Ik Lafz Ishq Season 1 By Areej Shah Readelle50310 (Ik Lafz Ishq) Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 6
وہ اندھیرے کالے جنگل میں بھاگ رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی منزل کیا ہے
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کا یہ سفر کہاں ختم ہونے والا ہے
بھاگتے بھاگتے اس کے پیر دکھنے لگے تھے ننگے پیر جنگل میں بھاگتے میں جانے کتنے ہی کانٹے اس کے پاؤں میں چھپ چکے تھے
لیکن اس سے اپنی پرواہ کہاں تھی اسے تو اپنے گھر جانا تھا
اسے فکر تھی تواس صرف اس بات کہ اسکے گھر والے اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے
جنگل میں عجیب عجیب آوازیں آ رہی تھیں
کبھی کوئی آواز اس کے بالکل قریب سے آتی تو کبھی کوئی بہت دور سے
وہ بچپن سے ڈر پوک تھی اسے جانوروں کی آوازوں سے ڈر لگتا تھا
بجلی کے کڑکنے سے ڈر لگتا
تھا اندھیرے سے ڈر لگتا تھا
لیکن آج وہ شخص اسے ایسے مقام پہ لے کے آیا تھا جہاں ڈر کے علاوہ کچھ نہ تھا
ڈر کے مارے وہ یہ اپنی آواز تک نہیں کھول پارہی تھی
کیونکہ اس کی آواز سن کر کوئی نہ کوئی جنگلی جانور اسے اپنا نوالہ بنا جائے گا
لیکن جانور جو انسان کی خوشبو تک سونگ لیتے ہیں سے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ابھی تک کسی جانور نے اس پر حملہ کیوں نہیں کیا
جبکہ اس جنگل سے خطرناک ترین جانوروں کی آوازیں آ رہی تھیں
اس نے کبھی کسی سے نفرت نہیں کی تھی لیکن آج پہلی بار اسے کسی سے نفرت محسوس ہو رہی تھی
تو کیا اس شخص نے اسے اپنے گھر والوں کی نظروں میں گرا دیا ہوگا کیا وہ لوگ اس پر یقین کریں گے
جب ان کو بتائی گئی کہ وہ گھر سے بھاگی نہیں تھی بلکہ اسے اٹھایا گیا تھا تو کیا وہ لوگ اس پر یقین کریں گے
وہ کبھی اکیلے گھر سے باہر نہیں نکلی تھی اور آج اس پر جنگل میں وہ اکیلی تھی
یا پھر ہزاروں کی تعداد میں جانور
خوف سے شدید سردی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ تھا
بھاگتے بھاگتے تھک کے وہ ایک درخت کے نیچے آ بیٹھی
لیکن اگلے ہی پال اپنے پیروں پہ کوئی چیز چلتی ہوئی محسوس ہوئی
وہ چیکنا نہیں چاہتی تھی لیکن خوف سے اس کی چیخ نکلی
اس کی چیخ کے ساتھ ہی چاروں طرف سے جنگل میں جنگلی جانوروں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں
ان آوازوں سے جنگل کے جانوروں کی تعداد کا اندازہ کرنا آسان نہ تھا
اس نے اپنے پیروں پہ کوئی چیز چبتی ہوئی محسوس ہوئی یقینا
اسے کسی سانپ نے ڈسا تھا
پھر زہر اس کے جسم میں پھیلنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ بے ہوش ہوگئی
یہ تم کیا کہہ رہی ہو حناکیا سچ میں تمہاری شادی ہونے جا رہی ہے
مجھے یقین نہیں آرہا سیرت کو حیرانگی کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہو رہی تھی
ہاں میری شادی ہونے جا رہی ہے
وہ بھی تیرے نکاح سے دو دن پہلے
اور اس میں زیادہ خوش ہونے والی کوئی بات نہیں ہے
کیونکہ اس دنیا میں ایک اور حسین ترین کنواری لڑکی کی کمی ہونے والی ہے
حنا بڑے اسٹائل سے اپنے آگے آئے ہوئے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی
نہیں حنا شادی کرنے سے کوئی مرتا تو نہیں ہے سیرت نے معصومیت سے کہا
اورحناکا دل چاہا کہ وہ اپنا سر پیٹ لے
آوبے وقوفوں کی سردارنی
کنواری لڑکی کم ہونے کا مطلب یه ہے کہ میں شادی شدہ ہو جاؤ گی نہ کہ میں مر جاؤں گی
مجھے لگا تمہاری مرضی کے خلاف تمہاری شادی کی جا رہی ہے اس لیے تم مرنا چاہتی ہو
یار سیرت ذرا سی بات پر میں کیوں مروگی
حنانے شادی جیسے سنگین مسئلے کو ذرا سی بات کرار دیا
حناتمہیں کیا ذرا بھی فرق نہیں پڑتا اس بات سے کہ جس آدمی کے ساتھ ہماری شادی ہونے والی ہے اسے تم نے دیکھا تک نہیں
حنا جیسی بولڈ لڑکی کا شادی کے لیے اس طرح سے ہاں کر دینا سیرت کو حیران کر گیا
وہ لڑکی جو ایک لپسٹک بھی ہزار بار چیک کرنے کے بعد لیتی ہے وہ
شادی کے لیے جہاں اس کے ماں باپ نے کہا وہ یہاں کردی
سیرت مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میری لائف کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہو سکتا
میرے بابا نے ہمیشہ میری ساری باتیں مانی ہیں اور میں جانتی ہوں کہ میرے پاپا نے میرے لئے اپنے جیسا ہی کوٸی ڈھونڈاہو گا
اور میں مانتی ہوں کہ جو انسان خود غلط نہیں ہو تا اس کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہوتا
اور میں تو ہمیشہ اس بات سے ایگری کرتی ہوں کہ جہاں میرے پاپا کہیں گے میں وہی شادی کروگی
لیکن حنا ایک بات تمہارے بابا کو تم سے پوچھنا چاہیے تھا اس بارے میں
او میری جان ہم پٹھان هے پٹھان ہم شادی کے سلسلے میں لڑکیوں سے نہیں پوچھتا
حنا پٹھان خاندان سے تعلق رکھتی تھی لیکن اس کی اردو بہت صاف تھی
حناکو ہر چیز کی آزادی تھی لیکن اس کی شادی کا فیصلہ اس کے بابا کریں گے یہ بات ہمشه سے جانتی تھی
اس لیے وہ اس چیز کے لیے ہمیشہ سے تیار تھی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
زاویار نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کو اس کی محبت اتنی آسانی سے مل جائے گی
اگلے ہفتے زاویار کا نکاح تھا جس کے لیے وہ بہت خوش تھا
یقین نہیں آرہا تھا کہ جس لڑکی نے پہلی ہی نظر میں اسے محبت کا مفہوم سمجھا دیا اگلے ہفتے وہ اس کی زندگی میں شامل ہونے جا رہی ہے
زاویارنے سیرت کو باتوں میں لگا کر حنا کی انفارمیشن نکلوا ئیں
اور فوراً ہی اس کے گھر اپنا رشتہ بیج دیا
حیرانگی تو تب ہوئی جب حنا کے بابا اور زاویار کے بابا سکول کےزمانے سےکلاس فیلو نکلے
تو پھر کیا تھا زاویار کے بابا نے حنا کا رشتہ مانگا
ویسے تو ہی حناکے لیے کہیں رشتے آئے تھے لیکن انہیں کوئی بھی اتنا بہتر نہ لگا
لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ زاویار نہ صرف حنا کا طلبگار ہے بلکہ اس کی محبت میں مبتلا ہے تو وہ خوش ہو گے
اور اس رشتے کے لئے ہاں کر دی
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ زاویار اگلے ہی ہفتے تین ماہ کے لیے کینیڈا جانے والا تھا
اور وہ لوگ چاہتے تھے کہ وہ حنا کی شادی کردے تاکہ زاویار اور حنا دونوں کینیڈا جائے
لیکن حنا کے بابا نے ان کا یہ مسئلہ حل کر دیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ جلد سے جلد اپنی بیٹی کو اس کے گھر میں بستا ہوا دیکھیں
زاویار کے سارے مسائل حل ہوگئے تھے توحنا کا سب سے بڑا مسئلہ سامنے آیا
بابا کو اتنی جلدی کیا تھی یار میرا مینی کیور پیڈی کیور فشیل کتنا کچھ کرنا ہے میں نے
بابا کو تو لڑکیوں کی پرابلمس کا پتا ہی نہیں ہے کتنے مسائل ہوتے ہیں دلہن کے
پھر کیا تھا حنا میڈم اپنا بیگ اٹھا کر اپنے پیاری سی سہیلی کا ہاتھ تھام کر
جس کا اپنا نکاح اس کے نکاح کے دو دن بعد تھا بیوٹی پالر چلی گی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
آیت تین دن سے کھانا برائے نام کھا رہی تھی
وہ ہر وقت پریشان رہتی ہر وقت روتی رہتی
اورسعد پر بھی کم دھیان دیتی
جس پر مهراج کوغصه بہت آتا تھا لیکن اس کی ذہنی کیفیت کے مدنظر اگنور کر دیتا
وہ جتنا ہو سکے خود ہی سعد کا خیال رکھتا
تین دن سے ٹھیک سے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے آج اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی
معراج نے گھر پر ہی ڈاکٹر بلوا کر اسے ڈرپ لگوائی تھی
معراج اور آیت تین دن سے ایک دوسرے کو صرف ضرورت کے وقت ہی مخاطب کرتے مہراج اپنے آپ کو قصوروار سمجھتا اور آیت
کو بھی ساری غلطی مہراج کی ہی لگتی تھی
ایت جانتی تھی کہ جتنی غلطی مہراج کی ہے اتنی ہی اس کی بھی ہے
لیکن پھر بھی جب بھی اس سے اپنی غلطی کا احساس ہوتا وہ سارا الزام مہراج کو دیتی
اور معراج کو اس سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو وہ تو بس یہ چاہتا تھا کہ اس کی آیت خوش رہے
لیکن اس بار آیت نے مہراج سے کچھ نہیں کہا اس نے تو اس سے بات تک کرنا چھوڑ دی شاید اسی لیے اس نے کھانا کھانا بھی چھوڑ دیا تھا
اپنے دل میں غبار رکھنے کی وجہ سےآیت کی طبیعت بہت خراب ہوگئی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
جب اس کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو مٹی کے ایک کمرے میں پایا
صاف ستھری چارپائی اور چادر کے اوپرسردی کے باعث ڈبل رضائی رکھی گئی تھی
کمرہ صاف ستھرا اور حالی تھا
کمرے میں دو دروازے تھے ایک جو گھر کے اندر جاتا تھا اور ایک باہر
وہ ہمت کر کے اٹھی اور باہر کی طرف دیکھا جہاں بہت تیز بارش ہو رہی تھی اور کچھ مرد آپس میں باتیں کر رہے تھے
یقینا وہ شاہ کے آدمی تھے اس کا مطلب تھا کہ اس کی آزادی ختم ہو چکی ہے
وہ اٹھی اور گھر کے اندر جانے والے دروازے کی طرف آئی
جہأں تھوڑے سے فاصلے پر ایک اور کمرہ تھا جو شاید کچن تھا جس میں آگ جل رہی تھی
وہ آگے نہیں گئی بلکہ واپسی اسی کمرے میں آ کر چارپائی پر لیٹ گئی
ارو سوچنے لگی کہ اب وہ یہاں سے کس طرح سے نکلے گئی نکل بھی پائے گی یا نہیں کیا اب وہ اپنے گھر واپس پہنچ پائے گی
وہ بچپن سے پر ی اور دیو کی کہانی سنتی آئی تھی
جس میں دیو پری کو اٹھا کر لے جاتا ہے
اور ہمیشہ کے لئے اپنے پاس رکھتا ہے پھر ایک شہزادہ آ کر اسے چھوڑ آتا ہے
اس وقت پر یوں اور دیو کی وہ کہانی اسے اپنی زندگی جیسی لگ رہی تھی
کیا اس سے چھڑانے کے لیے بھی کوئی شہزادہ آئے گایا وہ ہمیشہ ہمیشہ اس دیو کی قید میں رہے گی
تھکن کے احساس کے ساتھ بے بسی سے وہ اور رونے لگی
کیونکہ رونے کے علاوہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
پھر روتے روتے اسے یاد آیا
کہ جنگل میں بے ہوش ہونے سے پہلے کسی چیز نے اسے کاٹا تھا
وہ اٹھی اور اپنا پیر دیکھنے لگی جہاں اسے سانپ نے ڈسا تھا
جہاں دو سوراخ نما چھوٹے چھوٹے سے نشان تھے
اسے پھر سے وہ ڈارونی رات یاد آنے لگی
وہ ہمیشہ سے ڈر پوک تھی اس کو لگتا تھا کہ اگر بجلی زیادہ کر کی تو اسے آگ لگ جائے گی
اگر گھر پر اکیلی رہے گئی تو ڈر جائے گی
اگر کوئی چھپکلی یا کاکروچ سامنے آ گیا تو اس کا کیا ہوگا
لیکن اس رات سب کچھ ہوا بجلی بھی چمکیں
وہ اکیلی بھی تھی
اور نہ جانے کتنے ہی جانور تھے اس جنگل میں
لیکن پھر بھی وہ زندہ تھی اسے کچھ نہ ہوا
اپنے پیر کا نشان دیکھ کر وہ پھر سے بے اختیار رونے لگی
اگر کوئی آج اس کا اپنا اس کے ساتھ ہوتا تو اسے اپنے سینے سے لگا کر چپ کروا تا
ہاں اگر کوئی ہوتا وہ پھر سے رونے لگی
بی بی جی آپ کو ہوش آگیا ایک عورت اس کمرے میں آئی اور اس کو دیکھتے ہوئے بولی
اسے دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھنے لگی لیکن عورت نے اٹھنے نہیں دیا
ابھی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
یہ کون سی جگہ ہے اس نے کمرے کے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
بی بی جی یہ میرا گھر ہے
آپ کو سانپ نے ڈس لیا تھا بی بی جی
اور پھر اتنی بارش ہے کہ بارش کی وجہ سے راستے ہی بند ہو گے
کوئی ڈاکٹر کوئی طبیب نہ ملا آپ کے علاج کے لیے
شاہ سائیں تو بالکل کملے ہوگئے تھے
ایسا لگتا تھا کہ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو یا تو مر جائیں گے یا مار دیں گے
مگر اللہ نے برا رحم کیا بی بی جی آپ کی جان بھی بچ گئی اور شاہ سائیں کے ہاتھوں ہماری بھی
آپ کے سارے جسم میں زہر پھیلتا جارہا تھا شاہ سائیں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آپ کے پیرسے زہر نکال کر آپ کی جان بچائی
اس کے بعد شاہ سائیں کی اپنی طبیعت بھی خراب ہو گئی لیکن انہوں نے پرواہ نہ کی
جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو گیا کہ اب آپ ٹھیک ہیں وہ اس کرسی سے نہ اٹھائیں
عورت نے پاس رکھی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
کوئی کسی کے پیچھے اتنے خطرناک جنگل میں جاتا ہے کیا
کوئی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کسی دوسرے کی جان بچ جاتا ہے
نہ بی بی جی یہ سب کچھ عشق کرواتا ہے
اور شاہ سائیں تو اپنے عشق کے امتحان میں اوّل درجے سے پاس ہو گئے ہیں
تین دن سے مسلسل بارش ہو رہی ہے یہاں
جس رات آپ کو یہاں لایا گیا اس رات بھی بہت بارش تھی
حویلی تک جانے کے سب راستے بند تھے اسی لئے شاہ سائیں نے اپنی خدمت کا شرف مجھے بخشا ہماری تو نسلیں بھی شاہ سائیں کی غلام ہیں
میرا میاں شاہ سائیں کے لیے کام کرتا ہے
وہ نہ جانے کتنی ہی دیر سے اس عورت کی باتیں سن رہی تھی
پھر بولی مجھے گھر جانا ہے
جی بی بی جی میں ابھی شاہ سائیں سے کہتے ہیں وہ اپنے ساتھ آپ کو حویلی لے جائیں گے
ویسے تو ابھی تک راستے کھلے نہیں لیکن شاہ سائیں اپنے راستے خود ہی بنا لیتے ہیں وہ آپ کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے
مجھےحویلی نہیں اپنے گھر جانا ہے وہ خاصہ اونچی آواز میں بولی
یقینا باہر کھڑے چار ہٹے کٹے مردوں نے یہ بات سن لی ہوگی
شاہ کو بھی یہ بات پتہ چل گئی ہوگی کہ وہ ہوش میں آ چکی ہے
وہ بے اختیار اپنی غلطی پر پچھتائی
ارے بی بی کیا کر رہی ہو شاہ صاحب تمہیں اپنی حویلی کی رانی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں اور تم اپنے گھر جانے کے بات کر رہی ہو
اس عورت کے شوہر نے سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس بی بی کا سر گھوما ہوا ہے
شاہ سائیں اسے دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتے ہیں
اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں
اور یہ لڑکی ان سے بھاگ رہی ہے
شاہ سائیں کے جنون کی ایک جھلک وہ عورت اپنے سامنے دیکھ چکی تھی
وہ جانتی تھی کہ شاہ اس لڑکی کے عشق میں کچھ بھی کر جائے گا
اس لیے اس کو سمجھاتے ہوئے بولی دیکھو بی بی شاہ سائیں وہ انسان ہے جو خود سے بھی محبت نہ کرے وہ تم سے محبت کر بیٹھا ہے
وہ ایک بادشاہ ہے اور تمہیں اپنی ملکہ بنانا چاہتا ہے
وہ کوئی بادشاہ نہیں ہے بلکہ ایک جن ہے ایک دیو ہے جو مجھے اٹھا لایا ہے
اور آب مجھے واپس نہیں جانے دے رہا کمرے میں قدم رکھتے شاہ کے کانوں میں یہ بات پہنچ چکی تھی
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
تقریبا چھ بجے وہ گھر واپس آیا جب سے آیت کی طبیعت خراب ہوئی تھی وہ جلدی کر واپس آ جاتا تھا
ایک ہفتے سے اوپر ہو گیا تھا آیت سے بات نہیں کر رہی تھی
جب وہ گھر واپس آیا تو آیت کیچن میں کچھ کر رہی تھی ساتھ سعد سے باتیں کر رہی تھی
اس کا مطلب تھا کہ اب آیت کا مزید اداس رہنے کا کوئی ارادہ نہ تھا مہراج کو خوشی ہوئی
شکر ہے آیت اپنی پرانی روٹین کر واپس آگئ وہ بھی خوشی خوشی کیچن میں آگیا
ارے واہ بڑے مزے کی خوشبو آرہی ہے کیا بنا ہے
اس نے فورا ڈش کا ڈکن اٹھاتے ہوئے بریانی دیکھی ارے واہ آج تو مزے ہو گئے
مہراج مسکرا کے بولا
آج آیت کسی اجڑی حالت میں نہ تھی
بلکہ کافی اچھے طریقے سے تیار اس کا انتظار کر رہی تھی.
