو گاؤں ہی گھوم لیتے سلمان اور عثمان بزنس کی غرض سے حویلی چھوڑ کر شہر شفٹ ہوگئے تھے جبکہ ان کی بہن شازیہ کی شادی ہی گاؤں میں ہی کی گئی تھی جبکہ ان کی دوسری بہن شاکر صاحب کی بیوی تھی
وہ لوگ جب بھی گاوں آتے تو جلدی ہی واپس لوٹ جاتے اسی لئے شازیہ کا دل چاہا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ گزارے
ارے میری بہن اتنے دن تو روکے ہیں اب ہمیں واپس جانا چاہیے عثمان صاحب نے بہن کو سمجھانے کی کوشش کی جبکہ مہراج اپنی پھپھو سے لپٹ گیا بابا میں نہیں جاؤنگا جب تک چھٹیاں ختم نہیں ہوجاتی میں واپس نہیں جاؤں گا مہراج نے لاڑ سے اپنی پھوپھو کے گرد گھیرا بناتے ہوئے کہا
جس پر عثمان صاحب مسکرا دیئے
ٹھیک ہے میری جان جب تک تمہاری چھٹیاں ختم نہیں ہوجاتی تم یہاہی رہو اب خوش انہوں نے بیٹے کو بہلاتے ہوئے کہا
ان کی بات سن کر مہراج خوش ہوگیا
جبکہ سلمان صاحب کی حالت دیکھ کر عثمان کو بہت غصہ آرہا تھا کیونکہ وہ ابھی اپنے دوستوں سے مل کر واپس لوٹے تھے اور شراب کے نشے میں دھند تھے
سلمان یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے میں نے تمہیں منع کیا تھا ہم واپس شہر جائیں گے اس حالت میں تم کیسے جاؤ گے شہر عثمان صاحب نے چلاتے ہوئے سلمان صاحب سے کہا
بھائی آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں آپ فکر نہ کریں میں آرام سے گاڑی چلا لوں گا اور میں اتنے بھی نشے میں نہیں ہوں
عثمان صاحب کو اس وقت اپنے بھائی پر بہت غصہ آرہا تھا جو اتنے نشے میں ہونے کے باوجود گاڑی ڈرائیو کرنے کی بات کر رہا تھا
پھر شام ہوتے ہی وہ لوگ شہر کی طرف نکل گئے لیکن بہت منع کرنے کے باوجود بھی سلمان گاڑی چلانے سے باز نہ آئے سلمان اپنے اپنی حالت دیکھئے اس حالت میں آپ گاڑی کیسے چلائیں گے عائشہ نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی
اوہو عائشہ بچوں کی طرح ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں گاڑی چلا سکتاہوں
سلمان اور عثمان سب فرینڈ سیٹ پے تھے جبکہ عائشہ اور ہاجرہ پیچھے بیٹھی تھی سالار اورعنایہ کے ساتھ
بابا گاڑی تیز چلیں عنایہ نےلارڈ سے باپ کے گلے میں بازو ڈالے
آپ دیکھنا بیٹا بابا کس طرح تیز گاڑی چلاتے ہیں سلمان نےتیز کوحاصہ لمبا کرتے ہوئے کہا
ان کی بات سن کر جہان عنایہ خوش ہوگی ہیں کہ وہاں انہیں عثمان صاحب پریشان ہوگئے کوئی ضرورت نہیں ہے تیز گاڑی چلانے کی تمہیں اجازت دے دیں یہی غنیمت جانو
اوہو بھائی جان آپ ابھی تک اسی بات کو لے کر بیٹھے ہیں سلمان صاحب جھنجلا کر بولے
سلمان تمہیں سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم نشہ میں ہو تمہیں گاڑی چلانے کی اجازت دینی ہی نہیں چاہیے تھی کہ پتا نہیں کیا سوچ کے میں تمہیں گاڑی چلانے کی اجازت دے رہا ہوں عثمان صاحب کو رہ رہ کر سلمان پر غصہ آ رہا تھا
عثمان صاحب کی بات کو سیریس نہ لیتے ہوئے سلمان صاحب نے گاڑی کی سپیڈ تیز کردی.
